Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 67

سورة العنكبوت

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا جَعَلۡنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنۡ حَوۡلِہِمۡ ؕ اَفَبِالۡبَاطِلِ یُؤۡمِنُوۡنَ وَ بِنِعۡمَۃِ اللّٰہِ یَکۡفُرُوۡنَ ﴿۶۷﴾

Have they not seen that We made [Makkah] a safe sanctuary, while people are being taken away all around them? Then in falsehood do they believe, and in the favor of Allah they disbelieve?

کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو با امن بنا دیا ہے حالانکہ ان کے ارد گرد سے لوگ اچک لئے جاتے ہیں کیا یہ باطل پر تو یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالٰی کی نعمتوں پر ناشکری کرتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Blessing of the Sanctuary Here Allah says: أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا امِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ... Have they not seen that We have made a secure sanctuary, while men are being snatched away from all around them! Then do they believe in falsehood, and deny the graces of Allah Allah reminds Quraysh how He blessed them by granting them access to His sanctuary which He has made (open) to (all) men, the dweller in it and the visitor from the country are equal there, and whoever enters it is safe, because he is in a place of great security, although the Arabs of the desert round about used to ambush and raid one another and kill one another. As Allah says: لاإِيلَـفِ قُرَيْشٍ إِيلَـفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَأءِ وَالصَّيْفِ فَلْيَعْبُدُواْ رَبَّ هَـذَا الْبَيْتِ الَّذِى أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَءَامَنَهُم مِّنْ خوْفٍ For the protection of the Quraysh. The caravans to set forth safe in winter and in summer. So let them worship the Lord of this House. Who has fed them against hunger, and has made them safe from fear. (106:1-4) ... أَفَبِالْبَاطِلِ يُوْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ Then do they believe in falsehood, and deny the graces of Allah. means, is the thanks that they give for this immense blessing to associate others with Him and worship others besides Him, idols and rivals بَدَّلُواْ نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّواْ قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ Have you not seen those who have changed the blessings of Allah into disbelief, and caused their people to dwell in the house of destruction! (14:28) They disbelieved in the Prophet, servant and Messenger of Allah , when what they should have done was to worship Allah Alone and not associate anything with Him, and to believe in, honor and respect the Messenger, but they rejected him and fought him, and expelled him from their midst. So, Allah took His blessing away from them, and killed those of them whom He killed at Badr, then His Messenger and the believers gained the upper hand, and Allah enabled His Messenger to conquer Makkah, and He disgraced them and humiliated them (the disbelievers). Then Allah says:

احسان کے بدلے احسان؟ اللہ تعالیٰ قریش کو اپنا احسان جتاتا ہے کہ اس نے اپنے حرم میں انہیں جگہ دی ۔ جو شخص اس میں آجائے امن میں پہنچ جاتا ہے ۔ اس کے آس پاس جدال وقتال لوٹ مار ہوتی رہتی ہے اور یہاں والے امن وامان سے اپنے دن گزارتے ہیں ۔ جسے سورۃ لایلاف قریش الخ میں بیان فرمایا تو کیا اس اتنی بڑی نعمت کا شکریہ یہی ہے کہ یہ اللہ کے ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کریں؟ بجائے ایمان لانے کے شرک کریں اور خود تباہ ہو کر دوسروں کو بھی اسی ہلاکت والی راہ لے چلیں ۔ لیکن انہوں نے اس کے برعکس اللہ کے ساتھ شرک وکفر کرنا اور نبی کو جھٹلانا اور ایذاء پہنچانا شروع کر رکھا ہے ۔ اپنی سرکشی میں یہاں تک بڑھ گئے کہ اللہ کے پیغمبر کو مکے سے نکال دیا ۔ بالآخر اللہ کی نعمتیں ان سے چھننی شروع ہو گئیں ۔ بدرکے دن ان کے بڑے بری طرح قتل ہوئے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں مکہ کو فتح کیا اور انہیں ذلیل وپست کیا ۔ اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھے ۔ وحی آتی نہ ہو اور کہدے کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ظال کوئی نہیں جو اللہ کی سچی وحی کو جھٹلائے اور باوجود حق پہنچنے کے تکذیب پر کمربستہ رہے ۔ ایسے مفرتی اور مکذب لوگ کافر ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے ۔ راہ اللہ میں مشقت کرنے والے سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کے اصحاب اور آپ کے تابع فرمان لوگ ہیں جو قیامت تک ہونگے ۔ فرماتا ہے کہ ہم ان کوشش اور جستجو کرنے والوں کی رہنمائی کریں گے دنیا اور دین میں ان کی رہبری کرتے رہیں گے ۔ حضرت ابو عباس ہمدانی فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ جو لوگ اپنے علم پر عمل کرتے ہیں اللہ انہیں ان امور میں بھی ہدایت دیتا ہے جوان کے علم میں نہیں ہوتے ابو سلیمان دارانی سے جب یہ ذکر کیا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں کوئی بات پیدا ہو گو وہ بھلی بات ہو تاہم اسے اس پر عمل نہ کرنا چاہیے جب تک قرآن وحدیث سے وہ ثابت نہ ہو ۔ جب ثابت ہو عمل کریں ۔ اور اللہ کی حمد کریں کہ جو اس کے جی میں آتا تھا ۔ وہی قرآن وحدیث میں بھی نکلا ۔ اللہ تعالیٰ محسنین کے ساتھ ہے ۔ حضرت عیسیٰ بن مریم فرماتے ہیں احسان اس کا نام ہے کہ جو تیرے ساتھ بدسلوکی کرے تو اس کے ساتھ نیک سلوک کرے ۔ احسان کرنے والوں سے احسان کرنے کا نام احسان نہیں واللہ اعلم ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

