Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 8

سورة النمل

فَلَمَّا جَآءَہَا نُوۡدِیَ اَنۡۢ بُوۡرِکَ مَنۡ فِی النَّارِ وَ مَنۡ حَوۡلَہَا ؕ وَ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۸﴾

But when he came to it, he was called, "Blessed is whoever is at the fire and whoever is around it. And exalted is Allah , Lord of the worlds.

جب وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے وہ جو اس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَلَمَّا جَاءهَا نُودِيَ أَن بُورِكَ مَن فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا ... But when he came to it, he was called: "Blessed is whosoever is in the fire, and whosoever is round about it!" meaning, when he came to it, he saw a great and terrifying sight: the fire was burning in a green bush, and the fire was burning ever brighter while the bush was growing ever more green and beautiful. Then he raised his head, and saw that its light was connected to the clouds of the sky. Ibn Abbas and others said, "It was not a fire, rather it was shining light." According to one report narrated from Ibn Abbas, it was the Light of the Lord of the worlds. Musa stood amazed by what he was seeing, and نُودِيَ أَن بُورِكَ مَن فِي النَّارِ (he was called: "Blessed is whosoever is in the fire..."), Ibn Abbas said, "This means, Holy is (whosoever is in the fire)." وَمَنْ حَوْلَهَا (and whosoever is round about it) means, of the angels. This was the view of Ibn Abbas, Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan and Qatadah. ... وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ And glorified be Allah, the Lord of all that exists, Who does whatever He wills and there is nothing like Him among His creation. Nothing He has made can encompass Him, and He is the Exalted, the Almighty, Who is utterly unlike all that He has created. Heaven and earth cannot contain Him, but He is the One, the Self-Sufficient Master, Who is far above any comparison with His creation. يَا مُوسَى إِنَّهُ أَنَا اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

81دور سے جہاں آگ کے شعلے لپکتے نظر آئے، وہاں پہنچے یعنی کوہ طور پر، تو دیکھا کہ سرسبز درخت سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔ یہ حقیقت میں آگ نہیں تھی، اللہ کا نور تھا، جس کی تجلی آگ کی طرح محسوس ہوتی تھی مَنْ فَی النَّار میں مَنْ سے مراد اللہ تبارک و تعالیٰ اور نار سے مراد اس کا نور ہے اور وَمَنْ حَوْلَھَا (اس کے ارد گرد) سے مراد موسیٰ اور فرشتے، حدیث میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے حجاب (پردے) کو نور (روشنی) اور ایک روایت میں نار (آگ) سے تعبیر کیا گیا ہے اور فرمایا ہے، کہ ' اگر اپنی ذات کو بےنقاب کر دے تو اس کا جلال تمام مخلوقات کو جلا کر رکھ دے ' (صحیح مسلم)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨] وہاں پہنچ کر عجیب سا منظر دیکھا۔ آگ نے ایک درخت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے مگر درخت ویسے کا ویسا سرسبز ہے اور لہلہا رہا ہے۔ آس پاس کوئی آدمی بھی نہیں ہے۔ آگ سے دھواں بھی نہیں اٹھ رہا۔ اور پورا خطہ زمین روشنی سے جگمگا رہا ہے۔ اس حیرانی کے عالم میں کھڑے تھے کہ اس روشنی سے یا درخت میں سے ندا آئی، موسیٰ اپنے جوتے اتار لو۔ اس وقت تم طویٰ کی مقدس وادی میں پہنچ گئے ہو اور تم یہاں بھولے سے نہیں آگئے بلکہ ٹھیک ہمارے اندازے کے مطابق یہاں پہنچے ہو۔ اس آگ میں اور اس کے ارد گرد جو کوئی بھی ہے سب مبارک ہے۔ یہ آگ، یہ درخت، تم، خود اور آس پاس فرشتے سب مبارک اور برکت ہے۔ اور اللہ کی ذات، جو تمام جہانوں کی پروردگار ہے۔ ہر قسم کے جہات اور تشبیہات سے منزہ اور پاک ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَلَمَّا جَاۗءَهَا نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ ۔۔ : موسیٰ (علیہ السلام) جب اس آگ کے پاس آئے تو انھیں آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور جو اس کے ارد گرد ہے۔ یہاں سوال ہے کہ ” مَنْ فِي النَّارِ “ (وہ جو آگ میں ہے) سے مراد کون ہے ؟ اور ” مَنْ حَولَھَا “ (جو اس آگ کے اردگرد ہے) سے مراد کون ہے ؟ بعض مفسرین نے ” مَنْ فِی النَّارِ “ سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) لیے ہیں اور کہا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے قریب تھے، اس لیے ان کو ” مَنْ حَولَھَا “ کہہ دیا گیا اور ” مَنْ فِي النَّارِ “ سے مراد فرشتے ہیں۔ بعض نے ان الفاظ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرشتوں کے لیے سلام کے قائم مقام قرار دیا ہے، جس طرح فرشتوں نے سارہ[ کو ” رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُهٗ “ کہا تھا۔ صاحب ” مواہب الرحمان “ فرماتے ہیں، یہ تکلف سے خالی نہیں۔ زمخشری اور ان کے ہم خیال حضرات نے ”ۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ “ کا معنی ” بُوْرِکَ فِيْ مَکَان النَّارِ “ کیا ہے، یعنی آگ کی جگہ بابرکت ہے اور اس کے اردگرد کی جگہ، یعنی سارا ملک شام بابرکت ہے۔ مگر ” مَن “ ذوی العقول کے لیے آتا ہے، اس سے مکان مراد لینا بعید بات ہے۔ سب سے ظاہر بات وہ ہے جو عبد الرزاق نے اپنی صحیح سند کے ساتھ قتادہ سے نقل کی ہے، انھوں نے فرمایا : ” نُوْرُ اللّٰہِ بُوْرِکَ “ یعنی اللہ کا نور بابرکت ہے۔ عبد الرزاق ہی نے حسن کا قول نقل کیا ہے کہ ” مَنْ فِي النَّارِ “ سے مراد نور ہے اور ” مَنْ حَولَھَا “ سے مراد فرشتے ہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ بابرکت ہے وہ ذات پاک جو اس آگ میں ہے اور وہ فرشتے بھی جو اس کے ارد گرد ہیں۔ اس معنی کی تائید اگلی آیت میں مذکور الفاظ ” يٰمُوْسٰٓي اِنَّهٗٓ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ “ سے بھی ہوتی ہے۔ یہ آگ جو موسیٰ (علیہ السلام) کو نظر آئی اللہ تعالیٰ کی ذات کا نور نہیں تھی بلکہ نور یا نار کا وہ پردہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے چہرے کا حجاب ہے۔ یہ تفسیر عبداللہ بن مسعود (رض) کے بیٹے ابوعبیدہ نے اللہ تعالیٰ کے نور کے پردوں والی حدیث بیان کرتے ہوئے زیر تفسیر آیت کی تلاوت کرکے فرمائی ہے۔ صحیح مسلم میں ابو عبیدہ نے ابو موسیٰ اشعری (رض) سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم میں کھڑے ہو کر پانچ باتیں بیان فرمائیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَا یَنَامُ وَلَا یَنْبَغِيْ لَہُ أَنْ یَّنَامَ ، یَخْفِضُ الْقِسْطَ وَیَرْفَعُہُ ، یُرْفَعُ إِلَیْہِ عَمَلُ اللَّیْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّھَارِ ، وَ عَمَلُ النَّھَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّیْلِ ، حِجَابُہُ النُّوْرُ وَفِيْ رِوَایَۃِ أَبِيْ بَکْرٍ النَّارُ لَوْ کَشَفَہُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْھِہِ مَا انْتَھٰی إِلَیْہِ بَصَرُہُ مِنْ خَلْقِہِ ) [ مسلم، الإیمان، باب في قولہ (علیہ السلام) إن اللہ لا ینام ۔۔ : ١٧٩ ] ” اللہ عز و جل سوتا نہیں، نہ ہی سونا اس کے لائق ہے۔ وہ ترازو کو نیچا کرتا ہے اور اسے اونچا کرتا ہے، رات کا عمل اس کی طرف دن کے عمل سے پہلے اوپر لے جایا جاتا ہے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کی طرف اوپر لے جایا جاتا ہے، اس کا حجاب نور ہے۔ “ ابوبکر کی روایت میں (نور کی جگہ) نار ہے۔ ” اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی شعائیں اس کی مخلوق میں سے ان سب چیزوں کو جلا دیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔ “ مسند احمد میں ہے کہ ابوعبیدہ نے یہ حدیث بیان کر کے یہ آیت پڑھی : (فَلَمَّا جَاۗءَهَا نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا ۭ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) [ مسند أحمد : ٤؍٤٠٠، ٤٠١، ح : ١٩٦٠٦ ] اور ابن ابی حاتم نے بھی اپنی تفسیر میں سورة نمل کی اس آیت کے تحت یہ حدیث بیان فرمائی ہے، جس کے آخر میں ابوعبیدہ نے اس آیت کی تلاوت کی ہے۔ ابن ابی حاتم کے محقق نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ [ الصحیح المسبور ] یونانی فلسفے سے متاثر بہت سے مفسرین نے اللہ تعالیٰ کے متعلق قرآن و حدیث میں بیان کی گئی بہت سی باتوں کا انکار کردیا، یا ان کی تاویل کی، مثلاً قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے۔ وہ جب چاہے جہاں چاہے نور یا نار کے پردے میں محجوب رہ کر نزول فرماتا ہے، وہ رات کے پچھلے پہر آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے۔ قیامت کے دن زمین پر نزول فرمائے گا، اس دن اس کے عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ وہ جب چاہے، جو چاہے، جس سے چاہے کلام کرسکتا ہے اور کرتا ہے۔ ہمارے ان مفسرین نے ان سب باتوں کو اللہ تعالیٰ کی شان کے منافی قرار دے کر ان کا انکار کردیا، یا ان کی ایسی تاویل کی جو انکار سے بھی بدتر ہے۔ ان حضرات نے یہ نہ سوچا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے بڑھ کر اللہ کی شان نہ سمجھ سکتے ہیں، نہ بیان کرسکتے ہیں۔ اس مقام پر ” مَنْ فِی النَّار “ سے اللہ تعالیٰ کی ذات کے بجائے موسیٰ (علیہ السلام) یا کوئی اور مراد لینے کے پیچھے بھی یہی مشکل کار فرما ہے۔ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ : یہ اس بات کی تردید ہے کہ کوئی اللہ تعالیٰ کے آگ کے حجاب میں نزول کو یا بذات خود کلام کرنے کو اپنے نزول یا کلام کرنے کی طرح سمجھے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے فرمایا : (لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ ) [ الشورٰی : ١١ ] ” اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ “ یعنی یہ بھی مانو کہ اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور یہ بھی مانو کہ وہ سمیع بھی ہے بصیر بھی، مگر اس کا سمع و بصر تمہاری مثل نہیں۔ 3 بعض حضرات نے اس جگہ کی تعیین کا تکلف کیا ہے، جہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ معاملہ پیش آیا تھا اور انھوں نے عیسائی بادشاہ قسطنطین کے ٣٦٥ ء میں اس مقام پر ایک کنیسہ تعمیر کرنے کو بطور دلیل پیش کیا ہے، بلکہ لوگوں کی روایات کو بنیاد بنا کر ایک درخت کو بھی وہ درخت قرار دے دیا ہے جس میں موسیٰ (علیہ السلام) کو آگ نظر آئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئی معتبر دلیل نہیں کہ ہم اس جگہ کی تعیین کرسکیں۔ ہدایت کے لیے وہی کافی ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے بیان فرما دیا ہے، اگر اس کی ضرورت ہوتی تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی تعیین فرما دیتے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

فَلَمَّا جَاءَهَا نُودِيَ أَن بُورِ‌كَ مَن فِي النَّارِ‌ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿٨﴾ يَا مُوسَىٰ إِنَّهُ أَنَا اللَّـهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿٩﴾ So when he came to it, he was called: |"Blessed is the one who is in the fire and the one who is around it And pure is Allah, the Lord of the worlds. 0 Musa, the fact is that I AM Allah, the Mighty, the Wise. (27:8 - 9) The real nature of seeing the fire and hearing the voice from it This incident of Sayyidna Musa (علیہ السلام) has appeared in the Qur&an at many places under different chapters. Two sentences in the above verses of Surah An-Naml call for special attention. One بُورِ‌كَ مَن فِي النَّارِ‌ (Blessed is the one who is in the fire) and two, إِنَّهُ أَنَا اللَّـهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ.(The fact is that I AM Allah, the Mighty, the Wise) In Surah Ta-Ha, the commentary on which appears in this volume earlier, this incident is mentioned in these words: إِذْ رَ‌أَىٰ نَارً‌ا فَقَالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا إِنِّي آنَسْتُ نَارً‌ا لَّعَلِّي آتِيكُم مِّنْهَا بِقَبَسٍ أَوْ أَجِدُ عَلَى النَّارِ‌ هُدًى ﴿١٠﴾ فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ يَا مُوسَىٰ ﴿١١﴾ إِنِّي أَنَا رَ‌بُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۖ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ﴿١٢﴾ وَأَنَا اخْتَرْ‌تُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَىٰ ﴿١٣﴾ إِنَّنِي أَنَا اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِ‌ي ﴿١٤﴾ When he saw a fire and said to his family, wait. I have noticed a fire. Perhaps I bring you an ember from it, or find some guidance by the fire.|" So when he came to it, he was called, |"0 Musa, it is Me, your Lord, remove your shoes, you are in the sacred valley of Tuwa. And I have chosen you, so listen to what is revealed: Surely, I AM ALLAH. There is no god but I, so worship Me and establish Salah for My remembrance. (20:10-14) In these verses also two sentences need special attention: إِنَّنِي أَنَا اللَّـهُ (it is Me, your Lord) and إِنَّنِي أَنَا رَبُّکَ (I AM ALLAH). And in Surah Al-Qasas the incident is related in these words: نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَ‌كَةِ مِنَ الشَّجَرَ‌ةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّـهُ رَ‌بُّ الْعَالَمِينَ He was called by a voice coming from a side of the right valley in the blessed ground, from the tree, saying|" 0 Musa, I am Allah, the Lord of the worlds|" (28:30) In all the three Surahs although the incident is described under different titles, yet the subject matter is the same, which is that Sayyidna Musa ill needed fire that night for quite a few reasons. Allah Ta’ ala evinced that to him on a tree of mount r, and he heard these words from that fire or the tree: إِنِّي أَنَا رَ‌بُّكَ It is Me your Lord. (20:12) إِنَّهُ أَنَا اللَّـهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ The fact is that I am ALLAH, the Mighty, the Wise. (27:9) إِنَّنِي أَنَا اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا I am ALLAH. There is no god but I. (20:14) إِنِّي أَنَا اللَّـهُ رَ‌بُّ الْعَالَمِينَ I am ALLAH, the Lord of the worlds. (28:30) It is possible that this vocative might have been repeated again and again, sometime by one word and then by another. The condition of hearing this vocative as described by Abu Hayyan in Tafsir Al-Bahr ul-Muhit and by ` Alusi in Ruh ul-Ma’ ani is that it was heard in a manner as if it was emanating from all sides, and not from any particular direction. The hearing of this was also very peculiar in that it was