Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 28

سورة العنكبوت

وَ لُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖۤ اِنَّکُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَۃَ ۫ مَا سَبَقَکُمۡ بِہَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۲۸﴾

And [mention] Lot, when he said to his people, "Indeed, you commit such immorality as no one has preceded you with from among the worlds.

اور حضرت لوط ( علیہ السلام ) کا بھی ذکر کرو جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم تو اس بدکاری پر اتر آئے ہو جسے تم سے پہلے دنیا بھر میں سے کسی نے نہیں کیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The preaching of Lut and what happened between Him and His People Allah tells: وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ

سب سے خراب عادت لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے حضرت لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا ۔ کفر ، تکذیب رسول ، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی ۔ دوسری بد خلصت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے قتل وفساد کرتے تھے مال لوٹ لیتے تھے مجلسوں میں علی الاعلان بری باتیں اور لغو حرکتیں کرتے تھے ۔ کوئی کسی کو نہیں روکتا تھا یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ وہ لواطت بھی علی الاعلان کرتے تھے گویا سوسائٹی کا ایک مشغلہ یہ بھی تھا ہوائیں نکال کر ہنستے تھے مینڈھے لڑواتے اور بدترین برائیاں کرتے تھے اور علی الاعلان مزے لے لے کر گناہ کرتے تھے ۔ حدیث میں ہے رہ چلتوں پر آوازہ کشی کرتے تھے ۔ اور کنکر پتھر پھینکتے رہتے تھے ۔ سیٹیاں بجاتے تھے کبوتربازی کرتے تھے ننگے ہوجاتے تھے ۔ کفر عنادسرکشی ضد اور ہٹ دھرمی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ نبی کے سمجھانے پر کہنے لگے جاجا پس نصیحت چھوڑ جن عذابوں سے ڈرارہا ہے انہیں تو لے آ ۔ ہم بھی تیری سچائی دیکھیں ۔ عاجز آکر حضرت لوط علیہ السلام نے بھی اللہ کے آگے ہاتھ پھیلادئیے کہ اے اللہ ! ان مفسدوں پر مجھے غلبہ دے میری مدد کر ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

281اس بدکاری سے مراد وہی لواطت ہے جس کا ارتکاب قوم لوط (علیہ السلام) نے سب سے پہلے کیا جیسا کہ قرآن نے صراحت کی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖٓ ۔۔ : ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہی لوط (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا، کیونکہ وہ ان پر ایمان لائے اور دونوں نے اکٹھے ہجرت کی۔ لوط (علیہ السلام) کے واقعہ کے لیے دیکھیے سورة اعراف (رکوع ١٠) ، حجر (رکوع ٤، ٥) ، انبیاء (رکوع ٥) ، شعراء (رکوع ٩) ، نمل (رکوع ٤) ، صافات (رکوع ٤) اور قمر (رکوع ٢) اور آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة اعراف (٨٠) اور نمل (٥٤، ٥٥) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ (And [ We sent ] Sayyidna Lut (علیہ السلام) when he said to his people, |"Indeed you commit the shameful act - 29:28). Here Sayyidna Lut (علیہ السلام) has described three vicious sins of his people. One, unnatural offence of man with man; two, highway robbery against travelers; and three, commitment of sin openly before others in their group meetings. There is no specification of the third sin in the Holy Qur&an. Thus, it is deduced that every sin, which is a sin in its own right, if committed openly with indifference, it becomes a double sin, irrespective of the type of sin. At this point, some Imams of Tafsir (exegesis) have listed all such sins, which these wretched persons used to commit in their meetings. For instance, throwing stones on travelers and making fun of them, as Umm Hani& (رض) reports it in a hadith. Other commentators have reported that these insolent people were in the habit of committing sins openly before all others. Out of the three sins mentioned in this verse the first one is most disgusting, which was never committed before in the whole world, and even wild beasts abstain from it. The entire ummah is unanimous on that it is a worse sin than adultery. (Ruh)

