Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 104

سورة آل عمران

وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۰۴﴾

And let there be [arising] from you a nation inviting to [all that is] good, enjoining what is right and forbidding what is wrong, and those will be the successful.

تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چائیے جو بھلائی کی طرف بُلائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور بُرے کاموں سے روکے ، اور یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Command to Establish the Invitation to Allah Allah said, وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ ... Let there arise out of you a group of people, ... يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ... inviting to all that is good (Islam), enjoining Al-Ma`ruf (all that Islam orders) and forbidding Al-Munkar (all that Islam has forbidden). that calls to righteousness, enjoins all that is good and forbids evil in the manner Allah commanded. ... وَأُوْلَـيِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ And it is they who are the successful. Ad-Dahhak said, "They are a special group of the Companions and a special group of those after them, that is those who perform Jihad and the scholars." The objective of this Ayah is that there should be a segment of this Muslim Ummah fulfilling this task, even though it is also an obligation on every member of this Ummah, each according to his ability. Muslim recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah said, مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِع فَبِقَلْبِهِ وَذلِكَ أَضْعَفُ الاِْيمَان Whoever among you witnesses an evil, let him change it with his hand. If he is unable, then let him change it with his tongue. If he is unable, then let him change it with his heart, and this is the weakest faith. In another narration, The Prophet said, وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الاِْيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَل There is no faith beyond that, not even the weight of a mustard seed. Imam Ahmad recorded that Hudhayfah bin Al-Yaman said that the Prophet said, وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِه لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابًا مِنْ عِنْدِهِ ثُمَّ لتَدْعُنَّــهُ فَلَا يَسْتَجِيبَ لَكُم By He in Whose Hand is my soul! You will enjoin righteousness and forbid evil, or Allah shall send down a punishment from Him to you. Then, you will supplicate to Him, but He will not accept your supplication. At-Tirmidhi also collected this Hadith and said, "Hasan". There are many other Hadiths and Ayat on this subject, which will be explained later. The Prohibition of Division Allah said,

یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہد اور علماء امام ابو جعفر باقر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے ، یاد رہے کہ ہر ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کر سکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے ، ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ، ( صحیح مسلم ) مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اچھائی کا حکم اور برائیوں سے مخالفت کرتے رہو ورنہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل فرما دے گا پھر تم دعائیں کرو گے لیکن قبول نہ ہوں گی ۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جو کسی اور مقام پر ذکر کی جائیں گی انشاء اللہ تعالیٰ ۔ پھر فرماتا ہے کہ تم سابقہ لوگوں کی طرح افتراق و اختلاف نہ کرنا تم نیک باتوں کا حکم اور خلاف شرع باتوں سے روکنا نہ چھوڑنا ، مسند احمد میں ہے حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج کیلئے جب مکہ شریف میں آئے تو ظہر کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اہل کتاب اپنے دین میں اختلاف کر کے بہتر گروہ بن گئے اور اس میری امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے خواہشات نفسانی اور خوش فہمی میں ہوں گے بلکہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی رگ رگ میں نفسانی خواہشیں اس طرح گھس جائیں گی جس طرح کتے کے کاٹے ہوئے انسان کی ایک ایک رگ اور ایک ایک جوڑ میں اس کا اثر پہنچ جاتا ہے اے عرب کے لوگو اگر تم ہی اپنے نبی کی لائی ہوئی چیز پر قائم نہ رہو گے تو اور لوگ تو بہت دور ہو جائیں گے ۔ اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں پھر فرمایا اس دن سفید چہرے اور سیاہ منہ بھی ہونگے ۔ ابن عباس کا فرمان ہے کہ اہل سنت و الجماعت کے منہ سفید اور نورانی ہونگے مگر اہل بدعت و منافقت کے کالے منہ ہونگے ، حسن بصری فرماتے ہیں یہ کالے منہ والے منافق ہونگے جن سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان کے بعد کفر کیوں کیا اب اس کا مزہ چکھو ۔ اور سفید منہ والے اللہ رحیم و کریم کی رحمت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب خارجیوں کے سر دمشق کی مسجد کے زینوں پر لٹکے ہوئے دیکھے تو فرمانے لگے یہ جہنم کے کتے ہیں ان سے بدر مقتول روئے زمین پر کوئی نہیں انہیں قتل کرنے والے بہترین مجاہدین پھر آیت ( يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ ) 3 ۔ آل عمران:106 ) تلاوت فرمائی ، ابو غالب نے کہا کہ جناب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے ؟ فرمایا ایک دو دفعہ نہیں بلکہ سات مرتبہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں اپنی زبان سے یہ الفاظ نکالتا ہی نہیں ، ابن مردویہ نے یہاں حضرت ابو ذر کی روایت سے ایک لمبی حدیث نقل کی ہے جو بہت ہی عجیب ہے لیکن سنداً غریب ہے ۔ دنیا اور آخرت کی یہ باتیں ہم تم پر اے نبی کھول رہے ہیں اللہ عادل حاکم ہے وہ ظالم نہیں اور ہر چیز کو آپ خوب جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت بھی رکھتا ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ کسی پر ظلم کرے ( جن کے کالے منہ ہوئے وہ اسی لائق تھے ) زمین اور آسمان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں اور ہر کام کا آخری حکم اسی کی طرف ہے متصرف اور با اختیار حکم دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٥] امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ امت مسلمہ کی اجتماعی زندگی کا ایک نہایت اہم ستون ہے اسی لیے کتاب و سنت میں بہت سے مقامات پر اس کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر خلافت کے مستحقین کا ذکر فرمایا تو ان کی صفات میں اقامت صلٰوۃ اور ایتائے زکوٰۃ کے بعد تیسرے نمبر پر اسی صفت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ذکر فرمایا (٢٢ : ٤١) اس لیے بعض علماء نے اس فریضہ کو فرض عین قرار دیا ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ ہر مسلمان اپنی اپنی علمی سطح اور صلاحیت کے مطابق یہ فریضہ بجا لاسکتا ہے اور یہ بات بھی بالکل درست اور بہت سی احادیث صحیحہ سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ تاہم اس آیت میں جس فرقہ کا ذکر کیا جارہا ہے۔ اس سے مراد ایسے لوگ ہیں۔ جو علوم شریعت کے ماہر اور دعوت کے آداب سے واقف ہوں اور ان کی زندگی کا وظیفہ ہی یہ ہونا چاہئے کہ وہ لوگوں کو اچھے کاموں کا حکم دیا کریں اور برے کاموں سے روکتے رہیں۔ نیز ( وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۭوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ١٠٤۔ ) 3 ۔ آل عمران :104) سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر خواہ کتنا ہی اہم فریضہ ہے تاہم فرض عین نہیں ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوط پکڑنے اور اختلاف و ضلالت سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ تم میں سے ایک جماعت نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کا فریضہ سر انجام دیتی رہے۔ جب تک اس قسم کی جماعت قائم رہے گی، لوگ ہدایت پر رہیں گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے وہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے، پھر اگر طاقت نہ رکھے تو اپنی زبان سے، پھر اگر طاقت نہ رکھے تو اپنے دل سے اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔ “ [ مسلم، الإیمان، باب بیان کون النھی عن المنکر۔۔ : ٤٩، عن أبی سعید الخدری (رض) ] شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں پر فرض ہے کہ ایک جماعت قائم رہے جہاد کرنے کے لیے اور دین کا تقید کرنے ( پابندی کرنے اور کروانے) کے لیے، تاکہ کوئی دین کے خلاف نہ کرے اور جو اس کام پر قائم ہوں وہی کامیاب ہیں اور یہ کہ کوئی کسی سے واسطہ نہ رکھے ” موسیٰ بدین خود، عیسیٰ بدین خود “ (موسیٰ اپنے دین پر اور عیسیٰ اپنے دین پر) یہ راہ مسلمان کی نہیں ہے۔ “ (موضح) یہ تفسیر ” مِّنْكُمْ “ کے ” من “ کو بعض کے معنی میں لینے کی صورت میں ہے جیسا کہ عام طور پر ” وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ“ میں من کو تبعیض کے لیے سمجھا جاتا ہے۔ اس کی تفسیر کی رو سے مسلمانوں کی ایک جماعت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے کافی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فرمان ”ۭوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ “ سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ امت کے ہر فرد پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض ہے کیونکہ آخر میں فرمایا کہ کامیاب صرف وہ ہیں جو یہ فریضہ سرانجام دیں اور ظاہر ہے کہ کامیابی کی ضرورت ہر مسلمان کو ہے۔ اس لیے یہاں مّنْكُمْ کے ” من “ کو بیانیہ ماننا پڑے گا اور یعنی یہ ہوگا کہ اے مسلمانو ! تمہاری صورت میں ایک ایسی جماعت ہونا لازم ہے جو نیکی کا حکم دیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary In the previous verses (102 - 103), Muslims were given two principles which guarantee their collective wellbeing. If everyone practiced Taqwa and made Islam his linkage with Allah,-the result will be that individual life will be corrected and the collective strength of Muslims will come in its wake. In the present verses&: وَلْتَكُن مِّنكُمْ (104 - 105), yet another dimension of the proposed system has been added. It has been said here that Muslims are not to rest at the correction of what they think and do individually; but they should, along with that, be affectionately concerned with the good of other brothers and sisters in faith. By doing so, the whole community shall have the benefit of keeping its stance correct at all times, and at the same time, this will guarantee closer mutual cooperation and unity. Collective well-being of Muslims depends on two things: These are: L Self-correction through Taqwa and a firm hold on the &cord of Allah& through the Qur&an and the Faith. 2. The correction of others through call دعوۃ (da&wah) and positive propagation. The second article of guidance appears in the opening verse which says: and there has to be a group of people from among you ...