Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 31

سورة القصص

وَ اَنۡ اَلۡقِ عَصَاکَ ؕ فَلَمَّا رَاٰہَا تَہۡتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدۡبِرًا وَّ لَمۡ یُعَقِّبۡ ؕ یٰمُوۡسٰۤی اَقۡبِلۡ وَ لَا تَخَفۡ ۟ اِنَّکَ مِنَ الۡاٰمِنِیۡنَ ﴿۳۱﴾

And [he was told], "Throw down your staff." But when he saw it writhing as if it was a snake, he turned in flight and did not return. [ Allah said], "O Moses, approach and fear not. Indeed, you are of the secure.

اور یہ ( بھی آواز آئی ) کہ اپنی لاٹھی ڈال دے ۔ پھر جب اس نے دیکھا کہ وہ سانپ کی طرح پھن پھنا رہی ہے تو پیٹھ پھیر کر واپس ہوگئے اور مڑ کر رُخ بھی نہ کیا ، ہم نے کہا اے موسٰی! آگے آ ڈر مت ، یقیناً تو ہر طرح امن والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَأَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ... And throw your stick! `the stick that is in your hand' -- as was stated in the Ayah, وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يمُوسَى قَالَ هِىَ عَصَاىَ أَتَوَكَّوُا عَلَيْهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلَى غَنَمِى وَلِىَ فِيهَا مَأَرِبُ أُخْرَى "And what is that in your right hand, O Musa!" He said: "This is my stick, whereon I lean, and wherewith I beat down branches for my sheep, and wherein I find other uses." (20:17-18) The meaning is: `this stick, which you know so well;' قَالَ أَلْقِهَا يمُوسَى فَأَلْقَـهَا فَإِذَا هِىَ حَيَّةٌ تَسْعَى "Cast it down, O Musa!" He cast it down, and behold! It was a snake, moving quickly. (20:19-20) Musa knew that the One Who was speaking to him was the One Who merely says to a thing, "Be!" and it is, as we have already stated in (the explanation of) Surah Ta Ha. And here Allah says: ... فَلَمَّا رَاهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّى مُدْبِرًا ... ... وَلَمْ يُعَقِّبْ يَا مُوسَى أَقْبِلْ وَلاَ تَخَفْ إِنَّكَ مِنَ الاْمِنِينَ But when he saw it moving as if it were a snake, he turned in flight, It moved so quickly, even though it was so big, and its mouth was so huge, with its jaws snapping. It swallowed every rock it passed, and every rock that fell into its mouth fell with a sound like a rock falling into a valley. When he saw that: ... وَلَّى مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ ... he turned in flight, and looked not back. he did not turn around, because it is human nature to flee from such a thing. But when Allah said to him: ... يَا مُوسَى أَقْبِلْ وَلاَا تَخَفْ إِنَّكَ مِنَ الاْامِنِينَ O Musa! Draw near, and fear not. Verily, you are of those who are secure. he came back to his original position. Then Allah said:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

