Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 18

سورة القصص

فَاَصۡبَحَ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسۡتَنۡصَرَہٗ بِالۡاَمۡسِ یَسۡتَصۡرِخُہٗ ؕ قَالَ لَہٗ مُوۡسٰۤی اِنَّکَ لَغَوِیٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۸﴾

And he became inside the city fearful and anticipating [exposure], when suddenly the one who sought his help the previous day cried out to him [once again]. Moses said to him, "Indeed, you are an evident, [persistent] deviator."

صبح ہی صبح ڈرتے اندیشہ کی حالت میں خبریں لینے کو شہر میں گئے ، کہ اچانک وہی شخص جس نے کل ان سے مدد طلب کی تھی ان سے فریاد کر رہا ہے ۔ موسیٰ ( علیہ السلام ) نے اس سے کہا کہ اس میں شک نہیں تو تو صریح بے راہ ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

How the Secret of this Killing became known Allah tells us that when Musa killed that Coptic, فَأَصْبَحَ فِي الْمَدِينَةِ خَايِفًا ... So he became afraid in the city, meaning, of the consequences of his action, ... يَتَرَقَّبُ ... looking about, means, turning around and watching out, waiting for the consequences of his action to befall him. ... فَإِذَا الَّذِي اسْتَنصَرَهُ بِالاْإَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُ ... when behold, the man who had sought his help the day before, called for his help (again). He went out and about, and saw the man who sought his help the day before, fighting with another Coptic. When Musa passed by him, he called for his help again, against this other Coptic. ... قَالَ لَهُ مُوسَى ... Musa said to him: ... إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِينٌ Verily, you are a plain misleader! meaning, `you obviously lead people astray and are very evil.'

جسے بچایا اسی نے راز کھولا موسیٰ کے گھونسے سے قبطی مرگیا تھا اس لئے آپ کی طبیعیت پر گھبراہٹ تھی ۔ شہر میں ڈرتے دبکتے آئے کہ دیکھیں کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ کہیں راز کھل تو نہیں گیا ۔ دیکھتے ہیں کہ کل والا اسرائیلی آج ایک اور قبطی سے لڑ رہاہے ۔ آپ کو دیکھتے ہی کل کی طرح آج بھی فریاد اور دہائی دینے لگا ۔ آپ نے فرمایا تم بڑے فتنہ آدمی ہو ۔ یہ سنتے ہی وہ گھبرا گیا ۔ جب حضرت موسیٰ نے اس ظالم قبطی کو روکنے کے لئے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تو یہ شخص اپنے کمینہ پن اور بزدلی سے سمجھ بیٹھا کہ آپ نے مجھے برا کہا ہے اور مجھے پکڑنا چاہتے ہیں اپنی جان بچانے کے لئے شور مچانا شروع کردیا کہ موسیٰ کیا جیسے تونے کل ایک شخص کا خون کیا تھا آج میری جان بھی لینا چاہتا ہے؟ کل کا واقعہ صرف اسی کی موجودگی میں ہوا تھا اس لئے اب تک کسی کو پتہ نہ چلا تھا ؟ لیکن آج اس کی زبان سے اس قبطی کو پتہ چلا کہ یہ کام موسیٰ کاہے ۔ اس بزدل ڈرپوک نے یہ بھی ساتھ ہی کہا کہ تو زمین پر سرکش بن کر رہنا چاہتا ہے اور تیری طبعیت میں ہی صلح پسندی نہیں ۔ قبطی یہ سن کر بھاگا دوڑا دربار فرعونی میں پہنچا اور وہاں مخبری کی ۔ فرعون کی بددلی کی اب کوئی حد نہ رہی اور فورا سپاہی دوڑائے کہ موسیٰ کو لاکر پیش کریں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

181خائفا کے معنی ڈرتے ہوئے، ادھر ادھر جھانکتے اور اپنے بارے میں اندیشوں میں مبتلا۔ 182یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو ڈانٹا کہ تو کل بھی لڑتا ہوا پایا گیا تھا اور آج پھر تو کسی سے دست بہ گریبان ہے، تو صریح بےراہ، یعنی جھگڑالو ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٨] موسیٰ دوسرے دن ڈرتے ڈرتے پھر شہر میں داخل ہوئے۔ آپ دراصل اس ٹوہ میں تھے کہ کسی کو کل کے واقعہ کی خبر تو نہیں ہوگئی۔ اسی خطرہ کے تحت آپ پوری طرح چوکنے ہو کر شہر کی طرف آئے تھے کہ اگر کسی کو خبر ہوگئی تو میں گرفتار ہی نہ کرلیا جاؤں۔ شہر میں داخل ہو کر آپ نے یہ منظر دیکھا کہ جس سبطی کی حمایت میں آپ نے پہلے دن ایک قبطی کا خون کر ڈالا تھا۔ وہی سبطی آج پھر ایک قبطی سے الجھ رہا ہے۔ اس نے آج پھر موسیٰ کو اپنی مدد کے لئے پکارا۔ موسیٰ کو کل کے واقعہ پر بہت رنج تھا۔ فوراً سبطی سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ تم تو کوئی بدمعاش آدمی معلوم ہوتے ہو۔ جو ہر روز کسی نہ کسی سے الجھتے رہتے ہو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَاَصْبَحَ فِي الْمَدِيْنَةِ خَاۗىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ۔۔ : موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں قبطی قتل ہوگیا تھا، اس لیے انھوں نے شہر میں اس حال میں صبح کی کہ کل کے واقعہ سے خوف زدہ تھے اور انتظار کر رہے تھے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے اور کب کوئی انھیں گرفتار کرنے کے لیے آتا ہے۔ اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ وہی اسرائیلی جس نے کل ان سے ایک قبطی سے بچانے کے لیے مدد مانگی تھی، وہ ایک اور قبطی سے لڑ رہا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے گزرے تو اس نے چیخ چیخ کر انھیں مدد کے لیے پکارنا شروع کردیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کل کے واقعہ سے آزردہ تھے، اسے کہنے لگے، یقیناً تو کھلا گمراہ شخص ہے، یعنی ہر روز کسی نہ کسی سے لڑتا جھگڑتا رہتا ہے، کل ایک شخص سے لڑ رہا تھا، آج ایک اور سے جھگڑا مول لیے کھڑا ہے۔ مطلب یہ تھا کہ کل تیرے سبب سے میں ایک جان کو قتل کرچکا ہوں، اب تو نے پھر وہی ماحول بنادیا ہے۔ پھر جوں ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اس قبطی کو پکڑنے کا ارادہ کیا، چونکہ انھوں نے ابھی اسرائیلی کو ڈانٹا تھا، اس لیے وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے تیور دیکھ کر ڈر گیا اور سمجھا کہ وہ اسے پکڑنا چاہتے ہیں۔ اس نے جان بچانے کے لیے کہا، موسیٰ ! تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو ! جیسے تم نے کل ایک بندہ قتل کردیا تھا۔ اس سے پہلے یہ راز موسیٰ اور اسرائیلی کے سوا کسی کو معلوم نہ تھا۔ قبطی نے یہ بات سنی تو فوراً جا کر فرعون کو اطلاع دی، فرعون شدید غضب ناک ہوا اور اس نے خود اپنے سرداروں کی مجلس بلا کر فیصلہ کیا کہ اب اس کے سوا کوئی حل نہیں کہ موسیٰ کو قتل کردیا جائے۔ ” فَلَمَّآ اَنْ اَرَادَ “ میں ” ان “ کے فائدے کے لیے دیکھیے سورة یوسف (٩٦) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاَصْبَحَ فِي الْمَدِيْنَۃِ خَاۗىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِي اسْتَـنْصَرَہٗ بِالْاَمْسِ يَسْتَصْرِخُہٗ۝ ٠ۭ قَالَ لَہٗ مُوْسٰٓى اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيْنٌ۝ ١٨ خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ رقب الرَّقَبَةُ : اسم للعضو المعروف، ثمّ يعبّر بها عن الجملة، وجعل في التّعارف اسما للمماليك، كما عبّر بالرّأس وبالظّهر عنالمرکوب ، فقیل : فلان يربط کذا رأسا، وکذا ظهرا، قال تعالی: وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ [ النساء/ 92] ، وقال : وَفِي الرِّقابِ [ البقرة/ 177] ، أي : المکاتبین منهم، فهم الذین تصرف إليهم الزکاة . ورَقَبْتُهُ : أصبت رقبته، ورَقَبْتُهُ : حفظته . ( ر ق ب ) الرقبۃ اصل میں گردن کو کہتے ہیں پھر رقبۃ کا لفظ بول کر مجازا انسان مراد لیا جاتا ہے اور عرف عام میں الرقبۃ غلام کے معنوں میں استعمال ہونے لگا ہے جیسا کہ لفظ راس اور ظھر بول کر مجازا سواری مراد لی جاتی ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے :۔ یعنی فلاں کے پاس اتنی سواریاں میں ۔ قرآن ہیں ہے : وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ [ النساء/ 92] کہ جو مسلمان کو غلطی سے ( بھی ) مار ڈالے تو ایک مسلمان بردہ آزاد کرائے۔ اور رقبۃ کی جمع رقاب آتی ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ وَفِي الرِّقابِ [ البقرة/ 177] اور غلام کو آزاد کرنے میں ۔ مراد مکاتب غلام ہیں ۔ کیونکہ مال زکوۃ کے وہی مستحق ہوتے ہیں اور رقبتہ ( ن ) کے معنی گردن پر مارنے یا کسی کی حفاظت کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : لا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلًّا وَلا ذِمَّةً [ التوبة/ 10] کسی مسلمان کے بارے میں نہ تو قرابت کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں اور نہ ہی عہد و پیمان کا ۔ انْتِصَارُ والاسْتِنْصَارُ وَالانْتِصَارُ والاسْتِنْصَارُ : طلب النُّصْرَة وَالَّذِينَ إِذا أَصابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ [ الشوری/ 39] ، وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ [ الأنفال/ 72] ، وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ [ الشوری/ 41] ، فَدَعا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ [ القمر/ 10] وإنما قال :«فَانْتَصِرْ» ولم يقل : انْصُرْ تنبيهاً أنّ ما يلحقني يلحقک من حيث إنّي جئتهم بأمرك، فإذا نَصَرْتَنِي فقد انْتَصَرْتَ لنفسک، وَالتَّنَاصُرُ : التَّعاوُن . قال تعالی: ما لَكُمْ لا تَناصَرُونَ [ الصافات/ 25] لا نتصار والانتنصار کے منعی طلب نصرت کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَالَّذِينَ إِذا أَصابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ [ الشوری/ 39] اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو مناسب طریقے سے بدلہ لیتے ہیں ۔ وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ [ الأنفال/ 72] اور اگر وہ تم سے دین کے معاملات میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرتی لا زم ہے ۔ وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ [ الشوری/ 41] اور جس پر ظلم ہوا ہو وہ اگر اس کے بعد انتقام لے ۔ فَدَعا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ [ القمر/ 10] تو انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ ( بار الہ میں ان کے مقابلے میں کمزور ہوں ان سے ) بدلہ لے ۔ میں انصر کی بجائے انتصر کہنے سے بات پر متنبہ کیا ہے کہ جو تکلیف مجھے پہنچ رہی ہے وہ گویا تجھے ذات باری تعالیٰ پہنچ رہی ہے وہ گویا تجھے ( ذات باری تعا لی پہنچ رہی ہے کیو ن کہ میں تیرے حکم سے ان کے پاس گیا تھا لہذا میری مدد فر مانا گو یا یا تیرا اپنی ذات کے لئے انتقام لینا ہے ۔ لتنا صر کے معنی باہم تعاون کرنے کے ہیں ۔ چنا نچہ قرآن میں ہے : ما لَكُمْ لا تَناصَرُونَ [ الصافات/ 25] تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ۔ غوی الغَيُّ : جهل من اعتقاد فاسد، وذلک أنّ الجهل قد يكون من کون الإنسان غير معتقد اعتقادا لا صالحا ولا فاسدا، وقد يكون من اعتقاد شيء فاسد، وهذا النّحو الثاني يقال له غَيٌّ. قال تعالی: ما ضَلَّ صاحِبُكُمْ وَما غَوى[ النجم/ 2] ، وَإِخْوانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الغَيِّ [ الأعراف/ 102] . وقوله : فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا[ مریم/ 59] ، أي : عذابا، فسمّاه الغيّ لمّا کان الغيّ هو سببه، وذلک کتسمية الشیء بما هو سببه، کقولهم للنّبات ندی . وقیل معناه : فسوف يلقون أثر الغيّ وثمرته . قال : وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغاوِينَ [ الشعراء/ 91] ، وَالشُّعَراءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغاوُونَ [ الشعراء/ 224] ، إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُبِينٌ [ القصص/ 18] ، وقوله : وَعَصى آدَمُ رَبَّهُ فَغَوى [ طه/ 121] ، أي : جهل، وقیل : معناه خاب نحو قول الشاعر : ومن يغو لا يعدم علی الغيّ لائما «2» وقیل : معنی ( غَوَى) فسد عيشُه . من قولهم : غَوِيَ الفصیلُ ، وغَوَى. نحو : هوي وهوى، وقوله : إِنْ كانَ اللَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُغْوِيَكُمْ [هود/ 34] ، فقد قيل : معناه أن يعاقبکم علی غيّكم، وقیل : معناه يحكم عليكم بغيّكم . وقوله تعالی: قالَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنا هؤُلاءِ الَّذِينَ أَغْوَيْنا أَغْوَيْناهُمْ كَما غَوَيْنا تَبَرَّأْنا إِلَيْكَ [ القصص/ 63] ، إعلاما منهم أنّا قد فعلنا بهم غاية ما کان في وسع الإنسان أن يفعل بصدیقه، فإنّ حقّ الإنسان أن يريد بصدیقه ما يريد بنفسه، فيقول : قد أفدناهم ما کان لنا وجعلناهم أسوة أنفسنا، وعلی هذا قوله تعالی: فَأَغْوَيْناكُمْ إِنَّا كُنَّا غاوِينَ [ الصافات/ 32] ، فَبِما أَغْوَيْتَنِي [ الأعراف/ 16] ، وقال : رَبِّ بِما أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ [ الحجر/ 39] . ( غ و ی ) الغی ۔ اس جہالت کو کہتے ہیں جو غلطاعتقاد پر مبنی ہو ۔ کیونک جہالت کبھی تو کسی عقیدہ پر مبنی ہوتی ہے اور کبھی عقیدہ کو اس میں داخل نہیں ہوتا پہلی قسم کی جہالت کا نام غی ) گمراہی ہے قرآن پاک میں ہے : ما ضَلَّ صاحِبُكُمْ وَما غَوى[ النجم/ 2] کہ تمہارے رفیق محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) نہ رستہ بھولے ہیں اور نہ بھٹکے ہیں ۔ وَإِخْوانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الغَيِّ [ الأعراف/ 102] اور ان ( کفار ) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا[ مریم/ 59] سو عنقریب ان کو گمراہی ( کی سزا ) ملے گی ۔ میں غی سے عذاب مراد ہے اور عذاب کو غی اس لئے کہاجاتا ہے کہ گمراہی عذاب کا سبب بنتی ہے لہذا عذاب کو غی کہنا مجازی ہے یعنی کسی شے کو اس کے سبب نام سے موسوم کردینا جیسا کہ نبات کو ندی ( طرادت ) کہہ دیتے ہیں ۔ بعض نے آیت کے یہ معنی کہتے ہیں کہ یہ لوگ عنقریب ہی اپنی گمراہی کا نتیجہ اور ثمرہ پالیں گے مگر مآل کے لحاظ سے دونوں معنی ایک ہی ہیں ۔ غاو بھٹک جانے والا گمراہ جمع غادون وغاوین جیسے فرمایا : وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغاوِينَ [ الشعراء/ 91] اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لائی جائے گی ۔ وَالشُّعَراءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغاوُونَ [ الشعراء/ 224] اور شاعروں کی پیروی گمرا ہلوگ کیا کرتے ہیں ۔ ( الغوی ۔ گمراہ غلط رو ۔ جیسے فرمایا :إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُبِينٌ [ القصص/ 18] کہ تو تو صریح گمراہ ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَعَصى آدَمُ رَبَّهُ فَغَوى[ طه/ 121] اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم کے خلاف کیا ( تو وہ اپنے مطلوب سے ) بےراہ ہوگئے ۔ میں غویٰ کے معنی یہ ہیں ک آدم نے جہالت کا ارتکاب کیا اور بعض نے اس کے معنی خاب کئ ہیں یعنی انہوں نے سراسر نقصان اٹھایا ۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) (334) ومن یغولا بعدم علی الغی لائما اور اگر ناکام ہوجائے تو ناکامی پر بھی ملامت کرنے والون کی کمی نہیں ہے ؛بعض نے غوی کے معنی ففدعیشہ کئے ہیں یعنی اس کی زندگی تباہ ہوگئی اور یہ غوی الفصیل وغویٰ جیسے ھویٰ وھوی ٰ ۔ سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں اونٹ کے بچے نے بہت زیادہ دودھ پی لیا جس سے اسے بدہضمی ہوگئی اور آیت کریمہ : إِنْ كانَ اللَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُغْوِيَكُمْ [هود/ 34] اور اگر خدا یہ چاہے کہ تمہیں گمراہ کرے ۔ میں یغویکم سے مراد گمراہی کی سزا دینے کے ہیں اور بعض نے اس کے معنی گمراہی کا حکم لگانا بھی کئے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : قالَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنا هؤُلاءِ الَّذِينَ أَغْوَيْنا أَغْوَيْناهُمْ كَما غَوَيْنا تَبَرَّأْنا إِلَيْكَ [ القصص/ 63]( تو جن لوگوں پر ) عذاب کا حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے کہ ہمارے پروردگار ی وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہی کیا تھا اور جس طرح ہم خود گمراہ تھے اسی سطرح انہیں گمراہ کیا تھا ۔ میں بتایا گیا ہے کہ کفار قیامت کے دن اعلان کریں گے کہ ہم ان کے ساتھ انتہائی مخلصانہ سلوک کیا تھا جو کہ ایک انسان اپنے دوست سے کرسکتا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٨) پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس قتل کے خوف اور وحشت کی حالت میں صبح ہوگئی انہیں ڈر تھا کہ کب پکڑا جاؤں دیکھتے کیا ہیں کہ وہی اسرائیلی جس نے گزشتہ روز ان سے قبطی کے مقابلہ میں مدد چاہی تھی آج پھر دوسرے قبطی کے خلاف مدد کے لیے پکار رہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا تو بڑا بد راہ سے روزانہ لڑتا پھرتا ہے اور روکنا چاہا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٨ (فَاَصْبَحَ فِی الْْمَدِیْنَۃِ خَآءِفًا یَّتَرَقَّبُ ) ” ظاہر ہے قتل کے بعد شہر میں ہر طرف قاتل کو ڈھونڈنے کی دھوم مچی ہوگی۔ ہر طرح سے تفتیش و تحقیق ہو رہی ہوگی۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) خوفزدہ بھی تھے کہ کہیں راز نہ کھل جائے اور محتاط و متجسسّ بھی۔ (فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَہٗ بالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُہٗ ط) ” وہی شخص آج پھر کسی سے الجھا ہوا تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ کر اس نے پھر آپ ( علیہ السلام) کو مدد کے لیے پکارنا شروع کردیا۔ (قَالَ لَہٗ مُوْسٰٓی اِنَّکَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ ) ” کہ کل بھی ایک قبطی سے تمہاری لڑائی ہو رہی تھی اور آج پھر تم نے کسی سے جھگڑا مول لے رکھا ہے۔ لگتا ہے تمہاری فطرت ہی ایسی ہے اور تم ہر کسی سے زیادتی کرتے ہو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

