Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 31

سورة العنكبوت

وَ لَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ بِالۡبُشۡرٰی ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا مُہۡلِکُوۡۤا اَہۡلِ ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃِ ۚ اِنَّ اَہۡلَہَا کَانُوۡا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۳۱﴾ۚ ۖ

And when Our messengers came to Abraham with the good tidings, they said, "Indeed, we will destroy the people of that Lot's city. Indeed, its people have been wrongdoers."

اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام ) کے پاس بشارت لے کر پہنچے کہنے لگے کہ اس بستی والوں کو ہم ہلاک کرنے والے ہیں یقیناً یہاں کے رہنے والے گنہگار ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Angels went to Ibrahim and then to Lut, may peace be upon them both Allah tells: وَلَمَّا جَاءتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَى قَالُوا إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ إِنَّ أَهْلَهَا كَانُوا ظَالِمِينَ And when Our messengers came to Ibrahim with the glad tidings they said: "Verily, we are going to destroy the people of this town; truly, its people have been wrongdoers." When Lut, peace be upon him, asked Allah to help him against them, Allah sent angels to help him. They first came to Ibrahim in the form of guests, so he offered them hospitality in the appropriate manner. When he saw that they had no interest in the food, he felt some mistrust of them and was fearful of them. They started to calm him down and gave him the news of a righteous son born by his wife Sarah, who was present, and she was astonished by this, as we have already explained in our Tafsir of Surah Hud and Surah Al-Hijr. When they brought this news to Ibrahim and told him that they were sent to destroy the people of Lut, he began to speak up for them, hoping to win more time for them so that they might be guided by Allah. When they said, "We have come to destroy the people of this township," قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلاَّ امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ

فرشتوں کی آمد حضرت لوط علیہ السلام کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے ۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے ۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا ۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا ۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورۃ ہود اور سورۃ حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے ۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا ۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آجائیں ۔ اس لئے آپ فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی علیہ السلام ہیں ۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں ۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں ۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہوگی ۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے ۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورتوں میں یہ حضرت لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے ۔ انہیں دیکھتے ہی لوط شش وپنج میں پڑگئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آجائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے ۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لئے ناخوش اور سنجیدہ ہوگئے ۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کردی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ وبرباد کرنے کے لئے آئیں ہیں ۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا ۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا جائے گا ۔ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا ۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی ۔ جو لوگوں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے ۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کرکے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں ۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

311یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی گئی اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو ہلاک کرنے کے لئے بھیج دیا۔ وہ فرشتے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس گئے اور انھیں اسحاق (علیہ السلام) و یعقوب (علیہ السلام) کی خوشخبری دی اور ساتھ ہی بتلایا کہ ہم لوط (علیہ السلام) کی بستی ہلاک کرنے آئے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٤٨] حضرت لوط کی دعا کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا۔ اور اس بدکار قوم کی بستی کو ہلاک کرنے اور حضرت لوط کو نجات دینے کے لئے اپنے فرشتے بھیج دیئے۔ پہلے یہ فرشتے انسانوں کی شکل میں حضرت ابراہیم کے پاس آئے۔ حضرت ابراہیم ان کی مہمانی کے لئے بچھڑا بھون کرلے آئے۔ مگر جب ان نووارد مسافروں نے کھانے کی طرف ہاتھ تک نہ بڑھایا جو حضرت ابراہیم دل میں ڈر گئے۔ پھر جب فرشتوں نے بتلایا کہ ہم فرشتے ہیں اور آپ کو ایک بیٹے کی بشارت دینے آئے ہیں۔ تو حضرت ابراہیم کا ڈر جاتا رہا۔ اور یہ واقعہ کئی مقامات پر تفصیل سے گزر چکا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ۧوَلَمَّا جَاۗءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰهِيْمَ بالْبُشْرٰى ۔۔ : ان آیات کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورة ہود (٦٩ تا ٨٢) اور سورة حجر (٥١ تا ٧٩) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَمَّا جَاۗءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰہِيْمَ بِالْبُشْرٰى۝ قَالُوْٓا اِنَّا مُہْلِكُوْٓا اَہْلِ ہٰذِہِ الْقَرْيَۃِ۝ اِنَّ اَہْلَہَا كَانُوْا ظٰلِمِيْنَ۝ ٣١ۚۖ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس بشر واستبشر : إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] ، وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] ، يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] ، وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] . ( ب ش ر ) البشر التبشیر کے معنی ہیں اس قسم کی خبر سنانا جسے سن کر چہرہ شدت فرحت سے نمٹما اٹھے ۔ مگر ان کے معافی میں قدر سے فرق پایا جاتا ہے ۔ تبیشتر میں کثرت کے معنی ملحوظ ہوتے ہیں ۔ اور بشرتہ ( مجرد ) عام ہے جو اچھی وبری دونوں قسم کی خبر پر بولا جاتا ہے ۔ اور البشرتہ احمدتہ کی طرح لازم ومتعدی آتا ہے جیسے : بشرتہ فابشر ( یعنی وہ خوش ہوا : اور آیت کریمہ : { إِنَّ اللهَ يُبَشِّرُكِ } ( سورة آل عمران 45) کہ خدا تم کو اپنی طرف سے بشارت دیتا ہے میں ایک قرآت نیز فرمایا : لا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ عَلِيمٍ قالَ : أَبَشَّرْتُمُونِي عَلى أَنْ مَسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ قالُوا : بَشَّرْناكَ بِالْحَقِّ [ الحجر/ 53- 54] مہمانوں نے کہا ڈریے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند بیٹے کی خوشخبری دیتے ہیں وہ بولے کہ جب بڑھاپے نے آپکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے اب کا ہے کی خوشخبری دیتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں ۔ { فَبَشِّرْ عِبَادِ } ( سورة الزمر 17) تو میرے بندوں کو بشارت سنادو ۔ { فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ } ( سورة يس 11) سو اس کو مغفرت کے بشارت سنادو استبشر کے معنی خوش ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے ( اور شہید ہوکر ) ان میں شامل ہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں ۔ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہیں ۔ وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] اور اہل شہر ( لوط کے پاس ) خوش خوش ( دورے ) آئے ۔ اور خوش کن خبر کو بشارۃ اور بشرٰی کہا جاتا چناچہ فرمایا : هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی ۔ وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری سے کرآئے ۔ يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] زہے قسمت یہ تو حسین ) لڑکا ہے ۔ وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] اس مدد کو تو خدا نے تمہارے لئے رذریعہ بشارت ) بنایا هلك الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه : افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] - وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام . والثالث : الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار : وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] . ( ھ ل ک ) الھلاک یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا : هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] ہائے میری سلطنت خاک میں مل گئی ۔ دوسرے یہ کہ کسی چیز میں خرابی اور تغیر پیدا ہوجانا جیسا کہ طعام ( کھانا ) کے خراب ہونے پر ھلک الطعام بولا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] اور کھیتی کو بر باد اور انسانوں اور حیوانوں کی نسل کو نابود کردی ۔ موت کے معنی میں جیسے فرمایا : ۔ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] اگر کوئی ایسا مرد جائے ۔ أهل أهل الرجل : من يجمعه وإياهم نسب أو دين، أو ما يجري مجراهما من صناعة وبیت وبلد، وأهل الرجل في الأصل : من يجمعه وإياهم مسکن واحد، ثم تجوّز به فقیل : أهل الرجل لمن يجمعه وإياهم نسب، وتعورف في أسرة النبيّ عليه الصلاة والسلام مطلقا إذا قيل : أهل البیت لقوله عزّ وجلّ : إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ [ الأحزاب/ 33] ( ا ھ ل ) اھل الرجل ۔ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اس کے ہم نسب یا ہم دین ہوں اور یا کسی صنعت یامکان میں شریک ہوں یا ایک شہر میں رہتے ہوں اصل میں اھل الرجل تو وہ ہیں جو کسی کے ساتھ ایک مسکن میں رہتے ہوں پھر مجازا آدمی کے قریبی رشتہ داروں پر اہل بیت الرجل کا لفظ بولا جانے لگا ہے اور عرف میں اہل البیت کا لفظ خاص کر آنحضرت کے خاندان پر بولا جانے لگا ہے کیونکہ قرآن میں ہے :۔ { إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ } ( سورة الأحزاب 33) اسے پیغمبر گے اہل بیت خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی ( کا میل کچیل ) دور کردے ۔ قرية الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية . ( ق ر ی ) القریۃ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر قریہ سے وہاں کے با شندے مرے لئے ہیں ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣١) اور جب حضرت جبریل (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ دوسرے فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس حضرت اسحاق (علیہ السلام) بیٹے کی خوشخبری لے کر آئے تو انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم قوم لوط کی بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں کیوں کہ وہاں کے باشندے مشرک ہیں اور انہوں نے بےحیائی کے کام کر کے اپنے اوپر عذاب کو اجب کرلیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣١ (وَلَمَّا جَآءَ تْ رُسُلُنَآ اِبْرٰہِیْمَ بالْبُشْرٰیلا) ” قوم لوط پر عذاب کی غرض سے جو فرشتے بھیجے گئے تھے وہ پہلے انسانی شکلوں میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس گئے۔ ان فرشتوں نے پہلے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی پیدائش کی بشارت دی اور پھر اس کے بعد :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