671اللہ تعالیٰ اس احسان کا تذکرہ فرما رہا ہے جو اہل مکہ پر اس نے کیا کہ ہم نے ان کے حرم کو امن والا بنایا جس میں اس کے باشندے قتل و غارت اسیری لوٹ مار وغیرہ سے محفوظ ہیں۔ جب کہ عرب کے دوسرے علاقے اس امن و سکون سے محروم ہیں قتل و غارت گری ان کے ہاں معمول اور آئے دن کا مشغلہ ہے۔ 672یعنی کیا اس نعمت کا شکر یہی ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائیں، اور جھوٹے معبودوں اور بتوں کی پرستش کرتے رہیں۔ اس احسان کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے اور اس کے پیغمبر کی تصدیق کرتے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٩] مکہ اور اس کے مضافات کو اللہ تعالیٰ نے ہی حرم بنایا کہ عرصہ اڑھائی ہزار سال سے یہ لوگ اس پرامن حرم کے فوائد سے فائدے اٹھا رہے ہیں اور عربی قبائل کی لوٹ مار سے محفوظ اور پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ پھر اسی وجہ سے انھیں عرب بھر میں سیاسی اقتدار حاصل ہے۔ انھیں دور دراز مقامات سے رزق بھی پہنچ جاتا ہے۔ اور بہت سے تجارتی فوائد ہی حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے کسی بت، لات، منات، ہبل یا کسی دوسرے بت میں یہ طاقت نہ تھی کہ وہ اس خطہ ارضی کو پرامن حرم بنا سکتا۔ اللہ کی اس نعمت کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کرتے اور اس کے فرمانبردار بن کر رہتے۔ مگر یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے الٹا دوسرے معبودوں کو اللہ کا شریک بنا رہے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا ۔۔ : اہل مکہ کو اس سے پہلے سمندری سفر میں خوف میں مبتلا کرنے کے بعد امن عطا کرنے کی نعمت کا ذکر فرمایا تھا، اب خشکی کے اندر کسی خوف میں مبتلا کیے بغیر اس وقت امن عطا کرنے کی نعمت کا ذکر فرمایا جب پورا عرب اس نعمت سے محروم تھا۔” اَوَلَمْ يَرَوْا “ میں واؤ عطف اصل میں ہمزہ استفہام سے پہلے ہے، مگر چونکہ ہمزہ استفہام شروع میں آتا ہے، اس لیے واؤ کو بعد میں کردیا۔ اس لیے واؤ کا ترجمہ ہمزہ سے پہلے کیا گیا ہے ” اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا ۔۔ “ یعنی جس وقت ان کے ارد گرد پورے جزیرۂ عرب کی یہ حالت ہے کہ کسی کی جان محفوظ ہے نہ مال، کسی کو کچھ خبر نہیں کہ اسے کب اٹھا لیا جائے گا۔ ان حالات میں اہل مکہ کو حرم کی وجہ سے مکہ میں بھی امن ہے، حتیٰ کہ کوئی حرم میں اپنے باپ کے قاتل کو دیکھ لے تو اسے کچھ نہیں کہتا اور پھر سردی اور گرمی میں دور دراز کے سفروں میں بھی حرم کے با شندے ہونے کی وجہ سے انھیں کوئی کچھ نہیں کہتا۔ (دیکھیے سورة قریش کی تفسیر) کیا اس کے باوجود وہ باطل معبودوں پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں ؟ مزید دیکھیے سورة قصص (٥٧) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

