Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 81

سورة القصص

فَخَسَفۡنَا بِہٖ وَ بِدَارِہِ الۡاَرۡضَ ۟ فَمَا کَانَ لَہٗ مِنۡ فِئَۃٍ یَّنۡصُرُوۡنَہٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ٭ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُنۡتَصِرِیۡنَ ﴿۸۱﴾

And We caused the earth to swallow him and his home. And there was for him no company to aid him other than Allah , nor was he of those who [could] defend themselves.

۔ ( آخرکار ) ہم نے اسے اس کے محل سمیت زمین میں دھنسا دیا اور اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مدد کے لئے تیار نہ ہوئی نہ وہ خود اپنے بچانے والوں میں سے ہو سکا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

How Qarun and His Dwelling Place were swallowed up by the Earth Allah tells: فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الاَْرْضَ ... So, We caused the earth to swallow him and his dwelling place. After telling us about Qarun's conceit and pride in his adornments, and how he was arrogant towards his people and transgressed against them, Allah then tells us how he and his dwelling place were swallowed up by the earth. This was also reported in the Sahih by Al-Bukhari from Salim, who said that his father told him that the Messenger of Allah said: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَجُرُّ إِزَارَهُ إِذْ خُسِفَ بِهِ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الاَْرْضِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة While a man was dragging his lower garment, he was swallowed up and he will remain sinking down into the earth until the Day of Resurrection. He also recorded something similar from Salim from Abu Hurayrah from the Prophet. Imam Ahmad recorded that Abu Sa`id said, "The Messenger of Allah said: بَيْنَمَا رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ خَرَجَ فِي بُرْدَيْنِ أَخْضَرَيْنِ يَخْتَالُ فِيهِمَا أَمَرَ اللهُ الاَْرْضَ فَأَخَذَتْهُ فَإِنَّهُ لَيَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة When a man among the people who came before you went out wearing two green garments, walking proudly and arrogantly, Allah commanded the earth to swallow him up, and he will remain sinking down into it until the Day of Resurrection. This version was recorded only by Ahmad, and its chain of narration is Hasan (sound). ... فَمَا كَانَ لَهُ مِن فِيَةٍ يَنصُرُونَهُ مِن دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ المُنتَصِرِينَ Then he had no group to help him against Allah, nor was he one of those who could save themselves. means, his wealth, group, servants and retinue were of no avail to him; they could not protect him from the wrath and vengeance of Allah. Nor could he help himself or save himself. There was no one to help him, neither himself nor anybody else. His People learned a Lesson from Him being swallowed up Allah's saying:

ایک بالشت کا آدمی؟ اوپر قارون کی سرکشی بے ایمانی کا ذکر ہوچکا یہاں اس کے انجام کا بیان ہو رہا ہے ۔ ایک حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص اپنا تہبند لٹکائے فخر سے جارہا تھا کہ اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ اسے نگل جا ۔ کتاب العجائب میں نوفل بن ماحق کہتے ہیں کہ نجران کی مسجد میں میں نے ایک نوجوان کو دیکھا بڑا لمبا چوڑا بھرپور جوانی کے نشہ میں چور گٹھے ہوئے بدن والا بانکا ترچھا اچھے رنگ ورغن ، والا خوبصورت ، شکیل ۔ میں نگاہیں جماکر اس کے جمال وکمال کو دیکھنے لگا تو اس نے کہا کیا دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا آپ کے حسن وجمال کامشاہدہ کر رہا ہوں اور تعجب معلوم ہو رہا ہے ۔ اس نے جواب دیا کہ تو ہی کیا خود اللہ تعالیٰ کو بھی تعجب ہے ۔ نوفل کہتے ہیں کہ اس کلمہ کے کہتے ہی وہ گھٹنے لگا اور اس کا رنگ روپ اڑنے لگا اور قد پست ہونے لگا یہاں تک کہ بےقدر ایک بالشت کے رہ گیا ۔ آخرکار اس کا کوئی قریبی رشتہ دار اپنی آستین میں ڈال کرلے گیا ۔ یہ بھی مذکور ہے کہ قارون کی ہلاکت حضرت موسیٰ کی بدعا سے ہوئی تھی اور اس کے سبب میں بہت کچھ اختلاف ہے ۔ ایک سبب تو یہ بیان کیا جاتا ہے کہ قارون ملعون نے ایک فاحشہ عورت کو بہت کچھ مال ومتاع دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ عین اس وقت جب حضرت موسیٰ کلیم اللہ بنی اسرائیل میں کھڑے خطبہ کہہ رہے ہوں وہ آئے اور آپ سے کہے کہ تو وہی ہے نا جس نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا ۔ اس عورت نے یہی کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام کانپ اٹھے اور اسی وقت نماز کی نیت باندھ لی اور دو رکعت ادا کرکے اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے تجھے اس اللہ کی قسم جس نے سمندر میں سے راستہ دیا اور تیری قوم کو فرعون کے مظالم سے نجات دی اور بھی بہت سے احسانات کئے تو جو سچا واقعہ ہے اسے بیان کر ۔ یہ سن کر اس عورت کا رنگ بدل گیا اور اس نے صحیح واقعہ سب کے سامنے بیان کر دیا اور اللہ سے استغفار کیا اور سچے دل سے توبہ کرلی ۔ حضرت موسیٰ پھر سجدہ میں گر گئے اور قارون کی سزا چاہی ۔ اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی کہ میں نے زمین کو تیرے تابع کردیا ہے ۔ آپ نے سجدے سے سر اٹھایا اور زمین سے کہا کہ تو اسے اور اس کے محل کو نگل لے ۔ زمین نے یہی کیا دوسرا سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ جب قارون کی سواری اس طمطراق سے نکلی سفید قیمتی خچر پر بیش بہا پوشاک پہنے سوار تھا ، اس کے غلام بھی سب کے سب ریشمی لباسوں میں تھے ۔ ادھر حضرت موسیٰ علیہ السلام خطبہ پڑھ رہے تھے بنو اسرائیل کا مجمع تھا ۔ یہ جب وہاں سے نکلا تو سب کی نگاہیں اس پر اور اس کی دھوم دھام پر لگ گئیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے دیکھ کر پوچھا آج اس طرح کیسے نکلے؟ اس نے کہا بات یہ ہے کہ ایک بات اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اور ایک فضلیت مجھے دے رکھی ہے اگر تمہارے پاس نبوت ہے تو میرے پاس یہ جاہ وحشم ہے اور اگر آپ کو میری فضیلت پر شک ہو تو میں تیار ہوں کہ آپ اور میں چلیں اور اللہ سے دعا کریں ۔ دیکھ لیجئے کہ اللہ کس کی دعا قبول فرماتا ہے آپ اس بات پر آمادہ ہوگئے اور اسکو لے کر چلے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ پہلے تو دعا کرتا ہے یا میں کروں؟ اس نے کہا نہیں میں کرونگا اب اس نے دعا مانگنی شروع کردی اور ختم ہوگئی لیکن دعا قبول نہ ہوئی ۔ حضرت موسیٰ نے کہا اب دعا میں کرتا ہوں اس نے کہا ہاں کیجئے ۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ زمین کو حکم دے کہ جو میں کہوں مان لے اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور وحی آئی کہ میں نے زمین کو تیری اطاعت کا حکم دے دیا ہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ سن کر زمین سے فرمایا اے زمین! اسے اور اس کے لوگوں کو پکڑ لے وہیں یہ لوگ اپنے قدموں تک زمین میں دھنس گئے ۔ آپ نے فرمایا اور پکڑے لے ۔ یہ اپنے گھٹنوں تک دھنس گئے ۔ آپ نے فرمایا اور پکڑ یہ مونڈھوں تک زمین میں دھنس گئے ۔ پھر فرمایا ان کے خزانے اور مال بھی یہیں لے آ ۔ اسی وقت ان کے کل خزانے اور مال وہاں آگئے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے ان سب کو دیکھ لیا پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ان کو ان کے خزانوں سمیت اپنے اندر کرلے اسی وقت یہ سب غارت ہوگئے اور زمین جیسی تھی ویسی ہوگئی ۔ مروی ہے کہ ساتوں زمین تک یہ لوگ بقدر انسان دھنستے جا رہے ہیں قیامت تک اسی عذاب میں رہیں گے ۔ یہاں پر بنی اسرائیل کی اور بہت سی روایتیں ہیں لیکن ہم نے ان کا ذکر یہاں چھوڑ دیا ہے ۔ نہ تو مال ان کے کام آیا نہ جاہ و حشم نہ دولت وتمکنت نہ کوئی ان کی مدد کے لئے اٹھا نہ یہ خود اپنا کوئی بچاؤ کرسکے ۔ تباہ ہوگئے بےنشان ہوگئے مٹ گئے اور مٹادئیے گئے ( اعاذنا اللہ ) اس وقت تو ان لوگوں کی بھی آنکھیں کھل گئی جو قارون کی دولت کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے تھے ۔ اور اسے نصیب دار سمجھ کر لمبے سانس لیا کرتے تھے اور رشک کیا کرتے تھے کہ کاش ہم ایسے دولت مند ہوتے ۔ وہ کہنے لگے اب دیکھ لیا کہ واقعی سچ ہے دولت مند ہونا کچھ اللہ کی رضامندی کا سبب نہیں ۔ یہ اللہ کی حکمت ہے جسے چاہے زیادہ دے جسے چاہے کم دے ۔ جس پر چاہے وسعت کرے جس پر چاہے تنگ کرے ۔ اس کی حکمتیں وہی جانتا ہے ایک حدیث میں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں اخلاق کی بھی اسی طرح تقسیم کی ہے جس طرح روزی کی ۔ مال تو اللہ کی طرف سے اس کے دوستوں کو بھی ملتا ہے اور اس کے دشمنوں کو بھی ۔ البتہ ایمان اللہ کی طرف سے اسی کو ملتا ہے جسے اللہ چاہتا ہو ۔ قارون کے اس دھنسائے جانے کو دیکھ کر وہ جو اس جیسا بننے کی امیدیں کررہے تھے کہنے لگے اگر اللہ کا لطف واحسان ہم پر نہ ہوتا تو ہماری اس تمناکے بدلے جو ہمارے دل میں تھی کہ کاش ہم بھی ایسے ہی ہوتے ۔ آج اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس کے ساتھ دھنسادیتا ۔ وہ کافر تھا اور کافر اللہ کے ہاں فلاح کے لائق نہیں ہوتے ۔ نہ انہیں دنیا میں کامیابی ملے نہ آخرت میں ہی وہ چھٹکارا پائیں ۔ نحوی کہتے ہیں ویکان کے معنی ویلک اعلم ان ہیں لیکن مخفف کرکے ویک رہ گیا اور ان کے فتح نے اعلم کے محذوف ہونے پر دلالت کردی ۔ لیکن اس قول کو امام ابن جریر نے ضعیف بتایا ہے ۔ مگر میں کہتا ہوں یہ ضعیف کہنا ٹھیک نہیں ۔ قرآن کریم میں اس کی کتابت کا ایک ساتھ ہونا اس کے ضعیف ہونے کی وجہ نہیں بن سکتا ۔ اس لئے کہ کتابت کا طریقہ تو اختراعی امر ہے جو رواج پا گیا وہی معتبر سمجھا جاتا ہے ۔ اس سے معنی پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ واللہ اعلم ۔ دوسرے معنی اس کے الم تر ان کے لئے گئے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرح یہ دو لفظ ہیں وی اور کان ۔ حرف وی تعجب کے لیے ہیں اور یا تنبیہہ کے لئے اور کان معنی میں اظن کے ہے ۔ ان تمام اقوال میں قوی قول یہ ہے کہ یہ معنی میں الم تر کے ہے یعنی کیا نہ دیکھا تونے جیسے کہ حضرت قتادہ کا قول ہے اور یہی معنی عربی شعر میں بھی مراد لئے گئے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

811یعنی قارون کو اس کے تکبر کی وجہ سے اس کے محل اور خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا‏‏، ایک آدمی اپنی ازار زمین پر لٹکائے جا رہا تھا (اللہ کو اس کا یہ تکبر پسند نہیں آیا) اور اسے زمین میں دھنسا دیا گیا، پس وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا،۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١٠] کہتے ہیں کہ قارون جب موسیٰ کا مخالف بن کر فرعون سے جاملا تو اس نے حضرت موسیٰ کو بدنام کرنے کے لئے ایک سازش تیار کی اور ایک فاحشہ عورت کو کچھ دے دلا کر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ پر زنا کی تہمت لگا دے۔ چناچہ جب حضرت موسیٰ نے اسے قسم دے کر سچ سچ بات بتلانے کو کہا تو اس نے بتلا دیا کہ اس نے قارون کے بہکانے سے یہ حرکت کی تھی اور اصل مجرم قارون تھا۔ حضرت موسیٰ کو اس کی اس حرکت پر سخت غصہ آیا۔ آپ نے اس کے لئے بددعا کی۔ یہ اسی بددعا کا اثر تھا کہ قارون اپنے محل، اپنے خزانوں اور خادموں سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ زمین کا اتنا ٹکڑا ہی سارے کا سارا عام سطح زمین سے بہت نیچے چلا گیا اور حب اس پر یہ قہر الٰہی نازل ہوا تو اس وقت نہ اس کے خزانے کچھ کام آسکے نہ اس کے خدام اور نہ ہی فرعون اور اس کی درباری اس کی مدد کو پہنچ سکے کہ وہ اسے زمین دھنس جانے سے بچا لیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الْاَرْضَ : اللہ تعالیٰ کو اس کے تکبر کے اس مظاہرے پر ایسی غیرت آئی کہ اس نے اسے اور اس کے گھر کو جس میں اس کے اہل و عیال، نوکر چاکر اور خزانے تھے، سب کو زمین میں دھنسا دیا۔ قارون کی اس حالت پر وہ حدیث منطبق ہوتی ہے جو ابن عمر (رض) نے بیان کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( بَیْنَمَا رَجُلٌ یَجُرُّ إِزَارَہُ مِنَ الْخُیَلاَءِ خُسِفَ بِہِ ، فَہُوَ یَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب : ٣٤٨٥ ] ” ایک آدمی اپنی چادر تکبر سے گھسیٹتا جا رہا تھا، تو اسی حالت میں اسے زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت کے دن تک زمین میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔ “ علمائے تفسیر کا رجحان یہ ہے کہ اس سے مراد قارون ہے۔ 