Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 84

سورة النمل

حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡ قَالَ اَکَذَّبۡتُمۡ بِاٰیٰتِیۡ وَ لَمۡ تُحِیۡطُوۡا بِہَا عِلۡمًا اَمَّا ذَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸۴﴾

Until, when they arrive [at the place of Judgement], He will say, "Did you deny My signs while you encompassed them not in knowledge, or what [was it that] you were doing?"

جب سب کے سب آپہنچیں گے تو اللہ تعالٰی فرمائے گا کہ تم نے میری آیتوں کو باوجودیہ کہ تمہیں ان کا پورا علم نہ تھا کیوں جھٹلایا؟ اور یہ بھی بتلاؤ کہ تم کیا کچھ کرتے رہے؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

حَتَّى إِذَا جَاوُوا ... Till, when they come, and stand before Allah, may He be glorified and exalted, in the place of reckoning, ... قَالَ أَكَذَّبْتُم بِأيَاتِي وَلَمْ تُحِيطُوا بِهَا عِلْمًا أَمَّاذَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ He will say: "Did you deny My Ayat whereas you comprehended them not by knowledge, or what was it that you used to do!" meaning they will be asked about their beliefs and their deeds. Since they are among the doomed and, as Allah says: فَلَ صَدَّقَ وَلاَ صَلَّى وَلَـكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّى He neither believed nor performed Salah! But on the contrary, he denied and turned away! (75:31-32) Then the proof will be established against them and they will have no excuse whatsoever, as Allah says: هَـذَا يَوْمُ لاَ يَنطِقُونَ وَلاَ يُوْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ That will be a Day when they shall not speak. And they will not be permitted to put forth any excuse. (77:35-36) Similarly, Allah says here: وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِم بِمَا ظَلَمُوا فَهُمْ لاَ يَنطِقُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

841یعنی تم نے میری توحید اور دعوت کے دلائل سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کہ اور اس کے بغیر ہی میری آیتوں کو جھٹلاتے رہے۔ 842جس کی وجہ سے تمہیں میری باتوں پر غور کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٨] اس آیت میں میدان محشر کا ایک منظر پیش کیا گیا ہے۔ مجرموں کی ان کے جرائم کے لحاظ سے الگ الگ جماعتیں بنادی جائیں گی۔ جیسے مثلاً مشرکوں کی الگ جماعت ہوگی۔ کافروں کی الگ، منافقوں کی الگ، اور بعض مفسرین نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ مکذبین کو محشر کی طرف لے چلیں گے اور وہ اتنی کثرت سے ہوں گے کہ پیچھے چلنے والوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا جائے گا۔ جیسا کہ انبوہ کثیر میں انتظام قائم رکھنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ وزع کا بنیادی معنی صرف روک دینا یا روکے رکھنا ہے۔ لہذا اس کے معنی میں دونوں طرح مطالب کی گنجائش موجود ہے۔ [٨٩] یعنی میری آیات کے انکار کے سلسلہ میں تمہارے پاس کوئی معقول وجہ یا دلیل موجود نہیں تھی۔ الا یہ کہ وہ باتیں تمہارے علم کی گرفت یا سمجھ میں نہیں آتی تھیں۔ پھر بجائے اس کے کہ تم غور و فکر کرکے ان کو سمجھنے کی کوشش کرتے تم نے سرے سے انکار ہی کردیا تھا۔ تمہارا معمول ہی یہ بن گیا تھا کہ بلا سوچے سمجھے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا جائے۔ اگر یہ بات نہیں تو بتلاؤ اور تم کیا کام کرتے رہے ہو ؟ کیا تم یہ ثابت کرسکتے ہو کہ تم نے تحقیق کے بعد ان آیات کو جھوٹا ہی پایا تھا۔ اور تم میں یہ قطعی علم حاصل ہوگیا تھا کہ جو کچھ ان آیات میں مذکور ہے وہ درست نہیں ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