& So, the gist of the previous and the present verses is that one must correct his or her deeds and morals in the light of what Allah Almighty has sent as the Law, and with it, one must be concerned that other Muslim brothers and sisters do the same. The subject appears in Surah al-` Asr: إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ‌ ﴿٢﴾ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ‌ ﴿٣﴾ Except those who believe and do good deeds and invite each other to truth and invite each other to patience. (103:2, 3) In order that Muslims have a firm bond of unity, they must relate to Allah, and in order that this bond stays firm through the ages, it is necessary that Muslims consider it their obligation to enjoin what is good in accordance with the dictates of the Qur&an and the Sunnah on their brothers and sisters in faith, and to stop them from what is not good. The purpose is that &the cord of Allah& should not slip out of one&s hands. This was succinctly illustrated by my well-known teacher, Shaykh al-Islam, Maulana Shabbir Ahmad ` Uthmani (رح) who said: |"There is no way this &cord of Allah& can break. That one loses his hand-hold on it is, of course, possible.|" It is to offset this danger that the Holy Qur&an asks Muslims to go on educating other brothers and sisters in faith exhorting them to good deeds and holding them back from the bad ones. This will become a collective effort to stay with Allah and His commands and collective will be their gains in this mortal world and in the Hereafter. There are other proofs in the Holy Qur&an which show that the responsibility of mutual self-correction has been placed on the shoulders of each Muslim. Cited above, you have seen the statement made in Su-rah al-&Mr. Elsewhere, in this very Surah ` Al-` Imran, it is said: كُنتُمْ خَيْرَ‌ أُمَّةٍ أُخْرِ‌جَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُ‌ونَ بِالْمَعْرُ‌وفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ‌ You are the best Ummah raised for mankind. You bid the Fair and forbid the Unfair. (3:110) As is clear, here too, the obligation - to bid the Fair and forbid the_ Unfair& - has been assigned to the whole community. That they discharge this responsibility is the reason that they are placed higher over other communities. Similarly, there are a large number of sayings of the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم in this connection. As narrated in Tirmidhi and Ibn Majah, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said: والذی نفسی بیدہ لتامرون و لتنھون عن المنکراو لیوشکن اللہ ان یبعث علیکم عقابا من عندہ ثم لتدعنہ فلا یستجیب لکم By Him in whose hands is my life, you must bid the Fair and forbid the Unfair lest Allah inflicts upon you a severe punish-ment; you shall then pray to Him (for mercy) but your prayer shall not be answered. In another hadith, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: من رای منکم منکراً فیغیرہ بیدہ ، فان لم یستطع فبلسانہ، وان لم یستطع فبقلبہ ، وذلک اضعف الایمان Whoever from among you sees that an evil is being committed then, he should change it with his hands. And if he is unable to do that, then, with his spoken word. And if he is unable to do even that, then, with his heart (i.e., abhor it taking it to be evil) and this is the weakest degree of faith. All these citations leave no doubt about the fact that the duty of bidding the Fair and forbidding the Unfair falls on every individual of the community. The liability will, however, be proportionate to everyone&s ability, which is true in the case of all other Islamic injunc¬tions. You may have noticed in the hadith just quoted above that the obligation varies with ability. Now, each function requires a different ability. First of all, the ability to bid the Fair depends on a correct knowledge of the Fair and the Unfair as such. One who cannot distinguish between the two or does not have a full knowledge of his undertaking would not be the right person to go out to others to bid the Fair and forbid the Unfair. Obviously, this would create disorder instead of discipline. It is quite possible that such a person may, because of his lack of knowledge, forbid something Fair or bid something Unfair. So, one who does not know the Fair and the Unfair is obligated to find it out, get to learn the معروف Ma` ruf and منکر Munkar as determined by the Shari` ah of Islam and then he can go ahead and make these known to others as part of his community service. Let this be clear that until such time that one has acquired the prerequisites of this mission, it is not permissible for him to stand up for this service. These days there are places where many ignorant enthusiasts would stand and deliver a sermon without knowing the Qur&an or the Hadith, or worse still, sections of common people would use hearsay to pick up arguments with others as to how something should or should not be done. This method is not proper to correct the Muslim society. Indeed it will result in more disputes and bring destruction to it. Similarly, it is also included