3 اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوا کہ تکبر سے چادر لٹکانا بھی اللہ تعالیٰ کو اس قدر ناپسند ہے کہ اگر اس کی رحمت نہ ہو تو ایسے آدمی کو زمین میں دھنسا دیا جائے۔ اس میں شک نہیں کہ کپڑا خود بخود ڈھلک جائے تو وہ تکبر نہیں، جیسا کہ ابوبکر صدیق (رض) کا کپڑا ڈھلک جاتا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ تم تکبر سے ایسا نہیں کرتے، مگر بعض لوگ جان بوجھ کر کپڑا لٹکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تکبر سے ایسا نہیں کرتے۔ ان کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان سنیے، جابر بن سلیم (رض) نے ایک لمبی حدیث میں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں فرمایا : ( وَارْفَعْ إِزَارَکَ إِلٰی نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَیْتَ فَإِلَی الْکَعْبَیْنِ وَ إِیَّاکَ وَ إِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّہَا مِنَ الْمَخِیْلَۃِ وَ إِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْمَخِیْلَۃَ ) [ أبو داوٗد، اللباس، باب ما جاء في إسبال الإزار : ٤٠٨٤، و صححہ الألباني ] ” اپنی چادر نصف پنڈلی تک اٹھاؤ، اگر نہیں مانتے تو ٹخنوں تک اٹھاؤ، اور چادر لٹکانے سے بچو، کیونکہ یہ تکبر سے ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔ “ اس سے ثابت ہوا کہ جان بوجھ کر کپڑا لٹکانا ہی تکبر ہے۔ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان سننے کے بعد اسے نہ ماننا اور جان بوجھ کر کپڑا لٹکانا صاف تکبر ہے۔ جان بوجھ کر چادر لٹکانا اتنا بڑا گناہ ہے کہ ابوذر (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( ثَلَاثَۃٌ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یَنْظُرُ إِلَیْہِمْ وَلَا یُزَکِّیْہِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ، قَالَ فَقَرَأَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ أَبُوْ ذَرٍّ خَابُوْا وَخَسِرُوْا مَنْ ہُمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! ؟ قَالَ الْمُسْبِلُ إِزَارَہُ وَالْمَنَّانُ وَ الْمُنَفِّقُ سِلْعَتَہُ بالْحَلِفِ الْکَاذِبِ ) [ مسلم، الإیمان، باب بیان غلظ تحریم إسبال الإزار۔۔ : ١٠٦]” تین آدمی ایسے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ ان سے کلام کرے گا، نہ ان کی طرف نگاہ کرے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ “ تین دفعہ فرمایا تو ابوذر (رض) نے کہا : ” وہ تو ناکام اور نامراد ہوگئے، یا رسول اللہ ! وہ کون ہیں ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اپنی چادر (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے والا اور احسان جتلانے والا اور اپنا سامان جھوٹی قسم کے ساتھ بیچنے والا۔ “ 3 قرآن مجید کے بیان سے ظاہر ہے کہ اسے زمین میں دھنسانے کا باعث اس کا تکبر اور اس کے اظہار کے لیے اس کا اپنی زینت اور شان و شوکت کے ساتھ نکلنا تھا۔ مگر بعض مفسرین نے اس کی بغاوت اور سرکشی کے اور واقعات بھی بیان کیے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ قارون نے ایک فاحشہ عورت کو اس شرط پر کچھ مال دیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر بدکاری کی تہمت لگائے، جب وہ بنی اسرائیل میں کھڑے ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کر رہے ہوں تو یہ عورت کہے کہ موسیٰ ! تم نے میرے ساتھ ایسے ایسے کیا ہے۔ لہٰذا جب اس نے مجلس میں موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات کہی تو وہ ڈر کر کانپ اٹھے اور دو رکعتیں پڑھ کر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ” میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے سمندر کو پھاڑا اور تمہیں فرعون سے نجات دی اور فلاں فلاں احسانات کیے کہ تم ہر صورت وہ شخص بتاؤ جس نے تمہیں اس بات پر آمادہ کیا ہے جو تم نے کہی۔ “ اس نے کہا، جب آپ نے مجھ سے قسم دے کر پوچھا ہے تو قارون نے مجھے اتنا مال دیا ہے، اس شرط پر کہ میں آپ کو اس اس طرح کہوں اور میں اللہ سے معافی مانگتی ہوں اور توبہ کرتی ہوں۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) سجدے میں گرگئے اور قارون کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں وحی کی کہ میں نے زمین کو حکم دے دیا ہے کہ اس کے متعلق تمہارا حکم مانے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے زمین کو حکم دیا کہ اسے نگل جائے، تو ایسا ہی ہوا۔ ابن کثیر نے یہ واقعہ ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے۔ سند اس کی اچھی بھی ہو تو یہ ان کا قول ہے، انھوں نے اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل نہیں فرمایا اور ظاہر ہے کہ اس واقعہ کے وقت ابن عباس (رض) موجود نہیں تھے، بلکہ درمیان میں سیکڑوں ہزاروں سال کا فاصلہ ہے۔ اس لیے اس کے اسرائیلی روایت ہونے میں کوئی شک نہیں، جس پر یقین ممکن نہیں۔ خصوصاً اس لیے کہ اس میں قارون کا سمندر سے پار ہونا بھی مذکور ہے، جب کہ سورة مومن میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون، ہامان اور قارون کی طرف بھیجنے اور ان تینوں کے آپ کو جھٹلانے کا ذکر فرمایا ہے، پھر فرعون اور اس کے ساتھیوں کے متعلق فرمایا : (فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْۗءُ الْعَذَابِ اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّعَشِـيًّا) [ المؤمن : ٤٥، ٤٦ ] ” اور آل فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا۔ جو آگ ہے، وہ اس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں۔ “ اسی طرح سورة عنکبوت (٣٩، ٤٠) میں ان تینوں کے تکبر کی وجہ سے ایمان نہ لانے اور اپنے گناہوں میں پکڑے جانے کا ذکر ہے۔ غرض قرآن مجید سے قارون کے ایمان لانے یا سمندر سے پار جانے کا کوئی اشارہ نہیں ملتا، بلکہ اس کے مسلسل جھٹلانے، تکبر کرنے اور اس کی پاداش میں زمین کے اندر دھنس جانے کا ذکر ہی ملتا ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا : ” یہاں بہت سی اسرائیلیات ذکر کی گئی ہیں جن سے ہم نے پہلو تہی کی ہے۔ “ کاش ! ابن کثیر یہ اسرائیلیات بھی ذکر نہ کرتے جو انھوں نے ذکر کی ہیں۔ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ يَّنْصُرُوْنَهٗ ۔۔ : یعنی اس وقت نہ کوئی جماعت تھی جو اس کی مدد کو پہنچتی، نہ وہ خود اپنے آپ کو بچا سکا۔ اس کے نوکر چاکر، ساتھی اور دوست اس کے کسی کام نہ آسکے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَخَسَفْنَا بِہٖ وَبِدَارِہِ الْاَرْضَ۝ ٠ۣ فَمَا كَانَ لَہٗ مِنْ فِئَۃٍ يَّنْصُرُوْنَہٗ مِنْ دُوْنِ اللہِ۝ ٠ۤ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِيْنَ۝ ٨١ خسف الخُسُوف للقمر، والکسوف للشمس «1» ، وقال بعضهم : الکسوف فيهما إذا زال بعض ضوئهما، والخسوف : إذا ذهب كلّه . ويقال خَسَفَهُ اللہ وخسف هو، قال تعالی: فَخَسَفْنا بِهِ وَبِدارِهِ الْأَرْضَ [ القصص/ 81] ، وقال : لَوْلا أَنْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا لَخَسَفَ بِنا [ القصص/ 82] ، وفي الحدیث : «إنّ الشّمس والقمر آيتان من آيات اللہ لا يُخْسَفَانِ لموت أحد ولا لحیاته» «2» ، وعین خَاسِفَة : إذا غابت حدقتها، فمنقول من خسف القمر، وبئر مَخْسُوفَة : إذا غاب ماؤها ونزف، منقول من خسف اللہ القمر . وتصوّر من خسف القمر مهانة تلحقه، فاستعیر الخسف للذّلّ ، فقیل : تحمّل فلان خسفا . ( خ س ف ) الخسوف کا لفظ چاند کے بےنور ہونے اور کسوف کا لفظ سورج کے بےنور ہونے پر بولا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ خسوف قدر ہے بےنور ہونے کو کہاجاتا ہے اور کسوف پوری طرح بےنور ہوجانے کو کہتے ہیں ، عام اس سے کہ وہ سورج ہو یا چاند کہاجاتا ہے خسفہ اللہ اللہ نے اسے زمین میں دھنسادیا ( متعدی ) خسف ھو ( لازمی ) زمین میں دھنس جانا ۔ قرآن میں ہے :۔ فَخَسَفْنا بِهِ وَبِدارِهِ الْأَرْضَ [ القصص/ 81] پس ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا ۔ لَوْلا أَنْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا لَخَسَفَ بِنا [ القصص/ 82] اگر خدا ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا ۔ حدیث میں ہے ( ا اا) ان الشمس والقمر ایتان من ایات اللہ لایخسفان لموت احد ولا لحیاتہ کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو کسی کی موت پاپیدائش کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے ۔ اور عین خاسفہ ( اندر دھنسی ہوئی آنکھ ) کا محاورہ خسف القمر سے منقول ہے بئر مخسوفۃ وہ کنواں جس کا پانی غائب ہوگیا ہو اور چاند گہن لگنے سے چونکہ ماند پڑجاتا ہے اس لیے بطور استعارہ خسیف بمعنی ذلت ورسوائی بھی آجاتا ہے چناچہ کہا جاتا ہے ۔ تحمل فلان خسفا ۔ فلاں شخص ذلیل ہوگیا ۔ دار الدَّار : المنزل اعتبارا بدورانها الذي لها بالحائط، وقیل : دارة، وجمعها ديار، ثم تسمّى البلدة دارا، والصّقع دارا، والدّنيا كما هي دارا، والدّار الدّنيا، والدّار الآخرة، إشارة إلى المقرّين في النّشأة الأولی، والنّشأة الأخری. وقیل : دار الدّنيا، ودار الآخرة، قال تعالی: لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ، أي : الجنة، ( د و ر ) الدار ۔ منزل مکان کو کہتے ہیں کیونکہ وہ چار دیواری سے گھرا ہوتا ہے بعض نے دراۃ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کی جمع دیار ہے ۔ پھر دار کا لفظ شہر علاقہ بلکہ سارے جہان پر بولا جاتا ہے اور سے نشاۃ اولٰی اور نشاہ ثانیہ میں دو قرار گاہوں کی طرف اشارہ ہے بعض نے ( باضافت ) بھی کہا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ : لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ان کے لئے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے ۔ فِئَةُ والفِئَةُ : الجماعة المتظاهرة التي يرجع بعضهم إلى بعض في التّعاضد . قال تعالی: إِذا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا [ الأنفال/ 45] ، كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً [ البقرة/ 249] ، فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتا[ آل عمران/ 13] ، فِي الْمُنافِقِينَ فِئَتَيْنِ [ النساء/ 88] ، مِنْ فِئَةٍ يَنْصُرُونَهُ [ القصص/ 81] ، فَلَمَّا تَراءَتِ الْفِئَتانِ نَكَصَ عَلى عَقِبَيْهِ [ الأنفال/ 48] الفئۃ اس جماعت کو کہتے ہیں جس کے افراد تعاون اور تعاضد کے لئے ایک دوسرے کیطرف لوٹ آئیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا [ الأنفال/ 45] جب ( کفار کی ) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو ۔ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً [ البقرة/ 249] بسا اوقات تھوڑی سی جماعت نے ۔۔۔۔۔ بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ۔ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتا[ آل عمران/ 13] دو گر ہوں میں جو ( جنگ بدد میں ) آپس میں بھڑ گئے ۔ فِي الْمُنافِقِينَ فِئَتَيْنِ [ النساء/ 88] کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گر وہ ۔ مِنْ فِئَةٍ يَنْصُرُونَهُ [ القصص/ 81] کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی فَلَمَّا تَراءَتِ الْفِئَتانِ نَكَصَ عَلى عَقِبَيْهِ [ الأنفال/ 48] جب یہ دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابلے میں صف آر ہوئیں ۔ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ انْتِصَارُ والاسْتِنْصَارُ وَالانْتِصَارُ والاسْتِنْصَارُ : طلب النُّصْرَة وَالَّذِينَ إِذا أَصابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ [ الشوری/ 39] ، وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ [ الأنفال/ 72] ، وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ [ الشوری/ 41] ، فَدَعا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ [ القمر/ 10] وإنما قال :«فَانْتَصِرْ» ولم يقل : انْصُرْ تنبيهاً أنّ ما يلحقني يلحقک من حيث إنّي جئتهم بأمرك، فإذا نَصَرْتَنِي فقد انْتَصَرْتَ لنفسک، وَالتَّنَاصُرُ : التَّعاوُن . قال تعالی: ما لَكُمْ لا تَناصَرُونَ [ الصافات/ 25] لا نتصار والانتنصار کے منعی طلب نصرت کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَالَّذِينَ إِذا أَصابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ [ الشوری/ 39] اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو مناسب طریقے سے بدلہ لیتے ہیں ۔ وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ [ الأنفال/ 72] اور اگر وہ تم سے دین کے معاملات میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرتی لا زم ہے ۔ وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ [ الشوری/ 41] اور جس پر ظلم ہوا ہو وہ اگر اس کے بعد انتقام لے ۔ فَدَعا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ [ القمر/ 10] تو انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ ( بار الہ میں ان کے مقابلے میں کمزور ہوں ان سے ) بدلہ لے ۔ میں انصر کی بجائے انتصر کہنے سے بات پر متنبہ کیا ہے کہ جو تکلیف مجھے پہنچ رہی ہے وہ گویا تجھے ذات باری تعالیٰ پہنچ رہی ہے وہ گویا تجھے ( ذات باری تعا لی پہنچ رہی ہے کیو ن کہ میں تیرے حکم سے ان کے پاس گیا تھا لہذا میری مدد فر مانا گو یا یا تیرا اپنی ذات کے لئے انتقام لینا ہے ۔ لتنا صر کے معنی باہم تعاون کرنے کے ہیں ۔ چنا نچہ قرآن میں ہے : ما لَكُمْ لا تَناصَرُونَ [ الصافات/ 25] تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨١) پھر ہم نے اس قارون کو اور اس کے محل سرائے کو زمین میں دھنسا دیا سو کوئی اس کے پاس ایسی جماعت نہ ہوئی جو اس کو عذاب خداوندی سے جس وقت وہ اس پر نازل ہو رہا تھا، بچا لیتی اور نہ وہ خود ہی اپنے آپ کو عذاب الہی سے بچا سکا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨١ (فَخَسَفْنَا بِہٖ وَبِدَارِہِ الْاَرْضَقف) ” چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قارون ” خسف فی الارض “ کے عذاب کا شکار ہوگیا۔ (وَمَا کَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ ) ” وہ اپنے لاؤ لشکر اور تمام تر جاہ و جلال کے باوجود اس قابل نہ تھا کہ (معاذ اللہ ! ) اللہ سے اپنی بربادی کا انتقام لے سکتا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:81) فخسفنا بہ : خسف یخسف خسوف (ضرب) المکان کسی جگہ کا دھنس جانا۔ القمر چاند کو گرہن لگنا۔ خسف اللہ الارض اللہ نے زمین کو معہ اس کی اوپر کی چیزوں کو دھنسا دیا۔ وخسف اللہ الارض بفلان اللہ تعالیٰ نے فلاں کو زمین میں دھنسا دیا۔ فخسفنا بہ الارض پس ہم نے اس کو زمین میں دھنسا دیا۔ فئۃ واحد بحالت جر۔ گروہ۔ جماعت۔ ایسا گروہ جو ایک دوسرے کی طرف مدد کے لئے لوٹے۔ من دون اللہ۔ اللہ کے سوا۔ جیسے ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء اور اس کے سوا اور گناہ معاف کر دے۔ ما دون سے دہ گناہ بھی مراد ہوسکتے ہیں جو شرک سے کم درجہ کے ہیں یا وہ جو شرک کے علاوہ ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ المنتصرین۔ اسم فاعل جمع مذکر حالت جر۔ بدلہ لینے والے۔ بچ جانے والے۔ انتصر، ینتصر، انتصار (افتعال) کامیاب ہونا۔ غالب آنا۔ ظالم سے بچنا۔ یعنی نہ وہ خود (عذاب الٰہی سے) بچ سکا۔ اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

2 ۔ یعنی نہ کوئی دوسرا اس کی مدد کرسکا اور نہ وہ خود اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکا۔ گویا نہ دوسروں کی مدد کام آئی نہ اپنی قوت۔ (ابن کثیر) حدیث میں ہے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” ایک شخص تکبر سے اپنا ازار زمین پر کھینچتے ہوئے جا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت تک زمین دھنستا چلا جائے گا۔ “ علمائے تفسیر (رح) کا رجحان یہ ہے کہ اس سے قارون مراد ہے۔ واللہ اعلم۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فخسفنا بہ وبدارہ ۔۔۔۔۔۔۔ وما کان من المنتصرین (81) ” “۔ نہایت ہی مختصر جملے میں ایک مختصر جھلکی کی صورت میں یہ انجام دکھایا گیا۔ فخسفنا بہ وبدارہ الارض (28: 81) ” آخر ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا “۔ زمین اسے بھی نگل گئی اور اس کے محل کو بھی نگل گئی۔ جس زمین پر وہ اپنے آپ کو سربلند سمجھتا تھا۔ جس کے اوپر وہ لوگوں پر ظلم کرتا تھا ۔ اللہ نے اسے اسی کے اندر داخل کردیا۔ اور وہ ضعیف و ناتواں ہوگیا۔ نہ اس کی مدد کوئی دوسرا کرسکا اور نہ وہ اپنی جاہ و مال کے ساتھ اپنی کوئی مدد کرسکا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ فتنہ بھی دفن ہوا جس کے اوپر بعض لوگ فریفتہ ہو رہے تھے۔ غرض فیصلہ کن ذدنے ان کو اللہ کی قدرت کی طرف پھیر دیا اور غضب اور گمراہی کے پردے دور ہوگئے اور یہ آخری منظریوں رہا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