أَوَلَمْ يَرَ‌وْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَ‌مًا آمِنًا (Did they not see that We have made a peaceful sanctuary حَرَم[ haram ] - 67). In the preceding verses it was described that the deeds and actions of the infidels were foolish and irrational. On the one hand, they accept Allah as the sole Creator and master of everything, and on the other they associate their self-chiseled idols with Him. Then, it is not that they just believe Him to be the sole Creator of everything, but they know well that it is only He who brings them out safely from all types of calamities. But after achieving deliverance, they get involved again in associating their idols with Him. Some disbelievers in Makkah used to put forward the plea that although they accepted Islam as the true faith, but if they were converted to it and followed its tenets, they would be risking their lives against the Arab world, who were deadly against Islam. If they became Muslims, the Arabs would pounce upon them and kill them. (Ruh) In reply to this, Allah Ta’ ala said that this was also a bogus excuse, because He had accorded such an honour and eminence to Makkans, that is not available to any people living anywhere in the world. He had made the entire land of Makkah حَرَم haram. All Arabs respected حَرَم haram, whether they were believers or infidels. They all believed that killing was not allowed there. It was not only the killing and fighting that was banned in the حَرَم haram but the hunting and cutting of trees too were not permitted. If any stranger entered the حَرَم haram, his life would be completely secured. Therefore, putting forward the risk of life as justification for non-acceptance of Islam was only a lame excuse.

اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا الآیة۔ اوپر کی آیات میں مشرکین مکہ کی جاہلانہ حرکتوں کا ذکر تھا کہ سب چیزوں کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ کو یقین کرنے کے باوجود پتھر کے خود تراشیدہ بتوں کو اس کی خدائی کا شریک بتاتے ہیں اور صرف تخلیق کائنات ہی کا اللہ تعالیٰ کو مالک نہیں سمجھتے بلکہ آڑے وقت میں مصیبت سے نجات دینا بھی اسی کے اختیار میں جانتے ہیں مگر نجات کے بعد پھر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ان کے کفر و شرک کا ایک عذر بعض مشرکین مکہ کی طرف سے یہ بھی پیش کیا جاتا تھا کہ ہم آپ کے دین کو تو حق و درست مانتے ہیں لیکن اس کی پیروی کرنے اور مسلمان ہوجانے میں ہم اپنی جانوں کا خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ سارا عرب اسلام کے خلاف ہے ہم اگر مسلمان ہوگئے تو باقی عرب ہمیں اچک لے جائیں گے اور مار ڈالیں گے۔ (کما روی عن ابن عباس، روح) اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کا یہ عذر بھی لغو ہے۔ کیونکہ اہل مکہ کو تو حق تعالیٰ نے بیت اللہ کی وجہ سے وہ شرف اور بزرگی دی ہے جو دنیا میں کسی مقام کے لوگوں کو حاصل نہیں ہے۔ ہم نے مکہ کی پوری زمین کو حرم بنادیا ہے۔ عرب کے باشندے مومن ہوں یا کافر سب کے سب حرم کا احترام کرتے ہیں۔ اس میں قتل و قتال کو حرام سمجھتے ہیں حرم میں انسان تو انسان وہاں کے شکار کو قتل کرنا اور وہاں کے درختوں کو کاٹنا بھی کوئی جائز نہیں سمجھتا باہر کا کوئی آدمی حرم میں داخل ہوجائے تو وہ بھی قتل سے مامون ہوجاتا ہے۔ تو مکہ مکرمہ کے باشندوں کو اسلام قبول کرنے سے اپنی جانوں کا خطرہ بتلانا بھی ایک عذر لنگ ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِہِمْ۝ ٠ۭ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَۃِ اللہِ يَكْفُرُوْنَ۝ ٦٧ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ حَرَمُ ( محترم) والحَرَمُ : سمّي بذلک لتحریم اللہ تعالیٰ فيه كثيرا مما ليس بمحرّم في غيره من المواضع وکذلک الشهر الحرام، خطف الخَطْفُ والاختطاف : الاختلاس بالسّرعة، يقال : خَطِفَ يَخْطَفُ ، وخَطَفَ يَخْطِفُ «3» وقرئ بهما جمیعا قال : إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ وذلک وصف للشّياطین المسترقة للسّمع، قال تعالی: فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ [ الحج/ 31] ، يَكادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصارَهُمْ [ البقرة/ 20] ، وقال : وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ [ العنکبوت/ 67] ، أي : يقتلون ويسلبون، والخُطَّاف : للطائر الذي كأنه يخطف شيئا في طيرانه، ولما يخرج به الدّلو، كأنه يختطفه . وجمعه خَطَاطِيف، وللحدیدة التي تدور عليها البکرة، وباز مُخْطِف : يختطف ما يصيده، ( خ ط ف ) خطف یخطف خطفا واختطف اختطافا کے معنی کسی چیز کو سرعت سے اچک لینا کے ہیں ۔ یہ باب ( س ض ) دونوں سے آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ«4» ہاں جو کوئی ( فرشتوں کی ) بات کو ) چوری سے جھپث لینا چاہتا ہے ۔ طا پر فتحہ اور کسرہ دونوں منقول ہیں اور اس سے مراد وہ شیاطین ہیں جو چوری چھپے ملا اعلیٰ کی گفتگو سنا کرتے تھے ۔ نیز فرمایا :۔ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ [ الحج/ 31] پھر اس کو پرندے اچک لے جائیں یا ہوا کسی دور جگہ اڑا کر پھینک دے ۔ يَكادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصارَهُمْ [ البقرة/ 20] قریب ہے کہ بجلی ( کی چمک ) ان کی آنکھوں ( کی بصارت ) کو اچک لے جائے ۔ وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ [ العنکبوت/ 67] اور لوگ ان کے گرد نواح سے اچک لئے جاتے ہیں ۔ یعنی ان کے گرد ونواح میں قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے ۔ الخاف ۔ ( 1) ابابیل کی قسم کا ایک پرندہ جو پرواز کرنے میں کسی چیز کو جپٹ لیتا ہے ۔ ( 2) آہن کج جس کے ذریعے کنوئیں سے ڈول نکالا جاتا ہے گویا وہ ڈول کو اچک کر باہر لے آتا ہے ۔ ( 3) وہ لوہا جس پر کنوئیں کی چرغی گھومتی ہے ۔ ج خطاطیف باز مخطف ۔ باز جو اپنے شکار پر جھٹپتا ہے ۔ الخطیف ۔ تیز رفتاری ۔ الخطف الحشاو مختطفتہ ۔ مرد باریک شکم جس کے وبلاپن کی وجہ سے ایسا معلوم ہو کہ اس کی انتٹریاں اچک لی گئی ہیں ۔ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ حول أصل الحَوْل تغيّر الشیء وانفصاله عن غيره، وباعتبار التّغيّر قيل : حَالَ الشیء يَحُولُ حُؤُولًا، واستحال : تهيّأ لأن يحول، وباعتبار الانفصال قيل : حَالَ بيني وبینک کذا، وقوله تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ [ الأنفال/ 24] ( ح ول ) & الحوال ( ن ) دراصل اس کے معنی کسی چیز کے متغیر ہونے اور دوسری چیزوں سے الگ ہونا کے ہیں ۔ معنی تغییر کے اعتبار سے حال الشئی یحول حوولا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کی شے کے متغیر ہونیکے ہیں ۔ اور استحال کے معنی تغیر پذیر ہونے کے لئے مستعد ہونے کے اور معنی انفصال کے اعتبار سے حال بینی وبینک کذا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ یعنی میرے اور اس کے درمیان فلاں چیز حائل ہوگئی ۔ اور آیت کریمہ :۔ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ [ الأنفال/ 24] اور جان رکھو کہ خدا آدمی اسکے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ۔ بطل البَاطِل : نقیض الحق، وهو ما لا ثبات له عند الفحص عنه، قال تعالی: ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] ( ب ط ل ) الباطل یہ حق کا بالمقابل ہے اور تحقیق کے بعد جس چیز میں ثبات اور پائیداری نظر نہ آئے اسے باطل کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں سے : ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا کے پکارتے ہیں وہ لغو ہیں ۔ نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو مرۃ ہے جو مرۃ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے : ۔ ضر بۃ وشتمۃ اور نعمۃ کا لفظ اسم جنس ہے جو قلیل وکثیر کیلئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔ كفر ( ناشکري) الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وكُفْرُ النّعمة وكُفْرَانُهَا : سترها بترک أداء شكرها، قال تعالی: فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] . وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ، فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] ويقال منهما : كَفَرَ فهو كَافِرٌ. قال في الکفران : لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] ، وقال : وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ کفر یا کفر ان نعمت کی ناشکری کر کے اسے چھپانے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] ؂ تو اس کی کوشش رائگاں نہ جائے گی ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا ۔ اور فعل کفر فھوا کافر ہر دو معانی کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ معنی کفران کے متعلق فرمایا : ۔ لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] تاکہ مجھے آز مائے کر میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوم ۔ اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے ۔ اور جو ناشکری کرتا ہے ۔ تو میرا پروردگار بےپروا اور کرم کر نیوالا ہے ۔ وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152] اور میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

