Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 76

سورة القصص

اِنَّ قَارُوۡنَ کَانَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰی فَبَغٰی عَلَیۡہِمۡ ۪ وَ اٰتَیۡنٰہُ مِنَ الۡکُنُوۡزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَہٗ لَتَنُوۡٓاُ بِالۡعُصۡبَۃِ اُولِی الۡقُوَّۃِ ٭ اِذۡ قَالَ لَہٗ قَوۡمُہٗ لَا تَفۡرَحۡ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡفَرِحِیۡنَ ﴿۷۶﴾

Indeed, Qarun was from the people of Moses, but he tyrannized them. And We gave him of treasures whose keys would burden a band of strong men; thereupon his people said to him, "Do not exult. Indeed, Allah does not like the exultant.

قارون تھا تو قوم موسیٰ سے ، لیکن ان پر ظلم کرنے لگا تھا ہم نے اسے ( اس قدر ) خزانے دے رکھے تھے کہ کئی کئی طاقتور لوگ بہ مشکل اس کی کنجیاں اٹھا سکتے تھے ایک بار اس کی قوم نے کہا کہ اتر امت !اللہ تعالٰی اترانے والوں سے محبت نہیں رکھتا ۔

Word by Word by

Dr Farhat Hashmi

اِنَّ
بےشک
قَارُوۡنَ
قارون
کَانَ
تھا وہ
مِنۡ قَوۡمِ
قوم سے
مُوۡسٰی
موسیٰ کی
فَبَغٰی
تو اس نے سرکشی کی
عَلَیۡہِمۡ
ان پر
وَاٰتَیۡنٰہُ
اور عطا کیا ہم نے اسے
مِنَ الۡکُنُوۡزِ
خزانوں میں سے
مَاۤ
اس قدر کہ
اِنَّ
بےشک
مَفَاتِحَہٗ
کنجیاں اس کی
لَتَنُوۡٓاُ
البتہ وہ بھاری ہوتی تھیں
بِالۡعُصۡبَۃِ
ایک جماعت پر
اُولِی الۡقُوَّۃِ
قوت والی
اِذۡ
جب
قَالَ
کہا
لَہٗ
اسے
قَوۡمُہٗ
اس کی قوم نے
لَاتَفۡرَحۡ
نہ تم اتراؤ
اِنَّ
بےشک
اللّٰہَ
اللہ
لَایُحِبُّ
نہیں وہ پسند کرتا
الۡفَرِحِیۡنَ
اترانے والوں کو
Word by Word by

Nighat Hashmi

اِنَّ
یقیناً
قَارُوۡنَ
قارون
کَانَ
تھا
مِنۡ قَوۡمِ
قوم سے
مُوۡسٰی
موسیٰ کی
فَبَغٰی
پھر اس نے سر کشی کی
عَلَیۡہِمۡ
ان پر
وَاٰتَیۡنٰہُ
اور دیے تھے ہم نے اُس کو
مِنَ الۡکُنُوۡزِ
خزانوں میں سے
مَاۤ
کہ
اِنَّ
یقیناً
مَفَاتِحَہٗ
چابیاں اُن کی
لَتَنُوۡٓاُ
بلاشبہ بھاری ہوئی تھیں
بِالۡعُصۡبَۃِ
ایک جماعت پر
اُولِی الۡقُوَّۃِ
طاقت ور
اِذۡ
جب
قَالَ
کہا
لَہٗ
اُس کے لیے
قَوۡمُہٗ
اس کی قوم نے
لَاتَفۡرَحۡ
اتراؤ مت
اِنَّ
یقیناً
اللّٰہَ
اللہ تعالیٰ
لَایُحِبُّ
نہیں پسند کرتا
الۡفَرِحِیۡنَ
اترانے والوں کو
Translated by

Juna Garhi

Indeed, Qarun was from the people of Moses, but he tyrannized them. And We gave him of treasures whose keys would burden a band of strong men; thereupon his people said to him, "Do not exult. Indeed, Allah does not like the exultant.

