Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 40

سورة العنكبوت

فَکُلًّا اَخَذۡنَا بِذَنۡۢبِہٖ ۚ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِ حَاصِبًا ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ اَخَذَتۡہُ الصَّیۡحَۃُ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ خَسَفۡنَا بِہِ الۡاَرۡضَ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ اَغۡرَقۡنَا ۚ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظۡلِمَہُمۡ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۴۰﴾

So each We seized for his sin; and among them were those upon whom We sent a storm of stones, and among them were those who were seized by the blast [from the sky], and among them were those whom We caused the earth to swallow, and among them were those whom We drowned. And Allah would not have wronged them, but it was they who were wronging themselves.

پھر تو ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کے وبال میں گرفتار کر لیا ان میں سے بعض پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا اور ان میں سے بعض کو زور دار سخت آواز نے دبوچ لیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے ڈبو دیا اللہ تعالٰی ایسا نہیں کہ ان پر ظلم کرے بلکہ یہی لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَكُلًّ أَخَذْنَا بِذَنبِهِ ... So, We punished each for his sins, their punishments fit their crimes. ... فَمِنْهُم مَّنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا .... of them were some on whom We sent a Hasib, This was the case with `Ad, and this happened because they said: "Who is stronger than us!" So, there came upon them a violent, intensely cold wind, which was very strong and carried pebbles which it threw upon them. It carried them through the air, lifting a man up to the sky and then hurling him headlong to the ground, so that his head split and he was left as a body without a head, like uprooted stems of date palms. ... وَمِنْهُم مَّنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ ... and of them were some who were overtaken by As-Sayhah, This is what happened to Thamud, against whom evidence was established because of the she-camel who came forth when the rock was split, exactly as they had asked for. Yet despite that they did not believe, rather they persisted in their evil behavior and disbelief, and threatening to expel Allah's Prophet Salih and the believers with him, or to stone them. So the Sayhah struck them, taking away their powers of speech and movement. ... وَمِنْهُم مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الاَْرْضَ ... and of them were some whom We caused the earth to swallow, This refers to Qarun who transgressed, he was evil and arrogant. He disobeyed his Lord, the Most High, and paraded through the land in a boastful manner, filled with self-admiration, thinking that he was better than others. He showed off as he walked, so Allah caused the earth to swallow him and his house, and he will continue sinking into it until the Day of Resurrection. ... وَمِنْهُم مَّنْ أَغْرَقْنَا ... and of them were some whom We drowned. This refers to Fir`awn, his minister Haman and their troops, all of whom were drowned in a single morning, not one of them escaped. ... وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ ... It was not Allah Who wronged them, in what He did to them, ... وَلَكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ but they wronged themselves. that happened to them as a punishment for what they did with their own hands.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

