Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 60

سورة العنكبوت

وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ دَآبَّۃٍ لَّا تَحۡمِلُ رِزۡقَہَا ٭ۖ اَللّٰہُ یَرۡزُقُہَا وَ اِیَّاکُمۡ ۫ ۖ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۶۰﴾

And how many a creature carries not its [own] provision. Allah provides for it and for you. And He is the Hearing, the Knowing.

اور بہت سے جانور ہیں جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے ان سب کو اور تمہیں بھی اللہ تعالٰی ہی روزی دیتا ہے وہ بڑا ہی سننے جاننے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَكَأَيِّن مِن دَابَّةٍ لاَ تَحْمِلُ رِزْقَهَا ... And so many a moving creature carries not its own provision! meaning, it does not have the ability to gather its provision and save it for tomorrow. ... اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ ... Allah provides for it and for you. means, Allah allots its provision to it even though it is weak, and makes it easy for it. He sends provision to every creature in the appropriate manner, even the ants in the depths of the earth, the birds in the air and the fish in the sea. Allah says: وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الاٌّرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِى كِتَابٍ مُّبِينٍ And no moving creature is there on earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit. All is in a Clear Book. (11:6) ... وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ And He is the All-Hearer, the All-Knower. means, He hears all that His servants say and He knows their every movements.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

601کَاَیِّنْ میں کاف تشبیہ کا ہے اور معنی ہیں کتنے ہی یا بہت سے۔ 602کیونکہ اٹھا کرلے جانے کی ان میں ہمت نہیں ہوتی، اسی طرح وہ ذخیرہ بھی نہیں کرسکتے، مطلب یہ ہے کہ رزق کسی خاص جگہ کے ساتھ مختص نہیں ہے بلکہ اللہ کا رزق اپنی مخلوق کے لئے عام ہے وہ جو بھی ہو جہاں بھی ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کو جانے والے صحابہ کرام کو پہلے سے کہیں زیادہ وسیع اور پاکیزہ رزق عطا فرمایا، نیز تھوڑے ہی عرصے بعد انھیں عرب کے متعدد علاقوں کا حکمران بنادیا۔ 603یعنی کوئی کمزور ہے یا طاقتور، اسباب وسائل سے بہرہ ور ہے یا بےبہرہ اپنے وطن میں ہے یا مہاجر اور بےوطن، سب کا روزی رساں وہی اللہ ہے جو چیونٹی کو زمین کے کونوں کھدروں میں پرندوں کو ہواؤں میں اور مچھلیوں اور دیگر آبی جانوروں کو سمندر کی گہرائیوں میں روزی پہنچاتا ہے اس موقع پر مطلب یہ ہے کہ فقر فاقہ کا ڈر ہجرت میں رکاوٹ نہ بنے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اور تمام مخلوقات کی روزی کا ذمے دار ہے۔ 604وہ جاننے والا ہے تمہارے اعمال و افعال کو اور تمہارے ظاہر و باطن کو، اس لئے صرف اسی سے ڈرو، اس کے سوا کسی سے مت ڈرو ! اسی کی اطاعت میں سعادت و کمال ہے اور اسی کی معصیت میں بدبختی و نقصان۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٢] ہجرت کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ اپنے ذریعہ معاش کی فکر ہوتی ہے۔ مہاجر ایک تو اپنے وطن سے اپنا ذریعہ معاش چھوڑ کرجاتا ہے دوسرے اسے یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ جہاں وہ ہجرت کرکے جارہا ہے وہاں اس کے ذریعہ معاش کی کیا صورت ہوگی ؟ ایسے خطرات کو اللہ کے وعدہ پر یقین کرتے ہوئے یقین کرلینے کا نام ہی توکل ہے۔ اور بتلایا یہ جارہا ہے کہ بیشمار جاندار ایسے ہیں۔ ہر روز نئی روزی ملتی ہے اور جو اللہ جانوروں تک کو روزی پہنچاتا ہے وہ اپنے فرمانبرداروں کو کیوں نہ پہنچائے گا۔ چناچہ حضرت عمر (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اگر تم اللہ پر ایسا توکل کرتے جیسا کرنے کا حق ہے تو تم کو بھی اسی طرح رزق دیا جاتا ہے جس طرح پرندوں کو دیا جاتا ہے۔ وہ صبح بھوکے جاتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں && (ترمذی۔ ابو اب الزہد۔ باب ماجاء فی قلہن الطعام)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَكَاَيِّنْ مِّنْ دَاۗبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا ۔۔ : ہجرت کرتے ہوئے جان کی فکر کے بعد ذہن میں آنے والی سب سے پہلی بات یہ ہوتی ہے کہ وطن سے نکلے تو کھائیں گے کہاں سے ؟ اللہ تعالیٰ نے روزی کی طرف سے تسلی دلائی کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ خاص نہیں، اللہ تعالیٰ کا رزق ساری مخلوق کے لیے عام ہے، جو بھی ہو اور جہاں بھی ہو۔ بلکہ جن لوگوں نے ہجرت کی ان کا رزق کثرت، وسعت اور عمدگی میں پہلے سے کہیں زیادہ ہوگیا، چناچہ وہ تھوڑی مدت ہی میں تمام علاقوں میں شہروں کے حاکم بن گئے۔ اس لیے فرمایا، کتنے ہی جانور ہیں جو اپنی روزی ساتھ لیے نہیں پھرتے، ان کے گھروں میں کل کی خوراک نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ ان کے ہر نئے دن کے لیے نئی روزی کا بندوبست کرتا ہے اور ہر مخلوق کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، اسے بہم پہنچاتا ہے، حتیٰ کہ زمین کی تہ میں چیونٹیوں کو، ہوا میں پرندوں کو اور پانی میں مچھلیوں کو ان کی ضرورت کی ہر چیز وافر عطا فرماتا ہے۔ (دیکھیے سورة ہود : ٦) ” وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ “ وہ اپنی مخلوق کی ہر بات سنتا بھی ہے جانتا بھی ہے، اس لیے وہ ہر ایک کی روزی اس تک پہنچا دیتا ہے۔ عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لَوْ أَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ حَقَّ تَوَکُّلِہِ لَرُزِقْتُمْ کَمَا تُرْزَقُ الطَّیْرُ تَغْدُوْ خِمَاصًا وَ تَرُوْحُ بِطَانًا ) [ ترمذي، الزھد، باب في التوکل علی اللہ : ٢٣٤٤۔ ابن ماجہ : ٤١٦٤، و صححہ الألباني ] ” اگر تم اللہ پر اس طرح بھروسا کرو جیسے اس پر بھروسا کرنے کا حق ہے تو تمہیں اسی طرح رزق دیا جائے جیسے پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے، وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ کے ساتھ واپس آتے ہیں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَكَأَيِّن مِّن دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِ‌زْقَهَا اللَّـهُ يَرْ‌زُقُهَا وَإِيَّاكُمْ (And how many an animal there is that does not carry its provision. Allah gives provision to it as well as to you, - 29:60), that is, ` You should ponder over the fact that there are innumerable animals on earth who do not collect and store their sustenance, nor do they worry about its collection. But Allah Ta’ ala provides them their sustenance daily by His grace&. This applies to almost all animals, except a few. For instance, ants and rats are two such animals that store their food. Ants do not come out of their holes in winter; hence store the food during the summer season. Among the birds crow is the only one that collects food in its nest, but then forgets it. Thus, all the countless animals living on earth are those who neither collect their food for the next day, nor do they have means to do so. It is stated in a hadith that all the birds set off from their nests at dawn in a state of hunger, and return in the evening satiated. They all get their sustenance daily from the bounty of Allah Ta’ ala, and the practice goes on throughout their lifetime.