حَتّىٰٓ اِذَا جَاۗءُوْ ۔۔ : یعنی ان کے حاضر ہونے پر ان سے عقائد و اعمال دونوں کے متعلق سوال ہوگا اور یہ سوال انھیں شرمندہ اور لاجواب کرنے کے لیے ہوگا کہ کیا دنیا میں تمہارا یہی مشغلہ رہا کہ تم ہماری آیات کو پوری طرح جاننے اور سمجھنے کے بغیر ہی جھٹلاتے رہے۔ تمہارے جھٹلانے کی یہ وجہ نہیں تھی کہ تم نے پوری طرح جاننے اور سمجھنے کے بعد انھیں غلط سمجھ کر جھٹلایا ہو، یا پھر بتاؤ تم کیا کرتے رہے تھے، جیسا کہ سورة ملک میں کفار کا قول نقل کیا ہے، فرمایا : (وَقَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ ) [ الملک : ١٠، ١١ ] ” اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے، یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوں میں نہ ہوتے۔ پس وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے، سو دوری ہے بھڑکتی ہوئی آگ والوں کے لیے۔ “ ہمارے زمانے کے بدعتی، فرقہ پرست، منکرین حدیث اور کفار سے مرعوب جدّت کے دعوے دار لوگوں کا بھی یہی حال ہے کہ جہاں کوئی آیت یا حدیث سمجھ میں نہ آئی اس پر پوری طرح غور کرنے یا کسی سے سمجھنے کے بغیر ہی اسے ردّ کردیا، یا کوئی آیت یا حدیث اپنے فرقے کے مسلک کے خلاف نظر آئی تو اسے ردّ کردیا، یا اس کی ایسی تاویل کی جو ردّ کردینے سے بھی بدتر ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰيٰتِيْ وَلَمْ تُحِيْطُوْا بِہَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝ ٨٤ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ حيط الحائط : الجدار الذي يَحُوط بالمکان، والإحاطة تقال علی وجهين : أحدهما : في الأجسام نحو : أَحَطْتُ بمکان کذا، أو تستعمل في الحفظ نحو : إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ [ فصلت/ 54] ، والثاني : في العلم نحو قوله : أَحاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْماً [ الطلاق/ 12] ( ح و ط ) الحائط ۔ دیوار جو کسی چیز کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہو اور احاطۃ ( افعال ) کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) اجسام کے متعلق جیسے ۔ احطت بمکان کذا یہ کبھی بمعنی حفاظت کے آتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ [ فصلت/ 54] سن رکھو کہ وہ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ یعنی وہ ہر جانب سے ان کی حفاظت کرتا ہے ۔ (2) دوم احاطہ بالعلم ہے جیسے فرمایا :۔ أَحاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْماً [ الطلاق/ 12] اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٤) یہاں تک کہ جب سب آکر جمع ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کیا تم نے میری کتاب اور میرے رسول کو جھٹلایا تھا اور یہ تک تم نے غور نہیں کیا کہ یہ میری طرف سے ہیں اور بلا سوچے سمجھے تکذیب کردی اور اس کے علاوہ کفر وشرک کے اور بھی کام کیا کرتے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٤ (حتّٰیٓ اِذَا جَآءُ وْ قَالَ اَکَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَلَمْ تُحِیْطُوْا بِہَا عِلْمًا اَمَّا ذَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) ” یعنی کیا تم لوگ واقعتا میری آیات کو سمجھ نہیں سکے تھے یا پھر سمجھنے کے بعد تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کا انکار کرتے رہے تھے ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

102 That is, "You did not deny My Revelations on the basis of some scientific investigation, which might have proved them to be false, but you denied them without any sound reason. " 103 That is, "If it is not so, can you then prove that you treated them as false only after a thorough scientific investigation through which you came to know that the reality was not that which was being presented in these verses?"