76:۔ قارون کی سرکشی اور اس کے عناد و استکبار اور انکار و جحود کی وجہ سے ہم نے اس کو اور اس کے عالیشان محلات کو خزائن دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ فما کان لہ من فئۃ الخ، دنیا میں ہزاروں افراد اس کی خدمت اور امداد و اعانت کرنے والے موجود تھے مگر عذاب خداوندی سے اسے کوئی بھی نہ بچا سکا۔ قارون کے بارے میں کئی بےسرو پا قصے مشہور ہیں جن میں سے کوئی بھی صحیح نہیں۔ مثلاً خزانے اس قدر زیادہ تھے کہ ان کی چابیاں ساٹھ یا چالیس خچریں اٹھا سکتی تھیں جب کہ ایک چابی صرف انگلی کی مقدار لمبی تھی اور اتنی ہلکی کہ چمڑے سے بنائی گئی تھی۔ اسی طرح جب وہ شان و شوکت سے نکلا تو اس کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں ستر ہزار پیادوں، چار ہزار گھوڑ سواروں اور تین سو لونڈیوں کا جلوس تھا۔ علی ہذا قارون اس وقت سے لے کر اب تک زمین میں دھنس رہا ہے اور قیامت تک دھنستا رہے گا وغیرہ وغیرہ یہ سب بےسند اور جھوٹے قصے ہیں۔ علامہ آلوسی لکھتے ہیں کہ فلکیات کے ماہرین کے مطابق زمین کے قطر کی مقدار معین ہے اس لیے یہ دھنسنے کا واقعہ اشکال سے خالی نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم بصحۃ ذلک بل ھو مشکل ان صح ما قالہ الفلالسفۃ فی مقدار قطر الارض (روح ج 20 ص 123) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

81۔ آخر کار ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا پھر اس کی مدد کو کوئی ایسی جماعت کھڑی نہیں ہوئی جو اللہ کے عذاب سے اس کو بچا لیتی اور نہ وہ اپنے آپ کو خو ہی بچا سکا ۔ قارون کی شرارت بڑھتی رہی اور زکوٰۃ ادا کرنے کو آمادہ نہیں ہوا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی کرتا رہا یہاں تک کہ اس نے چاہا موسیٰ (علیہ السلام) علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجمع عام میں توہین کرائے اس کے لئے اس نے ایک عورت کو کثیر رشوت دیکر آمادہ کیا اور جب موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام زنا کی حد بیان کررہے تھے تو قارون نے کھڑے ہو کر دریافت کیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) اگر آپ بھی اس فعل شنیع کے مرتکب ہوں تو کیا اسی سزا کے مستحق ہوں گے آپ نے فرمایا بیشک قارون نے عورت کی طرف اشارہ کیا وہ کھڑی ہوئی اور وہ اپنے ساتھ بدکاری کی نسبت بیان کرنے لگی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے کہا خدا کے غضب سے ڈر کر بیان دے اور جو کہناچاہتی ہے وہ کہہ اس پر یہ عورت ڈر گئی اور اس نے رشوت کا تمام واقعہ سنا دیا اور وہ تھیلیاں بھی پیش کیں جن پر قارون کی مہر لگی ہوئی تھی ۔ اس پر مجمع میں قارون پر ملامت ہونے لگی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مسجد سے گر کر دعا مانگنے لگے اس پر ارشاد ہوا موسیٰ (علیہ السلام) تم زمین کو حکم دو وہ تمہاری اطاعت کریگی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے زمین سے فرمایا اے زمین اس کو پکڑ لے۔ چنانچہ قارون زمین میں دھنسنا شروع ہوا اس خسف سے پہلے آپ نے اعلان کردیا کہ تمام بنی اسرائیل یہاں سے چلے جائیں اور صرف قارون اور اس کے ساتھی یہاں ٹھہرے رہیں چناچہ صرف دو آدمی قارون کے ساتھ بیٹھے رہے اور وہ قارون کے ساتھ زمین میں دھنسنے لگے ان لوگوں نے چلانا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معافی مانگنی شروع کی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) برابر زمین سے کہتے رہے کہ زمین اس کو پکڑ یہاں تک زمین قارون کو نگتی چلی گئی ۔ بعض مفسرین نے صرف قارون کے دھنسنے کا ذکر کیا ہے ۔ دھنستے دھنستے بھی قارون آنکھوں کے اشاروں سے معافی مانگتا رہا لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس پر رحم نہیں کیا ۔ بہر حال ! یہ زمین میں دھنس گیا اور اس کے تمام خزانے اور اس کا مال و متاع بھی زمین میں دھنسا دیا گیا ۔ چونکہ بنی اسرائیل کے بعض لوگوں نے شبہ کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے مال پر قبضہ کرنے کی وجہ سے ایسا کیا ہے اس لئے اس کا سامان بھی اسی جگہ دھنسا دیا گیا اور وہ اپنے گھر سمیت زمین میں دھنس گیا نہ کوئی اس کا حمایتی آیا نہ کوئی اس کے رضا کاروں اور حاشیہ نشینوں میں سے آیا اور نہ ہو اپنی مدد خود کرنے کے قابل تھا جب قارون کا یہ انجام ہوا تب ان دنیا کی خواہش کرنیوالوں کی آنکھیں کھیلیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