Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 51

سورة القصص

وَ لَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَہُمُ الۡقَوۡلَ لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿ؕ۵۱﴾

And We have [repeatedly] conveyed to them the Qur'an that they might be reminded.

اور ہم برابر پے درپے لوگوں کے لئے اپنا کلام بھیجتے رہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کرلیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ ... And indeed now We have conveyed the Word, Mujahid said: "We have explained the Word to them." As-Suddi said something similar. Qatadah said: "Allah is saying, `He has told them what He did in the past and what He will do in the future."' ... لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ in order that they may remember. Mujahid and others said: وَصَّلْنَا لَهُمُ (We have conveyed the Word) means, to Quraysh.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

511یعنی ایک رسول کے بعد دوسرا رسول، ایک کتاب کے بعد دوسری کتاب ہم بھیجتے رہے اور اس طرح مسلسل لگاتار ہم اپنی بات لوگوں تک پہنچاتے رہے۔ 512مقصد اس سے یہ تھا کہ لوگ پچھلے لوگوں کے انجام سے ڈر کر اور ہماری باتوں سے نصیحت حاصل کر کے ایمان لے آئیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٩] اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جتنے بھی نبی ان کے آس پاس مبعوث رہے ہیں۔ اب سب کی تعلیمات ان تک بھی پہنچتی رہی ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب سے قرآن کا نزول شروع ہوا ہے۔ لگاتار انھیں ہدایت کی آیات پہنچ رہی ہیں۔ جس کا مقصد یہی تھا کہ وہ کچھ نصیحت قبول کرلیتے۔ اور اگر یہ فی الواقعہ ہدایت کے طالب ہوتے تو کب کے ہدایت قبول کرچکے ہوتے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ۧوَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَـهُمُ الْقَوْلَ ۔۔ :” وَصَّلَ الْقَوْلَ تَوْصِیْلاً “ بات کے ساتھ بات ملانا، پے در پے بات پہنچانا۔ قرآن اور تورات کو جادو قرار دے کر دونوں کے انکار کے اعلان کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے مطابق اللہ کی طرف سے ان کے پاس کوئی ہدایت آئی ہی نہیں اور بلاغت کا قاعدہ ہے کہ انکار جتنا شدید ہو اتنی ہی تاکید کے ساتھ بات کی جاتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ” لام “ اور ” قَدْ “ کی دوہری تاکید کے ساتھ، جو قسم کا مفہوم رکھتی ہے، فرمایا : ” اور بلاشبہ یقیناً ہم نے انھیں پے در پے بات پہنچائی، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ “ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی مراد ہیں، ایک یہ کہ ہم ایک رسول کے بعد دوسرا رسول اور ایک کتاب کے بعد دوسری کتاب بھیجتے رہے اور اس طرح مسلسل اپنی بات لوگوں تک پہنچاتے رہے، ان سب کی تعلیمات ان تک بھی پہنچتی رہیں، تاکہ یہ خواب غفلت سے بیدار ہوں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید ایک ہی دفعہ نازل کردینے کے بجائے ہم انھیں اس کی آیات یکے بعد دیگرے پے در پے پہنچا رہے ہیں، کبھی وعدہ و وعید کی صورت میں، کبھی وعظ و نصیحت کی صورت میں، کبھی قصوں اور عبرتوں کے بیان کی صورت میں اور کبھی امر و نہی کی صورت میں کہ کسی طور پر نصیحت حاصل کریں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُ‌ونَ (And We have conveyed (Our) words to them one after the other, so that they may take to advice. - 28:51). The word وَصَّلْنَا (wassalna) is derived from وتَصِیل (Tausil), which literally means to strengthen the rope by adding more strings to its strands. Here it means that Allah Ta` ala has maintained the continuity of guidance. Certain advisory subjects are repeated in the Qur&an in order to make them more effective. Certain rules for preaching It shows that an important trait of preaching carried out by the prophets was that they used to convey the truth to people continuously. Rejection and falsifying of truth did not deter them at all from their mission. Instead, if someone did not listen to them the first time, they repeated it the second time, and if they did not succeed even the second time, they used to reiterate it a third time, and so on, without showing any sign of exhaustion. It is true that no preacher or sympathizer has power to change one&s heart, but what the prophets could do was to keep on making their efforts without being dishearted or exhausted. Even today the same principle applies, and those who preach should take a serious note of it.

وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَـهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ ، وصلنا، توصیل سے مشتق ہے جس کے اصل لغوی معنے رسی کے تاروں میں اور تار ملا کر اس کے مضبوط کرنے کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ قرآن حکیم میں حق تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کا سلسلہ یکے بعد دیگرے جاری رکھا اور بہت سے نصیحت کے مضامین کا بار بار تکرار بھی کیا گیا تاکہ سننے والے متاثر ہوں۔ تبلیغ و دعوت کے بعض آداب : اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) کی تبلیغ کا اہم پہلو یہ تھا کہ وہ حق بات کو مسلسل کہتے اور پہنچاتے ہی رہتے تھے۔ لوگوں کا انکار و تکذیب ان کے اپنے عمل اور اپنی لگن میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرتا تھا بلکہ وہ حق کو اگر ایک مرتبہ نہ مانا گیا تو دوسری مرتبہ، پھر بھی نہ مانا گیا تو تیسری چوتھی مرتبہ برابر پیش کرتے ہی رہتے تھے کسی کے دل میں ڈال دینا تو کسی ناصح ہمدرد کے بس میں نہیں مگر اپنی کوشش کو بغیر کسی تکان اور اکتاہٹ کے جاری رکھنا جو ان کے قبضہ میں تھا اس کو مسلسل انجام دیتے۔ آج بھی تبلیغ و دعوت کے کام کرنے والوں کو اس سے سبق لینا چاہئے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَـہُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّہُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۝ ٥ ١ۭ وصل الِاتِّصَالُ : اتّحادُ الأشياء بعضها ببعض کاتّحاد طرفي الدائرة، ويضادّ الانفصال، ويستعمل الوَصْلُ في الأعيان، وفي المعاني . يقال : وَصَلْتُ فلاناً. قال اللہ تعالی: وَيَقْطَعُونَ ما أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ [ البقرة/ 27] ( و ص ل ) الا تصال کے معنی اشیاء کے باہم اس طرح متحد ہوجانے کے ہیں جس طرح کہ قطرہ دائرہ کی دونوں طرفین ملی ہوئی ہوتی ہیں اس کی ضد انفعال آتی ہے اور وصل کے معنی ملائے کے ہیں اور یہ اسم اور معنی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے چناچہ وصلت فلانا صلہ رحمی کے معنی میں آتا ہے قرآن میں ہے وَيَقْطَعُونَ ما أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ [ البقرة/ 27] اور جس چیز ( یعنی رشتہ قرابت ) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے اسی کو قطع کئے ڈالتے ہیں لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥١) اور ہم نے اس قرآن کریم میں توحید کے مضامین کو ان کے فائدہ کے لیے وضاحت کے ساتھ بیان کیا تاکہ یہ لوگ اس قرآن کریم سے نصیحت حاصل کرکے ایمان لے آئیں۔ شان نزول : ( آیت ) ”۔ ولقد وصلنا لہم القول “۔ (الخ) ابن جریر (رح) اور طبرانی (رح) نے رفاعہ قرضی (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت دس حضرات کے بارے میں نازل ہوئی ہے میں بھی ان میں سے ایک ہوں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥١ (وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَہُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ) ” لوگوں کو راہ راست دکھانے کے لیے ہم مسلسل ہدایت بھیجتے رہے ہیں۔ چناچہ تورات ‘ زبور ‘ انجیل اور قرآن اسی ” سلسلۃ الذھب “ (سنہری زنجیر) کی کڑیاں ہیں۔ یہاں پر وَصَّلْنَا کا اشارہ اہل مکہ کے ” سِحْرٰنِ تَظَاہَرَا “ کے الزام کی طرف بھی ہوسکتا ہے کہ جن کتابوں کو یہ لوگ جادو قرار دے کر ان میں باہمی گٹھ جوڑ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کے اندر واقعی وصل ہے ‘ اس لیے کہ وہ ایک ہی سلسلۂ ہدایت کی کڑیاں ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

71 That is, "As far as conveying of the admonition is concerned, we have done full justice to it in the Qur'an in the best way. But guidance is attained only by him who gives up stubbornness and frees his heart from prejudices and is inclined to accept the Truth willingly and sincerely."