53 According to the details given of this in Surah Hud and A1-Hijr, the angels who had been sent to bring the torment on the people of the Prophet Lot, first came to the Prophet Abraham and gave him the good news of the birth of the Prophet Isaac and after him of the Prophet Jacob. Then they told him that they had been sent to destroy the people of Lot. 54 "This habitation" refers to the territory of the people of Lot. The Prophet Abraham at that time resided in the Palestinian city of Hebron, now called AI-Khalil. A few miles to the south-east of this city lies that part of the Dead Sea, which was once inhabited by the people of Lot and which is now under sea water. It is a low-lying area and is clearly visible from the hill country of Hebron. That is why the angels, pointing towards it, had said "We are going to destroy this habitation." (See also E.N. 114 of Ash-Shu'araaa).

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 53 سورہ ہود اور سورہ حجر میں اس کی تفصیل یہ بیان ہوئی ہے کہ جو فرشتے قوم لوط پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے وہ پہلے حجرت ابراہیم کے پاس حاضر ہوئے اور انہوں نے آنجناب کو حضرت اسحاق اور ان کے بعد حضرت یعقوب کی پیدائش کی بشارت دی ، پھر یہ بتایا کہ ہمیں قوم لوط کو تباہ کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 54 اس بستی کا اشارہ قوم لوط کے علاقے کی طرف ہے ۔ حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین کے شہر حبرون ( موجودہ الخلیل ) میں رہتے تھے ۔ اس شہر کے جنوب مشرق میں چند میل کے فاصلے پر بحیرہ مردار ( Dead Sea ) کا وہ حصہ واقع ہے جہاں پہلے قوم لوط آباد تھیا ور اب جس پر بحیرہ کا پانی پھیلا ہوا ہے ۔ یہ علاقہ نشیب میں واقع ہے اور حبرون کی بلند پہاڑیوں پر سے صاف نظر آتا ہے ۔ اسی لیے فرشتوں نے اس کی طرف اشارہ کر کے حضرت ابراہیم سے عرض کیا کہ ہم اس بستی کو ہلاک کرنے والے ہیں ( ملاحظہ ہو سورہ شعراء حاشیہ 114 )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

14: جو فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس یہ خوشخبری لے کر آئے تھے کہ ان کے یہاں بیٹا پیدا ہوگا، انہی کو حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھی بھیجا گیا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورۂ ہود : 69 اور سورۂ حجر : 51

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(29:31) انا مہلکوا اہل ھذہ القریۃ۔ انا۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور نا ضمیر جمع متکلم سے مرکب ہے۔ مھلکوا اسم فاعل جمع مذکر اصل میں مھلکون تھا۔ اضافت کی وجہ سے نون ساقط ہوگیا۔ ھذہ اشارہ القریۃ مشار الیہ دونوں مل کر مضاف الیہ اہل مضاف مضاف الیہ اور مضاف مل کر مضاف الیہ مہلکوا اسم فاعل جمع مذکر اصل میں مھلکون تھا۔ اجافت کی وجہ سے نون ساقط ہوگیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

