Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 26

سورة القصص

قَالَتۡ اِحۡدٰىہُمَا یٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡہُ ۫ اِنَّ خَیۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِیُّ الۡاَمِیۡنُ ﴿۲۶﴾

One of the women said, "O my father, hire him. Indeed, the best one you can hire is the strong and the trustworthy."

ان دونوں میں سے ایک نے کہا کہ ابا جی! آپ انہیں مزدوری پر رکھ لیجئے ، کیونکہ جنہیں آپ اجرت پر رکھیں ان میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو مضبوط اور امانتدار ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And said one of them: "O my father! Hire him! Verily, the best of men for you to hire is the strong, the trustworthy." One of the two daughters of the man said this, and it was said that she was the one who had walked behind Musa, peace be upon him. She said to her father: يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ (O my father! Hire him!) as a shepherd to look after the sheep. Umar, Ibn Abbas, Shurayh Al-Qadi, Abu Malik, Qatadah, Muhammad bin Ishaq and others said: "When she said: إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الاَْمِينُ (Verily, the best of men for you to hire is the strong, the trustworthy), her father said to her, `What do you know about that?' She said to him, `He lifted a rock which could only be lifted by ten men, and when I came back with him, I walked ahead of him, but he said to me, walk behind me, and if I get confused about the route, throw a pebble so that I will know which way to go."' Abdullah (Ibn Mas`ud) said, "The people who had the most discernment were three: Abu Bakr's intuition about Umar; the companion of Yusuf when he said, `Make his stay comfortable'; and the companion of Musa, when she said: يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الاْاَمِينُ (O my father! Hire him! Verily, the best of men for you to hire is the strong, the trustworthy)."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

261بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ باپ نے بچیوں سے پوچھا تمہیں کس طرح معلوم ہے کہ یہ طاقتور بھی ہے اور ایمان دار بھی، جس پر بچیوں نے بتلایا کہ جس کنویں سے پانی پلایا، اس پر اتنا بھاری پتھر رکھا ہوتا ہے کہ اسے اٹھانے کے لئے دس آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم نے دیکھا کہ اس شخص نے وہ پتھر اکیلے ہی اٹھا لیا اور پھر بعد میں رکھ دیا اسی طرح جب میں اس کو بلا کر ساتھ لا رہی تھی، تو چونکہ راستے کا علم مجھے ہی تھا، میں آگے آگے چل رہی تھی اور یہ پیچھے پیچھے لیکن ہوا سے میری چادر اڑ جاتی تھی تو اس شخص نے کہا تو پیچھے چل، میں آگے آگے چلتا ہوں تاکہ میری نگاہ تیرے جسم کے کسی حصے پر نہ پڑے۔ راستے کی نشان دہی کے لئے پیچھے سے پتھر کی کنکری مار دیا کر، واللہ اعلم (ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٦] حضرت شعیب کا کوئی لڑکا نہ تھا۔ بس دو لڑکیاں ہی لڑکیاں تھیں جنہیں اندر اور باہر دونوں طرف کے کام کرنا پڑتے تھے۔ لہذا شعیب پہلے اس جستجو میں تھے کہ کوئی شریف آدمی مل جائے تو اسے ملازم رکھ لیا جائے۔ حضرت موسیٰ کے چند روزہ قیام میں ہی گھر کے سب افراد نے حضرت موسیٰ کے متعلق یہ رائے قائم کرکے اس پر اتفاق کرلیا کہ اگر یہی پردیسی نوجوان ہمارے ہاں رہنا قبول کرلی تو یہ بہت مناسب رہے گا۔ چناچہ ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ اگر آپ کوئی آدمی ملازم رکھنا ہی چاہتے ہیں تو شاید اس سے بہتر آپ کو کوئی آدمی نہ مل سکے۔ کیونکہ یہ شخص نوجوان ہے اور طاقتور ہے۔ ہلکے اور بھاری سب کام کرسکتا ہے۔ دوسرے یہ امین بھی ہے۔ اور یہ باتیں اس لڑکی نے اپنے مشاہدہ کی بنا پر کہی تھیں۔ حضرت موسیٰ نے اکیلے وہ ڈول کنوئیں سے کھینچ لیا تھا۔ جسے دو آدمی بمشکل کھینچتے تھے۔ پھر وہ لڑکی جب انھیں گھر لانے کے لئے گئی تھی۔ تو اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ کس قدر باحیا، دیانت دار، خدا ترس اور امین آدمی ہے۔ ضمناً اس آیت یہ بھی معلوم ہوا کہ ملازمت کے لئے دو باتوں کو دیکھنا ضروری ہے ایک یہ کہ جس کام کے لئے کوئی شخص ملازم رکھا جارہا ہے۔ وہ اس کی اہلیت بھی رکھتا ہے یا نہیں۔ بالفاظ دیگر اس کام کا اسے پہلے سے کچھ علم اور تجربہ ہے ؟ اور اگر کوئی محنت والا کام ہے تو کیا اس کی جسمانی حالت اور قوت اتنی ہے کہ وہ اس کام کو بجا لاسکے۔ اور دوسرے یہ کہ وہ دیانتدار اور امین ہو۔ اور یہ دیانت و امانت دین سے بیزار اور خدا فراموش آدمیوں میں کبھی پیدا نہیں ہوسکتی۔ اب تعجب کی بات یہ ہے کہ جب کسی شخص نے کوئی نجی یا گھریلو ملازم رکھنا ہو تو وہ ان دونوں باتوں کو ملحوظ رکھتا ہے تو سرکاری ملازمتوں کے وقت صرف شرط اول یعنی اہلیت کو تو ملحوظ رکھا جاتا ہے لیکن دوسری شرط کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ اور غالباً اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ملازم رکھنے والے افسروں میں بھی یہ دوسری شرط مفقود ہوتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رشوت عام ہوجاتی ہے۔ جس کا تعلق ملازمین سے ہی ہوتا ہے۔ لوگوں کے حقوق غصب اور تلف ہوتے ہیں۔ ظالمانہ قسم کی حکومت قائم ہوجاتی ہے اور عوام کے لئے اتنی شکایات اور مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جن کا حل ناممکن ہوجاتا ہے۔ اور اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہوتی ہے کہ شرائط ملازمت میں سے دوری شرط دیانت و امانت کو درخور اعتناء سمجھا ہی نہیں جاتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا يٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ : ان دونوں میں سے ایک نے کہا، ابا جان ! آپ اسے مزدور رکھ لیں، تاکہ ہم عورتوں کو بکریاں چرانے کی مشقت سے رہائی مل جائے۔ ضروری نہیں کہ اس نے یہ بات موسیٰ (علیہ السلام) کی اس کے باپ سے پہلی ملاقات کے وقت ہی کہہ دی ہو۔ تین دن مہمان نوازی تو حق ہے، اس لیے غالب یہی ہے کہ اس دوران ان لڑکیوں اور ان کے والد نے موسیٰ (علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ کا اچھی طرح سے مشاہدہ کرلیا تو لڑکی نے اپنے باپ سے یہ بات کہی۔ اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْـتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ : تفسیر ابن کثیر میں ہے : ” عمر، ابن عباس، شریح قاضی، ابو مالک، قتادہ، محمد بن اسحاق اور کئی ایک نے فرمایا کہ اس کے والد نے پوچھا، تمہیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی ؟ اس نے کہا، اس نے وہ پتھر اٹھا لیا جو دس آدمیوں سے کم اٹھا نہیں سکتے اور جب میں اس کے ساتھ آئی تو اس کے آگے چل رہی تھی، اس نے مجھ سے کہا، میرے پیچھے چلی آؤ اور جہاں راستہ بدلنا ہو مجھے کنکری کے ساتھ اشارہ کر دو ، میں سمجھ جاؤں گا کس طرف جانا ہے۔ “ تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا، عمر اور ابن عباس (رض) کا قول ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔ [ ابن أبي حاتم : ١٦٨٤٣ ] دوسرے ائمہ کے اقوال بھی طبری (٢٧٦٠٩) یا ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ بیان کیے ہیں، مگر یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی نہیں، اس لیے اس کا ماخذ اسرائیلی روایات ہی ہے۔ 3 سب سے بہتر شخص جسے تم اجرت پر رکھو وہ ہے جو قوت والا اور امانت دار ہو۔ یہ ہے وہ قاعدہ جو کسی شخص کو ذمہ داری دیتے وقت ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک وقت میں یہ دونوں صفات بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہیں۔ کوئی شخص اگر کام کی اہلیت اور قوت رکھتا ہے تو امانت میں کمزور ہے اور اگر امین ہے تو قوت و اہلیت نہیں رکھتا۔ آج کل حکومتیں کسی عہدے پر مقرر کرنے سے پہلے امتحانات اور انٹرویو کے ذریعے سے اہلیت کا اندازہ تو کرتی ہیں مگر امانت کا نہیں، نتیجہ بےحساب بددیانتی اور خیانت ہے، جس نے مسلمان ملکوں کی معیشت اور معاشرت دونوں کا بیڑا غرق کردیا ہے۔ 3 اس بات سے اس لڑکی کی کمال فراست اور آدمیوں کی پہچان کا اندازہ ہوتا ہے۔ ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : ” لوگوں میں سب سے زیادہ فراست والے تین ہیں، ابوبکر (رض) کی فراست عمر (رض) کے بارے میں، عزیز مصر کی یوسف (علیہ السلام) کے متعلق فراست، جب اس نے بیوی سے کہا : (اَکْرِمِیْ مَثْواہ) [ یوسف : ٢١ ] ” اس کی رہائش باعزت رکھ۔ “ اور موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ والی خاتون کی فراست کہ جس نے کہا : (يٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ ۡ اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْـتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ ) [ القصص : ٢٦ ] ” اے میرے باپ ! اسے اجرت پر رکھ لے، کیونکہ سب سے بہتر شخص جسے تو اجرت پر رکھے طاقت ور، امانت دار ہی ہے۔ “ [ ابن أبي حاتم : ١٦٨٣٨ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

إِنَّ خَيْرَ‌ مَنِ اسْتَأْجَرْ‌تَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ (The best man you hire is the one who is strong, trustworthy - 28:26), One of the daughters of Sayyidna Shu&aib (علیہ السلام) pleaded to her father that as he needed the services of a man to help him in his. daily work at home, he might consider hiring him for this purpose. In support of her suggestion she said further that two qualities are required in a servant. One, that he should be strong, and the second, that he should be trustworthy. The girl pointed out that she had seen his strength when he removed the stone from the mouth of the well, and his integrity when he made her walk behind him.

اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْـتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ ، یعنی شعیب (علیہ السلام) کی ایک صاحبزادی نے اپنے والد سے عرض کیا کہ آپ کو گھر کے کاموں کے لئے ملازم کی ضرورت ہے آپ ان کو نوکر رکھ لیجئے کیونکہ ملازم میں دو صفتیں ہونا چاہئیں ایک کام کی قوت و صلاحیت دوسرے امانتداری۔ ہمیں ان کے پتھر اٹھا کر پانی پلانے سے ان کی قوت وقدرت کا، اور راستہ میں لڑکی کو اپنے پیچھے کردینے سے امانتداری کا تجربہ ہوچکا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَتْ اِحْدٰىہُمَا يٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِرْہُ۝ ٠ۡاِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْـتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ۝ ٢٦ أجير والأجير : فعیل بمعنی فاعل أو مفاعل، والاستئجارُ : طلب الشیء بالأجرة، ثم يعبّر به عن تناوله بالأجرة، نحو : الاستیجاب في استعارته الإيجاب، وعلی هذا قوله تعالی: اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ [ القصص/ 26] . الاجیرہ بروزن فعیل بمعنی فاعل یا مفاعل ہے یعنی معاوضہ یا اجرت کا پر کام کرنے والا ۔ الاستیجار کے اصل معنی کسی چیز کو اجرت پر طلب کرنا پھر یہ اجرت پر رکھ لینے کے معنی میں بولا جاتا ہے جس طرح کہ استیجاب ( استفعال ) بمعنی اجاب آجاتا ہے چناچہ آیت کریمہ : { اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ } [ القصص : 26] اسے اجرت پر ملازم رکھ لیجئے کیونکہ بہتر ملازم جو آپ رکھیں وہ ہے جو توانا اور امانت دار ہو میں ( استئجار کا لفظ ) ملازم رکھنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔ قوی القُوَّةُ تستعمل تارة في معنی القدرة نحو قوله تعالی: خُذُوا ما آتَيْناكُمْ بِقُوَّةٍ [ البقرة/ 63] ( ق وو ) القوۃ یہ کبھی قدرت کے معنی میں اسرعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ خُذُوا ما آتَيْناكُمْ بِقُوَّةٍ [ البقرة/ 63] اور حکم دیا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی اس کو زور سے پکڑے رہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٦) اس چھوٹی لڑکی نے کہا کہ اباجان ان کو ملازم رکھ لیجیے کیوں کہ اچھا نوکر وہ ہے جو مضبوط اور امانت دار بھی ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٦ (قَالَتْ اِحْدٰٹہُمَا یٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِرْہُز) ” اِسْتَاْجَرَ ” اج ر “ مادہ سے باب استفعال ہے۔ ” مُسْتأجِر “ وہ شخص ہے جو کسی کو اجرت پر ملازم رکھے ‘ جبکہ اجرت پر کام کرنے والے کو عربی میں ” آجر “ یا ” اَجِیر “ کہا جاتا ہے (ہمارے ہاں عام طور پر آجر کے معنی اجرت دینے والا یا ملازم رکھنے والا کے لیے جاتے ہیں جو غلط ہیں) ۔ بہر حال عربی میں یہ دونوں الفاظ ہم معنی ہیں۔ ” اَجِیر “ صفت مشبہ ہے اور ” آجر “ اسم الفاعل ۔ (اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ ) ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت کی یہ دونوں خصوصیات ان بچیوں کے مشاہدے میں آچکی تھیں۔ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ جب ان کی بکریوں کو پانی پلانے کے لیے آپ ( علیہ السلام) کنویں کی طرف بڑھے تھے تو آپ کا ڈیل ڈول دیکھ کر کسی چرواہے نے آپ ( علیہ السلام) سے الجھنے کی جرأت نہیں کی تھی اور سب نے بلا چون و چرا آپ ( علیہ السلام) کو پانی پلانے کا موقع دے دیا تھا۔ اس کے علاوہ ان بچیوں کو آپ ( علیہ السلام) کے شریفانہ رویہ سے آپ ( علیہ السلام) کی امانت داری کا تجربہ بھی ہوچکا تھا۔ کسی مردکاسامنا کرتے ہوئے ایک شریف عورت فطری طور پر اس کی نظر کے بارے میں بہت حساسّ ہوتی ہے۔ آپ ( علیہ السلام) نے چونکہ لڑکیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا ‘ اس لیے انہوں نے آپ ( علیہ السلام) کی امانتداری کی گواہی دی کہ جس شخص کی نگاہ میں خیانت نہیں ہے وہ کسی اور معاملے میں بھی خیانت نہیں کرے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

37 It is not necessary that the girl said this to her father in his very first meeting with Moses. Most probably her father made the traveller stay with him fo a couple of days, and the girl counseled him thus during that time. What she meant by this counsel was: "Father, you are old, and therefore, we girls have to go out to perfom outdoor duties. We have no brother either, who could take up these chores. You thay, therefore, employ this man as a servant: he is strong and will be able to face all kind of rigours, and he is also trustworthy. He helped us only due to his noble nature when he found us standing helpless, but he never raised his eyes at us."

