Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 78

سورة النمل

اِنَّ رَبَّکَ یَقۡضِیۡ بَیۡنَہُمۡ بِحُکۡمِہٖ ۚ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۷۸﴾ۙ ۚ

Indeed, your Lord will judge between them by His [wise] judgement. And He is the Exalted in Might, the Knowing.

آپ کا رب ان کے درمیان اپنے حکم سے سب فیصلے کر دے گا وہ بڑا ہی غالب اور دانا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُم ... Verily, your Lord will decide between them, meaning, on the Day of Resurrection, ... بِحُكْمِهِ وَهُوَ الْعَزِيزُ ... by His judgement. And He is the All-Mighty, means, in His vengeance, ... الْعَلِيمُ the All-Knowing. Who knows all that His servants do and say. The Command to put One's Trust in Allah and to convey the Message Allah says:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

781یعنی قیامت میں ان کے اختلافات کا فیصلہ کر کے حق کو باطل سے ممتاز کر دے گا اور اس کے مطابق جزا و سزا کا اہتمام فرمائے گا یا انہوں نے اپنی کتابوں میں جو تعریفیں کی ہیں، دنیا میں ہی ان کا پردہ چاک کر کے ان کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٢] یعنی جو کفار اس وقت آپ سے بروقت الجھتے رہتے ہیں۔ اور مسلمانوں کو تنگ اور پریشان کرتے اور ان کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں۔ ان کے درمیان اور مومنوں کے درمیان جلد ہی اپنا فیصلہ نافذ کرنے والا ہے۔ اور اس کے فیصلے کے نفاذ کو کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ کیونکہ وہ سب سے زبردست ہے۔ نیز اس کے فیصلے میں غلطی کا بھی امکان نہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ : یعنی جس طرح تیرے رب نے دنیا میں ان کے اختلافات اور تحریفات کا بھانڈا پھوڑا ہے، اسی طرح وہ قیامت کے دن بھی اپنے حکم کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا کہ کون حق پر تھا اور کون باطل پر۔ دیکھیے سورة زمر (٤٦) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَہُمْ بِحُكْمِہٖ۝ ٠ۚ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْعَلِيْمُ۝ ٧ ٨ۙۚ قضی الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی: وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک، ( ق ض ی ) القضاء کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے حكم والحُكْم بالشیء : أن تقضي بأنّه كذا، أو ليس بکذا، سواء ألزمت ذلک غيره أو لم تلزمه، قال تعالی: وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] ( ح ک م ) حکم الحکم کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے یعنی وہ اس طرح ہے یا اس طرح نہیں ہے خواہ وہ فیصلہ دوسرے پر لازم کردیا جائے یا لازم نہ کیا جائے ۔ قرآں میں ہے :۔ وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو ۔ عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزۃ العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٨) اور آپ کا پروردگار یہود و نصاری کے درمیان قیامت کے دن اپنے حکم سے فیصلہ فرما دے گا اور زبردست ہے ان کو اور ان کی سزا کو بھی جاننے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة النمل حاشیہ نمبر : 95 یعنی قریش کے کفار اور اہل ایمان کے درمیان ۔ سورة النمل حاشیہ نمبر : 96 یعنی نہ اس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک سکتی ہے ، اور نہ اس کے فیصلے میں غلطی کا کوئی احتمال ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:78) یقضی۔ مضارع واحد مذکر غائب قضاء مصدر (باب ضرب) وہ فیصلہ کر دے گا۔ وہ فیصلہ کرے گا ، یا کرتا ہے۔ یہاں فیصلہ سے مراد قیامت کے دن کا فیصلہ ہے۔ بینھم : ای بین بنی اسرائیل الذین اختلفوا۔ او بین المؤمنین وبین الناس۔ بنی اسرائیل کے درمیان جو باہم اختلاف رکھتے تھے۔ یا مؤمنین اور دوسرے لوگوں کے درمیان۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

1 ۔ یا دنیا ہی میں ان کی تحریفات کا بھانڈا پھوڑ کر ان کے حق یا باطل پر ہونے کا فیصلہ کر دیگا۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(78) بالیقین آپ کا پروردگار ان بنی اسرائیل کے درمیان اپنے حکم یعنی اپنے عدل سے فیصلہ فرما دے گا اور وہی زبردست ہے سب کو جاننے والا ہے یعنی قیامت کے دن اپنے حکم اور عدل سے فیصلہ کردے گا اور یہ بتادے گا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے اور کونسا فریق ٹھیک بات کا قائل تھا اور کون غلط بات کہتا تھا وہ زبردست بھی ہے فیصلے کے نفاذ کی طاقت رکھتا ہے اور اس کا علم بھی سب کو محیط ہے۔