Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 72

سورة القصص

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیۡکُمُ النَّہَارَ سَرۡمَدًا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ مَنۡ اِلٰہٌ غَیۡرُ اللّٰہِ یَاۡتِیۡکُمۡ بِلَیۡلٍ تَسۡکُنُوۡنَ فِیۡہِ ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۷۲﴾

Say, "Have you considered: if Allah should make for you the day continuous until the Day of Resurrection, what deity other than Allah could bring you a night in which you may rest? Then will you not see?"

پوچھئے! کہ یہ بھی بتا دو کہ اگر اللہ تعالٰی تم پر ہمیشہ قیامت تک دن ہی دن رکھے تو بھی سوائے اللہ تعالٰی کے کوئی معبود ہے جو تمہارے پاس رات لے آئے؟ جس میں تم آرام حاصل کر و کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ... Say: "Tell me! If Allah made the day continuous for you till the Day of Resurrection, Allah tells us that if He had made the day continuous, lasting until the Day of Resurrection, that would also be harmful for them and their bodies would get tired from so much movement and activity. Allah says: ... مَنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُم بِلَيْلٍ تَسْكُنُونَ فِيهِ ... which god besides Allah could bring you night wherein you rest! meaning, `to rest from your work and activity.' ... أَفَلَ تُبْصِرُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٦] رات اور دن کے نظام کو اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بہت بڑے بڑے قدرت کے کارناموں اور عجائبات میں شمار کیا ہے۔ ایک ظاہر بین انسان ان نشانیوں کو روزمرہ کے معمولات سمجھ کر ان کی طرف توجہ ہی نہیں دیتا۔ لیکن جن لوگوں نے اس نظام کا تحقیقی مطالعہ کیا ہے وہ اس نظام کی پیچیدگیوں کو خوب جانتے ہیں۔ یہ تو واضح سی بات کہ دن اور رات کا تعلق سورج سے ہے۔ اختلاف اگر ہے تو اس بات میں رہا ہے کہ آیا ہماری زمین ساکن ہے اور سورج اس کے گرد گردش کرتا ہے یا سورج ساکن ہے اور زمین اس کے گرد گھومتی ہے یا یہ دونوں سیارے ہی محو گردش ہیں۔ اس سلسلہ میں آج تک چار نظریات بدل چکے ہیں۔ دور نبوی میں فلکیات کے ماہرین اور بیت دانوں کا نظریہ یہ تھا کہ ہماری زمین ساکن ہے اور سورج اس کے گرد گھومتا ہے جبکہ آج کا نظریہ (جو چوتھا اور آخری نظریہ) یہ ہے کہ ہماری زمین ایک تو اپنے محور کے گرد گھوم رہی ہے۔ دوسرے یہ اپنے محور پر ٦٦ ڈگری درجے کا زاویہ بنائے ہوئے گھوم رہی ہے تیسرے یہ سورج کے گرد بھی گھوم رہی ہے۔ پھر ہمارا یہ پورا نظام شمسی اپنے سیاروں سمیت اپنے سے کسی بڑے سورج کے گرد چکر لگارہا ہے اور اپنے محور کے گرد بھی چکر لگاتا ہے۔ اور یہ سب سیارے فضائے سبط میں اس طرح محو گردش ہیں کہ کوئی دوسرے سے ٹکراتا نہیں۔ اپنے فاصلے برقرار رکھتے ہیں اور ان کی رفتار میں نہ کمی آتی ہے یا زیادتی ہوتی ہے۔ اور وہ اپنے اپنے مقام پر پوری طرح جکرے ہوئے محو گردش ہیں۔ یہ ہے وہ انتہائی پیچیدہ نظام جس سے ہمارا نظام لیل و نہار پیدا ہوتا ہے۔ موسموں میں تبدیلی آتی ہے۔ کبھی دن بڑے ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور کبھی راتیں پھر ان تغیرات کے تمام زمینی مخلوق ہر طرح طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اب موجودہ نظریہ کی رو سے یہ سوال یوں بنتا ہے کہ بتلاؤ اگر اللہ تعالیٰ زمین کی اس محوری گردش کو روک دے جس کا نتیجہ یہ ہو کہ زمین کے آدھے حصہ میں ہمیشہ رات ہی طاری رہے اور آدھا حصہ جو سورج کے سامنے ہو اس میں ہمیشہ سورج ہی چڑھا رہے تو بتلاؤ کہ اللہ کے بغیر تمہارا کوئی الٰہ ایسا ہے جو اس سمین کی گردش کو پھر سے چالو کردے اور تمہیں ان تمام مصائب سے بچاسکے جو اس صورت میں تمہیں پہنچ سکتی ہیں ؟ رات کو اللہ نے تاریک اور ٹھنڈا بنایا ہے۔ تو جس حصہ میں ہمیشہ رات رہے گی۔ وہاں کے لوگ تو سردی سے ہی مرجائیں گے کام کرنا تو دور کی بات ہے۔ اور جس حصہ میں سورج چمکے گا وہاں کے لوگ سورج کی تپش سے مرجائیں گے۔ آرام کرنا تو دور کی بات ہے اللہ نے ایسا حکیمانہ نظام بنادیا ہے جو تمام مخلوق کے مصالح پر مبنی ہے۔ [٩٧] اللہ نے رات کے ہمیشہ رہنے کا ذکر کیا تو فرمایا : ( أفَلاَ تَسْمَعُوْنَ ) اور ہمیشہ دن کے رہنے کا ذکر فرمایا تو فرمایا : (أفَلاَ تُبْصِرُوْنَ ) یہ اس لئے دیکھنے کا کام روشنی سے تعلق رکھتا ہے۔ اور تاریکی میں انسان دیکھ تو نہیں سکتا البتہ سن ضرور سکتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللہُ عَلَيْكُمُ النَّہَارَ سَرْمَدًا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ مَنْ اِلٰہٌ غَيْرُ اللہِ يَاْتِيْكُمْ بِلَيْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِيْہِ۝ ٠ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۝ ٧٢ نهار والنهارُ : الوقت الذي ينتشر فيه الضّوء، وهو في الشرع : ما بين طلوع الفجر إلى وقت غروب الشمس، وفي الأصل ما بين طلوع الشمس إلى غروبها . قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] ( ن ھ ر ) النھر النھار ( ن ) شرعا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب کے وقت گو نھار کہاجاتا ہے ۔ لیکن لغوی لحاظ سے اس کی حد طلوع شمس سے لیکر غروب آفتاب تک ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بیانا ۔ سرمد السَّرْمَدُ : الدّائم، قال تعالی: قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرْمَداً [ القصص/ 71] ، وبعده : النَّهارَ سَرْمَداً [ القصص/ 72] ( س ر م د ) السرمد کے معنی دائم ( ہمیشہ ) کے ہیں قرآن میں ہے : قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرْمَداً [ القصص/ 71] کہو بھلا دیکھوں تو اگر خدا تم پر ہمیشہ قیامت کے دن تک رات ( کی تاریکی ) کئے رہے ۔ اسی طرح اس کے بعد کی آیت میں النھار سرمدا فرمایا ہے ۔ سكن السُّكُونُ : ثبوت الشیء بعد تحرّك، ويستعمل في الاستیطان نحو : سَكَنَ فلان مکان کذا، أي : استوطنه، واسم المکان مَسْكَنُ ، والجمع مَسَاكِنُ ، قال تعالی: لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] ، ( س ک ن ) السکون ( ن ) حرکت کے بعد ٹھہر جانے کو سکون کہتے ہیں اور کسی جگہ رہائش اختیار کرلینے پر بھی یہ لفط بولا جاتا ہے اور سکن فلان مکان کذا کے معنی ہیں اس نے فلاں جگہ رہائش اختیار کرلی ۔ اسی اعتبار سے جائے رہائش کو مسکن کہا جاتا ہے اس کی جمع مساکن آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا ۔ بصر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، نحو قوله تعالی: كَلَمْحِ الْبَصَرِ [ النحل/ 77] ، ووَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں جیسے فرمایا ؛کلمح البصر (54 ۔ 50) آنکھ کے جھپکنے کی طرح ۔ وَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] اور جب آنگھیں پھر گئیں ۔ نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٢) اور آپ ان سے یہ بھی کہیے کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ کے لیے قیامت تک دن ہی رہنے دے رات نہ لائے تو اللہ کے علاوہ وہ کون سا معبود ہے جو تمہارے لیے رات کو لے آئے جس میں تم آرام پاؤ کیا پھر بھی تم اس ذات کی تصدیق نہیں کرتے جس نے تمہارے لیے رات دن بنائے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:72) تسکنون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ سکون (نصر) مصدر۔ تم چین پاسکو۔ تم سکون پاسکو۔ لتبتغوا۔ لام تعلیل کی ہے تبتغوا جمع مذکر حاضر۔ لام کی وجہ سے نون اعرابی ساقط ہوگیا ہے تاکہ تم تلاش کرسکو۔ تاکہ تم تلاش کرو۔ تاکہ تم ڈھونڈھو۔ الیل والنھار اور لتسکنوا ولتبتغوا میں لف و نشر مرتب ہے۔ (علم بیان کی اصطلاح میں وہ صفت جس میں اول چند چیزوں کا ذکر کریں پھر چند اور چیزیں بیان کریں جو پہلی چیزوں سے نسبت رکھتی ہوں مگر اس طرح کہ ہر ایک کی نسبت اپنے منسوب الیہ سے مل جائے) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ رات ہمیشہ ہونا اس طور پر کہ شمس کو افق سے طلوع نہ ہونے دے، یا اس کا نور سلب کرلے، اور دن کا ہمیشہ ہونا اس طرح کہ شمس کو غروب نہ ہونے دے، یا بلا شمس ایسا نور پیدا کر دے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