کیا مکہ والوں کی اس پر نظر نہیں کہ ہم نے ان کے شہر کو دشمنوں کے خوف سے امن والا بنایا اور ان کے گرد و پیش کے مقامات کے لوگوں کو مار دھاڑ کر ان کے گھروں سے نکال دیا جاتا ہے بجائے ان کے کہ حدود حرم میں دشمن بھی ان پر داخل نہیں ہوتا۔ پھر کیا ٹھکانا کہ یہ لوگ شیطان اور جھوٹے معبودوں کی تصدیق کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی جو اس نے حرم میں ان کو دی ہیں ناشکری کرتے ہیں کہ سرے سے وحدانیت خداوندی ہی کا انکار کرتے ہیں۔ شان نزول : اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا (الخ) جبیر نے بواسطہ ضحاک حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ کفار نے عرض کیا اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں آپ کے دین میں داخل ہونے سے یہی امر مانع ہے کہ ہماری کمی کی وجہ سے لوگ ہمیں اچک لیں گے کیونکہ عرب کی کثرت ہے تو جب ان کو یہ معلوم ہوگا کہ ہم نے آپ کے دین کو اختیار کرلیا تو ہمیں اچک لیں گے سو ایسی صورت میں ہم سب کا لقمہ بن جائیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی کیا ان لوگوں کی اس بات پر نظر نہیں کہ ہم نے ان کے شہر مکہ کو امن والا حرم بنایا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٧ (اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا) ” یہاں مخاطب اہل ایمان ہیں لیکن بات مشرکین مکہ کی ہو رہی ہے۔ (وَّیُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِہِمْ ط) ” اللہ نے حدود حرم کو امن کی جگہ بنا رکھا ہے جس کی برکات سے یہ لوگ مسلسل مستفیض ہو رہے ہیں جبکہ باقی پورے عرب میں امن وامان نام کی کوئی چیز کہیں نظر نہیں آتی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

105 That is, Has the City of Makkah, in whose surroundings they enjoy perfect safety and security, been made a sacred place by some Lat or Hubal? Was it possible for a god or goddess to have secured this place against all sorts of mischief and violence for 2,500 years or so, in a strife-ridden land like Arabia? Who could then keep and maintain its sacredness and sanctity except Us?

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 105 یعنی کیا ان کے شہر مکہ کو جس کے دامن میں انہیں کمال درجے کا امن میسر ہے ، کسی لات یا ہبل نے حرم بنایا ہے؟ کیا کسی دیوی یا دیوتا کی یہ قدرت تھی کہ ڈھائی ہزار سال سے عرب کی انتہائی بد امنی کے ماحول میں اس جگہ کو تمام فتنوں اور فسادوں سے محفوظ رکھتا ؟ اس کی حرمت کو برقرار رکھنے والے ہم نہ تھے تو اور کون تھا ؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

37: پچھلی سورت یعنی سورۂ قصص :57 میں گذرا ہے کہ مشرکین مکہ اپنے ایمان نہ لانے کا ایک بہانہ یہ پیش کرتے تھے کہ اگر ہم ایمان لے آئے تو سارا عرب جو اس وقت ہماری عزت کرتا ہے، ہمارا مخالف ہوجائے گا، اور ہمیں اپنی سرزمین سے نکال کر باہر کرے گا۔ اس آیت میں اول تو اس بہانے کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی مکہ مکرمہ کو حرم بنا کر اسے اتنا پر امن علاقہ بنا دیا ہے کہ وہاں کوئی قتل و غارت گری کی جرات نہیں کرتا، حالانکہ اس کے ارد گرد اچھے خاصے لوگوں کو دن دہاڑے اچک کر قتل اور لوٹ مار کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لہذا جب تمہاری نافرمانی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ چین کی زندگی دے رکھی ہے تو جب تم اس کے فرماں بردار بن جاؤگے تو کیا وہ تمہیں اس نعمت سے محروم کردے گا؟ دوسرے اس آیت نے اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ مکہ مکرمہ کو کیا کسی بت نے یا دیوتا نے حرم بنا دیا تھا جو تم ان کی عبادت کے پیچھے پڑے ہوئے ہو؟ یقیناً اس خطے کو یہ تقدس تو اللہ تعالیٰ ہی نے عطا فرمایا ہے۔ پھر خود سوچ لو کہ عبادت کے لائق کون ہے؟