وَكَاَيِّنْ مِّنْ دَاۗبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اَللّٰهُ يَرْزُقُهَا وَاِيَّاكُمْ ، یعنی اس پر غور کرو کہ زمین پر چلنے والے کتنے ہزاروں قسم کے جانور ہیں جو اپنے رزق جمع کرنے اور رکھنے کا کوئی انتظام نہیں کرتے نہ تحصیل رزق کے اسباب جمع کرنے کی کوئی فکر کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ ان کو روزانہ اپنے فضل سے رزق مہیا کرتے ہیں، علماء نے فرمایا ہے کہ عام جانور ایسے ہی ہیں ان میں صرف چیونٹی اور چوہا تو ایسے جانور ہیں جو اپنی غذا کے لئے اپنے بلوں میں جمع کرنے کی فکر کرتے ہیں۔ چیونٹی سردی کے موسم میں باہر نہیں آتی، اس لئے گرمی کے ایام میں کھانے کا سامان اپنی بل میں جمع کرتی ہے اور مشہور ہے کہ پرندہ جانوروں میں سے عقعق (کوا) بھی اپنی غذا اپنے گھونسلہ میں جمع کرتا ہے مگر وہ رکھ کر بھول جاتا ہے۔ بہرحال دنیا کے تمام جانور جن کی انواع و اصناف کا شمار بھی انسان سے مشکل ہے، وہ بیشتر وہی ہیں جو آج اپنی غذا حاصل کرنے کے بعد کل کے لئے نہ غذا مہیا کرتے ہیں نہ اس کے اسباب ان کے پاس ہوتے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ یہ پرندے جانور صبح کو اپنے گھونسلوں سے بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے واپس ہوتے ہیں نہ ان کی کوئی کھیتی باڑی ہے نہ کوئی جائیداد و زمین، نہ یہ کسی کارخانے یا دفتر کے ملازم ہیں جہاں سے اپنا رزق حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ کی کھلی زمین میں نکلتے ہیں اور سب کو پیٹ بھرائی رزق ملتا ہے اور یہ ایک دن کا معاملہ نہیں جب تک وہ زندہ ہیں یہی سلسلہ جاری ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَكَاَيِّنْ مِّنْ دَاۗبَّۃٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَہَا۝ ٠ۖۤ اَللہُ يَرْزُقُہَا وَاِيَّاكُمْ۝ ٠ۡۖ وَہُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۝ ٦٠ دب الدَّبُّ والدَّبِيبُ : مشي خفیف، ويستعمل ذلک في الحیوان، وفي الحشرات أكثر، ويستعمل في الشّراب ويستعمل في كلّ حيوان وإن اختصّت في التّعارف بالفرس : وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُها [هود/ 6] ( د ب ب ) دب الدب والدبیب ( ض ) کے معنی آہستہ آہستہ چلنے اور رینگنے کے ہیں ۔ یہ لفظ حیوانات اور زیادہ نر حشرات الارض کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور شراب اور مگر ( لغۃ ) ہر حیوان یعنی ذی حیات چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُها [هود/ 6] اور زمین پر چلنے پھرنے والا نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے ۔ حمل الحَمْل معنی واحد اعتبر في أشياء کثيرة، فسوّي بين لفظه في فعل، وفرّق بين كثير منها في مصادرها، فقیل في الأثقال المحمولة في الظاهر کا لشیء المحمول علی الظّهر : حِمْل . وفي الأثقال المحمولة في الباطن : حَمْل، کالولد في البطن، والماء في السحاب، والثّمرة في الشجرة تشبيها بحمل المرأة، قال تعالی: وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] ، ( ح م ل ) الحمل ( ض ) کے معنی بوجھ اٹھانے یا لادنے کے ہیں اس کا استعمال بہت سی چیزوں کے متعلق ہوتا ہے اس لئے گو صیغہ فعل یکساں رہتا ہے مگر بہت سے استعمالات میں بلحاظ مصاد رکے فرق کیا جاتا ہے ۔ چناچہ وہ بوجھ جو حسی طور پر اٹھائے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ کوئی چیز پیٹھ لادی جائے اس پر حمل ( بکسرالحا) کا لفظ بولا جاتا ہے اور جو بوجھ باطن یعنی کوئی چیز اپنے اندر اٹھا ہے ہوئے ہوتی ہے اس پر حمل کا لفظ بولا جاتا ہے جیسے پیٹ میں بچہ ۔ بادل میں پانی اور عورت کے حمل کے ساتھ تشبیہ دے کر درخت کے پھل کو بھی حمل کہہ دیاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا پنا بوجھ ہٹانے کو کسی کو بلائے تو اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

