Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 36

سورة العنكبوت

وَ اِلٰی مَدۡیَنَ اَخَاہُمۡ شُعَیۡبًا ۙ فَقَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ ارۡجُوا الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ ﴿۳۶﴾

And to Madyan [We sent] their brother Shu'ayb, and he said, "O my people, worship Allah and expect the Last Day and do not commit abuse on the earth, spreading corruption."

اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب ( علیہ السلام ) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو قیامت کے دن کی توقع رکھو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Shu`ayb and His People Allah tells: وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا فَقَالَ ... And to Madyan, We sent their brother Shu`ayb. He said: Allah tells us that His servant and Messenger Shu`ayb, peace be upon him, warned his people, the people of Madyan, and commanded them to worship Allah Alone with no partner or associate, and to fear the wrath and punishment of Allah on the Day of Resurrection. He said: ... يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَارْجُوا الْيَوْمَ الاْاخِرَ ... O my people! Worship Allah and hope for the last Day, Ibn Jarir said: "Some of them said that this meant: Fear the Last Day." This is like the Ayah, لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الاٌّخِرَ for those who look forward to (meeting with) Allah and the Last Day. (60:6) ... وَلاَ تَعْثَوْا فِي الاَْرْضِ مُفْسِدِينَ and commit no mischief on the earth as mischief-makers. This is forbidding them to make mischief on earth by spreading corruption, which means going around doing evil to people. They used to cheat in weights and measures, and ambush people on the road; this is in addition to their disbelief in Allah and His Messenger. So Allah destroyed them with a mighty earthquake that convulsed their land, and the Sayhah (shout) which tore their hearts from their bodies, and the torment of the Day of Shade, when their souls were taken. This was the torment of a great day. We have already examined their story in detail in Surah Al-A`raf, Surah Hud and Surah Ash-Shu`ara'.

فساد نہ کرو اللہ کے بندے اور اس کے سچے رسول حضرت شعیب علیہ السلام نے مدین میں اپنی قوم کو وعظ کیا ۔ انہیں اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کا حکم دیا ۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے اور اس کی سزاؤں سے ڈرایا انہیں قیامت کے ہونے کا یقین دلاکر فرمایا کہ اس دن کے لئے کچھ تیاریاں کرلو اس دن کا خیال رکھو لوگوں پر ظلم وزیادتی نہ کرو اللہ کی زمین میں فساد نہ کرو برائیوں سے الگ رہو ۔ ان میں ایک عیب یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے لوگوں کے حق مارتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے راستے بند کرتے تھے ساتھ ہی اللہ اور اس کے رسول سے کفر کرتے تھے ۔ انہوں نے اپنے پیغمبر کی نصیحتوں پر کان تک نہ دھرا بلکہ انہیں جھوٹا کہا اس بنا پر ان پر عذاب الٰہی برس پڑا سخت بھونچال آیا اور ساتھ ہی اتنی تیز وتند آواز آئی کہ دل اڑ گئے اور روحیں پرواز کر گئیں اور گھڑی کی گھڑی میں سب کا سب ڈھیر ہوگیا ۔ ان کا پورا قصہ سورۃ اعراف سورۃ ہود اور سورۃ شعراء میں گزرچکاہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

361مدین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے کا نام تھا، بعض کے نزدیک یہ ان کے پوتے کا نام ہے، بیٹے کا نام مدیان تھا ان ہی کے نام پر اس قبیلے کا نام پڑگیا، جو ان ہی کی نسل پر مشتمل تھا۔ اسی قبیلے مدین کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ بعض کہتے ہیں کہ مدین شہر کا نام تھا، یہ قبیلہ یا شہر لوط (علیہ السلام) کی بستی کے قریب تھا۔ 362اللہ کی عبادت کے بعد، انھیں آخرت کی یاد دہانی کرائی گئی یا تو اس لئے کہ وہ آخرت کے منکر تھے یا اس لئے کہ وہ اسے فراموش کئے ہوئے تھے اور مستیوں میں مبتلا تھے اور جو قوم آخرت کو فرا موش کر دے، وہ گناہوں میں دلیر ہوتی ہے۔ جیسے آج مسلمانوں کی اکثریت کا حال ہے۔ 36۔3ناپ تول میں کمی اور لوگوں کو کم دینا یہ بیماری ان میں عام تھی اور ارتکاب معاصی میں انھیں باک نہیں تھا، جس سے زمین فساد سے بھر گئی تھی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٤] حضرت شعیب اہل مدین کی طرف بھی مبعوث ہوئے تھے اور اصحاب ایکہ کی طرف بھی۔ اور یہ دونوں علاقے آس پاس تھے۔ شعیب نے پہلی بات یہی کی کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور شرک ایسا مرض ہے جو تمام انبیاء کی قوموں میں پایا جاتا ہے۔ شیطان ہر دور میں انسان کی شرک کی نئی سے نئی شکلیں سمجھاتا رہتا ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ خالص اللہ کی عبادت سے برگشتہ کرکے کسی نہ کسی طرح کے شرک میں مبتلا کردے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کی دعوت کا بھلا قدم یہی ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو شرک کی نجاستوں سے لوگوں کو مطلع کریں۔ اور انھیں ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلائیں۔ [٥٥] اس جملہ کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ آخرت کے دن پر ایمان لاؤ وہ یقیناً آنے والا ہے۔ جس میں تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہوگی۔ دوسرا یہ کہ اگر تم خالصتاً اللہ کی عبادت کرو گے۔ تو تمہیں آخرت کے دن اس کے اچھے اجر کی توقع رکھنا چاہئے۔ [٥٦] اہل مدین کا فساد فی الارض یہ تھا کہ وہ اپنے لین دین کے معاملات دغا بازیاں کرتے تھے۔ ناپ تول میں کمی بیشی کرنے کے فن میں خوب ماہر تھے اور اس طرح دوسرے لوگوں کے حقوق پر ضدبانہ ڈاکے ڈالتے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِلٰى مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۔۔ : ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (رکوع ١١) اور سورة ہود (رکوع ٨) ” وَارْجُوا الْيَوْمَ الْاٰخِرَ “ ” رَجَاءٌ“ کا معنی امید ہے، یہ خوف کے معنی میں بھی آتا ہے، کیونکہ امید اور خوف لازم و ملزوم ہیں۔ یعنی آخرت کے آنے کی امید رکھو، یہ نہ سمجھو کہ زندگی بس دنیا ہی کی ہے، اس کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ آخرت کے دن کی امید رکھو کہ اس میں تمہارے نیک اعمال کا پورا بدلا ملے گا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر اور مدین والوں کے پاس ہم نے ان (کی برادری) کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا سو انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو (اور شرک چھوڑ دو ) اور روز قیامت سے ڈرو (اور اس کے انکار سے باز آؤ) اور سر زمین میں فساد مت پھیلاؤ (یعنی حقوق اللہ و حقوق العباد کو ضائع مت کرو، کیونکہ یہ لوگ کفر و شرک کے ساتھ کم ناپنے کم تولنے کے بھی خوگر تھے، جس سے فساد پھیلنا ظاہر ہے) سو ان لوگوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا پس زلزلہ نے ان کو آپکڑا، پھر وہ اپنے گھروں میں گھر کر رہ گئے۔ اور ہم نے عاد وثمود کو بھی (ان کے عناد و خلاف کی وجہ سے) ہلاک کیا اور یہ ہلاک ہونا تم کو ان کے رہنے کے مقامات سے نظر آ رہا ہے (کہ ان کی ویران بستیوں کے کھنڈرات ملک شام کو جاتے ہوئے تمہارے راستہ پر ملتے ہیں) اور (حالت ان کی یہ تھی کہ) شیطان نے ان کے اعمال (بد) کو ان کی نظر میں مستحسن کر رکھا تھا اور (اس ذریعہ سے) ان کو راہ (حق) سے روک رکھا تھا اور وہ لوگ (ویسے) ہوشیار تھے (مجنون و بیوقوف نہ تھے، مگر اس جگہ انہوں نے اپنی عقل سے کام نہ لیا) اور ہم نے قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی (ان کے کفر کے سبب) ہلاک کیا اور ان (تینوں) کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کھلی دلیلیں (حق کی) لے کر آئے تھے، پھر ان لوگوں نے زمین میں سرکشی کی اور ہمارے (عذاب سے) بھاگ نہ سکے تو ہم نے (ان پانچوں میں سے) ہر ایک کو اس کے گناہ کی سزا میں پکڑ لیا، سو ان میں بعضوں پر تو ہم نے سخت ہوا بھیجی (مراد اس سے قوم عاد ہے) اور ان میں بعضوں کو ہولناک آواز نے آدبایا (مراد اس سے قوم ثمود ہے، لقولہ تعالیٰ فی سورة ہود، وَاَخَذَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ ) اور ان میں بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا (مراد اس سے قارون ہے) اور ان میں بعض کو ہم نے (پانی میں) ڈبو دیا (مراد اس سے فرعون و ہامان ہے) اور (ان لوگوں پر جو عذاب نازل ہوئے تو) اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا (یعنی بلاوجہ سزا دیتا جو ظاہراً مشابہ ظلم کے ہے گو واقع میں بوجہ اپنی ملک میں تصرف کرنے کے یہ بھی ظلم نہ تھا۔ غارت ہوئے تو اپنا ضرر خود کیا) جن لوگوں نے خدا کے سوا اور کار ساز تجویز کر رکھے ہیں ان لوگوں کی مکڑی کی سی مثال ہے جس نے ایک گھر بنایا اور کچھ شک نہیں کہ سب گھروں میں زیادہ بودا مکڑی کا گھر ہوتا ہے، (پس جیسا اس مکڑی نے اپنے زعم میں ایک اپنی جائے پناہ بنائی ہے۔ مگر واقع میں وہ پناہ انتہائی کمزور ہونے کے سبب کالعدم ہے، اسی طرح یہ مشرک لوگ معبودات باطلہ کو اپنے زعم میں اپنی پناہ سمجھتے ہیں مگر واقع میں وہ پناہ کچھ نہیں ہے) اگر وہ (حقیقت حال کو) جانتے تو ایسا نہ کرتے (یعنی شرک نہ کرتے، لیکن وہ نہ جانیں تو کیا ہوا) اللہ تعالیٰ (تو) ان سب چیزوں (کی حقیت اور ضعف) کو جانتا ہے جس جس کو وہ لوگ خدا کے سوا پوج رہے ہیں (پس وہ چیزیں تو نہایت ضعیف ہیں) اور وہ (خود یعنی اللہ تعالی) زبردست حکمت والا ہے (جس کا حاصل قوت علمیہ و عملیہ میں کامل ہونا ہے) اور (چونکہ ہم ان چیزوں کی حقیت کو جانتے ہیں اسی لئے) ہم ان (قرآنی) مثالوں کو (جس میں سے ایک مثال اس مقام پر مذکور ہے) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے بیان کرتے ہیں اور (ان مثالوں سے چاہئے تھا کہ ان لوگوں کا جہل علم سے بدل جاتا مگر) ان مثالوں کو بس علم والے ہی سمجھتے ہیں (خواہ بالفعل عالم ہوں یا انجام کے اعتبار سے، یعنی علم اور حق کے طالب ہوں اور یہ لوگ عالم بھی نہیں طالب بھی نہیں، اس لئے جہل میں مبتلا رہتے ہیں۔ لیکن ان کے جہل سے حق حق ہی رہے گا جس کو خدا جانتا ہے اور اپنے بیان سے ظاہر فرماتا ہے، پس غیر اللہ کا مستحق عبادت نہ ہونا تو ثابت ہوا۔ آگے اللہ تعالیٰ کے مستحق عبادت ہونے کی دلیل ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو مناسب طور پر بنایا ہے، (چنانچہ وہ بھی تسلیم کرتے ہیں) ایمان والوں کے لئے اس میں (اس کے استحقاق عبادت کی) بڑی دلیل ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِلٰى مَدْيَنَ اَخَاہُمْ شُعَيْبًا۝ ٠ ۙ فَقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ وَارْجُوا الْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ۝ ٣٦ أخ أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 73] وَإِلى عادٍ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 65] ، وَإِلى مَدْيَنَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 85] ، ( اخ و ) اخ ( بھائی ) اصل میں اخو ہے اور ہر وہ شخص جو کسی دوسرے شخص کا ولادت میں ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک کی طرف سے یا رضاعت میں شریک ہو وہ اس کا اخ کہلاتا ہے لیکن بطور استعارہ اس کا استعمال عام ہے اور ہر اس شخص کو جو قبیلہ دین و مذہب صنعت وحرفت دوستی یا کسی دیگر معاملہ میں دوسرے کا شریک ہو اسے اخ کہا جاتا ہے چناچہ آیت کریمہ :۔ { لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ } ( سورة آل عمران 156) ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کی نسبت کہتے ہیں ۔ میں اخوان سے ان کے ہم مشرب لوگ مراد ہیں اور آیت کریمہ :۔{ أَخَا عَادٍ } ( سورة الأَحقاف 21) میں ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کا بھائی کہنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ وہ ان پر بھائیوں کی طرح شفقت فرماتے تھے اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا : ۔ { وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا } ( سورة هود 61) اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا ۔ { وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ } ( سورة هود 50) اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ( ہود ) کو بھیجا ۔ { وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا } ( سورة هود 84) اور مدین کی طرف ان کے بھائی ( شعیب ) کو بھیجا ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] رَّجَاءُ ظنّ يقتضي حصول ما فيه مسرّة، وقوله تعالی: ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] ، قيل : ما لکم لا تخافون وأنشد :إذا لسعته النّحل لم يَرْجُ لسعها ... وحالفها في بيت نوب عواملووجه ذلك أنّ الرَّجَاءَ والخوف يتلازمان، قال تعالی: وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرْجُونَ [ النساء/ 104] ، اور رجاء ایسے ظن کو کہتے ہیں جس میں مسرت حاصل ہونے کا امکان ہو۔ اور آیت کریمہ ؛۔ ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] تو تمہیں کیا بلا مار گئی کہ تم نے خدا کا و قروں سے اٹھا دیا ۔ میں بعض مفسرین نے اس کے معنی لاتخافون کہئے ہیں یعنی کیوں نہیں ڈرتے ہوجیسا کہ شاعر نے کہا ہے ۔ ( طویل) (177) وجالفھا فی بیت نوب عواسل جب اسے مکھی ڈنگ مارتی ہے تو وہ اس کے ڈسنے سے نہیں ڈرتا ۔ اور اس نے شہد کی مکھیوں سے معاہد کر رکھا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے ۔ کہ خوف ورجاء باہم متلازم ہیں لوجب کسی محبوب چیز کے حصول کی توقع ہوگی ۔ ساتھ ہی اس کے تضیع کا اندیشہ بھی دامن گیر رہے گا ۔ اور ایسے ہی اس کے برعکس صورت میں کہ اندیشہ کے ساتھ ہمیشہ امید پائی جاتی ہے ) قرآن میں ہے :َوَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرْجُونَ [ النساء/ 104] اور تم کو خدا سے وہ وہ امیدیں ہیں جو ان کو نہیں ۔ آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا[يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . اخر ۔ اول کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اخر ( دوسرا ) واحد کے مقابلہ میں آتا ہے اور الدارالاخرۃ سے نشاۃ ثانیہ مراد لی جاتی ہے جس طرح کہ الدار الدنیا سے نشاۃ اولیٰ چناچہ فرمایا { وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ } ( سورة العنْکبوت 64) ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے لیکن کھی الدار کا لفظ حذف کر کے صرف الاخرۃ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ } ( سورة هود 16) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور دار کا لفظ کبھی اخرۃ کا موصوف ہوتا ہے اور کبھی اس کی طر ف مضاف ہو کر آتا ہے چناچہ فرمایا ۔ { وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ } ( سورة الأَنعام 32) اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ۔ ان کے لئے جو خدا سے ڈرتے ہیں ۔ (6 ۔ 32) عثی العَيْثُ والعِثِيُّ يتقاربان، نحو : جَذَبَ وجَبَذَ ، إلّا أنّ العَيْثَ أكثر ما يقال في الفساد الذي يدرک حسّا، والعِثِيَّ فيما يدرک حکما . يقال : عَثِيَ يَعْثَى عِثِيّاً «4» ، وعلی هذا : وَلا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ [ البقرة/ 60] ، وعَثَا يَعْثُو عُثُوّاً ، والأَعْثَى: لونٌ إلى السّواد، وقیل للأحمق الثّقيل : أَعْثَى. ( ع ث ی ) العثي والعثی سخت فساد پیدا کرنا ) بھی جذاب اور جیذ کی طرح تقریبا ہم معنی ہی میں لیکن عیث کا لفظ زیادہ تر فساد حسی کے لئے بولا جاتا ہے اور العثی کا حکمی یعنی ذہنی اور فسکر ی فساد کے لئے آتا ہے کہا جاتا ہے ۔ عثی یعثی عثیا چناچہ اسی سے قرآن میں ہے ولا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ [ البقرة/ 60] اور ملک میں فساد اور انتشار پیدا نہ کرو ۔ اور عثا یعثوا عثوا باب نصر سے ) بھی آتا ہے اور الاعلٰی سیاہی مائل اور سست نیز احمق آدمی کو بھی اعثی کہا جاتا ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ فسد الفَسَادُ : خروج الشیء عن الاعتدال، قلیلا کان الخروج عنه أو كثيرا،. قال تعالی: لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] ، ( ف س د ) الفساد یہ فسد ( ن ) الشئی فھو فاسد کا مصدر ہے اور اس کے معنی کسی چیز کے حد اعتدال سے تجاوز کر جانا کے ہیں عام اس سے کہ وہ تجاوز کم ہو یا زیادہ قرآن میں ہے : ۔ لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] تو آسمان و زمین ۔۔۔۔۔ سب درہم برہم ہوجائیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٦) اور ہم نے مدین والوں کے پاس شعیب (علیہ السلام) کو نبی بناکر بھیجا سو انھوں نے فرمایا توحید خداوندی کا اقرار کرو اور قیامت کے دن سے ڈرو اور سر زمین میں فساد اور بدکاریاں مت کرو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

57 The reason for this anxiety and distress was that the angels had come in the shape of handsome, young boys. The Prophet Lot was aware of his people's morals. Therefore, he became perturbed at their arrival. He was thinking, "If I receive these guests in my house, it will be difficult to save them from the immoral people; if I do not receive them, it will be highly uncivil and unbecoming of the noble people. Moreover, if I do not provide shelter to these travelers, they will stay the night elsewhere, which would mean that I have myself given them away to the wicked people." What happened after this has not been related here. But according to the details given in Surahs Hud, AI-Hijr and AI-Qamar, the people of the city thronged to the Prophet Lot's house and insisted that the guests be handed over to them for immorality. 58 That is, "As for us, you should neither fear that they will in any way he able to harm us, nor be anxious about how you will protect us from them." This was the time when the angels revealed their identity to the Prophet Lot, and said that they were not men but angels, who had been sent to bring the scourge on his people. According to the elucidation in Surah Hud, when the people were rushing into Lot's house and he felt that he could in no way save his guests from them, he cried out: "I wish I had the power to set you right, or I could fmd some strong support for refuge."' (v. 80) At this time the angels said: "O Lot, we are messengers sent by your Lord; they will not be able to harm you at all." (v. 81). 59 "A clear Sign": the Dead Sea, which is also called Sea of Lot. The Qur'an at several places has addressed the disbelievers of Makkah, saying, "A Sign of the torment that visited this wicked people on account of their misdeeds still exists on the highway, which you see night and day during your trade journeys to Syria." (AI-Hijr: 76; As-Saftat: 137). Today it is being admitted with near certainty that the southern end of the Dead Sea came into being as a result of a violent earthquake when the area in which Sodom, the central city of the people of Lot, was located sank underground. In this part there are still signs of some submerged habitations. Exploratory attempts are being made with the modern diving apparatus but the results are still awaited. (For further explanation, see E. N. 114 of Ash-Shu`araa A'raf. 60 For the Islamic punishment of sodomy, see E.N. 68 of Surah Al 191.