قارون تھا تو قوم موسیٰ سے ، لیکن ان پر ظلم کرنے لگا تھا ہم نے اسے ( اس قدر ) خزانے دے رکھے تھے کہ کئی کئی طاقتور لوگ بہ مشکل اس کی کنجیاں اٹھا سکتے تھے ایک بار اس کی قوم نے کہا کہ اتر امت !اللہ تعالٰی اترانے والوں سے محبت نہیں رکھتا ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

بلاشبہ قارون موسیٰ کی قوم (بنی اسرائیل) سے تھا : پھر وہ اپنی قوم کے خلاف ہوگیا (اور دشمن قوم سے مل گیا) اور ہم نے اسے اتنے خزانے دیئے تھے جن کی چابیاں ایک طاقتور جماعت بمشکل اٹھا سکتی تھی۔ ایک دفعہ اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا : اتنا اتراؤ نہیں اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یقیناًقارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا پس اس نے ان کے خلاف سرکشی کی اورہم نے اُس کواتنے خزانے دیے تھے کہ یقیناًاُن کی چابیاں بلاشبہ ایک طاقتورجماعت پربھاری ہوئی تھیں،جب اُس کی قوم نے اُسے کہا: ’’اِتراؤ مت! یقینااﷲ تعالیٰ اِترانے والوں کوپسندنہیں کرتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Surely, Qarun was from the people of Musa (علیہ السلام) ، rebelled against them. And We had given to him such treasures as their keys would weigh too heavy for a strong group of people. (Remember) when his people said to him, |"Do not exult. Surely, Allah does not like the exultant.

قارون جو تھا سو موسیٰ کی قوم سے پھر شرارت کرنے لگا ان پر اور ہم نے دیئے تھے اس کو خزانے اتنے کہ اس کی کنجیاں اٹھانے سے تھک جاتے کئی مرد زور آور جب کہا اس کو اس کی قوم نے اترا مت اللہ کو نہیں بھاتے اترانے والے

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

یقیناً قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم ہی سے تھا لیکن اس نے ان کے خلاف سر کشی کی اور اس کو ہم نے اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی چابیاں ایک طاقتور جماعت مشکل سے اٹھا سکتی تھی جب اس سے کہا اس کی قوم کے لوگوں نے کہ اتراؤ مت یقیناً اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

یہ ایک واقعہ ہے94 کہ قارون موسی ( علیہ السلام ) کی قوم کا ایک شخص تھا ، پھر وہ اپنی قوم کے خلاف سرکش ہوگیا ۔ 95 اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھا سکتی تھی ۔ 96 ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا ” پھول نہ جا ، اللہ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

قارون موسیٰ کی قوم کا ایک شخص تھا ، ( ٤١ ) پھر اس نے انہی پر زیادتی کی ( ٤٢ ) ۔ اور ہم نے اسے اتنے خزانے دیے تھے کہ اس کی چابیاں طاقتور لوگوں کی ایک جماعت سے بھی مشکل سے اٹھتی تھیں ۔ ایک وقت تھا جب اس کی قوم نے اس سے کہا کہ : اتراؤ نہیں ، اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

قارون موسیٰ کی قوم بنی اسرائیل میں سے تھا 1 پھر لاگ ان پر بڑائی کرنے یا ظلم کرنے اور ہم نے اس کو دولت کے اتنے خزانے دیئے تھے کہ اچھے کئی زبردست ہٹے کٹے آدمیوں کو اس کی گنجیاں یا تھیلیاں اٹھانا مشکل ہوتا ایک بار اس کی قوم والوں نے اس سے کہا اتنا مت اترا کیونکہ اترانے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

بیشک قارون ، موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا پھر وہ ان پر سرکشی کرنے لگا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ اتراؤ مت ، بیشک اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں فرماتے

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

بیشک قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا۔ اس نے سر کشی اختیار کی۔ ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقت ور لوگوں کی جماعت مشکل سے اٹھا سکتی تھی۔ جب قارون کی قوم نے اس سے کہا کہ تو (اپنی دولت پر) اترایا مت کر۔ کیونکہ اللہ کو وہ لوگ پسند نہیں ہیں جو اترایا کرتے ہیں۔

Translated by

Fateh Muhammad Jalandhari

قارون موسٰی کی قوم میں سے تھا اور ان پر تعدّی کرتا تھا۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ اُن کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اُٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ اترائیے مت۔ کہ خدا اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا

Translated by

Abdul Majid Daryabadi

Verily Qarun was of the people of Musa; then he behaved arrogantly toward them. And We had vouchsafed him of the treasures whereof the keys would have weighed down a band of strong men. Recall what time his people said unto him: exult not; verily God loveth not the exultant.

قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا ۔ سو اس نے ان کے مقابلہ میں گھمنڈ اختیار کیا ۔ اور ہم نے اسے کتنے خزانے دے رکھے تھے کہ اس کی کنجیاں زور آوروں کی ایک جماعت کو گرانبار کردیتی تھیں ۔ جب کہ اس کی قوم نے اس سے کہا کہ اترا مت بیشک اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔

Translated by

Amin Ahsan Islahi

قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا تو اس نے ان کے مقابل میں سر اٹھایا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے ، جن کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت سے مشکل سے اٹھتی تھیں ۔ جبکہ اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا کہ اتراؤ مت ۔ اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔

Translated by

Mufti Naeem

بے شک قارون ( حضرت ) موسیٰ ( علیہ السلام ) کی قوم سے تھا پس اس نے ان لوگوں پر زیادتی کی اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ بلاشبہ اس کی چابیاں البتہ ایک طاقور جماعت کو تکھادیتی تھیں ، جب اس سے اس کی قوم نے کہا اِتراؤ مت ، بے شک اللہ ( تعالیٰ ) اِترانے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔

Translated by

Muhtrama Riffat Ijaz

قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا اور ان پر ظلم کرتا تھا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اسکی قوم نے کہا کہ اتنا اترائو نہیں بیشک اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

Translated by

Mulana Ishaq Madni

بیشک قارون بھی موسیٰ کی قوم میں سے تھا مگر اس نے اپنے خبث باطن کی بناء پر ان کے خلاف سرکشی کی اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی چابیوں کو بھی ایک طاقتور جماعت کو اٹھانا مشکل ہوتا تھا اور وہ موقع یاد کرنے کے لائق ہے کہ جب اس کی قوم نے اس سے کہا کہ تو اترا نہیں بیشک اللہ پسند نہیں فرماتا اترانے والوں کو ()

Translated by

Noor ul Amin

بلاشبہ قارون موسیٰ کی قوم ( بنی اسرائیل ) سے تھا: پھروہ اپنی قوم کے خلاف ہوگیا ( اور دشمن قوم سے مل گیا ) اور ہم نے اسے اتنے خزانے دئیے تھے جن کی چابیاں ایک طاقتورجماعت بمشکل اٹھا سکتی تھی ایک دفعہ اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا:اتنااترائونہیں ، اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا

Kanzul Eman by

Ahmad Raza Khan

بیشک قارون موسیٰ کی قوم سے تھا ( ف۱۹۱ ) پھر اس نے ان پر زیادتی کی اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیے جن کی کنجیاں ایک زور آور جماعت پر بھاری تھیں ، جب اس سے اس کی قوم ( ف۱۹۲ ) نے کہا اِترا نہیں ( ف۱۹۳ ) بیشک اللہ اِترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا ،

Translated by

Tahir ul Qadri

بیشک قارون موسٰی ( علیہ السلام ) کی قوم سے تھا پھر اس نے لوگوں پر سرکشی کی اور ہم نے اسے اس قدر خزانے عطا کئے تھے کہ اس کی کنجیاں ( اٹھانا ) ایک بڑی طاقتور جماعت کو دشوار ہوتا تھا ، جبکہ اس کی قوم نے اس سے کہا: تُو ( خوشی کے مارے ) غُرور نہ کر بیشک اللہ اِترانے والوں کو پسند نہیں فرماتا

Translated by

Hussain Najfi

بےشک قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا پھر وہ ان کے خلاف سرکش ہوگیا ۔ اور ہم نے اسے اتنے خزانے عطا کئے تھے کہ اس کی چابیاں ایک طاقتور جماعت کو بھی گرانبار کر دیتی تھیں ( اس سے مشکل سے اٹھتی تھیں ) جبکہ اس کی قوم نے اس سے کہا کہ ( اپنی منزلت پر ) مت اترا بےشک اللہ اترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا ۔

Translated by

Abdullah Yousuf Ali

Qarun was doubtless, of the people of Moses; but he acted insolently towards them: such were the treasures We had bestowed on him that their very keys would have been a burden to a body of strong men, behold, his people said to him: "Exult not, for Allah loveth not those who exult (in riches).

