How the Secret of this Killing became known
Allah tells us that when Musa killed that Coptic,
فَأَصْبَحَ فِي الْمَدِينَةِ خَايِفًا
...
So he became afraid in the city,
meaning, of the consequences of his action,
...
يَتَرَقَّبُ
...
looking about,
means, turning around and watching out, waiting for the consequences of his action to befall him.
...
فَإِذَا الَّذِي اسْتَنصَرَهُ بِالاْإَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُ
...
when behold, the man who had sought his help the day before, called for his help (again).
He went out and about, and saw the man who sought his help the day before, fighting with another Coptic. When Musa passed by him, he called for his help again, against this other Coptic.
...
قَالَ لَهُ مُوسَى
...
Musa said to him:
...
إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِينٌ
Verily, you are a plain misleader!
meaning, `you obviously lead people astray and are very evil.'
جسے بچایا اسی نے راز کھولا
موسیٰ کے گھونسے سے قبطی مرگیا تھا اس لئے آپ کی طبیعیت پر گھبراہٹ تھی ۔ شہر میں ڈرتے دبکتے آئے کہ دیکھیں کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ کہیں راز کھل تو نہیں گیا ۔ دیکھتے ہیں کہ کل والا اسرائیلی آج ایک اور قبطی سے لڑ رہاہے ۔ آپ کو دیکھتے ہی کل کی طرح آج بھی فریاد اور دہائی دینے لگا ۔ آپ نے فرمایا تم بڑے فتنہ آدمی ہو ۔ یہ سنتے ہی وہ گھبرا گیا ۔ جب حضرت موسیٰ نے اس ظالم قبطی کو روکنے کے لئے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تو یہ شخص اپنے کمینہ پن اور بزدلی سے سمجھ بیٹھا کہ آپ نے مجھے برا کہا ہے اور مجھے پکڑنا چاہتے ہیں اپنی جان بچانے کے لئے شور مچانا شروع کردیا کہ موسیٰ کیا جیسے تونے کل ایک شخص کا خون کیا تھا آج میری جان بھی لینا چاہتا ہے؟ کل کا واقعہ صرف اسی کی موجودگی میں ہوا تھا اس لئے اب تک کسی کو پتہ نہ چلا تھا ؟ لیکن آج اس کی زبان سے اس قبطی کو پتہ چلا کہ یہ کام موسیٰ کاہے ۔ اس بزدل ڈرپوک نے یہ بھی ساتھ ہی کہا کہ تو زمین پر سرکش بن کر رہنا چاہتا ہے اور تیری طبعیت میں ہی صلح پسندی نہیں ۔ قبطی یہ سن کر بھاگا دوڑا دربار فرعونی میں پہنچا اور وہاں مخبری کی ۔ فرعون کی بددلی کی اب کوئی حد نہ رہی اور فورا سپاہی دوڑائے کہ موسیٰ کو لاکر پیش کریں ۔