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 61 تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف ، رکوع 11 ۔ ہود 8 ۔ الشعراء 10 ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 62 اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ آخرت کے آنے کی توقع رکھو ، یہ نہ سمجھو کہ جو کچھ ہے بس یہی دنیوی زندگی ہے اور کوئی دوسری زندگی نہیں ہے جس میں تمہیں اپنے اعمال کا حساب دینا اور جزا و سزا پانا ہو ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ کام کرو جس سے تم آخرت میں انجام بہتر ہونے کی امید کرسکو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(29:36) والی مدین اخاہم شعیبا : ای وارسلنا الی مدین اخاہم شعیبا۔ اور (ہم نے بھیجا) اہل مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو ۔ ارجوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ رجاء مصدر (باب نصر) تم امید رکھو۔ لاتعثوا۔ فعل نہی جا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم فساد مت کرو۔ عثی اور عثی مصدر (باب سمع) سے جس کے معنی فساد کرنے کے ہیں باب نصر سے عیث وعثو مصدر ہیں جو اس فساد کے لئے آتے ہیں جس کا ادراک حسی ہو یعنی دنگہ فساد۔ مارکٹائی۔ عثی مادہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر (36 تا 40) ۔ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ۔ الرجفتہ (زلزلہ۔ بھونچال) ۔ جثمین (اوندھے پڑے ہوئے) ۔ مستبصرین (سمجھ رکھنے والے) ۔ سبقین (آگے نکلنے والے) ۔ حاصبا (پتھروں کی بارش) ۔ الصیحتہ (چنگھاڑ۔ تیز آواز) ۔ تشریح : آیت نمبر (36 تا 40) ۔ ” حضرت شعیب (علیہ السلام) ، ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی زندگی اور دین اسلام کی سر بلندی کے لئے ان کو کوششوں اور جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرمائی اور وہ نافرمان جن کو اپنی حکومت و سلطنت، مال و دولت اور بلند وبالا عمارتوں پر بڑا ناز تھا جب ان کی نافرمانیاں حد سے گذر گئیں تو دنیا کی یہ تمام طاقتیں اور قوتیں ان کو عذاب الہی سے نہ نچا سکیں۔ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو قوم مدین کی اصلاح کے لئے مبعوث فرمایا گیا تھا جو تجارتی بددیانتیوں، مظلوموں پر ظلم و ستم اور خیرو شر کے ہر فرق کو بھول کر اپنی بد اعمالیوں، نافرمانیوں اور بد مستیوں میں مگن تھے۔ جب حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ وہ ایک اللہ کی عبادت و بندگی کو چھوڑ کر لکڑی، مٹی اور پتھرکے بتوں کے سامنے اپنی محترم پیشانی کو نہ جھکائیں کیونکہ انسان ان سے کتنی ہی امیدیں وابستہ کرلے یہ دنیا اور آخرت میں ان کے کام نہ آئیں گے بلکہ آخرت میں ان کے یہ بت اور من گھڑت معبود ان سے نفرت کا اظہار کریں گے اور کہہ دیں گے کہ ہم نے ان کو اپنی عبادت و بندگی پر مجبور نہیں کیا تھا بلکہ یہ خود ہی ہمیں اپنا معبود بنائے ہوئے تھے۔ اس وقت اللہ کا عذاب ان کے سامنے ہوگا اور ہر باطل سہارا ٹوٹ چکا ہوگا اس وقت ان کی حسرتوں کا کیا حال ہوگا ؟ لہذا وہ آخرت کی فکر کریں جہاں کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ اللہ کی زمین کو اپنی بداعمالیوں کے فساد سے تباہ نہ کریں کیونکہ اللہ کو فساد کرنے والے سخت ناپسند ہیں۔ اس قوم کا سب سے بڑافساد یہ تھا کہ وہ معاملات کے لین دین میں شدید بد دیانتی کیا کرتے تھے۔ کم تولنا، کم ماپنا، بےایمانی، دھوکے بازی، چوری، ڈاکہ اور دوسروں پر ظلم و زیادتی ان کا مزاج بن چکا تھا۔ وہ نادان اور جاہل نہیں تھے بلکہ نہایت سمجھ دار عقل مند لوگ تھے مال و دولت کمانے اور بلند وبالا اور خوبصورت بلڈنگیں بنانے کے فن سے خوب واقف تھے مگر ان کی بد قسمتی یہ تھی کہ جن لوگوں نے مال و دولت کمانے اور معیارزندگی کے بلند کرنے کے راز معلوم کر لئے تھے، دنیا اور آخرت کی زندگی کو بہتر بنانے کے بھید کو معلوم نہ کرسکے۔ لیکن حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم کے لوگوں کو ہر طرح کی نافرمانیوں سے بچنے کی تلقین کرتے رہے اور اپنے عظیم خطبات سے لوگوں کے دلوں کو گرماتے رہے مگر حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے کہا کہ اے شعیب ہمیں تو تمہاری عظیم صلاحیتوں سے بڑی امیدیں تھیں مگر تم نے ہمارے ہی معبودوں اور رسم و رواج کر برا کہنا شروع کردیا۔ ہم تمہاری کسی بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ جب اس قوم کی نافرمانیاں اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی لائی ہوئی تعلیمات کو جھٹلانے کی انتہاء ہوگئی تب اللہ نے ان پر اپنا عذاب نازل کیا وہ لوگ رات کو سوئے تو زبردست طوفان سے ان کے دلوں کی دھڑکنیں بند ہوگئیں اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے وہ گئے ۔ ان کے خوبصورت اور بلندو بلا مکانات اور ان کے مال و دولت ان کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے۔ اللہ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی بات مان کر ایمان کا راستہ اختیار کرنے والوں کو نجات عطا فرما دی ۔ قوم عاد اور قوم ثمود کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ دونوں قومیں جود نیاوی ترقیات میں بہت آگے تھیں ان کو بھی ان کی طافرمانیوں نے تباہی کے کنارے پہنچا کر چھوڑا۔ احقاف، یمن اور حضر موت تک یہ قوم عاد کی آبادی تھی اور رابغ سے عقبہ تک، اور مدینہ منورہ، خیبر، تیما اور تبوک تک کا علاقہ ایک آباد اور ترقی یافتہ علاقہ تھا جس کے کھنڈرات اور ٹوٹی پھوٹی بستیوں کے آثار اور نشانات مکہ والواں کے سامنے تھے جو ان راستوں سے گذرتے ہوئے ان بستیوں کو دیکھتے تھے جو آج عبرت و نصیحت کا نمونہ ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ وہ تھے جن کے برے اعمال کو شیطان نے ان کی نظروں میں بہت زیادہ قیمتی اور خوبصورت بنا کر پیش کیا ہوا تھا۔ یہ نہایت عقل مند اور سمجھ دار قومیں تھیں مگر دین کے بارے میں نہایت جاہلانہ طرز اختیار کئے ہوئے تھے۔ ان کے مال و دولت نے ان کو سچائی سے روکا ہوا تھا۔ جب حضرت ہود (علیہ السلام) نے قوم عاد کو اور حضرت صالح نے قوم ثمود کو ان کے برے اعمال کے برے نتائج سے ڈرایا اور آگاہ کیا تو ان کو قوموں نے ان کا مذاق اڑایا۔ ان کی لائی ہوئی تعلیمات کا انکار کیا اور وہ مسلسل اپنی نافرمانیوں پر ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ جمے رہے تب ان ترقی یافتہ قوموں پر اللہ کا شدید ترین عذاب آگیا۔ قوم عاد پر مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک شدید ترین طوفانی ہواؤں نے ان کی پوری تہذیب اور ترقی کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ قوم ثمود جو اس زمانہ میں بیس بیس منزلہ بلڈنگیں تعمیر کیا کرتے تھے اور دولت کی ریل پیل تھی ان کو بھی زبردست چنگھاڑ نے تباہ و برباد کر کے رکھ دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے وزیر ہامان کا ذکر فرمایا۔ وہ فرعون جس نے اللہ کا بھلا کر اپنے ” الہ “ ہونے کا اعلان کردیا تھا اور اس کو اپنی مضبوط سلطنت اور فوج پر بڑا ناز تھا۔ اللہ نے اس کو سمندر میں غرق کردیا۔ قارون جس کے خزانواں کا یہ حال تھا کہ اس کے خزانوں کی چابیاں ہی اتنی زیادہ تھیں کہ ان کو ایک مضبوط اور طاقت ور جماعت بھی نہ اٹھا سکتی تھی۔ جب اس نے غرور وتکبر کی انتہا کو دی تو اللہ نے اس کو، اس کے ساتھیوں کو اور اس کے زبردست خزانوں کو زمین میں دھنسا دیا اور کسی نے اس کی مدد نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کا جب فیصلہ آجاتا ہے تو پھر اس کی طاقت و قوت کے سامنے کسی کی طاقت و قوت کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ اس نے کسی قوم کو تیز آندھی سے، کسی کو ہیبت ناک آواز سے تہس نہس کردیا کسی کو زمین میں دھنسا دیا اور کسی کو پانی کے طوفان میں غرق کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگوں کے برے اعمال ہیں جو ان کو تباہی کے کنارے پہنچادیتے ہیں۔ ہم کسی فراد اور قوم پر ظلم و زیادتی نہیں کرتے۔ کیونکہ اللہ نے اسی کائنات میں قوانین مقررکئے ہوئے ہیں جو بھی ان کو مانتا ہے اور ان کے مطابق چلتا ہے وہ کامیاب ہوتا ہے لیکن جو بھی اس کے بنائے ہوئے قوانین سے ٹکراتا ہے اس کو اللہ کی طرف سے مقرر کی ہوئی سزا مل کر رہتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کا نافرمان اور مجرم خود ہی اپنی جان پر ظلم کرتا ہے کیونکہ وہ قوانین الہی کو توڑتا ہے اور جان بوجھ کر قانون شکنی کرتا ہے تو اس کو سزا دی جاتی ہے اللہ کسی پر ظلم و زیادتی نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے بندوں کو سنبھلنے، سوچنے اور صحیح راستے پر چلنے کا زیادہ سے زیادہ وقت دیتا ہے۔ جب کوئی اپنی انتہاؤں سے گذر جاتا ہے تو پھر اللہ اس کے لئے اپنے قوانین کے مطابق فیصلہ فرماتا ہے جس کے لئے کائنات کی ساری قوتیں مل کر بھی کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتیں۔ ان آیات میں اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے اور مکہ کے کفار کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ان کے پاس کافی مہلت موجود ہے اگر وہ فائدہ اٹھا کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے تو ان کا انجام بہتر ہوگا ورنہ ان کا انجام بھی گذشتہ قوموں سے مختلف نہیں ہوگا ۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی حقوق اللہ و حقوق العباد کو ضائع مت کرو، جیسا کفر و شرک کے ساتھ کم ناپنے تولنے کے بھی خوگر تھے، اور اقامت عدل کے ترک کا فساد ہونا ظاہر ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قوم لوط کی تباہی کے بعد قوم مدین کی تباہی کا تذکرہ۔ ١۔ اہل مدین بھی اپنے پیش رو اقوام کی طرح شرک جیسے غلیظ اور بد ترین عقیدہ میں مبتلا تھی۔ شرک وہ بیماری ہے جسے امّ الامراض کہنا چاہیے۔ قوم مدین کے اندر وہ تمام اخلاقی اور اعتقادی بیمار یوں نے جنم لیا۔ جن میں قوم نوح سے لے کر قوم لوط کے لوگ ملوث چلے آرہے تھے۔ اس امّ الامراض کی جڑ کاٹنے کے لیے حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی دعوت کا آغاز دعوت توحید سے کرتے ہیں۔ (الاعراف، آیت : ٨٥) ٢۔ قوم مدین نہ صرف عقیدہ کی خیانت میں مرتکب ہوئی بلکہ گاہک سے پوری قیمت وصول کرنے کے باوجود ماپ تول میں کمی بیشی کرتے تھے۔ ادائیگی کے وقت چیز مقررہ وزن اور پیمائش سے کم دیتے۔ دوسروں سے لیتے تو طے شدہ وزن سے زیادہ لینے کی مجرمانہ کوشش کرتے۔ (الاعراف، آیت : ٨٥) ٣۔ یہ لوگ پیشہ ور ڈاکو تھے ان کے علاقے سے گزرنے والے مسافروں کی عزت و آبرو اور مال و جان محفوظ نہیں تھے۔ (الاعراف : ٨٦، ھود : ٨٥) ٤۔ یہ لوگ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی زبردست مخالفت اور نافرمانی کرنے والے تھے۔ (ھود : ٨٩) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی نصیحتیں : ١۔ اے میری قوم ایک اللہ کی عبادت کرو، ماپ تول میں کمی ڈاکہ زنی اور فساد فی الارض سے توبہ کرو۔ اگر میری بات مان جاؤ تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ہر لحاظ سے تھوڑے اور کم تر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کثرت سے نوازا۔ (الاعراف : ٨٦، ٨٥) ” اے میری قوم اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ اور میری بات مانو۔ میں پوری ایمانداری کے ساتھ تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں اور اس پر میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ میرا اجر میرے رب کے ذمہ ہے۔ “ (الشعراء : ١٧٦ تا ١٨٠) قوم کا حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جواب : اے شعیب کیا تیری نمازیں تجھے یہی کہتی ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقۂ عبادت کو چھوڑ دیں اور اپنے کاروبار کو اپنے طریقہ کے مطابق نہ کریں ؟ ھود : ٨٧۔ تم پر اے شعیب ( علیہ السلام) کسی نے جادو کردیا ہے۔ (الشعراء : ١٨٥) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی مزید نصیحت : ” اے میری قوم میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے وافر رزق عطا فرمایا ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ میں وہی کچھ کروں جس سے تمہیں منع کرتا ہوں۔ میں اللہ کی توفیق سے صرف اصلاح کی غرض سے یہ بات کہتا ہوں۔ میرا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے اور میں ہر حال میں اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ “ (ھود : ٨٨) قوم کا جواب : ” اے شعیب ! تیری اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم تمہیں اپنے آپ میں کمزور دیکھتے ہیں، اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم تجھے پتھر مار مار کر رجم کردیتے تو ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکتا۔ “ (ھود، آیت : ٩١) حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ارشاد : ” میری قوم کیا تم اللہ تعالیٰ سے میری برادری کو بڑا سمجھتے ہو اور تم برے اعمال سے باز نہیں آتے۔ لہٰذا تم اپنا کام کرو اور مجھے اپنا کام کرنے دو اور عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا کون ہے اور کس پر ذلیل کردینے والا عذاب نازل ہوتا ہے۔ “ (ھود : ٩٠ تا ٩٥) قوم حضرت شعیب (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کرتی ہے : ” اے شعیب تو ہمارے جیسا انسان ہے اور ہم تجھے کذّاب سمجھتے ہیں بس تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرادے اگر تو سچا ہے۔ “ (الشعراء : ١٨٥ تا ١٨٧) قوم شعیب پر اللہ تعالیٰ کا عذاب : قوم نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو ان پر بلاشبہ عذاب عظیم نازل ہوا۔ ( الشعراء : ١٨٩) ظالموں کو ایک کڑک نے آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے ہوئے تھے۔ ان کے گھر ایسے ویران ہوئے جیسے ان میں کوئی بسا ہی نہ ہو۔ یاد رکھو اہل مدین پر ایسی ہی پھٹکار ہوئی جس طرح قوم ثمود پر پھٹکاری کی گئی۔ مفسرین نے لکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سات راتیں، آٹھ دن گرمی اور حبس کا ایسا عذاب مسلط کیا کہ نہ وہ تہہ خانوں میں آرام کرسکتے تھے اور نہ ہی کسی درخت کے سائے تلے سکون پاسکتے تھے۔ وہ انتہائی کرب کے عالم میں اپنے گھروں سے باہر نکلے تو ایک بادل ان پر سایہ فگن ہوا۔ جب سب کے سب لوگ بادل تلے جمع ہوگئے تو بادل سے آگ کے شعلے برسنے لگے۔ زمین زلزلہ سے لرزنے لگی اور پھر ایسی دھماکا خیز چنگھاڑ گونجی کہ ان کے کلیجے پھٹ گئے اور اوندھے منہ تڑپ تڑپ کر ذلیل ہو کر مرے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا لاشوں کو خطاب : (فَتَوَلّٰی عَنْھُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَکُمْ فَکَیْفَ اٰسٰی عَلٰی قَوْمٍ کٰفِرِیْنَ ) [ الاعراف : ٩٣] حضرت شعیب (علیہ السلام) ان سے مخاطب ہوتے ہیں۔ اے میری قوم میں نے نہایت خیر خواہی کے ساتھ اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ لہٰذا اللہ کے نافرمانوں پر مجھے کوئی افسوس نہیں ہے۔ مسائل ١۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ” اللہ “ کی عبادت اور آخرت کی جوابدہی کی تلقین فرمائی۔ تفسیر بالقرآن قوم مدین کی تباہی کے اسباب : ١۔ قوم مدین شرک جیسے سنگین جرم میں ملوث تھی۔ (ھود : ٨٤) ٢۔ ناپ تول میں کمی و بیشی کرنے والے لوگ تھے۔ (ھود : ٨٥) ٣۔ ڈاکو اور راہ زن تھے۔ (الاعراف : ٨٥) ٤۔ ایمان والوں کو کفر پر مجبور کرتے تھے۔ (الاعراف : ٨٩) ٥۔ حضرت شعیب پر جھوٹا ہونے کا الزام لگایا۔ ( الشعراء : ١٨٦) ٦۔ حضرت شعیب کو سحر زدہ قرار دیا۔ ( الشعراء : ١٨٥) ٧۔ حضرت شعیب کی پیروی کو نقصان کا باعث قرار دیا۔ (الاعراف : ٩٠) ٨۔ حضرت شعیب کی نماز کو ان کے لیے طعنہ بنایا۔ ( ھود : ٨٧) ٩۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم مخالفت برائے مخالفت کرتی تھی۔ ( ھود : ٨٩) ١٠۔ شعیب (علیہ السلام) کو سنگسار کرنے کی دھمکیاں دیں۔ (ھود : ٩١) ١١۔ اے شعیب تو ہمارے جیسا انسان ہے اور ہم تجھے کذّاب سمجھتے ہیں بس اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرادے۔ (الشعراء : ١٨٥ تا ١٨٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

والی مدین اخاھم شعیبا ۔۔۔۔۔۔ دارھم جثمین (36 – 37) ” اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، اللہ کی بندگی کرو اور روز آخر کے امیدوار رہو اور زمین میں مفسدبن کر زیادتیاں نہ کرتے پھرو “۔ مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا۔ آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے “۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ دعوت اسلامی تمام ادوار میں ایک رہی ہے اور دعوت اسلامی کا بنیادی عقیدہ بھی ایک رہا ہے۔ اعبدوا اللہ وارجوا الیوم الاخر (29: 36) ” اللہ کی بندگی کرو اور روز آخرت کے امیدوار رہو “۔ اللہ واحد کی بندگی کرنا اسلامی نظریہ حیات کی نبی اد ہے اور آخرت کی امیدواری کے ذریعہ یہ ممکن ہو سکتا تھا کہ وہ اس دنیا میں جو حلال و حرام سمیٹے چلے جا رہے تھے اور ناپ اور تول کے پیمانوں میں خیانت کر رہے تھے ، اس سے باز آجائیں۔ نیز وہ لوگوں کے حقوق مارتے تھے اور راہ زنی کرتے تھے۔ شاید خوف آخرت کی وجہ سے وہ ان جرائم سے باز آجائیں۔ اس کے علاوہ بھی وہ لوگوں پر کئی قسم کی دست درازیاں کرتے تھے اور زمین میں فساد پر با کرتے تھے خوف آخرت سے ان کی اصلاح ہو سکتی تھی۔ غرض آخر کار انہوں نے اپنے رسول کی تکذیب کی اور ان پر خدا کا عذاب ہوا اور اللہ نے مکذبین کے بارے میں اپنی سنت جاریہ کے مطابق ان کو ہلاک کردیا اور صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ فاخذتھم الرجفۃ فاصبحوا فی دارھم جثمین (29: 37) ” آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے “۔ اس سے قبل اس سخت زلزلے کی تفصیلات دے دی گئی ہیں ، جس نے ان کی زمین کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور یہ زلزلہ ایک سخت چیخ کے بعد آیا تھا۔ جس نے ان کو بےہوش کردیا تھا اور لوگ اسی جگہ پڑے کے پڑے رہ گئے جہاں تھے۔ اور یہ سزا ان کے ان جرائم کی وجہ سے دی گئی جن میں وہ چیخ چلا کر لوگوں پر ڈاکے ڈالتے اور ان کو لوٹتے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل مدین اور فرعون، ہامان، قارون کی ہلاکت کا تذکرہ ان آیات میں اجمالی طور پر بعض گذشتہ اقوام کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ہے، پہلی اور دوسری آیت میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے جو علاقہ مدین میں رہتے تھے، ان لوگوں کو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت دی، اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا اور فرمایا کہ آخرت کا دن بھی واقع ہوگا وہاں کفر کی اور اعمال بد کی سزا ملے گی، تم یہ نہ سمجھو کہ دنیا ہی سب کچھ ہے بلکہ موت کے بعد حساب کتاب ہے، پیشی ہے، اس کے واقع ہونے کا یقین رکھو اور اس کے مطابق عمل کرو اور زندگی گزارو، جو برے افعال کرتے ہو ان کو چھوڑو یہ لوگ ناپ تول میں کمی کرتے تھے جیسا کہ سورة ہود اور سورة الشعراء میں مذکور ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انہیں تنبیہ فرمائی کہ زمین میں فساد مت پھیلاؤ ان لوگوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بات نہ مانی لہٰذا اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور ایسا زلزلہ آیا کہ ان سب کو جھنجھوڑ کر اور تباہ کرکے رکھ دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل اوندھے منہ گرے ہوئے رہ گئے جیسا کہ سورة ہود میں ذکر فرمایا ہے، ان پر چیخ کا عذاب بھی آیا اور زلزلے نے بھی دبایا اور یہ دونوں چیزیں ہلاکت کا ذریعہ بن گئیں۔ تیسری آیت میں قوم عاد اور ثمود کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ ان کی ہلاکت کے نشانات تمہاری نظروں کے سامنے ہیں، جب تم سفر میں جاتے ہو تو ان کے برباد شدہ گھروں کے پاس سے گزرتے ہو، یہ عبرت کی جگہ ہے غور کرو اور کفر سے توبہ کرو۔ (وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطَانُ اَعْمَالَہُمْ ) (اور شیطان نے ان کے اعمال بد اور کفر و معاصی کو ان کے سامنے مزین کرکے پیش کیا) یعنی انہیں سمجھایا کہ تم اچھی زندگی گزار رہے ہو۔ (فَصَدَّھُمْ عَنِ السَّبِیْلِ ) (سو انہیں راہ حق سے ہٹادیا) (کَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَ ) (حالانکہ وہ لوگ صاحب بصیرت تھے، سمجھدار تھے) لیکن شیطان کے کہنے میں آگئے عقل سے کام نہ لیا، دنیاوی لذتوں کو سامنے رکھا اور اللہ تعالیٰ نے جو سمجھ دی تھی اسے استعمال نہ کیا اور شیطان کی تزیین اور تحسین کی وجہ سے مدہوش ہوگئے۔ چوتھی آیت میں قارون فرعون اور ہامان کی بربادی کا تذکرہ فرمایا سورة عنکبوت سے پہلے سورة قصص میں ان لوگوں کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی طرف مبعوث فرمایا، وہ ان کے پاس کھلے ہوئے معجزات لے کر آئے لیکن ان لوگوں نے آپ کی بات نہ مانی اور کفر پر جمے رہے، انکار پر مصر رہے، اور انکار کا سبب ان کا استکبار تھا یعنی یہ کہ وہ اپنے کو زمین میں بڑا سمجھتے تھے اور ایمان قبول کرنے میں اپنی خفت محسوس کرتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تو یہ ہم سے اونچے ہوجائیں گے۔ سورۃ المؤمنین میں ہے کہ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں نے کہا کہ (اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُہُمَا لَنَا عَابِدُوْنَ ) (کیا ہم ایسے دو شخصوں کی (موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) پر ایمان لائیں جو ہمارے ہی جیسے ہیں اور حال یہ ہے کہ ان کی قوم ہماری فرمانبردار ہے) سورة الزخرف میں ہے کہ فرعون نے کہا (اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ ھٰذَا الَّذِیْ ھُوَ مَہِیْنٌ وَّلاَ یَکَادُ یُبِیْنُ ) (بلکہ میں افضل ہوں اس شخص سے جو کہ کم قدر ہے اور قوت بیانیہ بھی نہیں رکھتا) بہرحال ان لوگوں کو ان کا کفر اور کبر لے ڈوبا، فرعون اپنے لشکروں کے ساتھ ڈوب گیا۔ (فَغَشِیَھُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَھُمْ ۔ وَمَا کَانُوْا سَابِقِیْنَ ) (اور یہ لوگ ہم سے آگے بڑھنے والے نہ تھے) یعنی ایسا نہیں ہوسکتا تھا کہ ہمارے عذاب سے بچ کر نکل جاتے اور کہیں فرار ہو کر امن کی جگہ پہنچ جاتے۔ پانچویں آیت میں مذکورہ بالا اقوام کی ہلاکت کی طرف اجمالی اشارہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا ( فَکُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْبِہٖ ) (سو ہم نے ان میں سے ہر ایک کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا) (فَمِنْھُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِ حَاصِبًا) (سو بعض پر ہم نے تیز ہوا بھیج دی) جو کہ آندھی کی صورت میں آئی اور اس نے انہیں ہلاک کردیا۔ یہ قوم عاد کے ساتھ ہوا، یہ ہوا ان پر سات رات اور آٹھ دن مسلط رہی جیسا کہ سورة الحاقہ میں بیان فرمایا ہے : (وَ مِنْھُمْ مَّنْ اَخَذَتْہُ الصَّیْحَۃُ ) (اور بعض کو چیخ نے پکڑ لیا) اس سے قوم ثمود مراد ہے (کما فی سورة ھود (علیہ السلام ) ۔ پھر فرمایا : (وَ مِنْھُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِہِ الْاَرْضَ ) (اور ہم نے بعض کو زمین میں دھنسا دیا) اس میں قارون کی ہلاکت کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر سورة قصص کے ختم کے قریب گزر چکا ہے۔ (وَ مِنْھُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا) (اور بعض کو ہم نے غرق کردیا) اس میں فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کا ذکر ہے۔ (وَ مَا کَان اللّٰہُ لِیَظْلِمَھُمْ ) (اور اللہ ایسا نہیں کہ ان پر ظلم فرماتا) یعنی اس نے کسی کو بغیر گناہ کے عذاب نہیں دیا۔ (وَ لٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یَظْلَمُوْنَ ) (اور لیکن وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے) یعنی وہ حق قبول نہیں کرتے تھے کفر پر جمے رہتے تھے، گناہوں پر مصر رہتے تھے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

29:۔ یہ چوتھا قصہ ہے اور دوسرے دعوے سے متعلق ہے یعنی مشرکین کا یہ خیال غلط ہے کہ وہ ہماری گرفت سے بچ کر نکل جائیں گے۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم جو بڑی طاقتور اور سرکش تھی۔ شرک کے علاوہ ظلم و بےانصافی، بد دیانتی اور لوگوں کی حق تلفی ان کا شیوہ تھا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انہیں ان کاموں سے منع کیا اور فرمایا صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ شرک نہ کرو، یوم قیامت کے حساب سے ڈرو اور ظلم و بےانصافی سے زمین پر شر و فساد مت بپا کرو۔ وارجوا الیوم الاخر اخشو الیوم الاخر وخافوہ (خازن ج 5 ص 160) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

36۔ اور مدین والوں کے پاس ہم نے ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا ، پس شعیب (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کیا کرو یعنی شرک سے پرہیز کیا کرو اور آخرت کا ڈر اور خوف ملحوظ خاطر رکھو اور پچھلے دن سے ڈرتے رہو اور زمین میں فساد برپا کرتے نہ پھرو۔ مدین والوں کا ذکر کئی جگہ آچکا ہے یہ قوم مشرک تو تھی ہی اور شرک کے ساتھ اور بھی بہت سی اخلاق خرابیوں میں مبتلا تھی ، آخرت کے منکر معاملات کے کھوٹے۔ حضر ت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان میں عادت تھی دغا بازی کی لین دین کی مگر شاید راہ بھی ٹوٹتے تھے۔ 12