سورة النمل حاشیہ نمبر : 102 یعنی تمہارے جھٹلانے کی وجہ ہرگز نہیں تھی کہ کسی علمی ذریعہ سے تحقیق کر کے تمہیں معلوم ہوگیا تھا کہ یہ آیات جھوٹی ہیں ۔ تم نے تحقیق اور غور و فکر کے بغیر بس یوں ہی ہماری آیات کو جھٹلا دیا ؟ سورة النمل حاشیہ نمبر : 103 یعنی اگر ایسا نہیں ہے تو کیا تم یہ ثابت کرسکتے ہو کہ تم نے تحقیق کے بعد ان آیات کو جھوٹا ہی پایا تھا اور تمہیں واقعی یہ علم حاصل ہوگیا تھا کہ حقیقت نفس الامری وہ نہیں ہے جو ان آیات میں بیان کی گئٰ ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:84) جاء وا : ای جاؤا الی موقف السوال والجواب والمناقشۃ والحساب سوال و جواب حساب و کتاب کی جگہ۔ میدان حشر۔ قال : ای قال اللہ لہم۔ ولم تحیطوابھا علما۔ میں واؤ حالیہ ہے۔ لم تحیطوا ب۔ مضارع نفی جحد بلم۔ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم احاطہ میں نہیں لائے تھے۔ بھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ایاتی کی طرف راجع ہے۔ علما تمیز ہے لم تحیطوا سے۔ سارا جملہ حالیہ ہے جملہ سابقہ سے۔ منکرین آیات کے انکار کی قباحت کی تاکید کے لئے یعنی تم نے میری آیات کو جھٹلا دیا تھا درآں حالیکہ تم انہیں اپنے احاطہ علمی میں نہیں لائے تھے۔ یعنی بغیر کسی غور و فکر اور بغیر کسی تحقیق کے تم نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا۔ اما۔ یہ دو لفظوں سے مرکب ہے ایک ام منقطعہ سے اور دوسرے ما استفہامیہ سے۔ ام منقطعہ کے وہ معنی جو اس سے کبھی جدا نہیں ہوتے اضراب کے ہیں یعنی یہاں بمعنی بل آیا ہے اور یہاں اضراب کی وہ صورت ہے کہ پہلے حکم کو برقرار رکھ کر اس کے مابعد کو اس حکم پر اور زیادہ کردیا جائے ، یعنی تم نے بلا سوچے سمجھے بلا غور و فکر میری آیات کی تکذیب ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ اور کیا کیا تم کام کرتے رہے۔ مثلاً انبیاء اور اہل ایمان کو آزار دیا جو تکذیب سے بھی بڑھ کر ہے اور اسی طرح اور اعمال کفریہ فسقیہ میں مبتلا رہے۔ ماذا۔ کیا چیز ہے۔ کیا ہے کنتم تعلمون (جو) تم کرتے رہے تھے۔ (اماذا۔ ام ما ذا)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

9 ۔ یعنی ان سے عقائد و اعمال دونوں کے متعلق سوال ہوگا اور یہ سوال بطور تبکیت ہوگا کہ تمہارا دنیا میں یہی مشغلہ رہا کہ جہاں کوئی آیت یا حدیث تمہاری سمجھ میں نہ آئی اس پر پوری طرح غور کئے بغیر اسے رد کردیا۔ ہمارے زمانہ میں اہل بدعت اور مستشرقین کے عقل پرست شاگردان رشید کا بھی یہی شیوہ چلا آرہا ہے کہ صحیح احادیث کو یہی سمجھیا مسلک کے خلاف پا کر رد کردیتے ہیں اور قرآن کی ایسی تاویل کرتے ہیں جو دراصل معنوی تحریف ہوتی ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ مطلب یہ کہ سنتے ہی بلا تدبر و تفکر ان کی تکذیب کردی، اور تکذیب ہی پر اکتفا نہیں کیا، بکہ یاد کرو کہ اس کے علاوہ اور بھی کیا کیا کرتے رہے مثلا انبیاء کو اور اہل ایمان کو آزار دیا، اسی طرح اور عقائد و اعمال کفریہ و فسقیہ میں مبتلا رہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

84۔ یہاں تک کہ جب وہ سب حاضر ہوجائیں گے اور حساب کے موقف میں آجائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم نے میری آیتوں کی تکذیب کی تھی حالانکہ تم نے میری بات کی حقیقت کا پوری طرح احاطہ بھی نہ کیا تھا ورنہ بتائو اور کیا کرتے رہے۔ یعنی نہ تو میری آیات کو سمجھا نہ ان کی حقیقت کا باعتبار علم احاطہ کیا بلکہ سنتے ہی تکذیب کرنے لگے ۔ بعض حضرات نے یوں ترجمہ کیا ہے بلکہ یاد تو کرو اور بھی کیا کام کرتے رہے۔ یہ ترجمہ اور منقطعہ کی تقدیر پر کیا گیا ہے۔