چناچہ جب ان کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا تو فطری طور پر یہ وسوسہ ہوا کہ وہاں انہیں کون ٹھہرائے گا اور کھانے پینے کو کون دے گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جان لو بہت سے جانور ایسے ہیں جو کل کے لیے اپنی غذا اٹھا کر نہیں رکھتے اور یہ کہ چیونٹی تو ایک سال کے لیے غذا جمع کر کے رکھتی ہے۔ اللہ ہی ان کو جو اٹھا کر رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے روزی پہنچاتا ہے اور اے جماعت مومنین تمہیں بھی پہنچاتا ہے وہی تمہاری ان باتوں کا سننے والا اور تمہاری روزیوں کا جاننے والا ہے کہ کس مقام پر سے تمہیں روزی پہنچائے گا۔ شان نزول : وَكَاَيِّنْ مِّنْ دَاۗبَّةٍ (الخ) عبد بن حمید، ابن ابی حکم بیہقی اور ابن عساکر نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپ مدینہ منورہ کے باغوں میں سے کسی باغ میں داخل ہوئے تو آپ کھجور کے درختوں پر سے کھجور توڑ کر کھا رہے تھے آپ نے فرمایا ابن عمر (رض) تم کیوں نہیں کھاتے ؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے خواہش نہیں آپ نے فرمایا لیکن میری تو طبیعت چاہ رہی ہے اور یہ چوتھا دن ہے جس دن سے میں نے کھانا نہیں چکھا اور نہ اس کی طلب کی اور اگر میں چاہتا تو اپنے پروردگار سے دعا کرتا وہ مجھے قیصر و کسری کی بادشاہت کے برابر عطا کردیتا تو ابن عمر (رض) تمہاری اس وقت کیا حالت ہوگی جبکہ تمہارا ایسی قوم سے سابقہ پڑے گا جو سال بھر کا رزق جمع کر رکھیں گے اور یقین کمزور ہوجائے گا حضرت ابن عمر فرماتے ہیں تو اللہ کی قسم کہ ہم اس جگہ سے نہیں ہٹے تھے اور نہ ہٹنے کا ارادہ کیا تھا اتنے میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوگئی کہ بہت سے جانور ایسے ہیں جو اپنی غذا بچا کر نہیں رکھتے اللہ ہی ان کو روزی پہنچاتا ہے اس پر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو دنیا کے خزانے جمع کرنے اور خواہشات کے پیچھے چلنے کا حکم نہیں دیا جان لو کہ میں نہ دینار جمع کرتا ہوں اور نہ درہم اور نہ کل کے لیے رزق چھپا کر رکھتا ہوں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٠ (وَکَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّۃٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَہَاز) ” تمہارے رزق کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ خود ہے ‘ لہٰذا اس کے لیے تم اللہ پر توکلّ کرو اور اس کے سوا کسی اور کی طرف مت دیکھو۔ دنیا میں کبھی کسی کے بارے میں ایسا مت سوچو کہ وہ ناراض ہوگیا تو تمہاری ضروریات کا کیا بنے گا۔ متی کی انجیل میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کا جو وعظ (پہاڑی کا وعظ ) نقل ہوا ہے اس میں یہ مضمون بڑے خوبصورت انداز میں بیان ہوا ہے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) اپنے شاگردوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ” تم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کرسکتے۔ اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنی جان کی فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے ؟ اور نہ اپنے بدن کی کہ کیا پہنیں گے ؟ کیا جان خوراک سے اور بدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں ؟ ہوا کے پرندوں کو دیکھو نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے۔ نہ کو ٹھیوں میں جمع کرتے ہیں تو بھی تمہارا آسمانی باپ ان کو کھلاتا ہے۔ کیا تم ان سے زیادہ قدر نہیں رکھتے ؟ تم میں ایسا کون ہے جو فکر کرکے اپنی عمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے ؟ اور پوشاک کے لیے کیوں فکر کرتے ہو ؟ جنگلی سو سن کے درختوں کو غور سے دیکھو کہ وہ کس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے نہ کا تتے ہیں۔ تو بھی میں تم سے کہتا ہوں کہ سلیمان بھی باوجود اپنی ساری شان و شوکت کے ان میں سے کسی کے مانند ملبسّ نہ تھا۔ پس جب خدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے کل تنور میں جھونکی جائے گی ایسی پوشاک پہناتا ہے تو اے کم اعتقادو ‘ تم کو کیوں نہ پہنائے گا ؟ اس لیے فکر مند ہو کر یہ نہ کہو کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے یا کیا پہنیں گے ؟ کیونکہ ان سب چیزوں کی تلاش میں غیر قومیں* رہتی ہیں اور تمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تم ان سب چیزوں کے محتاج ہو۔ بلکہ تم پہلے اس کی بادشاہی اور اس کی راست بازی کو تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تم کو مل جائیں گی۔ پس کل کے لیے فکر نہ کرو کیونکہ کل کا دن اپنے لیے آپ فکر کرلے گا۔ آج کے لیے آج ہی کا دکھ کافی ہے۔ “ (متی ‘ باب ٦ : ٢٥۔ ٣٤ ‘ بحوالہ تدبر قرآن ‘ جلد پنجم ‘ ص ٦٠) اس ضمن میں یہ نکتہ ذہن نشین کرلیں کہ توکل اور ایمان ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ کسی شخص کا اللہ پر ایمان جس قدر پختہ ہوگا ‘ اسی قدر اس کا اس پر توکل بھی مضبوط ہوگا اور اگر ایمان کمزور ہوگا تو پھر توکل بھی کمزور پڑجائے گا۔ (اَللّٰہُ یَرْزُقُہَا وَاِیَّاکُمْز وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ) ” وہ ہر حاجت مند کی التجا کو سنتا ہے ‘ اسے ہر ایک کی ضرورت کا علم ہے ‘ وہ اپنے ہر بندے کے حالات سے باخبر رہتا ہے ‘ کیا اسے خبر نہ ہوگی کہ میرا فلاں بندہ اس وقت بھوکا ہے ؟ کیا اسے معلوم نہ ہوگا کہ میرا فلاں وفادار تمام اسباب کو ٹھکرا کر مجھ پر توکلّ کیے بیٹھا ہے ؟ بلاشبہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس نے کس محتاج کی حاجت روائی کا کیا بندوبست کرنا ہے اور کس بندے کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کسے وسیلہ بنانا ہے۔ اب آئندہ آیات میں خطاب کا رخ پھر مشرکین مکہ کی طرف ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