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(29:67) اولم یروا میں ضمیر جمع مذکر غائب مشرکین مکہ کی طرف راجع ہے۔ حرما۔ حرم ۔ پناہ کی جگہ۔ ادب کا مقام۔ مکہ معظمہ کا ایک مخصوص حصہ جس کی حدود میں اس کے ادب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کو حرام کردیا۔ امنا : امن سے اسم فاعل واحد مذکر۔ امن والا۔ پر امن۔ انا جعلنا حرما امنا۔ ہم نے بنادیا حرم کو امن والا۔ اسی مضمون میں اور جگہ ارشاد ہے :۔ وقالوا ان نتبع الھدی نتخطف من ارضنا اولم نمکن لہم حرما امنا (28:57) اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ ہوکر ہدایت پر چلنے لگیں تو اپنی سر زمین سے اچک لئے جائیں (یعنی مار کر نکال دئیے جائیں) ۔ یتخطف مضارع مجہول واحد مذکر غائب تخطف مصدر (باب تفعل) اچک لئے جاتے ہیں جھپٹ لئے جاتے ہیں ۔ ثلاثی مجرد میں باب سمع و ضرب دونوں سے آتا ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے : یکاد البرق یخطف ابصارھم (2:20) قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے۔ یتخطف الناس من حولہم۔ اور لوگ ان کے گردو نواح سے اچک لئے جاتے ہیں۔ یعنی ان کے گرد و نواح میں قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے۔ بنعمۃ۔ میں نعمت بطور اسم جنس کے آیا ہے مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی جملہ نعمتیں ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