27 That is, "You seem to be a quarrelsome man:you have daily a new quarrel with one or the other person."

سورة القصص حاشیہ نمبر : 27 یعنی تو جھگڑالو آدمی معلوم ہوتا ہے ۔ روز تیرا کسی نہ کسی سے جھگڑا ہوتا رہتا ہے ۔ کل ایک شخص سے بھڑ گیا تھا ، آج ایک دوسرے شخص سے جا بھڑا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

9: یعنی لڑائی بھڑائی تمہارا روز کا وطیرہ معلوم ہوتا ہے کہ کل کسی اور سے لڑے تھے اور آج اس شخص سے لڑرہے ہو۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:18) فاصبح۔ دخل وہ داخل ہوا۔ پھر اس کو صبح ہوگئی۔ اس نے صحیح کردی۔ خائفا : اصبح کا فاعل سے حال ہے۔ خوف کھاتے ہوئے۔ خائف ، ڈرتے ہوئے، خوف و اندیشہ کی حالت میں۔ یترقب۔ مضارع واحد مذکر غائب ترقب (تفعل) مصدر جس کے معنی ہیں انتظار کرتے ہوئے کسی چیز سے بچنا۔ یعنی اس انتظار میں صبح کردی کہ دیکھیں قتل کے نتیجے میں کیا ہوتا ہے یا خفیہ توہ لگاتے صبح کردی۔ یترقب۔ حال اول خائفا کا بدل ہے یا اس کی تاکید ہے۔ خائفا خبر بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں اصبح فعل ناقص اور ضمیر موسیٰ (علیہ السلام) اس کا اسم ہوگا اور جملہ یترقب خبر بعد خبر یا خائفا کی ضمیر فاعل سے حال ہوگا۔ مطلب یہ کہ قتل کے بعد حالات کیا صورت اختیار کرتے ہیں اس انتظار میں ہراساں و اندیشہ کناں شہر میں صبح کردی۔ فاذا میں اذا حرف مفاجاتیہ ہے اصل میں فاذا تھا۔ بمعنی ناگہاں۔ اچانک جیسے اور جگہ قرآن مجید میں ہے فالقھا فاذا ہی حیۃ تسعی (20:20) پس اس (موسی) نے اس (عصا) کو ڈالا اور وہ ناگہاں سانپ بن کر دوڑنے لگا۔ استنصرہ۔ ماضی واحد مذکر غائب استصار استفعال مصدر نصر۔ مادہ ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع موسیٰ (علیہ السلام) ہے۔ اس نے اس سے مدد طلب کی۔ الذی استنصرہ جس نے (کل) اس سے مدد طلب کی تھی۔ یستصرخہ۔ مضارع واحد مذکر غائب استصراخ استفعال مصدر سے صرخ مادہ۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب راجع بسوئے موسی۔ وہ ان سے چیخ کر فریاد کر رہا ہے باب استفعال سے زور زور سے پکار کر مدد طلب کرنا۔ یستصرخہ وہ آج پھر ان سے مدد طلب کردیا ہے۔ مدد کے لئے پکار رہا ہے۔ غوی۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے بروزن نبی فعیل۔ غی مصدر غوی مادہ ۔ بےراہ۔ گمراہ۔ بدراہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

4 ۔ یعنی ذہن میں یہ خیال رکھتے ہوئے کہ دیکھو کیا ہوتا ہے اور کہاں پکڑ لیا جاتا ہوں ؟ 5 ۔ یعنی اب ایک اور قبطی سے لڑ رہا ہے۔ اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی مدد چاہتا ہے۔ (قرطبی) 6 ۔ جو ہر روز کسی نہ کسی سے لڑتا جھگڑتا رہتا ہے کل ایک شخص سے لڑ رہا تھا اور آج دوسرے سے جھگڑا ہوں لئے کھڑا ہے۔ مطلب یہ تھا کہ کل تیرے سبب سے میں ایک جان کو قتل کرچکا ہوں۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 18 تا 21 : یترقب (انتظار کرتا ہے۔ دیکھتا بھالتا ہے) استنصر (اس نے مدد مانگی) ‘ الامس (گذشۃ کل) ‘ یستصرخ (فریاد کرتا ہے۔ چلاتا ہے) ‘ غوی (گم راہ) یبطش (وہ پکڑتا ہے) جبار (زبردستی کرنے والا) ‘ اقصا ( دور) ‘ یا تمرون (وہ مشورہ کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 18 تا 21 : ظالم و جابر قوموں کا انداز ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ اگر ہزاروں آدمی بھی ان کے ظلم وستم کا شکار ہوکر مرجائیں ‘ قتل ‘ ہوجائیں اور تباہ و برباد ہوجائیں تو ان کے نزدیک کوئی خاص بات نہیں ہوتی لیکن اگر ان ظالموں کا ایک آدمی بھی مارا جائے تو اس کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے جیسے ساری انسانیت کا خون ہوگیا ہے۔ چناچہ فرعون جو اپنے اقتدار کی حفاظت کیلئے ظلم و زیادتی کا بازار گرم کئے ہوئے تھا اور ماؤں کی گودیں اجاڑنے اور قتل و غارت گری کرنے میں سب سے آگے تھا جب اس کی قوم کا ایک قبطی مارا گیا تو ایسامعلوم ہورہا تھا جیسے پوری حکومت میں بھونچا ل آگیا ہے۔ ہر طرف اسی کا چرچا تھا کہ ایک قبطی مارا گیا ہے۔ مگر قاتل کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو ایک اسرائیلی اور قبطی کے درمیان صلح صفائی کرنے کے لئے آگے بڑھے تھے اور ان کے ایک ہی گھونسے سے قبطی مارا گیا تھا تو اگلے دن صبح کو ایک انجانے خوف سے پریشان شہر کی طرف نکلے۔ آپ نے دیکھا کہ وہی اسرائیلی شخص جس نے گذشتہ کل اپنی مدد کے لئے پکارا تھا وہ کسی دوسرے آدمی سے الجھ رہا ہے۔ اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا تو پھر فریاد کی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سمجھ گء کہ یہ جھگڑالو آدمی ہے جو ہر ایک سے لڑتا پھرتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی مدد کرنے کی بجائے اس اسرائیلی کو زبردست ڈانٹ پلائی کہ تو بڑا ہی برا آدمی ہے جو لوگوں سے جھگڑتا پھرتا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس اسرائیلی کو اس شخص سے علیحدہ کرنے کے لئے جو ہاتھ بڑھایا تو وہ اسرائیلی کہنے لگا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا تم مجھے اسی طرح قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح گذشتہ کل تم نے ایک قبطی کو قتل کردیا تھا ایسا لگتا ہے کہ تم اس سرزمین پر اپنا زور چلانا چاہتے ہو اور باہمی صلح اور ملاپ کرانا نہیں چاہتے۔ جب اسرائیلی کے منہ سے یہ نکلا تو پورے شہر میں اس کا چرچا ہوگیا کہ گذشتہ کل جس قبطی کا خون ہوا تھا وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کیا تھا۔ بات فرعون تک پہنچ گئی۔ اس نے سارے درباریوں کو جمع کر کے مشورہ کیا ۔ طے پایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بلا کر ان سے اس خون کا بدلہ لیا جائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک خیر خواہ جو اس پوری کاروائی کو سن رہا تھا وہ شہر کے دوسرے سرے سے دوڑتا ہوا آیا اور اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! فرعون کے دربار میں تمہارے قتل کے منصوبے بن رہے ہیں تم فوراً یہاں سے کہیں دور نکل جائو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو پہلے ہی سے ان حالات کا اندازہ کرچکے تھے۔ وہ اسی خوف کی حالت میں ایک طرف روانہ ہوگئے۔ چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کا رخ کس طرف ہے اس لئے اللہ کی بار گاہ میں عرض کیا الہیٰ مجھے ان ظالموں سے بچا لیجئے ( اور سیدھا راستہ عطا فرمادیجئے) ۔ اس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے مدین پہنچ گئے۔ اس واقعہ کی بقیہ تفصیل اگلی آیات میں آرہی ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ناعاقبت اندیش اور نام نہاد مظلوم کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کو وطن چھوڑنا پڑا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے قتل خطا کی معافی مانگتے ہوئے یہ بھی عرض کی تھی کہ بار الٰہ ! میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میں مجرم کی حمایت نہیں کروں گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جس شخص کی حمایت کی تھی وہ کتنا ناعاقبت اندیش اور بدفطرت تھا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) اگلی صبح کل کے واقعہ کی وجہ سے ڈرتے ہوئے گھر سے باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہی شخص آج پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی مدد کے لیے پکار رہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے طیش میں آکر فرمایا تو تو بڑا ظالم اور برا شخص ہے۔ یہ کہتے ہوئے موسیٰ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی کو پکڑیں تو جس کی کل حمایت کی تھی وہ کہنے لگا کہ اے موسیٰ کیا آج تو مجھے اسی طرح قتل کرنے لگا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کرچکا ہے تو اس ملک میں جبّار بن کر رہنا چاہتا ہے اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے موسیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کل والے شخص کو پیچھے ہٹانا چاہتے ہوں جب آگے بڑھے تو اس نے شور مچا دیا کہ اے موسیٰ تو مجھے بھی کل کی طرح قتل کرنا چاہتا ہے۔ بنی اسرائیل اور فرعون کی قوم کے درمیان ظالم اور مظلوم کشمکش تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے تھے۔ نہ معلوم اس وجہ سے فرعون کی قوم میں موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کس قدر خدشات پائے جاتے تھے ؟ فرعون کی قوم بالخصوص بر سر اقتدار لوگوں کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کا وجود بالیقین ناقابل برداشت تھا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ جوان فرعون کی آنکھوں کا تارا ہے اور فرعون کے بعد اسے ہی اقتدار حاصل ہوگا۔ بالخصوص انھیں اس لیے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ رقابت تھی کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص اقتدار کے ایوانوں میں اس قدر کیوں مقبول ہوچکا ہے۔ جونہی انھیں معلوم ہوا کل کے مقتول کو موسیٰ (علیہ السلام) نے قتل کیا ہے تو ان کا حسد و بغض اپنی انتہا کو پہنچا اور انھوں نے قتل کے محرکات جانے اور موسیٰ (علیہ السلام) کا مؤقف سنے بغیر ہی فیصلہ کرلیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو فی الفور قتل کردینا چاہیے۔ اُنہی میں سے ایک شخص صبح کے وقت دوڑتا ہوا موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچا اور سرداران فرعون کا فیصلہ سناتے ہوئے عرض کی۔ ” اے موسیٰ ( علیہ السلام) ! فرعون کے وزیروں، مشیروں نے آپ کو قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ میں آپ کو خیر خواہانہ مشورہ دیتا ہوں کہ آپ فوری طور پر یہاں سے نکل جائیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یہ خبر سنتے ہی ڈرتے ہوئے بھاگ نکلے کہ کہیں میرا تعاقب نہ ہوجائے۔ اس کے ساتھ ہی موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب سے فریاد کرنے لگے ” اے میرے رب ! مجھے ظالم قوم سے نجات عطا فرما۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دو وجہ سے قوم فرعون کو ظالم قرار دیا تھا۔ ایک یہ کہ قتل کے اسباب جاننے اور مؤقف سنے بغیر انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے سہوًا ایک آدمی قتل ہوا تھا لیکن انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے ہزاروں آدمی اور معصوم بچوں کو قتل کیا تھا اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں ظالم قوم قرار دیا۔ مسائل ١۔ ناعاقبت اندیش اور ظالم کی مدد نہیں کرنی چاہیے۔ ٢۔ نادان دوست انسان کو کسی بھی آزمائش میں مبتلا کرسکتا ہے۔ ٣۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے مشکل کے وقت صرف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مشکل حل کرنے والا نہیں۔ تفسیر بالقرآن دشمن کے مقابلے میں انبیاء (علیہ السلام) کا اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا : ١۔ نوح نے بدعا کی کہ الٰہی زمین پر ایک بھی کافر نہ چھوڑیے۔ (نوح : ٢٦) ٢۔ اے اللہ ! فساد کرنے والی قوم کے مقابلہ میں میری مدد فرما۔ (حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعا) (العنکبوت : ٣٠) ٣۔ اے ہمارے رب ! تو ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے (حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعا) ۔ (الاعراف : ٨٩) ٤۔ اے ہمارے پروردگار ! ان کے اموال کو ختم کردے اور ان کے دلوں کو سخت فرما۔ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا) ۔ (یونس : ٨٨) ٥۔ اللہ کے سوا کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ (الانفال : ١٠) ٦۔ اللہ ہی سے مدد مانگنا چاہیے۔ (البقرۃ : ٤٥) ٧۔ اللہ ہی بہترین مولا اور بہترین مددگار ہے۔ ( حج : ٧٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فاصبح فی المدینۃ ۔۔۔۔۔۔ ان تکون من المصلحین (18- 19) پہلے معرکے میں تو قبطی کا کام تمام ہوگیا تھا ، اس فعل پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت ندامت ہوئی۔ آپ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے اس غلطی پر استغفار کیا اور آپ کو معاف کردیا گیا۔ اور آپ نے اب عہد کرلیا کہ آپ کبھی بھی مجرمین کے معین و مددگار نہ ہوں گے۔ وہ دن تو گزر گیا لیکن آپ اس شہر میں ڈرے سہمے پھر رہے تھے شاید یہ راز کھل نہ گیا ہو۔ آپ ہر وقت راز کے انکشاف اور شرمندگی اور سزا سے خائف تھے۔ لفظ یترقب میں یہ تمام مفہوم موجود ہیں۔ آپ کی ہیئت سے بھی ظاہر تھا کہ آپ کسی پریشان میں گھوم رہے ہیں۔ سہمے ہوئے ، ہر لمحہ اور ہر لحظہ کسی خطرناک صورت حالات کی توقع کرتے ہوئے۔ ایک منفعل مزاج شخص کی حالت ہمیشہ ایسی ہوتی ہے کہ ذرا سا کھٹکا بھی اس کی حرکات و سکنات کو ظاہر کردیتا ہے۔ یترقب سے خوف اور پریشانی کا اچھی طرح اظہار ہوتا ہے۔ یترقب کے بعد فی المدینہ سے اس میں مزید مبالغہ آجاتا ہے کیونکہ شہر تو ہمیشہ امن وامان کی جگہ ہوتی ہے۔ لیکن وہ اس پر امن شہر میں بھی خائف ہیں اور سب سے بڑا خوف وہ ہوتا ہے جو انسان کو اپنے گھر اور جائے امن میں لاحق ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ پریشانی کن حالات قطعی طور پر بتائی ہے کہ آپ اس وقت شاہی محل سے منسلک نہیں ہیں ، کیونکہ شاہی محل کے لوگوں کو کسی ظلم و فساد کے نتیجے میں کوئی ڈر لاحق نہیں ہوتا۔ اگر آپ شاہی محل ہی میں مقیم ہوتے تو قرآن کریم ، آپ کے لیے۔ فی المدینۃ خآئفا یترقب (28: 18) کے الفاظ استعمال نہ کرتا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایسے ہی حالات میں پھر رہے تھے کہ وہ ایک نیا منظر دیکھتے ہیں : فاذا الذی ۔۔۔۔ یستصرخہ (28: 18) ” یکایک کیا دیکھتے ہیں کہ وہی شخص جس نے کل اسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اسے پکار رہا ہے “۔ یہ وہی شخص ہے جس کی کل انہوں نے قبطی کے خلاف طرف داری کی تھی۔ یہی شخص اب کسی دوسرے قبطی کے ساتھ الجھ رہا ہے۔ اور حضرت موسیٰ کو پکار رہا ہے کہ بچاؤ مجھے اس سے۔ شاید اس کا خیال یہ تھا کہ حضرت موسیٰ اس دوسرے مشترکہ دشمن پر ایک ضرب کلیم لگائیں اور یہ بھی اسی طرح ڈھیر ہوجائے۔ لیکن حضرت موسیٰ کے ذہن پر توکل کے مقتول کی سوچیں چھائی ہوئی تھیں اور اس پر انہوں نے اللہ سے معافی بھی مانگ لی تھی اور معافی ملنے کے بعد اللہ سے آپ نے عہد کرلیا تھا کہ آئندہ آپ کسی مجرم کے طرف دار نہ ہوں گے اور سابقہ فعل کے راز کے افشا کا خوف بھی ابھی زندہ تھا۔ اب آپ کو اس شخص پر غصہ آگیا جو مدد کے لیے پکار رہا تھا۔ آپ نے غصے میں اس شخص سے کہا کہ تم تو بہت بڑے شرپسند ہو۔ قال لہ موسیٰ انک لغوی مبین (28: 18) ” موسیٰ نے کہا تو بڑا ہی بہکا ہوا آدمی ہے “ یعنی تو ایسا آدمی ہے کہ ہر کسی کے ساتھ الجھتا ہے اور تمہارا یہ الجھاؤ ختم نہیں ہوتا ، ہر کسی کے ساتھ تیرا جھگڑا ہے ، جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس طرح تو بنی اسرائیل پر کوئی بڑی مصیبت لے آئے گا اور ان کی پوزیشن یہ ہے کہ نہ وہ انقلاب لا سکتے ہیں اور نہ مزید تشدد کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ وہ اس وقت کوئی تعمیری تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں۔ لہٰذا اس قسم کی جزوی جھڑپوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ لیکن اس تنبیہہ کے بعد بھی موسیٰ (علیہ السلام) کو اس قبطی پر غصہ آگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس پر اسی طرح جھپٹے جس طرح انہوں نے گزشتہ روز کیا تھا اور اس کا کام بھی اسی طرح تمام کردیں جس طرح کل انہوں نے کیا تھا۔ یہاں بھی یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰ کی جلالی طبیعت قبطیوں کے مظالم کو برداشت نہ کرسکتی تھی۔ آپ مشتعل ہوگئے کیونکہ قبطیوں کے مظالم حد سے بڑھ گئے تھے۔ اس لیے ظلم و سرکشی کے خلاف ان کا یہ ردعمل فطری تھا جبکہ یہ مظالم ایک طویل عرصے سے ہو رہے تھے اور بنی اسرائیل کے دلوں میں ان لوگوں کے خلاف نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور بہت گہری ہوچکی تھی۔ فلما ان اراد ان ۔۔۔۔۔ تکون من المصلحین (28: 19) ” پھر جب موسیٰ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے تو وہ پکار اٹھا “ اے موسیٰ ! کیا آج تو مجھے اسی طرح قتل کرنے لگا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کرچکا ہے ؟ تو اس ملک میں جبارین کر رہنا چاہتا ہے ، اصلاح کرنا نہیں چاہتا “۔ ایسی باتیں اس وقت عام ہوجاتی ہیں جب معاشرہ فساد پذیر ہو ، اس میں مظالم عام ہوجائیں ، معاشرہ سے اعلیٰ قدریں ختم ہوجائیں ، ہر طرف تاریکی ہی تاریکی ہو۔ ظلم کی وجہ سے لوگوں کا دم گھٹنے لگے۔ حالات ، قوانین اور رسم و رواج سب خراب ہوجائیں اور انسانوں کی فطرت اس طرح بدل جائے کہ لوگ ظلم کو دیکھیں اور ان کے اندر کوئی ردعمل پیدا نہ ہو۔ ان پر زیادتی ہو رہی ہو اور ان کے نفوس کے اندر کوئی جوش مدافعت پیدا نہ ہو۔ بلکہ لوگوں کی فطرت میں اس قدر بگاڑ پیدا ہوجائے کہ لوگ ان مظلوموں کو برا کہنے لگیں جو اپنی مظلومی کا دفاع کرتے ہوں اور جو شخص حق کے ساتھ دے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائے ، اسے کہا جائے کہ یہ شرپسند اور دہشت گرد ہے۔ اور یہ زبردستی اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ الفاظ کہ ” تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے اور جبار بن کر رہنے والا ہے “ قبطی نے حضرت موسیٰ سے کہے۔ اس لیے کہ ان قبطیوں نے یہی دیکھا تھا کہ اسرائیلیوں پر ہر طرف سے مظالم ہو رہے تھے اور وہ سر نہ ہلاتے تھے۔ اس طرح ان کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ ایک اعلیٰ اخلاقی اصول ہے اور یہ فضائل اخلاق میں سے ہے اور نہایت مہذب زندگی ہے اور اعلیٰ اخلاقی رویہ ہے اور اسی میں معاشرے کی اصلاح و فلاح ہے کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے۔ جب اس قسم کے لوگ دیکھتے کہ اور مظلوموں کے رویہ کے برعکس ۔۔۔۔۔ شخص مدافعت کرتا ہے اور حکمرانوں نے جو غلامانہ اخلاقی نظام جاری کر رکھا تھا اور جس کے مطابق لوگ زندگی بسر کر رہے تھے اس کے خلاف ایک شخص بغاوت کر رہا ہے تو یہ بات ان کے لیے انوکھی ہوتی تھی۔ اور ان کو خوف لاحق ہوجاتا ہے۔ وہ الٹا مظلوم کو جبار وقہار کہتے تھے اور اس پر دہشت گردی اور بداخلاقی کا الزام لگاتے تھے۔ الٹا مظلوم کو لغت و ملامت کرتے تھے۔ ظالم تک ان کی لعنت و ملامت کا بہت ہی کم حصہ پہنچتا تھا۔ مظلوم کے لیے ان کے ذہنوں میں مدافعت کا کوئی جواز نہ تھا۔ اگرچہ وہ بندگلی تک پہنچ جانے کے بعد کوئی جسورانہ اقدام کرنے پر مجبور ہوگیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ بنی اسرائیل پر ایک عرصے تک ظلم ہوتا رہا۔ موسیٰ (علیہ السلام) دیکھتے دیکھتے عاجز آگئے۔ ان کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے وہ ایک اسرائیل کی مدافعت کرتے ہیں اور نادم ہوجاتے ہیں لیکن حالات کا دباؤ اس قدر شدید ہے کہ وہ دوبارہ وہی فعل کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور قریب ہے کہ وہ یہ کام کر گزریں۔ آپ ارادہ کرلیتے ہیں کہ اس شخص کو پکڑ لیں لیتے ہیں کہ اس شخص کو پکڑلیں جو ان کا ، اور ان کی قوم کا دشمن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ان کے اس فعل پر ، حضرت موسیٰ کو چھوڑ نہ دیا بلکہ اللہ نے ان کی تربیت کی اور ان کی دعا کو قبول کیا کیونکہ اللہ علیم وخبیر ہے۔ اس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ انسان کس قدر قوت برداشت رکھتا ہے۔ جب ظلم شدید ہوتا ہے اور انصاف کے تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ تو مظلوم مجبور ہوکر حملہ کرتا ہے اور کسی بھی جسورانہ اقدام پر مجبور ہوجاتا ہے۔ لہٰذا قرآن نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب سے ارتکاب قتل کے فعل کو زیادہ خوفناک انداز میں بیان نہیں کیا ، جس طرح ایسے کام کو وہ سوسائٹیاں بہت ہی خوفناک سمجھتی ہیں جن کی فطرت اور جن کا ضمیر غلامی کے مظالم سہتے سہتے بدل جاتا ہے۔ وہ نہیں سمجھتے کہ حالات کے دباؤ اور تشدد کے جواب میں لوگ ایسے کام پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ جب ان کی قوت برداشت کو اب دے دیتی ہے۔ قرآن کریم ان دونوں واقعات کا جس انداز میں ذکر کرتا ہے اس سے یہی تاثر ملتا ہے ۔ قرآن نہ تو ان اقدامات کے لے وجہ جواز بیان کرتا ہے اور نہ ہی ان کی برائی میں مبالغہ آرائی کرتا ہے۔ البتہ قرآن نے اس کو نفس پر ظلم اس لیے کہا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس مقام پر قومیت کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ وہ ہونے والے رسول تھے ، اور اللہ تعالیٰ خود اپنی نگرانی میں ان کی تربیت فرما رہا تھا۔ یا اس وجہ سے کہ حضرت موسیٰ نے فرعون کے مظالم پر قبل از وقت کشمکش شروع کردی تھی اور اللہ کا ارادہ اور اس کی اسکیم یہ تھی کہ بنی اسرائیل کو پوری طرح اجتماعی نجات ملے۔ کیونکہ انفرادی جھڑپوں کے نتیجے میں کوئی اجتماعی تبدیلی ممکن نہیں ہوتی جس طرح مکہ میں مسلمانوں کو یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ وہ ہاتھ روکے رکھیں۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ شاید پہلے قتل کی بات پورے مصر میں پھیل گئی تھی۔ حضرت موسیٰ کے بارے میں حکومتی حلقوں میں شبہات پھیل گئے تھے کیونکہ اس سے قبل فرعون اور اس کی کارروائیوں پر وہ ناپسندیدگی کا اظہار کرچکے تھے۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ اسرائیل نے بطور افتخار اور مسرت اس راز کو پھیلا دیا ہوگا۔ خصوصاً بنی اسرائیل کے اپنے حلقوں کے اندر تو یہ تیزی سے پھیل گیا ہوگا۔ اور باہر والوں کے کان میں بھی بھنک پڑگئی ہوگی۔ ہم اس کو اس لیے ترجیح دیتے ہیں کہ ایسے حالات میں موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے کسی کو قتل کرنا ہرا سرائیلی کے لیے خوشی اور مسرت کی بات تھی۔ اس طرح ان کے غیظ و غضب کی آگ ٹھنڈی ہو سکتی تھی۔ ایسی باتیں بالعموم ایک سے دوسرے کی طرف بڑی تیزی سے پھیل جاتی ہیں۔ اور بعض اوقات ایک حلقے سے نکل کر دوسرے حلقوں تک جا پہنچتی ہیں جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مشہور بھی تھا کہ وہ اس فرعونی تشدد پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور مظلوموں کی حمایت کرتے رہتے ہیں۔ جب موسیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ دوسرے قبطی کو پکڑ کر گوشمالی کریں تو اس نے پکار کر ان سے پہلے قبطی کے قتل کا الزام لگا دیا وہ دیکھ رہا تھا کہ موسیٰ اسے پکڑنے ہی والے ہیں۔ اور شاید ضرب کلیم اس کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہو تو وہ پکاراٹھا۔ اترید ان تقتلنی کما قتلت نفسا بالامس (28: 19) رہی باقی عبارت ان ترید الا ۔۔۔۔۔ من المصلحین (28: 19) ” تم مجھے سی طرح قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح کل تم ایک شخص کو قتل کرچکے ہو تو اس ملک میں جبار بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا “ تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت اصلاح کی کوئی تحریک شروع کر رکھی تھی اور وہ مصلح مشہور تھے ، اس لیے وہ شخص آپ پر الزام لگاتا ہے کہ تم اپنے منشور کے خلاف عمل کر رہے ہو۔ تم ایک جبار شخص کی طرح اس ملک میں رہنا چاہتے ہو۔ اصلاح احوال کے بجائے لوگوں کو قتل کرنا چاہتے ہو۔ جس طرح یہ شخص حضرت موسیٰ پر الزام لگا رہا ہے اور جس انداز میں حضرت موسیٰ کو مخاطب کر رہا ہے ان دونوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور میں حضرت موسیٰ فرعون کے مقربین اور اہل خانہ میں سے نہ تھے۔ ورنہ کوئی مصری ان پر الزام لگانے کی اس قدر جسارت نہ کرسکتا تھا اور اس کا انداز خطاب بھی ایسا نہ ہو سکتا تھا۔ بعض مفسرین نے کہا کہ یہ فقرے اس اسرائیلی کے ہیں جس کی حمایت میں آپ قبطی کو پکڑنا چاہتے تھے ، اس قبطی کے نہیں ہیں۔ کیونکہ حضرت موسیٰ نے اسرائیلی کو ڈانٹا تھا۔ انک لغوی مبین (28: 18) ” تو تو بڑا ہی بہکا ہوا آدمی ہے “۔ اس فقرے کے بعد جب موسیٰ قبطی کو پکڑنے کے لیے آگے بڑھے تو اس اسرائیلی نے یہ گمان کیا کہ شاید ضرب کلیم مجھ پر پڑنے والی ہے تو وہ خوف کے مارے یہ الزام لگا گیا اور راز فاش کردیا۔ ان مفسرین نے یہ رائے اس لیے اختیار کی ہے کہ یہ راز مصر میں راز ہی تھا کہ اس شخص کا قاتل کون ہے ؟ لیکن زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ یہ بات قبطی نے کہی ہو۔ ہم نے بتا دیا ہے کہ یہ راز چپکے چپکے پورے شہر میں پھیل گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ مصری نے اپنی فراست اور دانش مندی سے یہ الزام لگا دیا ہو کہ مقتول مجمول کے قاتل موسیٰ ہی ہو سکتے ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب موسیٰ پر اس شخص نے قتل کا الزام لگایا تو موسیٰ (علیہ السلام) اس شخص کے پکڑنے سے رک گئے اور یہاں سے چھوٹ کر یہ شخص بھاگتے بھاگتے فرعون کے ہاں پہنچ گیا ہوگا اور کہہ دیا ہوگا کہ قاتل دراصل موسیٰ ہے۔ اب یہاں سابق منظر اور آنے والے منظر کے درمیان ایک وقفہ اور ۔۔۔۔۔ منظر یہ ہے کہ ایک شخص بھاگتا ہوا مدینہ سے باہر یعنی شاہی دربار و رہائشی کے علاقے سے آتا ہے اور حضرت موسیٰ کو خبر دار کرتا ہے کہ تمہارے بارے میں اعلیٰ سطح پر مشورے شروع ہوگئے ہیں اور تمہارے لیے بہتر یہ ہے کہ جان بچا کر مصر سے نکل جاؤ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

19:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے رات اسی امید و بیم اور کشمکش میں گذار دی کہ دیکھیں فرد جرم کس پر عائد ہوتی ہے۔ اگلے روز جب وہ گھر سے باہر نکلے تو دیکھا کہ وہی اسرائیلی آج ایک دوسرے قبطی سے گتھم گتھا ہے۔ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ کر آج پھر مدد کے لیے پکارا موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ کر آج پھر مدد کے لیے پکارا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تو بڑا بیہودہ آدمی ہے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ تیرا روزانہ کام ہی یہی ہے۔ فلما ان اراد الخ، اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) جب قبطی کو پکڑ کر پیچھے ہٹانے کے ارادے سے آگے بڑھے تو اسرائیلی سمجھا کہ وہ مجھے پکڑنے لگے ہیں کیونکہ انہوں نے اسے ملامت کی تھی اس لیے فوراً بول اٹھا۔ اے موسیٰ ! جس طرح کل تو نے ایک شخص کو قتل کر ڈالا اسی طرح آج مجھے قتل کرنا چاہتا ہے۔ تو لوگوں کے جھگڑے صلح صفائی سے ختم کرنے کے بجائے جبر و تشدد سے بڑا بننا چاہتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

18۔ غرض موسیٰ (علیہ السلام) صبح ہی صبح ڈرتا حالات کی ٹوہ لگاتا شہر میں گیا تو اچانک کیا دیکھتا ہے وہی اسرائیلی جس نے کل گزشتہ موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد طلب کی تھی آج موسیٰ (علیہ السلام) کو پھر پکار رہا ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے کہا تو یقینا صریح بےراہ ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے رات پریشانی کی حالت میں گزاری صبح کو ڈرتا اور خوف کھاتا ہوا نکلا کیونکہ کل کا واقعہ سامنے تھا کہ فرعونی حکومت کی اطلاعات کیا ہیں میرا نام کسی کو معلوم ہوا یا نہیں پولیس آتی ہے تو کب ہے اس قسم کا انتظار تھا اسی کی ٹوہ اور کھوج لگانے کو نکلا کہ شہر میں کیا افواہ ہے۔ میری گرفتاری ہوتی ہے تو کب ہوتی ہے یہ اسی حالت میں تشریف لے جا رہے تھے کہ یکا یک کیا دیکھتے ہیں کہ وہی کل والا اسرائیلی پھر کسی فرعونی سے الجھ رہا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو پکاررہا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس واقعہ کو دیکھ کر کل گزشتہ کے واقعہ کو یاد کیا جو کل فرعون کے باورچی خانے کے منیجر کے ساتھ پیش آیا تھا لہٰذا اسرائیلی سے نا خوش ہوئے اور فرمایا تو صریح بد را ہ ہے کہ روز کسی نہ کسی فرعونی سے الجھتا ہے حالانکہ ابھی کسی الجھائو کی اجازت نہیں ہے بلکہ صبر و ضبط کا حکم ہے۔ لیکن جب انہوں نے فرعونی کی زیادتی دیکھی تو یہ چاہا کہ فرعونی کو پکڑ کر علیحدہ کریں ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہر روز ظالموں سے الجھتا ہے اور مجھ کو لڑواتا ہے رہ دیکھتے یہ کہ خون والے فرعون پاس فریاد لے گئے دیکھئے بس میں ثابت ہو اور مجھ سے کیا سلوک کریں ۔ 12