Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 41

سورة القصص

وَ جَعَلۡنٰہُمۡ اَئِمَّۃً یَّدۡعُوۡنَ اِلَی النَّارِ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ لَا یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۴۱﴾

And We made them leaders inviting to the Fire, and on the Day of Resurrection they will not be helped.

اور ہم نے انہیں ایسے امام بنا دیئے کہ لوگوں کو جہنم کی طرف بلائیں اور روز قیامت مطلق مدد نہ کئے جائیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَجَعَلْنَاهُمْ أَيِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ ... So, behold what was the end of the wrongdoers. And We made them leaders inviting to the Fire. for those who followed them and took the same path as they did, rejecting the Messengers and denying the Creator. ... وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ لاَ يُنصَرُونَ and on the Day of Resurrection, they will not be helped. their humiliation in this world is combined with and connected to their humiliation in the Hereafter, as Allah says: أَهْلَكْنَـهُمْ فَلَ نَـصِرَ لَهُمْ We have destroyed them. And there was none to help them. (47:13)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

411یعنی جو بھی ان کے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو اللہ کی توحید یا اس کے وجود کے منکر ہوں گے، تو ان کا امام و پیشوا یہی فرعونی سمجھے جائیں گے جو جہنم کے داعی ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٣] یعنی تمام منکرین ِحق اور باطل پرستوں کے لئے وہ مثال قائم کرگیا کہ حق کو کن کن حیلوں بہانوں سے ٹھکرایا جاسکتا ہے۔ انکار حق پر ڈٹ جانے اور آخر دم تک ڈٹے رہنے کے لئے کیا کیا ہتھکنڈے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ حق پرستوں پر کیسے کیسے مظالم ڈھائے جاسکتے ہیں اور حق کو کیونکر دبایا جاسکتا ہے۔ یہ سب طریقے اپنے بعد میں آنے والوں کو دکھلا کر وہ جہنم کو سدھار چکا اور آج کے مشرکین مکہ انھیں کے طور طریقے اختیار کرکے اسی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پھر جس طرح فرعون نے اس دنیا میں حق کے دشمنوں کو جہنم کی راہ دکھلائی اسی طرح قیامت کے دن بھی وہ اہل دوزخ کی پیشوائی کرے گا۔ اور انھیں جہنم میں جا پہنچائے گا اور خود ان کی قیادت کر رہا ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة ہود کی آیت نمبر ٩٨ میں اس بات کی صراحت فرما دی ہے۔ [٥٤] یعنی اس دنیا میں تو فرعون اور اس کے درباریوں کو اپنے لاؤ لشکر پر بڑا ناز تھا۔ اور انہی فوجوں اور لاؤ لشکر نے ان کا دماغ خراب کر رکھا تھا۔ حالانکہ ان کا لاؤ لشکر ان کی غرقابی کے وقت کسی کام نہ آسکا بلکہ ان کے ساتھ ہی غرق ہوگیا۔ تو قیامت کو بھی یہ لاؤ لشکر ان کے کسی کام نہ آسکے گا۔ نہ ہی کسی دوسرے ذریعہ سے یہ جہنم کے عذاب سے بچ سکیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ : ” اَىِٕمَّةً “ ”إِمَامٌ“ کی جمع ہے، جس کی پیروی کی جائے، جیسا کہ نماز میں مقتدی امام کی پیروی کرتا ہے۔ امامت نیکی میں بھی ہوتی ہے اور برائی میں بھی، جیسا کہ ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : (وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا) [ الأنبیاء : ٧٣ ] ” اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے ساتھ رہنمائی کرتے تھے۔ “ برائی میں امامت کی مثال فرعون اور اس کے لشکر تھے۔ فرمایا، ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو آگ کی طرف بلاتے تھے، یعنی جب تک زندہ رہے کفر میں لوگوں کے پیشوا رہے اور اپنے قول و فعل سے انھیں کفر کی دعوت دیتے رہے، جس کا نتیجہ آگ ہے۔ اسی طرح یہ قیامت کے دن بھی امام اور پیشوا ہوں گے، مگر آگ کی طرف، فرمایا : ( يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۭ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ ) [ ھود : ٩٨ ] ” وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے ہوگا، پس انھیں پینے کے لیے آگ پر لے آئے گا اور وہ پینے کی بری جگہ ہے، جس پر پینے کے لیے آیا جائے۔ “ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ : یعنی یہاں کے لشکر وہاں کام نہ دیں گے، نہ کسی طرف سے کوئی مدد پہنچ سکے گی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ‌ (And We had made them leaders who called (people) towards hell. - 28:41). Allah Ta` ala had elevated the courtiers of the Pharaoh as leaders of their people, but these wrong-doers were busy inviting the people towards fire - jahannam. Most commentators have taken the expression ` invitation to fire& as a metaphor. That is, by fire the allusion is toward evil deeds that will result in burning in the fire of Jahannam. But according to the work of my respected teacher Sayyidna Maulana Sayyid Muhammad Anwar Shah Kashmiri a (رح) the reward of the Hereafter is the deed itself. One&s deeds in this world will change their forms first in barzakh and then in mahshar. The righteous deeds will change into flowers and gardens and take the shape of the bounties of paradise; and the evil deeds will turn into snakes and scorpions, ultimately manifesting themselves in various types of torments. Therefore, if someone invites any one in this world toward evil and infidelity, he in fact is bidding him to go into the fire. Although these evils do not manifest themselves in this world as fire, yet in reality they are fire. Thus there is no metaphor in the verse, and it rests with its true meaning. If this course of argument is adopted in explaining the verses of Qur&an, then many of them will get rid of dependence on metaphors; and it will make the reading easy and straightforward. For instance, وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرً‌ا (And they will find what they did all there - 18:49) or مَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ خَيْرً‌ا يَرَ‌هُ. (Whoever does good to the measure of a particle will see it. 99:7)mmmm48

وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ ، یعنی فرعون کے درباریوں کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کا پیشوا بنادیا تھا مگر یہ غلط کار پیشوا اپنی قوم کو آگ یعنی جہنم کی طرف دعوت دے رہے تھے یہاں اکثر مفسرین نے آگ کی طرف دعوت دینے کو ایک استعارہ اور مجاز قرار دیا ہے کہ مراد آگ سے وہ اعمال کفریہ ہیں جن کا نتیجہ جہنم کی آگ میں جانا تھا مگر استاذ محترم نادرہ روزگار حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ کی تحقیق تبعاً لابن عربی یہ تھی کہ آخرت کی جزا عین عمل ہے۔ انسان کے اعمال جو وہ دنیا میں کرتا ہے برزخ پھر محشر میں اپنی شکلیں بدلیں گے اور جوہری صورتوں میں نیک اعمال گل و گلزار بن کر جنت کی نعمتیں بن جائیں گے اور اعمال کفر و ظلم آگ اور سانپ بچھوؤں اور طرح طرح کے عذابوں کی شکل اختیار کرلیں گے اس لئے جو شخص اس دنیا میں کسی کو کفر و ظلم کی طرف بلا رہا ہے وہ حقیقۃً اس کو آگ ہی کی طرف بلا رہا ہے۔ اگرچہ اس دنیا میں اس کی شکل آگ کی نہیں مگر حقیقت اس کی آگ ہی ہے۔ اسی طرح آیت میں کوئی مجاز یا استعارہ نہیں، اپنی حقیقت پر محمول ہے۔ یہ تحقیق اختیار کی جائے تو قرآن کی بیشمار آیات میں مجاز و استعارہ کا تکلف نہیں کرنا پڑے گا۔ مثلاً وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا اور فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ وغیرہ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَجَعَلْنٰہُمْ اَىِٕمَّۃً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ۝ ٠ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ لَا يُنْصَرُوْنَ۝ ٤١ إِمام : المؤتمّ به، إنسانا كأن يقتدی بقوله أو فعله، أو کتابا، أو غير ذلک محقّا کان أو مبطلا، وجمعه : أئمة . وقوله تعالی: يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُناسٍ بِإِمامِهِمْ [ الإسراء/ 71] أي : بالذي يقتدون به، الامام وہ ہے جس کی اقتداء کی جائے خواہ وہ انسان ہو یا اس کے قول وفعل کی اقتداء کی جائے یا کتاب وغیرہ ہو اور خواہ وہ شخص جس کی پیروی کی جائے حق پر ہو یا باطل پر ہو اس کی جمع ائمۃ افعلۃ ) ہے اور آیت :۔ { يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ } ( سورة الإسراء 71) جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے ۔ میں امام سے وہ شخص مراد ہے جس کی وہ اقتداء کرتے تھے ۔ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ قِيامَةُ والقِيامَةُ : عبارة عن قيام الساعة المذکور في قوله : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] ، يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] ، وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] ، والْقِيَامَةُ أصلها ما يكون من الإنسان من القیام دُفْعَةً واحدة، أدخل فيها الهاء تنبيها علی وقوعها دُفْعَة، والمَقامُ يكون مصدرا، واسم مکان القیام، وزمانه . نحو : إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] ، القیامتہ سے مراد وہ ساعت ( گھڑی ) ہے جس کا ذکر کہ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] اور جس روز قیامت برپا ہوگی ۔ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] جس دن لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ وغیرہ آیات میں پایاجاتا ہے ۔ اصل میں قیامتہ کے معنی انسان یکبارگی قیام یعنی کھڑا ہونے کے ہیں اور قیامت کے یکبارگی وقوع پذیر ہونے پر تنبیہ کرنے کے لئے لفظ قیام کے آخر میں ھاء ( ۃ ) کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ المقام یہ قیام سے کبھی بطور مصدر میمی اور کبھی بطور ظرف مکان اور ظرف زمان کے استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] اگر تم کو میرا رہنا اور ۔ نصیحت کرنا ناگوار ہو ۔ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤١) سو ہم نے ان کو کافروں اور گمراہوں کا ذلیل پیشوا بنا رکھا تھا جو لوگوں کو کفر وشرک اور بتوں کی پوجا کی طرف بلاتے رہے اسی لیے قیامت کے دن عذاب خداوندی کے مقابلہ میں کوئی ان کا ساتھ نہیں دے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤١ (وَجَعَلْنٰہُمْ اَءِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ ج) ” یعنی فرعون اور اس کے درباری لوگوں کو جہنم کی طرف بلانے والے گروہ کے پیشوا بن گئے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

