Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 77

سورة القصص

وَ ابۡتَغِ فِیۡمَاۤ اٰتٰىکَ اللّٰہُ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ وَ لَا تَنۡسَ نَصِیۡبَکَ مِنَ الدُّنۡیَا وَ اَحۡسِنۡ کَمَاۤ اَحۡسَنَ اللّٰہُ اِلَیۡکَ وَ لَا تَبۡغِ الۡفَسَادَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۷۷﴾

But seek, through that which Allah has given you, the home of the Hereafter; and [yet], do not forget your share of the world. And do good as Allah has done good to you. And desire not corruption in the land. Indeed, Allah does not like corrupters."

اور جو کچھ تجھے اللہ تعالٰی نے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیوی حصے کو بھی نہ بھول اورجیسے کہ اللہ تعالٰی نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی اچھا سلوک کر اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو یقین مان کہ اللہ مفسدوں کو ناپسند رکھتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَابْتَغِ فِيمَا اتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الاْاخِرَةَ وَلاَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا ... But seek, with that which Allah has bestowed on you, the home of the Hereafter, and forget not your portion of lawful enjoyment in this world; means, `use this great wealth and immense blessing Allah has given you to worship your Lord and draw closer to Him by doing a variety of good deeds which will earn you reward in this world and the Hereafter.' ... وَلاَ تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا ... and forget not your portion of lawful enjoyment in this world; `That which Allah has permitted of food, drink, clothing, dwelling places and women. Your Lord has rights over you, your self has rights over you, your family has rights over you, and your visitors have rights over you. So give each of them their due.' ... وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ ... and be generous as Allah has been generous to you, `Be generous to His creatures, as He has been generous to you.' ... وَلاَ تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الاَْرْضِ ... and seek not mischief in the land. meaning: `do not let your aim be to spread corruption on earth and do harm to Allah's creation.' ... إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ Verily, Allah likes not the mischief-makers.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

771یعنی اپنے مال کو ایسی جگہوں اور راہوں پر خرچ کر، جہاں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے، اس سے تیری آخرت سنورے گی اور وہاں اس کا تجھے اجر ثواب ملے گا۔ 772یعنی دنیا کے مباحات پر بھی اعتدال کے ساتھ خرچ کر مباحات دنیا کیا ہیں ؟ کھانا پینا، لباس، گھر اور نکاح وغیرہ، مطلب یہ ہے کہ جس طرح تجھ پر تیرے رب کا حق ہے، اسی طرح تیرے اپنے نفس کا، بیوی بچوں کا اور مہمانوں وغیرہ کا بھی حق ہے، ہر حق والے کو اس کا حق دے۔ 773اللہ نے تجھے مال دے کر تجھ پر احسان کیا ہے تو مخلوق پر حرچ کر کے ان پر احسان کر۔ 774یعنی تیرا مقصد زمین میں فساد پھیلانا نہ ہو۔ اسی طرح مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کے بجائے بدسلوکی مت کر، نہ معصیتوں کا ارتکاب کر کہ ان تمام باتوں سے فساد پھیلتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٣] یعنی تمہاری دولت کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرکے اپنی عاقبت سنوارنے کی کوشش کرو۔ نہ یہ کہ مال کے نشہ میں چور ہو کر دوسروں کو حقیر سمجھنے لگو۔ اس سے خود کھاؤ پیؤپہنو اور جو بچ جائے اس سے خویش و اقارب اور دوسرے لوگوں کی مالی اعانت کرو۔ اللہ کی مخلوق پر تم بھی ایسے ہی احسان کرو جیسے اللہ نے تم پر احسان کیا ہے اور مخلوق خدا کی دعائیں لو۔ اور اللہ کے فرمانبردار بن کر رہو۔ اپنے مال و دولت کا دوسروں پر رعب جمانا کوئی اچھا طریقہ نہیں۔ تمہاری اس دولت میں جو دوسروں کا حق ہے اسے ادا کرو اور معاشی اور معاشرتی ناہمواریوں کا باعث نہ بنو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَابْتَغِ فِيْمَآ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ : اور اللہ تعالیٰ نے تجھے جو کچھ عطا فرمایا ہے اس کے ذریعے سے آخری گھر یعنی جنت حاصل کرنے کی کوشش کر۔ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا : یعنی مت بھول کہ دنیا جو تجھے عطا کی گئی ہے، اس میں تیرا حصہ کیا ہے۔ اس کی بہترین تفسیر وہ حدیث ہے جو ابوہریرہ (رض) نے روایت کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( یَقُوْلُ الْعَبْدُ مَالِيْ مَالِيْ إِنَّمَا لَہُ مِنْ مَّالِہِ ثَلَاثٌ، مَا أَکَلَ فَأَفْنٰی أَوْ لَبِسَ فَأَبْلٰی أَوْ أَعْطٰی فَاقْتَنٰی وَمَا سِوَی ذٰلِکَ فَہُوَ ذَاہِبٌ وَ تَارِکُہُ للنَّاسِ ) [ مسلم، الزھد، باب ” الدنیا سجن للمؤمن و جنۃ للکافر “ : ٢٩٥٩ ] ” بندہ کہتا ہے میرا مال، میرا مال، حالانکہ اس کے مال میں اس کی تو صرف تین چیزیں ہیں، جو اس نے کھایا اور فنا کردیا، یا پہنا اور پرانا کردیا، یا (اللہ کی راہ میں) دیا اور ذخیرہ بنا لیا اور جو اس کے سوا ہے تو یہ اسے لوگوں کے لیے چھوڑ کر (دنیا سے) جانے والا ہے۔ “ بعض مفسرین نے فرمایا، کسی چیز میں آدمی کا حصہ وہ نہیں ہوتا جو اس سے جدا ہوجائے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو اس کے ساتھ رہے۔ اس کے مطابق دنیا میں سے آدمی کا حصہ وہ نیکی ہے جو آخرت میں اس کے ساتھ جائے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا، دنیا میں سے آدمی کے حصے سے مراد اس کا کفن ہے، کیونکہ اس کے سوا وہ کوئی چیز ساتھ لے کر نہیں جاتا ؂ نَصِیْبُکَ مِمَّا تَجْمَعُ الدَّھْرَ کُلَّہُ رِدَاءَانِ تُلْوٰی فِیْھِمَا وَ حَنُوْطُ ” ساری عمر تو جو کچھ جمع کرے گا اس میں سے تیرا حصہ دو چادریں ہیں، جن میں تجھے لپیٹا جائے گا اور مردے کو لگائی جانے والی خوشبو ہے۔ “ ایک تفسیر جو اکثر مفسرین نے بیان فرمائی ہے، یہ ہے کہ مال کا حریص بعض اوقات بخل کی اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنی جان پر بھی خرچ کرنے سے گریز کرتا ہے، اپنے کھانے، پہننے اور دوسری ضروریات میں بھی بخل سے کام لیتا ہے۔ قارون کو بزرگوں نے نصیحت کی کہ دنیا میں اپنے حصے کو مت بھول، اپنی جان پر بھی ضرورت کے مطابق خرچ کر۔ یہ چاروں تفسیریں درست ہیں اور ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں۔ وَاَحْسِنْ كَمَآ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ : یعنی جیسے اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ احسان (بہترین سلوک) کیا ہے، یہ مال و دولت اور شان و شوکت تجھے کسی بدلے کے بغیر عطا کی ہے، اسی طرح تو بھی اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کر، یعنی ان سے کسی صلے کی خواہش کے بغیر بہترین سلوک کر۔ احسان کی یہ تفسیر اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندے کو جو کچھ دیا ہے کسی بدلے کے بغیر دیا ہے۔ والدین کے ساتھ بھی اسی احسان کا حکم ہے، فرمایا : ( وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ) [ بني إسرائیل : ٢٣ ] ” اور ماں باپ کے ساتھ بہت اچھا سلوک کر۔ “ کیونکہ بڑھاپے میں ان سے کسی صلے کی توقع نہیں ہوتی۔ احسان کی تفسیر حدیث میں یہ بھی آئی ہے : ( أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ ) [ بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔۔ : ٥٠ ] ” اللہ کی عبادت اس طرح کرے جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے، پھر اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو وہ تجھے دیکھتا ہے۔ “ اس تفسیر کے مطابق مطلب یہ ہوگا کہ جیسے اللہ نے تیرے ساتھ بہترین سلوک کیا ہے تو بھی اس کے ساتھ بہترین معاملہ رکھ کہ ہر وقت اور ہر کام میں اسے پیش نظر رکھ اور اپنے ہر حال پر اس کی نگرانی کو اس طرح مدنظر رکھ کہ تیرا ہر کام اور تیری ہر حرکت اس کی رضا کے مطابق ہو، یہ احسان ہے۔ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْاَرْضِ ۔۔ : زمین میں ہر خرابی اور ہر فساد اللہ کے ساتھ شرک اور اس کی اور اس کے رسول کی نافرمانی سے پیدا ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ ) [ الروم : ٤١ ] ” خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا، اس کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا۔ “ قوم کے دانش مند لوگوں نے قارون کو زمین میں فساد کی کوشش سے منع کیا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ مفسدوں سے محبت نہیں رکھتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّـهُ الدَّارَ‌ الْآخِرَ‌ةَ ۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا (And seek the (betterment of) the ultimate Abode with what Allah has given to you, and do not neglect your share from this world - 28:77). The Muslims advised Qarun that he should try to do as much good as possible for the Hereafter by utilizing the wealth Allah Ta’ ala had given him, and &should not forget his share in the world&. What is his &share in this world&? Many commentators have explained that it refers to his life in this world and the deeds that may help him in the Hereafter which include charity and all other righteous deeds. Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) has favoured this explanation. (Qurtubi) By adopting this explanation, the second sentence would be regarded as an emphasized repetition of the first sentence. The first sentence has directed that one should make use of all that has been gifted - the life, wealth, health, strength etc. - to collect that which would be of help in the Hereafter. In fact this portion of the worldly possessions is one&s own, which may help him in the Hereafter; the rest of the world&s possessions belongs to his heirs. However, some other commentators have explained that the meaning of the second sentence is that whatever Allah has given you, make use of it for the Hereafter, without loosing sight of your needs in this world. In other words do not become a pauper by giving away everything in charity. Instead, retain something for your own needs as well. Under this explanation, &your share in the world& means one&s own needs in this world.