99 That is, "While migrating you should not be worried about your means of livelihood as you should not worry about your life's safety. For none of the birds and the animals of the land and the sea that you find around yourself carries its provision with it. Allah is providing for all of them; wherever they go they get their provision through Allah's bounty. Therefore, do not be disheartened by the thought that if you left your homes for the sake of your faith, you would have nothing to eat. AIlah will provide for you as well from the sources from which He is providing for the countless of His other creatures:" Precisely the same thing was taught by the Prophet Jesus (may Allah's peace be upon him) to his disciples when he had said: "No tnan can serve two masters: for either he will hate the one, and love the other; or else he will hold :o the one, and despise the other. Ye cannot serve God and mammon. Therefore I say unto you, Take no thought for your life, what ye shall eat, or what ye shall drink; nor yet for your body, what ye shall put on. Is not the life more than treat, and the body than raiment? Behold the fowls of the air: for they sow not, neither do they reap, nor gather into barns; yet your heavenly Father feedeth them. Are ye not much better than they? Which of you by taking thought can add one cubit unto his stature? And why take ye thought for raiment? Consider the lilies of the field, how they grow; they toil not, neither do they spin: And yet I say unto you that even Solomon in all his glory was not arrayed like one of these. Wherefore, if God so clothe the grass of the field, which to day is and to morrow is cast into the oven, shall he not much more clothe you, O ye of little faith? Therefore take no thought, saying, What shall we eat? or, What shall .we drink? or, Wherewithal shall we be clothed? (For after all these things do the Gentiles seek ) for your heavenly Father knoweth that ye have need of all these things. But seek ye first the kingdom of God, and his righteousness; and all these things shall be added unto you. Take therefore no thought for the morrow: for the morrow shall take thought for the things of itself. Sufficient unto the day is the evil thereof." (Mate. 6: 2434). The background of these discourses of the Qur'an and the Gospel is the same. There always comes a stage in the way of the propagation of the Truth when the follower of the Truth is left with no alternative but to stake his very life only with trust in Allah, regardless of the support and means of the material world. In these conditions, those who are too calculating about the possibilities of the future and seeking guarantees of the saftey of life and assurance of provisions cannot do anything. Indeed, such conditions are changed only by the efforts and power of those who rise fearlessly in face of every danger and are even prepared to risk their very lives. It is all due to their sacrifices that ultimately the Word of Allah is raised high and all other words and creeds stand humbled and subdued before it.

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 99 یعنی ہجرت کرنے میں تمہیں فکر جان کی طرح فکر روزگار سے بھی پریشان نہ ہونا چاہیے ۔ آخر یہ بے شمار چرند و پرند اور آبی حیوانات جو تمہاری آنکھوں کے سامنے ہو اور خشکی اور پانی میں پھر رہے ہیں ، ان میں سے کون اپنا رزق اٹھائے پھرتا ہے؟ اللہ ہی تو ان سب کو پال رہا ہے ، جہاں جاتے ہیں اللہ کے فضل سے ان کو کسی نہ کسی طرح رزق مل ہی جاتا ہے ۔ لہذا تم یہ سوچ سوچ کر ہمت نہ ہارو کہ اگر ایمان کی خاطر گھر بار چھوڑ کر نکل گئے تو کھائیں گے کہاں سے ۔ اللہ جہاں سے اپنی بے شمار مخلوق کو رزق دے رہا ہے ، تمہیں بھی دے گا ۔ ٹھیک یہی بات ہے جو سیدنا مسیح علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے فرمائی تھی ۔ انہوں نے فرمایا: کوئی آدمی دو مالکوں کی خدمت نہیں کرسکتا ، کیونکہ یا تو ایک سے عداوت رکھے گا اور دوسرے سے محب ، یا ایک سے ملا رہے گا اور دوسرے کو ناچیز جانے گا ۔ تم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کرسکتے ۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ اپنی جان کی فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے اور نہ اپنے بدن کی کہ کیا پہنیں گے ۔ کیا جان خوراک سے اور بدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں؟ ہوا کے پرندوں کو دیکھو کہ نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے ہیں ، نہ کوٹھیوں میں جمع کرتے ہیں ۔ پھر بھی تمہارا آسمانی باپ ان کو کھلاتا ہے ۔ کیا تم ان سے زیادہ قدر نہیں رکھتے؟ تم میں سے ایسا کون ہے جو فکر کر کے اپنی عمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے؟ اور پوشاک کے لیے کیوں فکر کرتے ہو؟ جنگلی سوسن کے درختوں کو غور سے دیکھو کہ وہ کس بڑھتے ہیں ، وہ نہ محنت کرتے ہیں نہ کاتتے ہیں ، پھر بھی میں تم سے کہتا ہوں کہ سلیمان بھی باوجود اپنی ساری شان و شوکت کے ان میں سے کسی کے مانند لمبس نہ تھا ۔ پس جب خدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے اور کل تنور میں جھونکی جائے گی ایسی پوشاک پہناتا ہے تو اسے کم اعتقادو تم کو کیوں نہ پہنائے گا ۔ اس لیے فکر مند نہ ہو کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے یا کیا پہنیں گے ۔ ان سب چیزوں کی تلاش میں تو غیر قومیں رہتی ہیں ۔ تمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تم ان سب چیزوں کے محتاج ہو ۔ تم پہلے اس کی بادشاہی اور اس کی راست بازی کی تلاش کرو ۔ یہ سب چیزیں بھی تمہیں مل جائیں گی ۔ کل کے لیے فکر نہ کرو ۔ کل کا دن اپنی فکر آپ کرلے گا ۔ آج کے لیے آج ہی کا دکھ کافی ہے ۔ ( متی ۔ باب6 ۔ آیات 24 ۔ 34 ) قرآن اور انجیل کے ان ارشادات کا پس منظر ایک ہی ہے ۔ دعوت حق کی راہ میں ایک مرحلہ ایسا آجاتا ہے جس میں ایک حق پرست آدمی کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں رہتا کہ عالم اسباب کے تمام سہاروں سے قطع نظر کر کے محض اللہ کے بھروسے پر جان جوکھوں کی بازی لگا دے ۔ ان حالات میں وہ لوگ کچھ نہیں کرسکتے جو حساب لگا لگا کر مستقبل کے امکانات کا جائزہ لیتے ہیں اور قدم اٹھانے سے پہلے جان کے تحفظ اور رزق کے حصول کی ضمانتیں تلاش کرتے ہیں ، درحقیقت اس طرح کے حالات بدلتے ہی ان لوگوں کی طاقت سے ہیں جو سر ہتھیلی پر لے کر اٹھ کھڑے ہوں اور ہر خطرے کو انگیز کرنے کے لیے بے دھڑک تیار ہوجائیں ۔ انہین کی قربانیاں آخر کار وہ وقت لاتی ہیں جب اللہ کا کلمہ بلند ہوتا ہے اور اس کے مقابلے میں سارے کلنے پست ہوکر رہ جاتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