57 That is, "They have set a precedent for the later generations as to committing injustices, rejecting the Truth and persistence in their rejection till the last, and using all sorts of devices to defend falsehood against the Truth." They showed these ways to the people and have gone to Hell, and now their descendants are following in their footsteps and rushing towards the same doom.

سورة القصص حاشیہ نمبر : 57 یعنی وہ بعد کی نسلوں کے لیے ایک مثال قائم کر گئے ہیں کہ ظلم یوں کیا جاتا ہے ، انکار حق پر ڈٹ جانے اور آخر وقت تک ڈٹے رہنے کی شان یہ ہوتی ہے ، اور صداقت کے مقابلے میں باطل پر لوگ ایسے ایسے ہتھیار استعمال کرسکتے ہیں ۔ یہ سب راستے دنیا کو دکھا کر وہ جہنم کی طرف جا چکے ہیں اور ان کے اخلاف اب انہی کے نقش قدم پر چل کر اسی منزل کے رخ لپکے جارہے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤١ تا ٤٦۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کا دنیوی انجام اوپر ذکر فرما کر اب ان کا عقبیٰ کے انجام کا ذکر فرمایا کہ یہ لوگ قیامت کے دن ان لوگوں کے پیشوا ہوں گے جو ان کے بہکانے کے سبب سے گمراہ ہو کر دوزخ میں اس طرح جھونکے جاویں گے کہ بہکانے والوں کا بہکنے خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بہکانے کا دوسرا عذاب ہوگا تو ان کے پیرو کچھ ان کی مدد نہ کرسکیں گے اس دو ہرے عذاب کا ذکر سورة النمل میں گزر چکا ہے اور اسی ذکر میں صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث بھی گذر چکی ہے یہی قیامت کے دو ہرے عذاب کا ذکر وَیَوْمَ الْقِیَامَۃ ھم الَمْقُبوحْیِن کی گویا تفسیر ہے پھر فرمایا ” پیچھے رکھی ہم نے ان کے دنیا میں لعنت ایمانداروں کے زبان پر اور قیامت کے روز وہ برائی والوں میں سے ہونگے ‘ آگے اب اللہ تعالیٰ اپنے اس انعام کی خبر دیتا ہے جو اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر کیا وہ یہ کہ فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کیا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر کتاب تو ریت اتاری مطلب یہ ہے کہ تو ریت اتارنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی امت پر ہلاک کرنے کا عذاب عام طور پر نہیں اتارا بلکہ اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ خدا کے دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کریں ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر یہ دلیل قائم کی ہے کہ وہ گذشتہ حالات کی ایسی خبر دیتے ہیں کہ گویا اس وقت موجود تھے اور انہوں نے آنکھوں سے وہ حالات دیکھے ہیں حالانکہ وہ ان پڑھ تھے اور انہوں نے ایسے لوگوں پرورش پائی جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے حاصل یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے پہلی امتوں کی باتیں تم پر اس لیے اتاری ہیں کہ پہلے کے عذابوں سے تم اپنی قوم کو ڈراؤ تاکہ اللہ تعالیٰ جب ان کے کفر کے سبب سے ان پر عذاب نازل کرے