Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 52

سورة القصص

اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِہٖ ہُمۡ بِہٖ یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۵۲﴾ النصف

Those to whom We gave the Scripture before it - they are believers in it.

جس کو ہم نے اس سے پہلے کتاب عنایت فرمائی وہ تو اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Believers among the People of the Book Allah tells: الَّذِينَ اتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُوْمِنُونَ Those to whom We gave the Scripture before it, they believe in it. Allah tells us that the pious scholars among the People of the Book believe in the Qur'an, as He says: الَّذِينَ اتَيْنَـهُمُ الْكِتَـبَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَوَتِهِ أُوْلَـيِكَ يُوْمِنُونَ بِهِ Those to whom We gave the Book recite it as it should be recited, they are the ones who believe therein. (2:121) وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ لَمَن يُوْمِنُ بِاللَّهِ وَمَأ أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَأ أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَـشِعِينَ للَّهِ And there are, certainly, among the People of the Scripture, those who believe in Allah and in that which has been revealed to you, and in that which has been revealed to them, humbling themselves before Allah. (3:199) قُلْ ءَامِنُواْ بِهِ أَوْ لاَ تُوْمِنُواْ إِنَّ الَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلٌّذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَأ إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولاً Verily, those who were given knowledge before it, when it is recited to them, fall down on their faces in humble prostration. And they say: "Glory be to our Lord! Truly, the promise of our Lord must be fulfilled." (17:107-108) ... وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ امَنُواْ الَّذِينَ قَالُوَاْ إِنَّا نَصَارَى ذَلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا امَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ ... and you will find the nearest in love to the believers those who say: "We are Christians." That is because among them are priests and monks, and they are not proud. And when they listen to what has been sent down to the Messenger, you see their eyes overflowing with tears because of the truth they have recognized. They say: "Our Lord! We believe; so write us down among the witnesses." (5:82-83) Sa`id bin Jubayr said, "This was revealed concerning seventy priests who were sent by An-Najashi (ruler of Ethiopia). When they came to the Prophet, he recited to them: يس وَالْقُرْءَانِ الْحَكِيمِ Ya Sin. By the Qur'an, full of wisdom. (36:1-2) until he completed the Surah. They began to weep, and they embraced Islam. These other Ayat were revealed concerning them: الَّذِينَ اتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُوْمِنُونَ وَإِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ قَالُوا امَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ

اہل کتاب علماء اہل کتاب کے علماء درحقیقت اللہ کے دوست تھے ان کے پاکیزہ اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ قرآن کو مانتے ہیں جیسے فرمان ہے جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اور وہ سمجھ بوجھ کر پڑھتے ہیں ان کا تو اس قرآن پر ایمان ہے ۔ اور آیت میں ہے کہ بعض اہل کتاب ایسے بھی ہیں جو اللہ کو مان کر تمہاری طرف نازل شدہ کتاب اور اپنی طرف اتری ہوئی کتاب کو بھی مانتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں ۔ اور جگہ ہے پہلے کے اہل کتاب ایسے بھی ہیں کہ ہمارے اس قرآن کی آیتیں سن کر سجدوں میں گر پڑتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں کہ دعا ( وَّيَـقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا ١٠٨؁ ) 17- الإسراء:108 ) اور آیت میں ہے ( وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰى ۭذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ 82؀ ) 5- المآئدہ:82 ) یعنی مسلمانوں کے ساتھ دوستی کے اعتبار سے سب لوگوں سے قریب تر انہیں پاؤ گے جو اپنے تئیں انصاری کہتے ہیں اس لیے کہ ان میں علماء اور مشائخ تھے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نجاشی حبشہ کے بھیجے ہوئے آئے تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سورۃ یاسین سنائی جسے سن کر یہ رونے لگے اور مسلمان ہوگئے ۔ انہی کے بارے میں یہ آیتیں اتریں کہ یہ انہیں سنتے ہی اپنے موحد مخلص ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور قبول کرکے مومن مسلم بن جاتے ہیں ۔ ان کی ان صفتوں پر اللہ بھی انہیں دوہرا اجر دیتا ہے ایک پہلی کتاب کو ماننے کا دوسرا قرآن کو تسلیم کرنے وتعمیل کا ۔ یہ اتباع حق پر ثابت قدمی کرتے ہیں جو دراصل ایک مشکل اور اہم کام ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تین قسم کے لوگوں کو دوہرا اجر ملتا ہے اہل کتاب جو اپنے نبی کو مان کر پھر مجھ پر بھی ایمان لائے ۔ غلام مملوک جو اپنے مجازی آقا کی فرماں برداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حق کی ادائیگی بھی کرتا رہے اور وہ شخص جس کے پاس کوئی لونڈی ہو جسے وہ ادب وعلم سکھائے پھر آزاد کرے اور اس سے نکاح کرلے ۔ قاسم بن ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں فتح مکہ والے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کیساتھ ہی اور بالکل پاس ہی تھا ۔ آپ نے بہت بہترین باتیں ارشاد فرمائیں جن میں یہ بھی فرمایا کہ یہود ونصاری میں جو مسلمان ہوجائے اسے دوہرا دوہرا اجر ہے اور اس کے عام مسلمانوں کے برابر حقوق ہیں ۔ پھر ان کے نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں ۔ کہ یہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے بلکہ معاف کردیتے ہیں ۔ درگزر کردیتے ہیں ۔ اور نیک سلوک ہی کرتے ہیں اور اپنی حلال روزیاں اللہ کے نام خرچ کرتے ہیں اپنے بال بچوں کا پیٹ بھی پالتے ہیں زکوٰۃ صدقات وخیرات میں بھی بخیلی نہیں کرتے ۔ لغویات سے بچے ہوئے رہتے ہیں ۔ ایسے لوگوں سے دوستیاں نہیں کرتے ایسی مجلسوں سے دور رہتے ہیں بلکہ اگر اچانک گزر ہو بھی جائے تو بزرگانہ طور پر ہٹ جاتے ہیں ایسوں سے میل جول الفت محبت نہیں کرتے صاف کہہ دیتے ہیں کہ تمہاری کرنی تمہارے ساتھ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ ۔ یعنی جاہلوں کی سخت کلامی برداشت کرلیتے ہیں انہیں ایسا جواب نہیں دیتے کہ وہ اور بھڑکیں بلکہ چشم پوشی کرلیتے ہیں اور کترا کر نکل جاتے ہیں ۔ چونکہ خود پاک نفس ہیں اس لئے پاکیزہ کلام ہی منہ سے نکالتے ہیں ۔ کہہ دیتے ہیں کہ تم پر سلام ہو ، ہم نہ جاہلانہ روش پر چلیں نہ جہلات کی چال کو پسند کریں ۔ امام محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ حبشہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تقریبا بیس نصرانی آئے ۔ آپ اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے یہیں یہ بھی بیٹھ گئے اور بات چیت شروع کی اس وقت قریشی اپنی اپنی بیٹھکوں میں کعبہ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تے ۔ ان عیسائی علماء نے جب سوالات کرلئے اور جوابات سے ان کی تشفی ہوگئی تو آپ نے دین اسلام ان کے سامنے پیش کیا اور قرآن کریم کی تلاوت کرکے انہیں سنائی ۔ چونکہ یہ لوگ پڑھے لکھے سنجیدہ اور روشن دماغ تھے قرآن نے ان کے دلوں پر اثر کیا اور ان کے آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔ انہوں نے فورا دین اسلام قبول کرلیا اور اللہ پر اور اللہ کے رسول پر ایمان لائے ۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفتیں انہوں نے اپنی آسمانی کتابوں میں پڑھی تھیں سب آپ میں موجود پائیں ۔ جب یہ لوگ آپ کے پاس جانے لگے تو ابو جہل بن ہشام ملعون اپنے آدمیوں کو لئے ہوئے انہیں راستے میں ملا اور تمام قریشیوں نے مل کر انہیں طعنے دینے شروع کئے اور برا کہنے لگے کہ تم سے بدترین وفد کسی قوم کا ہم نے نہیں دیکھا تمہاری قوم نے تمہیں اس شخص کے حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجا یہاں تم نے آبائی مذہب کو چھوڑ دیا اور اس کا ایسا رنگ تم پر چڑھا کہ ذراسی دیر میں اپنے دین کو ترک کرکے دین بدلدیا اور اسی کا کلمہ پڑھنے لگے تم سے زیادہ احمق ہم نے کسی کو نہیں دیکھا ۔ انہوں نے ٹھنڈے دل سے یہ سب سن لیا اور جواب دیا کہ ہم تمہارے ساتھ جاہلانہ باتیں کرنا پسند نہیں کرتے ہمارا دین ہمارے ساتھ تمہارا مذہب تمہارے ساتھ ۔ ہم نے جس بات میں اپنی بھلائی دیکھی اسے قبول کرلیا ۔ یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یہ وفد نجران کے نصرانیوں کا تھا واللہ اعلم ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیتیں انہی کے بارے میں اتری ہیں ۔ حضرت زہری سے ان آیتوں کا شان نزول پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا میں تو اپنے علماء سے یہی سنتا چلا آیا ہوں کہ یہ آیتیں نجاشی اور ان کے اصحاب رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتری ہیں ۔ اور سورۃ مائدہ کی آیتیں ( ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ 82؀ ) 5- المآئدہ:82 ) تک کی آیتیں بھی انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

521اس سے مراد یہودی ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے، جیسے عبد اللہ بن سلام وغیرہ یا وہ عیسائی ہیں جو حبشہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے تھے اور آپ کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر مسلمان ہوگئے تھے (ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٠] سابقہ آیات میں مشرکوں کا حال یہ بتلایا گیا کہ موسیٰ کے معجزات کی بات کرنے کے باوجود نہ تورات پر ایمان لاتے ہیں اور نہ قرآن پر اور اس کی وجہ محض ان کا تعصب اور خواہش نفس کی پیروی ہے۔ اب ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جن کی عادات و خضائل ان کے بالکل برعکس ہیں۔ یعنی وہ خواہش نفس کی کسی وقت بھی پیروی نہیں کرتے۔ بلکہ ہر وقت اللہ کے فرمانبردار بن کر رہتے ہیں۔ تورات نازل ہوئی تو وہ اس پر ایمان لائے۔ اور جب قرآن نازل ہوا تو اس پر ایمان لائے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ ۔۔ : یعنی درحقیقت یہ لوگ ضد اور عناد میں گرفتار ہیں، ہدایت کے طالب ہی نہیں، کیونکہ اگر یہ فی الواقع ہدایت کے طلب گار ہوتے تو ہمارے پے در پے نصیحت کرنے سے ہدایت پا جاتے، جیسا کہ کئی لوگ جنھیں ہم نے اس سے پہلے کتاب دی، وہ اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں، جیسا کہ عبداللہ بن سلام، سلمان فارسی، تمیم داری، جارود عبدی اور رفاعہ قرظی (رض) وغیرہ اور وہ عیسائی جو نجاشی کے پاس تھے اور قرآن سن کر رونے لگے تھے، جن کا ذکر سورة اعراف (١٥٩) میں گزر چکا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ (As for those to whom We gave the Book before this, they believe in it. (Qur&an) - 28:52). In this verse those people of the book are mentioned who had faith in the prophethood of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and revelation of the Qur&an on the basis of the prophesies given by Torah and Injil, even before the coming of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and the Qur&an. Thus they converted to Islam when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) announced his prophethood. Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) has reported that forty courtiers of the king Najashi of Habshah (Ethiopia) came to Madinah when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was busy in the Battle of Khybar. They also joined the jihad, and some got wounded, but none was killed. When they noticed the economic hardship of the companions, they told the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that they were, by the grace of Allah, quite wealthy, and sought his permission to bring some of it when they would come next. On this occasion this verse was revealed الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿٥٢﴾ وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّ‌بِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ ﴿٥٣﴾ أُولَـٰئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَ‌هُم مَّرَّ‌تَيْنِ بِمَا صَبَرُ‌وا وَيَدْرَ‌ءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَ‌زَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴿٥٤﴾ (52 - 54). (Marduya, Tabrani, Mazhari) Sayyidna Said Ibn Jubair (رض) has narrated that when Sayyidna Ja&far (رض) had gone to Habshah before the hijrah to Madinah, and presented the teachings of Islam in the court of Najashi, at that time Najashi and many of his courtiers, who were people of the book, had submitted to Islam, as Allah Ta` ala had put faith in their hearts. (Mazhari)

خلاصہ تفسیر (اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت ان بشارتوں سے بھی ثابت ہے جن کی ان علماء نے تصدیق کی ہے جن کو تورات و انجیل میں ان بشارتوں کا علم ہے۔ چنانچہ) جن لوگوں کو ہم نے قرآن سے پہلے (آسمانی) کتابیں دی ہیں (ان میں جو منصف ہیں) وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور جب قرآن ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے بیشک یہ حق ہے (جو) ہمارے رب کی طرف سے (نازل ہوا ہے اور) ہم تو اس (کے آنے) سے پہلے بھی (اپنی کتابوں کی بشارتوں کی بناء پر) مانتے تھے اب نزول کے بعد تجدید عہد کرتے ہیں۔ یعنی ہم ان لوگوں کی طرح نہیں جو نزول قرآن سے پہلے تو اس کی تصدیق کرتے تھے بلکہ اس کے آنے کے منتظر اور شائق تھے مگر جب قرآن آیا تو اس کے منکر ہوگئے (فَلَمَّا جَاۗءَھُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ ) اس سے صاف ظاہر ہوگیا کہ تورات و انجیل کی بشارتوں کے مصداق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی تھے جیسا کہ سورة شعراء کے آخر میں فرمایا ہے اَوَلَمْ يَكُنْ لَّهُمْ اٰيَةً اَنْ يَّعْلَمَهٗ عُلَمٰۗؤُا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ یہاں تک رسالت محمدیہ پر علماء بنی اسرائیل کی شہادت کا بیان ہوا آگے مومنین اہل کتاب کی فضیلت کا بیان ہے) ان لوگوں کو ان کی پختگی کی وجہ سے دوہرا ثواب ملے گا (کیونکہ وہ پہلی کتاب پر ایمان رکھنے کے ضمن میں بھی قرآن پر ایمان رکھتے تھے اور بعد نزول کے بھی اس پر قائم رہے اور اس کی تجدید کی، یہ تو ان کے اعتقاد اور جزاء کا بیان تھا آگے اعمال و اخلاق کا ذکر ہے کہ) اور وہ لوگ نیکی (اور تحمل) سے بدی (اور ایذاء) کا دفعیہ کردیتے ہیں اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور (جس طرح یہ لوگ عملی ایذاؤں پر صبر کرتے ہیں اسی طرح) جب کسی سے (اپنے متعلق) کوئی لغو بات سنتے ہیں (جو قولی ایذاء ہے) تو اس کو (بھی) ٹال جاتے ہیں اور (سلامت روی کے طور پر) کہہ دیتے ہیں کہ (ہم کچھ جواب نہیں دیتے) ہمارا عمل ہمارے سامنے آوے گا اور تمہارا عمل تمہارے سامنے (بھائی) ہم تو تم کو سلام کرتے ہیں ( ہم کو جھگڑے سے معاف رکھو) ہم بےسمجھ لوگوں سے الجھنا نہیں چاہتے۔ معارف و مسائل اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ ، اس آیت میں ان اہل کتاب کا ذکر ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت و نبوت اور نزول قرآن سے پہلے ہی تورات و انجیل کی دی ہوئی بشارتوں کی بناء پر نزول قرآن اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت پر یقین رکھتے تھے۔ پھر آپ مبعوث ہوئے تو اپنے سابق یقین کی بناء پر ایمان لے آئے۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نجاشی بادشاہ حبشہ کے درباریوں میں سے چالیس آدمی مدینہ طیبہ میں اس وقت حاضر ہوئے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ خیبر میں مشغول تھے یہ لوگ بھی جہاد میں شریک ہوگئے، بعض کو کچھ زخم بھی لگے مگر ان میں سے کوئی مقتول نہیں ہوا۔ انہوں نے جب صحابہ کرام کی معاشی تنگی کا حال دیکھا تو آپ سے درخواست کی کہ ہم اللہ کے فضل سے مالدار اصحاب جائیداد ہیں ہم اپنے ملک واپس جا کر صحابہ کرام کے لئے مال فراہم کر کے لائیں آپ اجازت دے دیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ (الی قولہ) وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ (اخرجہ ابن مردویہ و الطبرانی فی الاوسط۔ مظہری) اور حضرت سعید بن جبیر کی روایت ہے کہ حضرت جعفر اپنے ساتھیوں کے ساتھ جب ہجرت مدینہ سے پہلے حبشہ گئے تھے اور نجاشی کے دربار میں اسلام کی تعلیمات پیش کیں تو نجاشی اور اس کے اہل دربار جو اہل کتاب تھے اور تورات و انجیل میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشارت اور علامتیں دیکھے ہوئے تھے ان کے دلوں میں اسی وقت اللہ نے ایمان ڈال دیا۔ (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰہُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِہٖ ہُمْ بِہٖ يُؤْمِنُوْنَ۝ ٥٢ إِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٢) جن حضرات کو ہم نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اور نزول قرآن کریم سے پہلے توریت کا علم دیا ہے یعنی حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی یہ چالیس کے قریب ہیں کچھ ان میں سے شام کی طرف سے آئے اور کچھ یمن سے وہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان لائے ہیں۔ شان نزول : ( آیت ) ”۔ الذین اتنہم الکتب “۔ (الخ) نیز ابن جریر (رح) نے علی بن رفاعہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ اہل کتاب میں سے دس حضرات کی جماعت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی جن میں ان کے والد رفاعہ بھی تھے اور آکر مشرف بااسلام ہوگئے تو ان کو کفار کی طرف سے تکلیف پہنچائی گئی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور قتادہ (رض) سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہم یہ ذکر کیا کرتے تھے کہ یہ آیت اہل کتاب کے کچھ حضرات کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تک حق پر قائم تھے پھر آپ پر ایمان لائے جن میں سے عثمان اور عبداللہ بن سلام ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٢ (اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِہٖ ہُمْ بِہٖ یُؤْمِنُوْنَ ) ” یعنی اہل کتاب میں ایسے لوگ موجود ہیں جو دل سے مانتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

72 This dces not mean that all the people of the Book (the Jews and the Christians) affirm faith in it. This, in fact, contains an allusion to the event that occurred during the period when this Surah was revealed, and was meant to put to shame the people of Makkah, as if to say, "You are denying and rejecting a blessing that has been sent in your own city, whereas the people from far off places, when they hear of it, come to recognize its worth and benefit from it." This event has been related by lbn Hisham, Baihaqi and others on the authority of Ibn Ishaq, thus: "After the migration to Habash when the news about the Holy Prophet's advent and message spread in that land, a deputation of about twenty Christians came to Makkah to find out the truth, and they met the Holy Prophet in the Masjid-al-Haram A crowd of the Quraish also gathered around them to watch what happened. The members of the deputation asked the Holy Prophet some questions, which he answered. Then he invited them to accept Islam and recited some verses of the Qur'an before them. When they heard the Qur'an, tears came down from their eyes and they confirmed its being Allah's Word and believed in the Holy Prophet. When the meeting was over and the people left, Abu Jahl and some of his men overtook them on the way, and rebuked them severely, saying, "Never has a more stupid company come here before: O foolish men you were sent here by your people with a view to inquiring about this man. but no sooner did you meet him than you gave up your own faith! " Those gentle people answered, "Peace be to you! We have no wish to enter all argument with you: you are responsible for your faith and we are for ours: we cannot afford to deprive ourselves knowingly of goodness." (Ibn Hisham, Vol. II, p. 32; Al-Bidayah wanNihayah, Vol. III, p. 82. For further details, see E.N. 123 of Ash-Shu`araa).