13 کہ امن سے زندگی گزار رہے ہیں اور مکہ کو امن وامان کی جگہ ہمیں نے بنایا ہے نہ کہ کسی اور نے۔ (دیکھئے سورة بقرہ :125 ۔ انفال :26)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی شہر مکہ کو۔ 6۔ کیونکہ شرک سے بڑھ کر کوئی ناشکری نہیں کہ نعمت تخلیق و ترزیق و ابقاء و تدبیر وغیرہ وہ عطا فرماوے اور عبادت جو کہ ان نعمتوں کا شکر ہے دوسرے کے لئے تجویز کی جاوے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین کا ضمیر جھنجھوڑنے کے بعد انہیں ایک احسان یاد کروا کر سمجھایا گیا ہے۔ مشرکین مکہ کو جو بھی مقام حاصل تھا، اس کا پہلا اور بڑا سبب بیت اللہ کی تولیت اور مکہ معظمہ کا باسی ہونا تھا، اسی وجہ سے دنیا بھر کے پھل اور اناج مکہ میں پہنچتے ہیں، اسی بنا پر لوگ مکہ والوں کا احترام کرتے اور اسی سبب سے ہی انہیں ہر طرح کا امن حاصل تھا اور ہے۔ حالانکہ اس زمانے میں حجاز کے علاقہ میں دن دہاڑے سفر کرنا انتہائی مشکل تھا۔ قافلوں کی صورت میں سفر کرنے کے باوجود لوگ حفاظتی گارڈ اپنے ساتھ رکھتے تھے، اس کے باوجود ڈاکوؤں، قذاقوں سے بچ نکلنا ایک معجزہ سے کم نہ تھا، اس بدامنی اور انارگی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے انہیں احساس دلایا گیا کہ غور کرو ! کہ جو احترام اور امن تمہیں حاصل ہے وہ کعبہ کی بدولت اور اس کے رب کے کرم کا نتیجہ ہے، چاہیے تو یہ تھا کہ تم کعبہ کے رب پر ایمان لاتے اور اس کا شکر ادا کرتے لیکن تم کعبہ کے رب کے منکر ہو اور بتوں کے بارے میں کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کچھ اختیارات دے رکھے ہیں۔ حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا ہے، یاد رکھو ! جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولے یا اس کی طرف سے آئے ہوئے حق کو جھٹلائے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہوسکتا۔ ظالموں کے لیے سوائے جہنم کے کوئی اور ٹھکانہ نہیں ہوگا۔ (عَنْ صُفَیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَخْطُبُ عَامَ الْفَتْحِ فَقَالَ یَاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ مَکَّۃَ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضَ فَھِیَ حَرَامٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یُعْضَدُ شَجَرُھَا وَلَایُنَفَّرُ صَیْدُھَا وَلَایَاْخُذُلُقْطَتَھَا الاَّ مُنْشِدٌفَقَالَ الْعَبَّاس الاَّ الْاِذْخِرَ فَاِنَّہٗ لِلْبُیُوْتِ وَالْقُبُوْرِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِلاَّ الْاِذْخِرَ ) [ رواہ ابن ماجہ : باب فَضْلِ مَکَّۃَ ] ” حضرت صفیّہ بنت شیبہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے فتح مکہ کے سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب فرماتے ہوئے سنا آپ فرما رہے تھے کہ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے لے کر قیامت کے دن تک مکہ کو حرمت والا بنایا ہے۔ اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے۔ یہاں کی گری ہوئی چیز صرف وہی اٹھا سکتا ہے جو اعلان کروانے کی غرض سے اٹھائے۔ عباس (رض) نے عرض کی اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اذخر بوٹی گھروں اور قبروں میں استعمال ہوتی ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اذخر بوٹی کاٹنے کی اجازت دے دی۔ “ ” حضرت انس (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مدینہ مقام عَیْرسے ثور تک حرمت والا ہے۔ اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ اس میں کسی بدعتی کو جگہ دی جائے۔ جس نے کوئی بدعت رائج کی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت برستے رہے گی۔ “ [ رواہ الخاری : باب حَرَمِ الْمَدِینَۃِ ] مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو امن والا شہر بنایا ہے۔ ٢۔ مشرک اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی بجائے غیر اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کسی فرد یا قوم کو امن نصیب فرمائے تو اسے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ ٤۔ شرکیہ عقیدہ رکھنا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔ ٥۔ مشرک سب سے بڑا ظالم ہوتا ہے اور ظالموں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ تفسیر بالقرآن بیت اللہ اور مکہ کی عظمت : ١۔ بیت اللہ دنیا میں پہلا گھر ہے جو بابرکت اور ہدایت کا مرکز ہے۔ (آل عمران : ٩٦) ٢۔ بیت اللہ امن کا گہوارہ ہے۔ (البقرۃ : ١٢٥) ٣۔ بیت اللہ کے باسیوں سے محبت کی جاتی ہے (القریش : ١) ٤۔ بیت اللہ کے طواف کا حکم۔ (الحج : ٢٩) ٥۔ قسم ہے اس امن والے شہر کی۔ (التین : ٣) ٦۔ لوگ پیدل، سوار اور دور سے اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ (الحج : ٢٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اولم یروا انا جعلنا ۔۔۔۔۔۔ یکفرون (29: 67) اہل مکہ کی حالت یہ تھی کہ وہ حرم مکی کی وجہ سے نہایت ہی امن و سکون سے زندگی بسر کرتے تھے۔ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے ان کی تعظیم کرتے تھے۔ ان کے اردگرد جو عرب قبائل تھے وہ ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے اور ان میں سے ہر ایک کے دل میں دوسرے کا خوف ہوتا تھا۔ ان کو اگر امان نصیب ہوتا تھا تو بیت اللہ کے سائے میں ہوتا تھا۔ اور یہ امان اللہ نے دیا تھا لیکن یہ بہت بڑی ناشکری کی بات تھی کہ یہ لوگ بیت اللہ کو بتوں کا اڈہ بنا دیں اور بیت اللہ میں غیر اللہ کی بندگی ہوتی رہے۔ افبالباطل ۔۔۔۔۔۔ یکفرون (29: 67) ” کیا پھر بھی یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں “۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل مکہ پر امن وامان کا خصوصی انعام اہل مکہ بھی شرک میں مبتلا تھے، اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ انعام فرمایا تھا کہ وہ امن و چین سے اپنے شہر میں رہتے تھے جبکہ عرب کے دوسرے علاقوں میں لڑائیاں رہتی تھیں قتل خون لوت مار غارٹ گری کا سلسلہ قبائل عرب میں جاری تھا۔ اہل عرب اگرچہ مشرک تھے لیکن حرم مکہ کو محترم جانتے تھے اور اہل مکہ پر کوئی حملہ نہیں کرتے تھے، اہل مکہ پر اس کی قدر دانی کرنا لازم تھا، جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے توحید کی دعوت دی تو انہیں سب سے پہلے مسلمان ہونا چاہیے تھا، ان پر لازم تھا کہ انہیں امن وامان سے رکھنے پر بھی اللہ کا شکر ادا کرتے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نبی مبعوث ہوا جو کہ انہیں میں سے تھا اس پر ایمان لے آتے لیکن وہ حسب سابق باطل معبودوں کی پرستش میں لگے رہے جن کی عبادت میں پہلے سے مشغول تھے۔ اسی کو فرمایا (اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا) (کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو امن والی جگہ بنادیا) (وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِھِمْ ) (اور ان کے آس پاس لوگوں کو اچک لیا جاتا ہے) (اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ ) (کیا باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کے منکر ہوتے ہیں) (وَ بِنِعْمَۃِ اللّٰہِ یَکْفُرُوْنَ ) (اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ) مشرکین کا عجیب حال تھا اور اب بھی ہے کہ پیدا تو اللہ نے فرمایا اور وہی رزق دیتا ہے اور پرورش فرماتا ہے اور حاجتیں پوری فرماتا ہے جس کا اقرار بھی کرتے ہیں لیکن پھر بھی کفر و شرک اختیار کیے رہتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