تو کچھ عذر اس کا باقی نہ رہے اور وہ یہ نہ کہیں کہ ہمارے پاس تو کوئی سول ڈرسنانے والا نہیں آیا اس مضمون کی قرآن شریف میں اکثر آیتیں ہیں اور آگے کی آیتوں میں بھی یہ ذکر آتا ہے غرض انجانی کے عذر کو رفع کردیتا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اس لیے فرعون کے پاس اور فرعون سے پہلی قوموں کے پاس پچھلے رسولوں اور اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول بنا کر اگرچہ ایسے زمانہ میں بھیجا کہ اے رسول اللہ کے اس زمانہ میں تم موجود نہیں تھے لیکن تمہاری ان پڑھ قوم کو ان پہلی قوموں کے قصے اس واسطے سنا دیئے گئے کہ تمہاری قوم کی بھی وہ نوبت نہ آوے کی جس طرح وہ پہلے لوگ دنیا کی زندگی کو پائدار سمجھ کر عقبیٰ سے بالکل غافل ہوگئے اور اللہ کے رسولوں کی نصیحت کو جھٹلانے لگے آخر طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے اللہ سچا ہے اللہ کے وعدہ سچا ہے اہل مکہ میں کے جن سرکش مشکوں نے اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کو سچا نہیں جانا صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک (رض) کی حدیث کے حوالہ سے ان کا انجام اوپر گزر چکا ہے کہ دنیا میں بدر کی لڑائی کے وقت یہ بڑے بڑے سرکش نہایت ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عقبیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوگئے اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر اللہ کا وعدہ یا ددلایا اور یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو پچا پالیا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:41) ایمۃ۔ پیشوا ۔ رہنما۔ قائدین۔ امام کی جمع جس کا معنی ہے وہ جس کی اقتداء کی جائے۔ نیز ملاحظہ ہو (28:5)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

3 ۔ یا ” ہم نے انہیں دوزخ کی دعوت دینے والے سردار بنایا۔ “ یعنی وہ اپنے بعد آنے والے لوگوں کے لئے مثال قائم کر گئے کہ یوں خدا کی نافرمانی کی جاتی ہے جس کا انجام دوزخ ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَ جَعَلْنٰھُمْ اَءِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ ) (اور ہم نے انہیں پیشوا بنا دیا جو دوزخ کی طرف بلاتے رہے) یعنی وہ کفرو شرک کی دعوت دیتے رہے جس کا نتیجہ دوزخ میں جانا ہے (وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ لَا یُنْصَرُوْنَ ) (اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

41۔ اور ہم نے ان کو ایسا قائد اور سردار بنایا کہ وہ لوگوں کو دوزخ اور جہنم کی طرف بلاتے رہے اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہیں ہوگی اور ان کا کوئی ساتھ نہیں دیگا ، جب کوئی ساتھی نہ ہوگا تو ہر قسم کی مدد سے محروم رہیں گے ، یعنی قوم کے بڑے بنے تھے اور ہم نے ان کو سردار کیا تھا لیکن انہوں نے بجائے صحیح رہنمائی اور ایمان و اسلام کی دعوت دینے کے ان کو دوزخ کی طرف جانے کی دعوت دی اب قیامت میں ان سرداران قوم کا یہ حشر ہوگا کہ بےیارو مدد گار پڑے رہیں گے۔