وَابْتَغِ فِيْمَآ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا، یعنی مسلمانوں نے قارون کو یہ نصیحت کی کہ اللہ تعالیٰ نے جو مال و دولت تجھے عطا فرمایا ہے اس کے ذریعہ آخرت کا سامان فراہم کر اور دنیا میں جو تیرا حصہ ہے اس کو نہ بھول۔ دنیا کا حصہ کیا ہے اس کی تفسیر اکثر مفسرین نے یہ کی ہے کہ اس سے مراد دنیا کی عمر اور اس میں کئے ہوئے وہ اعمال ہیں جو اس کو آخرت میں کام آویں جس میں صدقہ خیرات بھی داخل ہے اور دوسرے اعمال صالحہ بھی۔ حضرت ابن عباس اور جمہور مفسرین سے یہی معنے منقول ہیں (کما فی القرطبی) اس صورت میں دوسرا جملہ پہلے جملہ کی تاکید و تائید ہوگی۔ پہلے جملے میں جو کہا گیا کہ جو کچھ تجھے اللہ نے دیا ہے یعنی مال و دولت اور عمر و قوت و صحت وغیرہ ان سب سے وہ کام لے جو دار آخرت میں تیرے کام آئے اور درحقیقت دنیا کا یہی حصہ تیرا ہے جو آخرت کا سامان بن جائے باقی دنیا تو دوسرے وارثوں کا حصہ ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ دوسرے جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس سے اپنی آخرت کا سامان بھی کرو مگر اپنی ضروریات دنیا کو بھی نہ بھلاؤ کہ سب صدقہ خیرات کر کے کنگال بن جاؤ بلکہ بقدر ضرورت اپنے لئے بھی رکھو۔ اس تفسیر پر نصیب دنیا کے مراد اس کی معاشی ضروریات ہوں گی۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَابْتَغِ فِــيْمَآ اٰتٰىكَ اللہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَاَحْسِنْ كَـمَآ اَحْسَنَ اللہُ اِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْاَرْضِ۝ ٠ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ۝ ٧٧ ابتغاء (ينبغي) البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، تجاوزه أم لم يتجاوزه، فتارة يعتبر في القدر الذي هو الكمية، وتارة يعتبر في الوصف الذي هو الكيفية، يقال : بَغَيْتُ الشیء : إذا طلبت أكثر ما يجب، وابْتَغَيْتُ كذلك، قال اللہ عزّ وجل : لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 48] ، وأمّا الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] ، الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] ، وقولهم : يَنْبغي مطاوع بغی. فإذا قيل : ينبغي أن يكون کذا ؟ فيقال علی وجهين : أحدهما ما يكون مسخّرا للفعل، نحو : النار ينبغي أن تحرق الثوب، والثاني : علی معنی الاستئهال، نحو : فلان ينبغي أن يعطی لکرمه، وقوله تعالی: وَما عَلَّمْناهُ الشِّعْرَ وَما يَنْبَغِي لَهُ [يس/ 69] ، علی الأول، فإنّ معناه لا يتسخّر ولا يتسهّل له، ألا تری أنّ لسانه لم يكن يجري به، وقوله تعالی: وَهَبْ لِي مُلْكاً لا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي [ ص/ 35] . ( ب غ ی ) البغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں درمیانہ ردی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا کے ہیں ۔ خواہ تجاوز کرسکے یا نہ اور بغی کا استعمال کیت اور کیفیت یعنی قدر وو صف دونوں کے متعلق ہوتا ہے ۔ کہا جاتا ۔ کسی چیز کے حاصل کرنے میں جائز حد سے تجاوز ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 48 پہلے بھی طالب فسادر ہے ہیں ۔ الا بتغاء یہ خاص کر کوشش کے ساتھ کسی چیز کو طلب کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اگر اچھی چیز کی طلب ہو تو یہ کوشش بھی محمود ہوگی ( ورنہ مذموم ) چناچہ فرمایا : ۔ { ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ } ( سورة الإسراء 28) اپنے پروردگار کی رحمت ( یعنی فراخ دستی ) کے انتظار میں ۔ وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] بلکہ اپنے خدا وندی اعلیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے دیتا ہے ۔ اور ینبغی ( انفعال ) بغی کا مطاوع آتا ہے اور ینبغی ایکون کذا کا محاورہ طرح استعمال ہوتا ہے ( 1) اس شے کے متعلق جو کسی فعل کے لئے مسخر ہو جیسے یعنی کپڑے کو جلا ڈالنا آگ کا خاصہ ہے ۔ ( 2) یہ کہ وہ اس کا اہل ہے یعنی اس کے لئے ایسا کرنا مناسب اور زیبا ہے جیسے کہ فلان کے لئے اپنی کرم کی وجہ سے بخشش کرنا زیبا ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَما عَلَّمْناهُ الشِّعْرَ وَما يَنْبَغِي لَهُ [يس/ 69] اور ہم نے ان ( پیغمبر ) کو شعر گوئی نہیں سکھلائی اور نہ وہ ان کو شایاں ہے ۔ پہلے معنی پر محمول ہے ۔ یعنی نہ تو آنحضرت فطر تا شاعر ہیں ۔ اور نہ ہی سہولت کے ساتھ شعر کہہ سکتے ہیں اور یہ معلوم کہ آپ کی زبان پر شعر جاری نہ ہوتا تھا ۔ اور آیت کریمہ : وَهَبْ لِي مُلْكاً لا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي [ ص/ 35] اور مجھ کو ایسی بادشاہ ہی عطا فرما کر میرے بعد کیسی کو شایاں نہ ہو ۔ ( دوسرے معنی پر محمول ہے ۔ یعنی میرے بعد وہ سلطنت کسی کو میسر نہ ہو ) أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے دار الدَّار : المنزل اعتبارا بدورانها الذي لها بالحائط، وقیل : دارة، وجمعها ديار، ثم تسمّى البلدة دارا، والصّقع دارا، والدّنيا كما هي دارا، والدّار الدّنيا، والدّار الآخرة، إشارة إلى المقرّين في النّشأة الأولی، والنّشأة الأخری. وقیل : دار الدّنيا، ودار الآخرة، قال تعالی: لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ، أي : الجنة، ( د و ر ) الدار ۔ منزل مکان کو کہتے ہیں کیونکہ وہ چار دیواری سے گھرا ہوتا ہے بعض نے دراۃ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کی جمع دیار ہے ۔ پھر دار کا لفظ شہر علاقہ بلکہ سارے جہان پر بولا جاتا ہے اور سے نشاۃ اولٰی اور نشاہ ثانیہ میں دو قرار گاہوں کی طرف اشارہ ہے بعض نے ( باضافت ) بھی کہا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ : لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ان کے لئے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے ۔ آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا «1» [يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . و «أُخَر» معدول عن تقدیر ما فيه الألف واللام، ولیس له نظیر في کلامهم، فإنّ أفعل من کذا، - إمّا أن يذكر معه «من» لفظا أو تقدیرا، فلا يثنّى ولا يجمع ولا يؤنّث . - وإمّا أن يحذف منه «من» فيدخل عليه الألف واللام فيثنّى ويجمع . وهذه اللفظة من بين أخواتها جوّز فيها ذلک من غير الألف واللام . اخر ۔ اول کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اخر ( دوسرا ) واحد کے مقابلہ میں آتا ہے اور الدارالاخرۃ سے نشاۃ ثانیہ مراد لی جاتی ہے جس طرح کہ الدار الدنیا سے نشاۃ اولیٰ چناچہ فرمایا { وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ } ( سورة العنْکبوت 64) ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے لیکن کھی الدار کا لفظ حذف کر کے صرف الاخرۃ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ } ( سورة هود 16) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور دار کا لفظ کبھی اخرۃ کا موصوف ہوتا ہے اور کبھی اس کی طر ف مضاف ہو کر آتا ہے چناچہ فرمایا ۔ { وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ } ( سورة الأَنعام 32) اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ۔ ان کے لئے جو خدا سے ڈرتے ہیں ۔ (6 ۔ 32) { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ } ( سورة النحل 41) اور آخرت کا اجر بہت بڑا ہے ۔ اگر وہ اسے جانتے ہوتے ۔ یہ اصل میں ولاجر دار الحیاۃ الاخرۃ ہے ( اور دار کا لفظ الحیاۃ الاخرۃ کی طرف مضاف ہے ) اور اخر ( جمع الاخریٰ ) کا لفظ الاخر ( معرف بلام ) سے معدول ہے اور کلام عرب میں اس کی دوسری نظیر نہیں ہے کیونکہ افعل من کذا ( یعنی صیغہ تفصیل ) کے ساتھ اگر لفظ من لفظا یا تقدیرا مذکورہ ہو تو نہ اس کا تثنیہ ہوتا اور نہ جمع اور نہ ہی تانیث آتی ہے اور اس کا تثنیہ جمع دونوں آسکتے ہیں لیکن لفظ آخر میں اس کے نظائر کے برعکس الف لام کے بغیر اس کے استعمال کو جائز سمجھا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ الاخر سے معدول ہے ۔ نسی النِّسْيَانُ : تَرْكُ الإنسانِ ضبطَ ما استودِعَ ، إمَّا لضَعْفِ قلبِهِ ، وإمَّا عن غفْلةٍ ، وإمَّا عن قصْدٍ حتی يَنْحَذِفَ عن القلبِ ذِكْرُهُ ، يقال : نَسِيتُهُ نِسْيَاناً. قال تعالی: وَلَقَدْ عَهِدْنا إِلى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً [ طه/ 115] ، فَذُوقُوا بِما نَسِيتُمْ [ السجدة/ 14] ، فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَما أَنْسانِيهُ إِلَّا الشَّيْطانُ [ الكهف/ 63] ، لا تُؤاخِذْنِي بِما نَسِيتُ [ الكهف/ 73] ، فَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ [ المائدة/ 14] ، ثُمَّ إِذا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِنْهُ نَسِيَ ما کانَ يَدْعُوا إِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ [ الزمر/ 8] ، سَنُقْرِئُكَ فَلا تَنْسى[ الأعلی/ 6] إِخبارٌ وضَمَانٌ من اللهِ تعالیٰ أنه يجعله بحیث لا يَنْسَى ما يسمعه من الحقّ ، وكلّ نسْيانٍ من الإنسان ذَمَّه اللهُ تعالیٰ به فهو ما کان أصلُه عن تعمُّدٍ. وما عُذِرَ فيه نحو ما رُوِيَ عن النبيِّ صلَّى اللَّه عليه وسلم : «رُفِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْيَانُ» فهو ما لم يكنْ سَبَبُهُ منه . وقوله تعالی: فَذُوقُوا بِما نَسِيتُمْ لِقاءَ يَوْمِكُمْ هذا إِنَّا نَسِيناكُمْ [ السجدة/ 14] هو ما کان سببُهُ عن تَعَمُّدٍ منهم، وترْكُهُ علی طریقِ الإِهَانةِ ، وإذا نُسِبَ ذلك إلى اللہ فهو تَرْكُهُ إيّاهم استِهَانَةً بهم، ومُجازاة لِما ترکوه . قال تعالی: فَالْيَوْمَ نَنْساهُمْ كَما نَسُوا لِقاءَ يَوْمِهِمْ هذا[ الأعراف/ 51] ، نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ [ التوبة/ 67] وقوله : وَلا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْساهُمْ أَنْفُسَهُمْ [ الحشر/ 19] فتنبيه أن الإنسان بمعرفته بنفسه يعرف اللَّهَ ، فنسیانُهُ لله هو من نسیانه نَفْسَهُ. وقوله تعالی: وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذا نَسِيتَ [ الكهف/ 24] . قال ابن عباس : إذا قلتَ شيئا ولم تقل إن شاء اللَّه فَقُلْهُ إذا تذكَّرْتَه «2» ، وبهذا أجاز الاستثناءَ بعد مُدَّة، قال عکرمة «3» : معنی «نَسِيتَ» : ارْتَكَبْتَ ذَنْباً ، ومعناه، اذْكُرِ اللهَ إذا أردتَ وقصدتَ ارتکابَ ذَنْبٍ يكنْ ذلک دافعاً لك، فالنِّسْيُ أصله ما يُنْسَى کالنِّقْضِ لما يُنْقَض، ( ن س ی ) النسیان یہ سنیتہ نسیانا کا مصدر ہے اور اس کے معنی کسی چیز کو ضبط میں نہ رکھنے کے ہیں خواہ یہ ترک ضبط ضعف قلب کی وجہ سے ہو یا ازارہ غفلت ہو یا قصدا کسی چیز کی یاد بھلا دی جائے حتیٰ کہ وہ دل سے محو ہوجائے قرآن میں ہے : ۔ وَلَقَدْ عَهِدْنا إِلى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً [ طه/ 115] ہم نے پہلے آدم (علیہ السلام) سے عہد لیا تھا مگر وہ اسے بھول گئے اور ہم نے ان میں صبر وثبات نہ دیکھا ۔ فَذُوقُوا بِما نَسِيتُمْ [ السجدة/ 14] سو اب آگ کے مزے چکھو اس لئے کہ تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا ۔ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَما أَنْسانِيهُ إِلَّا الشَّيْطانُ [ الكهف/ 63] تو میں مچھلی وہیں بھول گیا ۔ اور مجھے آپ سے اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا ۔ لا تُؤاخِذْنِي بِما نَسِيتُ [ الكهف/ 73] کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذاہ نہ کیجئے فَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ [ المائدة/ 14] مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جوان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کردیا ۔ ثُمَّ إِذا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِنْهُ نَسِيَ ما کانَ يَدْعُوا إِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ [ الزمر/ 8] پھر جب وہ اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت دے دیتا ہے تو جس کام کے لئے پہلے اس کو پکارتا ہے اسے بھول جاتا ہے اور آیت سَنُقْرِئُكَ فَلا تَنْسى[ الأعلی/ 6] ہم تمہیں پڑھائیں گے کہ تم فراموش نہ کرو گے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے ایسا بنادے گا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سنو گے اسے بھولنے نہیں پاؤ گے پھر ہر وہ نسیان جو انسان کے قصد اور ارداہ سے ہو وہ مذموم ہے اور جو بغیر قصد اور ارادہ کے ہو اس میں انسان معزور ہے اور حدیث میں جو مروی ہے رفع عن امتی الخطاء والنیان کہ میری امت کو خطا اور نسیان معاف ہے تو اس سے یہی دوسری قسم کا نسیان مراد ہے یعنیوی جس میں انسان کے ارادہ کو دخل نہ ہو اور آیت کریمہ : ۔ فَذُوقُوا بِما نَسِيتُمْ لِقاءَ يَوْمِكُمْ هذا إِنَّا نَسِيناكُمْ [ السجدة/ 14] سو اب آگ کے مزے چکھو اس لئے کہ تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا ۔ میں نسیان بمعنی اول ہے یعنی وہ جس میں انسان کے قصد اور ارادہ کو دخل ہو اور کسی چیز کو حقیر سمجھ کرا سے چھوڑ دیا جائے ۔ پھر جب نسیان کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے ازراہ اہانث انسان کو چھوڑ ینے اور احکام الہیٰ کے ترک کرنے کی وجہ سے اسے سزا دینے کے معنی مراد ہوتے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَالْيَوْمَ نَنْساهُمْ كَما نَسُوا لِقاءَ يَوْمِهِمْ هذا[ الأعراف/ 51] تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے تھے اس طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے ۔ نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ [ التوبة/ 67] انہوں نے خدا کو بھلا یا تو خدا نے بھی ان کو بھلا دیا ۔ وَلا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْساهُمْ أَنْفُسَهُمْ [ الحشر/ 19] اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے انہیں ایسا کردیا کہ خود اپنے تئیں بھول گئے ۔ میں متنبہ کیا ہے کہ انسان اپنے نفس کی معرفت حاصل کرنے سے ہی معرفت الہیٰ حاصل کرسکتا ہے لہذا انسان کا اللہ تعالیٰ کو بھلا دینا خود اپنے آپکو بھال دینے کے مترادف ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذا نَسِيتَ [ الكهف/ 24] اور جب خدا کا نام لینا بھال جاؤ تو یاد آنے پر لے لو ۔ کے ابن عباس نے یہ معنی کئے ہیں کہ جب تم کوئی بات کہو اور اس کے ساتھ انشاء اللہ کہنا بھول جاؤ تو یاد آنے پر انشاء اللہ کہہ لیا کرو ۔ اسی لئے ابن عباس کے نزدیک حلف میں کچھ مدت کے بعد بھی انشاء اللہ کہنا جائز ہے اور عکرمہ نے کہا ہے کہ نسیت بمعنی ارتکبت ذنبا کے ہے ۔ اور آیت کے معنی یہ ہیں ۔ کہ جب تمہیں کسی گناہ کے ارتکاب کا خیال آئے تو اس وسوسہ کو دفع کرنے کے لئے خدا کے ذکر میں مشغول ہوجایا کرو تاکہ وہ وسوسہ دفع ہوجائے ۔ النسی کے اصل معنی ماینسیٰ یعنی فراموش شدہ چیز کے ہیں جیسے نقض بمعنی ماینقض آتا ہے ۔ مگر عرف میں نسی اس معمولی چیز کو کہتے ہیں جو در خود اعتناء نہ سمجھی جائے نَّصِيبُ : الحَظُّ المَنْصُوبُ. أي : المُعَيَّنُ. قال تعالی: أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ [ النساء/ 53] ( ن ص ب ) نصیب و النصیب کے معنی معین حصہ کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ [ النساء/ 53] کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے ۔ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ «1» ، وتارة عن الأرذل فيقابل بالخیر، نحو : أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] ، دنا اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا ہ ۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ فسد الفَسَادُ : خروج الشیء عن الاعتدال، قلیلا کان الخروج عنه أو كثيرا،. قال تعالی: لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] ، ( ف س د ) الفساد یہ فسد ( ن ) الشئی فھو فاسد کا مصدر ہے اور اس کے معنی کسی چیز کے حد اعتدال سے تجاوز کر جانا کے ہیں عام اس سے کہ وہ تجاوز کم ہو یا زیادہ قرآن میں ہے : ۔ لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] تو آسمان و زمین ۔۔۔۔۔ سب درہم برہم ہوجائیں ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٧) اور یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے جتنا مال دے رکھا ہے اس میں حصول جنت کی بھی جستجو کیا کر اور دنیا سے اپنے آخرت کے حصہ کو فراموش مت کر یا یہ کہ دنیا کے حصہ سے آخرت کے حصہ میں کمی مت کر اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مال دے کر تم پر احسان کیا تو پھر تم بھی فقرا اور مساکین کے ساتھ احسان کیا کر اور نافرمانی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فرمان کی مخالفت مت کر اللہ تعالیٰ ایسے نافرمانوں کو پسند نہیں کرتا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٧ (وَابْتَغِ فِیْمَآ اٰتٰٹک اللّٰہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ ) ” یہ دولت اللہ ہی کی دی ہوئی ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ اس کے راستے میں خرچ کر کے اپنے لیے توشۂ آخرت جمع کرنے کی کوشش کرو۔ اس ضمن میں سورة التوبہ کی آیت ١١١ کے یہ الفاظ بھی مد نظر رہیں : (اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَ ط) ” یقیناً اللہ نے خرید لی ہیں اہل ایمان سے ان کی جانیں بھی اور ان کے مال بھی ‘ اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے۔ “ (وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا) ” کسی دولت مند شخص کے لیے یہ تیسری نصیحت ہے کہ جو دولت اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اس میں سے اپنی ذات پر بھی خرچ کرو۔ اس سے یوں لگتا ہے کہ جیسے قارون بہت کنجوس تھا۔ اسے بس دولت جمع کرنے ہی کی فکر تھی ‘ دولت کو خرچ کرنے سے وہ گھبراتا تھا ‘ حتیٰ کہ اپنی ذاتی ضروریات کو بھی نظر انداز کردیتا تھا۔ اس سلسلے میں سورة الاعراف آیت ٣٢ کے ان الفاظ میں بہت واضح راہنمائی موجود ہے : (قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ ط) ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان سے ) کہیں کہ کس نے حرام کی ہے وہ زینت جو اللہ نے نکالی ہے اپنے بندوں کے لیے ؟ اور (کس نے حرام کی ہیں) پاکیزہ چیزیں کھانے کی ؟ “ یعنی ایک خوشحال آدمی کو اچھا کھانے اور اچھا پہننے سے کس نے منع کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو رہبانیت اختیار کرنے کا حکم تو نہیں دیا ‘ بلکہ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ اعتدال کی روش کو پسند فرماتے ہیں۔ چناچہ سورة الفرقان کی آیت ٦٧ میں ” عباد الرحمن “ کے اوصاف میں سے ایک صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے : (وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا ۔ ) ” اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں ‘ بلکہ ان کا خرچ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے “۔ بہر حال آیت زیر مطالعہ میں اس حکم کے ذریعے اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوڑے بغیر اپنے وسائل میں سے اپنی اور اپنے متعلقین کی ضروریات پر خرچ کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں چوتھی نصیحت یہ دی گئی ہے : (وَاَحْسِنْ کَمَآ اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ ) ” اللہ نے تمہیں دولت دی ہے تو یہ اللہ کا تم پر بہت بڑا احسان ہے۔ لہٰذا تمہیں چاہیے کہ تم بھی لوگوں پر احسان کرو اور اپنے بیگانے کی تفریق و تخصیص کیے بغیر غریبوں ‘ مسکینوں اور محتاجوں کی مدد کو اپنا شعار بناؤ۔ اس سلسلے میں سورة المعارج میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی ہے : (وَالَّذِیْنَ فِیْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ لِّلسَّآءِلِ وَالْمَحْرُوْمِ ) ” اور وہ لوگ جن کے اموال میں ایک مقررہ حصہ ہے ‘ سائلوں اور ناداروں کا “۔ اور اب پانچویں نصیحت : (وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِط اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ ) ” اپنے سیاق وسباق کے حوالے سے یہ بہت اہم ہدایت ہے۔ وہ کون سا فساد تھا جس میں قارون ملوث تھا ؟ یہ سمجھنے کے لیے مصر کے اس ماحول کا تصور کریں جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دن رات ہمہ تن کار نبوت اور فرائضِ رسالت کی ادائیگی میں لگے ہوئے تھے۔ اس معاشرے کے کچھ لوگ تو آپ ( علیہ السلام) کا ساتھ دے رہے تھے اور اس کام میں آپ ( علیہ السلام) کا ہاتھ بٹانے کی کوشش میں تھے ‘ جبکہ کچھ دوسرے لوگ آپ ( علیہ السلام) کی راہ میں روڑے اٹکانے اور آپ ( علیہ السلام) کے مشن کو ناکام بنانے کے لیے سازشوں میں مصروف تھے۔ گویا اللہ تعالیٰ اس معاشرے کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے سے جو خیر پیدا کرنا چاہتا تھا ‘ قارون اور اس کے گروہ کے لوگ مختلف حربوں سے اس خیر کا راستہ روکنے کی کوشش میں مصروف تھے ‘ اور یہی وہ ” فساد فی الارض “ ہے جس کا یہاں ذکر ہوا ہے۔ اس حوالے سے اگر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدنی دور کا جائزہ لیں تو مدینہ کے منافقین بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشن کے خلاف اسی طرح کی منفی سرگرمیوں میں مصروف عمل تھے۔ ان کی مفسدانہ سازشوں کا ذکر سورة البقرۃ میں اس طرح کیا گیا ہے : (وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ لاَ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِلا قالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ ۔ اَلَآ اِنَّہُمْ ہُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰکِنْ لاَّ یَشْعُرُوْنَ ) ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد مت مچاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار ! بلاشبہ وہی ہیں فساد کرنے والے ‘ لیکن وہ شعور نہیں رکھتے “۔ چناچہ کسی دینی جماعت یا تحریک کی اصلاحی اور انقلابی کوششوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا اور ایسی جماعت کے نظم کے خلاف سازشیں اور ریشہ دوانیاں کرنا گویا ” فساد فی الارض “ کے زمرے میں آتا ہے اور اللہ کو ایسے مفسد لوگ پسند نہیں ہیں۔ یعنی دین کی سربلندی کے لیے کی جانے والی کوشش کا حصہ بنو ‘ نہ کہ اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرو۔ مندرجہ بالا ہدایات کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ انہیں ایک مرتبہ پھر سے دہرایا جائے : (١) (لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ ) ” (اپنی دولت پر) اتراؤ مت ‘ یقیناً اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ “ (٢) (وَابْتَغِ فِیْمَآ اٰتٰٹک اللّٰہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ ) ” اور جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس سے دار آخرت حاصل کرنے کی کوشش کرو “ (٣) (وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا ) ” اور تم دنیا سے اپنا حصہ مت بھولو “ (٤) (وَاَحْسِنْ کَمَآ اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ ) ” اور لوگوں کے ساتھ احسان کرو ‘ جیسے اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے “ (٥) (وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِط اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ ) ” اور زمین میں فساد مت مچاؤ ‘ یقیناً اللہ فساد مچانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

43: مطلب یہ ہے کہ مال ودلت کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق استعمال کرو جس کے نتیجے میں آخرت کا ثواب حاصل ہو۔ 44: یعنی آخرت کا گھر بنانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا کی ضروریات بالکل نظر انداز کردو ؛ بلکہ ضرورت کے مطابق دنیا کا ساز وسامان رکھنے اور کمانے میں بھی کچھ گناہ نہیں ہے، البتہ دنیا اس انداز سے نہ کماؤ جس سے آخرت میں نقصان اٹھانا پڑے۔ 45: یہاں اشارہ فرمادیا گیا کہ جو مال ودولت تمہیں دنیا میں ملا ہے، حقیقت میں وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، اور اس نے تم پر احسان کرکے تمہیں عطا فرمایا ہے، اسی طرح تم بھی لوگوں پر احسان کرکے انہیں اس مال ودولت میں شریک کرو