خلاصہ تفسیر اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں نہیں کیا، کیا تم مردوں سے برا فعل کرتے ہو، (وہ بےحیائی کا کام یہی ہے) اور (اس کے علاوہ دوسری نامعقول حرکتیں بھی کرتے ہو، مثلاً یہ کہ) تم ڈاکہ ڈالتے ہو (کذا فی الدر عن ابن زید) اور (غضب یہ ہے کہ) اپنی بھری مجلس میں نامعقول حرکت کرتے ہو (اور معصیت کا اعلان یہ خود ایک معصیت وقبح عقلی ہے) سو ان کی قوم کا (آخری) جواب بس یہ تھا کہ ہم پر اللہ کا عذاب لے آؤ اگر تم (اس بات میں) سچے ہو (کہ یہ افعال موجب عذاب ہیں) لوط (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے میرے رب مجھ کو ان مفسد لوگوں پر غالب اور ان کو عذاب سے ہلاک) کر دے اور (ان کی دعا قبول ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے عذاب کی خبر دینے کے لئے فرشتے معین فرمائے اور دوسرا کام ان فرشتوں کو یہ بتلایا گیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کے تولد کی بشارت دیں چنانچہ) ہمارے (وہ) بھیجے ہوئے فرشتے جب ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس (ان کے فرزند اسحاق کے تولد کی) بشارت لے کر آئے تو (اثنائے گفتگو میں جس کا مفصل بیان دوسرے موقع پر ہے قال فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ الخ) ان فرشتوں نے (ابراہیم (علیہ السلام) سے) کہا کہ ہم اس بستی والوں کو (جس میں قوم لوط آباد ہے) ہلاک کرنے والے ہیں (کیونکہ) وہاں کے باشندے بڑے شریر ہیں، ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہاں تو لوط (علیہ السلام بھی موجود) ہیں (وہاں عذاب نہ بھیجا جائے کہ ان کو گزند پہنچے گا) فرشتوں نے کہا کہ جو جو وہاں (رہتے) ہیں ہم کو سب معلوم ہیں ہم ان کو اور ان کے خاص متعلقین کو (یعنی ان کے خاندان والوں کو اور جو مومن ہوں اس عذاب سے) بچا لیں گے (اس طرح سے کہ نزول عذاب کے قبل ان کو بستی سے باہر نکال لے جائیں گے) بجز ان کی بی بی کے کہ وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں سے ہوگی (جس کا ذکر سورة ہود اور سورة حجر میں گذر چکا ہے، یہ گفتگو تو ابراہیم (علیہ السلام) سے ہوئی) اور (پھر وہاں سے فارغ ہوکر) جب ہمارے وہ فرستادے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچنے تو لوط (علیہ السلام) ان (کے آنے) کی وجہ سے ( اس لئے) مغموم ہوئے (کہ وہ بہت حسین جوانوں کی شکل میں آئے تھے اور لوط (علیہ السلام) نے ان کو آدمی سمجھا اور اپنی قوم کی نامعقول حرکت کا خیال آیا) اور (اس وجہ سے) ان (کے آنے) کے سبب تنگ دل ہوئے اور (فرشتوں نے جو یہ حال دیکھا تو) وہ فرشتے کہنے لگے (آپ کسی بات کا) اندیشہ نہ کریں اور نہ مغموم ہوں ( ہم آدمی نہیں ہیں بلکہ عذاب کے فرشتے ہیں، کقولہ تعالیٰ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ اور اس عذاب سے) ہم آپ کو اور آپ کے خاص متعلقین کو بچا لیں گے بجز آپ کی بی بی کے کہ وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی (اور آپ کو مع متعلقین کے اس سے بچا کر) ہم اس بستی کے (بقیہ) باشندوں پر ایک آسمانی عذاب (یعنی اسباب طبعیہ غیر ارضیہ سے) ان کی بدکاریوں کی سزا میں نازل کرنے والے ہیں (چنانچہ وہ بستی الٹ دی گئی اور غیبی پتھروں سے سنگباری کی گئی) اور ہم نے اس بستی کے کچھ ظاہر نشان (اب تک) رہنے دیئے ہیں ان لوگوں (کی عبرت) کے لئے جو عقل رکھتے ہیں (چنانچہ اہل مکہ سفر شام میں ان ویران مقامات کو دیکھتے تھے اور جو اہل عقل تھے وہ منتفع بھی ہوتے تھے کہ ڈر کر ایمان لے آتے تھے۔ ) معارف و مسائل وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖٓ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ اس جگہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں کے تین سخت گناہوں کا ذکر کیا ہے، اول مرد کی مرد کے ساتھ بدفعلی دوسرے قطع طریق یعنی مسافروں پر ڈاکہ زنی، تیسرے اپنی مجلسوں میں اعلاناً سب کے سامنے گناہ کرنا۔ قرآن کریم نے اس تیسرے گناہ کی تعیین نہیں فرمائی، اس سے معلوم ہوا کہ ہر گناہ جو اپنی ذات میں گناہ ہے اگر اس کو علانیہ بےپروائی سے کیا جائے تو یہ دوسرا مستقل گناہ ہوجاتا ہے وہ کوئی بھی گناہ ہو، بعض ائمہ تفسیر نے اس جگہ ان گناہوں کو شمار کیا ہے جو یہ بےحیا اپنی مجلسوں میں سب کے سامنے کیا کرتے تھے، مثلاً راستہ چلتے لوگوں کو پتھر مارنا اور ان کا استہزاء کرنا جیسا کہ ام ہانی کی ایک حدیث میں اس کا ذکر ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ جو بےحیائی ان کی مشہور تھی اس کو وہ کہیں چھپ کر نہیں کھلی مجلسوں میں ایک دوسرے کے سامنے کرتے تھے۔ العیاذ باللہ جن تین گناہوں کا اس آیت میں ذکر ہے ان سب میں اشد پہلا گناہ ہے، جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا تھا اور جنگل کے جانور بھی اس سے پرہیز کرتے ہیں۔ باتفاق امت یہ گناہ زنا سے زیاہ شدید ہے (کذا فی الروح)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ۝ ٠ ۡمَا سَبَقَكُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ۝ ٢٨ لوط لُوطٌ: اسم علم، واشتقاقه من لَاطَ الشیء بقلبي يَلُوطُ لَوْطاً ولَيْطاً ، وفي الحدیث : «الولد أَلْوَطُ- أي : ألصق۔ بالکبد» وهذا أمر لا يَلْتَاطُ بصفري . أي : لا يلصق بقلبي، ولُطْتُ الحوض بالطّين لَوْطاً : ملطته به، وقولهم : لَوَّطَ فلان : إذا تعاطی فعل قوم لوط، فمن طریق الاشتقاق، فإنّه اشتقّ من لفظ لوط الناهي عن ذلک لا من لفظ المتعاطین له . ( ل و ط ) لوط ( حضرت لوط (علیہ السلام) ) یہ اسم علم ہے لَاطَ الشیء بقلبي يَلُوطُ لَوْطاً ولَيْطاً ، سے مشتق ہے جس کے معنی کسی چیز کی محبت دل میں جاگزیں اور پیوست ہوجانے کے ہیں ۔ حدیث میں ہے ۔ (115) الولد الوط بالکید ۔ کہ اولاد سے جگری محبت ہوتی ہے ۔ ھذا امر لایلنا ط بصفری ۔ یہ بات میرے دل کو نہیں بھاتی ۔ لطت الحوض بالطین لوطا ۔ میں نے حوض پر کہگل کی ۔ گارے سے پلستر کیا ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے نام سے اشتقاق کرکے تولط فلان کا محاورہ ستعمال ہوتا ہے جس کے معنی خلاف فطرت فعل کرنا ہیں حالانکہ حضرت لوط (علیہ السلام) تو اس فعل سے منع کرتے تھے اور اسے قوم لوط س مشتق نہیں کیا گیا جو اس کا ارتکاب کرتے تھے ۔ فحش الفُحْشُ والفَحْشَاءُ والفَاحِشَةُ : ما عظم قبحه من الأفعال والأقوال، وقال : إِنَّ اللَّهَ لا يَأْمُرُ بِالْفَحْشاءِ [ الأعراف/ 28] ( ف ح ش ) الفحش والفحشاء والفاحشۃ اس قول یا فعل کو کہتے ہیں جو قباحت میں حد سے بڑھا ہوا ہو ۔ قرآن میں ہے : إِنَّ اللَّهَ لا يَأْمُرُ بِالْفَحْشاءِ [ الأعراف/ 28] کہ خدا بےحیائی کے کام کرنے کا حکم ہر گز نہیں دیتا ۔ سبق أصل السَّبْقِ : التّقدّم في السّير، نحو : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] ، والِاسْتِبَاقُ : التَّسَابُقُ. قال : إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ، وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] ، ثم يتجوّز به في غيره من التّقدّم، قال : ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11][ أَنْ يَسْبِقُونَا } يَفُوتُونَا فَلَا نَنْتَقِم مِنْهُمْ ( س ب ق) السبق اس کے اصل معنی چلنے میں آگے بڑھ جانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] پھر وہ ( حکم الہی کو سننے کے لئے لپکتے ہیں ۔ الاستباق کے معنی تسابق یعنی ایک دوسرے سے سبقت کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :َ إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ہم ایک دوسرے سے دوڑ میں مقابلہ کرنے لگ گئے ۔ وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] اور دونوں دوڑتے ہوئے دروز سے پر پہنچنے ۔ مجازا ہر شے میں آگے بڑ اجانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] تو یہ ہم سے اس کیطرف سبقت نہ کرجاتے ۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے یعنی چھوٹ جائیں گے ، تو ہم ان سے انتقام نہ لے سکیں گے۔ عالَمُ والعالَمُ : اسم للفلک وما يحويه من الجواهر والأعراض، وهو في الأصل اسم لما يعلم به کالطابع والخاتم لما يطبع به ويختم به، وجعل بناؤه علی هذه الصّيغة لکونه کا لآلة، والعَالَمُ آلة في الدّلالة علی صانعه، ولهذا أحالنا تعالیٰ عليه في معرفة وحدانيّته، فقال : أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] ، وأمّا جمعه فلأنّ من کلّ نوع من هذه قد يسمّى عالما، فيقال : عالم الإنسان، وعالم الماء، وعالم النّار، وأيضا قد روي : (إنّ لله بضعة عشر ألف عالم) «1» ، وأمّا جمعه جمع السّلامة فلکون النّاس في جملتهم، والإنسان إذا شارک غيره في اللّفظ غلب حكمه، العالم فلک الافلاک اور جن جواہر واعراض پر حاوی ہے سب کو العالم کہا جاتا ہے دراصل یہ فاعل کے وزن پر ہے جو اسم آلہ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے طابع بہ ۔ مایطبع بہ خاتم مایختم بہ وغیرہ اسی طرح عالم بھی ہے جس کے معنی ہیں ماعلم بہ یعنی وہ چیز جس کے ذریعہ کسی شے کا علم حاصل کیا جائے اور کائنات کے ذریعہ بھی چونکہ خدا کا علم حاصل ہوتا ہے اس لئے جملہ کائنات العالم کہلاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ذات باری تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت کے سلسلہ میں کائنات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] کیا انہوں نے اسمان اور زمین گی بادشاہت پر غور نہیں کیا ۔ اور العالم کی جمع ( العالمون ) اس لئے بناتے ہیں کہ کائنات کی ہر نوع اپنی جگہ ایک مستقلی عالم عالم کی حیثیت رکھتی ہے مثلا عالم الاانسان؛عالم الماء وعالمالناروغیرہ نیز ایک روایت میں ہے ۔ ان اللہ بضعتہ عشر الف عالم کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے کچھ اوپر عالم پیدا کئے ہیں باقی رہا یہ سوال کہ ( واؤنون کے ساتھ ) اسے جمع سلامت کے وزن پر کیوں لایا گیا ہے ( جو ذدی العقول کے ساتھ مختص ہے ) تو اس کا جواب یہ ہے کہ عالم میں چونکہ انسان بھی شامل ہیں اس لئے اس کی جمع جمع سلامت لائی گئی ہے کیونکہ جب کسی لفظ میں انسان کے ساتھ دوسری مخلوق بھی شامل ہو تو تغلیبا اس کی جمع واؤنون کے ساتھ بنالیتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٨) اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھی ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا، انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسا ناپاک کام یعنی لواطت کرتے ہو کہ تم سے پہلے ایسا کام کسی نے دنیا میں جہان والوں میں نہیں کیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٨ (وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَز مَا سَبَقَکُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ) ” حضرت لوط (علیہ السلام) کو عامورہ اور سدوم کے شہروں کی طرف مبعوث کیا گیا تھا۔ ان شہروں کے لوگ آپ ( علیہ السلام) کی قوم میں سے نہیں تھے ‘ چناچہ آیت زیر نظر میں انہیں مجازاً آپ ( علیہ السلام) کی قوم (قَوْمِہٖ ) کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہی رہا ہے کہ کسی بھی قوم کی طرف رسول ہمیشہ اس قوم کے اندر سے مبعوث کیا جاتا رہا ہے۔ اس قاعدے اور قانون میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے حوالے سے یہ واحد استثناء ہے اور یہ استثناء بھی دراصل اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کا حصہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد جو کوئی بھی پیغمبر ہوگا وہ آپ ( علیہ السلام) کی قوم سے ہی ہوگا۔ یاد رہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

50 For comparison, see Al-A`raf: 80-84, Hud: 69-83; Al-Hijr: 57-79; Al-Anbiyaa: 71-75; Ash-Shu`araa: 16Q-175; An-Naml: 54 59;.As-Saffat: 133-138; AIQamar: 33-40.