سورة القصص حاشیہ نمبر : 72 اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ تمام اہل کتاب ( یہودی اور عیسائی ) اس پر ایمان لاتے ہیں ، بلکہ یہ اشارہ دراصل اس واقعہ کی طرف ہے جو اس سورہ کے نزول کے زمانہ میں پیش آیا تھا ، اور اس سے اہل مکہ کو شرم دلانی مقصود ہے کہ تم اپنے گھر آئی ہوئی نعمت کو ٹھکرا رہے ہو حالانکہ دور دور کے لوگ اس کی خبر سن کر آرہے ہیں اور اس کی قدر پہچان کر اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ اس واقعہ کو ابن ہشام اور بیہقی وغیرہ نے محمد بن اسحاق کے حوالہ سے اس طرح روایت کیا ہے کہ ہجرت حبشہ کے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور دعوت کی خبریں حبش کے ملک میں پھیلیں تو وہاں سے 20 کے قریب عیسائیوں کا ایک وفد تحقیق حال کے لیے مکہ معظمہ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسجد حرام میں ملا ۔ قریش کے بہت سے لوگ بھی یہ ماجرا دیکھ کر گردو پیش کھڑے ہوگئے ۔ وفد کے لوگوں نے حضور سے کچھ سوالات کیے جن کا آپ نے جواب دیا ، پھر آپ نے ان کو اسلام کی طرف دعوت دی اور قرآن مجید کی آیات ان کے سامنے پڑھیں ۔ قرآن سن کر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور انہوں نے اس کے کلام اللہ ہونے کی تصدیق کی اور حضور پر ایمان لے آئے ، جب مجلس برخاست ہوئی تو ابوجہل اور اس کے چند ساتھیوں نے ان لوگوں کو راستہ میں جالیا اور انہیں سخت ملامت کی کہ بڑے نامراد ہو تم لوگ ، تمہارے ہم مذہب لوگوں نے تم کو اس لیے بھیجا تھا کہ تم شخص کے حالات کی تحقیق کر کے آؤ اور انہیں ٹھیک ٹھیک خبردو ، مگر تم ابھی اس کے پاس بیٹھے ہی تھے کہ اپنا دین چھوڑ کر اس پر ایمان لے آئے ۔ تم سے زیاہ احمق گروہ تو کبھی ہماری نظر سے نہیں ۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ سلام ہے بھائیو تم کو ، ہم تمہارے ساتھ جہالت بازی نہیں کرسکتے ، ہمیں ہمارے طریقے پر چلنے دو اور تم اپنے طریقے پر چلتے رہو ، ۔ ہم اپنے آپ کو جان بوجھ کر بھلائی سے محروم نہیں رکھ سکتے ۔ ( سیرت ابن ہشام ج 2 ، ص 32 ۔ البدایہ والنہایہ ، ج 3 ، ص 82 ) مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد سوم ، الشعراء ، حاشیہ 123 ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

29: یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کی سچائی کی ایک اور دلیل ہے اور وہ یہ کہ جن لوگوں کو پہلے آسمانی کتابیں دی جا چکی ہیں، یعنی یہودی اور عیسائی ان میں سے جو لوگ حق کے طالب تھے، وہ اس پر ایمان لے آئے ہیں، اور انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری اور قرآن کریم کے نزول کی بشارت پچھلی کتابوں میں موجود ہے، اس لیے وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری سے پہلے ہی آپ کو اور قرآن کریم کو مانتے تھے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:52) الذین اتینھم الکتب من قبلہ۔ جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے (قرآن سے پہلے) کتاب دے رکھی تھی۔ اس سے کون لوگ مراد ہیں اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) بعض کے نزدیک اس سے مراد حبشہ کا وہ وفد جسے حبشہ کے بجاشی نے اسلام کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے مکہ معظمہ بھیجا تھا ۔ انہوں نے جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بالمشافہ گفتگو اسلام کے بارے میں سنی اور کلام الٰہی بھی آپ کی زبان مبارک سے سماعت کیا تو وہ اتنے متاثر ہوئے کہ مسلمان ہوگئے۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ یہ ایک یہودیوں کا وفد تھا۔ (3) بعض کے نزدیک یہ اہل انجیل میں سے ایک گروہ تھا۔ اور بعض نے اور نام لئے ہیں ۔ لیکن اس بارے میں امام رازی (رح) کا قول بہت ہی جامع ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ کسی خصوصی سبب نزول سے کیا ہوتا ہے اعتبار تو عموم عبارت کا کیا جائے گا پس جس کسی میں بھی یہ صفات پائی جائیں گی وہ اس آیت کے حکم میں داخل ہوگا۔ الکتب سے مراد توریت۔ زبور۔ انجیل یا دیگر صحائف آسمانی ہیں من قبلہ میں ضمیر واحد مذکر غائب القرآن کی طرف راجع ہے۔ بہ : ای بالقران۔ ہم بہ یومنون۔ وہ اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