not heard by the ears only but by all the parts of the body, which was nothing less than a miracle. It was the sound of an invisible speaker which was being heard without a particular quality (kayf) and without determining the direction. But its source was the fire or the tree on which the fire was glowing. Under such situations normally people get led into fallacy and involve themselves in idol worshipping. Therefore, under each title, the Oneness of Allah has been reminded and emphasized alongside. In the verse under reference سُبحَانَ اللہ (Pure is Allah) is added for this very warning. In Surah Ta-Ha the expression لَا الٰہ اِلَّا اَنَا (20:14) and in Surah Al-Qasas أَنَا اللَّـهُ رَ‌بُّ الْعَالَمِينَ (28:30) is used for the emphasis of this point. The outcome of this discussion is that the fire was shown to Sayyidna Musa (علیہ السلام) because he was in need of fire and light at that time, otherwise there was no connection between the Word of Allah or with the entity of Allah with the fire or the tree of Tur. Fire was nothing but a creature of Allah Ta’ ala like so many other creatures. This is why the commentators have different views in the interpretation of the verses under reference: أَن بُورِ‌كَ مَن فِي النَّارِ‌ وَمَنْ حَوْلَهَا (27:8) that is Blessed is the one who is in the fire and the one who is around it. Sayyidna Ibn ` Abbas, Mujahid and ` Ikrimah (رض) have expressed the view that the words مَن فِی النَّارِ the one who is in the fire) stand for Sayyidna Musa& (علیہ السلام) because the fire he had seen was not the real fire, but the auspicious spot he had reached was so luminous that it looked like fire from a distance. Therefore, Musa (علیہ السلام) was inside that fire, and مَن حَولَھَا (the one who is around it) is purported for the angels, who were present there nearby. Other commentators have put forward a totally opposite explanation, that the words |"who is in the fire|" refer to the angels, while the words |"who is around it|" stand for Sayyidna Musa (علیہ السلام) . Tafsir Bayan ul Qur&an has adopted the latter explanation. It is sufficient to know this much for the understanding of the meaning of these verses. A narration of Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) and Hasan Al-Basri (رح) and its explanation Ibn Jarir, Ibn Abi Hatim, Ibn Marduwaih etc., have also quoted another explanation put forward by Sayyidna Ibn ` Abbas, Sayyidna Hasan Al- Basri and Said Ibn Jubair (رض) about the phrase مَن فِی النَّارِ (who is in the fire) that it is meant for Allah Ta’ ala Himself. It is but obvious that fire is created by Allah, and incarnation of the Creator into anything created by Him is impossible. Therefore, this narration cannot be taken to mean that Allah Ta’ ala had transfigured into the fire, as many idol-worshippers believe in transfiguration of God in their idols. This is absolutely against the concept of Tauhid (Oneness of Allah). All it means is manifestation, like the reflection in the mirror. The image is manifested in the mirror but it is not transfigured in it. What is seen in the mirror is outside it, having its own entity. It is also quite evident that this manifestation, which is also called refulgence, was not the refulgence of Allah Ta’ ala. It is for the simple reason that if Sayyidna Musa (علیہ السلام) had already witnessed the Divinity, he would not have requested at the mount of Tur رَ‌بِّ أَرِ‌نِي أَنظُرْ‌ إِلَيْكَ that is, ` O my Lord, show Your Self to me (7:143), so that I may look at you&. In that case the reply لَن تَرَ‌انِي (You will never see me - 7:143) would also have been meaningless. It is now clear that Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) in his explanation had meant the manifestation of Allah Ta’ ala, that is refulgence, which appeared in the form of fire. As it was not the transmigration, it was also not the refulgence of His real Self. The phrase لَن تَرَ‌انِي (You will never see me) has also clarified that in this world no one can witness the refulgence of His real Self. Then what do manifestation and refulgence really mean? The answer to this is that this refulgence was figurative, which is commonly known among the mystics. It is rather difficult to comprehend it fully, but in order to make it simple according to common understanding, I have tried to explain it in my book Ahkam ul-Qur&an, in Arabic language, in the explanation of Surah Al-Qasas. Those who are interested can see it there.

فَلَمَّا جَاۗءَهَا نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا ۭ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، يٰمُوْسٰٓي اِنَّهٗٓ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے آگ دیکھنے اور آگ کے اندر سے ایک ندا سننے کی تحقیق : قرآن کریم میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ واقعہ بہت سی سورتوں میں مختلف عنوانات کے ساتھ آیا ہے۔ سورة نمل کی مذکورہ آیات میں اس سلسلے کے دو جملے غور طلب ہیں۔ اول (بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ ) دوسرا (اِنَّهٗٓ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ) اور سورة طہ میں جس کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے اس واقعہ سے متعلق یہ الفاظ آئے ہیں (اِذْ رَاٰ نَارًا الی قولہ تعالیٰ نُوْدِيَ يٰمُوْسٰى، اِنِّىْٓ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۚ اِنَّكَ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى، وَاَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوْحٰى، اِنَّنِيْٓ اَنَا اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدْنِيْ ) ان آیات میں بھی دو جملے خاص طور پر سے غور طلب ہیں (اِنِّىْٓ اَنَا رَبُّكَ ) اور (اِنَّنِيْٓ اَنَا اللّٰهُ الخ) اور سورة قصص میں اس واقعہ کے یہ الفاظ ہیں (نُوْدِيَ مِنْ شَاطِی الْوَادِ الْاَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ يّٰمُـوْسٰٓي اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ) ان تینوں مواقع میں عنوان تعبیر اگرچہ مختلف ہے مگر مضمون تقریباً ایک ہی ہے وہ یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس رات میں کئی وجہ سے آگ کی ضرورت تھی حق تعالیٰ نے ان کو کوہ طور کے ایک درخت پر آگ دکھلائی۔ اس آگ یا درخت سے یہ آواز سنی گئی۔ اِنِّىْٓ اَنَا رَبُّكَ ، اِنَّهٗٓ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ، اِنَّنِيْٓ اَنَا اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا، اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ، یہ ہوسکتا ہے کہ یہ نداء بار بار ہوئی ہو کبھی ایک لفظ سے کبھی دوسرے لفظ سے اور آواز سننے کی جو کیفیت تفسیر بحر محیط میں ابو حیان نے اور روح المعانی میں آلوسی نے نقل کی ہے وہ یہ ہے کہ یہ آواز اس طرح سنی کہ ہر جانب سے یکساں آ رہی تھی جس کی کوئی جہت متعین نہیں ہو سکتی تھی اور سننا بھی ایک عجیب انداز سے ہوا کہ صرف کان نہیں بلکہ ہاتھ پاؤں وغیرہ تمام اعضائے بدن اس کو سن رہے تھے جو ایک معجزہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک غیبی آواز تھی جو بلاکیف و بلاسمت سنی جا رہی تھی لیکن مبدا اس کا وہ آگ یا درخت تھا جس سے آگ کی شکل ان کو دکھائی گئی۔ ایسے ہی مواقع عام طور پر لوگوں کے لئے مغالطے اور بت پرستی کا سبب بن جاتے ہیں اس لئے ہر عنوان میں مضمون توحید کی طرف ہدایت اور تنبیہ ساتھ ساتھ کی گئی ہے زیر بحث آیت میں لفظ سُبْحٰنَ اللّٰهِ اسی تنبیہ کے لئے بڑھایا گیا۔ سورة طہ میں لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا اور سورة قصص میں اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ اسی مضمون کی تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ اس تفصیل کا حاصل یہ ہے کہ یہ آگ کی شکل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس لئے دکھلائی گئی تھی کہ وہ اس وقت آگ اور روشنی کے حاجتمند تھے ورنہ اس کلام ربانی اور ذات ربانی کا آگ سے یا شجرہ طور سے کوئی تعلق نہ تھا۔ آگ اللہ تعالیٰ کی عام مخلوقات کی طرح ایک مخلوق تھی اسی لئے زیر بحث آیات میں جو یہ ارشاد ہے اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا، یعنی مبارک ہے وہ جو آگ کے اندر ہے اور وہ جو اس کے آس پاس ہے۔ اس کی تفسیر میں ائمہ تفسیر کے مختلف اقوال ہیں جس کی تفصیل تفسیر روح المعانی میں ہے۔ ایک قول حضرت ابن عباس مجاہد، عکرمہ سے منقول ہے کہ مَنْ فِي النَّارِ سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہوں کیونکہ آگ کوئی حقیقی آگ تو تھی نہیں جس بقعہ مبارکہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پہنچ گئے تھے وہ دور سے پورا آگ معلوم ہوتا تھا اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کے اندر ہوئے اور مَنْ حَوْلَهَا سے مراد فرشتے ہیں جو آس پاس وہاں موجود تھے اور بعض حضرات نے اس کے برعکس یہ فرمایا کہ مَنْ فِي النَّارِ سے فرشتے اور مَنْ حَوْلَهَا سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مراد ہیں۔ تفسیر بیان القرآن کے خلاصہ تفسیر مذکور میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے۔ آیات مذکورہ کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ حضرت ابن عباس اور حسن بصری کی ایک روایت اور اس کی تحقیق : یہاں ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ وغیرہ نے حضرت ابن عباس حضرت حسن بصری اور سعید بن جبیر سے مَنْ فِي النَّارِ کی تفسیر میں یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ مَنْ فِي النَّارِ سے خود ذات حق سبحانہ و تعالیٰ مراد ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ آگ ایک مخلوق ہے اور کسی مخلوق میں خالق کا حلول نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اس روایت کا یہ مفہوم تو ہو نہیں سکتا کہ ذات حق سبحانہ و تعالیٰ نے آگ کے اندر حلول فرمایا تھا جیسا کہ بہت سے بت پرست مشرکین بتوں کے وجود میں ذات حق کے حلول کے قائل ہیں اور یہ توحید کے قطعاً خلاف ہے بلکہ مراد ظہور ہے جیسا آئینہ میں جس چیز کو دیکھا جاتا ہے وہ آئینہ میں حلول کئے ہوئے نہیں ہوتی اس سے الگ اور خارج ہوتی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ ظہور جس کو تجلی بھی کہا جاتا ہے خود ذات حق سبحانہ و تعالیٰ کی تجلی نہیں تھی ورنہ اگر ذات حق تعالیٰ کا مشاہدہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کرلیا ہوتا تو بعد میں ان کے اس سوال کی کوئی وجہ نہیں رہتی رَبِّ اَرِنِيْٓ اَنْظُرْ اِلَيْكَ (یعنی اے میرے پروردگار مجھے اپنی ذات پاک دکھا کہ میں دیکھ سکوں) اور اس کے جواب میں حق تعالیٰ کی طرف سے لَنْ تَرٰىنِيْ کا ارشاد بھی پھر کوئی معنے نہ رکھتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابن عباس کے اس قول میں حق تعالیٰ جل شانہ کا ظہور مراد ہے یعنی تجلی جو آگ کی صورت میں ہوئی یہ جس طرح حلول نہیں تھا اسی طرح تجلی ذات بھی نہیں تھی بلکہ لَنْ تَرٰىنِيْ الآیتہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس عالم دنیا میں تجلی ذاتی کا کوئی شخص مشاہدہ نہیں کرسکتا۔ پھر اس ظہور و تجلی کا کیا مفہوم ہوگا اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تجلی مثالی تھی جو حضرات صوفیہ کرام میں معروف ہے اس کی حقیقت کا سمجھنا تو انسان کے لئے مشکل ہے۔ بقدر ضرورت تقریب الی الفہم کے لئے احقر نے اپنی کتاب احکام القرآن بزبان عربی سورة قصص میں اس کی کچھ تفصیل لکھی ہے اہل علم اس میں دیکھ سکتے ہیں عوام کی ضرورت کی چیز نہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَمَّا جَاۗءَہَا نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا۝ ٠ۭ وَسُبْحٰنَ اللہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝ ٨ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] ونِدَاءُ الصلاة مخصوصٌ في الشَّرع بالألفاظ المعروفة، وقوله : أُولئِكَ يُنادَوْنَمِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] فاستعمال النّداء فيهم تنبيها علی بُعْدهم عن الحقّ في قوله : وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] ، وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] ، وقال : فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] ، وقوله : إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] فإنه أشار بِالنِّدَاء إلى اللہ تعالی، لأنّه تَصَوَّرَ نفسَهُ بعیدا منه بذنوبه، وأحواله السَّيِّئة كما يكون حال من يَخاف عذابَه، وقوله : رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] فالإشارة بالمنادي إلى العقل، والکتاب المنزَّل، والرّسول المُرْسَل، وسائر الآیات الدَّالَّة علی وجوب الإيمان بالله تعالی. وجعله منادیا إلى الإيمان لظهوره ظهورَ النّداء، وحثّه علی ذلك كحثّ المنادي . وأصل النِّداء من النَّدَى. أي : الرُّطُوبة، يقال : صوت نَدِيٌّ رفیع، واستعارة النِّداء للصَّوْت من حيث إنّ من يَكْثُرُ رطوبةُ فَمِهِ حَسُنَ کلامُه، ولهذا يُوصَفُ الفصیح بکثرة الرِّيق، ويقال : نَدًى وأَنْدَاءٌ وأَنْدِيَةٌ ، ويسمّى الشَّجَر نَدًى لکونه منه، وذلک لتسمية المسبَّب باسم سببِهِ وقول الشاعر : 435- كَالْكَرْمِ إذ نَادَى مِنَ الكَافُورِ «1» أي : ظهر ظهورَ صوتِ المُنادي، وعُبِّرَ عن المجالسة بالنِّدَاء حتی قيل للمجلس : النَّادِي، والْمُنْتَدَى، والنَّدِيُّ ، وقیل ذلک للجلیس، قال تعالی: فَلْيَدْعُ نادِيَهُ [ العلق/ 17] ومنه سمّيت دار النَّدْوَة بمكَّةَ ، وهو المکان الذي کانوا يجتمعون فيه . ويُعَبَّر عن السَّخاء بالنَّدَى، فيقال : فلان أَنْدَى كفّاً من فلان، وهو يَتَنَدَّى علی أصحابه . أي : يَتَسَخَّى، وما نَدِيتُ بشیءٍ من فلان أي : ما نِلْتُ منه نَدًى، ومُنْدِيَاتُ الكَلِم : المُخْزِيَات التي تُعْرَف . ( ن د ی ) الندآ ء کے معنی آواز بلند کرنے کے ہیں اور کبھی نفس آواز پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ میں اندر سے مراد آواز و پکار ہے یعنی وہ چو پائے صرف آواز کو سنتے ہیں اور اس کلام سے جو مفہوم مستناد ہوتا ہے اسے ہر گز نہیں سمجھتے ۔ اور کبھی اس کلام کو جس سے کوئی معنی مفہوم ہوتا ہو اسے ندآء کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے ۔ وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] اور جب تم لوگ نماز کے لئے اذان دیتے ہو ۔ میں نماز کے لئے اذان دینا مراد ہے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : ۔ إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] جب جمعے کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے ۔ میں بھی نداء کے معنی نماز کی اذان دینے کے ہیں اور شریعت میں ند اء الصلوۃ ( اذان ) کے لئے مخصوص اور مشہور کلمات ہیں اور آیت کریمہ : ۔ أُولئِكَ يُنادَوْنَ مِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] ان کو گویا دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے : ۔ میں ان کے متعلق نداء کا لفظ استعمال کر کے متنبہ کیا ہے کہ وہ حق سے بہت دور جا چکے ہیں ۔ نیز فرمایا ۔ وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] اور سنو جس دن پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے پکارے گا ۔ وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] اور ہم نے ان کو طور کے ذہنی جانب سے پکارا فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] جب موسیٰ ان ان کے پاس آئے تو ندار آئی ۔ ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا میں اللہ تعالیٰ کے متعلق نادی کا لفظ استعمال کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے گناہ اور احوال سینہ کے باعث اس وقت اپنے آپ کو حق اللہ تعالیٰ سے تصور کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے کی حالت ہوتی ہے اور آیت کریمہ ؛ ۔ رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] اے پروردگار ہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا ۔ جو ایمان کے لئے پکاررہا تھا ۔ میں منادیٰ کا لفظ عقل کتاب منزل رسول مرسل اور ان آیات الہیہ کو شامل ہے جو ایمان باللہ کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں اور ان چیزوں کو منادی للا یمان اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ ندا کی طرح ظاہر ہوتی ہیں اور وہ پکارنے والے کی طرح ایمان لانے کی طرف دعوت دے رہی ہیں ۔ اصل میں نداء ندی سے ہے جس کے معنی رطوبت نمی کے ہیں اور صوت ندی کے معنی بلند آواز کے ہیں ۔ اور آواز کے لئے نداء کا استعارہ اس بنا پر ہے کہ جس کے منہ میں رطوبت زیادہ ہوگی اس کی آواز بھی بلند اور حسین ہوگی اسی سے فصیح شخص کو کثرت ریق کے ساتھ متصف کرتے ہیں اور ندی کے معنی مجلس کے بھی آتے ہیں اس کی جمع انداء واندید آتی ہے ۔ اور در خت کو بھی ندی کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ نمی سے پیدا ہوتا ہے اور یہ تسمیۃ المسبب با سم السبب کے قبیل سے ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 420 ) کالکرم اذا نادٰی من الکافور جیسا کہ انگور کا خوشہ غلاف ( پردہ ) سے ظاہر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ منادی کرنے والے کی آواز ہوتی ہے ۔ کبھی نداء سے مراد مجالست بھی ہوتی ہے ۔ اس لئے مجلس کو النادی والمسدیوالندی کہا جاتا ہے اور نادیٰ کے معنی ہم مجلس کے بھی آتے ہیں قرآن پاک میں ہے : ۔ فَلْيَدْعُ نادِيَهُ [ العلق/ 17] تو وہ اپنے یاران مجلس کو بلالے ۔ اور اسی سے شہر میں ایک مقام کا نام درا لندوۃ ہے ۔ کیونکہ اس میں مکہ کے لوگ جمع ہو کر باہم مشورہ کیا کرتے تھے ۔ اور کبھی ندی سے مراد مخاوت بھی ہوتی ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے : ۔ فلان اندیٰ کفا من فلان وپ فلاں سے زیادہ سخی ہے ۔ ھو یتندٰی علیٰ اصحابہ ۔ وہ اپنے ساتھیوں پر بڑا فیاض ہے ۔ ما ندیت بشئی من فلان میں نے فلاں سے کچھ سخاوت حاصل نہ کی ۔ مندیات الکلم رسوا کن باتیں مشہور ہوجائیں ۔ برك أصل البَرْك صدر البعیر وإن استعمل في غيره، ويقال له : بركة، وبَرَكَ البعیر : ألقی بركه، واعتبر منه معنی اللزوم، فقیل : ابْتَرَكُوا في الحرب، أي : ثبتوا ولازموا موضع الحرب، وبَرَاكَاء الحرب وبَرُوكَاؤُها للمکان الذي يلزمه الأبطال، وابْتَرَكَتِ الدابة : وقفت وقوفا کالبروک، وسمّي محبس الماء بِرْكَة، والبَرَكَةُ : ثبوت الخیر الإلهي في الشیء . قال تعالی: لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] ( ب رک ) البرک اصل میں البرک کے معنی اونٹ کے سینہ کے ہیں ( جس پر وہ جم کر بیٹھ جاتا ہے ) گو یہ دوسروں کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کے سینہ کو برکۃ کہا جاتا ہے ۔ برک البعیر کے معنی ہیں اونٹ اپنے گھٹنے رکھ کر بیٹھ گیا پھر اس سے معنی لزوم کا اعتبار کر کے ابترکوا ا فی الحرب کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے اور جم کر لڑنے کے ہیں براکاء الحرب الحرب وبروکاءھا سخت کا ر زار جہاں بہ اور ہی ثابت قدم رہ سکتے ہوں ۔ ابترکت الدبۃ چو پائے کا جم کر کھڑا ہوجانا برکۃ حوض پانی جمع کرنے کی جگہ ۔ البرکۃ کے معنی کسی شے میں خیر الہٰی ثابت ہونا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات ( کے دروازے ) کھول دیتے ۔ یہاں برکات سے مراد بارش کا پانی ہے اور چونکہ بارش کے پانی میں اس طرح خیر ثابت ہوتی ہے جس طرح کہ حوض میں پانی ٹہر جاتا ہے اس لئے بارش کو برکات سے تعبیر کیا ہے ۔ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ حول أصل الحَوْل تغيّر الشیء وانفصاله عن غيره، وباعتبار التّغيّر قيل : حَالَ الشیء يَحُولُ حُؤُولًا، واستحال : تهيّأ لأن يحول، وباعتبار الانفصال قيل : حَالَ بيني وبینک کذا، وقوله تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ [ الأنفال/ 24] ( ح ول ) & الحوال ( ن ) دراصل اس کے معنی کسی چیز کے متغیر ہونے اور دوسری چیزوں سے الگ ہونا کے ہیں ۔ معنی تغییر کے اعتبار سے حال الشئی یحول حوولا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کی شے کے متغیر ہونیکے ہیں ۔ اور استحال کے معنی تغیر پذیر ہونے کے لئے مستعد ہونے کے اور معنی انفصال کے اعتبار سے حال بینی وبینک کذا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ یعنی میرے اور اس کے درمیان فلاں چیز حائل ہوگئی ۔ اور آیت کریمہ :۔ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ [ الأنفال/ 24] اور جان رکھو کہ خدا آدمی اسکے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ۔ سبحان و ( سُبْحَانَ ) أصله مصدر نحو : غفران، قال فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] ، وسُبْحانَكَ لا عِلْمَ لَنا [ البقرة/ 32] ، وقول الشاعرسبحان من علقمة الفاخر «1» قيل : تقدیره سبحان علقمة علی طریق التّهكّم، فزاد فيه ( من) ردّا إلى أصله «2» ، وقیل : أراد سبحان اللہ من أجل علقمة، فحذف المضاف إليه . والسُّبُّوحُ القدّوس من أسماء اللہ تعالیٰ «3» ، ولیس في کلامهم فعّول سواهما «4» ، وقد يفتحان، نحو : كلّوب وسمّور، والسُّبْحَةُ : التّسبیح، وقد يقال للخرزات التي بها يسبّح : سبحة . ( س ب ح ) السبح ۔ سبحان یہ اصل میں غفران کی طرح مصدر ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] سو جس وقت تم لوگوں کو شام ہو اللہ کی تسبیح بیان کرو ۔ تو پاک ذات ) ہے ہم کو کچھ معلوم نہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ۔ ( سریع) (218) سبحان من علقمۃ الفاخر سبحان اللہ علقمہ بھی فخر کرتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں سبحان علقمۃ ہے اس میں معنی اضافت کو ظاہر کرنے کے لئے زائد ہے اور علقمۃ کی طرف سبحان کی اضافت بطور تہکم ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں ، ، سبحان اللہ من اجل علقمۃ ہے اس صورت میں اس کا مضاف الیہ محذوف ہوگا ۔ السبوح القدوس یہ اسماء حسنیٰ سے ہے اور عربی زبان میں فعول کے وزن پر صرف یہ دو کلمے ہی آتے ہیں اور ان کو فاء کلمہ کی فتح کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے جیسے کلوب وسمود السبحۃ بمعنی تسبیح ہے اور ان منکوں کو بھی سبحۃ کہاجاتا ہے جن پر تسبیح پڑھی جاتی ہے ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ عالَمُ والعالَمُ : اسم للفلک وما يحويه من الجواهر والأعراض، وهو في الأصل اسم لما يعلم به کالطابع والخاتم لما يطبع به ويختم به، وجعل بناؤه علی هذه الصّيغة لکونه کا لآلة، والعَالَمُ آلة في الدّلالة علی صانعه، ولهذا أحالنا تعالیٰ عليه في معرفة وحدانيّته، فقال : أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] ، وأمّا جمعه فلأنّ من کلّ نوع من هذه قد يسمّى عالما، فيقال : عالم الإنسان، وعالم الماء، وعالم النّار، وأيضا قد روي : (إنّ لله بضعة عشر ألف عالم) «1» ، وأمّا جمعه جمع السّلامة فلکون النّاس في جملتهم، والإنسان إذا شارک غيره في اللّفظ غلب حكمه، وقیل : إنما جمع هذا الجمع لأنه عني به أصناف الخلائق من الملائكة والجنّ والإنس دون غيرها . وقد روي هذا عن ابن عبّاس «2» . وقال جعفر بن محمد : عني به النّاس وجعل کلّ واحد منهم عالما «3» ، وقال «4» : العَالَمُ عالمان الکبير وهو الفلک بما فيه، والصّغير وهو الإنسان لأنه مخلوق علی هيئة العالم، وقد أوجد اللہ تعالیٰ فيه كلّ ما هو موجود في العالم الکبير، قال تعالی: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ [ الفاتحة/ 1] ، وقوله تعالی: وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعالَمِينَ [ البقرة/ 47] ، قيل : أراد عالمي زمانهم . وقیل : أراد فضلاء زمانهم الذین يجري كلّ واحد منهم مجری كلّ عالم لما أعطاهم ومكّنهم منه، وتسمیتهم بذلک کتسمية إبراهيم عليه السلام بأمّة في قوله : إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً [ النحل/ 120] ، وقوله : أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعالَمِينَ [ الحجر/ 70] . العالم فلک الافلاک اور جن جواہر واعراض پر حاوی ہے سب کو العالم کہا جاتا ہے دراصل یہ فاعل کے وزن پر ہے جو اسم آلہ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے طابع بہ ۔ مایطبع بہ خاتم مایختم بہ وغیرہ اسی طرح عالم بھی ہے جس کے معنی ہیں ماعلم بہ یعنی وہ چیز جس کے ذریعہ کسی شے کا علم حاصل کیا جائے اور کائنات کے ذریعہ بھی چونکہ خدا کا علم حاصل ہوتا ہے اس لئے جملہ کائنات العالم کہلاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ذات باری تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت کے سلسلہ میں کائنات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] کیا انہوں نے اسمان اور زمین گی بادشاہت پر غور نہیں کیا ۔ اور العالم کی جمع ( العالمون ) اس لئے بناتے ہیں کہ کائنات کی ہر نوع اپنی جگہ ایک مستقلی عالم عالم کی حیثیت رکھتی ہے مثلا عالم الاانسان؛عالم الماء وعالمالناروغیرہ نیز ایک روایت میں ہے ۔ ان اللہ بضعتہ عشر الف عالم کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے کچھ اوپر عالم پیدا کئے ہیں باقی رہا یہ سوال کہ ( واؤنون کے ساتھ ) اسے جمع سلامت کے وزن پر کیوں لایا گیا ہے ( جو ذدی العقول کے ساتھ مختص ہے ) تو اس کا جواب یہ ہے کہ عالم میں چونکہ انسان بھی شامل ہیں اس لئے اس کی جمع جمع سلامت لائی گئی ہے کیونکہ جب کسی لفظ میں انسان کے ساتھ دوسری مخلوق بھی شامل ہو تو تغلیبا اس کی جمع واؤنون کے ساتھ بنالیتے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ چونکہ لفظ عالم سے خلائق کی خاص قسم یعنی فرشتے جن اور انسان ہی مراد ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے ۔ اس لئے اس کی جمع واؤنون کے ساتھ لائی گئی ہے امام جعفر بن محمد کا قول ہے کہ عالیمین سے صرف انسان مراد ہیں اور ہر فرد بشر کو ایک عالم قرار دے کر اسے جمع لایا گیا ہے ۔ نیز انہوں نے کہا ہے کہ عالم دو قسم پر ہے ( 1 ) العالم الکبیر بمعنی فلک دمافیہ ( 2 ) العالم اصغیر یعنی انسان کیونکہ انسان کی تخلیق بھی ایک مستقل عالم کی حیثیت سے کی گئی ہے اور اس کے اندر قدرت کے وہ دلائل موجود ہیں جا عالم کبیر میں پائے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعالَمِينَ [ الحجر/ 70] کیا ہم نے تم کو سارے جہاں ( کی حمایت وطر فداری سے ) منع نہیں کیا الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ [ الفاتحة/ 1] سب تعریف خدا ہی کو سزا وار ہے جو تمام مخلوقات کو پروردگار ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعالَمِينَ [ البقرة/ 47] کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ تم یعنی بنی اسرائیل کو ان کی ہمعصراز قوام پر فضیلت دی اور بعض نے اس دور کے فضلا مراد لئے ہیں جن میں سے ہر ایک نواز شات الہٰی کی بدولت بمنزلہ ایک عالم کے تھا اور ان کو عالم سے موسم کرنا ایسے ہی ہے جیسا کہ آیت کریمہ : إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً [ النحل/ 120] بیشک حضرت ابراہیم ایک امہ تھے میں حضرت ابراہیم کو امۃ کہا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨) چناچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کے پاس پہنچے تو ان کو اللہ کی طرف سے آواز دی گئی ہے کہ جو اس آگ میں یعنی فرشتے ہیں ان پر بھی برکت ہے اور جو اس آگ کے پاس ہے (یعنی موسیٰ علیہ السلام) اس پر بھی برکت ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ ذات بہت ہی بابرکت ہے کہ جس کے نور سے یہ نور ہے یا یہ کہ جو تلاش میں ہیں یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور جو ان کے گرد فرشتے ہیں ان سب پر برکت ہو اور اللہ رب العزت کی ذات پاک ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

10 According to AI-Qasas: 30, the voice was calling out from a tree. What one understands from this is this: A sort of a fire was alight on the ground on the edge of the valley, but neither was anything burning nor any smoke arising. In the midst of the fire there stood a lush green tree from which a voice started calling out this all of a sudden. This is a strange thing which the Prophets of Allah have been experiencing. When the Holy Prophet Muhammad (may Allah's peace be upon him) was first blessed with Prophethood, an Angel appeared before him in the solitude of the Gave of Hira' and started delivering Allah's Message. A similar thing happened with the Prophet Moses also. A journeying person has halted at a place, sees a fire at a distance, approaches it in order to get some information abort the route, or to pick a burning ember, and suddenly Allah, Lord of the Worlds, the Infinite, the Inconceivable Being, starts speaking to him. On such occasions, there exists externally as well as within the Prophets' own selves an extraordinary state which fills them with the assurance that it is not a jinn or a satan or an illusion of their own mind, nor are their senses being deceived, but it is the Lord of the universe, or His Angel, who is speaking to them. (For further explanation, see E.N. 10 of An-Najm). 11 Here the use of the words Subhan -Allah (glorified is Allah) is meant to warn the Prophet Moses to this effect: "You should never think that Allah, Lord of the universe, is sitting in the tree, or has entered into it, or that His absolute Light hasconcentrated itself into the limited sphere of your sight, or some tongue is functioning in some mouth to produce speech, but it is Allah, Who is Pure and Free from all such limitations, Who is Himself speaking to you."