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 50 تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف رکوع 10 ، ہود 7 ۔ الحجر 4 ۔ 5 ۔ الانبیاء 5 ۔ الشعراء 9 ۔ النمل 4 ۔ الصافات 4 ۔ القمر 2 ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(29:28) ولوطا واؤ عطف کی ہے لوطا کا عطف یا تو ابراہیم آیت 16 یا نوحا آیت 14 پر ہے ای وارسلنا لوطا۔ تاتون۔ مضارع جمع مذکر حاضر اتیان مصدر اتی یاتی (باب ضرب) اتیمادہ۔ تم کرتے ہو، تم آتے ہو، یا تم کروگے یا آؤ گے الفاحشۃ۔ اسم ۔ حد سے بڑھی ہوئی بدی۔ ایسی بےحیائی جس کا اثر دوسروں پر پڑے۔ ہر وہ چیز جس کی اللہ نے ممانعت کردی ہو ماسبقکم بھا : ما نافیہ ہے۔ سبق اس نے سبقت کی۔ اس نے پہلی کی۔ وہ آگے بڑھا۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ بھا اس کے ساتھ ۔ یعنی اس فحش فعل کی طرف (کسی قوم نے) تم سے پہل نہیں کی۔ یعنی تم سے پہلے کسی قوم نے اس فعل بد کا ارتکاب نہیں کیا۔ ب حرف جار ہے اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الفاحشۃ کی طرف راجع ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 28 تا 35 : لتاتون ( البتہ تم لاتے ہو) ماسبق (پہلے نہیں کیا) تقطعون ( تم کاٹتے ہو) ‘ نادی (محفلیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 28 تا 35 : اللہ تعالیٰ کا دستور یہ ہے کہ جب کبھی کسی شہر ‘ علاقے یا ملک کے کچھ لوگ کچھ گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کی حرکتوں پر ان کو سزا دے دی جاتی ہے لیکن جب پوری قوم کفر و شرک ‘ بےحیائی ‘ بےشرمی ‘ بےغیرتی ‘ زنا اور بدکاریوں میں اس طرح لگ جاتی ہے کہ شرم وحیا کے بجائے کھلم کھلا نجی اور عام محفلوں میں گناہ کرنے کو فیشن بنا لیاجاتا ہے اور خیر و شر کا ہر تصور مٹ کر رہ جاتا ہے تو پھر اس قوم کی طرف اللہ کا عذاب متوجہ ہوجاتا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) سدوم اور عمورہ کی جن بستیوں کی اصلاح کے لئے پیغمبر بنا بھیجے گئے تھے وہاں لوگوں کا یہ حال تھا کہ وہ غیر فطری فعل کو کھلم کھلا اس طرح کرتے تھے کہ اس کیخلاف بات کرنے اور کسی نصیحت کو سننے کے لئے تیار نہ تھے چناچہ جب حضرت لوط (علیہ السلام) نے اس پوری قوم کو للکارا کہ تم نے ایک ایسے فعل کو رواج دیا ہے جو آج تک دنیا میں کسی قوم نے نہیں کیا تھا۔ تم اپنی نفسان خواہشات کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے بد فعلی کرتے ہو۔ تمہاری شیطانی حرکتوں سے ہر شخص عاجز آچکا ہے۔ لوگوں کے لئے راستہ چلنا دشوار ہوگیا ‘ چوری ‘ ڈاکہ اور لوٹ مار سے کسی کی جان و مال محفوظ نہیں رہی۔ تم کھلے عام بےشرمی اور بےحیائی کے کام کرتے ہو۔ تمہاری گفتگو اور بات چیت میں شائستگی اور تہذیب دم توڑچ کی ہے۔ اگر تم نے اللہ سے توبہ نہ کی اور اس فعل سے بازنہ آئے تو جس طرح تم سے پہلی امتوں پر اللہ کا عذاب آیا تھا اسی طرح تم پر بھی اللہ کا قہر ٹوٹ پڑے گا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی تمام نصیحتوں کا پہلے تو مذاق اڑانا شروع کیا پھر دھمکیوں پر اتر آئے اور کہنے لگے کہ اے لوط ! اگر تم نے اپنی ان نصیحتوں کا سلسلہ بند نہ کیا تو ہم تمہیں اس بستی سے نکال باہر کریں گے۔ اور جس عذاب کی تم بات کرتے ہو اگر تم سچے ہو تو اس کو لے آئو۔ قوم لوط کے ساتھ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی انتہائی نافرمان اور اپنی قوم کی حمایت میں سب سے آگے آگے تھی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اپنی قوم کی بےحسی ‘ بےغیرتی اور دھمکیوں کے باوجود دن رات سمجھاتے رہے مگر وہ قوم نہ سمجھی نہ سنبھلی اور اپنی شہوت پرستی میں لگی رہی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) جب بالکل مایوس ہوگئے تو انہوں نے بار گاہ الہی میں یہ درخواست پیش کردی کہ اے اللہ ! یہ لوگ فساد اور تباہی پر تلے بیٹھے ہیں اور میری کسی بات کو نہیں سنتے نہ میری اطاعت کرتے ہیں۔ اس قوم کا مزاج ہی ظالمانہ اور مفسدانہ بن کر رہ گیا ہے ان کا فیصلہ فرمادیجئے اور میری مدد فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول فرمالیا اور اس قوم کو ان کی نافرمانیوں کی سزادینے کا فیصلہ فرمالیا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے کچھ فرشتوں کو خوبصورت لڑکوں کی شکل میں بھیجا۔ یہ فرشتے سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس ایک بیٹے کی خوش خبری دینے کے لئے آئے علماء نے لکھا ہے کہ یہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی پیدائش کی خوش خبری تھی۔ جب یہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اجنبی مہمان سمجھ کر ان کی خاطر تواضع فرمائی اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لا کر انکے سامنے رکھ دیا مگر انہوں نے کھانے سے انکار کردیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کچھ پریشان سے ہوگئے کیونکہ اس زمانہ میں کھانے سے انکار کاملطب یہ ہوتا تھا کہ یہ دوست نہیں بلکہ اس کا دشمن ہے اور اس کے ارادے صحیح نہیں ہیں۔ حضرت ابراہیم ؐ کی پریشانی کو دیکھ کر ان فرشتوں نے کہا کہ دراصل ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو آپ کو اولاد کی خوش خبری دینے اور قوم لوط کو برباد کرنے آئے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو قوم لوط کی بربادی کی اس اطلاع سے سخت افسوس ہوا۔ افسردہ ہو کر فرمایا کہ وہاں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہیں جو اللہ کے نبی اور سچے دین پر چلنے والے ہیں۔ فرشتوں نے کہا ہمیں معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ اس نافرمان قوم کیلئے ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ( ان کی بیوی کے سوا) ان کے تمام گھر والوں کو بچا لیا جائے گا۔ یہ فرشتے جو خوبصورت لڑکوں کی شکل میں بھیجے گئے تھے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور کہا کہ ہم آپ کے ہاں مہمان کی حیثیت سے رہنا چاہتے ہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اپنے گھر ٹھہرا تو لیا مگر وہ اس بات سے فکر مند ہوگئے کہ اگر ان کی قوم کے لوگوں کو پتہ چل گیا کہ کچھ خوبصورت نوجوان میرے گھر آئے ہیں تو کہیں وہ بدکار لوگ کوئی ایسی بات نہ کر بیٹھیں جس سے ان کو شرمندگی ہوجائے کیونکہ آپ اپنی قوم کے مزاج سے اچھی طرح واقف تھے چناچہ وہی ہوا جس کا خطرہ تھا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی نے سب کو بتادیا کہ ان کے گھر کچھ خوبصورت نوجوان لڑکے آئے ہوئے ہیں۔ پوری قوم کے لوگ دوڑ پڑے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اس صورتحال سے گھبرا گئے کیونکہ ان بد کرداروں کا مطالبہ تھا کہ ان نوجوانوں کو ان کے حوالے کردیا جائے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی پریشانی کو دیکھ کر فرشتوں نے اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آپ مت گبھرائیے۔ ہم اللہ کی طرف سے بھیجے گئے فرشتے ہیں۔ یہ ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ اللہ نے اس بد کردار قوم کو تباہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ آپ صبح ہوتے ہی اپنی بیوی کے سوا سب گھروالوں کو لے کر اس شہر سے نکل جائیے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھئے۔ چناچہ حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کے آخری حصہ میں روانہ ہوگئے اور ان کی بیوی وہیں رہ گئیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے جاتے ہی صبح کو ایک زبردست چنگھاڑ سنائی دی جس سے سننے والوں کے دلوں کی دھڑکنیں بند ہوگئیں پھر ان پر زبردست پتھروں کی بارش کردی گئی اور اس پوری آبادی کو اوپر اٹھا کر نیچے کی طرف الٹ دیا گیا۔ ان بستیوں پر سمندر کا پانی چڑھ دوڑا اور اس طرح نہ صرف سدوم اور عامورہ کی بستیاں تباہ و برباد کردی گئیں اور ان کو صفحہ ہستی سے مٹادیا گیا بلکہ ان بستیوں پر سمندر کا پانی چڑھ آنے سے پوری آبادی ڈوب گئی اور ان کی جگہ ایک ایسا سمندر بن گیا جس میں آج تک کوئی جانور بھی زندہ نہیں رہتا اسی لئے اس کو بحیرہ مردار کہتے ہیں۔ تباہی اور زلزلے کے اثرات سے یہ علاقہ سطح سمندر سے چار سو میٹر نیچے چلا گیا ہے۔ اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کو سزادے کر عقل و بصیرت رکھنے والوں کے لئے اس جگہ کو نشان عبرت و نصیحت بنادیا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) اور اس کی قوم کا مختصر ذکر۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے غور زنمر کے علاقہ سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ جہاں کے رہنے والے پر لے درجے کے فاسق و فاجر مشرک، کافر، ڈاکو، چور اور انتہائی بد کردارلوگ تھے۔ جنھوں نے دنیا میں بےحیائی کا ایسا عمل اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا تھا۔ قوم لوط کا کردار : انھوں نے اپنی نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کے بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ یہ ہم جنسی کے بدترین گناہ کے مرتکب ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے باوجود باز آنے کی بجائے حضرت لوط (علیہ السلام) کو رجم کردینے کی دھمکی دینے کے ساتھ عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے رہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا سمجھانا : قوم لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے ؟ میں تمہارے لیے امانت دار پیغمبر ہوں، اس لیے اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو اور میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا، میرا اجر رب العالمین کے ذمے ہے۔ کیا تم لڑکوں پر مائل ہوتے ہو اور تمہارے پروردگار نے تمہارے لیے بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو۔ (الشعراء : ١٦٠ تا ١٦٦) قوم کا جواب : (قَالُوْا لَءِنْ لَمْ تَنْتَہِ یَالُوطُ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِینَ قَالَ اِِنِّی لِعَمَلِکُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَ ) [ الشعراء : ١٦٧ تا ١٦٨] ” کہنے لگے کہ اے لوط اگر تم باز نہ آئے تو شہر بدر کردیے جاؤ گے۔ لوط (علیہ السلام) نے کہا میں تمہارے کام کا سخت مخالف ہوں۔ “ ” لوط (علیہ السلام) نے اس وقت اپنی قوم سے کہا تم یہ بےحیائی کیوں کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کی۔ “ (الاعراف : ٨٠) ” ان کی قوم سے اس کے سوا کوئی جواب نہ بن پڑا وہ کہنے لگے ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ بڑے پاک بنتے ہیں۔ “ (الاعراف : ٨٠ تا ٨٢) قوم کا جواب : ” اے لوط اگر تم واقعی ہی سچے ہو تو ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آؤ۔ “ (العنکبوت : ٢٩) تفسیر بالقرآن ظالم اقوام کا اپنے انبیاء سے عذاب کا مطالبہ : ١۔ حضرت نوح کو قوم نے کہا کہ جو ہمارے ساتھ عذاب کا وعدہ کرتا ہے وہ لے آ۔ (ہود : ٣٢) ٢۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاعراف : ٧٧) ٣۔ مدین والوں نے شعیب (علیہ السلام) سے عذاب نازل کرنے کا مطالبہ کیا۔ (الشعرا : ١٨٧) ٤۔ قوم عاد نے ہود سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاحقاف : ٢٢) ٥۔ کفار نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ تو ہم پر آسمان کا ٹکڑاگرادے۔ (بنی اسرائیل : ٩٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولوطا اذقال لقومہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی القوم المفسدین (28: 29 – 30) ” ۔ “۔ “۔ حضرت لوط کی اس تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس برائی میں کانوں تک ڈوب گئے تھے۔ یہ لوگ ایک ایسی برائی میں مبتلا ہوگئے تھے جس کا ارتکاب ان سے قبل کسی انسان نے نہیں کیا تھا۔ یہ مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرتے تھے۔ یہ ایک انوکھا اور گندہ فعل تھا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی فطرت ہی بدل گئی تھی۔ جب بھی کوئی قوم اعتدالا کو چھوڑتی ہے اس کی فطرت بدل جاتی ہے کیونکہ پاکیزہ جنسی تعلق ایک عورت ہی کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے نہایت ہی گھناؤنا جرم قرار دیا گیا۔ عورت کے ساتھ جنسی تعلق بھی بعض اوقات حدود وقیود سے نکل جاتا ہے لیکن وہ ہوتا بہرحال ایک فطری عمل ہے۔ رہی ہم جنس پرستی تو یہ حیوانات سے بھی گری ہوئی حرکت ہے۔ اس میں انسان کی فطری عضویاتی ترکیب کے لحاظ سے بھی فساد ہے۔ اور نفسیاتی لحاظ سے بھی فساد ہے۔ زوجین کے درمیان جو تعلق ہوتا ہے اس میں جو لذت ہوتی ہے وہ امتداو حیات کے عظیم مقصد کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں انسانی حیات کا تسلسل قائم ہوتا ہے اور فریقین جسمانی اور روحانی اعتبار سے اس تعلق سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور ان کے تعلق اور ملاپ کے اندر جسمانی اور عضویاتی ہم آہنگی ہوتی ہے۔ رہا یہ تعلق جو قوم لوط قائم کرتی تھی۔ یہ غیر فطری ، غہیر فرحت بخش اور بےمقصد تھا۔ اگر اس تعلق میں کسی کو مزہ آتا ہے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ ایسے لوگوں کی فطرت بگڑ گئی ہے۔ اور مسخ ہوگئی ہے اور وہ حقیقت کے مطابق نہیں ہے۔ یہ لوگ اس برائی کے ساتھ ڈاکے بھی ڈالتے تھے ، لوگوں کو ڈرا دھمکا کر ان سے مالی مفا دات وصول کرتے تھے ۔ پھر وہ اس فعل کا ار تکاب بھی مردوں کو مجبور کر کے کرتے تھے یہ پھر اس فعل بد کی ایک گھناؤنی شکل تھی کہ لوٹ مار کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ساتھ اس بدفعلی کا ارتکاب کرتے تھے پھر یہ اس منکر فعل کا ارتکاب اپنی مجلسوں میں کرتے تھے ۔ کھلے طور پر اور اجتماعی شکل میں ۔ ایک دوسرے سے ، کتوں کی طرح ، شرم بھی محسوس نہ کرتے تھے۔ فحاشی کا یہ بدترین درجہ ہے۔ فساد فطرت کی یہ انتہا ہے اور یہ رذائل پر اس قدر فخر ہے کہ اس کے بعد کسی اصلاح کی کوئی امید نہیں رہتی۔ یہاں اس قصے کا اختصار کے ساتھ لایا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ پہلے پہل حضرت لوط نے ان کو نہایت ہی اچھے انداز میں اس سے منع کیا ہوگا۔ انہوں نے اصرار کیا ہوگا۔ حضرت لوط نے ان کو عذاب الٰہی سے ڈرایا ہوگا اور یہ بتایا ہوگا کہ یہ بہت ہی قبیح فعل ہے اور اس کا انجام بھی خوفناک اور عبرتناک ہوگا۔ فما کان جواب ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (29: 29) ” پھر کوئی جواب اس کی قوم کے اس اس کے سوا نہ تھا کہ لے آؤ اللہ کا عذاب ، اگر تم سچے ہو “۔ یہ ہے خود سری اور سرکشی ایک ڈرانے والے نبی کے مقابلے میں ، ایک چیلنچ کے انداز میں تکذیب اور یہ ایک ایسا بگاڑ ہے جس سے کسی خیر کی توقع نہیں رہتی اور نہ اصلاح کی امید رہتی ہے۔ رسول خدا نے ان پر حجت تمام کردی اور اس کے سوا کوئی راہ نہ رہی کہ وہ اللہ سے نصرت طلب کریں جو آخری سہارا ہے۔ قال رب انصرنی علی القوم المفسدین (29: 30) ” لوط نے کہا اے میرے رب ، ان مفسدوں کے مقابلے میں میری مدد فرما “۔ اب یہاں پردہ گرتا ہے۔ منظر پر صرف لوط (علیہ السلام) دعا کرتے نظر آتے ہیں۔ اب ہمارے سامنے اس دعا کی قبولیت کا منظر آتا ہے۔ جن کا ملائکہ کو حکم دیا گیا ہے کہ سدوم کو اوپر نیچے کردو ، انہوں نے اس عمل سے پہلے حضرت ابراہیم کو خوشخبری بھی دی ہے ۔ ایک ایسی بیوی سے صالح بیٹے کی خوشخبری جو بانجھ تھی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور برے اعمال سے روکنا، پھر قوم کا نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کیے جانے کا ذکر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے وطن سے ہجرت کی تو ان کے ساتھ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی تشریف لے آئے، حضرت لوط (علیہ السلام) کو بھی اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرما دیا اور انہوں نے سدوم نامی بستی میں قیام کیا وہاں اور بھی چند بستیاں تھیں جو نہر اردن سے قریب تھیں، حضرت لوط (علیہ السلام) ان بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے اور وہاں کے رہنے والوں کو توحید کی دعوت دی اور برے کاموں سے روکا، یہ لوگ ایک ایسے برے کام میں مبتلا تھے جو ان سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا اور وہ یہ کہ مرد مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے اور راہزنی بھی کرتے تھے اور اپنی مجلسوں میں بعض دیگر منکرات کے بھی مرتکب ہوتے تھے، حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو سمجھایا کہ تم ان سارے فواحش و منکرات کو چھوڑ دو لیکن وہ نہیں مانے بلکہ الٹا یہ جواب دیا کہ اگر تم سچے ہو تو اللہ کا عذاب لے آؤ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

24:۔ یہ تیسرا قصہ ہے اور پہلے دعوے سے متعلق ہے قوم لوط خلاف فطرت فعل کی عادت میں مبتلا تھی۔ دنیا میں اس فاحشہ کی ابتداء اس قوم سے ہوئی۔ ما سبقکم بہا الخ۔ یعنی تم سے پہلے کسی نے بھی یہ برا کام نہیں کیا۔ ائنکم لتاتون الخ، تم اس قدر بیباک ہوچکے ہو کہ مسافروں کا راستہ روک لیتے ہو اور انہیں بھی اپنی ہوس کا شکار بناتے ہو۔ یا مراد ڈاکہ ہے۔ تقطعون السبیل بالقتل واخذ المال کما ھو عمل قطاع الطریق وقیل اعتراضہم السابلۃ بالفاحشۃ (مدارک ج 3 ص 196) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

28۔ اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ اس نے قوم سے کہا کہ بلا شبہ تم ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو کہ تم سے پہلے اقوام عالم اور دنیا جہان کے لوگوں میں سے کسی نے ایسی بےحیائی کا ارتکاب نہیں کیا ۔ یعنی ایسی بےحیائی تو اقوام عالم میں سے کسی قوم میں نہیں سنی ۔ جس فعل شنیع کے تم مرتکب ہوتے ہو ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم میں بہت سی برائیاں اور بہت سے عیوب تھے بالخصوص لواطت کا فعل ان کی قوم میں بہت تھا، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