7 ۔ سورة ہود اور حجر میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے کہ جو فرشتے قوم لوط کو تباہ کرنے بھیجے گئے۔ وہ پہلے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے ہاں حاضر ہوئے اور انہوں نے حضرت سارہ ( علیہ السلام) کو حضرت اسحاق ( علیہ السلام) اور ان کے بعد حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی خوشخبری دی اور پھر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے دریافت کرنے پر بتایا کہ ہمیں قوم لوط ( علیہ السلام) پر عذاب نازل کرنے بھیجا گیا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 31 تا 44 اسرارومعارف ایک وقت میں ایک کا بھلا دوسرے کا نقصان ایمان و عمل کے باعث : اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کو ولادت اسمعیل (علیہ السلام) کی خوشخبری دینے کے لیے آئے تو انہیں بتایا کہ قوم لوط کی بستیوں کو اجاڑنا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے یعنی وہی فرستادہ جو ایک ہستی کو اس کے ایمان و عمل کے باعث نوید مسرت سنانے آئے تھے دوسروں کے کفر اور بد اعمالی کے باعث ان کی تباہی بھی لائے تھے کہ وہ بہت حد سے بڑھ چکے تھے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراکہا اس بستی میں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہیں تو فرشتے کہنے لگے سب معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار اس آفت سے محفوظ رہیں گے سوائے ان کی بڑھیا کہ جو پیچھے رپہ جانے والوں کی ساتھی ہے۔ جب وہ خوبصورت لڑکوں کی شکل میں لوط (علیہ السلام) کے گھر پہنچے تو وہ ڈر گئے اور ان کا دل بہت پریشان ہوا کہ میرے مہمان ہیں اور یہ لوگ ان کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کریں گے۔ تب فرشتوں نے کہا کہ آپ کسی طرح کا خوف دل میں نہ لائیں ہم اللہ کے فرشے ہیں اور اب اس قوم کا انجام قریب ہے ہم پ کو اور آپ کے متبعین کو سلامت نکال دیں گے سوائے آپ کی زوجہ کے جو آپ کے ساتھ نہ جاسکے گی۔ اور اس آبادی کے باشندوں پر ہم آسمانی آفت توڑیں گے جو ان کی بدکاری کا نتیجہ ہوگی چناچہ اے مخاطب اس زمین پر ہم نے اب تک ان کے آثار باقی رکھے ہیں کہ جس میں بھی عقل ہو یہاں سے عبرت حاصل کرسکے۔ اور اسی طرح اہل مدین کے ہاں شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جنہوں نے یہی سبق دیا کہ لوگو اللہ کی عبادت اور اطاعت کرو اور دنیا پر فدا ہونے کی بجائے قیامت اور آخرت سے امیدیں وابستہ کرو لہذا روئے زمین پر فساد پھیلاتے ہوئے نہ پھرو مگر انہوں نے حق قبول کرنے سے انکار کیا تو انہیں زلزلہ نے آپکڑا اور اگلی ہی صبح اپنے گھروں میں اوندھے پڑے تھے یعنی جائے پناہ ہی تباہی کا مقام قرار پائی۔ اور قوم عاد وثمود کے ٹھکانے تو اب بھی زبان حال سے ان کی حکایت سنا رہے ہیں یعنی ان کے مساکن دیکھ کر ان کے احوال عروج وزوال کا سارا حال کھل جاتا ہے شیطان نے انہیں برائی ہی سجا سنوار کر پیش کی اور جب اس کی طرف متوجہ ہوئے تو سیدھی راہ سے محروم ہوگئے حالانکہ اچھے بھلے دانا اور بینا تھے پاگل تو نہ تھے اور قارون فرعون ہامان سب کا یہی حال ہے کہ دنیا کے لالچ میں اندھے بن گئے جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس واضح دلائل لائے تو یہ اکڑ گئے اور روئے زمین پر کفر پھیلانا چاہا مگر اللہ کی گرفت سے بھاگ نہیں سکے اور سب اپنے اپنے جرائم میں دھر لیے گئے۔ ان میں سے تو کچھ پر پتھر برسائے گئے کچھ ایسے تھے جن پر چنگھاڑ مسلط کردی گئی اور کچھ کو زمین میں دنسا کر ہلاک کردیا گیا کچھ طوفانی موجوں میں غرق ہوئے ان میں سے کسی پر بھی اللہ کریم نے کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ انہوں نے برائی اور کفر کا راستہ اپنا کر خود اپنی جان پر ظلم کیا۔ جو لوگ بھی اللہ کو چھوڑ کر دوسروں سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں ان کی مثال تو مکڑی جیسی ہے کہ سمجھتی ہے کہ جالے کی تاروں میں بہت محفوظ ہے حالانکہ سب سے بودا اور کمزور گھر جو نہ ہونے کے برابر ہے وہ مکڑی کا ہی ہے۔ اگر لوگ کچھ بھی علم رکھتے ہوں تو بات بہت واضح ہے۔ اور یہ بات اللہ سے چھپا بھی تو نہیں سکتے اس کے علاوہ جس کو بھی پکاریں اور اللہ کے مقابلے میں جس کی بھی اطاعت کریں وہ تو جانتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے۔ اور وہ غالب ہے جسے چاہے گرفت کرلے۔ یہ اس کی حکمت ہے کہ انہیں مہلت دے رکھی ہے اور یہ اس طرح کی سب مثالیں تمام لوگوں کے لیے پیش کی جاتی ہیں مگر ان چیزوں سے سبق حاصل کرنا انہی لوگوں کو نصیب ہے جو عالم ہوں۔ علماء حق نے یہاں ثابت فرمایا ہے کہ محض کتابیں پڑھ لینا علم نہیں جب تک ان چیزوں پر غور و فکر کر کے وہ شعور اور کیفیت نہ نصیب ہوجائے کہ بندہ اللہ کی اطاعت اختیار کرلے اور اس کی عملی زندگی سدھر جائے کوئی عالم کہلانے کا مستحق نہیں۔ اللہ نے زمین و آسمان کی تخلیق کی ہے اس قدر درست انداز میں فرمائی کہ اہل ایمان کے لیے اسی میں بیشمار دلائل ہیں یعنی کتاب اللہ عالم خلق کی سائنسی تحقیق کا حکم دیتی ہے کہ اس سے عظمت خالق پر دلائل میسر آتے ہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قوم لوط کو تباہ کرنے والے ملائکہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تکرار۔ قوم لوط کو تباہ کرنے سے پہلے یہی ملائکہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی خوشخبری دینے کے لیے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس گئے۔ جس کا تذکرہ سورة ھود، آیت : ٦٩ تا ٧٣ میں اس طرح ہوا ہے۔ ملائکہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے اور پوتے کی خوشخبری دے کر رخصت ہونے لگے تو انھوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بتایا کہ ہم قوم لوط کو تباہ کرنے کے لیے بھی بھیجے گئے، اس لیے اب ہم اس بستی کی طرف جا رہے ہیں تاکہ اسے نیست و نابود کردیا جائے کیونکہ اس میں رہنے والے بڑے ظالم لوگ ہیں۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) فرمانے لگے کہ ان میں لوط ( علیہ السلام) بھی موجود ہیں۔ ملائکہ نے فرمایا کہ ہاں ہمیں معلوم ہے کہ اس بستی میں لوط بھی موجود ہیں۔ لیکن ہم لوط (علیہ السلام) اور اس کے ایمان دار ساتھیوں کو وہاں سے نکلنے کا موقعہ دیں گے۔ البتہ لوط (علیہ السلام) کی بیوی تباہ ہونے والوں میں شامل ہوگی۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولام جآءت رسلنا ابراھیم ۔۔۔۔۔ کانت من الغبرین (31 – 32) یہ منظر ، ابراہیم (علیہ السلام) اور فرشتوں کا منظر ، یہ منظر یہاں چونک مقصود بالذات نہ تھا ، اس لیے اسے نہایت اختصار کے ساتھ لیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے میں دوسری جگہ یہ بات آگئی ہے کہ انہیں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کی بشارت دی گئی۔ اور حضرت اسحاق کی ولادت تو خوشخبری کا موضوع تھا۔ اس لیے ان باتوں کو ہاں مفصل نہیں دیا گیا کیونکہ مقصود اتمام قصہ لوط تھا۔ یہاں صرف یہ کہہ دیا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے فرشتے اس لیے ہو کر آئے کہ انہیں خوشخبری دے دیں اور یہ بتا دیں کہ وہ کس مہم پر آئے ہیں۔ انا مھلکوآ اھل ۔۔۔۔۔۔۔ ظلمین (29: 31) ” ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے والے ہیں ، اس کے لوگ سخت ظالم ہیں “۔ اب حضرت ابراہیم کا جذبہ رحم اور محبت امنڈ آیا۔ انہوں نے فوراً کہا کہ وہاں تو ان کے بھتیجے حضرت لوط بھی رہتے ہیں اور وہ تو ظالم نہیں ، صالح ہیں۔ اللہ کے فرشتوں اور فرستادوں نے جواب دیا کہ ان کو اس مہم کے بارے میں پوری معلومات دی گئی ہیں اور وہ سب باتوں کو جانتے ہیں۔ قالوا نحن اعلم ۔۔۔۔۔۔ من الغبرین (29: 32) ” انہوں نے کہا ، ہم خوب جانتے ہیں کہ وہاں کون کون ہیں۔ ہم اسے ، اور اس کی بیوی کے سوا ، اس کے باقی سب گھر والوں کو بچالیں گے “۔ اس کی بیوی پیچھے وہ جانے والوں میں سے ہے “۔ یہ بیوی قوم کے ساتھ تھی۔ یہ بھی ان کے جرائم اور بد اعمالیوں کی تصدیق کرتی تھی اور یہ عجیب بات تھی کہ عورت کے حقوق پر ایک عورت ڈاکہ ڈالے۔ اب یہ قصہ ایک تیسرے منظر میں داخل ہوتا ہے۔ یہ منظر بھی عجیب ہے۔ یہ فرشتے نہایت خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں حضرت لوط کے پاس آتے ہیں۔ حضرت لوط بھی جانتے ہیں کہ یہ خطرناک مہمان ہیں ، خوبصورت نوجوان اور قوم جس گندی حالت میں۔ لازم ہے کہ یہ لوگ ان مہمانوں کے ساتھ بدسلوکی کریں گے۔ اور وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اپنے مہمانوں کا دفاع کرسکیں اس لیے اس پریشانی سے ان کا دل بھر آیا ، اور ان پر پریشانی اور وحشت طاری ہوگئی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