32: ہجرت کرنے میں ایک خوف ہوسکتا تھا کہ یہاں تو ہمارے روزگار کا ایک نظام موجود ہے، کہیں اور جاکر معلوم نہیں کوئی مناسب روزگار ملے یا نہ ملے، اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ دنیا میں کتنے جانور ایسے ہیں جو اپنا رزق ساتھ لئے نہیں پھرتے، بلکہ وہ جہاں کہیں جاتے ہیں اللہ تعالیٰ وہیں ان کے رزق کا انتظام فرماتا ہے، لہذا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت میں وطن چھوڑیں گے، کیا اللہ تعالیٰ ان کے رزق کا انتظام نہیں فرمائے گا ؟ البتہ رزق کی کمی اور زیادتی تمام تر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت پر موقوف ہے، لہذا وہی فیصلہ فرماتا ہے کہ کس کو کس وقت کتنا رزق دینا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

مسند عبد بن حمید بیہقی ‘ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی روایت ٢ ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک روز مدینہ منورہ کے ایک باغ میں تشریف لے گئے اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیڑوں کے نیچے کی کھجوریں چن کر کچھ کھائیں اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے فرمایا کہ تم بھی کھاؤ انہوں نے کہا کہ حضرت مجھ کو تو بھوک نہیں آپ نے فرمایا مجھ کو تو بھوک لگی ہے میں نے چار روز سے کچھ نہیں کھایا اور اگر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں تو اللہ تعالیٰ مجھ کو شاہ ایران اور شاہ روم کی سی بادشاہت عنایت فرما دیوے اے عبداللہ بن عمر میرے بعد تم ایسے لوگوں کو دیکھو گے کہ برس برس روز کا غلہ ذخیرہ کر کے رکھیں گے اللہ تعالیٰ کے رزاق ہونے پر بھروسہ ان لوگوں کو نہ ہوگا حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ابہی ہم اس باغ میں ہی تھی تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ نے مجھ کو دنیا کا خزانہ جمع کرنے سے اور دنیا کی خواہش کی چیزوں کی رغبت سے منع فرمایا ہے اس لیے کل کے واسطے میں کوئی چیز کھانے کی نہیں رکھتا جلال الدین سیوطی نے اگرچہ اس روایت کی سند کو ضعیف بتلاتا ہے کیونکہ اس کی سند میں ایک راوی جراح بن منہال ابو العطوف کو اکثر علماء ١ ؎ نے ضعیف قرار دیا ہے (١ ؎ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں ہذا حدیث غریب وابو العطوف (جراح بن منہال) ضعیف (ع ‘ ح) لیکن ترمذی میں حضرت انس (رض) کی ناقابل اعتراض سند کی حدیث ٢ ؎ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ذات کے لیے کبھی کوئی کھانے پینے کی چیز کل کے واسطے ذخیرہ کر کے نہیں رکھتے تھے اس شان نزول کے مواق ہے بعضے مفسروں نے یہ جو اعتراض کیا ہے کہ اس شان نزول کی روایت کا مضمون اور صحیح روایتوں کے مخالف ہے جن کا مطلب یہ ہے کہ برس روز کا غلہ ازواج مطہرات کے گھروں میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات کے وقت بھرا رہتا تھا اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح بیماری کی حالت میں علاج کرنے اور نہ کرنے کی دونوں روایتیں ہیں اور علماء ان دونوں روایتوں میں ایک روایت کو دوسری روایت کے مخالف نہیں کہتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ایک روایت اول درجہ کے توکل کے بیان میں ہے اور دوسری روایت اس حکم کے بیان میں ہے کہ شریعت میں ضرورت کے وقت بیماری کا علاج کرنا بھی منع نہیں ہے بلکہ جائز ہے اسی طرح کی یہ دونوں روایتیں ہیں ایک روایت دوسری کے مخالف نہیں ہیں تفسیر سفیان بن عیینہ (رض) ٣ ؎ میں لکھا ہے کہ سوائے آدمی اور چو ہے اور چیونٹی کے اور جاندار چیزیں کل کے کھانے پینے کی چیز کا ذخیرہ بہت کم جمع کرتی ہیں غرض کھانے پینے کی چیز گرانی کے وقت اگر کوئی شخص بھرے اور گرانی کے انتظار میں اس کو روک کر بیچنے کے لیے رکھے تو اس طرح کا ذخیرہ منع ہے اور ارزانی کے موسم میں تجارت کے لیے یا کھانے پینے کے لیے غلہ کا ذخیرہ منع نہیں ہے