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:77) وابتغ۔ واؤ حرف عطف۔ ابتغ کا عطف لاتفرح پر ہے ابتغ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ابتغاء (افتعال) مصدر۔ تو طلب کر ۔ تو جستجو کر۔ تو حاصل کرنے کی کوشش کر۔ فیما اتک اللہ۔ میں فی یا ظرفیہ ہے یا سببیہ۔ اس کو خرچ کرکے۔ ما اسم موصول۔ اتک اللہ (جملہ خبر یہ) صلہ۔ اس (مال وزر) سے جو اللہ نے تجھے دیا ہے ۔ یعنی اسے خرچ کرکے اللہ کی راہ میں۔ الدار الاخرۃ۔ موصوف و صفت۔ ابتغ کا مفعول۔ مطلب یہ ہوا کہ جو دولت اللہ نے تجھے دی ہے اس کے ذریعہ آخرت کا گھر حاصل کرنے کی کوشش کر۔ لاتنس۔ فعل نہی۔ واحد مذکر حاضر۔ نسی ینسی (سمع) نسی نسیان ونسایۃ مصدر۔ تو مت بھول۔ نہ ترک کر۔ نصیبک۔ مضاف مضاف الیہ۔ اپنا حصہ۔ یعنی اس خداداد مال و دولت سے تو خود بھی حدود کے اندر رہ کر اسراف سے بچ کر اپنے آرام و آسائش کے لئے خرچ کر لیکن حقوق واجب کی ادائی پر توجہ اس سرمایہ کو تو شہ آکرت بھی بنالے۔ احسن۔ فعل امر۔ واحد مذکر حاضر۔ تو احسان کر۔ یعنی غیر کے ساتھ نیکی کر۔ لاتبغ۔ فعل نہی واحد حاضر۔ تو مت خواہش کر۔ تو مت کوشش کر یبغی بغی (باب ضرب) مصدر سے۔ قال : ای قال قارون فی جواب کلام قومہ۔ قارون نے اپنی قوم کے کلام کے جواب میں کہا۔ اوتیتہ۔ ماضی مجہول واحد متکلم ۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ میں دیا گیا ہوں (مال و دولت) یعنی یہ (مال و دولت) مجھے دی گئی ہے اوتیت ایتاء (افعال) مصدر سے ہے ۔ کسی کو کوئی چیز دینا۔ اور اسی سے ہے اتنا غداء نا (18:62) ہمارا کھانا ہمیں دو ۔ علی علم۔ میں علی سببیہ ہے ای لاجل علم بہ سبب (س) علم کے۔ عندی۔ جو میرے پاس ہے۔ اولم یعلم۔ کیا وہ نہیں جانتا تھا۔ (تنبیہا فرمایا) اکثر جمعا : ای اکثر مالا او اکثر جماعۃ وعدوا۔ مال و دولت میں زیادہ یا جتھے کے لحاظ سے بڑے۔ ولا یسئل عن ذنوبھم المجرمون ۔ گنہگاروں سے تو ان کے گناہوں کے متعلق دریافت نہیں کیا جائے گا۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) گنہگاروں سے اس واسطے پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی کہ ان کے نامہ اعمال میں ہی ان کے گناہوں کی تفصیل مندرج ہوگی۔ (2) گنہگار تو اپنے چہرے سے ہی پہچان لئے جائیں گے۔ یعرف المجرمون بسیمہم (55:41) (3) جب مجرموں کو سزا دینا ہوتی ہے تو ان سے نہیں پوچھا جاتا کہ تمہارے گناہ کیا ہیں۔ وہ تو یہی دعوی کریں گے کہ ہم نے گناہ ہیں۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ مجرموں پر حجت قائم کرے کے لیے ان کو خود ان کے نامہ اعمال دکھائے جائیں گے۔ یا ان کے لئے اپنے اعضاء (ہاتھ پاؤں ۔ آنکھ۔ زبان ۔ کان وغیرہ) سے ہی اعتراف جرم کرایا جائے گا۔ یہ جو اور جگہ ارشاد ہے :۔ فوربک لنسئلنھم اجمعین (15:92) سو تمہارے پروردگار کی قسم ہے ہم ان سب سے ضرور سوال کریں گے۔ تو یہ توبیخ و تفریع کے طور پر ہوگا نہ کہ عالم الغیب کی واقفیت کے لئے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

2 ۔ یعنی دنیا میں آخرت کے لئے نیک کام کرتا وہ کیونکہ دنیا میں انسان کا حصہ اس کی عمر اور نیک عمل ہی ہیں۔ جمہور مفسرین (رح) نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ دنیا میں حلال رزق سے متمتع ہونے اور حلال روزی طلب کرنے کا حصہ ضائع نہ کر اور دنیا کے انجام پر غور کرتا رہ جیسے حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا : اخرت لدناک کانک تعیش ابدا و اعمل لاخرتک کانک لموت غدا (کذا فی القرطبی) ۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” حصہ موافق کھا پہن اور زیادہ مال سے آخرت کما۔ “ (موضح) 3 ۔ یہاں ” احسان “ کے معنی ہیں ” خلوص سے اللہ کی عبادت کرنا “۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے احسان کے بارے میں دریافت کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان تعبد اللہ کا…“ کہ تم اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو۔ بعض نے یہاں ” احسن “ کے معنی ” بندوں کے ساتھ احسان کرنا “ لئے ہیں۔ بہرحال ” احسان کی تاویل میں مختلف اقوال ہیں۔ سب کا جامع مفہوم یہ ہے کہ ” اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو طاعت الٰہی میں صرف کرنا۔ “ (قرطبی۔ شوکانی) 4 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی معصیت کے کام نہ کرو۔ ظاہر ہے کہ دنیا میں سب سے بڑا دہند (فساد مچانا) اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرنا ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” خرابی نہ ڈال یعنی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی ضد نہ کر “۔ (موضح) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یعنی گناہ کرنے سے دنیا میں فساد ہوتا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قارون کی قوم نے یہ بھی کہا کہ (وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا) (کہ دنیا میں سے اپنے حصہ کو مت بھول جا) یعنی اس دنیا میں سے اپنا حصہ لے لے جو آخرت میں تیرے کام آئے، دنیا میں سے اپنا حصہ وہی ہے جو آخرت کے لیے بھیج دیا، وہاں جائیں گے تو وہ مل جائے گا۔ سورة مزمل میں فرمایا۔ (وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْہُ عِنْدَ اللّٰہِ ) (اور جو کچھ اپنی جانوں کے لیے پہلے سے بھیج دو گے اسے اللہ کے پاس لو گے) بعض مفسرین نے (وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا) کا یہی مطلب بتایا ہے جو ہم نے ابھی ذکر کیا۔ اس معنی کے اعتبار سے یہ جملہ پہلے جملہ کی تاکید ہوگا۔ اور بعض حضرات نے اس کا یہ مفہوم بتایا ہے کہ اپنے مال کو دنیا میں بھی اپنی جان پر خرچ کرلے۔ کھالے، پی لے اور معاش کی ضروریات میں خرچ کرلے، لیکن پہلا معنی اقرب اور راجح ہے کیونکہ کسی مالدار کو جو مال اتراتا ہو اس بات کی تلقین کرنے کی ضرورت نہیں کہ تو اپنی دنیا سے اپنے اوپر بھی خرچ کرلے (وَ اَحْسِنْ کَمَآ اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ ) اور تو اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھ پر احسان فرمایا) ۔ (وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ ) (اور زمین میں فساد کا خواہاں مت ہو) یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرر فرمودہ حقوق اور فرائض سے جان مت چرا اور گناہوں میں خرچ نہ کر، ریا کاری کے کاموں میں نہ لگا کیونکہ یہ زمین میں فساد برپا کرنے کی چیزیں ہیں (اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ ) (بلاشبہ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا) قوم نے جو فساد سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی نصیحت کی تھی اس کے جواب میں قارون نے کہا (اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ ) (کہ یہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو کہ اللہ نے میرے ساتھ احسان فرمایا ہے مجھے مال دیا ہے میں اس بات کو نہیں مانتا مجھے تو یہ مال میری دانشمندی اور ہنر مندی کی وجہ سے ملا ہے) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ قارون سونا بنانے کی صنعت یعنی کیمیا گری سے واقف تھا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے تجارت کے طریقوں سے اور کسب اموال کے مختلف ذرائع سے یہ مال کمایا ہے (قرطبی) پس جب میری محنتوں سے ملا تو مجھے اختیار ہونا چاہیے کہ اپنا مال جہاں لگاؤں جس طرح لگاؤں اور کسی کو دوں یا نہ دوں اللہ جل شانہٗ نے فرمایا (اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَھْلَکَ مِنْ قَبْلِہٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ ھُوَ اَشَدُّ مِنْہُ قُوَّۃً وَّ اَکْثَرُ جَمْعًا) (کیا اس نے نہیں جانا کہ بلاشبہ اللہ نے اس سے پہلے کتنی ہی جماعتوں کو ہلاک کردیا جو قوت میں اس سے زیادہ سخت تھیں اور جتھہ کے اعتبار سے زیادہ تھیں) قارون نے اپنے مالدار ہونے کے گھمنڈ میں یوں کہہ دیا کہ میرے پاس جو کچھ مال ہے میری ہنر مندی سے ملا ہے اور اللہ تعالیٰ کی دادو دھش کا منکر ہوگیا۔ اور نا شکری پر تل گیا، نا شکروں کا برا انجام ہوتا رہا ہے کیا اسے یہ پتہ نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اس سے پہلے بہت ایسی جماعتوں کو ہلاک فرما چکا ہے جو مالی قوت میں بھی اس سے زیادہ تھیں اور مجمع کثیر ہونے کے اعتبار سے بھی، جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت ہوئی تو ان کے اموال اور جماعت اور جتھا کچھ بھی کام نہ آیا۔ (وَ لَا یُسْءَلُ عَنْ ذُنُوْبْھِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ) (اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں سوال نہ ہوگا) یعنی ان سے گناہوں کی تصدیق کے طور پر یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے جرم کیا ہے یا نہیں ؟ اللہ تعالیٰ کو تمام مجرمین کے گناہوں کی خبر ہے۔ اور فرشتوں نے جو صحائف اعمال لکھے تھے ان میں بھی سب کچھ موجود ہے۔ لہٰذا اس نوع کا سوال نہ ہوگا کہ اقرار کرلیں تو عذاب دیا جائے بلکہ جو سوال ہوگا (جس کا بعض آیات میں ذکر ہے) وہ سوال زجر و تو بیخ کے لیے ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

72:۔ قوم کے لوگوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی اور اس سے کہا اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں دولت دی ہے اس میں اللہ کا حق ادا کر کے اور اسے اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کر کے سامان آخرت تیار کر اور دنیا کی زندگی سے فائدہ اٹھا۔ جس طرح اللہ نے تجھ پر احسان فرمایا ہے اور تجھے دولت عطا فمرائی ہے اسی طرح تو اللہ کے بندوں پر احسان اور دولت کے بل پر زمین میں شر و فساد بپا مت کر کیونکہ اللہ تعالیٰ شر پسند لوگوں کو پسند نہیں فرماتا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

77۔ اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تجھ کو دے رکھا ہے اس سے آخرت کے گھر کی تلاش اور جستجو کر اور دنیا میں سے اپنے حصے کو فراموش نہ کر اور اس کو بھول نہ جا اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے تجھ پر احسان کیا ہے تو اس کی مخلوق پر احسان کر اور ملک میں فساد پھیلانے کا خواہش مند نہ ہو اور فساد پھیلانے کی راہیں تلاش نہ کر بلاشبہ اللہ تعالیٰ فساد کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ یہ بھی قوم کا ہی قول ہے جو قوم نے اس کو سمجھانے کی غرض سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تجھ کو عطا فرمایا ہے اس سے اپنی آخرت کو سنوارا اور دار آخرت کے لئے اعمال خیر کر اور دنیا میں اپنا حصہ فراموش نہ کر یعنی کھالے پہن لے باقی خدا کی مخلوق پر صرف کر یا یہ کہ دنیا میں سے جو لے کر جانا ہے اس کو ملحوظ رکھ اور وہ سوائے کفن کے اور کیا ہے قوم کے لوگوں نے مزید توضیح کی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے جو دو کرم سے تجھ کو نوازا ہے تو اس کی مخلوق اور اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کر اور اپنی ضرورت کے لائق رکھ لے باقی خیرات کر دے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کی نافرمانی کرنے کی راہیں تلاش نہ کر اور فساد پھیلانے کی جستجو نہ کر کیونکہ گناہوں سے ملک میں بلکہ ہر خشکی و تری میں فساد پھیلتا اور رونما ہوتا ہے اور اس امر کا یقین کر کہ اللہ تعالیٰ فساد کرنیوالوں کو دوست نہیں رکھتا اور پسند نہیں کرتا ، قوم کی اس نصیحت پر اس نے جواب دیا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں خرابی نہ ڈال یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ضد نہ کر اور اپنا حصہ نہ بھول دنیا سے یعنی حصے موافق کھا پہن اور زیادہ مال سے آخرت کہا ۔ 12