4 This may refer to all those people who disobey Allah's Commands but here particularly it implies those wicked chiefs of the Quraish, who were in the forefront in their antagonism to Islam and persecution of the converts to Islam, e.g. Walid .bin Mughirah, Abu Jahl, `Utbah, Shaibah,~`Uqbah bin Abi Mu`ait, Hanzalah bin Wail, etc. Here the context itself requires that after exhorting the Muslims to patience and fortitude against the trials and tests, those people also should be chided and scolded, who were persecuting the believers."
>5 It may also mean: "...that they will escape Our grasp." The words yasbiquna in the original may have two meanings: (1)`Whatever we will (i.e. the success of the mission of Our Messenger) should meet with failure, and whatever they wish (i.e. to frustrate the mission of Our Messenger) should be accomplished;" and (2) "We may want to seize them for their excesses and they should be able to escape and get out of Our reach."
سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 4
اس سے مراد اگرچہ تمام وہ لوگ ہوسکتے ہیں جو اللہ تعالی کی نافرمانیاں کرتے ہیں لیکن یہاں خاص طور روئے سخن قریش کے ان ظالم سرداروں کی طرف ہے جو اسلام کی مخالفت میں اور اسلام قبول کرنے والوں کو اذیتیں دینے میں اس وقت پیش پیش تھے ، مثلا ولید بن مغیرہ ، ابو جہل ، عتبہ ، شیبہ ، عقبہ بن ابی معیط اور حنظلہ بن وائل وغیرہ ۔ سیاق و سباق خود یہاں تقاضا کر رہا ہے کہ مسلمانوں کو آزمائشوں کے مقابلے میں صبر و ثبات کی تلقین کرنے کے بعد ایک کلمہ زجر و توبیخ ان لوگوں کو خطاب کر کے بھی فرمایا جائے جو ان حق پرستوں پر ظلم ڈھا رہے تھے ۔
سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 5
یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہماری گرفت سے بچ کر کہیں بھاگ سکیں گے اصل الفاظ ہیں يَّسْبِقُوْنَا یعنی ہم سے سبقت لے جائیں گے ، اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ، ایک یہ کہ جو کچھ ہم کرنا چاہتے ہیں ( یعنی اپنے رسول کے مشن کی کامیابی ) وہ تو نہ ہوسکے اور جو کچھ یہ چاہتے ہیں ( یعنی ہمارے رسول کو نیچا دکھانا ) وہ ہو جائے ، دوسرا یہ کہ ہم ان کی زیادتیوں پر انہیں پکڑنا چاہتے ہوں اور یہ بھاگ کر ہماری دسترس سے دور نکل جائیں ۔