Translated by

Muhammad Sarwar

Korah was a man from the people of Moses. This man rebelled against them. We had given him so much treasure that the keys of the stores of his treasures could hardly even be carried by a group of strong people. His people told him, "Do not be proud of your wealth; God does not love those who are proudly happy of their wealth.

Translated by

Safi ur Rehman Mubarakpuri

Verily, Qarun was of Musa's people, but he behaved arrogantly towards them. And We gave him of the treasures, that of which the keys would have been a burden to a body of strong men. Remember when his people said to him: "Do not exult. Verily, Allah likes not those who exult."

Translated by

Muhammad Habib Shakir

Surely Qaroun was of the people of Musa, but he rebelled against them, and We had given him of the treasures, so much so that his hoards of wealth would certainly weigh down a company of men possessed of great strength. When his people said to him: Do not exult, surely Allah does not love the exultant;

Translated by

William Pickthall

Now Korah was of Moses' folk, but he oppressed them; and We gave him so much treasure that the stores thereof would verily have been a burden for a troop of mighty men. When his own folk said unto him: Exult not; lo! Allah loveth not the exultant;

Translated by

Moulana Younas Palanpuri

निश्चय ही क़ारून मूसा की क़ौम में से था, फिर उस ने उन के विरुद्ध सिर उठाया और हम ने उसे इतने ख़जाने दे रखें थे कि उन की कुंजियाँ एक बलशाली दल को भारी पड़ती थी। जब उस से उस की क़ौम के लोगों ने कहा, "इतरा मत, अल्लाह इतराने वालों को पसन्द नही करता

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی برادری میں سے تھا سو (وہ کثرت مال کی وجہ سے) ان لوگوں کے مقابلے میں تکبر کرنے لگا اور ہم نے اس کو اس قدر خزانے دیے تھے کہ ان کی کنجیاں کئی کئی زور آور شخصوں کو گرا نبار کردیتی تھیں (6) جب کہ اس کو اس کی برادری نے (سمجھانے کے طور پر) کہا کہ تو (اس مال و حشمت پر) اترا مت واقعی اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

یقیناً قارون موسیٰ کی قوم کا ایک فرد تھا پھر وہ اپنی قوم کے خلاف ہوگیا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی چابیاں ایک طاقت ور جماعت اٹھایا کرتی تھی۔ ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا فخر نہ کرو۔ کیونکہ اللہ فخر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ ایک واقعہ ہے کہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا ایک شخص تھا ، پھر وہ اپنی قوم کے خلاف سرکش ہوگیا۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھا سکتی تھی۔ ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا پھول نہ جا ، اللہ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

بلاشبہ قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا سو وہ ان کے مقابلہ میں تکبر کرنے لگا اور ہم نے اسے خزانوں میں سے اس قدر دیا تھا کہ اس کی چابیاں ایسی جماعت کو گراں بار کردیتی تھیں جو قوت والے لوگ تھے جبکہ اس کی قوم نے اس سے کہا کہ تو مت اترا، بلاشبہ اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں فرماتا

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

قارون جو تھا سو موسیٰ کی قوم سے پھر شرارت کرنے لگا ان پر اور ہم نے دیے تھے اس کو خزانے اتنے کہ اس کی کنجیاں اٹھانے سے تھک جاتے کئی مرد زور آور جب کہا اس کو اس کی قوم نے اترا مت اللہ کو نہیں بھاتے اترانے والے

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

بلا شبہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی برادری میں سے تھا پھر وہ لوگوں پر زیادتی کرنے لگا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ اس کے خزانوں کی کنجیاں ایک طاقتور آدمیوں کی جماعت کو گراں بار کردیا کرتی تھیں جب اس قارون کی قوم نے اس سے کہا تو نازاں نہ ہو یقینا اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں کیا کرتا