The Blessing of the Sanctuary Here
Allah says:
أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا امِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ
...
Have they not seen that We have made a secure sanctuary, while men are being snatched away from all around them! Then do they believe in falsehood, and deny the graces of Allah
Allah reminds Quraysh how He blessed them by granting them access to His sanctuary which He has made (open) to (all) men, the dweller in it and the visitor from the country are equal there, and whoever enters it is safe, because he is in a place of great security, although the Arabs of the desert round about used to ambush and raid one another and kill one another.
As Allah says:
لاإِيلَـفِ قُرَيْشٍ
إِيلَـفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَأءِ وَالصَّيْفِ
فَلْيَعْبُدُواْ رَبَّ هَـذَا الْبَيْتِ
الَّذِى أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَءَامَنَهُم مِّنْ خوْفٍ
For the protection of the Quraysh. The caravans to set forth safe in winter and in summer. So let them worship the Lord of this House. Who has fed them against hunger, and has made them safe from fear. (106:1-4)
...
أَفَبِالْبَاطِلِ يُوْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ
Then do they believe in falsehood, and deny the graces of Allah.
means, is the thanks that they give for this immense blessing to associate others with Him and worship others besides Him, idols and rivals
بَدَّلُواْ نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّواْ قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ
Have you not seen those who have changed the blessings of Allah into disbelief, and caused their people to dwell in the house of destruction! (14:28)
They disbelieved in the Prophet, servant and Messenger of Allah , when what they should have done was to worship Allah Alone and not associate anything with Him, and to believe in, honor and respect the Messenger, but they rejected him and fought him, and expelled him from their midst. So, Allah took His blessing away from them, and killed those of them whom He killed at Badr, then His Messenger and the believers gained the upper hand, and Allah enabled His Messenger to conquer Makkah, and He disgraced them and humiliated them (the disbelievers).
Then Allah says:
احسان کے بدلے احسان؟
اللہ تعالیٰ قریش کو اپنا احسان جتاتا ہے کہ اس نے اپنے حرم میں انہیں جگہ دی ۔ جو شخص اس میں آجائے امن میں پہنچ جاتا ہے ۔ اس کے آس پاس جدال وقتال لوٹ مار ہوتی رہتی ہے اور یہاں والے امن وامان سے اپنے دن گزارتے ہیں ۔ جسے سورۃ لایلاف قریش الخ میں بیان فرمایا تو کیا اس اتنی بڑی نعمت کا شکریہ یہی ہے کہ یہ اللہ کے ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کریں؟ بجائے ایمان لانے کے شرک کریں اور خود تباہ ہو کر دوسروں کو بھی اسی ہلاکت والی راہ لے چلیں ۔ لیکن انہوں نے اس کے برعکس اللہ کے ساتھ شرک وکفر کرنا اور نبی کو جھٹلانا اور ایذاء پہنچانا شروع کر رکھا ہے ۔ اپنی سرکشی میں یہاں تک بڑھ گئے کہ اللہ کے پیغمبر کو مکے سے نکال دیا ۔ بالآخر اللہ کی نعمتیں ان سے چھننی شروع ہو گئیں ۔ بدرکے دن ان کے بڑے بری طرح قتل ہوئے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں مکہ کو فتح کیا اور انہیں ذلیل وپست کیا ۔ اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھے ۔ وحی آتی نہ ہو اور کہدے کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ظال کوئی نہیں جو اللہ کی سچی وحی کو جھٹلائے اور باوجود حق پہنچنے کے تکذیب پر کمربستہ رہے ۔ ایسے مفرتی اور مکذب لوگ کافر ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے ۔ راہ اللہ میں مشقت کرنے والے سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کے اصحاب اور آپ کے تابع فرمان لوگ ہیں جو قیامت تک ہونگے ۔ فرماتا ہے کہ ہم ان کوشش اور جستجو کرنے والوں کی رہنمائی کریں گے دنیا اور دین میں ان کی رہبری کرتے رہیں گے ۔ حضرت ابو عباس ہمدانی فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ جو لوگ اپنے علم پر عمل کرتے ہیں اللہ انہیں ان امور میں بھی ہدایت دیتا ہے جوان کے علم میں نہیں ہوتے ابو سلیمان دارانی سے جب یہ ذکر کیا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں کوئی بات پیدا ہو گو وہ بھلی بات ہو تاہم اسے اس پر عمل نہ کرنا چاہیے جب تک قرآن وحدیث سے وہ ثابت نہ ہو ۔ جب ثابت ہو عمل کریں ۔ اور اللہ کی حمد کریں کہ جو اس کے جی میں آتا تھا ۔ وہی قرآن وحدیث میں بھی نکلا ۔ اللہ تعالیٰ محسنین کے ساتھ ہے ۔ حضرت عیسیٰ بن مریم فرماتے ہیں احسان اس کا نام ہے کہ جو تیرے ساتھ بدسلوکی کرے تو اس کے ساتھ نیک سلوک کرے ۔ احسان کرنے والوں سے احسان کرنے کا نام احسان نہیں واللہ اعلم ۔