The Angels went to Ibrahim and then to Lut, may peace be upon them both
Allah tells:
وَلَمَّا جَاءتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَى قَالُوا إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ إِنَّ أَهْلَهَا كَانُوا ظَالِمِينَ
And when Our messengers came to Ibrahim with the glad tidings they said: "Verily, we are going to destroy the people of this town; truly, its people have been wrongdoers."
When Lut, peace be upon him, asked Allah to help him against them, Allah sent angels to help him. They first came to Ibrahim in the form of guests, so he offered them hospitality in the appropriate manner. When he saw that they had no interest in the food, he felt some mistrust of them and was fearful of them. They started to calm him down and gave him the news of a righteous son born by his wife Sarah, who was present, and she was astonished by this, as we have already explained in our Tafsir of Surah Hud and Surah Al-Hijr. When they brought this news to Ibrahim and told him that they were sent to destroy the people of Lut, he began to speak up for them, hoping to win more time for them so that they might be guided by Allah. When they said, "We have come to destroy the people of this township,"
قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلاَّ امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ
فرشتوں کی آمد
حضرت لوط علیہ السلام کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے ۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے ۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا ۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا ۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورۃ ہود اور سورۃ حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے ۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا ۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آجائیں ۔ اس لئے آپ فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی علیہ السلام ہیں ۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں ۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں ۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہوگی ۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے ۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورتوں میں یہ حضرت لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے ۔ انہیں دیکھتے ہی لوط شش وپنج میں پڑگئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آجائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے ۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لئے ناخوش اور سنجیدہ ہوگئے ۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کردی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ وبرباد کرنے کے لئے آئیں ہیں ۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا ۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا جائے گا ۔ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا ۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی ۔ جو لوگوں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے ۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کرکے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں ۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا ۔