56:۔ اہل مکہ پر ایک اور بہت بڑے انعام کا ذکر فرمایا یعنی وہ دلائل میں بھی غور و تدبر کریں اور ہمارے احسانات بھی دیکھیں کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے ان کے شہر کو حرم محترم اور مقام امن بنا دیا ہے سارا عرب بیت اللہ کی وجہ سے مکہ والوں کی عزت کرتا اور ان کے مال و جان اور عزت و آبرو کو ہاتھ نہیں ڈالتا جبکہ ان کے گرد و نواح میں رہنے والے دوسرے لوگوں کا مال و جان محفوظ نہیں۔ آئے دن قتل و غارت کا بازار گرم رہتا ہے۔ مگر یہ اہل مکہ اللہ تعالیٰ کے عظیم احسانات کی قدر بھی نہیں کرتا اور خود ساختہ معبودوں کو کارساز سمجھتے اور اللہ کی نعمتوں کی بےقدری کرتے ہیں۔ افبالباطل یومنون الخ کیا ان دلائل اور احسانات کے باوجود وہ باطل یعنی خود ساختہ معبودوں کو کارساز سمجھتے رہیں گے اور ہمارے احسانات کی ناشکری کرتے رہیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

67۔ کیا ان کفار مکہ نے اس بات کو نہیں دیکھا اور انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ ہم نے حرم مکہ کو پناہ اور امن کی جگہ بنا دیاحالان کہ انہی ساکنان حرم کے ارد گرد اور قرب و جو ار کے لوگ اچک لئے جاتے ہیں اور لوٹے مارے جاتے ہیں تو کیا اس پر بھی یہ لوگ باطل اور بےاصل معبودوں پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات کی نا شکری اور کفران نعمت کرتے ہیں ۔ ہم سورة قصص میں کہہ چکے ہیں کہ مکہ کے حرم کا سب لوگ احترام کرتے تھے اور حرم کے رہنے والوں کو لوٹتے نہیں تھے اور نہ قبل کرتے تھے اور یہ اللہ تعالیٰ کا اہل مکہ پر بڑا احسان تھا آس پاس کے لوگوں کو ڈاکو مارتے بھی تھے لوٹتے بھی تھے اور ان کو نکال بھی دیتے تھے لیکن حرم میں رہنے والوں پر آنچ بھی نہ آتی تھی اللہ کے اس کھلے ہوئے احسان کا مقتضی یہ تھا کہ یہ اس ایمان لاتے اور اس وحدہٗ لا شریک کے ساتھ شرک نہ کرتے لیکن یہ بدنصیب پھر بھی بتوں پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفران نعمت کا برتائو کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مکہ کے لوگ اللہ کے گھر کے طفیل دشمنوں سے پناہ میں تھے اور سارے ملک عرب میں فساد تھا بتوں کے جھوٹے احسان مانتے ہیں یہ سچا احسان اللہ کا نہیں مانتے۔ 12