401یعنی ان مذکورین میں سے ہر ایک کی ان کے گناہوں کی پاداش میں ہم نے گرفت کی۔ 402یہ قوم عاد تھی، جس پر نہایت تتند و تیز ہوا کا عذاب آیا۔ یہ ہوا زمین سے کنکریاں اڑا اڑا کر ان پر برساتی، بالآخر اس کی شدت اتنی بڑھی کہ انھیں اچک کر آسمان تک لے جاتی اور انھیں سر کے بل زمین پردے مارتی، جس سے ان کا سر الگ اور دھڑ الگ ہوجاتا گویا کہ وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہیں۔ (ابن کثیر) بعض مفسرین نے حصبا کا مصداق قوم لوط (علیہ السلام) کو ٹھہرایا ہے۔ لیکن امام ابن کثیر نے اسے غیر صحیح اور حضرت ابن عباس (رض) کی طرف منسوب قول کو منقطع قرار دیا ہے۔ 403حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود ہے۔ جنہیں ان کے کہنے پر ایک چٹان سے اونٹنی نکال کر دکھائی گئی۔ لیکن ان ظالموں نے ایمان لانے کے بجائے اس اونٹنی کو ہی مار ڈالا۔ جس کے تین دن بعد ان پر سخت چنگھاڑ کا عذاب آیا، جس نے انکی آوازوں اور حرکتوں کو خاموش کردیا۔ 404یہ قارون ہے، جسے مال و دولت کے خزانے عطا کئے گئے، لیکن یہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہوگیا کہ یہ مال و دولت اس بات کی دلیل ہے کہ میں اللہ کے ہاں معزز و محترم ہوں۔ مجھے موسیٰ (علیہ السلام) کی بات ماننے کی کیا ضرورت ہے، چناچہ اسے اس کے خزانوں اور محلات سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ 405یہ فرعون ہے، جو ملک مصر کا حکمران تھا، لیکن حد سے تجاوز کر کے اس نے اپنے بارے میں الوہیت کا دعوی بھی کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے اور انکی قوم بنی اسرائیل کو، جس کو اس نے غلام بنا رکھا تھا، آزاد کرنے سے انکار کردیا، بالآخر ایک صبح اس کو اس کے پورے لشکر سمیت دریائے قلزم میں غرق کردیا گیا۔ 406 یعنی اللہ کی شان نہیں کہ وہ ظلم کرے۔ اس لئے پچھلی قومیں، جن پر عذاب آیا، محض اس لئے ہلاک ہوئیں کہ کفر و شرک اور تکذیب و معاصی کا ارتکاب کر کے انہوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦١] یعنی ہر قوم کو اس کے جرم کے مطابق سزا دے کر صفحہ ہستی سے چلتا کیا اور زمین کو ان لوگوں سے پاک کردیا۔ ان میں پتھروں کی بارش کا عذاب صرف قوم لوط پر آیا تھا۔ اور قوم عاد پر جو عذاب آیا تھا وہ تیز آندھی کی شکل میں تھا جس میں چھوٹے چھوٹے پتھر کنکر بھی ملے ہوئے تھے۔ [٦٢] قوم ثمود (حضرت صالح) اور اہل مدین (حضرت شعیب) پر یہی عذاب آیا تھا۔ [٦٣] یعنی قارون اور اس کے خدام کو پورے خزانوں سمیت، جس کا قصہ سورة میں پوری تفصیل سے گزر چکا ہے۔ [٦٤] یعنی قوم نوح کو اور فرعون اور آل فرعون کو۔ [٦٥] ان سب قوموں کی طرف ہم نے نبی بھیجے تاکہ وہ انھیں ان کی گمراہیوں سے مطلع کریں۔ لیکن ان لوگوں نے نبیوں کو جھوٹا سمجھا۔ اور انھیں گمراہیوں پر اور بھی زیادہ ڈٹ گئے۔ اللہ کی فرمانبرداری کے بجائے انبیاء کے دشمن بن گئے اور انھیں طرح طرح تکلیفیں دینا شروع کردیں۔ پھر جب ہماری طرف سے پوری طرح حجت قائم ہوگئی تو اس وقت ہم نے انھیں تباہ کیا اور اس تباہی کے ذمہ دار وہ خود تھے، ہم نہیں تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ ۔۔ : تو ہم نے ان میں ہر ایک کو اس کے گناہ کی وجہ سے پکڑ لیا۔”ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا “” حاصبا “ سخت آندھی جو سنگریزے اور پتھر اڑا کر لائے، یعنی پھر ان میں کچھ وہ تھے جن پر ہم نے پتھراؤ والی آندھی بھیجی۔ اس سے مراد قوم عاد ہے، جس پر اللہ تعالیٰ نے نہایت ٹھنڈی، سخت تیز اور کنکر و پتھر اڑانے والی آندھی بھیجی جو ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی، جس کے ساتھ تمام کافر اس طرح گرے پڑے تھے جیسے گرے ہوئے کھجور کے درختوں کے تنے ہوں۔ دیکھیے سورة حاقہ (٥ تا ٨) اور سورة قمر (١٩، ٢٠) بعض مفسرین نے ان لوگوں سے مراد قوم لوط لی ہے، کیونکہ ان کے متعلق دوسری جگہ فرمایا ہے : (اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا اِلَّآ اٰلَ لُوْطٍ ) [ القمر : ٣٤ ] ” بیشک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ایک ہوا بھیجی سوائے لوط کے گھر والوں کے۔ “ اور غرق ہونے والوں سے مراد نوح (علیہ السلام) کی قوم اور چیخ والوں سے مراد شعیب (علیہ السلام) کی قوم لی ہے، مگر ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس سے پہلے کی آیات میں نوح، لوط اور شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر آنے والے عذابوں کا ذکر گزر چکا ہے، یہاں سے عاد اور اس کے بعد کے لوگوں پر آنے والے عذابوں کا ذکر ہے، اس لیے یہاں پتھراؤ والی آندھی سے ہلاک ہونے والوں سے مراد قوم عاد ہی ہے۔ وَمِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ : اس سے مراد قوم ثمود ہے، اگرچہ شعیب (علیہ السلام) کی قوم بھی ” الصیحۃ “ (چیخ) سے ہلاک ہوئی، مگر اس کی گرفت کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ وَمِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ : اس سے مراد قارون ہے، جیسا کہ سورة قصص کی آیت (٨١) میں گزرا۔ وَمِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا : اس سے مراد فرعون، ہامان اور ان کی قوم ہے۔ ویسے الفاظ کے عموم کی وجہ سے اگر ” حاصبا “ والوں سے مراد قوم عاد اور قوم لوط دونوں اور ” الصیحة “ والوں سے مراد قوم ثمود اور قوم شعیب دونوں اور غرق ہونے والوں سے مراد آل فرعون اور قوم نوح دونوں لیے جائیں تو کوئی مانع نہیں۔ وَمَا كَان اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ ۔۔ :” کان “ استمرار کے لیے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کبھی بھی ایسا نہیں کہ ان پر ظلم کرے، لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے اور ایسے افعال کا ارتکاب کرتے تھے جن کا نتیجہ ان پر عذاب اور ان کی ہلاکت اور بربادی تھا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِہٖ۝ ٠ۚ فَمِنْہُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْہِ حَاصِبًا۝ ٠ ۚ وَمِنْہُمْ مَّنْ اَخَذَتْہُ الصَّيْحَۃُ۝ ٠ ۚ وَمِنْہُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِہِ الْاَرْضَ۝ ٠ ۚ وَمِنْہُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا۝ ٠ ۚ وَمَا كَانَ اللہُ لِيَظْلِمَہُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَہُمْ يَظْلِمُوْنَ۝ ٤٠ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ ذنب والذَّنْبُ في الأصل : الأخذ بذنب الشیء، يقال : ذَنَبْتُهُ : أصبت ذنبه، ويستعمل في كلّ فعل يستوخم عقباه اعتبارا بذنب الشیء، ولهذا يسمّى الذَّنْبُ تبعة، اعتبارا لما يحصل من عاقبته، وجمع الذّنب ذُنُوب، قال تعالی: فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] ، الذنب ( ض ) کے اصل معنی کسی چیز کی دم پکڑنا کے ہیں کہا جاتا ہے ذنبتہ میں نے اس کی دم پر مارا دم کے اعتبار ست ہر اس فعل کو جس کا انجام برا ہوا سے ذنب کہہ دیتے ہیں اسی بناء پر انجام کے اعتباڑ سے گناہ کو تبعتہ بھی کہا جاتا ہے ۔ ذنب کی جمع ذنوب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ( عذاب میں ) پکڑلیا تھا۔ رسل ( ارسال) والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، ( ر س ل ) الرسل الارسال ( افعال ) کے معنی بھیجنے کے ہیں اور اس کا اطلاق انسان پر بھی ہوتا ہے اور دوسری محبوب یا مکروہ چیزوں کے لئے بھی آتا ہے ۔ حاصب بادسنگ بار۔ پتھروں کا مینہ۔ ہواؤں کا پتھر۔ سخت آندھی جس میں کنکریاں ہوں وہ پتھراؤ جس میں تند ہوا ہو۔ حصباء سے مشتق ہے بمعنی کنکریاں ( قوم لوط کی سزا) ۔ صاح الصَّيْحَةُ : رفع الصّوت . قال تعالی: إِنْ كانَتْ إِلَّا صَيْحَةً واحِدَةً [يس/ 29] ( ص ی ح ) الصیحۃ کے معنی آواز بلندکرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنْ كانَتْ إِلَّا صَيْحَةً واحِدَةً [يس/ 29] وہ تو صرف ایک چنگھاڑ تھی ( آتشین ۔ خسف الخُسُوف للقمر، والکسوف للشمس وقال بعضهم : الکسوف فيهما إذا زال بعض ضوئهما، والخسوف : إذا ذهب كلّه . ويقال خَسَفَهُ اللہ وخسف هو، قال تعالی: فَخَسَفْنا بِهِ وَبِدارِهِ الْأَرْضَ [ القصص/ 81] ، وقال : لَوْلا أَنْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا لَخَسَفَ بِنا [ القصص/ 82] ، وفي الحدیث : «إنّ الشّمس والقمر آيتان من آيات اللہ لا يُخْسَفَانِ لموت أحد ولا لحیاته» ( خ س ف ) الخسوف کا لفظ چاند کے بےنور ہونے اور کسوف کا لفظ سورج کے بےنور ہونے پر بولا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ خسوف قدر ہے بےنور ہونے کو کہاجاتا ہے اور کسوف پوری طرح بےنور ہوجانے کو کہتے ہیں ، عام اس سے کہ وہ سورج ہو یا چاند کہاجاتا ہے خسفہ اللہ اللہ نے اسے زمین میں دھنسادیا ( متعدی ) خسف ھو ( لازمی ) زمین میں دھنس جانا ۔ قرآن میں ہے :۔ فَخَسَفْنا بِهِ وَبِدارِهِ الْأَرْضَ [ القصص/ 81] پس ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا ۔ لَوْلا أَنْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا لَخَسَفَ بِنا [ القصص/ 82] اگر خدا ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا ۔ حدیث میں ہے ( ا اا) ان الشمس والقمر ایتان من ایات اللہ لایخسفان لموت احد ولا لحیاتہ کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو کسی کی موت پاپیدائش کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے ۔ غرق الغَرَقُ : الرّسوب في الماء وفي البلاء، وغَرِقَ فلان يَغْرَقُ غَرَقاً ، وأَغْرَقَهُ. قال تعالی: حَتَّى إِذا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ [يونس/ 90] ، ( غ ر ق ) الغرق پانی میں تہ نشین ہوجانا کسی مصیبت میں گرفتار ہوجانا ۔ غرق ( س) فلان یغرق غرق فلاں پانی میں ڈوب گیا ۔ قرآں میں ہے : حَتَّى إِذا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ [يونس/ 90] یہاں تک کہ جب اسے غرقابی نے آلیا ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٠) چناچہ ہم نے ہر ایک قوم کو اس کے شرک کے جرم میں پکڑ لیا سو ہم نے ان میں سے بعضوں پر تو پتھر برسا دیے اور وہ لوط (علیہ السلام) کی قوم ہے اور ان میں سے بعضوں کو سخت عذاب نے آدبایا اور وہ شعیب (علیہ السلام) و صالح (علیہ السلام) کی قومیں ہیں بعضوں کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا یعنی قارون اور بعضوں کو پانی میں ڈبو دیا یعنی فرعون وہامان اور ان پر جو عذاب نازل ہو اتو اللہ تعالیٰ ایسا نہیں تھا کہ ان کو ہلاک کرتا لیکن یہی لوگ کفر وشرک اور انبیاء کرام کی تکذیب کرکے اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(فَمِنْہُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِ حَاصِبًا ج) ” یہ آندھی قوم لوط ( علیہ السلام) پر بھی آئی تھی جو زلزلے سے تلپٹ ہوجانے والی بستیوں پر پتھراؤ کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی۔ اس سے پہلے قوم عاد پر بھی آندھی کا عذاب آیا تھا ‘ جس کا ذکر سورة الحاقہ میں اس طرح آیا ہے : (وَاَمَّا عَادٌ فَاُہْلِکُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ ۔ سَخَّرَہَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍلا حُسُوْمًا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْہَا صَرْعٰیلا کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ ) ” اور قوم عاد کے لوگ ہلاک کیے گئے تیز آندھی سے ‘ جو ان پر مسلط کردی گئی سات راتیں اور آٹھ دن تک ‘ برباد کردینے کے لیے ‘ پس تو دیکھتا ان لوگوں کو جو گری ہوئی کھجوروں کے تنوں کی طرح پچھڑے پڑے تھے “۔ روایات میں آتا ہے کہ اس ہوا میں کنکر اور پتھر بھی تھے جو گولیوں اور میزائلوں کی طرح انہیں نشانہ بناتے تھے اور وہ آندھی اتنی زور دار تھی کہ انسانوں کو پٹخ پٹخ کر زمین پر پھینکتی تھی۔ (وَمِنْہُمْ مَّنْ اَخَذَتْہُ الصَّیْحَۃُ ج) ” اس سے قوم ثمود کے لوگ اور اہل مدین مراد ہیں۔ (وَمِنْہُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِہِ الْاَرْضَ ج) ” اس ضمن میں قارون کا ذکر سورة القصص میں گزر چکا ہے۔ (وَمِنْہُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا ج) ” غرق کیے جانے کا عذاب دو قوموں پر علیحدہ علیحدہ طریقے سے آیا تھا۔ قوم نوح ( علیہ السلام) کو تو ان کے گھروں اور شہروں میں ہی غرق کردیا گیا تھا ‘ جبکہ فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کو محلوں اور آبادیوں سے نکال کر سمندر میں لے جاکر غرق کیا گیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

68 That is, `Ad who were subjected to a furious windstorm which blew on them for seven nights and eight days continuously. 69 That is, Thamud. 70 That is, Korah. 71 That is, Pharaoh and Haman. 72 The stories that have been related in the foregoing verses, have been addressed and directed both to the believers and to the disbelievers. To the believers they have been addressed so that they do not feel discouraged and distressed at heart, and keep aloft the banner of the Truth firmly and patiently even in the face of the severe persecutions and hardships, and should have full faith in Allah that His succour shall ultimately come, and He will frustrate the designs of the wicked people and make the Word of the Truth to prevail. On the other hand, these have been addressed to those wicked people also, who in their arrogance were bent upon exterminating the Islamic movement. They have been warned to the effect: "You have formed a wrong opinion about Allah's forbearance and clemency. You think; that His is a lawless Kingdom. If you have not been seized so far for your rebellion and your tyrannies and wicked deeds and have been granted a long respite so that you may reform yourselves, you have inferred that there exists no power whatever which can call you to account, and that one can go on doing whatever one likes endlessly on this earth. This misconception will ultimately lead you to the same doom that has already been met by the peoples of Noah and Lot and Shu`aib, and experienced by `Ad and Thamud, and seen by Korah and Pharaoh.

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 68 یعنی عاد ، جن پر مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک سخت ہوا کا طوفان برپا رہا ۔ ( سورہ الحاقہ آیت 7 ) سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 69 یعنی ثمود ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 70 یعنی قارون ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 71 یعنی فرعون اور ہامان ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 72 یہ تمام قصے جو یہاں تک سنائے گئے ہیں ، ان کا روئے سخن دو طرف ہے ۔ ایک طرف یہ اہل ایمان کو سنائے گئے ہیں تاکہ وہ پست ہمت اور دل شکستہ و مایوس نہ ہوں اور مشکلات و مصائب کے سخت سے سخت طوفان میں بھی صبر و استقلال کے ساتھ حق و صداقت کا علم بلند کیے رکھیں ، اور اللہ تعالی پر بھروسہ رکھیں کہ آخرکار اس کی مدد ضرور آئے گی اور وہ ظالموں کو نیچا دکھائے گا اور کلمہ حق کو سر بلند کردے گا ، دوسری طرف یہ ان ظالموں کو بھی سنائے گئے ہیں جو اپنے نزدیک تحریک اسلامی کا بالکل قلع قمع کردینے پر تلے ہوئے تھے ۔ ان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تم خدا کے حلم اور اس کی بردباری کا غلط مطلب لے رہے ہو ۔ تم نے خدا کی خدائی کو اندھیر نگری سمجھ لیا ہے ۔ تمہیں اگر بغاوت و سرکشی اور ظلم و ستم اور بد اعمالیوں پر ابھی تک نہیں پکڑا گیا ہے اور سنبھلنے کے لیے محض از راہ عنایت لمبی مہلت دی گئی ہے تو تم اپنی جگہ یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ یہاں کوئی انصاف کرنے والی طاقت سرے سے ہے ہی نہیں اور اس زمین پر جس کا جو کچھ جی چاہے بلا نہایت کیے جاسکتا ہے ۔ یہ غلط فہمی آخر کار تمہیں جس انجام سے دوچار کر کے رہے گی وہ وہی انجام ہے جو تم سے پہلے قوم نوح اور قوم لوط اور قوم شعیب دیکھ چکی ہے جس سے عاد و ثمود دوچار ہوچکے ہیں ، اور جسے قارون و فرعون نے دیکھا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

20: قومِ عاد اِسی طرح ہلاک ہوئی۔ دیکھئے سورۂ اعراف (۷:۶۴) 21: قومِ ثمود اِسی طرح تباہ ہوئی۔ دیکھئے سورۂ اعراف (۷:۷۲) 22: قارون کو زمین میں دھنسایا گیا تھا۔ دیکھئے سورۂ قصص (۲۸:۷۵) 23: حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر طوفان آیا تھا جس میں وہ غرق ہوئی، اِسی طرح فرعون اور اس کی قوم کو بھی سمندر میں غرق کیا گیا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(29:40) فلا اخذنا بذنبہ۔ پس ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کی پاداش میں پکڑ لیا۔ حاصب بادسنگ بار۔ پتھروں کا مینہ۔ ہواؤں کا پتھر۔ سخت آندھی جس میں کنکریاں ہوں وہ پتھراؤ جس میں تند ہوا ہو۔ حصباء سے مشتق ہے بمعنی کنکریاں (قوم لوط کی سزا) ۔ الصیحۃ۔ چیخ، کڑک، ہولناک آواز۔ صاح یصیح کا مصدر ہے اور بمعنی حاصل مصدر بھی استعمال ہوتا ہے۔ چونکہ زور کی آواز سے آدمی گھبرا اٹھتا ہے اس لئے بمعنی گھبراہٹ اور عذاب کے بھی استعمال ہوتا ہے۔ آیت 37 مذکورہ بالا میں اس عذاب کے واسطے لفظ الرجفۃ استعمال ہوا ہے (اہل مدین۔ عاد وثمود کی سزا) خسقنا بہ۔ ہم نے دھنسا دیا (زمین میں) (قارون کی سزا) اغرقنا۔ ماضی جمع متکلم ہم نے غرق کردیا۔ (فرعون و ہامان کی سزا) فائدہ : جس ترتیب سے آیات 33 تا 39 میں مختلف سرکش قوموں یا افراد کا ذکر آیا ہے مثلاً قوم لوط۔ آیات 33 تا 35 اہل مدین عاد وثمود آیات 36 تا 38 قارون آیت 39 فرعون و ہامان۔ اسی ترتیب سے ان پر آنے والے عذاب کا ذکر آیا ہے۔ باد سنگ بار، قوم لوط۔ سخت ہولناک کڑک کا عذاب ۔ اہل مدین عاد وثمود۔ زمین میں دھنسا دینا۔ قارون۔ غرق کردینا۔ فرعون و ہامان۔ اس کو علم البدیع کی اصطلاح میں لف و نشر مرتب کہتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