یہ ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ جو رازق ذخیرہ نہ رکھنے والوں کو ہر روز رزق پہنچاتا ہے ہجرت کے سبب سے اگر تمہارا کچھ ذخیرہ وطن میں رہ جائے گا تو وہی رازق اس حالت میں بھی تم رزق پہنچائے گا کیوں کہ وہ ہر شخص کی ضرورت جانتا ہے اور ہر شخص کی التجا کو سنتا ہے صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ١ ؎ ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مال کے پیٹ میں جب بچہ کا پتلہ تیار ہوجاتا ہے تو اس میں روح پھونکنے سے پہلے اس کا رزق لکھ لیا جاتا ہے اس حدیث کو اس آیت کی تفسیر میں یہ دخل ہے کہ اس سے رزق کے باب میں جو انظام الٰہی ہے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ (٢ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ١٤٩ ج ٥۔ ) (٢ ؎ جامع ترمذی کتاب الزھذ ‘ باب ما جآء فی معیشتہ النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واہلہ) (٣ ؎ فتح البیان ص ٥١٤ ح ٣ (طبع بھوپال ہند ) (١ ؎ مشکوٰۃ ص ٢٠ باب الایمان بابقدر فصل اول۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(29:60) کاین۔ اسم ہے جو کاف تشبیہ اور ای سے مرکب ہے۔ تعداد میں کثرت ظاہر کرنے کے لئے تمیز کا محتاج ہوتا ہے اور اس کی تمیز بیشتر من کے ساتھ مجرور ہوتی ہے جیسے وکاین من نبی قتل معہ ربیون کثیر (3:146) اور کہتے ہی نبی ہوچکے ہیں کہ ان کی معیت میں بہت اللہ والوں نے (کافروں سے) لڑائی کی۔ اس مثال میں کاین نے کثیر تعداد کو طاہر کیا۔ لیکن کس کی ” یہ بات “ مبہم تھی۔ جب اس کے بعد من نبی آیا تو ابہام دور ہوگیا۔ اور معلوم ہوگیا کہ یہ کثیر تعداد نبیوں کی تھی ! اور جگہ قرآن مجید میں ہے فکاین من قریۃ اہلکناھا وہی ظالمۃ (22:45) غرض کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر ڈالا ہو نافرمان تھیں۔ کاین کتنی ہی۔ بہت سی۔ بہت تعداد میں۔ پس وکاین من دابۃ ۔۔ اور کتنے ہی جانور ہیں جو ۔۔ دابۃ۔ جانور۔ رینگنے والا۔ پاؤں دھرنے والا۔ دب یدب (ضرب) دب ودبیب آہستہ آہستہ چلنا۔ اور رینگنا۔ سانپ کی طرح رینگنا۔ بچہ کی طرح ہاتھ پیروں پر گھسٹنا۔ دابۃ اسم فاعل کا صیغہ ہے مذکر مؤنث دونوں کے لئے مستعمل ہیں اس میں تاء وحدت کی ہے اس کی جمع دواب ہے۔ ہر رینگنے والے جانور ، سواری کے جانور۔ باربرداری کے جانور کے لئے استعمال ہوتا ہے زیادہ تر حشرات الارض کے لئے آتا ہے۔ فانی یؤفکون ۔ ف ترتیب کا ہے یا جواب شرط میں ہے جو مقدرہ ہے۔ ای اذا کان الامر کذلک فکیف یصرفون عن الاقرار بتفردہ عز وجل فی الالوہیۃ۔ جب امر واقع یہ ہے کہ یہ لوگ توحید الٰہی کے اقرار سے کیوں مدد گرداں ہیں۔ انی۔ اسم ظرف ہے زمان و مکان دونوں کے لئے آتا ہے طرف زمان ہو تو متی کے معنوں میں (جب ، جس وقت) اور ظرف مکان ہو تو این کے معنوں میں (جہاں۔ کہاں 9 اور استفامیہ ہو تو کیف کے معنوں میں (کیسے، کیونکر) آتا ہے۔ افک یافک افکا (باب ضرب) سے۔ الافک ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو کہ اپنے صحیح رخ سے پھیر دی گئی ہو۔ اسی بناء پر ان ہواؤں کو جو اپنا اصلی رخ چھوڑ دیں مؤتفکۃ کہا جاتا ہے۔ اور قرآن مجید میں مؤتفکات الٹنے والی بستیوں کو کہا گیا ہے کہ انہوں نے بھی (جب ان کو الٹ دے مارا گیا) اپنا اصلی رخ چھوڑ کر الٹی ہوگئی تھیں۔ پس فانی یؤفکون کا مطلب ہوا کہ وہ کدھر پھیرے جا رہے ہیں کہاں بہکے پھرتے ہیں۔ ان کی قسمت کیسی الٹی ہوگئی ہے کہ اعتقاد حق سے باطل کی طرف۔ سچائی سے جھوٹ کی طرف اور اچھے کاموں سے برے افعال کی طرف پھر رہے ہیں۔ مجہول کا صیغہ ان کی بدقسمتی کی شدت کو ظاہر کرنے کے لئے لایا گیا ہے یعنی ایک معمولی عقل کا مالک بھی جو اپنے نفع و نقصان کا معمولی سا احساس رکھتا ہو یہ طریقہ اختیار نہیں کرتا۔ لیکن ان کی بدقسمتی ان کو باوجود حق و باطل کو سمجھ لینے کے بھی قعر مذلت کی طرف لئے جا رہی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

