Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 30

سورة العنكبوت

قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِیۡ عَلَی الۡقَوۡمِ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۳۰﴾٪  15

He said, "My Lord, support me against the corrupting people."

حضرت لوط ( علیہ السلام ) نے دعا کی کہ پروردگار! اس مفسد قوم پر میری مدد فرما ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

So Allah's Prophet asked for help against them, and: قَالَ ... He said: ... رَبِّ انصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ My Lord! Give me victory over the people who are corrupt.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

301یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) قوم کی اصلاح سے ناامید ہوگئے تو اللہ سے مدد کی دعا فرمائی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٤٧] جب ان لوگوں کی سرکشی اور مخالفت اس حد تک پہنچ گئی اور حضرت لوط ان کے راہ راست پر آنے سے مایوس ہوگئے تو اس وقت آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جس طریقے سے تو مناسب سمجھے میری مدد فرما اور مجھے ان لوگوں سے نجات دے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِيْ ۔۔ : لوط (علیہ السلام) نے ان کے ایمان لانے سے مایوس ہو کر یہ دعا کی کہ اے میرے رب ! ان مفسد لوگوں کے خلاف میری مدد فرما۔ ” َلَي الْقَوْمِ الْمُفْسِدِيْنَ “ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ” ان مفسد لوگوں “ کیا گیا ہے۔ اللہ کے پیغمبر اپنی قوم پر بددعا اس وقت کرتے ہیں جب انھیں یقین ہوجائے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِيْ عَلَي الْقَوْمِ الْمُفْسِدِيْنَ۝ ٣٠ ۧ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ فسد الفَسَادُ : خروج الشیء عن الاعتدال، قلیلا کان الخروج عنه أو كثيرا،. قال تعالی: لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] ، ( ف س د ) الفساد یہ فسد ( ن ) الشئی فھو فاسد کا مصدر ہے اور اس کے معنی کسی چیز کے حد اعتدال سے تجاوز کر جانا کے ہیں عام اس سے کہ وہ تجاوز کم ہو یا زیادہ قرآن میں ہے : ۔ لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] تو آسمان و زمین سب درہم برہم ہوجایئں۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٠) لوط (علیہ السلام) نے دعا فرمائی اے میرے پروردگار ان مشرکین پر عذاب نازل کر کے میری مدد فرما۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(29:30) رب ای یا ربی۔ انصرنی فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم ۔ تو میری مدد کر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ اور ان کی دعا قبول ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے عذاب کی خبر دینے کے لئے فرشتے معین فرمادیئے، اور دورسا کام ان فرشتوں کو یہ بتلایا گیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کے تولد کی بشارت دیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قوم کے مجبور کرنے پر حضرت لوط کی اللہ کے حضور فریاد۔ اے میرے رب اس مفسد قوم کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ حضرت لوط کی بددعا قبول ہوئی جس کے نتیجے میں قوم لوط پر عذاب نازل کرنے والے فرشتے پہلے حضرت ابراہیم کے پاس حاضر ہوئے انہوں نے حضرت ابراہیم کو بیٹے اور پوتے کی خوشخبری دی، جس پر ان کی بیوی نے تعجب کا اظہار کیا، لیکن ملائکہ نے ان کو تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ رحمت فرما دی ہے، اس لیے اس میں کسی قسم کا تعجب نہیں کرنا چاہیے، خوشخبری دینے کے بعد ملائکہ نے حضرت ابراہیم سے ذکر کیا کہ ہم قوم لوط پر عذاب نازل کرنے والے ہیں۔ حضرت ابراہیم ملائکہ سے اصرار کرنے لگے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نہایت ہی حوصلہ مند اور نرم خو تھے، ملائکہ نے انہیں عرض کی اس بات کو جانے دیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم صادر ہوچکا ہے لہذا اس عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ (ہود : ٦٩ تا ٧٦) اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط کی قوم پر عذاب نازل کیا اور انہیں عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔ مسائل : ١۔ حضرت لوط کی قوم ہم جنسی کے جرم میں ملوث تھی۔ تفسیر بالقرآن قوم لوط کا انجام : ١۔ ان کے پاس ان کی قوم کے لوگ دوڑتے ہوئے آئے اور وہ پہلے سے ہی بدکاری کے عادی تھے۔ (ھود : ٧٨) ٢۔ لوط (علیہ السلام) نے کہا کہ کاش میرے پاس طاقت ہوتی یا میں کوئی مضبوط پناہ گاہ پاتا۔ (ھود : ٨٠) ٣۔ ہم نے اوپر والی سطح کو نیچے کردیا اور ہم نے ان پر پتھروں کی بارش برسائی جو تہہ بہ تہہ خاص نشان لگے ہوئے۔ (ھود : ٨٢) ٤: ہم نے اس بستی کو الٹ دیا اور ان پر پتھروں کی بارش برسائی۔ (الحجر : ٧٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

30۔ لوط (علیہ السلام) نے بارگاہ رب العزت میں دعا کی کہ اے میرے پروردگار ان شریروں اور شرارت پسند لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما اور مجھ کو ان پر غالب فرما ، آگے اس عذاب کی مختصر تفصیل ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) ان آیات کے تحت فرماتے ہیں ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) بھیجتے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قوم میں کسی نے نہ مانا ان کے سوائے ان کا وطن شہر بابل تھا پھر نکلے خدا کے توکل پر اللہ نے ملک شام میں پہنچا کر بسایا۔ 12 پھر فرماتے ہیں دنیا میں حق تعالیٰ نے ما ل اور عزت اور ہمیشہ کا نام نیک دیا ۔ اور ملک شام ہمیشہ کو ان کی اولادکو دیا ۔ 12 پھر فرماتے ہیں راہ مارنا بھی ان میں دستور تھا یا اسی بدکاری سے مسافروں کی راہ مارتے تھے کہ اس طرف کو ہو کر نہ نکلیں اور مجلس میں برے کام شاید یہی بدکاری لوگوں میں کرتے ہوں گے اسی بات کی شرم بھی نہ رہی تھی یا کچھ اور ٹھٹھے بازی اور چھیڑ کرتے ہوں گے۔ 12