سورة النمل حاشیہ نمبر :10 سورہ قصص میں ہے کہ ندا ایک درخت سے آرہی تھی فِي الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ ، اس سے جو صورت معاملہ سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ وادی کے کنارے سے ایک خطے میں آگ سی لگی ہوئی تھی مگر نہ کچھ جل رپا تجا نہ کوئی دھواں اٹھ رہا تھا اور اس آگ کے اندر ایک ہرا بھرا درخت کھڑا تھا جس پر سے یکایک یہ ندا آنی شروع ہوئی ۔ یہ ایک عجیب معاملہ ہے جو انبیاء علیہم السلام کے ساتھ پیش آتا رہا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی مرتبہ نبوت سے سرفراز کیے گئے تو غار حرا کی تنہائی میں یکا یک ایک فرشتہ آیا اور اس نے اللہ کا پیغام پہنچانا شروع کردیا ، حضرت موسی کے ساتھ بھی یہی صورت پیش آئی کہ ایک شخص سفر کرتا ہوا ایک جگہ ٹھہرا ہے ، دور سے آگ دیکھ کر راستہ پوچھنے یا انگارا چننے کی غرض سے آتا ہے اور یکلخت اللہ رب العالمین کی ہر قیاس و گمان سے بالا ذات اس سے مخاطب ہوجاتی ہے ۔ ان مواقع پر درحقیقت ایک ایسی غیر معمولی کیفیت خارج میں بھی اور انبیاء علیہم السلام کے نفس میں بھی موجود ہوتی ہے جس کی بنا پر انہیں اس امر کا یقین حاصل ہوجاتا ہے کہ یہ کسی جن یا شیطان یا خود ان کے اپنے ذہن کا کوئی کرشمہ نہیں ہے ، انہ ان کے حواش کوئی دھوکا کھا رہے ہیں ، بلکہ فی الواقع یہ خداوند عالم یا اس کا فرشتہ ہی ہے جو ان سے ہمکلام ہے ، ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو النجم ، حاشیہ 10 ) سورة النمل حاشیہ نمبر :11 اس موقع پر سبحان اللہ ارشاد ارشاد فرمانے سے دراصل حضرت موسی کو اس بات پر متنبہ کرنا مقصود تھا کہ یہ معاملہ کمال درجہ تنزیہ کے ساتھ پیش آرہا ہے ، یعنی ایسا نہیں ہے کہ اللہ رب العالمین اس درخت پر بیٹھا ہو ، یا اس میں حلول کر آیا ہو ، یا اس کا نور مطلق تمہاری بینائی کے حدود میں سما گیا ہو ، یا کوئی زبان کسی منہ میں حرکت کر کے یہاں کلام کر رہی ہو ، بلکہ ان تمام محدود دیتوں سے پاک اور منزہ ہوتے ہوئے وہ بذات خود تم سے مخاطب ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: یہ حقیقت میں آگ نہیں تھی، بلکہ ایک نور تھا، اور اس میں فرشتے تھے، اُن کو بھی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے برکت کی دعا دی گئی، اور اِس کے آس پاس موسیٰ علیہ السلام تھے، اُن کو بھی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:8) جاء ھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب النار کیلئے ہے جس کے متعلق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تھا انی انست نارا۔ نودی : نداء سے ماضی مجہول واحد مذکر غائب وہ پکارا گیا۔ اس کو پکارا گیا اس کا مفعول مالم یسم فاعلہ، ضمیر واحد مذکر غائب ہے جو موسیٰ کی طرف راجع ہے یعنی (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی گئی۔ ان مفسرہ ہے (کیونکہ نداء میں قول کے معنی پائے جاتے ہیں ان مفسرہ ہمیشہ اس دلالت لفظی ہو۔ جیسے فاوحینا الیہ ان اصنع الفلک (23:27) یا دلالت معنوی ہو جیسے وانطلق الملا منھم ان امشوا (38:6) اور ان میں سے کئی پنج چل کھڑے ہوئے کہ چلو۔ یعنی ان کے اٹھ کر چلنے کا مطلب گویا یہ کہنا ہے کہ تم بھی چلو ۔ بورک : بارک یبارک مبارکۃ (مفاعلۃ) سے ماضی مجہول مذکر غائب اس کو برکت دی گئی ، وہ برکت دیا گیا، یا برکت ہو وہ من فی النار ومن حولہا۔ جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے آس پاس ہے مفسرین کے اس میں مختلف اقوال ہیں :۔ (1) من فی النار سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں اور من حولہا سے مراد فرشتے ہیں۔ (2) من فی النار سے مراد فرشتے ہیں اور من حولہا سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ (3) من فی النار سے مراد بھی فرثتے اور من حولہا سے مراد بھی فرشتے ہیں۔ (حقانی) (4) من فی النار سے مراد حضرت موسیٰ وفرشتگان جو وہاں اس وادی میں حاضر تھے۔ اور من حولہا سے مراد ارض شام کہ مبعث انبیاء و مہبط وحی رہی ہے۔ (کشاف و بیضاوی وغیرہ) و سبحان اللہ رب العلمین ۔ اور (ہر تشبیہ و تمثیل سے) پاک ہے اللہ جو رب العالمین ہے واؤ عطف کی ہے اور جملہ سبحن اللہ رب العلمین معطوف ہے اور بورک معطوف علیہ ہے اور یہاں تک منادی کا کلام ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

8 ۔ جو آگ میں ہے یا اس کے قریب ہے یعنی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور جو اس کے گرد ہیں یعنی فرشتے۔ (قرطبی بحوالہ ابن جریر) کیونکہ وہ دنیا کی آگ نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کا نور تھی جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے : ” حجابہ النور “ اور ” حجابہ النار “ کہ اس کا پردہ ” نور “ یا ” آگ “ ہے۔ مزید دیکھئے سورة طہ آیت 12 ۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ اس امر کے بتلانے کے لئے کہ یہ نور جو بشکل نار ہے خود ذات واجب نہیں یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ رب العالمین جہاد و حدود و مقدار و الوان وغیرہ سے پاک ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فلما جآء ھا نودی……الحکیم (٩) یہ وہ پکار ہے جس کے ساتھ پوری کائنات ہمقدم ہے اور جس کے ساتھ تمام جہان اور تمام آسمان ہم آہنگ ہیں۔ تمام کائنات اس کے سامنے سہمی ہوئی ہے اور انسان روح اور ضمیر اسے سن کر کانپ اٹھتا ہے۔ یہ وہ آواز ہے جس کے ساتھ زمین و آسمان کا اتصال ہے اور انسان جو ایک چھوٹا سا ذرا ہے وہ عظیم اور بلند ذات کی آواز کو پاتا ہے اور ایک فانی اور ضعیف انسان ایک لافانی اور قوی ذات باری کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے اور یہ مقام اسے محض فصل رب تعالیٰ سے ملتا ہے۔ فلما جاء ھا نودی (٨٢ : ٨) ” جب وہ وہاں پہنچا تو ندا آئی۔ “ پکارا گیا ، یہاں قرآن پکارنے والے کا نام نہیں لیتا ، لیکن وہ معلوم ہے۔ یہ نام نہ لینا اور ماضی مجہول کا صیغہ احترم ، تعلظیم اور جلالت شان کبریائی کے لئے استعمال ہوا ہے۔ نودی ان بورک من فی النار ومن حولھا (٨٢ : ٨) ” پکارا گیا کہ مبارک ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس کے ماحول میں ہے۔ “ آگ میں کون تھا اور آگ کے ماحول میں کون تھا ؟ راجح تفسیر یہی ہے کہ یہ آگ دیسی آگ نہ تھی جسے ہم جلات یہیں بلکہ یہ ایک ایسی آگ تھی جس کا مصدر عالم بالا تھا۔ یہ وہ آگ تھی جسے پاک فرشتوں نے عظیم ہدایت کے لئے روشن کیا تھا اور یہ آگ کی طرح نظر آرہی تھی اور یہ پاک روحیں اس میں تھیں لہٰذا یہ ندا کہ جو اس آگ میں ہے وہ مبارک ہے۔ یہ اعلان تھا کہ اس آگ اور اس کے اردگرد جو پاک روحیں ہیں وہ بابرکت ہیں۔ اور اس آگ کے ماحول میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی تھے اور پوری کائنات نے اس اعزاز کو ریکارڈ کردیا کہ یہ خطہ زمین اس پوری کائنات میں بابرکت جگہ ہے ، ایک مقدس مقام ہے اور اس میں اس پر اللہ ذو الجلال کی تجلیات اور برکات کا نزول ہوا ہے اور پھر اس جگہ کے تقدس اور برکت کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس بات کو بھی ریکارڈ کردیا گیا ” کہ پاک ہے ، اللہ سب جہان والوں کا پروردگار ، اے موسیٰ ! میں اللہ زبردست اور دانا۔ “ وسبحن اللہ رب العلمین (٨٢ : ٨) یموسی انہ انا اللہ العزیز الحکیم (٨٢ : ٩) اس آیت میں اللہ نے اپنی ذات کی پاکیزگی اور پورے جہان کے لئے اس کی ربوبیت کا اعلان کردیا اور یہ بھی بتا دیا کہ جو آواز آرہی ہے وہ میں ہوں جو عزیز و حکیم ہوں اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ذات کے ذریعے پوری انسانیت کو یہ بلندی بخشی گئی اور وہ کائنات کے آسمان پر ایک چمکتا ہوا تارا بن گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس آگ کے پاس سے بہت بڑی خبر مل گئی جو انہوں نے دور سے دیکھی تھی لیکن یہ عظیم خبر ایک عظیم ذمہ داری تھی۔ آپ کو گرمانے والا انگارا بھی مل گیا مگر وہ عوام کو راہ ہدایت کی طرف لانے کی آگ تھی۔ یہ آواز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو چننے کے لئے تھی اور ان کے ذمہ فریضہ رسالت عائد کرنے کے لئے تھی اور پیغام بھی ان لوگوں تک پہنچانا تھا جو اس کرہ ارض کے عظیم ترین سرکش تھے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کو اس کام کے لئے تیار فرماتا ہے اور تربیت دیتا ہے اور دلائل و معجزات کے ساتھ مسلح کرتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

7:۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ جسے وہ آگ سمجھے تھے وہ دنیوی آگ نہیں بلکہ وہ نورانی آگ ہے اور نور الٰہی کی بجلی ہے۔ ” ان بورک “ ، ان مخففہ من المثقلہ ہے۔ اس کا اسم مقدر ہے اور اس سے پہلے باء مقدر ہے۔ مخففۃ من الثقیلۃ وتقدیرہ نودی بانہ بورک والضمیر ضمیر الشان (مدارک ج 3 ص 155) ۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) وہاں پہنچے تو آواز آئی اس آگ میں جس کی تجلی کا نور ظہور ہے وہ مبارک ہے اور اس کے ارد گرد جو زمین کا خطہ ہے یا اس کے چاروں طرف جو فرشتے ہیں وہ بھی مبارک ہیں۔ اصل برکات دہندہ وہی ہے جس کا یہاں نور تجلی ظاہر ہورہا ہے اور باقی چیزوں کو بھی اسی ہی نے برکت عطا فرمائی۔ من فی النار ھو نور اللہ و من حولھا الملائکۃ وھو مروی عن قتادۃ والزجاج (کبیر ج 6 ص 554) ۔ 8:۔ اس سے پہلے ” اقول “ مقدر ہے یا یہ نووی کے تحت داخل اور ” ان بورک “ پر معطوف ہے والظاھر ان قولہ ” وسبحن اللہ رب العلمین “ داخل تحت قولہ نودی الخ (بحر ج 7 ص 56) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ مکان، جہت، جسم و رنگ اور دیگر صفات مخلوقین سے پاک اور منزہ ہے۔ آگ میں اس کے ظہور کا مطلب یہ نہیں کہ معاذ اللہ اس کی ذات میں حلول کر آئی بلکہ مراد یہ ہے کہ اس میں اس کی تجلی کا ظہور ہوا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(8) پس جب موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہونچا توآوازدی گئی کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ کے اندر ہے اور وہ جو اس آگ کے آس پاس ہے اور اللہ رب العالمین تمام عیوب سے پاک ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آگ کے اندر اور اس پاس فرشتے مقرب تھے آگ نہ تھی ان کا نور تھا اور آواز دی غیب سے اللہ تعالیٰ نے 12 یا آگ کے اندر فرشتے ہوں اور آگ کے گرد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہوں یہ جملہ بطور برکت کی دعا کی ہے پاکی کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حدود اور جہات سے پاک ہے اس نور کو خدا نہ سمجھ لیاجائے۔