سورة القصص حاشیہ نمبر : 71 یعنی جہاں تک حق نصیحت ادا کرنے کا تعلق ہے ہم اس قرآن میں پیہم اسے ادا کرچکے ہیں ، لیکن ہدایت تو اسی کو نصیب ہوسکتی ہے جو ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑے اور تعصبات سے دل کو پاک کر کے سچائی کو سیدھی طرح قبول کرنے کے لیے تیار ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

28: قرآن کریم ایک ہی مرتبہ کیوں نازل نہیں کیا گیا؟ اس کی وجہ بیان کی جا رہی ہے کہ اس میں تم لوگوں ہی کا فائدہ مقصود تھا کہ ہر موقع پر اس کے مناسب ہدایات دی جا سکیں اور ایک کے بعد ایک ہدایات دے کر تمہیں اس بات کو موقع دیا جائے کہ تم کسی بات کو تو قبول کرلو۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:51) لقد وصلنا۔ لام تاکید کے لئے ہے قد تحقیق کے معنوں میں ہے یا ماضی قریب کے لئے وصلنا ماضی جمع متکلم توصیل (تفعیل) سے وصل کے معنی ملانے کے ہیں۔ لیکن باب تفعیل سے اس کے معنی ہوئے کہ ہم پے در پے اپنا کلام ان کی طرف بھیجتے رہے القول سے مراد یہاں قرآن مجید ہے جو حالات کے نقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت خداوندی کے مطابق وقتا فوقتا نازل ہوتا رہا۔ لہم۔ لعلہم اور یتذکرون میں ضمیر جمع مذکر گا ئب اہل مکہ کی طرف راجع ہے ۔ جو اس وقت موجود تھے۔ لعلہم یتذکرون تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔ ایمان لاویں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

7 ۔ یعنی ایک کے بعد دوسرا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث کیا اور ایک کے بعد دوسری نصیحت بھیجی تاکہ کسی طرح وہ خواب غفلت سے بیدار ہوں یا اس قرآن میں ہم وعدہ وعید، قصص و عبر اور نصائح و مواعظ تدریجاً اس لئے بھیج رہے ہیں کہ کسی طور یہ نصیحت حاصل کریں۔ اس صورت میں یہ لو لا نزل علیہ القرآن جملہ واحدۃ کا جواب ہوگا۔ (کبیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 51 تا 60 اسرارو معارف اور پھر قرآن حکیم کے مسلسل اتارے جانے کی حکمت ارشاد ہوئی کہ ہم نے قرآن کریم کو بتدریج نازل فرمایا کہ لوگوں کو بار بار تازہ بتازہ کلام الہی نصیب ہوتا رہے اور مسلسل دعوت الی اللہ دی جاتی رہے نیز ہر آیت کو واقعات اور سوالات کے جواب میں نازل فرما کر یہ سہولت پیدا کردی کہ یاد رکھنے میں بھی آسانی ہو ورنہ اللہ قادر ہے تورات کی طرح ایک ہی دفعہ بھی عطا فرما دیتا۔ اور یہ محض اعتراض ہے ورنہ وہ لوگ جو اہل کتاب میں سے ایمان دار تھے اور اپنی کتاب پر ہی ایمان رکھتے تھے جب ان کے سامنے یہ آیات پڑھی گئیں تو انہوں نے فورا کہا کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے اور ہم تو اس کے نازل ہونے اور آپ کی بعثت سے پہلے ہی اپنی کتابوں میں پیش گوئیاں پڑھ کر یہ خقیقت تسلیم کیے بیٹھے تھے اب جب آپ کی بعثت کی سعادت سے مشرف ہونے کا موقع نصیب ہوگا تو بھلا کیسے نہ مانیں گے ۔ دوہرا اجر : اور یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کو دوہرا اجر عطا فرمایا جائے گا کہ انہوں نے ایمان پر استقامت دکھائی اور اپنی کتابوں سے پیشگوئی پڑھ کر بھی ایمان لائے اور پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے تو تو بھی ایمان پر قائم رہے یہ وعدہ اور لوگوں سے بھی ہے جیسے ازواج مطہرات سے کہ بحثیت نبی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی اور بحثیت خاوند بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کی۔ اسی طرح بعض دوسرے لوگوں کے حق میں بھی اس انعام کا وعدہ ہے گویا جو عمل بھی وہ کریں گے وہ دوبارہ لکھا جائے گا ورنہ ہر عمل پر اجر کئی گنا عطا ہونا تو ویسے بھی اللہ کی رحمت سے ہوگا مگر ایسے حضرات کا ہر عمل دو بار شمار ہو کر کئی گناہ اضافہ پائے گا ۔ استقامت علی الایمان سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے : اور اس استقامت علی الایمان کے سبب انہیں ایسی توفیق نصیب ہے کہ برائی کے جواب میں بھی بھلائی کرتے ہیں اور برے اعمال کی جہ نیک اعمال کو رواج دیتے ہیں اور بجائے دولت کی محبت میں گرفتار ہونے کے مال و دولت کو بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ یعنی اگر ایمان پہ استقامت نصیب ہو تو یہ توفیق عمل نصیب ہوتی ہے ورنہ بندہ برائی میں پھنس جاتا ہے اور دولت کی محبت میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ اور انہیں یہ توفیق نصیب ہے کہ کہ جب ان کفار کی خرافات اور اعتراضات سنتے ہیں تو پرواہ نہیں کرتے اور کہتے ہیں میاں تم جو چاہو کرو اس کا بدلہ تمہیں کو ملے گا اور اپنے اعمال کا بدلہ ہم پائیں گے۔ ہم آپ سے معذرت چاہتے اور ایسی جاہلانہ گفتگو میں پڑنا نہیں چاہتے یعنی کافروں کے اعتراضات سے متاثر ہونا اور فضول بحث میں پڑنا بجائے خود بری بات ہے جس سے اللہ انہیں بچاتا ہے۔ آگے ارشاد ہوتا ہے کہ آپ کا کام ہدایت پہنچانا تو ہے مگر ہدایت پر چلانا آپ کا کام نہیں کہ آپ تو چاہتے ہیں سب کفار اسلام قبول کرلیں مگر ایسا نہیں ہوسکتا یہ تو اللہ کی پسند ہے کہ وہ کسے ہدایت بخشتا ہے اور اس نے بتا دیا ہے کہ جس کے دل میں آپ کے ارشادات سن کر ہدایت کی طلب پیدا ہوگی اسے ضرور ہدایت بخشے گا ورنہ نہیں تو وہ ہدایت کے طلب گاروں سے بہت اچھی طرح واقف ہے۔ ابوطالب کے بارہ میں : مفسرین کرام کے مطابق یہ آیت ابو طالب کے بارہ میں نازل ہوئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بہت خواہش تھی انہیں ایمان نصیب ہو مگر خود وہ آمادہ نہ ہوئے۔ صاھب روح المعانی نے اس موضوع پر بحث سے منع فرمایا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو طبعی طور پر دکھ پہنچنے کا احتمال ہے۔ دنیا کے نقصان کا خوف بھی ایمان لانے میں رکاوٹ بن سکتا ہے : ان کفار کے دلوں میں تو دنیا کی محبت ایسے سمائی ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کی بات مان لیں اگرچہ بات تو آپ کی حق ہے مگر ہمیں کفار سخت نقصان پہنچائیں گے اور گھروں تک سے نکال دیں گے یہی حال آج کے مسلمان کہ نماز روزہ تو کرتا ہے مگر عملی زندگی میں مغرب کی کافرانہ اداؤں کا اثر ہے کہ کہیں امریکہ ناراض نہ ہوجائے اور یہ اعتراض اہل مکہ کو تو زیب ہی نہیں دیتا کہ ان کے لیے اللہ نے حرم کو جائے امن بنا دیا ہے جہاں کوئی کسی پر زیادتی نہیں کرتا اور روئے زمین سے ہر قسم کے میوہ جات یہاں کھنچے چلے آتے ہیں حتی کہ سارا سال سارے موسموں کے اور ساری دنیا کہ پھل دستیاب ہوتے ہیں اور کبھی کمی واقع نہیں ہوتی۔ یہ ہمارا بہت بڑا احسان ہے مگر لوگ اس کا شعور ہی نہیں رکھتے۔ پھر دولت دنیا کا بھروسہ کیا ہے کتنے لوگ تھے جو بڑے ٹھاٹھ سے رہا کرتے تھے لیکن جب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی تعلیمات کا انکار کیا تو اب یہ ان کے گھر ویران پڑے ہیں کہ اس کے بعد وہ زیادہ دیر تک نہ رہ سکے۔ اس لیے کہ یہ دنیا اور اس کی دولت کے مالک اور وارث ہم ہیں جب تک چاہیں دیں اور جب چاہیں واپس لے لیں۔ اور آپ کا پروردگار ایسا کریم ہے کہ جب تک کسی جگی کے باسی ظلم میں ایک خاص حد تک نہ چلے جائیں درگزر فرماتا ہے اور مہلت دیتا ہے لیکن اگر باز نہ آئیں تو ہلاک کردیے جاتے ہیں لہذا جس مال و دولت اور گھر گھاٹ کو یہ بچانا چاہتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ایمان لونے سے مالی نقصان نہ ہو وہ محض چند روزہ دنیا کی زندگی کے لیے ان کے پاس ہے مگر ایمان لے آتے تو اس کا اجر جو اللہ کے پاس ہے اس سے بہت بہتر بھی ہے اور وہ ہمیشہ کے لیے بھی کیا ان میں اتنی عقل بھی نہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 55 : وصلنا (ہم نے ایک دوسرے سے ملایا) یئو تون ( وہ دیئے گئے ہیں) ‘ مرتین (مرۃ) دو مرتبہ ‘ یدرءون ( وہ دور کرتے ہیں) ‘ الحسنۃ (بھلائی ۔ خیر) السیئۃ (برائی) اللغو (بیکار۔ فضول) اعرضوا (انہوں نے منہ پھیرلیا) ‘ لانبتغی (ہم نہیں چاہتے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 55 : قرآن کریم میں اس مضمون کو کئی مرتبہ بیان کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کو ایمان اور عمل صالح کے ذریعہ اپنی دنیا اور آخرت کو بنانا اور سدھارنا ہوتا ہے وہ طرح طرح کے بہانے اور اعتراضات نہیں کرتے لیکن جو بد نصیب لوگ ہیں ان کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی بھر ایمان اور عمل صالح سے بھاگنے کے لئے بےتکی اور غیر سنجیدہ باتیں کرتے ہیں۔ چناچہ کفار مکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہر روز کوئی نہ کوئی سوال کرتے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ کہنے لگے کہ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو چند روز میں تو ریت کی تختیاں دے دی گئی تھیں آپ کو پورا قرآن کریم کسی کتابی شکل میں ایک ہی وقت میں کیوں نہ دیا گیا ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ قرآن کریم کو موقع کی مناسبت سے تھوڑا تھوڑا اس کئے نازل کیا جا رہا ہے تاکہ اچھی طرح سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی سہولت مل جائے اور اس پر پورا دھیان دیا جاسکے۔ فرمایا کہ قرآن کریم سے پہلے جن لوگوں کو اللہ کی کتابیں دی گئی تھیں ان میں بعض لوگ تو وہ ہیں جو جانتے بوجھتے حق و صداقت کا راشتہ اختیار نہیں کرتے کیونکہ اس سچائی کے راستے پر چلنے سے ان کے دنیاوی مفادات پر چوٹ پڑتی ہے لیکن ان ہی میں سے بعض وہ لوگ بھی ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ صرف اس کا اقرار کرتے ہیں بلکہ ان کی زبانوں پر یہی ہوتا ہے کہ ہماری کتابوں میں جو پیش گوئیاں کی گئے تھیں ان کی بنیادپرہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بالکل برحق کلام ہے اور ہمارے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے اور ان باتوں پر ہمیں پوری طرح یقین ہے اور ہم اس کے ” مسلم “ یعنی فرماں بردار ہیں۔ فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کی نیکیوں اور صبر پر دوگنا اجر عطا کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ لوگ گذشتہ انبیاء اور ان کی باتوں پر بھی یقین رکھتے ہیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر بھی انہیں یقین کامل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو برائی کا جواب شرافت سے دیتے ہیں اللہ نے ان کو جو کچھ عطا کیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔ جب وہ کسی لغو اور فضول بات کو سنتے ہیں تو نہ صرف اس سے منہ پھیر لیتے ہیں بلکہ فضول باتیں اور اعتراض کرنے والوں سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تم جو کچھ کرتے ہو وہ اعمال تمہارے لئے ہیں اور تم ان کے ذمہ دار ہو۔ ہم جہالت کی باتوں میں الجھنا نہیں چاہتے۔ تم پر سلامتی ہو۔ ان آیات کے پس منظر میں علماء مفسرین نے لکھا ہے کہ جب کچھ صحابہ کرام (رض) نے ملک حبش کی طرف ہجرت فرمائی اور وہاں کے عیسائیوں کے سامنے دین اسلام کی سچائی آگئی تو وہ اس کی پوری تحقیق کرنے کے لئے مکہ مکرمہ آئے اور انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ سوالات کئے اور قرآن کریم کی اس عالم گیر تحریک کا غور سے جائزہ لیا۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت فرمائی تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہر گئے۔ انہوں نے اس کلام کی تصدیق کی اور انہوں نے ایمان قبول کرلیا۔ جب ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کو اس کا علم ہوا تو اس نے ان سب لوگوں کو جو ایمان لے آئے تھے بہت برا بھلا کہا اور ملامت کی اور کہنے لگا کہ تم حالات معلوم کرنے آئے تھے مگر تم نے تو بہت جلد بازی کی اور ایمان بھی قبول کرلیا۔ ایمان قبول کرنے والوں نے کہا کہ جب سچائی ہمارے سامنے آچکی ہے تو ہم ایمان لانے میں دیر کیوں کریں۔ لہذا ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں ۔ ہم جاہلانہ باتوں میں الجھنا نہیں چاہتے۔ تم پر سلامتی ہو۔ ابوجہل کو اس جواب کی بالکل توقع نہ تھی اور وہ تلملا کر رہ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تعریف فرمائی جو اپنے ایمان پر صبر و تحمل سے جم گئے تھے اور انہوں نے کفار مکہ کے منہ پر جوتا مار دیا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے دوگنا اجر وثواب ہے کیونکہ وہ حجرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بھی ایمان لائے تھے اور نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی ان کو مکمل ایمان و یقین حاصل ہوچکا تھا۔ ان کی شان یہ ہے کہ انہوں نے کفار مکہ کی شرارتوں کا جواب نہایت شرافت سے دیا ہے اور دور دراز جگہ سے آکر اللہ کی راہ میں خرچ کر کے انہوں نے اللہ کے نزدیک ایک اہم مقام حاصل کرلیا ہے۔ ان کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ جب انہوں نے ابو جہل کی لغو باتوں کو سنا تو ان باتوں سے منہ پھیرلیا اور کہا کہ ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں ۔ تم پر سلامتی ہو۔ ہم جہالتوں کی باتوں میں الجھنا نہیں چاہتے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی ہم تو دفعة واحدة بھیجنے پر بھی قادر ہیں مگر ان ہی کی مصلحت سے تھوڑا تھوڑا نازل کرتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بیشک حق آجانے کے باوجود لوگ اپنی خواہشات کے بندے بنے رہے اس کے باوجود اللہ تعالیٰ لوگوں کی خیر خواہی اور ہدایت کی خاطر مسلسل ان کی رہنمائی کا بندوبست کرتا رہا۔ جس بنا پر ہر دور میں کچھ نہ کچھ لوگ ہدایت قبول کرنے والے ضرور موجود رہے ہیں۔ رب کریم نے لوگوں کی رہنمائی کے لیے ہمیشہ اور مسلسل رہنمائی کا بندوبست فرمایا ہے۔ راہنمائی انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعے ہو یا ان کے جانشینوں کے واسطے سے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی رہنمائی کا ہمیشہ سے بندوبست کر رکھا ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جانشینوں کی طرف سے قیامت تک جاری رہے گا۔ تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور اپنی دنیا اور آخرت کو بہتر بنالیں۔ جو لوگ صدق دل کے ساتھ پہلی کتابوں پر ایمان لائے اور اپنے دور کے نبی کی پیروی کرتے رہے ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کی جاتی ہے تو بہانہ سازی کی بجائے وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے ہم اس کے تابع فرمان ہوتے ہیں۔ پہلے دن سے ہدایت کا بندوبست : (قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًا فَاِمَّا یَاْتِیْنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لاَ ھُمْ یَحْزَنُوْن) [ البقرۃ : ٣٨] ” ہم نے حکم دیا تم سب یہاں سے اتر جاؤ جب تمہارے پاس میری ہدایت پہنچے، تو جنہوں نے میری ہدایت کی تابعداری کی ان پر کوئی خوف و غم نہیں ہوگا۔ “ ایمان لانے والے تمام مسلم تھے اور ہیں : (وَ جَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖ ھُوَ اجْتَبٰکُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰھِیْمَ ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ ھٰذَا لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَھِیْدًا عَلَیْکُمْ وَ تَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَے النَّاسِ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ اعْتَصِمُوْا باللّٰہِ ھُوَ مَوْلٰکُمْ فِنِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ ) [ الحج : ٧٨] ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں اپنے کام کے لیے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر قائم ہوجاؤ۔ اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام ” مسلم “ رکھا تھا اور اس قرآن میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ پس نماز قائم کرو زکوٰۃ دو اور اللہ سے وابستہ رہو جو تمہارا مولیٰ ہے بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لیے ہمیشہ سے رہنمائی کا بندوبست کر رکھا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اس لیے نازل کیا کہ لوگ اس سے ہدایت پائیں۔ ٣۔ پہلی کتابوں پر سچے دل سے ایمان لانے والے قرآن مجید پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ سے لوگوں کی راہنمائی کا بندوبست فرمایا : ١۔ ہدایت وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت قرار دے۔ (البقرۃ : ١٢٠) ٢۔ ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے۔ (القصص : ٥٦) ٣۔ وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : ٢١٣) ٤۔ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے بغیر کوئی ہدایت نہیں پاسکتا۔ (الاعراف : ٤٣) ٥۔ ہدایت جبری نہیں اختیاری چیز ہے۔ (الدھر : ٣) ٦۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی کسی کو (جبراً ) ہدایت نہیں دے سکتے تھے۔ (القصص : ٥٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

سابق اہل کتاب قرآن کریم پر ایمان لاتے ہیں ان کے لیے دہرا اجر ہے یہ پانچ آیات ہیں پہلی آیت میں یہ فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن کو اس طرح نازل کیا کہ یکے بعد دیگرے آیات نازل ہوتی رہی ہیں جن میں وعدے بھی ہیں وعیدیں بھی، قصے بھی ہیں اور عبرت کے واقعات بھی، نصائح بھی ہیں اور مواعظ بھی، ان کا تقاضا یہ ہے کہ ان سے نصیحت حاصل کریں شرک اور کفر کو چھوڑیں۔ قرآن لانے والے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں۔ دوسری اور تیسری آیت میں اہل کتاب کے بارے میں فرمایا کہ جنہیں اس سے پہلے کتاب دی گئی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصاف پسند چند یہودیوں نے اسلام قبول کرلیا جن میں حضرت عبداللہ بن سلام (رض) بھی تھے اور حضرت سلمان فارسی (رض) جو پہلے نصرانی تھے وہ بھی ایمان لے آئے۔ پھر چند سال کے بعد یہ ہوا کہ حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) (جو ہجرت کرنے والوں کی جماعت میں حبشہ چلے گئے تھے اور انہوں نے ہی وہاں کے بادشاہ نجاشی اور اس کے درباریوں کے سامنے سورة مریم پڑھی تھی) کے ساتھ بتیس آدمی حبشہ سے آئے ان لوگوں نے بھی اسلام قبول کیا، حق ظاہر ہونے کے بعد ان لوگوں نے تامل نہیں کیا اور ایمان قبول کرلیا۔ انہوں نے یوں کہا کہ ہم تو پہلے ہی سے اس بات کو مانتے تھے کہ نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوں گے اور ان پر کتاب نازل ہوگی۔ چوتھی آیت میں مؤمنین اہل کتاب کے بارے میں فرمایا کہ انہیں ان کے صبر کرنے کی وجہ سے دہرا اجر ملے گا۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تین شخص ایسے ہیں جن کے لیے دو اجر ہیں ایک اہل کتاب میں سے وہ شخص جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور محمد رسول اللہ پر ایمان لایا اور دوسرا وہ مملوک غلام جس نے اللہ کا حق ادا کیا (فرائض و واجبات کی پابندی کی اور جو احکام اس سے متعلق تھے ان کو ادا کرتا رہا) اور اس نے اپنے آقاؤں کا حق بھی ادا کیا۔ اور تیسرا وہ شخص جس کے پاس کوئی لونڈی تھی اس سے وہ جماع کرتا تھا پھر اسے اس نے ادب سکھایا اور اچھی طرح ادب سکھایا اور اسے تعلیم دی اور چھی طرح تعلیم دی۔ پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کرلیا۔ سو اس شخص کے لیے (بھی) دو اجر ہیں۔ (رواہ البخاری ص ٢٠: ج) حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ اہل کتاب میں سے جو شخص اسلام قبول کرے اس کے لیے ایک اجر اپنے نبی پر ایمان لانے کا اور ایک اجر خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا ہے۔ آیت میں جو لفظ (بِمَا صَبَرُوْا) ہے اس میں یہ بتایا کہ صبر کرنے کی وجہ سے انہیں دہرا اجر ملے گا۔ صبر میں سب کچھ داخل ہے پہلے نبی کی طرف سے جو اعمال خیر پہنچے تھے ان پر عمل کرنا اور خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے جو اعمال ملے ان پر عمل کرنا اور ایمان قبول کرنے کے بعد یہود و نصاریٰ سے جو تکلیفیں پہنچیں مال اور جائیداد سے ہاتھ دھونا پڑا صبر میں یہ سب چیزیں شامل ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

48:۔ یہ ترغیب الی القرآن ہے۔ ہم نے کفار مکہ کے پاس پے بہ پے اور مسلسل آیات بھیجیں اور مسئلہ توحید کو ہر طرح واضح کیا تاکہ وہ سمجھیں اور مانیں لیکن اگر اس کے باوجود بھی وہ نہیں مانتے تو نہ مانیں جن کو اللہ نے توفیق دی ہے وہ تو مان ہی لیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

51۔ اور ہم نے ان کے لئے بات کا سلسلہ جاری رکھا اور اس کلام کو پے در پے تھوڑا تھوڑا بھیجا تا کہ یہ نصیحت مانیں اور یاد کھیں ۔ یہ کافروں کے سابقہ اعتراض کا شاید جواب ہے کہ یہ قرآن کریم توریت کی طرح دفعتہ کیوں نہیں دیا گیا ۔ لو لا اوتی مثل ما اوتی موسیٰ ، جو اب کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑا تھوڑا نازل کیا اور کلام کا سلسلہ جاری رکھا تا کہ یہ نصیحت قبول کریں اور اس طرح قرآن کریم کے یاد رکھنے میں آسانی ہو اور یوں بھی ہوسکتا ہے کہ تمام کتب سماوی کے سلسلے کا اظہار ہو کر ہم پے در پے صحائف اور کتابیں نازل فرماتے ہیں ۔ جن میں زبور ، توریت ، انجیل اور قرآن مجید مشہور ہیں ۔ یہ سلسلہ نزول صحائف اور کتب کا اس لئے جاری رکھا اور ایک صحیفہ کے بعد دوسرا صحیفہ اور ایک کتاب کے بعد دوسری کتاب کا نزول فرمایا تا کہ ان منکروں کو بار بار سننے سے نصیحت ہو چونکہ تذکرے کے معنی یاد کرنا اور نصیحت قبول کرنا یہ دونوں ہیں اس لئے ہم نے دونوں کی رعایت رکھی ہے۔ بہرحال ! یا تو کتب سماویہ کے یکے بعد دیگر نازل فرمانے کی طرف اشارہ ہے اور یا قرآن کریم کے تھوڑا تھوڑا اور پے در پے نازل فرمانے کے متعلق اشارہ ہے ہم نے دونوں مطلب بیان کردیئے ہیں ۔