سورة القصص حاشیہ نمبر : 37 ضروری نہیں کہ یہ بات لڑکی نے اپنے باپ سے حضرت موسی کی پہلی ملاقات کے وقت ہی کہہ دی ہو ۔ اغلب یہ ہے کہ اس کے والد نے اجنبی مسافر کو ایک دو روز اپنے پاس ٹھہرا لیا ہوگا اور اس دوران میں کسی وقت بیٹی نے باپ کو یہ مشورہ دیا ہوگا ، اس مشورے کا مطلب یہ تھا کہ آپ کی کبر سنی کے باعث مجبورا ہم لڑکیوں کو کام کے لیے نکلنا پڑتا ہے ۔ ہمارا کوئی بھائی نہیں ہے کہ باہر کے کام سنبھالے ، آپ اس شخص کو ملازم رکھ لیں ، مضبوط آدمی ہے ، ہر طرح کی مشقت کرے گا ، اور بھرسے کے قابل آدمی ہے ، محض اپنی شرافت کی بنا پر اس نے ہم عورتوں کو بے بس کھڑا دیکھ کر ہماری مدد کی ، اور کبھی ہماری طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

17: یہ وہی خاتون تھیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بلانے گئی تھیں، اِن کا نام صفورا تھا، اور پھر انہی سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نکاح ہوا، گھر میں ایک ایسے مرد کی ضرورت تھی جو گھر کے باہر کے کاموں کی دیکھ بھال کرے، اور عورتوں کو بکریاں چرانے اور انہیں پانی پلانے کی ضرورت نہ پڑے، اس لئے اُنہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ آپ اِنہیں اس کام پر رکھ لیں اور اس کی باقاعدہ اجرت طے کرلیں، اور خاتون کا یہ جملہ کہ : ’’آپ کسی سے اجرت پر کام لیں تو اِس کے لئے بہترین شخص وہ ہے جو طاقتور بھی ہو، امانت دار بھی۔‘‘ ان کی کمال عقل مندی کا ثبوت ہے، اﷲ تعالیٰ نے ان کا یہ جملہ نقل فرماکر ملازمت کے فیصلے کے لئے بہترین معیار عطا فرمادیا ہے کہ ایک اچھے ملازم میں یہی دو بنیادی خصوصیات ہونی چاہئیں، ایک یہ کہ جو فرائض اُس کے سپرد کئے گئے ہیں، وہ اُن کو بجالانے کی جسمانی اور ذہنی طاقت رکھتا ہو، اور دوسرے یہ کہ امانت دار ہو۔ خاتون کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان دونوں باتوں کا تجربہ ہوچکا تھا، پانی پلانے کے لئے اُنہوں نے جو طریقہ اختیار فرمایا کہ ایک نہایت بھاری پتھر کو ہٹا کر کنویں سے پانی نکالا، یہ اُن کی جسمانی اور ذہنی صلاحیت کی دلیل تھی، اور جہاں تک امانت داری کا تعلق ہے، اُس کا تجربہ خاتون کو اس طرح ہوا کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام خاتون کے ساتھ چلنے لگے تو اُن سے کہا کہ آپ میرے پیچھے رہیں، اور راستہ بتاتی جائیں، تاکہ اُن کی شرم و حیا اور عفت و عصمت کا پورا احترام ہو۔ اس قسم کی امانت چونکہ کم دیکھنے میں آتی ہے، اس لئے وہ سمجھ گئیں کہ امانت و دیانت ان کا خاص وصف ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:26) یابت۔ اے باپ۔ اب پر نداء کے وقت ت زیادہ کردیتے ہیں۔ استاجرہ : استاجر فعل امر۔ واحد مذکر حاضر۔ استیجار (استفعال) اجر مادہ۔ مزدوری پر نوکر رکھنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب تو اس کو اجرت پر نوکر رکھ لے۔ ان ۔۔ الامین۔ بیشک بہتر آدمی جس کو آپ نوکر رکھیں وہ ہے جو طاقت ور بھی ہو اور دیانت دار بھی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

8 ۔ اور یہ دونوں صفات اس شخص میں پائی جاتی ہیں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : اور دیکھا ڈول ڈالنے سے اور امانت دیکھی بےطمع ہونے سے (موضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 26 تا 28 : احدی (ایک) یابت (اے میرے ابا جان) ‘ استاجر (اجرت پر رکھ لے) ‘ انکح ( میں نکاح کرتا ہوں) ھتین (یہ دونوں) ثمنی (آٹھ) حجج ( سال۔ برس) اشق (میں مشکل میں ڈالتا ہوں) ایما (جو بھی) الاجلین (اجل) مدتیں ‘ لاعدوان (کوئی جبر یا زبردستی نہ ہو) ‘ وکیل ( گواہ۔ کام بنانے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 26 تا 28 : جب حضرت موسیٰ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے گھر پہنچے تو ان کی مہمان نوازی کی گئی۔ کچھ دنوں کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دونوں بیٹیوں میں سے ایک نے کہا کہ اے ابا جان ! اگر ان کو بکریوں کی دیکھ بھال اور گھر کی حفاظت کے لئے رکھ لیاجائے تو بہتر ہوگا کیونکہ چند دنوں کے تجربہ سے ثابت ہوگیا ہے کہ ان میں وہ صلاحیت موجود ہے جو کسی محنت پر مقررکئے جانے والے شخص میں ہونی چاہیے یعنی طاقت و قوت اور دیانت وامانت۔ یہی دو باتیں ایسی ہیں جن پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو ایک ایسے ہی آدمی کی ضرورت تھی اور حضرت موسیٰ بھی اپنے ٹھکانے کی تلاش میں تھے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ اگر تم آٹھ سال تک میرے ساتھ رہنے کا وعدہ کرتے ہو تو میں ان دونوں لڑکیوں میں سے کسی ایک کا نکاح تم سے کروں گا۔ لیکن اگر تمآٹھ سال کے بجائے دس سال تک قیام کرو تو یہ متہاری طرف سے ایک نیکی ہوگی۔ حضرت موسیٰ نے عرض کیا کہ میں تیار ہوں لیکن ان دونوں مدتوں میں سے کسی ایک کو پورا کرنا میرے اختیار میں ہوگا میں آٹھ سال تک آپ کی خدمت کروں یا دس سال تک۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) بھی تیارہو گئے اور اس طرح حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بڑی بیٹی جس کا نام توریت میں صفورا آتا ہے ان سے نکاح کردیا۔ اس طرح شعیب (علیہ السلام) کو داماد مل گیا اور ان کے گھر کے کام کاج اور خاص طور پر بکریوں کو چرانے کی خدمات پر بھی معمورہو گئے۔ چند باتوں کی وضاحت پیش ہے جو ان آیتوں کو پوری طرح سمجھنے میں مدد گار ہوں گی۔ (1) علماء نے اس پر بحث کی ہے کہ کیا لڑکی کا مہر خدمت کو بھی قرار دیا جاسکتا ہے ؟ جواب یہ ہے کہ یہ سب باتیں نکاح سے پہلے کی ہیں جیسا کہ ایسے موقعوں پر ابتدائی بات چیت کی جاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ شریعت مصطفوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اس کی اجازت نہیں ہے کہ خدمت کو مہر قراردے جائے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ بکریاں ان لڑکیوں کی ملکیت ہوں جس کا پورا فائدہ ان لڑکیوں کو پہنچتا ہو اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی شریعت میں اس کی اجازت بھی موجود ہو۔ (2) حضرت موسیٰ کو جو خدمت سپرد کی گئی تھی وہ بکریوں کو چرانے اور ان کو پانی پلانے پر تھی اس سلسلہ میں عرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ نظام ہے کہ ہر جانور کے گوشت اور قریب رہنے کے پورے پورے اثرات انسان پر مرتب ہوتے ہیں۔ اسی لئے کسی نبی نے کتے نہیں پالے بلکہ بکریوں کو پالا اور چرایا ہے کیونکہ بکرے اور بکری میں ایک عاجزی اور انکساری موجود ہوتی ہے جو اللہ کو بہت پسند ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر نبی نے بکریوں کو چرایا ہے چناچہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ ” اللہ نے کوئی ایسا پیغمبر نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں میں نے بھی مکہ والوں کی بکریاں چند قیراط (اس زمانہ کا سکہ) کی مزدوری پرچرائی ہیں “ (بخاری شریف) (3) حضرت موسیٰ نے ابتدا میں تو یہ کہہ دیا تھا کہ آٹھ سال یا دس سال دونوں مدتوں میں سے کسی ایک مدت کو پورا کرنے میں مجھے اختیار حاصل ہوگا ۔ لیکن معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے پورے دس سال تک حضرت شیعب (علیہ السلام) اور ان کے گھرانے کی خدمات سرانجام دی تھیں۔ (4) دس سال تک حضرت موسیٰ کا حضرت شعیب ؐ کی خدمت کرنا ممکن ہے قدرت کے نظام کا یہ حصہ ہو کہ اللہ نے حضرت شعیب ؐ کو ان کی تعلیم و تربیت پر مقرر فرمایا ہو۔ کیونکہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خدمت میں پہنچے ہیں تو قرآن کریم کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ان کی عمر مباک تیس سال کی تھی اور جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ واپس مصر تشریف لے جارہے ہیں تو ان کی عمر مبارک چالیس کی ہوگئی تھی ۔ اسی عمر میں آپ کو وادی مقدس میں اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بنایا اور آپ کو معجزات دیئے گئے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگیوں میں یہ بھی ا کی مشابہت ہے کہ کس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چالیس سال کی عمر میں نعمت نبوت و رسالت سے نوازا گیا تھا اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی چالیس سال کی عمر میں نبی اور رسول بنایا گیا تھا اور اس طرح نبوت و رسالت سے پہلے ان کے ذہن و فکر کی تربیت حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ذمے فرمائی گئی ہو۔ (5) ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب بھی فریقین میں کوئی معاہدہ ہو تو وہ بالکل صاف ستھرا اور واضح طریقہ پر ہونا چاہیے تاکہ آگے چل کر مسائل پیدانہ ہوں اسی لئے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بھی صاف صاف بات فرمائی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب بھی واضح تھا کہ میں آٹھ سال خدمت کروں یا دس سال مجھے کسی مدت پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ البتہ میں پوری دیانت و امانت سے اپنا کام کروں گا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اور ان میں دونوں صفتیں ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کا شعیب (علیہ السلام) کے گھر جانا اور شعیب (علیہ السلام) کا انہیں گھر داماد بنانا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نہایت بوڑھے اور ضعیف ہوچکے تھے جس بناء پر ان کی بچیاں ان کی بھیڑ بکریوں کی نگرانی کرتی تھیں۔ ان کی برادری میں کوئی ایسا حیا دار جوان نہ تھا جس پر اعتماد کیا جاسکے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب مالی لحاظ سے کمزور ہوں جس وجہ سے ملازم رکھنے کی گنجائش نہ ہو۔ جونہی موسیٰ (علیہ السلام) کی صورت میں انھیں ایک جوان میسر آیا جو خود بھی ضرورت مند تھا اس لیے اسے گھریلو ملازم رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو موسیٰ (علیہ السلام) کی آمد کا اشارہ مل چکا ہو۔ تاہم بظاہر واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بیٹیوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حیا اور ان کی طاقت کا اس بات سے اندازہ کیا کہ کنویں کا ڈول جسے کئی آدمی مل کر کھینچنے تھے، موسیٰ (علیہ السلام) نے اکیلے ہی کھینچ کر ان کی بکریوں کو پانی پلایا۔ اس بات سے اندازہ کرتے ہوئے دو بیٹیوں میں سے ایک بیٹی نے والد سے درخواست کی کہ ہمیں صالح کردار ایک ملازم کی ضرورت ہے کیوں نہ ہو ابا جان اس شخص کو اپنے ہاں ملازم رکھ لیا جائے یہ شرم و حیا کے اعتبار سے امانتدار اور صحت کے لحاظ سے طاقتور ہے۔ قرآن مجید نے بچیوں کی عفت اور حیا کے پیش نظر وضاحت نہیں فرمائی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو گھر ملازم رکھنے کے لیے کس بچی نے سفارش کی تھی حالانکہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات اس بچی نے کہی ہوگی جو موسیٰ (علیہ السلام) کو بلانے گئی تھی۔ حضرت شعیب نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے فرمایا میں چاہتا ہوں دو میں سے ایک بیٹی کا آپ سے نکاح کردیا جائے لیکن شرط یہ ہے کہ حق مہر کے طور پر تو آٹھ یا دس سال میرے ہاں ملازمت کرے میں تجھ پر کوئی سختی نہیں کروں گا۔ انشاء اللہ تو میرا رویہ انتہائی صالح لوگوں جیسا پائے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) پہلے ہی چاہتے تھے کہ مجھے کوئی اچھا ٹھکانہ مل جائے اس لیے انھوں نے کہا کہ مجھے یہ بات منظور ہے البتہ یہ میری مرضی پر منحصر ہوگا کہ میں آٹھ سال کے بعد مزید دو سال آپ کی خدمت میں رہوں یا آٹھ سال پورے ہونے پر آپ سے فراغت چا ہوں۔ ہاں ! اگلے سال مدّت کے معاملہ میں مجھ پر کوئی جبر نہیں ہونا چاہیے۔ جو میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ طے پایا ہے اللہ ہی اس پر نگران ہے۔ لہٰذا وقت کے پیغمبر حضرت شعیب (علیہ السلام) اور مستقبل کے پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی ذمّہ داری کا آغاز کیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سسر حضرت شعیب (علیہ السلام) کے بارے میں کچھ لوگوں کا اصرار ہے کہ وہ نبی نہیں تھے، حالانکہ ان کے پاس اس بات کی نفی کرنے کے لیے کوئی ٹھوس دلائل موجود نہیں۔ گو اس معاملہ میں دونوں طرف سے قطعی دلائل نہیں پائے جاتے تاہم یہ بات قابل غور ہے۔ جس شخصیت کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی طرف نبی بنا کر بھیجنا تھا اسے عام آدم کی بجائے خاص شخصیت کے ہاں رکھنا کہیں بہتر تھا۔ قرآن مجید کے الفاظ سے واضح طور پر یہ معلوم ہو رہا ہے کہ اس معاہدہ کے ساتھ یا کچھ دنوں کے بعد ہی حضرت شعیب (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے اپنی بیٹی کا نکاح کردیا تاکہ وہ گھر کے فرد کی حیثیت سے رہیں اور پردہ کے معاملہ میں کوئی دقّت پیش نہ آئے۔ اس بات سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے جونہی بیٹی کے لیے نیک رشتہ میسر ہو تو آدمی کو اس فرض سے سبکدوش ہونے کی جلد کوشش کرنی چاہیے۔ باحیا نوجوان کو خود رشتہ کی پیشکش کرنے میں بھی کوئی حرج اور غیرت کے منافی بات نہیں ہے۔ اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ضروری نہیں کہ حق مہر جائیداد یا روپے کی شکل میں ہو۔ تاہم حق مہر میں داماد کی مالی حیثیت کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ حق مہر کی حیثیت : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چند صحابہ (رض) میں تشریف فرما تھے ایک عورت نے (اپنے حالات سے مجبور ہو کر) اپنے آپ کو نکاح کے لیے آپ کی خدمت میں پیش کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے۔ اتنے میں ایک شخص عرض کرنے لگا اگر آپ آمادہ نہیں تو میں اس عورت کے ساتھ نکاح کرنے کے لیے تیار ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ تیرے پاس حق مہر کے لیے کچھ ہے ؟ اس نے عرض کیا یہ چادر جو میں نے لپیٹ رکھی ہے اس کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں۔ فرمایا کہ چادر اپنے پاس رکھو اور حق مہر کے لیے لوہے کی انگوٹھی ہی لے آؤ۔ کوشش کے باوجود اسے انگوٹھی بھی میسر نہ ہوسکی وہ خالی ہاتھ واپس آیا۔ آپ پوچھتے ہیں کہ تجھے قرآن مجید یاد ہے ؟ تو اس نے عرض کی کہ مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ سورتیں حق مہر کے طور پر اپنی بیوی کو یاد کروا دینا۔ [ بخاری : کتاب النکاح ] تین کاموں میں جلدی کرنا چاہیے : (عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ أَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَہُ یَا عَلِیُّ ثَلاَثٌ لاَ تُؤَخِّرْہَا الصَّلاَۃُ إِذَا آنَتْ وَالْجَنَازۃُ إِذَا حَضَرَتْ وَالأَیِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَہَا کُفْؤًا) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی الْوَقْتِ الأَوَّلِ مِنَ الْفَضْلِ ] ” حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں۔ بیشک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کہا اے علی تین کاموں میں تاخیر نہیں کرنی۔ جب نماز کا وقت ہوجائے، جب جنازہ حاضر ہو اور جب ہم پلہ رشتہ میسر آجائے۔ “ مسائل ١۔ ملازم پر سختی نہیں کرنا چاہیے۔ ٢۔ معاہدہ کی پاسداری کرنا فریقین پر فرض ہے۔ ٣۔ سُسر کو داماد اور داماد کو سسر کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی کار ساز ہے اسی پر توکل کرنا چاہیے : ١۔ اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے، بس تم اس کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (الانعام : ١٠٢) ٢۔ بیشک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہی ہر چیز کا کارساز ہے۔ (ہود : ١٢) ٣۔ اللہ ہر چیز کا قادر ہے اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (الزمر : ٤١) ٤۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے اور وہی کافی ہے کارساز۔ (النساء : ١٣٢) ٥۔ میرے بندوں پر شیطان کا داؤ پیچ نہیں چلے گا۔ اللہ اپنے بندوں کے لیے کار ساز ہے۔ (بنی اسرائیل : ٦٥) ٦۔ وہ مشرق ومغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اسی کو کار سازمانو۔ (المزمل : ٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب منظر پر ایک نہایت ہی سلیم الفطرت اور عفیف عورت کی آواز آتی ہے قالت احدھما ۔۔۔۔۔۔ القوی الامین (26) ان دونوں بہنوں کو بھیڑ بکریاں چرانا پڑتی تھیں اور پانی پلاتے وقت ان کو مردوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور ان کو مردوں سے واسطہ پڑتا تھا اور ان سے ٹکرانا پڑتا تھا ، جس طرح ہر اس عورت کو ایسے حالات درپیش ہوتے رہتے ہیں جو مردوں والا کام کرتی ہے۔ ان دونوں بہنوں کو ہر وقت اس کام میں اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ان کی خواہش یہ تھی کہ وہ امور خانہ داری تک محدود ہوجائیں اور ایک پاک دامن عفت مآب ” زن خانہ “ کی طرح زندگی بسر کرنے کا موقع ملے اور انہیں چراگاہوں اور گھاٹوں پر غیر مردوں کے ساتھ اختلاط پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ پاک دامن ، پاک فطرت اور سلیم الفطرت عورتوں کی روش یہی ہوتی ہے کہ ان کو مردوں کے ساتھ مقابلہ اور مزاحمت کرنا پسند نہیں آتا اور اس قسم کے اختلاط اور مزاحمت کی وجہ سے عورتوں کے اندر جو ہلکا پن پیدا ہوجاتا اسے کوئی سلیم الفطرت عورت پسند نہیں کرتی۔ حضرت موسیٰ نوجوان ، مسافر اور غریب الوطن ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قوی اور امین بھی ہیں۔ اس عورت نے دیکھ لیا تھا کہ ان کی قوت اور شخصیت کو دیکھ کر تمام چرواہے سہم گئے تھے۔ انہوں نے موسیٰ کو فوراً راستہ دے دیا تھا اور ان دو مستورات کے جانوروں نے پانی پی لیا تھا۔ حالانکہ حضرت موسیٰ غریب الوطن تھے اور غریب الوطن اگرچہ کوئی بڑا آدمی ہو۔ کمزور سمجھا جاتا ہے۔ اور جب یہ عورت موسیٰ کو دعوت دینے گئی تھی تو اس نے دیکھ لیا تھا کہ پاک نظر اور پاک زبان رکھتے ہیں۔ چناچہ یہ عورت باپ کو مشورہ دیتی ہے کہ ابو آپ اس شخص سے اجارہ کرلیں تاکہ وہ اور اس کی بہن بکریاں چرانے کے عذاب سے نجات پالیں اور اس طرح ان کو وہ کام نہ کرنا پڑے جو مرد کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ مضبوط آدمی ہیں ، امین ہیں۔ اس لیے کہ جو شخص کسی دوشیزہ کی عفت کا امین ثابت ہوجائے ، وہ تمام امور پر امین ثابت ہوجاتا ہے۔ یہ اپنے اس مشورے میں بھی بالکل واضح سوچ رکھتی ہے اور صاف صاف بات کر رہی ہے اسے یہ خطرہ نہیں ہے کہ اس پر کوئی بدظنی کرے گا کیونکہ اس کی دل کی کتاب صاف ہے۔ اس کا احساس و شعور پاک ہے۔ اس لیے اسے کسی محاسبے سے ڈر نہیں ہے۔ چناچہ وہ اپنی اس تجویز میں شف شف نہیں کرتی۔ اور نہایت ہی صاف الفاظ میں واضح تجویز دیتی ہے۔ یہاں ان روایات کو دہرانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے جو مفسرین نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوت کے بارے میں نقل کی ہیں ، مثلا یہ کہ جس کنویں سے چرواہے پانی پلاتے تھے ، اس پر ایک بڑا پتھر رکھا ہوا ہوتا تھا جسے بیس ، چالیس یا اس سے بھی کم و بیش افراد اٹھا سکتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کریم کے سباق سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ کنویں کے اوپر پتھر ہوتا تھا بلکہ دوسرے چرواہے پانی پلا چکتے تو بعد میں یہ دو عورتیں پانی پلاتیں۔ حضرت موسیٰ نے ان چرواہوں کو ہٹایا اور ان عورتوں کے مویشیوں کو پانی پلا دیا یا دوسرے چرواہوں کے ساتھ ساتھ پانی پلا دیا۔ نیز یہاں ان روایات کے دہرانے کی بھی ضرورت نہیں ہے جن میں ان کی دیانت و امانت پر یہ دلیل دی گئی ہے۔ جس میں انہوں نے اس دوشیزہ سے کہا کہ تم میرے پیچھے چلو اور پیچھے سے مجھے راستہ بتلاتی چلو ، اس خوف سے کہ کہیں ان کی نظر اس عورت پر نہ پڑجائے۔ یا یہ کہ حضرت موسیٰ نے اس لڑکی کو پیچھے چلنے کا اس وقت کہا جب وہ آگے چل رہی تھی تو ہوا نے اس کے کپڑوں کو ٹخنوں سے اوپر کردیا۔ یہ محض تکلفات ہیں اور ان کے ذریعہ سے ایسے شکوک کو دور کرنے کی سعی کی گئی ہے جن کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ بذات خود عفیف النظر تھے ، پاک احساسات رکھتے تھے اور یہ عورت بھی پاک دامن تھی ، عفت اور امانت جہاں ہو ان کے ثبوت کے لئے تکلفات کی ضرورت نہیں ہے خصوصاً مرد اور عورت کی ملاقات کے وقت کیونکہ عفت وہ پختہ ملکہ ہے جو بغیر کسی تکلف اور بناوٹ کے حصہ کردار ہوتا ہے۔ اس بوڑھے نے اپنی بیٹی کی اس تجویز کو قبول کرلیا۔ انہوں نے محسوس کرلیا کہ لڑکی اور موسیٰ دونوں کے اندر خواہش اور اعتماد پایا جاتا ہے اور فطری میلان موجود ہے۔ اور یہ دونوں مل کر ایک صالح خاندان کی بنیاد ڈال سکتے ہیں۔ جب کسی نوجوان میں قوت اور عفت جمع ہوجائیں تو فطرتاً ہر سلیم الفطرت دوشیزہ ایسے شخص کو زندگی کا ساتھی بنانے پر راضی ہوتی ہے۔ جو خود پاک دامن اور صالح ہو۔ اس لیے اس بوڑھے نے حضرت موسیٰ کو پیش کش کردی کہ وہ اپنی بیٹیوں میں سے ایک تمہارے نکاح میں دے سکتے ہیں۔ اگر تم آٹھ سال تک میری خدمت کرو اور میرے مویشی چراؤ اور اگر بطور احسان تم دس سال تک یہ خدمت کرو تو تمہاری طرف سے احسان ہوگا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

فائدہ رابعہ : شیخ مدین کی ایک لڑکی نے جو کہا کہ اے ابا جان اس شخص کو اپنے یہاں اجرت پر رکھ لیجیے اور ساتھ یوں بھی کہا (اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ ) (کہ جسے آپ مزدوری پر رکھیں ان میں بہتر آدمی وہ ہے جو قوی بھی ہو امین بھی ہو) اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تعریف تو ہے ہی کہ یہ شخص قوت والا ہے اور امانتدار ہے ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ اپنے کام کے لیے ایسے شخص کو مزدور رکھا جائے جو اس کام کو کرسکتا ہو جس کے لیے ملازم رکھا جا رہا ہے اور ہر عمل کی قوت علیحدہ ہوتی ہے کسی کو پڑھانے کی قوت و صلاحیت ہوتی ہے۔ جس کسی کو محاسب رکھا جائے وہ حساب دان ہونا چاہیے۔ جس کسی سے عمارت بنوائے، وہ اس کا اہل ہونا چاہیے۔ خواہ معمار ہو خواہ سیمنٹ بنانے والا ہو خواہ اینٹیں اٹھا کردینے والا ہو لفظ قوی، جسمانی، قلبی، دماغی سب قوتوں کو شامل ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ جسے کسی کام پر رکھا جائے وہ امانتدار بھی ہونا چاہیے اس میں ہر قسم کی امانت داخل ہے۔ مال میں بھی خیانت نہ کرے، وقت بھی پورا دے اور جس کے یہاں کام پر لگے اس کے اہل و عیال کے بارے میں بھی بد نفسی سے بد نظری کے خیال سے پاک اور صاف رہے۔ آج کل لوگوں میں خیانت بہت ہے جب کوئی شخص مزدوروں کو کام پر لاتا ہے تو جب تک سامنے رہتا ہے اچھی طرح لگ کر کام کرتے ہیں اور جہاں وہ نظروں سے اوجھل ہوا باتیں بنانے لگے۔ عموماً دفتروں میں کام کرنے والے اور اسکولوں میں پڑھانے والے تنخواہ پوری لے لیتے ہیں اور کام آدھا تہائی کرتے ہیں۔ آپس میں مل کر نمبر وار ایک شخص پورے مہینہ غیر حاضری کرتا ہے اور رجسٹر حاضری میں برابر لکھی جاتی ہے یہ سب خیانت ہے۔ جن لوگوں کو حکومت کے محکموں میں یا دوسرے اداروں میں ملازم رکھنے کا اختیار دیا گیا ہو ان لوگوں پر لازم ہے کہ جسے ملازم رکھیں اس کی صلاحیت بھی دیکھیں اور امانتدار ہونے کا بھی پتہ چلائیں محض ڈگریاں دیکھنے پر اکتفا نہ کریں اور نہ رشوت لے کر کسی کو ملازم رکھیں اور نہ قرابت داری کو ملازم رکھنے کا سبب بنائیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

26:۔ دونوں بہنوں میں سے ایک بولی، اور یہ وہی تھی جو انہیں بلانے گئی تھی، ابا جان ! اس نوجوان کو آپ ملازم رکھ لیں جو ریوڑ کو چرانے، اسے پانی پلانے اور اس کی دیکھ بھال کا کام کیا کرے، کیونکہ آپ کو ملازم ایسا چاہیے جو طاقت ور بھی ہو اور نیک بھی اور اس نوجوان میں یہ دونوں صفتیں موجود ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوت کا اندازہ اس نے اس سے لگایا کہ انہوں نے تنہا ڈول کھینچ لیا جو کئی آدمی مل کر کھینچ سکتے تھے اور ان کی امانت اور نیکی کا اندازہ اس سے لگایا جب وہ انہٰں ساتھ لے کر گھر آرہی تھی تو انہوں نے اسے کہا تھا تم میرے پیچھے پیچھے چلو تاکہ تمہارے بدن پر میری نگاہ نہ پڑے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

26۔ ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے کہا اے باپ آپ اس شخص کو نوکر رکھ لیجئے کیونکہ اچھا اور بہتر نوکر جس کو آپ نوکر رکھناچا ہیں وہ شخص ہے جو طاقت دار اور امانت دار ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں زور دیکھاڈول نکالنے سے اور امانت دار دیکھا بےطمع ہونے سے نہ کہتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کو صلہ دینا چاہا ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے مگر موسیٰ (علیہ السلام) نے انکار کیا کہ میں ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتا ہوں جس میں بھلے کام پر کوئی اجرت نہیں لیا کرتے ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا میں بھی ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتا ہوں جس میں کسی معمولی سے معمولی خدمت کو بھی نظر انداز کرنا مناسب نہیں خیال کرتے۔