8 ۔ مراد ہیں وہ لوگ جو یہود سے مسلمان ہوگئے تھے جیسے عبد اللہ (رض) بن سلام (رض) وغیرہ یا وہ عیسائی جو نجاشی کے پاس سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور قرآن سن کر رونے لگے تھے۔ ان کا ذکر سورة اعراف آیت 83 میں گزر چکا ہے۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

الذین اتینھم الکتب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا نبتغی الجھلین (52 – 55) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ ان 70 پادریوں کے بارے میں ہے جنہیں نجاشی نے بھیجا تھا۔ جب یہ لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو آپ نے ان پر سورت یسین پڑھی۔ جب سورت ختم ہوگئی تو یہ لوگ رونے لگے اور مسلمان ہوگئے ان کے بارے میں زیر بحث آیات بھی نازل ہوئیں۔ الذین اتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یومنون (28: 52) ” وہ لوگ جنہیں ہم نے اس سے قبل کتاب دی ہے ، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں “۔ محمد ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں نقل کیا ہے ” اس کے بعد حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قریبا بیس آدمی آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تھے۔ یہ لوگ عیسائی تھے اور انہوں نے آپ کے بارے میں سنا تھا۔ یہ لوگ حبشہ سے آئے تھے۔ انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسجد حرام میں پایا۔ یہ لوگ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کرتے رہے۔ قریش کے کچھ لوگ کعبہ کے اردگرد محافل سجائے بیٹھے تھے۔ جب ان لوگوں کا سوال و جواب ختم ہوا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا اور ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا۔ جب انہوں نے قرآن مجید سنا تو ان کے آنسو جاری ہوگئے۔ انہوں نے دعوت الی اللہ قبول کرلی ، ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ انہوں نے اپنی کتابوں میں آپ کے بارے میں جو کچھ لکھا ہوا پایا تھا وہ علامات آپ میں معلوم کرلیں۔ جب یہ لوگ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے اٹھ کر جانے لگے تو ابوجہل اور ہشام نے چند دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کی راہ روک لی اور انہوں نے ان لوگوں سے کہا تم کس قدر بدبخت مسافر ہو ، تمہیں تمہارے ملک کے ہم مذہب لوگوں نے بھیجا تھا کہ اس شخص کے بارے میں معلومات لے کر آؤ، تم ابھی اس کے پاس اچھی طرح بیٹھے بھی نہ تھے کہ تم نے اپنا دین چھوڑ دیا اور اس شخص کی تصدیق کردی۔ ہم سمجھتے ہیں تم جیسا احمق اور کوئی سوار نہ ہوگا۔ انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، ہم تمہارے ساتھ جہالت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہمارا دین ہمارا ہے اور تمہارا دین تمہیں مبارک ہو۔ ہم اپنے آپ کو خیر سے دور نہیں رکھتے “۔ کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ وفد نجران کے نصاریٰ کا تھا۔ خدا ہی جانتا ہے کہ یہ وفد نجرانیوں کا تھا یا حبشیوں کا ۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی۔ الذین اتینھم الکتن من قبلہ ھم بہ یومنون (28: 52) کہتے ہیں میں نے زھری سے پوچھا کہ یہ آیات کس کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے علماء سے یہ سنتا رہا کہ یہ آیات نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور وہ آیات بھی جو سورت مائدہ میں ہیں۔ ذلک بان منھم قسیسین ورھبانا۔۔۔۔۔۔ فاکتبنا من الشھدین تک ۔ بہرحال یہ آیات جس کے بارے میں بھی نازل ہوئی ہوں ، قرآن ایک واقعہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس واقعہ کے بارے میں کفار جانتے تھے اور اس کا انکار نہ کرتے تھے تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ دنیا میں ایسے پاک نفس لوگ بھی ہیں جو قرآن کو سن کر اس کی تصدیق کرتے ہیں اور پھر اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور وہ اس سچائی کو اچھی طرح سمجھتے ہیں جو اس میں ہے۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ ان کے پاس جو سابق کتاب تھی۔ قرآن کی تعلیمات اس کے مطابق ہیں۔ ایسے لوگوں کو کوئی روکنے والا ایمان لانے سے روک بھی نہیں سکتا۔ نہ ان کے اندر کا ان کا نفس امارہ اور نہ بڑائی کا تصور اور گھمنڈ ہے اور ایسے لوگ پھر دوسرا جہلاء کی طرف سے دی جانے والی اذیتوں اور طعنوں کو بھی برداشت کرتے ہیں۔ اور ان ایذاؤں اور اپنی خواہشات نفس کے علی الرغم حق پر جم جاتے ہیں۔ الذین اتینھم ۔۔۔۔۔ یومنون (28: 52) ” وہ لوگ جنہیں اس سے قبل کتاب دی گئی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں “۔ اور قرآن کی حقانیت کے دلائل میں سے یہ ایک دلیل ہے ، ورنہ تمام کتابیں اللہ کی طرف سے ہیں۔ ان کے مضامین باہم ملتے جلتے ہیں جس کو اس کا ابتدائی حصہ دیا گیا وہ اس کے آخری حصہ میں بھی حق پاتا ہے ، مطمئن ہوتا ہے ، ایمان لاتا ہے ، اور جان لیتا ہے کہ یہ بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ واذا یتلی ۔۔۔۔۔۔ قبلہ مسلمین (28: 53) ” جب ان کو سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے۔ یہ واقعی حق ہے ، ہمارے رب کی طرف سے۔ ہم تو پہلے ہی مسلم ہیں “۔ یعنی یہ کلام اس قدر واضح ہے کہ اسے صرف تلاوت کی ضرورت ہے ، جن لوگوں کو پہلے کتاب دی گئی ہے وہ تو دیکھتے ہی معلوم کرلیتے ہیں کہ یہ اسی سرچشمے سے ہے۔ اور اس کا سرچشمہ بھی وہی ہے جس سے سچائی نکلتی ہے۔ جھوٹ وہاں سے نہیں آسکتا۔ ” یہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے “۔ اور یہ کہہ ” ہم تو اس سے پہلے سے مسلم تھے “۔ اللہ کے مسلم ہونے کا مفہوم ہے کہ ہم پہلے سے اللہ کے مطیع فرمان تھے۔ یہ لوگ جو اللہ کے مطیع فرمان تھے اور پھر انہوں نے محض سنتے ہی قرآن کی بھی تصدیق کردی۔ اولئک یوتون اجرھم مرتین بما صبروا (28: 54) ” یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا ، اس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی “۔ یہ کہ انہوں نے خالص اسلام پر صبر کیا ، انہوں نے اپنے دل و دماغ کو اسلام کی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے ذاتی خواہشات اور ہوائے نفس پر غلبہ پایا اور پہلے دین پر بھی جمے رہے اور دوسرے پر بھی جمے رہے۔ اس لیے ان کو دو مرتبہ اجر دیا جائے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے صبر کیا اور قبول حق کرنے کے بعد جم گئے۔ کسی عقیدے کو قبول کرنے کے بعد جم جانا بہت ہی مشکل کام ہے اور پھر خواہشات نفس ، چاہتوں ، بےراہ روی اور سرکشی کے خلاف جم جانا تو بہت ہی مشکل کام ہے۔ اور ان لوگوں نے یہ سب کام کیے۔ ان لوگوں نے لوگوں کی علامت کی بھی پرواہ نہ کی۔ اور لوگوں کی طرف سے ایذا رسانی کی پرواہ نہ کی۔ جیسا کہ سابقہ روایات میں ذکر ہوا۔ ویدرءون بالحسنۃ السیئۃ (28: 54) ” اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں “۔ یہ بھی ایک قسم کا صبر ہے۔ اور یہ صبر خالص صبر سے زیادہ پر مشقت ہوتا ہے۔ خالص صبر تو یہ ہے کہ ایذارسانی اور مذاق پر صبر کیا جائے۔ برائی پر صبر بہت مشکل ہے۔ نفسانی غرور کو صرف اسی طرح قابو میں لایا جاسکتا ہے کیونکہ نفس چاہتا ہے کہ مزاح اور ایذا رسانی کا جواب دیا جائے ، غصہ کیا جائے اور انتقام لے کر دل کو ٹھنڈا کیا جائے اور پھر ایذا پر صبر کرنے کے بعد دوسرا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ ایذا کے بدلے میں احسان کیا جائے۔ مزاح کے بدلے میں نرمی اور ٹھنڈے پن کا مظاہرہ کیا جائے اور پھر بدروی کے مقابلے میں اچھا رویہ اختیار کرنا اور برائی کے بدلے احسان کرنا صرف ان لوگوں کا کام ہے جو بھلائی اور احسان کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہوں۔ یہ مقام صرف اچھے مومن ہی حاصل کرسکتے ہیں۔ وہ لوگوں سے اذیت پاتے ہیں اور پھر بھی راضی اور مطمئن رہتے ہیں۔ ومما رزقنھم ینفقون (28: 54) ” اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں یہاں ان لوگوں کی قبولیت حق میں کشادہ دلی کے ساتھ ساتھ اتفاق فی سبیل اللہ کے سلسلے میں کشادہ دلی کا ذکر بھی کردیا گیا۔ کیونکہ نیکی اور سخاوت ایک ہی سرچشمے سئ نکلنے والی بھلائیاں ہیں اور یہ تب صادر ہوتی ہیں کہ جب انسان اپنی خواہشات نفس پر قابو پالے اور زمینی اقدار کے مقابلے میں اعلیٰ قدروں کو اہمیت دے۔ ان اقدار میں پہلی قدر کا تعلق نفسیات کی دنیا سے ہے اور دوسری کا معیشت سے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بسا اوقات ایمان اور انفاق کا ذکر ایک جگہ آتا ہے۔ ایمان پر صبر کرنے والوں اور خالص عقیدہ اختیار کرنے والوں کی ایک دوسری صفت : واذا سمعوا ۔۔۔۔۔ لا نبتغی الجھلین (28: 55) ” اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہوگئے کہ ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ، تم کو سلام ہے۔ ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے “۔ لغو کا مطلب فضول باتیں کرنا ہے جن میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ ان کے پیچھے کوئی مقصد ہو۔ یعنی وہ لاحاصل گفتگو جس سے دل و دماغ کے اندر کسی مفید علم و حکمت کا اضافہ نہ ہو۔ یعنی وہ گری ہوئی باتیں جن سے احساس و شعور میں اور زبان و کلام میں گندگی اور برائی کا اضافہ ہو۔ چاہے وہ کسی کے ساتھ مکالمے کی صورت میں ہوں یا کسی غائب شخص کے واقعات نقل کرتے ہوئے ہوں۔ مومن دل کبھی بھی اس قسم کی لغو باتوں میں مشغول نہیں ہوتے۔ نہ وہ لغو باتیں سنتے ہیں کیونکہ ان کے پیش نظر بلند وبالا امور ہوتے ہیں ، پاکیزہ اور نورانی باتیں۔ واذا سمعوا اللغو اعرضوا عنہ (28: 55) ” انہوں نے جب بیہودہ بات سنی تو کنارہ کش ہوگئے “۔ لیکن وہ اہل لغو پر نہ غصہ ہوتے ہیں ، نہ ان سے الجھتے ہیں کہ زبردستی منع کردیں اور نہ وہ ان کے ساتھ بحث شروع کرتے ہیں۔ کیونکہ اہل لغو کے ساتھ الجھنا بھی ایک طرح کا لغوا مر ہے۔ وہ بس ان کو چھوڑ کر علیحدہ ہوجاتے ہیں۔ وقالوا لنا ۔۔۔۔۔ سلم علیکم (28: 55) ” اور کہا ہمارے اعمال ہمارے لئے ، اور تمہارے اعمال تم کو سلام ہے “ نہایت ادب سے ، دعائے خیر کے ساتھ ، اس خواہش کے ساتھ کہ وہ بھی ہدایت یافتہ ہوجائیں۔ لیکن یہ خواہش رکھتے ہوئے بھی یہ ان کے لغو میں شریک نہیں ہوتے۔ لا نبتغی الجھلین (28: 55) ” ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار نہیں کرتے “۔ اور ہم یہ نہیں چاہتے کہ اپنا قیمتی وقت ان کے ساتھ ضائع کریں۔ نہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے لغو میں شریک ہوں اور خاموشی سے سنتے رہیں۔ ایسی رواداری کے بھی قائل نہیں۔ یہ ایک روشن نفس کی تصویر ہے جو نفس مومنہ ہے ، اپنے ایمان پر مطمئن ہے۔ لغو سے بالا و برتر ہے۔ لیکن کشادہ دل اور کشادہ دست ہے ۔ یہ نفس مومنہ ان لوگوں کے لیے رسم و راہ مقرر کرتی ہے جو صحیح راستہ پر چلنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا جاہلوں کے ساتھ جاہلیت میں اشتراک بھی نہیں ۔ ان کے ساتھ مخاصمت بھی نہیں ، ان پر غصہ بھی نہیں ، ان کے ساتھ ترش روئی بھی نہیں بلکہ سنجیدگی ، سربلندی ، کشادہ دلی اور برائی کرنے والے کے ساتھ بھی نیکی اور بھلائی۔ یہ اہل کتاب ، جو ایمان لائے ، ان کے ایمان لانے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی بڑا مجاہدہ کرنا نہیں پڑا۔ آپ نے صرف قرآن کی تلاوت فرمائی ، بس چند سوالات کیے اور ایمان قبول کرلیا جبکہ وہ خود اپنی قوم کے ساتھ آپ رات دن سالوں تک مجاہدہ کرتے رہے۔ پھر اپنے محبوب رشتہ داروں کے ساتھ تو بہت ہی محنت کرتے رہے۔ لیکن ان لوگوں کو ایمان نصیب نہ ہوا ۔ یہ بات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود جانتے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اختیار میں یہ بات نہیں ہے کہ آپ اپنے محبوبوں کو ہدایت دے دیں۔ اللہ تعالیٰ تو صرف ان لوگوں کو ہدایت عطا کرتا ہے جن کے نفس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ مستحق ہیں اور ایمان کے لیے تیار ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

49:۔ یہ پہلی کتابوں کے علماء سے نقلی دلیل ہے۔ علماء اہل کتاب میں جو انصاف پسند اور خدا ترس ہیں وہ تو اس قرآن پر ایمان لا چکے ہیں اور اس پر کما حقہ عمل بھی کرتے ہیں جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا یتلونہ حق تلاوتہ اولئک یومنون بہ (بقرہ رکوع 14) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

52۔ جن لوگوں کو ہم نے اس قرآن کریم سے پہلے کتب سماویہ عطا کی ہیں وہ اس قرآن کریم پر ایمان لانے ہیں ، یعنی اہل کتاب میں سے جو لوگ مصنف مزاج ہیں وہ نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جو بشارت ان کتابوں میں مذکور ہیں ان کو دیکھ کر اور پڑھ کر قرآن کا یقین کرتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں آگے مومنین اہل کتاب کے اور صاف بیان فرمائے۔