Commentary وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ (And [ We sent ] Sayyidna Lut (علیہ السلام) when he said to his people, |"Indeed you commit the shameful act - 29:28). Here Sayyidna Lut (علیہ السلام) has described three vicious sins of his people. One, unnatural offence of man with man; two, highway robbery against travelers; and three, commitment of sin openly before others in their group meetings. There is no specification of the third sin in the Holy Qur&an. Thus, it is deduced that every sin, which is a sin in its own right, if committed openly with indifference, it becomes a double sin, irrespective of the type of sin. At this point, some Imams of Tafsir (exegesis) have listed all such sins, which these wretched persons used to commit in their meetings. For instance, throwing stones on travelers and making fun of them, as Umm Hani& (رض) reports it in a hadith. Other commentators have reported that these insolent people were in the habit of committing sins openly before all others. Out of the three sins mentioned in this verse the first one is most disgusting, which was never committed before in the whole world, and even wild beasts abstain from it. The entire ummah is unanimous on that it is a worse sin than adultery. (Ruh)
خلاصہ تفسیر اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں نہیں کیا، کیا تم مردوں سے برا فعل کرتے ہو، (وہ بےحیائی کا کام یہی ہے) اور (اس کے علاوہ دوسری نامعقول حرکتیں بھی کرتے ہو، مثلاً یہ کہ) تم ڈاکہ ڈالتے ہو (کذا فی الدر عن ابن زید) اور (غضب یہ ہے کہ) اپنی بھری مجلس میں نامعقول حرکت کرتے ہو (اور معصیت کا اعلان یہ خود ایک معصیت وقبح عقلی ہے) سو ان کی قوم کا (آخری) جواب بس یہ تھا کہ ہم پر اللہ کا عذاب لے آؤ اگر تم (اس بات میں) سچے ہو (کہ یہ افعال موجب عذاب ہیں) لوط (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے میرے رب مجھ کو ان مفسد لوگوں پر غالب اور ان کو عذاب سے ہلاک) کر دے اور (ان کی دعا قبول ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے عذاب کی خبر دینے کے لئے فرشتے معین فرمائے اور دوسرا کام ان فرشتوں کو یہ بتلایا گیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کے تولد کی بشارت دیں چنانچہ) ہمارے (وہ) بھیجے ہوئے فرشتے جب ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس (ان کے فرزند اسحاق کے تولد کی) بشارت لے کر آئے تو (اثنائے گفتگو میں جس کا مفصل بیان دوسرے موقع پر ہے قال فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ الخ) ان فرشتوں نے (ابراہیم (علیہ السلام) سے) کہا کہ ہم اس بستی والوں کو (جس میں قوم لوط آباد ہے) ہلاک کرنے والے ہیں (کیونکہ) وہاں کے باشندے بڑے شریر ہیں، ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہاں تو لوط (علیہ السلام بھی موجود) ہیں (وہاں عذاب نہ بھیجا جائے کہ ان کو گزند پہنچے گا) فرشتوں نے کہا کہ جو جو وہاں (رہتے) ہیں ہم کو سب معلوم ہیں ہم ان کو اور ان کے خاص متعلقین کو (یعنی ان کے خاندان والوں کو اور جو مومن ہوں اس عذاب سے) بچا لیں گے (اس طرح سے کہ نزول عذاب کے قبل ان کو بستی سے باہر نکال لے جائیں گے) بجز ان کی بی بی کے کہ وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں سے ہوگی (جس کا ذکر سورة ہود اور سورة حجر میں گذر چکا ہے، یہ گفتگو تو ابراہیم (علیہ السلام) سے ہوئی) اور (پھر وہاں سے فارغ ہوکر) جب ہمارے وہ فرستادے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچنے تو لوط (علیہ السلام) ان (کے آنے) کی وجہ سے ( اس لئے) مغموم ہوئے (کہ وہ بہت حسین جوانوں کی شکل میں آئے تھے اور لوط (علیہ السلام) نے ان کو آدمی سمجھا اور اپنی قوم کی نامعقول حرکت کا خیال آیا) اور (اس وجہ سے) ان (کے آنے) کے سبب تنگ دل ہوئے اور (فرشتوں نے جو یہ حال دیکھا تو) وہ فرشتے کہنے لگے (آپ کسی بات کا) اندیشہ نہ کریں اور نہ مغموم ہوں ( ہم آدمی نہیں ہیں بلکہ عذاب کے فرشتے ہیں، کقولہ تعالیٰ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ اور اس عذاب سے) ہم آپ کو اور آپ کے خاص متعلقین کو بچا لیں گے بجز آپ کی بی بی کے کہ وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی (اور آپ کو مع متعلقین کے اس سے بچا کر) ہم اس بستی کے (بقیہ) باشندوں پر ایک آسمانی عذاب (یعنی اسباب طبعیہ غیر ارضیہ سے) ان کی بدکاریوں کی سزا میں نازل کرنے والے ہیں (چنانچہ وہ بستی الٹ دی گئی اور غیبی پتھروں سے سنگباری کی گئی) اور ہم نے اس بستی کے کچھ ظاہر نشان (اب تک) رہنے دیئے ہیں ان لوگوں (کی عبرت) کے لئے جو عقل رکھتے ہیں (چنانچہ اہل مکہ سفر شام میں ان ویران مقامات کو دیکھتے تھے اور جو اہل عقل تھے وہ منتفع بھی ہوتے تھے کہ ڈر کر ایمان لے آتے تھے۔ ) معارف و مسائل وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖٓ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ اس جگہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں کے تین سخت گناہوں کا ذکر کیا ہے، اول مرد کی مرد کے ساتھ بدفعلی دوسرے قطع طریق یعنی مسافروں پر ڈاکہ زنی، تیسرے اپنی مجلسوں میں اعلاناً سب کے سامنے گناہ کرنا۔ قرآن کریم نے اس تیسرے گناہ کی تعیین نہیں فرمائی، اس سے معلوم ہوا کہ ہر گناہ جو اپنی ذات میں گناہ ہے اگر اس کو علانیہ بےپروائی سے کیا جائے تو یہ دوسرا مستقل گناہ ہوجاتا ہے وہ کوئی بھی گناہ ہو، بعض ائمہ تفسیر نے اس جگہ ان گناہوں کو شمار کیا ہے جو یہ بےحیا اپنی مجلسوں میں سب کے سامنے کیا کرتے تھے، مثلاً راستہ چلتے لوگوں کو پتھر مارنا اور ان کا استہزاء کرنا جیسا کہ ام ہانی کی ایک حدیث میں اس کا ذکر ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ جو بےحیائی ان کی مشہور تھی اس کو وہ کہیں چھپ کر نہیں کھلی مجلسوں میں ایک دوسرے کے سامنے کرتے تھے۔ العیاذ باللہ جن تین گناہوں کا اس آیت میں ذکر ہے ان سب میں اشد پہلا گناہ ہے، جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا تھا اور جنگل کے جانور بھی اس سے پرہیز کرتے ہیں۔ باتفاق امت یہ گناہ زنا سے زیاہ شدید ہے (کذا فی الروح)