26:۔ البشریٰ سے یا تو بیٹے کے تول کی بشارت مراد ہے یا قوم لوط کی ہلاکت اور لوط (علیہ السلام) کی نجات کی بشارت مراد ہے بالبشری ای بالبشارۃ بالولد والنافلۃ (روح ج 20 ص 154) استنصر لوط (علیہ السلام) ربہ فبعث علیہم ملائکۃ لعذابہم فجاء وا ابراہیم اولا مبشرین بنصرۃ لوط علی قومہ (قرطبی ج 13 ص 343) ۔ جب ہمارے فرشتے خوشخبری لے کر ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے تو ان سے کہنے لگے ہم لوط کی بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے آئے ہیں کیونکہ یہ لوگ حد سے تجاوز کرچکے ہیں اور بڑے بےانصاف ہیں۔ قال ان فیہا لوطاً الخ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اس میں تو لوط بھی موجود ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا لوط (علیہ السلام) اور ان کے علاوہ بھی جو ایمان والے اس بستی میں موجود ہیں، ہم ان سب کو جانتے ہیں۔ ہم ان سب کو بچائیں گے البتہ لوط (علیہ السلام) کی بیوی مشرکین کے ساتھ ہلاک ہوگی کیونکہ وہ بھی مشرکہ ہے۔ قوم لوط دوسری برائیوں کے ساتھ ساتھ شرک بھی کرتی تھی۔ شرک اور دوسری برائیوں کی پاداش میں اللہ نے ان کو ہلاک کیا۔ عن ابن عباس قال ان قوم لوط کانت فیہم ذنوب غیر الفاحشۃ و مع ھذا کلہ کانوا یشرکون باللہ (قرطبی ج 13 ص 342) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

31۔ اور جب ہمارے فرستادہ یعنی فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کیلئے بشارت اور خوش خبری لیکر آئے تو ان فرشتوں نے کہا ہم اس بستی یعنی سدوم کے رہنے والوں کو ہلاک کرنے والے کیونکہ یہاں کے رہنے والے بڑے ظالم اور شریر ہیں ۔ یعنی جیسا کہ سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ فرشتے حضرت ابراہیم کو حضرت اسحاق کی بشارت دینے آئے تھے بشارت کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دریافت کیا اب کیا مہم ہے جیسا کہ پارہ اور پارہ 27 میں مذکور ہے۔ انہوں نے کہا اب یہ سدوم اور اس کی متعلقہ بستیاں جن میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم آباد ہے ان کو ہلاک کریں گے کیونکہ یہ بڑے شریر لوگ ہیں۔