311یہ موسیٰ (علیہ السلام) کا وہ معجزہ ہے جو کوہ طور پر، نبوت سے سرفراز کئے جانے کے بعد ان کو ملا۔ چونکہ اللہ کے حکم اور مشیت سے ظاہر ہوتا ہے کسی بھی انسان کے اختیار سے نہیں۔ چاہے وہ جلیل القدر پیغمبر اور نبی مقرب ہی کیوں نہ ہو۔ اس لئے جب موسیٰ (علیہ السلام) کے اپنے ہاتھ کی لاٹھی، زمین پر پھینکنے سے حرکت کرتی اور دوڑتی پنکارتی سانپ بن گئی، تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی ڈر گئے۔ جب اللہ تعالیٰ نے بتلایا اور تسلی دی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا خوف دور ہوا اور یہ واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی صداقت کے لئے بطور دلیل یہ معجزہ انھیں عطا فرمایا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاَنْ اَلْقِ عَصَاكَ : یہاں کچھ عبارت محذوف ہے کہ جب انھوں نے اپنی لاٹھی پھینکی تو وہ یکلخت سانپ بن گئی۔ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ ۔۔ : تو جب اس نے اسے دیکھا کہ حرکت کر رہی ہے۔۔ ” جَانٌّ“ اور ” ثُعْبَانٌ“ کی تطبیق کے لیے دیکھیے سورة نمل (١٠) ۔ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّلَمْ يُعَقِّبْ : یعنی اتنے خوف زدہ ہوئے کہ ایک جانب کو نہیں بلکہ پیٹھ دے کر بھاگ کھڑے ہوئے اور مڑ کر بھی نہیں دیکھا کہ کہیں وہ سانپ پیچھے نہ پہنچ جائے۔ يٰمُوْسٰٓي اَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ : اللہ تعالیٰ نے آواز دی، اے موسیٰ ! مڑ کر بھاگنے کے بجائے آگے آ، کیونکہ تو امن والوں سے ہے۔ ”إِنَّ “ علت بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ سورة طٰہٰ (٢١) میں بتایا : ” اسے پکڑ اور ڈر نہیں، ہم اسے پھر اس کی پہلی حالت میں لوٹا دیں گے۔ “ مزید فوائد کے لیے سورة طٰہٰ (٢١) دیکھیے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَنْ اَلْقِ عَصَاكَ۝ ٠ۭ فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ كَاَنَّہَا جَاۗنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّلَمْ يُعَقِّبْ۝ ٠ۭ يٰمُوْسٰٓي اَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ ۝ ٠ۣ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِيْنَ۝ ٣١ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] تو جادو گروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں ۔ موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو۔ عصا العَصَا أصله من الواو، وعَصَى عِصْيَاناً : إذا خرج عن الطاعة، وأصله أن يتمنّع بِعَصَاهُ. آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] . ( ع ص ی ) العصا ( لاٹھی ) یہ اصل میں ناقص وادی ہے۔ عصی عصیانا کے معنی اطاعت سے نکل جانے کے ہیں دراصل اس کے معنی ہیں اس نے لاٹھی ( عصا ) سے اپنا بچاؤ کیا ۔ قرآن میں ہے : آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ( جواب ملا کہ ) اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ۔ هزز الْهَزُّ : التّحريك الشّديد، يقال : هَزَزْتُ الرّمح فَاهْتَزَّ وهَزَزْتُ فلانا للعطاء . قال تعالی: وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ [ مریم/ 25] ، فَلَمَّا رَآها تَهْتَزُّ [ النمل/ 10] ، واهْتَزَّ النّبات : إذا تحرّك لنضارته، قال تعالی: فَإِذا أَنْزَلْنا عَلَيْهَا الْماءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ [ الحج/ 5] واهْتَزَّ الكوكب في انقضاضه، وسیف هَزْهَازٌ ، وماء هُزَهِزٌ ورجل هُزَهِزٌ: خفیف . ( ھ ز ز ) الھز کے معنی کسی چیز کو زور سے ملانے کے ہیں جیسے ھززت الرمح میں نے نیزہ زور سے ہلا یا اھتز افتعال اس کا مط اور ہے اسی طرح ھززت فلانا للعطآء کے معنی ہیں میں نے فلاں کو بخشش کے لئے حرکت دی یعنی وہ خوشی سے جھومنے لگا قرآن میں ہے : ۔ وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ [ مریم/ 25] اور کھجور کے تنے کو پکڑا کر اپنی طرف ہلاؤ ۔ فَلَمَّا رَآها تَهْتَزُّ [ النمل/ 10] جب اسے دیکھا تو اس طرح اہل رہی تھی گویا سانپ ہے اھتزت النبات نباتات ( سبزے کا لہلہا نا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَإِذا أَنْزَلْنا عَلَيْهَا الْماءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ [ الحج/ 5] پھر جب ہم اس پر بارش بر ساتے ہیں تو وہ شاداب ہوجاتی ہے اور ابھر نے لگتی ہے ۔ اھتز الکواکب فی انقضا ضہ ستارے کا تیزی کے ساتھ ٹوٹنا اور سیف ھز ھا ز کے معنی لچکدار تلوار کے ہیں اور شفاف پانی کو ماء ھز ھز کہا جاتا ہے اسی طرح ھز ھز کے معنی سبک اور ہلکے پھلکے آدمی کے بھی آتے ہیں ۔ جان وقوله تعالی: وَالْجَانَّ خَلَقْناهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نارِ السَّمُومِ [ الحجر/ 27] فنوع من الجنّ ، وقوله تعالی: كَأَنَّها جَانٌّ [ النمل/ 10] ، قيل : ضرب من الحيّات . اور آیت کریمہ ؛۔ وَالْجَانَّ خَلَقْناهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نارِ السَّمُومِ [ الحجر/ 27] اور جان کو اس سے بھی پہلے بےہوئیں کی آگ سے پیدا کیا تھا ۔ میں جان سے بھی جنوں کی ایک قسم مراد ہے ۔ لیکن آیت کریمۃ ؛ كَأَنَّها جَانٌّ [ النمل/ 10] میں جان سے ایک قسم سانپ مراد ہے ۔ دبر ( پيٹھ) دُبُرُ الشّيء : خلاف القُبُل «3» ، وكنّي بهما عن، العضوین المخصوصین، ويقال : دُبْرٌ ودُبُرٌ ، وجمعه أَدْبَار، قال تعالی: وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ [ الأنفال/ 16] ، وقال : يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبارَهُمْ [ الأنفال/ 50] ، أي : قدّامهم وخلفهم، وقال : فَلا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبارَ [ الأنفال/ 15] ، وذلک نهي عن الانهزام، وقوله : وَأَدْبارَ السُّجُودِ [ ق/ 40] : أواخر الصلوات، وقرئ : وَإِدْبارَ النُّجُومِ «1» ( وأَدْبَار النّجوم) «2» ، فإدبار مصدر مجعول ظرفا، ( د ب ر ) دبر ۔ بشت ، مقعد یہ قبل کی ضد ہے اور یہ دونوں لفظ بطور کنایہ جائے مخصوص کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اس میں دبر ا اور دبر دولغات ہیں اس کی جمع ادبار آتی ہے قرآن میں ہے :َ وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍدُبُرَهُ [ الأنفال/ 16] اور جو شخص جنگ کے روز ان سے پیٹھ پھیرے گا ۔ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبارَهُمْ [ الأنفال/ 50] ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر ( کوڑے و ہیتھوڑے وغیرہ ) مارتے ہیں ۔ فَلا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبارَ [ الأنفال/ 15] تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا ۔ یعنی ہزیمت خوردہ ہوکر مت بھاگو ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ وَأَدْبارَ السُّجُودِ [ ق/ 40] اور نماز کے بعد ( بھی ) میں ادبار کے معنی نمازوں کے آخری حصے ( یا نمازوں کے بعد ) کے ہیں . وَإِدْبارَ النُّجُومِ«1»میں ایک قرات ادبارالنجوم بھی ہے ۔ اس صورت میں یہ مصدر بمعنی ظرف ہوگا یعنی ستاروں کے ڈوبنے کا وقت جیسا کہ مقدم الجام اور خفوق النجم میں ہے ۔ اور ادبار ( بفتح الحمزہ ) ہونے کی صورت میں جمع ہوگی ۔ تَّعْقيبُ والتَّعْقيبُ : أن يأتي بشیء بعد آخر، يقال : عَقَّبَ الفرسُ في عدوه . قال : لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ [ الرعد/ 11] ، أي : ملائكة يتعاقبون عليه حافظین له . وقوله : لا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ [ الرعد/ 41] ، أي : لا أحد يتعقّبه ويبحث عن فعله، من قولهم : عَقَّبَ الحاکم علی حکم من قبله : إذا تتبّعه . قال الشاعر : 325- وما بعد حکم اللہ تعقیب ويجوز أن يكون ذلک نهيا للنّاس أن يخوضوا في البحث عن حكمه وحکمته إذا خفیت عليهم، ويكون ذلک من نحو النّهي عن الخوض في سرّ القدر . وقوله تعالی: وَلَّى مُدْبِراً وَلَمْ يُعَقِّبْ [ النمل/ 10] ، أي : لم يلتفت وراء ه . والاعتقاب : أن يتعاقب شيء بعد آخر کا عتقاب اللّيل والنهار، ومنه : العُقْبَة أن يتعاقب اثنان علی رکوب ظهر، وعُقْبَة الطائر : صعوده وانحداره، وأَعقبه كذا : إذا أورثه ذلك، قال : فَأَعْقَبَهُمْ نِفاقاً [ التوبة/ 77] ، التعقیب ایک چیز کے بعد دوسری لانا ۔ عقب الفرس فی عدوہ گھوڑے نے ایک دوڑ کے بعد دوسری دوڑ لگائی قرآن میں ہے ۔ لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ [ الرعد/ 11] اس کے آگے اور پیچھے خدا کے چوکیدار ہیں اور آیت کریمہ : ۔ لا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ [ الرعد/ 41] کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے فیصلے کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا اور نہ اس پر بحث کرسکتا ہے ۔ یہ عقب الحاکم علٰی حکم من قبلیہ کے محاورہ سے ماخوذ ہے بعنی حاکم نے اپنے بیشر وحاکم کے خلاف فیصلہ دیا شاعر نے کہا ہے ۔ ( 317 ) وما یعد حکم اللہ تعقیب اللہ کے فیصلہ کے بعد کسی اور کا فیصلہ نہیں آسکتا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت مذکورہ میں لوگوں کو اللہ کے حکم اور اس کی مخفی حکمتو میں خوض کرنے سے منع فرمایا گیا ہو ۔ جیسا کہ قضا وقدر کے اسرار میں غور وخوض کیا گیا ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَلَّى مُدْبِراً وَلَمْ يُعَقِّبْ [ النمل/ 10] میں لم یعقب کے معنی ہیں اس نے مڑکر پیچھے کو نہ دیکھا الاعتقاب کے معنی ایک چیز کے دوری کے بعد آنے کے ہیں جیسے شب دروز کہ یہ دونوں یکے بعد دیگرے آتے ہیں اسی سے العقبۃ ہے یعنی دو مسافروں کا یکے بعد دیگرے ایک سواری پر سوار ہونا عقبۃ الطائر پرند کا کبھی اوپر چڑھنا اور کبھی نیچے اترنا اعقبۃ کذا کسی چیز کا وارث بنا دینا ایک چیز کی جگہ دوسری چیز کو اس کا جانشین بنانا قرآن میں ہے : ۔ فَأَعْقَبَهُمْ نِفاقاً [ التوبة/ 77] تو خدا نے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا ۔ خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ، وحقیقته : وإن وقع لکم خوف من ذلک لمعرفتکم . والخوف من اللہ لا يراد به ما يخطر بالبال من الرّعب، کاستشعار الخوف من الأسد، بل إنما يراد به الكفّ عن المعاصي واختیار الطّاعات، ولذلک قيل : لا يعدّ خائفا من لم يكن للذنوب تارکا . والتَّخویفُ من اللہ تعالی: هو الحثّ علی التّحرّز، وعلی ذلک قوله تعالی: ذلِكَ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبادَهُ [ الزمر/ 16] ، ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ اگر حالات سے واقفیت کی بنا پر تمہیں اندیشہ ہو کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے ) کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ جس طرح انسان شیر کے دیکھنے سے ڈر محسوس کرتا ہے ۔ اسی قسم کا رعب اللہ تعالیٰ کے تصور سے انسان کے قلب پر طاری ہوجائے بلکہ خوف الہیٰ کے معنی یہ ہیں کہ انسان گناہوں سے بچتا رہے ۔ اور طاعات کو اختیار کرے ۔ اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ جو شخص گناہ ترک نہیں کرتا وہ خائف یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا نہیں ہوسکتا ۔ الخویف ( تفعیل ) ڈرانا ) اللہ تعالیٰ کے لوگوں کو ڈرانے کے معنی یہ ہیں کہ وہ لوگوں کو برے کاموں سے بچتے رہنے کی ترغیب دیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ ذلِكَ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبادَهُ [ الزمر/ 16] بھی اسی معنی پر محمول ہے اور باری تعالےٰ نے شیطان سے ڈرنے اور اس کی تخویف کی پرواہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣١) اور تم اپنے ہاتھ میں سے اپنا عصا ڈال دو ، چناچہ انہوں نے ڈال دیا اور سانپ بن کر چلنے لگا جب انہوں نے اس کو لہراتا ہوا دیکھا جیسا کہ پتلا سانپ تیز ہوتا ہے تو پشت پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ارشاد خداوندی ہوا اے موسیٰ (علیہ السلام) آگے آؤ اور اس سے ڈرو نہیں تم اس کے شر سے امن میں ہو۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو پکڑ لیا تو وہ اپنی اصلی حالت کے مطابق پھر لکڑی ہوگیا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اب تم اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو وہ بلا کسی برص وغیرہ کی بیماری کے سورج کی طرح روشن ہو کر نکلے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣١ (وَاَنْ اَلْقِ عَصَاکَ ط) ” قرآن میں اس واقعہ سے متعلق مختلف تفصیلات مختلف مقامات پر ملتی ہیں۔ (فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ ط) ” اس واقعہ کے حوالے سے سورة النمل میں بھی ان سے ملتے جلتے الفاظ آئے ہیں۔ (یٰمُوْسٰٓی اَقْبِلْ وَلَا تَخَفْقف اِنَّکَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ ) ” ( تم بالکل امن وامان میں رہو گے اور تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

20: یہ ایک طبعی خوف تھا جو نبوت کے منافی نہیں ہوتا

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:31) الق : القاء (افعال) سے فعل امر واحد مذکر حاضر ۔ تو ڈال دے۔ تو (نیچے) پھینک دے القاء کے اصل معنی کسی شی کو اس طرح ڈالنے کے ہیں کہ نظر آتی رہے۔ پھر عرف عام میں اس کا استعمال ہر طرح کے ڈالنے کے متعلق ہونے لگا۔ عصا (عصو مادہ) تیری لاٹھی۔ اپنی لاٹھی۔ فلما راھا۔ اس سے قبل جملہ محذوف ہے ای فالقھا فصارت حبۃ تھتز ۔ فلما راھا تھتز۔ یعنی اس نے حکم خداوندی کی تعمیل میں عصا نیچے ڈال دیا تو وہ ایک سانپ کی شکل اختیار کر گیا اور سانپ کی طرح لہرانے لگا (جھومنے لگا) راھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع عصا ہے۔ تھتز۔ مضارع واحد مؤنث غائب اھتزاز افتعال ۔ الھز کے معنی کسی چیز کو ہلانے کے ہیں جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے وھزی الیک بحذع النخلۃ (19:25) اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ اھتزاز (افتعال) کے معنی جھومنے۔ بل کھناے اور شادابی اور تروتازگی کی وجہ سے درخت کے ہلنے اور حرکت کرنے کے ہیں۔ مثلا کہتے ہیں اھتزت النبات سبزہ لہلہانے لگا۔ تھتز وہ ہلتی ہے وہ بل کھاتی ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ نے دیکھا کہ ان کا عصا سانپ کی مانند جھوم رہا ہے اور بل کھا رہا ہے۔ کانھا۔ کان حرف مشبہ بالفعل ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ۔ کان کا اسم گویا وہ۔ جان۔ ایک قسم کا سانپ۔ پتلا۔ باریک سانپ۔ ولی۔ ماضی واحد مذکر غائب تولیۃ (تفعی) مصدر۔ منہ موڑ ۔ پیٹھ دے کر بھاگا۔ مدیرا : ولی کی ضمیر فاعل کا حال ہے۔ پیٹھ موڑ کر بھاگنے والا۔ ادبار (افعال) سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ دبر سے مشتق ہے جس کے معنی پیٹھ کے ہیں ۔ جو قبل کی ضد ہے اور جگہ قرآن مجید میں ہے فلا تولوہم الادبار (8:15) تم ان سے پیٹھ نہ پھیرنا لم یعقب۔ مضارع نفی جحد بلم صیغہ واحد مذکر غائب تعقیب (تفعیل) مصدر عقب مادہ۔ بمعنی ایڑی۔ اعقاب جمع م قرآن مجید میں ہے ونرد علی اعقابنا (6:71) تو کیا ہم الٹے پاؤں پھرجائیں۔ لم یعقب۔ وہ پیچھے نہ مڑا۔ اس نے پلٹ کر نہ دیکھا۔ یمودی۔ سے قبل تودی یا قیل مصدر ہے۔ اقبل۔ تو آگے آ۔ اقبال افعال سے جس کے معنی آگے آنے متوجہ ہونے یا رخ کرنے کے ہیں ۔ فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ امنین : امن سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر بحالت نصب و جر۔ من والوں میں سے محفوظ۔ امن و امان میں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

6 ۔ کسی قسم کا اندیشہ نہ کرو۔ (طہ :22، 46، 61)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ چناچہ انہوں نے ڈال دیا اور وہ سانپ بن کر چلنے لگا۔ 8۔ یہ کوئی ڈر کی بات نہیں بلکہ تمہارا معجزہ ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : عظیم معجزات ملنے کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون سے خوفزدہ ہونا۔ جوں ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر زمین پر رینگنے لگا۔ اتنا بڑا سانپ دیکھ کر حضرت موسیٰ ڈر کر بھاگنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا موسیٰ ڈرو نہیں بلکہ آگے ہو کر پکڑ لو۔ یہ پہلے کی طرح لاٹھی بن جائے گا اور آپ مامون رہیں گے۔ اپنا ہاتھ بغل میں دبا کر نکال یہ بغیر کسی تکلیف کے چمکتا ہوا ظاہر ہوگا خوف کے وقت ہاتھ کو بغل میں دبا لینا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر چھوڑ کر مدین اس لیے گئے تھے کہ ان سے سہوًا ایک شخص قتل ہوگیا تھا۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا مؤقف سنے بغیر فیصلہ کرلیا تھا کہ اسے قتل کردیا جائے اس بناء پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے درخواست کی کہ میرے رب مجھ سے ان کا ایک شخص قتل ہوگیا تھا اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل نہ کردیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی عرض کی کہ میرا بھائی ہارون (علیہ السلام) گفتگو کے اعتبار سے زیادہ فصیح زبان رکھتا ہے۔ اس لیے اسے میرا معاون بنائیں تاکہ وہ میری تصدیق کرے کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی التجاء قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ عنقریب ہم آپ کے بھائی کے ساتھ آپ کو مضبوط کریں گے۔ آپ دونوں کامیاب ہو نگے فرعون اور اس کے ساتھی ہمارے معجزات کی وجہ سے تمہارے قریب بھی نہیں آسکیں گے۔ آپ اور آپ کے تابعدار فرعون اور اس کے درباریوں پر غالب رہیں گے۔ بائیبل میں ید بیضاء کی ایک اور ہی تعبیر کی گئی ہے جو وہاں سے نکل کر ہمارے ہاں کی تفسیروں میں بھی رواج پا گئی، وہ یہ کہ حضرت موسیٰ نے جب بغل میں ہاتھ ڈال کر باہر نکالا تو پورا ہاتھ برص کے مریض کی طرح سفید تھا، پھر جب دوبارہ اسے بغل میں رکھا تو وہ اصلی حالت پر آگیا۔ یہی تعبیر اس معجزے کی تلمود میں بھی بیان کی گئی ہے اور اس کی حکمت یہ بتائی گئی ہے کہ فرعون کو برص کی بیماری تھی جسے وہ چھپائے ہوئے تھا اس لیے اس کے سامنے یہ معجزہ پیش کیا گیا کہ دیکھ۔ یوں آناً فاناً برص کا مرض پیدا ہوتا ہے اور کافور ہوجاتا ہے۔ لیکن اوّل تو ذوق سلیم اس کا انکار کرتا ہے کہ کسی نبی کو برص کا معجزہ دے کر ایک بادشاہ کے دربار میں بھیجا جائے۔ دوسرے اگر فرعون کو مخفی طور پر برص کی بیماری تھی تو ید بیضا صرف اس کی ذات کے لیے معجزہ ہوسکتا تھا اس کے درباریوں پر اس معجزے کا کیا رعب طاری ہوتا۔ لہٰذا صحیح بات وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی کہ اس ہاتھ میں سورج کی سی چمک پیدا ہوجاتی تھی۔ جسے دیکھ کر آنکھیں خیرہ ہوجاتیں۔ قدیم مفسرین میں سے بھی بہتوں نے اس کے یہی معنی لیے ہیں۔ (تفہیم القرآن) مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کرنے کے ساتھ ہی لاٹھی کا معجزہ عطا فرمایا اور ید بیضا بھی عطا کیا گیا۔ ٢۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ ٣۔ فرعون اور اس کے سردار سرکش لوگ تھے۔ تفسیر بالقرآن غلبہ حاصل کرنے والے لوگ : ١۔ مومن ہی ہر حال میں بلند رہیں گے۔ (آل عمران : ١٣٩) ٢۔ مومن اللہ کا لشکر ہیں اور غالب رہیں گے۔ (المجادلۃ : ٢٢) ٣۔ اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو پھر تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ (آل عمران : ١٦٠) ٤۔ ہم نے ان کی مدد کی سو وہ غالب آگئے۔ (الصّٰفٰت : ١١٦) ٥۔ بہت سی چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آجاتی ہیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : ٢٤٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

31۔ اور نیز یہ آواز آئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنا عصاڈال دے پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس لاٹھی کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا جیسے وہ ایک تیز رفتار سانپ ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) پیٹھ پھیرکر الٹے پھرے اور پلٹ کر بھی نہ دیکھا ارشاد ہوا اے موسیٰ (علیہ السلام) آگے آ اور ڈر نہیں یقینا تو امن یافتہ لوگوں میں سے ہے۔ عضا کو ڈالنے کا حکم ہوا جب موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی ڈالی تو وہ ایک پتلے سانپ کی طرح دوڑنے لگی موسیٰ (علیہ السلام) کو بہ تقاضائے بشریت خوف معلوم ہوا اور وہ پیٹھ پھیر کر چلنے لگے تو ارشاد ہوا سامنے آئو اور ڈرو نہیں تم ہر طرح امن میں ہو ۔ یہاں جان فرمایا سورة طہٰ میں حیۃ فرمایا ہم اس کے متعلق سورة طہٰ میں عرض کرچکے ہیں کہ وہ ایک اژدھا بن گیا لیکن دوڑ میں اور بھاگنے میں سٹک اور پتلے سانپ کی طرح بھاگتا تھا یا ابتداء پتلی سٹک ہوتا تھا پھر اژدھا بن جاتا ہو ۔ غرض ! یہ ایک معجزہ تھا جس کا ظہور ان کے ہاتھ سے ہوا پھر ارشاد ہوا ۔