1 ۔ حضرت نوع ( علیہ السلام) کی قوم اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کو جن میں ہامان بھی شامل تھا۔ 2 ۔ شرک اور مختلف انواع کے جرائم میں مبتلا تھے۔ اپنی فطرت کو بھی مسخ کرلیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جو پیغمبر بھیجے ان کی بھی ایک نہ سنی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ مراد اس سے قوم عاد ہے۔ 7۔ مراد اس سے ثمود ہے۔ 8۔ مراد اس سے قارون ہے۔ 9۔ مراد اس سے فرعون و ہامان ہے۔ 10۔ شروع سورت سوے کفار کے مسلمانوں کو ایذا دینے کے مضمون کا سلسلہ یہاں تک چلا آیا ہے، آگے توحیدو نبوت کی تحقیق ہے، جو بناء تھی اس ایذاء رسانی کی اور اس سے اس ایذا رسانی کا ناحق ہونا بھی واضح ہوجاوے گا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : متکبرین کو مختلف قسم کے عذاب میں مبتلا کیا گیا ان میں سے کسی ایک کو بھی ” اللہ “ کی گرفت سے کوئی نہ بچا سکا۔ قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کے دوسرے جرائم کے ساتھ سب سے بڑا جرم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا تھا۔ قوم عاد کو شدید ترین آندھی کے ساتھ پٹخ پٹخ کر زمین پردے مارا۔ قوم ثمود کو کلیجہ پھاڑ دینے والی دھماکہ خیز آواز اور شدید زلزلے نے آلیا اور پھر ان پر نامزدپتھر برسائے گئے۔ قارون کو اس کی دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ قوم نوح کو طوفان بادو باراں اور ہولناک سیلاب کے ساتھ تباہ کیا گیا۔ فرعون اور اس لشکر کو بحر قلزم میں ڈبکیاں دے دے کر غرق کیا گیا۔ سب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا انھوں نے اپنے آپ پر خود ہی ظلم کیا تھا۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَمَّا قَضَی اللَّہُ الْخَلْقَ کَتَبَ عِنْدَہُ فَوْقَ عَرْشِہِ ، إِنَّ رَحْمَتِی سَبَقَتْ غَضَبِی) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ تَعَالَی (وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِینَ )] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اللہ نے مخلوقات کو پیدا کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس وقت اللہ کے عرش پر لکھا ہوا تھا بیشک میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے جا چکی ہے۔ “ (عَنْ أَبِی ذَرٍّ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فِیمَا رَوَی عَنِ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنَّہُ قَالَ یَا عِبَادِی إِنِّی حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَی نَفْسِی وَجَعَلْتُہُ بَیْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلاَ تَظَالَمُوا۔۔ ) [ رواہ البخاری : باب تحریم الظلم ] ” حضرت ابوذر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حدیث قدسی بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے میرے بندو ! میں نے اپنے آپ پر ظلم حرام قرار دیا ہے اور تم بھی، آپس میں ظلم نہ کیا کرو۔ “ (مَا یَفْعَلُ اللَّہُ بِعَذَابِکُمْ إِنْ شَکَرْتُمْ وَآَمَنْتُمْ وَکَان اللَّہُ شَاکِرًا عَلِیمًا) [ النساء : ١٤٧] اللہ تعالیٰ کو تمہیں سزا دینے سے کیا فائدہ اگر تم شکر گزار ہوجاؤ اور ایمان لاؤ۔ اللہ تعالیٰ بہت قدر کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ ٢۔ لوگ اپنے ظلم کی وجہ سے ہی پکڑے جاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن پہلی اقوام پر مختلف قسم کے عذابوں کا نزول : ١۔ کیا وہ لوگ بےفکر ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے ؟ (النحل : ٤٥) ٢۔ قوم ثمود کو چیخ نے آپکڑا۔ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (ھود : ٦٧) ٣۔ قوم عاد کو تیز و تند ہوا نے ہلاک کیا۔ (الحاقۃ : ٦) ٤۔ قوم لوط کی بستی کو الٹاکر دیا اور ان پرکھنگر والے پتھر برسائے گئے۔ (الحجر : ٧٤) ٥۔ آل فرعون کو غرق کردیا گیا۔ (البقرۃ : ٥٠) ٦۔ بنی اسرائیل کو اللہ نے ذلیل بندر بنا دیا۔ (البقرۃ : ٦٥) ٧۔ ان کے گناہ کی پاداش میں پکڑ لیا کسی پر تند ہوا بھیجی، کسی کو ہولناک آواز نے آلیا، کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کچھ کو غرق کردیا۔ (العنکبوت : ٤٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فکلا اخذنا بذنبہ ۔۔۔۔۔ انفسہم یظلمون (40) ” آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا۔ پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی ، اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آلیا ، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا ، اور کسی کو غرق کردیا۔ اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا ، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے “۔ قوم عاد پر اللہ نے ایسی تیز ہوا بھیجی جو پتھر اڑا کر پھینک رہی تھی۔ اسی طرح جو جہاں تھا ، مارا گیا۔ قوم عود پر سخت دھماکہ دار چیخ آئی اور سب ڈھیر ہوگئے۔ اور قارون معہ اپنی دولت اور کوٹھیوں کے زمین میں دھنس گیا۔ اور فرعون اور ہامان بحراحمر میں غرق ہوئے۔ یہ سب لوگ اپنے اپنے ظلم میں پکڑے گئے۔ وما کان اللہ ۔۔۔۔۔ انفسھم یظلمون (29: 41) ” اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا ، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے “۔ پوری انسانی تاریخ کے باغیوں ، سرکشوں اور ظالموں کی تباہی اور بربادی کا عبرت آموز جائزہ لینے کے بعد اور آغاز سورت میں آزمائش اور گمراہی کے فتنوں کے ذکر کے بعد اب آخر میں ، اسلام اور کفر اور ایمان اور ضلالت کی قوتوں کی کشمکش کو ایک تمثیل سے سمجھایا جاتا ہے کہ حقیقی قوت ایک ہی ہے اور وہ اللہ کی قوت ہے۔ اللہ کے سوا جس قدر قوتیں ہیں وہ نہایت ہی ناتواں اور کجی ہیں۔ ان کی مثال تار عنکبوت کی طرح ہے جو شخص تار عنکبوت کا سہارا لے گا وہ گویا ایک نہایت کچی چیز کا سہارا لیتا ہے۔ اللہ کے سوا تمام قوتوں کی یہی مثال ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

40۔ پھر ہم نے ان سب کو ان کے گناہوں کی پاداش میں اور جرائم کی سزا میں پکڑ لیا سو ان میں سے بعضوں پر تو ہم نے پتھر برسانے والی آندھی بھیجی اور بعض کو ان میں سے ایک ہولناک آواز اور ایک چنگھاڑنے آپکڑا اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور بعضوں کو ان میں سے ہم نے غرق کردیا اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہ تھی کہ وہ ان پر ظلم کرتا بلکہ یہ لوگ خود ہی اپنے ظلم کیا کرتے تھے۔ یعنی ان نافرمانوں میں سے کسی پر کنکر پتھربرسانے والی آندھی ہم نے بھیجی اور وہ ہلاک ہوگئے ۔ جیسے عاد اور کوئی تھا جس کو چنگھاڑ کی ہولناک آواز نے پکڑا اور ان کو ہلاک کردیا جیسے ثمود اور بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا جیسے قارون اور بعضوں کو غرق کردیا جیسے فرعون و ہامان وغیرہ۔ اور ان لوگوں پر جو عذاب نازل ہوئے اس میں کچھ ہماری زیادتی نہ تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی شان ایسی نہیں کہ وہ کسی پر زیادتی کرے ۔ وہاں چونکہ اپنے ملک میں تصرف کرنا ہے اس لئے ظلم و زیادتی کا سوال ہی نہیں ۔ اگر صورتا ً بھی زیادتی کہا جائے تو وہ بھی نہیں کیونکہ یہ لوگ اپنی شرارتوں کی وجہ سے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھے جن کا نتیجہ برا ہونا تھا ، چناچہ وہی ہوا ، آگے پھر شرک کی کمزوری اور توحید کا اثبات فرماتے ہیں ۔