Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 10

سورة القصص

وَ اَصۡبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوۡسٰی فٰرِغًا ؕ اِنۡ کَادَتۡ لَتُبۡدِیۡ بِہٖ لَوۡ لَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰی قَلۡبِہَا لِتَکُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۰﴾

And the heart of Moses' mother became empty [of all else]. She was about to disclose [the matter concerning] him had We not bound fast her heart that she would be of the believers.

موسٰی ( علیہ السلام ) کی والدہ کا دل بے قرار ہوگیا قریب تھیں کہ اس واقعہ کو بالکل ظاہر کر دیتیں اگر ہم ان کے دل کو ڈھارس نہ دے دیتے یہ اس لئے کہ وہ یقین کرنے والوں میں رہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The intense Grief of Musa's Mother, and how He was returned to Her Allah tells: وَأَصْبَحَ فُوَادُ أُمِّ مُوسَى فَارِغًا ... And the heart of the mother of Musa became empty. Allah tells us how, when her child was lost in the river, the heart of Musa's mother became empty, i.e., she could not think of any matter in this world except Musa. This was the view of Ibn Abbas, Mujahid, Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Abu Ubaydah, Ad-Dahhak, Al-Hasan Al-Basri, Qatadah and others. ... إِن كَادَتْ لَتُبْدِي بِهِ ... She was very near to disclose his (case), means, because of the intensity of her grief, she almost told people that she had lost a son. She would have disclosed her situation, if Allah had not given her strength and patience. Allah says: ... لَوْلاَ أَن رَّبَطْنَا عَلَى قَلْبِهَا لِتَكُونَ مِنَ الْمُوْمِنِينَ

جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے؟ موسیٰ علیہ السلام کی و الدہ نے جب ان کو صندوقچہ میں ڈال کر دریا میں بہادیا تو بہت پریشان ہوئیں اور سوائے اللہ کے سچے رسول اور اپنے لخت جگر حضرت موسیٰ کے آپ کو کسی اور چیز کا خیال ہی نہ رہا ۔ صبر وسکون جاتارہا دل میں بجز حضرت موسیٰ کی یاد کے اور کوئی خیال ہی نہیں آتا تھا ۔ اگر اللہ کی طرف سے ان کی دلجمعی نہ کردی جاتی تو وہ تو بےصبری میں راز فاش کردیتیں لوگوں سے کہہ دیتیں کہ اس طرح میرا بچہ ضائع ہوگیا ۔ لیکن اللہ نے اس کا دل ٹھہرا دیا ڈھارس دی اور تسکین دے دی کہ تیرا بچہ تجھے ضرور ملے گا ۔ والدہ موسیٰ نے اپنی بڑی بچی سے جو ذرا سمجھ دار تھیں فرمایا کہ بیٹی تم اس صندوق پر نظر جماکر کنارے کنارے چلی جاؤ دیکھو کیا انجام ہوتا ہے؟ مجھے بھی خبر کرنا تو یہ دور سے اسے دیکھتی ہوئی چلیں لیکن اس انجان پن سے کہ کوئی اور نہ سمجھ سکے کہ یہ اس کا خیال رکھتی ہوئی اس کے ساتھ جارہی ہے ۔ فرعون کے محل تک پہنچتے ہوئے اور وہاں اس کی لونڈیوں کو اٹھاتے ہوئے تو آپ کی ہمشیرہ نے دیکھا پھر وہیں باہر کھڑی رہ گئیں کہ شاید کچھ معلوم ہوسکے کہ اندر کیا ہو رہا ہے ۔ وہاں یہ ہوا کہ جب حضرت آسیہ نے فرعون کو اس کے خونی ارادے سے باز رکھا اور بچے کو اپنی پرورش میں لے لیا تو شاہی محل میں جتنی دایاں تھیں سب کو بچہ دیا گیا ۔ ہر ایک نے بشری محبت وپیار سے انہیں دودھ پلانا چاہا لیکن بحکم الٰہی حضرت موسیٰ نے کسی کے دودھ کا ایک گھونٹ بھی نہ پیا ۔ آخر اپنی لونڈیوں کے ہاتھوں اسے باہر بھیجا کہ کسی دایہ کو تلاش کرو جس کا دودھ یہ پئے اس کو لے آؤ ۔ چونکہ رب العلمین کو یہ منظور نہ تھا کہ اس کا اپنی والدہ کے سوا کسی اور کا دودھ پئے اور اس میں سب سے بڑی مصلحت یہ تھی کہ اس بہانے حضرت موسیٰ اپنی ماں تک پہنچ جائیں ۔ لونڈیاں آپ کو لے کر جب باہر نکلیں تو آپ کی بہن نے آپ کو پہچان لیا لیکن ان پر ظاہر نہ کیا اور نہ خود انہیں کوئی پتہ چل سکا آپ کی بہن تو پہلے بہت پریشان تھی لیکن اس کے بعد اللہ نے انہیں صبر وسکون دے دیا اور وہ خاموش اور مطمئن تھیں ۔ بہن نے انکو کہاکہ تم اس قدر پریشان کیوں ہو؟ انہوں نے کہا یہ بچہ کسی دائیہ کا دودھ نہیں پیتا اور ہم اس کے لئے دایہ کی تلاش میں ہیں ۔ یہ سن کر ہمشیرہ موسیٰ نے فرمایا اگر تم کہو تو تمہیں ایک دائی کا پتہ دوں؟ ممکن ہے بچہ ان کا دودھ پی لئے اور اسکی پرورش کریں اور اس کی خیر خواہی کریں ۔ یہ سن کر انہیں کچھ شک گزرا کہ یہ لڑکی اس لڑکے کی اصلیت ہے اور اس کے ماں باپ سے واقف ہے اسے گرفتار کرلیا اور پوچھا تمہیں کیا معلوم کہ وہ عورت اسکی کفالت اور خیر خواہی کرے گی؟ اس نے فورا جواب دیا سبحان اللہ ۔ کون نہ چاہے گا کہ شاہی دربار میں اس کی عزت ہو ۔ انعام واکرام کی خاطر کون اس سے ہمدردی نہ کریگا ۔ ان کی سمجھ میں بھی آگیا کہ ہمارا پہلا گمان غلط تھا یہ تو ٹھیک کہہ رہی ہے اسے چھوڑ دیا اور کہا اچھاچل اس کا مکان دکھا یہ انہیں لیکر اپنے گھر لے آئیں اور اپنی والدہ کی طرف اشارہ کرکے کہا انہیں دیجئے ۔ سرکاری آدمیوں نے انہیں دیا تو بچہ دودھ پینے لگا ۔ فورا یہ خبر حضرت آسیہ کو دی گئی وہ یہ سن کر بہت خوش ہوئیں اور انہیں اپنے محل میں بلوایا اور بہت کچھ انعام واکرام کیا لیکن یہ علم نہ تھا کہ فی الواقع یہی اس بچے کی والدہ ہیں ۔ فقط اس وجہ سے کہ حضرت موسیٰ نے ان کا دودھ پیا تھا وہ ان سے بہت خوش ہوئیں ۔ کچھ دنوں تک تو یونہی کام چلتارہا ۔ آخرکار ایک روز حضرت آسیہ نے فرمایا میری خوشی ہے کہ تم محل میں آجاؤ یہیں رہو سہو اور اسے دودھ پلاتی رہو ۔ ام موسیٰ نے جواب دیا کہ یہ تو مجھ سے نہیں ہوسکتا میں بال بچوں والی ہوں میرے میاں بھی ہیں میں انہیں دودھ پلادیاکرونگی پھر آپ کے ہاں بھیج دیا کرونگی ۔ یہ طے ہوا اور اس پر فرعون کی بیوی بھی رضامند ہوگئیں ام موسیٰ کا خوف امن سے ، فقیری امیری سے ، بھوک آسودگی سے ، دولت وعزت میں بدل گئی ۔ روزانہ انعام واکرام پاتیں ۔ کھانا ، کپڑا ، شاہی طریق پر ملتا اور اپنے پیارے بچے کو اپنی گود میں پالتیں ۔ ایک ہی رات یا ایک ہی دن یا ایک دن ایک رات کے بعد ہی اللہ نے اس کی مصیبت کو راحت سے بدل دیا ۔ حدیث شریف میں ہے جو شخص اپنا کام دھندا کرے اور اسمیں اللہ کا خوف اور میری سنتوں کا لحاظ کرے اسکی مثال ام موسیٰ کی مثال ہے کہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے ۔ اللہ کی ذات پاک ہے اسی کے ہاتھ میں تمام کام ہے اسی کا چاہا ہوا ہوتا ہے اور جس کام کو وہ نہ چاہے ہرگز نہیں ہوتا ۔ یقینا وہ ہر اس شخص کی مدد کرتا ہے جو اس پر توکل کرے ۔ اس کی فرمانبردای کرنے والے کا دستگیر وہی ہے ۔ وہ اپنے نیک بندوں کے آڑے وقت کام آتا ہے اور ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور ان کی تنگی کو فراخی سے بدلتا ہے ۔ اور ہر رنج کے بعد راحت عطا فرماتا ہے ۔ فسبحانہ ما اعظم شانہ ۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے اسے اسکی ماں کی طرف واپس لوٹادیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور اسے اپنے بچے کا صدمہ نہ رہے ۔ اور وہ اللہ کے وعدوں کو بھی سچا سمجھے اور یقین مان لے کہ وہ ضرور نبی اور رسول بھی ہونے والا ہے ، اب آپ کی والدہ اطمینان سے آپ کی پرورش میں مشغول ہوگئیں اور اسی طرح پرورش کی جس طرح ایک بلند درجہ نبی کی ہونی چاہیے ۔ ہاں رب کی حکمتیں بےعلموں کی نگاہ سے اوجھل رہتی ہیں ۔ وہ اللہ کے احکام کی غایت کو اور فرمانبردای کے نیک انجام کو نہیں سوچتے ۔ ظاہری نفع نقصان کے پابند رہتے ہیں ۔ اور دنیا پر ریجھے ہوئے ہوتے ہیں ۔ انہیں یہ نہیں سوجھتاکہ ممکن ہے جسے وہ برا سمجھ رہے ہیں اچھاہو اور بہت ممکن ہے کہ جسے وہ اچھاسمجھ رہے ہیں وہ برا ہو یعنی ایک کام برا جانتے ہوں مگر کیا خبر کہ اس میں قدرت نے کیا فوائد پوشیدہ رکھیں ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

101یعنی ان کا دل ہر چیز اور فکر سے فارغ (خالی) ہوگیا اور ایک ہی فکر یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کا غم دل میں سما گیا، جس کو اردو میں بےقراری سے تعبیر کیا گیا ہے۔ 102یعنی شدت غم سے یہ ظاہر کر دیتیں کہ یہ ان کا بچہ ہے لیکن اللہ نے ان کے دل کو مضبوط کردیا جس پر انہوں نے صبر کیا اور یقین کرلیا کہ اللہ نے اس موسیٰ (علیہ السلام) کو بخریت واپس لٹانے کا جو وعدہ کیا ہے، وہ پورا ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٦] ام موسیٰ نے وحی کے مطابق حضرت موسیٰ کو دریا کی موجوں کے سپرد کر تو دیا مگر بعد میں سخت بےتاب ہوگئیں۔ ماں کی مامتا چین نہ لینے دیتی تھی۔ کئی بار دل میں خیال آیا تو لوگوں سے کہہ دیں کہ میں نے بچہ دریا میں ڈال دیا ہے۔ کوئی مجھ پر مہربانی کرے اور اسے وہاں سے نکال کر مجھے واپس لادے۔ اس صورت میں کئی طرح کے خطرات نظر آرہے تھے۔ پھر وحی میں یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا۔ کہ عنقریب وہ بچہ تمہاری طرف لوٹا دیا جائے گا۔ اس خیال سے پھر دل کو کسی قدر قرار آجاتا تھا۔ یہ اللہ ہی کی مہربانی تھی کہ اس نے ام موسیٰ کے دل قرار بخش دیا اور یہ راز فاش نہ ہوا۔ جبکہ اسے اب یہ یقین ہوگیا کہ بس چند دن تک میرا بچہ مجھے واپس مل جانے والا ہے۔ اگرچہ اس کی کوئی صورت اس کے ذہن میں نہیں آرہی تھی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا : اوپر ان کا حال بیان ہوا جنھیں وہ بچہ ملا، اب اس کا حال بیان ہوتا ہے جس سے وہ جدا ہوا۔ ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس (رض) سے نقل فرمایا ہے کہ انھوں نے اس کی تفسیر میں فرمایا : ( فَارِغًا مِنْ کُلِّ شَيْءٍ غَیْرِ ذِکْرِ مُوْسٰی )” موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں اتنی بےقرار ہوگئی کہ اس کا دل موسیٰ کی یاد کے سوا ہر چیز سے خالی ہوگیا۔ “ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِيْ بِهٖ : یہ ” اِنْ “ اصل میں ”إِِنَّ “ ہے، جس کا اسم محذوف ہے۔ دلیل اس کی ” لَتُبْدِيْ بِهٖ “ پر آنے والا لام ہے۔ محذوف کو ظاہر کریں تو عبارت ہوگی : ”إِِنَّھَا کَادَتْ لَتُبْدِيْ بِہِ “ یعنی وہ بےقراری کی وجہ سے قریب تھی کہ اس کا معاملہ ظاہر کردیتی کہ ہائے میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنا بچہ دریا میں پھینک دیا۔ لَوْلَآ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰي قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ : یعنی ہم نے اس سے جو وعدہ کیا تھا کہ ” اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ “ (ہم اسے تیرے پاس واپس لانے والے ہیں) اس پر اس کا ایمان پختہ رکھنے کے لیے ہم نے اس کے دل پر صبر کا بند باندھ دیا اور اس کی ڈھارس بندھا دی، اگر یہ نہ ہوتا تو وہ قریب تھی کہ بچے کا راز خود ہی فاش کردیتی، مگر ہمارے بند باندھنے کی وجہ سے وہ قائم رہی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا۝ ٠ ۭ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِيْ بِہٖ لَوْلَآ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰي قَلْبِہَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ ١٠ صبح الصُّبْحُ والصَّبَاحُ ، أوّل النهار، وهو وقت ما احمرّ الأفق بحاجب الشمس . قال تعالی: أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ [هود/ 81] ، وقال : فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرِينَ [ الصافات/ 177] ، والتَّصَبُّحُ : النّوم بالغداة، والصَّبُوحُ : شرب الصّباح، يقال : صَبَحْتُهُ : سقیته صبوحا، والصَّبْحَانُ : الْمُصْطَبَحُ ، والْمِصْبَاحُ : ما يسقی منه، ومن الإبل ما يبرک فلا ينهض حتی يُصْبَحَ ، وما يجعل فيه الْمِصْبَاحُ ، قال : مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكاةٍ فِيها مِصْباحٌ الْمِصْباحُ فِي زُجاجَةٍ [ النور/ 35] ، ويقال للسّراج : مِصْبَاحٌ ، والْمِصْبَاحُ : مقرّ السّراج، والْمَصَابِيحُ : أعلام الکواكب . قال تعالی: وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّماءَ الدُّنْيا بِمَصابِيحَ [ الملک/ 5] ، وصَبِحْتُهُمْ ماء کذا : أتيتهم به صَبَاحاً ، والصُّبْحُ : شدّة حمرة في الشّعر، تشبيها بالصّبح والصّباح، وقیل : صَبُحَ فلان أي : وَضُؤَ ( ص ب ح) الصبح والصباح دن کا ابتدائی حصہ جبکہ افق طلوع آفتاب کی وجہ سے سرخ ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ [هود/ 81] کیا صبح کچھ دور ہے ۔ فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرِينَ [ الصافات/ 177] تو جن کو ڈرسنا یا گیا ہے ۔ ان کے لئے برادن ہوگا ۔ التصبح صبح کے وقت سونا ۔ الصبوح صبح کی شراب کو کہتے ہیں اور صبحتہ کے معنی صبح کی شراب پلانے کے ہیں ۔ الصبحان صبح کے وقت شراب پینے والا ( مونث صبحیٰ ) المصباح (1) پیالہ جس میں صبوحی پی جائے (2) وہ اونٹ جو صبح تک بیٹھا رہے (3) قندیل جس میں چراغ رکھا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكاةٍ فِيها مِصْباحٌ الْمِصْباحُ فِي زُجاجَةٍ [ النور/ 35] اس کے نور کی مثال ایسی ہے گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ اور چراغ ایک قندیل میں ہے ۔ اور چراغ کو بھی مصباح کہاجاتا ہے اور صباح کے معنی بتی کی لو کے ہیں ۔ المصا بیح چمکدار ستارے جیسے فرمایا : وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّماءَ الدُّنْيا بِمَصابِيحَ [ الملک/ 5] اور ہم نے قریب کے آسمان کو تاروں کے چراغوں سے زینت دی ۔ صبحتم ماء کذا میں صبح کے وقت انکے پاس فلاں پانی پر جاپہنچا اور کبھی صبیح یا صباح کی مناسبت سے بالوں کی سخت سرخی کو بھی صبح کہا جاتا ہے ۔ صبح فلان خوبصورت اور حسین ہونا ۔ فأد الْفُؤَادُ کالقلب لکن يقال له : فُؤَادٌ إذا اعتبر فيه معنی التَّفَؤُّدِ ، أي : التّوقّد، يقال : فَأَدْتُ اللّحمَ : شَوَيْتُهُ ، ولحم فَئِيدٌ: مشويٌّ. قال تعالی: ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى [ النجم/ 11] ، إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤادَ [ الإسراء/ 36] ، وجمع الفؤاد : أَفْئِدَةٌ. ( ف ء د ) الفواد کے معنی قلب یعنی دل کے ہیں مگر قلب کے فواد کہنا معنی تفود یعنی روشن ہونے کے لحاظ سے ہے محاورہ ہے فادت الحم گوشت گو آگ پر بھون لینا لحم فئید آگ میں بھنا ہوا گوشت ۔ قرآن میں ہے : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى [ النجم/ 11] جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ جانا ۔ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤادَ [ الإسراء/ 36] کہ کان اور آنکھ اور دل فواد کی جمع افئدۃ ہے قرآن میں ہے فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ [إبراهيم/ 37] لوگوں کے دلوں کو ایسا کردے کہ ان کی طرف جھکے رہیں ۔ فرغ الفَرَاغُ : خلاف الشّغل، وقد فَرَغَ فَرَاغاً وفُرُوغاً ، وهو فَارِغٌ. قال تعالی: سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلانِ [ الرحمن/ 31] ، وقوله تعالی: وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] ، أي : كأنّما فَرَغَ من لبّها لما تداخلها من الخوف وذلک کما قال الشاعر : كأنّ جؤجؤه هواء «1» وقیل : فَارِغاً من ذكره، أي أنسیناها ذكره حتی سکنت واحتملت أن تلقيه في الیمّ ، وقیل : فَارِغاً ، أي : خالیا إلّا من ذكره، لأنه قال : إِنْ كادَتْ لَتُبْدِي بِهِ لَوْلا أَنْ رَبَطْنا عَلى قَلْبِها [ القصص/ 10] ، ومنه قوله تعالی: فَإِذا فَرَغْتَ فَانْصَبْ [ الشرح/ 7] ، وأَفْرَغْتُ الدّلو : صببت ما فيه، ومنه استعیر : أَفْرِغْ عَلَيْنا صَبْراً [ الأعراف/ 126] ، وذهب دمه فِرْغاً «2» ، أي : مصبوبا . ومعناه : باطلا لم يطلب به، وفرس فَرِيغٌ: واسع العدو كأنّما يُفْرِغُ العدو إِفْرَاغاً ، وضربة فَرِيغَةٌ: واسعة ينصبّ منها الدّم . ( ف ر غ ) الفراغ یہ شغل کی ضد ہے ۔ اور فرغ ( ن ) فروغا خالی ہونا فارغ خالی ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] اور موسٰی کی ماں کا دل بےصبر ہوگیا ۔ یعنی خوف کی وجہ سے گویا عقل سے خالی ہوچکا تھا جیسا کہ شاعر نے کہا ہے کان جو جو ہ ھواء گویا اس کا سینہ ہوا ہو رہا تھا ۔ اور بعض نے فارغا کے معنی موسیٰ (علیہ السلام) کے خیال سے خالی ہونا کئے ہیں یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کا خیال ان کے دل سے بھلا دیا حتی کہ وہ مطمئن ہوگئیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کو دریامیں ڈال دینا انہوں نے گوارا کرلیا بعض نے فارغا کا معنی اس کی یاد کے سوا باقی چیزوں سے خالی ہونا بھی کئے ہیں ۔ جیسا کہ اس کے بعد کی آیت : ۔ إِنْ كادَتْ لَتُبْدِي بِهِ لَوْلا أَنْ رَبَطْنا عَلى قَلْبِها [ القصص/ 10] اگر ہم ان کے دل کو مضبوط نہ کرتے تو قریب تھا کہ وہ اس قصے کو ظاہر کردیں سے معلوم ہوتا ہے اور اسی سے فرمایا : ۔ فَإِذا فَرَغْتَ فَانْصَبْ [ الشرح/ 7] تو جب فارغ ہوا کرو عبادت میں محنت کیا کروں سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلانِ [ الرحمن/ 31] اے دونوں جماعتوں ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ اور افرغت الدلو کے معنی ڈول سے پانی بہا کر اسے خالی کردینا کے ہیں چناچہ آیت کریمہ : ۔ أَفْرِغْ عَلَيْنا صَبْراً [ الأعراف/ 126] ہم پر صبر کے دہانے کھول دے بھی اسی سے مستعار ہے ذھب دمہ فرغا اس کا خون رائیگاں گیا ۔ فرس فریغ وسیع قدم اور تیز رفتار گھوڑا گویا وہ دوڑ کر پانی کی طرح بہہ ر ہا ہے ۔ ضربۃ فریغۃ وسیع زخم جس سے خون زور سے بہہ رہا ہو ۔ كَادَ ووُضِعَ «كَادَ» لمقاربة الفعل، يقال : كَادَ يفعل : إذا لم يكن قد فعل، وإذا کان معه حرف نفي يكون لما قد وقع، ويكون قریبا من أن لا يكون . نحو قوله تعالی: لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئاً قَلِيلًا[ الإسراء/ 74] ، وَإِنْ كادُوا[ الإسراء/ 73] ، تَكادُ السَّماواتُ [ مریم/ 90] ، يَكادُ الْبَرْقُ [ البقرة/ 20] ، يَكادُونَ يَسْطُونَ [ الحج/ 72] ، إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] ولا فرق بين أن يكون حرف النّفي متقدما عليه أو متأخّرا عنه . نحو : وَما کادُوا يَفْعَلُونَ [ البقرة/ 71] ، لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ [ النساء/ 78] . وقلّما يستعمل في كاد أن إلا في ضرورة الشّعر «1» . قال قد كَادَ من طول البلی أن يمصحا«2» أي : يمضي ويدرس . ( ک و د ) کاد ( س ) فعل مقارب ہے یعنی کسی فعل کے قریب الوقوع ہون کو بیان کرنے کے لئے آتا ہے مثلا کا دیفعل قریب تھا وہ اس کا م کو گزرتا یعنی کرنے والا تھا مگر کیا نہیں قرآن میں لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئاً قَلِيلًا[ الإسراء/ 74] تو تم کسی قدر ان کی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے ۔ وَإِنْ كادُوا[ الإسراء/ 73] قریب تھا کہ یہ ( کافر) لگ تم اس سے بچلا دیں ۔ تَكادُ السَّماواتُ [ مریم/ 90] قریب ہے کہ ( اس فتنہ ) سے آسمان پھٹ پڑیں ۔ ؛ يَكادُ الْبَرْقُ [ البقرة/ 20] قریب ہے ک کہ بجلی کی چمک ان کی آنکھوں کی بصاحب کو اچک لے جائے ۔ يَكادُونَ يَسْطُونَ [ الحج/ 72] قریب ہوتے ہیں کہ ان پر حملہ کردیں إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] تو تو مجھے ہلا ہی کرچکا تھا ۔ اور اگر ا ن کے ساتھ حرف نفی آجائے تو اثباتی حالت کے برعکدس فعل وقوع کو بیان کرنے کیلئے آتا ہے جو قوع کے قریب نہ ہوا اور حروف نفی اس پر مقدم ہو یا متاخر دونوں صورتوں میں ایک ہی معنی دیتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : وَما کادُوا يَفْعَلُونَ [ البقرة/ 71] اور وہ ا یسا کرنے والے تھے نہیں ۔ لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ [ النساء/ 78] کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے۔ اور کاد کے بعد ا ان کا استعمال صرف ضرورت شعری کے لئے ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ( الرجز) ( 387 ) قد کاد من طول البلیٰ ان یمصحا قریب تھا کہ زیادہ بوسیدہ گی کے باعث وہ سٹ جائے بدا بَدَا الشیء بُدُوّاً وبَدَاءً أي : ظهر ظهورا بيّنا، قال اللہ تعالی: وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47] ( ب د و ) بدا ( ن ) الشئ یدوا وبداء کے معنی نمایاں طور پر ظاہر ہوجانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47] اور ان کیطرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا ان کو خیال بھی نہ تھا ۔ رَبْطُ رَبْطُ الفرس : شدّه بالمکان للحفظ، ومنه : رِبَاطُ الخیل «3» ، وسمّي المکان الذي يخصّ بإقامة حفظة فيه : رباطا، والرِّبَاط مصدر رَبَطْتُ ورَابَطْتُ ، والمُرَابَطَة کالمحافظة، قال اللہ تعالی: وَمِنْ رِباطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ [ الأنفال/ 60] ، وقال : يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصابِرُوا وَرابِطُوا[ آل عمران/ 200] ، فالمرابطة ضربان : مرابطة في ثغور المسلمین، وهي کمرابطة النّفس البدن، فإنها كمن أقيم في ثغر وفوّض إليه مراعاته، فيحتاج أن يراعيه غير مخلّ به، وذلک کالمجاهدة وقد قال عليه السلام : «من الرِّبَاطِ انتظار الصّلاة بعد الصّلاة» «1» ، وفلان رَابِطُ الجأش : إذا قوي قلبه، وقوله تعالی: وَرَبَطْنا عَلى قُلُوبِهِمْ [ الكهف/ 14] ، وقوله : لَوْلا أَنْ رَبَطْنا عَلى قَلْبِها [ القصص/ 10] ، وَلِيَرْبِطَ عَلى قُلُوبِكُمْ [ الأنفال/ 11] ، فذلک إشارة إلى نحو قوله : هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 4] ، وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ [ المجادلة/ 22] ، فإنّه لم تکن أفئدتهم كما قال : وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] ، وبنحو هذا النّظر قيل : فلان رابط الجأش . ( ر ب ط ) ربط الفرس کے معنی گھوڑے کو کسی جگہ پر حفاظت کے لئے باندھ دینے کے ہیں اور اسی سے رباط الجیش ہے یعنی فوج کا کسی جگہ پر متعین کرنا اور وہ مقام جہاں حفاظتی دستے متعین رہتے ہوں اسے رباط کہا جاتا ہے ۔ اور ربطت ورابطت کا مصدر بھی رباط آتا ہے اور مرابطۃ کے معنی حفاظت کے ہیں ۔ چناچہ قران میں ہے : ۔ وَمِنْ رِباطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ [ الأنفال/ 60] اور گھوڑوں کے سرحدوں پر باندھے رکھنے سے جس سے تم اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو مرعوب کرو ۔ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصابِرُوا وَرابِطُوا[ آلعمران/ 200] ان تکلیفوں کو جو راہ خدا میں تم کو پیش آئیں ) برداشت کرو اور ایک دوسرے کو صبر کی ترغیب دو اور دشمن کے مقابلے کے لئے تیار رہو ۔ پس معلوم ہوا کہ مرابطۃ کی دو قسمیں ہیں ایک یہ کہ اسلامی سرحدوں پر دفاع کے لئے پہرہ دینا اور دوسرے نفس کو ناجائز خواہشات سے روکنا اور اس میں کوتاہی نہ کرنا جیسے مجاہدہ نفس کی صورت میں ہوتا ہے اور اس مجاہدہ نفس کا ثواب بھی جہاد فی سبیل اللہ کے برا بر ہے جیسا کہ آنحضرت نے فرمایا ہے «من الرِّبَاطِ انتظار الصّلاة بعد الصّلاة» کہ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا بھی رباط ہے ۔ فلان رَابِطُ الجأش ۔ فلاں مضبوط دل ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ لَوْلا أَنْ رَبَطْنا عَلى قَلْبِها [ القصص/ 10] اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ کئے رہتے ( تو عجب نہ تھا کہ وہ ہمارا معاملہ ظاہر کردیں ) ۔ وَلِيَرْبِطَ عَلى قُلُوبِكُمْ [ الأنفال/ 11] تاکہ تمہارے دلوں کی ڈھارس بندھائے ۔ اور اسی معنی کی طرف دوسرے مقام پر اشارہ فرمایا ہے ۔ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 4] وہ خدا ہی تو تھا جس نے مسلمانوں کے دلوں میں تحمل ڈالا اور اپنے فیضان غیبی سے ان کی تائید کی ۔ اور اپنے فیضان غیبی سے ان کی تائید کی ۔ کیونکہ ان کے دل ایسے نہیں تھے جیسے فرمایا : ۔ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] اور ان کے دل ( ہیں کہ ) ہوا ہوئے چلے جارہے ہیں ۔ اور اسی سے فلان رابط الجأش کا محاورہ ماخوذ ہے جس کے معنی مضبوط دل شخص کے ہیں ۔ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠) ادھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے غم میں بےقرار ہوگیا قریب تھا ک کہ وہ اس بےقراری میں موسیٰ (علیہ السلام) کا حال سب پر ظاہر کردیں اگر ہم ان کے دل کو اس غرض سے مضبوط نہ کرتے کہ یہ وعدہ خداوندی پر یقین کیے بیٹھی رہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو رسول بنائے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠ (وَاَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰی فٰرِغًا ط) ” ان کے دل میں طرح طرح کے وسوسے جنم لے رہے تھے اورّ شدتِ غم سے جذبات میں ایسا ہیجان برپا تھا کہ دل اڑا جا رہا تھا۔ (اِنْ کَادَتْ لَتُبْدِیْ بِہٖ لَوْلَآ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰی قَلْبِہَا لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ) ” اگر ہم نے اس کی ڈھارس نہ بندھائی ہوتی تو وہ اپنی اس اضطراری کیفیت میں خود ہی بھانڈا پھوڑ دیتی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٠ تا ١٣۔ اگرچہ بعضے مفسروں نے اس آیت کے معنے یہ کئے ہیں کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی ماں کا دل ہر طرح کے غم سے خالی تھا کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں پہلے ہی یہ اطمینان الہام کے ذریعہ سے پیدا کردیا تھا کہ ان کا لڑکا دریا میں ڈال دینے سے ضائع نہ ہوگا اور صحیح سلامت پھر ان کے پاس آجائے گا لیکن یہ معنے قرآن شریف کے مطلب کے مخالف ہیں اسی واسطے حافظ ابو جعفرابن جریر نے اس معنے کو ضعیف ٹھہرایا ہے کیوں کہ جب اللہ تعالیٰ نے خود یہ فرمایا ہے کہ حضرت موسیٰ کی ماں نے بےقراری کے سبب سے حضرت موسیٰ کی بہن کو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا حال دریافت کرنے کو بھیجا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی ماں کو اس قدر رنج اور پر یشانی تھی کہ اگر اللہ ان کا دل مضبوط نہ کردیتا تو کچھ در نہ تھا کہ وہ اپنے لڑکے کو دریا میں ڈال دینے کا قصہ ظاہر کر دیتیں اور اللہ نے ان کا دل غیب سے اس واسطے مضبوط کیا کہ ان کو اللہ کے اس وعدے کا پورا یقین رہے کہ ان کا لڑکا ان کے پاس پھر آجاوے گا تو اس قرآن شریف کے مطلب سے صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے دریا میں ڈالنے کے بعد حضرت موسیٰ کی ماں کو نہایت بےقراری تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس بےقراری کو رفع کرنے کی غرض سے ان کے دل کو مضبوط کیا اس لیے صحیح قول میں امام المفسرین عبد اللہ بن عباس (رض) نے بی معنے پسند کئے ہیں جو قرآن شریف کے مطلب کے موافق ہیں جس کا حاصل یہی ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی ماں کے دل میں اس قدر بےقراری تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کا دل مضبوط نہ کرتا تو وہ لوگوں کے سامنے اپنا سارا قصہ ضرور بیان کر دیتیں بعضے مفسروں نے یہ معنے بھی بیان کئے ہیں کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی ماں کا دل اس سبب سے غم سے خالی ہوگیا تھا کہ انہوں نے سن لیا تھا کہ فرعون نے ان کے لڑکے کو اپنا بیٹا بنا لیا اور اسی خوشی سے وہ یہ قصہ لوگوں سے ظاہر کرنا چاہتی تھیں کہ جس لڑکے کو فرعون نے اپنا بیٹا بنایا ہے وہ ان کا ہی لڑکا ہے اس معنے کو بھی اکثر مفسروں نے ضعیف قرار دیا ہے غرض قرآن شریف کے مضمون سے لگتے ہوئے وہی معنے ہیں جو اوپر بیان کئے گئے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جب وہ صندوق دریا میں بہ گیا تو موسیٰ (علیہ السلام) کی جدائی کے غلم میں موسیٰ ( علیہ السلام) (علیہ السلام) کی ماں کا دل یہاں تک بےقرار ہوگیا کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے دل میں انا راد وہ کے وعدہ کا یقین نہ پیدا کردیتا تو وہ اپنے لڑکے کا سارا قصہ لوگوں سے کہہ دیتیں اس پر بھی موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں نے یہ بےقراری کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کو صندوق کے پیچھے یہ سمجھا کر بھیجا کہ اجنبی بن کر اس صندوق کو دیکھیں کہ کہاں بہ کرجاتا ہے۔ یہ تو اوپر گذر چکا ہے کہ جب وہ صندوق فرعون کے محل کے نیچے پہنچا تو آسیہ (رض) کے پاس پہنچ گیا اور جب وہ صندوق کھولا گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کو صندوق کے پیچھے یہ سمجھا کر بھیجا کہ اجنبی بن کر اس صندوق کو دیکھیں کہ کہاں بہ کرجاتا ہے۔ یہ تو اوپر گذر چکا ہے کہ جب وہ صندوق فرعون کے محل کے نیچے پہنچا تو آسیہ (رض) کے پاس پہنچ گیا اور جب وہ صندوق کھولا گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی محبت آسیہ کے دل دل میں ڈال دی اب اس محبت کے جوش میں آسیہ نے کئی انائیں موسیٰ (علیہ السلام) کے دودھ پلانے کے لیے بلوائیں مگر اپنی ماں کے آنے سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) نے کسی انا کی چھاتی منہ میں نہ پکڑی یہ حال دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے لوگوں سے کہا کہ میں تم کو ایسی انا کا پتہ بتلاتی ہوں جس کے پاس یہ بچہ اچھی طرح پرورش پاسکتا ہے۔ اب اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں وہاں بلائی گئیں اور ان کا بچہ دودھ پلانے کے لیے ان کے حوالہ ہوگیا۔ آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام اس لیے کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کی تسکین ہوجائے اور اللہ کے وعدے کو وہ سچا جان لیویں پھر فرمایا اکثر لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ اللہ کے سب وعدے سچے ہیں صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک (رض) کی روایت کئی جگہ گذر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کی لڑائی میں مشرکوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تم لوگوں نے اللہ کے وعدے کو سچا پالیا اس حدیث کو آیتوں کو تفسیر میں جو دخل ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین کہ اگرچہ اس وقت اس بات کو نہیں سمجھ سکتے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کے وعدہ کو جس طرح اللہ تعالیٰ نے پورا کیا اسی طرح اس کا عذاب آخرت کا وعدہ ایک دن پورا ہونے والا ہے لیکن دنیا سے اٹھنے کے ساتھ ہی ان ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے سچا ہونے کی حالت اچھی طرح معلوم ہوجائے گی۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:10) اصح ۔۔ فارغا : ای صار خالیا من کل شیء غیر ذکر موسیٰ علیہ السلام۔ حضرت موسیٰ کی یاد اور اس کے خیال کے سوا ہر چیز سے خالی ہوگیا۔ الفراغ۔ یہ شغل کی ضد ہے فرغ یفرغ فروغا۔ خالی ہونا۔ فارغ خالی۔ افرغت الدلو کے معنی ڈول سے پانی بہا کر اسے خالی کردینا کے ہیں اور استعارہ اسی سے ہے افرغ علینا صبرا (2:250) ہم پر صبر کے دہانے کھول دے۔ ان کا دت میں ان ان سے مخفف ہے اور لتبدی بہ میں لام الفارقہ ہے اور بہ میں ہ ضمیر مجرور راجع بسوئے موسیٰ (علیہ السلام) ہے ان کا دت ای انھا کا دت۔ ھا ضمیر قصہ ان کا اسم ہے۔ قریب تھا کہ وہ موسیٰ (کے راز) کو ظاہر کردیتی۔ لالا۔ امتناعیہ ہے۔ لو حرف شرط۔ اور لا نافیہ سے مرکب ہے۔ اگر نہ ہوتا۔ ان مصدریہ ہے لولا ان ربطنا علی قلبھا۔ یعنی اگر ہماری طرف سے اس کو تقویت قلب نہ ملتی۔ ربطنا علی قلبھا : ربطنا ماضی جمع متکلم ربط مصدر۔ (باب نصر، ضرب) حفاظت کے لئے مضبوط باندھنا ۔ ربط الفرس۔ گھوڑے کو حفاظت کے لئے کسی جگہ پر باندھ دینا۔ اسی سے ہے رباط الجیش۔ فوج کا کسی جگہ پر متعین کرنا۔ وہ مقام جہاں حفاظتی دستے متعین رہتے ہوں اسے رباط کہا جاتا ہے۔ ربط اللہ علی قلبہ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو قوت بخشی اور صبر عطا کیا۔ لہٰذا جملہ کا ترجمہ ہوگا۔ اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ کرتے اور اسے صبر عطا نہ کرتے۔ لولا کا جواب محذوف ہے ای لولا ان ربطنا علی قلبھا لابدتہ اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ کرتے تو وہ اسے (یعنی موسیٰ کے راز کو) ضرور ظاہر کردیتی۔ لتکون من المؤمنین۔ یہ علت ہے ربط علی القلب کی۔ لام تعلیل کا ہے تکون مضارع واحد مؤنث غائب ضمیر کا مرجع ام موسیٰ ہے۔ تاکہ وہ بنی رہے یقین کرنے والوں میں سے۔ یہاں ایمان سے مراد یقین و تصدیق ہے۔ یعنی ہم نے اس کے دل کو مضبوط رکھا اور اسے صبر عطا فرمایا تاکہ وہ ہمارے اس وعدہ پر راسخ القلب اور راسخ الیقین رہے۔ کہ ہم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کی طرف لوٹا دیں گے۔ اور ہم اس کو رسولوں میں سے بنائیں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

2 ۔ یعنی بیٹے کی جدائی میں ایسی بےقرار ہوئیں کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے سوا کسی اور چیز کا خیال دل میں نہ رہا، یا وہ اللہ کی وحی کے سبب مطمئن تھیں۔ (شوکانی) 3 ۔ یعنی ہم نے جو اس سے وعدہ کیا تھا کہ ” انا رادوہ الیک “ اس کو عنقریب تیرے پاس لے آئیں گے۔ “ اس پر اس کا ایمان پختہ رکھنے کے لئے اگر ہم نے ان کی ڈھارس نہ بندھائی ہوتی تو وہ لوگوں پر اپنا راز فاش کر بیٹھتیں۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

واصبح فؤاد ام موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وھم لا یشعرون (10- 11) اس نے عالم بالا کی طرف سے اشارہ پایا اور اپنے بچے کو دریا کی موجوں کے نذر کردیا۔ لیکن اب وہ کہاں جا رہا ہے اس کا کیا انجام ہونے والا ہے ؟ وہ دل میں سوچتی رہی۔ کس طرح اس کے لئے ممکن ہوا کہ وہ اپنے جگر گوشے کو دریا کی موجوں کے حوالے کر دے۔ کس طرح اس سے یہ ہوسکا جبکہ اس سے قبل کوئی ماں ایسا نہ کرسکی تھی۔ اس حالت خوف میں کیا یہی سلامتی کا راستہ تھا ؟ کیونکہ یہ ممکن ہوا کہ اس نے آواز غیب پر اس طرح لبیک کہہ دیا ؟ قرآن کریم اس بیچاری کی دلی کیفیات کی تصویر کشی عجیب انداز میں کرتا ہے۔ یہ دل خالی اور فارغ ہے ۔ نہ اس میں عقل ہے ، نہ اسے کچھ سمجھ میں آرہا ہے ، نہ کوئی سوچ ہے اور نہ کوئی تدبیر ہے۔ ان کا در لتبدی بہ (28: 10) ” قریب تھا کہ وہ راز فاش کر بیٹھتی “۔ اور وہ مجنونہ کی طرح چیخ اٹھتی کہ میں نے اسے رکھا ہے ، میں نے اسے رکھا ہے ، تمام لوگوں کو خبر ہوجاتی اور قریب تھا کہ وہ پکار اٹھتی کہ میں نے اسے دریا برد کیا ہے اور ایک غیبی آواز پر میں نے ایسا کیا ہے۔ لولا ان ربطنا علی قلبھا (28: 10) ” اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھا دیتے “۔ اس کے دل کو سخت نہ کردیتے ، اس کے اندر قوت برداشت نہ پیدا کردیتے۔ اور اسے چیخ و پکار اور آہ و فغان سے روک نہ دیتے تو وہ اس راز کو فاش کردیتی۔ لتکون من المومنین (28: 10) ” تاکہ وہ ایمان لانے والوں میں سے ہو “۔ اسے اللہ کے وعدے کا پورا یقین ہوجائے ، اور اللہ کی راہ میں ابتلا پر صبر کرنے اور اس پر جمے رہنے کا مقام مل جائے ، اور وہ ہدایت پر چلنے والی بن جائے۔ لیکن ام موسیٰ پھر بھی بقاضائے فطرت انسانی تجسس سے نہ رکی۔ اپنی سی کوشش اس نے کی۔ وقالت فاختہ قصیہ (28: 11) ” اس نے بچے کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جاؤ “۔ ذرا دیکھتی جاؤ کہ کیا ہوتا ہے۔ دیکھو کہ یہ زندہ رہتا ہے ؟ اگر رہتا ہے تو کیونکر رہتا ہے۔ اسے مچھلیاں کھا جاتی ہیں یا خشی کے درندے کھا جاتے ہیں۔ کہاں ڈوبتا ہے اور کہاں رکتا ہے ؟ بہن نے نہایت ہی خفیہ انداز میں نہایت ہی احتیاط کے ساتھ اس کا پیچھا کیا۔ راستوں اور بازاروں میں اس کی خبریں تلاش کرتی رہی۔ آخر کار اس کو معلوم ہوگیا کہ دست قدرت نے اسے کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ اس نے دور سے دیکھ لیا کہ فرعون کے نوکروں نے اسے دریا سے پکڑ لیا ہے۔ بچہ دودھ نہیں پی رہا ہے اور نوکر اس کے لیے دودھ پلانے والی کی تلاش میں ہیں

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

10:۔ فارغاً ، یعنی صبر سے خالی یا خیال فرزند کے سوا ہر خیال سے خالی (روح) ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ محترمہ (محیانۃ بنت یصہر بن لادی) کو جب معلوم ہوا کہ فرعون نے ان کے فرزند ارجمند کو اٹھا لیا ہے اور وہ صحیح سلامت اور زندہ بچ گیا ہے تو ان کا دل صبر و استقلال سے خالی ہوگیا اور قریب تھا کہ مارے خوشی کے وہ فرعون کو بتا دیں کہ اس کا بیٹا ہے۔ قیل المعنی انھا کا دت تظہر امرہ من شدۃ الفرح بنجاتہ و تنبئ فرعون ایاہ (روح ج 20 ص 49) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ جب بچے کو صندوق میں بند کر کے انہوں نے دریا میں ڈال دیا تو موجوں نے اس کو ادھر سے ادھر پھینکنا شروع کیا یا جب وہ فرعون کے ہاتھ آگیا تو والدہ کو غم لاحق ہوا کہ فرعون اسے ضرور قتل کر ڈالے گا تو شدت غم سے قریب تھا کہ اس کی چیخیں نکل جاتیں اور راز فاش ہوجاتا۔ قیل لما رات الامواج تلعب بالتابوت کا دت تصیح و تقول وا ابناہ وقیل لما سمعت ان فرعون اکذ التابوت لم تشک انہ یقتلہ فکات تقول وا ابناہ شفقۃ علیہ (مدارک ج 3 ص 174) ، 11:۔ لیکن ہم نے والدہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں گرہ لگا دی اور اس کے دل کو مزید صبر عطا کر کے مضبوط کردیا۔ لتکون من المومنین، یہ ماقبل کی علت ہے یعنی ہم نے اس کے دل کو مضبوط اس لیے کیا تاکہ ہمارے وعدے کی اسے مزید تصدیق ہوجائے ای من المصدقیین وعد اللہ ایاھا (خازن ج 5 ص 137) ۔ یا مطلب یہ ہے تاکہ وہ ایمان پر ثابت قدم رہے کیونکہ مون تو وہ پہلے بھی تھی قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ لولا کا جواب مقدر ہے ای لابدتہ بقرینۃ ان کا دت لتبدی بہ (روح ) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

10۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کا دل عقل و صبر سے خالی ہوگیا اور اس کی ماں کا قلب بےقرار ہوگیا قریب تھا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کا حال ظاہر کردیتی اگر ہم اس کی ماں کے دل کو سہارا نہ لگاتے اور مضبوط نہ کردیتے اور جمانہ دیتے یہ اس لئے کیا تا کہ وہ یقین کرنے والوں میں رہے اور حق تعالیٰ کے وعدے پر یقین کئے بیٹھی رہیں ۔ یعنی یہ اطلاع ان کو ملی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا صندوق فرعون کے گھر پہنچ گیا تو اس اطلاع سے وہ بےحد پریشان ہوئیں صبر وقرار رخصت ہوگئے اور قریب تھا کہ وہ سب سے کہہ دیتی کہ یہ بچہ میرا ہے اور میں نے ہی صندوق میں رکھ کر ڈالا ہے لیکن حضرت حق جل مجدہٗ نے ان کی ماں کے دل کو سہارا دیا اور ربط قلب سے ان کی مدد کی اور ان کے دل جمائے رکھا تا کہ وہ وعدہ جو حضرت حق نے اس سے کیا ہے وہ اس پر جمی بیٹھی رہے اور اس وعدے پر ایمان لانے والوں میں اور اس کی تصدق کرنے والوں میں سے ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کا نام یارخا یا ایارخت ہے جیسا کہ سہیلی نے کہا ۔ بعض لوگوں نے کہا ان کا نام لوقا تھا ۔ بہر حال وہ حضرت لاوی ابن یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھیں ۔ ( واللہ اعلم)