Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 21

سورة العنكبوت

یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَرۡحَمُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ اِلَیۡہِ تُقۡلَبُوۡنَ ﴿۲۱﴾

He punishes whom He wills and has mercy upon whom He wills, and to Him you will be returned.

جسے چاہے عذاب کرے جس پر چاہے رحم کرے ، سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يُعَذِّبُُ مَن يَشَاء وَيَرْحَمُ مَن يَشَاء ... He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills; He is the Ruler Who is in control, Who does as He wishes and judges as He wants, and there is none who can put back His judgement. None can question Him about what He does; rather it is they who will be questioned, for His is the power to create and to command, and whatever He decides is fair and just, for He is the sovereign who cannot be unjust in the slightest. According to a Hadith recorded by the Sunan compilers: إِنَّ اللهَ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِم لَهُم If Allah willed to punish the dwellers of His heavens and His earth, He would do so, while He would not be unjust to them. Allah says: يُعَذِّبُُ مَن يَشَاء وَيَرْحَمُ مَن يَشَاء وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills; and to Him you will be returned. You will return to Him on the Day of Resurrection.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

211یعنی وہی اصل حاکم اور متصرف ہے، اس سے کوئی پوچھ نہیں سکتا تاہم اس کا عذاب یا رحمت، یوں ہی نہیں ہوگی بلکہ اصولوں کے مطابق ہوگی جو اس نے اس کے لئے طے کر رکھے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٣٣] روز آخرت اور انسان کے دوبارہ پیدا ہونے پر دلائل دینے کے بعد فرمایا کہ تم بہرحال اللہ کے سامنے پیش کئے جاؤ گے۔ ایسی کوئی صورت ممکن نہیں کہ تم اس حاضری سے بچ سکو۔ پھر وہ تمہارے اعمال کے مطابق تمہیں سزا دے گا۔ اور کسی کے حق میں اس کی حکمت کا یہ تقاضا ہو کہ اس پر رحم کیا جائے تو وہ اسے اپنی رحمت کی بنا پر معاف بھی کرسکتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَّشَاۗءُ ۔۔ : قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کے دلائل کے بعد فرمایا کہ پھر وہ جسے چاہے گا اپنے عدل کے ساتھ عذاب دے گا اور جس پر چاہے گا اپنے فضل کے ساتھ رحم فرمائے گا، البتہ ہر حال میں تمہیں واپس اس کے پاس جانا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَّشَاۗءُ۝ ٠ ۚ وَاِلَيْہِ تُقْلَبُوْنَ۝ ٢١ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادةالإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ، قال الکفّار : الأمر إلينا إن شئنا استقمنا، وإن شئنا لم نستقم، فأنزل اللہ تعالیٰ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ وقال بعضهم : لولا أن الأمور کلّها موقوفة علی مشيئة اللہ تعالی، وأنّ أفعالنا معلّقة بها وموقوفة عليها لما أجمع الناس علی تعلیق الاستثناء به في جمیع أفعالنا نحو : سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] ، سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] ، يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] ، ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] ، وَما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ، وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] . ( ش ی ء ) الشیئ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق ہے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ نازل ہوئی تو کفار نے کہا ہے یہ معاملہ تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم چاہیں تو استقامت اختیار کریں اور چاہیں تو انکار کردیں اس پر آیت کریمہ ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ «1» نازل ہوئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ اگر تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیئت پر موقوف نہ ہوتے اور ہمارے افعال اس پر معلق اور منحصر نہ ہوتے تو لوگ تمام افعال انسانیہ میں انشاء اللہ کے ذریعہ استثناء کی تعلیق پر متفق نہیں ہوسکتے تھے ۔ قرآن میں ہے : ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّه مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائے گا ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے ۔ يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] اگر اس کو خدا چاہے گا تو نازل کریگا ۔ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] مصر میں داخل ہوجائیے خدا نے چاہا تو ۔۔۔۔۔۔۔ قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] کہدو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے وما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّہُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ہمیں شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ( ہم مجبور ہیں ) ۔ وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا مگر ان شاء اللہ کہہ کر یعنی اگر خدا چاہے ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے ) قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢١) اللہ تعالیٰ جس کو چاہے کفر پر موت آنے کی وجہ سے عذاب دے گا اور جس پر چاہے گا ایمان پر انتقال کرنے کی بنا پر رحمت فرما دے گا اور پھر مرنے کے بعد تم سب اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ انسان کو صرف زندہ ہی نہیں کرے گا بلکہ اپنی بارگاہ میں حاضر فرماکر صحیح عقیدہ اور نیک عمل کرنے والوں پر رحم فرمائے اور برے لوگوں کو سزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی مہربانی اور بخشش کے اصول بتلا دیے ہیں اور اپنی گرفت اور سزا کا بھی قانون واضح کیا ہے۔ بخشش اور عذاب کے اصول بتلانے کے باوجود اسے کامل اختیا رحاصل ہے کہ جسے چاہے معاف فرمائے اور جسے چاہے عذاب میں مبتلا کرے۔ اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمانوں میں کوئی عاجز اور بےبس کرنے والا نہیں ہے۔ تاہم اس کا فرمان ہے کہ مشرک اور کافر کے علاوہ جسے چاہے گا معاف فرما دے گا اور ہر کسی نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ وہی زمینوں، آسمانوں کا مالک ہے اس کی مرضی کے بغیر کوئی کسی کی خیر خواہی اور نہ کسی قسم کی کوئی مدد کرسکتا ہے۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور اس کی آیات کا انکار کیا وہ اس کی رحمت سے مایوس ہوگئے اور ان کے لیے اذّیت ناک عذاب ہوگا۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے عذاب دے گا اور جس پر چاہے رحم فرمائے گا۔ ٢۔ ہر کسی نے اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ ٣۔ دنیا اور آخرت میں کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو مجبور نہیں کرسکتا۔ ٤۔ اللہ کی مرضی کے خلاف نہ کوئی خیر خواہی کرسکتا ہے اور نہ ہی مدد دے سکتا ہے۔ ٥۔ اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کے منکر اس کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں۔ ٦۔ آیات ربانی کا انکار کرنے والے اذیت ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف انسان کی کوئی مدد نہیں کرسکتا : ١۔ مدد تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے یقیناً اللہ غالب حکمت والا ہے۔ (الانفال : ١٠) ٢۔ جنہیں تم اللہ کے سوا معبود مانتے ہو کیا وہ تمہاری یا اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟۔ (الشعراء : ٩٣) ٣۔ کیا ان کے پاس ہمارے سوا معبود ہیں جو ان کی حفاظت کریں ؟ وہ تو خود اپنی مدد کی قدرت نہیں رکھتے اور نہ ہمارے مقابلے میں ان کا ساتھ دیا جاسکتا ہے۔ (الانبیاء : ٤٣) ٤۔ کیا وہ ان کو ہمارا شریک ٹھہراتے ہیں ؟ جنہوں نے کچھ پیدا نہیں کیا اور وہ خود پیدا کیے گئے ہیں اور وہ انہیں کسی قسم کی مدد بھی نہیں دے سکتے بلکہ وہ اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے۔ (الاعراف : ١٩١۔ ١٩٢) ٥۔ اور جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو نہ تو وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی۔ (الاعراف : ١٩٧) ٦۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا اگر میں انہیں دھتکار دوں تو اللہ کے مقابلہ میری مدد کون کرے گا ؟۔ (ھود : ٣٠) ٧۔ مومن بندے نے (فرعون کے روبرو پوری قوم کو مخاطب کرکے کہا تھا) اگر اللہ کا عذاب آجائے تو ہماری مدد کون کرے گا۔ (مومن : ٢٩) ٨۔ انہوں نے اللہ کے سوامعبود بنا لیے تاکہ وہ ان کے مد گار ہوں حالانکہ وہ ان کی کچھ مدد نہیں کرسکتے۔ (یٓس : ٧٤۔ ٧٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ ) (وہ جس کو چاہے عذاب دے) (وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ ) (اور جس پر چاہے رحم فرمائے) (وَ اِلَیْہِ تُقْلَبُوْنَ ) (اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) دنیا میں اللہ کی مشیت اور ارادہ کے مطابق سب کچھ ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اسی کے فیصلوں کے مطابق سب کچھ ہوگا، آسمان اور زمین میں کوئی عاجز کرنے والا نہیں، اگر کوئی یہ چاہے کہ کہیں چھپ جائے یا بھاگ جائے اور اللہ کے قضا اور قدر والے فیصلے سے بچ جائے یا اس کے عذاب سے چھوٹ جائے ایسا نہیں ہوسکتا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

18:۔ وہ قانون عدل کے تحت جسے چاہے سزا دے اور اپنی مہربانی سے جس پر چاہے رحمت فرمائے۔ تم سب میدان حشر میں اللہ کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے۔ وما انتم بمعجزین تم زمین و آسمان میں کہیں بھاگ کر اللہ کے عذاب سے اپنے کو نہیں بچا سکتے اور نہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی حامی و مددگار ہے جو تمہیں اس کے عذاب سے نجات دلا سکے۔ والذین کفروا الخ، تخویف اخروی ہے۔ جو لوگ اللہ کی توحید، اس کے رسولوں اور حشر و نشر کا انکار کرتے ہیں وہ میری رحمت سے محروم ہوچکے ہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

21۔ وہ جس کو چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے اور تم سب اسی کی طرف پلٹ کر جائو گے۔ جب اس کو اپنی مخلوق پر پوری قدرت اور پورا اختیار حاصل ہے اور سب کو خوشی یا نا خوشی سے اسی کی طرف واپس ہونا ہے تو کسی پر رحم فرمانا کسی کو تعذیب دینا یہ بھی اسی کی قدرت میں ہے اور اس سے بچ نکلنے کی کوئی تدبیر نہیں۔