2 ۔ یعنی نہ روزی جمع کرتے ہیں اور نہ کل کے لئے کچھ رکھ چھوڑتے ہیں۔ مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب صحابہ کو مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا تو انہوں نے سوچا کہ وہاں ہماری معیشت کا کیا انتظام ہوگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (روح) 3 ۔ مطلب یہ ہے کہ ہجرت کی راہ میں جان کی طرح تمہیں روزی کی فکر بھی نہ ہونی چاہیے۔ جو اللہ اپنی لاتعداد مخلوقات کو روزی دے رہا ہے وہ تمہیں بھی روزی دے گا۔ (دیکھئے سورة ہود :6)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یعنی دل قوی کر کے اللہ پر بھروسہ رکھو، اور وہ بھروسہ کے لائق ہے، کیونکہ وہ سب کچھ سنتا سب کچھ جانتا ہے، اسی طرح دوسری صفات میں کامل ہے اور جو ایسا کامل الصفات ہو وہ ضرور بھروسہ کے قابل ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ہجرت کے وقت تین باتیں انسان کو پریشان کرتی ہیں۔ 1 ۔ جائیں تو کہاں جائیں 2 ۔ مال، جان کے نقصان کا اندیشہ 3 ۔ روزی کا فکر ہجرت کے لیے کدھر جائیں اس کا جواب دیا کہ ” اللہ “ کی زمین بہت وسیع ہے، مالی اور جانی نقصان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ بالآخر ہر کسی کو موت آنی ہے اور سب کچھ چھوڑ کر آخرت کو سدھارنا ہے۔ اب روزی کے بارے میں تسلّی دی جا رہی ہے کہ ہر انسان بالخصوص ہجرت کرنے والا غور کرے کہ کتنے جانور ہیں جو اپنا رزق جمع نہیں کرتے مگر انہیں بھی ” اللہ تعالیٰ “ رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی عطا کرتا ہے، وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے یعنی وہ تمہارے وطن میں ہی نہیں بلکہ تم جہاں بھی ہوتے ہو تمہارا حال جانتا ہے اور تمہاری دعاؤں کو سنتا ہے۔ رزق کی فراہمی کے بارے اپنے رب کا یہ اصول یاد رکھو کہ زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کا رزق ” اللہ “ کے ذمّہ ہے وہ سب کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہے اور ان کے مرنے کی جگہ بھی اس کے علم میں ہے اس نے سب کچھ کھلی کتاب یعنی لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے۔ (وَ مَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزْقُھَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّھَا وَ مَسْتَوْدَعَھَا کُلٌّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ) [ ہود : ٦] ” اور زمین میں کوئی چلنے والا جاندار نہیں مگر اس کا رزق اللہ ہی کے ذمّہ ہے اور وہ اس کی قرار گاہ اور اس کے دفن کیے جانے کی جگہ کو جانتا ہے سب کچھ ایک کھلی کتاب میں درج ہے۔ “ (عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَوْ أَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللَّہِ حَقَّ تَوَکُّلِہٖ لَرُزِقْتُمْ کَمَا تُرْزَقُ الطَّیْرُ تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا)[ رواہ الترمذی : باب فِی التَّوَکُّلِ عَلَی اللَّہِ ] ” حضرت عمر بن خطاب (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے۔ تو تمہیں اسی طرح رزق دیا جائے جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔ وہ خالی پیٹوں کے ساتھ صبح کرتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹوں کے ساتھ لوٹتے ہیں۔ “ (عَنْ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ (رض) یَقُوْلُ قَالَ رَجُلٌ یَّا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَعْقِلُہَا وَأَتَوَکَّلُ أَوْ أُطْلِقُہَا وَأَتَوَکَّلُ قَالَ اِعْقِلْہَا وَتَوَکَّلْ )[ رواہ الترمذی : باب اعقل و توکل ] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں سواری کو باندھوں اور توکل کروں یا اسے کھلا چھوڑ دوں اور توکل کروں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھو پھر توکل کرو۔ “ (عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنْ النَّبِیِّ قَالَ لَمَّا تَجَلّٰی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِمُوْسیٰ عَلَیْہِ السَّلاَمُ کَانَ یَبْصُرُالنَّمْلَۃَ عَلیٰ الصَّفَا فِیْ الَّلیْۃِ الظُّلْمَاءِ مَسِیْرَۃَ عَشْرَۃِ فَرْسَخٍ )[ تفسیر ابن کثیر، سورة الاعراف : ١٤٣] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جب اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے تجلی فرمائی اس وقت وہ اندھیری رات میں دس فرسخ کے فاصلے سے پتھر پر چلنے والی چیونٹی کو دیکھ رہا تھا۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ سب کو روزی دینے والا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ سب کو روزی دینے والا ہے : ١۔ ہم نے زمین میں تمہارے لیے معاش کا سامان بنایا اور ان کے لیے بھی جنہیں تم روزی نہیں دیتے۔ (الحجر : ٢٠) ٢۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی رزق کو فراخ اور تنگ کرتا ہے۔ (الزمر : ٥٢) ٣۔ زمین میں ہر قسم کے چوپاؤں کا رزق ” اللہ “ کے ذمہ ہے۔ (ھود : ٦) ٤۔ بیشک اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔ (الذاریات : ٥٨) ٦۔ اللہ ہی رزق فراخ کرتا اور کم کرتا ہے۔ (سبا : ٣٩) ٥۔ کیا اللہ کے علاوہ بھی کوئی خالق ہے جو تمہیں روزی دیتا ہے۔ (فاطر : ٣) ٦۔ اللہ تعالیٰ لوگوں سے رزق نہیں مانگتا بلکہ وہ لوگوں کو رزق دیتا ہے۔ (طٰہٰ : ١٣٢) ٧۔ اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔ (البقرۃ : ٢١٢) ٩۔ اللہ تعالیٰ مہاجروں کو ضرور اچھا رزق دے گا۔ (الحج : ٥٨) ٨۔ اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو کیونکہ ” اللہ “ تمہیں اور انہیں بھی رزق دینے والا ہے۔ (الانعام : ١٥١) ٩۔ مشرک سے سوال کیا جائے کہ آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے تو کہتا ہے کہ ” اللہ “ ہی رزق دیتا ہے۔ (یونس : ٣١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