72۔ آپ ان سے یہ بھی دریافت کیجئے بھلا یہ تو بتائو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ کیلئے قیامت کے دن تک دن ہی رہنے دے تو اللہ تعالیٰ کے سوا وہ کونسا معبود ہے جو تمہارے لئے رات لے آئے کہ تم اس میں راحت و آرام پائو تو کیا تم دیکھتے نہیں ۔ یعنی بجائے رات کے ہمیشہ کے لئے قیامت تک دن ہی رکھے اور آفتاب کو وسط آسمان پر یافوق الارض کے مدار پر گردش دے تو ایسی حالت میں وہ کون سا معبود ہے جو تم پر آرام و سکون حاصل کرنے کے لئے رات لے آئے تو کیا تم دیکھتے نہیں یہاں دن کی روشنی کی مناسبت سے تبصرون فرمایا۔ بہرحال ! وسعت قدرت کا یہ عالم ہے کہ ان کے دن کو کوئی رات نہیں کرسکتا اور انکی رات کو کوئی دن نہیں بنا سکتا اور جب وہ اپنی قدرت میں منفرد ہی تو یہ انفرادان کی الوہیت کے منفرد ہونے کو مستلزم ہے لیکن تم اور معبودوں کو باوجود دلائل سا طعہ کے چھوڑتے نہیں اور یہ تمہاری انتہائی ہٹ دھرمی اور توحید دشمنی ہے آگے رات اور دن کے ہیر پھیر میں جو اس کی رحمت و مہربانی ہے اسکا اظہار فرماتا ہے۔