رزق مقدر ضرور ملے گا دوسری بات کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ کَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّۃٍ لَّاتَحْمِلُ رِزْقَھَا اَللّٰہُ یَرْزُقُھَا وَ اِیَّاکُمْ ) (زمین پر چلنے والے بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق نہیں اٹھاتے، اللہ ان کو رزق دیتا ہے) اس کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ جانور اپنا رزق ساتھ لیے نہیں پھرتے جہاں ہوتے ہیں اللہ ان کا رزق دے دیتا ہے، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ ذخیرہ نہیں رکھتے، جو ملا کھالیا آگے کی فکر نہیں کرتے نہ ان کے یہاں رزق جمع کرنے کا انتظام ہے نہ تحصیل رزق کی کوشش، وہ اسباب کے پیچھے نہیں پڑتے اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے رزق عطا فرماتا ہے، اسی طرح جب تم ہجرت کرو گے تو وہ تمہیں رزق دے گا اب تک جس نے کھلایا پلایا ہجرت کے بعد بھی وہی کھلائے پلائے گا۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم اللہ پر توکل کرتے جیسا کہ توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں اس طرح رزق دیتا جیسے پرندوں کو رزق دیتا ہے، وہ صبح کو بھوکے جاتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجہ، مشکوٰۃ المصابیح ص ٤٥٢) حضرت ابو الدرداء (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ رزق بندہ کو اس طرح طلب کرلیتا ہے جیسے اسے موت طلب کرلیتی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ٤٥٤) آخر میں فرمایا : (وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ) (اور اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے) وہ سب کی باتیں سنتا ہے اور سب کے احوال جانتا ہے، جو شخص اخلاص کے ساتھ ہجرت کرے، سچے دل سے اللہ پر توکل کرے، اور جو شخص عذر کی وجہ سے ہجرت کرنے سے رکے، اور جو شخص محض دنیاوی مفاد کے پیش نظر ہجرت کے لیے نکلے، اللہ تعالیٰ کو ان سب کے احوال و اقوال معلوم ہیں۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو بہت سے لوگ مکہ معظمہ میں رہ گئے ان میں اصحاب عذر بھی تھے اور وہ لوگ بھی تھے جن کے لیے واقعی عذر نہ تھا، وہ ہجرت کرسکتے تھے، اس زمانے میں مدینے کے لیے ہجرت کرنا فرض تھا، جو شخص ہجرت نہ کرتا اس کا ایمان معتبر نہ سمجھا جاتا تھا، جب مکہ معظمہ فتح ہوگیا تو ہجرت کی فرضیت منسوخ ہوگئی، لیکن مختلف احوال کے اعتبار سے ہمیشہ ایسے احوال مسلمانوں کے لیے پیش آتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے ایمان اور اعمال باقی رکھنے کے لیے ہجرت کرنا فرض ہوجاتا ہے لیکن گھر بار، مال، جائیداد اور رشتہ داروں کی محبت میں وطن نہیں چھوڑتے، ایسی جگہوں میں رہتے ہیں جہاں اذان بھی نہیں دے سکتے، نماز بھی نہیں پڑھ سکتے مگر دنیا کی محبت انہیں ہجرت نہیں کرنے دیتی، ایسے لوگ تارک فرض ہوتے ہیں۔ (تفصیل کے لیے سورة نساء کا مطالعہ کیجیے) (انوار البیان ج ٢)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

49:۔ وطن چھوڑنے سے فقر و فاقہ کا اندیشہ تھا جیسا کہ بعض مسلمانوں نے اس کا اظہار بھی کیا تھا کہ ہجرت کر کے مدینہ جائیں گے تو وہاں کھائیں گے کیا اس پر فرمایا اللہ پر بھروسہ کرو جو تمام جانوروں کو روزی دیتا ہے وہی تمہارا بھی رازق ہے تم دیکھتے ہو تمام جانور خالی ہاتھ ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سب کو روزی پہنچاتا ہے تو وہ تمہیں کیوں روزی نہیں دے گا۔ لما امر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) من اسلم مکۃ بالہجرۃ خافوا الفقر والضیعۃ فنزلت (مدارک ج 3 ص 201) ۔ الہ تعالیٰ ہر بات سننے والا اور ہر چیز جاننے والا ہے۔ اس سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ وہ تمہاری پکاریں سنتا اور تمہاری حاجتوں کو جانتا ہے اس لیے اس پر بھروسہ کر کے اس کے دین کی خاطر ہجرت کرو وہ تمہارے تمام کام آسان فرمائے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

60۔ اور کتنے ہی جانور ایسے ہیں جو اپنی غذا کل کے لئے اٹھا کر نہیں رکھتے اللہ تعالیٰ ہی ان کو بھی روزی پہنچاتا ہے اور تم کو بھی وہی روزی دیتا ہے اور وہ سب کی سننے والا اور سب کو جاننے والا ہے۔ یعنی اگر ہجرت اور ترک وطن میں روزی کا خیال مانع ہو تو روزی کا تو یہ حال ہے کہ بہت سے جانور بھی ایسے ہیں جو اپنی غذا بچا کر اور اٹھا کر دوسرے دن کے لئے نہیں رکھتے صبح کو بھوکے اٹھتے ہیں اور شام کو ان کا پیٹ بھرا ہوتا ہے تو تم انسان ہو اور ہماری راہ میں ترک وطن کررہے ہو تم کس طرح بھوکے رہ سکتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ روزی کی طرف سے خاطر جمع کردی کہ اکثرجانوروں کے گھر میں کل کی قوت نہیں ہوتا نیا دن اور نئی روزی ۔ 12