in &to bid the Fair& that there be no formidable danger or unbearable harm likely to affect the person involved. Therefore, it was said in the hadith quoted above that one should stop sin with his hands, that is, by this strength. If he is unable .to do so, let him do it with his tongue. If he is unable to do so with his tongue, he should at the least consider it bad in his heart. It is obvious that ¬ being able to stop it with his tongue& does not just mean that this person&s tongue cannot move. It simply means that he strongly apprehends that, should he open his mouth and speak the truth, his life will be taken or he will be subjected to some other serious injury or loss. In such a case, this person will not be taken as &able& and he will not be called a sinner for the abandonment of bidding the Fair and forbidding the Unfair. It would be an entirely different matter, if he elects to stake his life and property in the way of Allah, bear all losses and still goes ahead and bids the Fair and forbids the Unfair, which is something many blessed Companions and their Successors have been reported to have done. This is determination at its highest, and a feat of great merit which raised their status in this world and in the Here-after. But, what they did was not obligatory on them. The nature of this obligation requires that one bid the Fair and forbid the Unfair in what is necessary; this would be obligatory. If done in what is commendable; the act too would remain commendable. For instance, the five salats are obligatory, therefore, giving good counsel to the non-performer of salah will become necessary on everyone. The nawafil (optional prayers) are classed as commendable or desirable, therefore, giving good counsel on these will be commendable. Here, etiquette would require that while advising someone to do a commendable act, soft language and attitude must be adopted in all cases. Similarly, while inviting to an obligatory act, one should start with softness. However, he may resort to firmness in attitude if one rejects the soft call outright. It is common sight these days that people tend to object in case of what is commendable or indifferent rather strongly, but remain silent when people abandon what is obligatory. In addition to this, this obligation will become operative for everybody when one actually sees something forbidden being done before his eyes. For instance, there is a person who is seeing that a Muslim is drinking wine, or stealing or raping, he will then be obligated with the duty to stop it to the best of his ability. If all this is not happening before his eyes, he is not liable to discharge this duty. Rather, this is the duty of the Islamic government to inquire into the crime, investigate and punish the criminal. The words of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، من رای منکم منکراً (Whoever from among you sees that an evil is being committed) point out to this principle. Then comes another level of this function - that there be a dedi¬cated group among Muslims devoted exclusively to the mission of calling people to the Faith and giving them right guidance towards it. Its single mandate and activity should be that it keeps calling people to the Qur&an and the Sunnah through word and deed. When it sees people less inclined towards what is good, or sees them indulging in evils, it should not fall short of pointing out what is good and preventing people from taking to the evil, of course, according to its ability. It should be realized that this great mission can be carried out fully and effectively only when the performers have a complete knowl¬edge of questions involved, as well as, when they are conversant with methods that go to make the call effective in the light of Sunnah. It is for this reason that a particular group of Muslims has been charged with this responsibility as they are likely to take care of all ramifications of this effort. So, in the present verse: وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ‌ وَيَأْمُرُ‌ونَ بِالْمَعْرُ‌وفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ‌ it has been said: And there has to be a group of people from among you who call towards the good and bid the Fair and forbid the Unfair. The first part of the verse& وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ translated as (And there has to be a group of people from among you) gives a hint that the presence of this group is necessary. In case, a government does not shoulder this responsibility, it will become obligatory on Muslims that they should establish and operate such a group, because the vital role of the Ummah depends on the existence of such a group. What are the major features of this group? The Qur&anic answer is يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْر (who call towards the good). It means that this call of theirs shall be their primary objective. What does خیر &khayr& or &good& mean? The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has himself explained it by saying: الخیر ھو اتباع القرآن و سُنَّتی that is, &khayr& means following the Qur&an and my Sunnah. (Ibn Kathir) Seen in a restricted sense, &to bid the Fair and to forbid the Unfair& could have been taken to mean that doing so shall be needed only on special occasions when the evil or &the Unfair& منکرات (munkarat) are seen being committed. But, the expression يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْر who call towards the good) in the beginning makes it clear that the function of this group wi11 be to call towards the good, even when evil practices are not seen, or time may not have come to perform something obligatory. For example, it is known that in the period between sunrise and Zawal (noon) no salah is prescribed by the Sharl&ah. But this group shall continue even in this period, to exhort people to perform salah when it is due. Or, take fasting which may not be due at a particular time, the month of Ramadan being far away, but that group will not shelve its duty and become complacent. Instead, it will keep reminding people about the month of Ramadan in advance, stressing on them that fasting will be obligatory at that time. In short, calling people to good will be the intrinsic duty of this group for all times to come. Then, this &call towards good& has two sub-levels: 1. Calling non-Muslims towards &khayr&, that is, Islam. This involves all Muslims. It means that every Muslim, in general, and this group, in particular, is responsible for giving the call of Islam, both by words and acts, to all peoples of the world. Therefore in a verse which enjoins jihad on Muslims, the true Muslims have been defined and praised in the following words: الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُ‌وا بِالْمَعْرُ‌وفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ‌ that is, &true Muslims are those who when We endow them with authority in a land the first thing they do is to establish a system of obedience to Allah on His earth, of which salah is an outward expres¬sion, and raise their financial system on principles governed by zakah, and they make the bidding of the Fair and the forbidding of the Unfair their very purpose of life.& (22:41) Only if, the Muslim community of today were to take to extending their call towards good to other peoples as their objective, all ills that have crept into our social frame through the blind following of non Muslim nations shall cease to exist. When a community resolves to unite for this great objective and becomes sure that it has to forge ahead among the nations of the world and that the responsibility of teaching and training them falls on its shoulders, will find that all its disunities have disappeared and there remains nothing but that wonderful goal in sight. The secret of the successes achieved by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his noble Companions (رض) lies hidden behind this effort. It appears in a hadith that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) recited this verse وَلْتَكُن مِّنكُمْ (And there has to be a group of people from among you) and then said: This special group is the group of the noble Companions (Ibn Jarir). This is because each individual from among these blessed souls considered himself personally charged with the responsibility of calling people to good.. 2. The second sub-level of this noble function is to call Muslims themselves towards the good. This means that تبلیغ tabligh or the act of conveying the message of Allah should be done by all Muslims gener¬ally, and by the special group particularly, among Muslims, fulfilling the duty of دعوۃ da&wah imposed by the Qur&an. Again this call takes two forms as given below: a). The first form will be that of a general and open call to good through which all Muslims will be educated into necessary injunctions and morals which have to be followed in Islam. b). The second call would be particular and selective through which the objective will be to produce experts in the Muslim commu¬nity, experts in the sciences of the Qur&an and the Sunnah. Another verse of the Holy Qur&an leads in this direction: فَلَوْلَا نَفَرَ‌ مِن كُلِّ فِرْ‌قَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُ‌وا قَوْمَهُمْ إِذَا رَ‌جَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُ‌ونَ So, why should it not be that a group from every section of them goes forth, so that they may acquire perfect under-standing of the Faith, and so that they may warn their people . when they return to them, that they may be cautious. (9:122) Further on, this responsibility-bearing group has been identified as carrying the additional distinction وَيَأْمُرُ‌ونَ بِالْمَعْرُ‌وفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ that is, &they bid the Fair and forbid the Unfair&. The word, معروف &ma` ruf literally means &recognized& but as a Qur&anic term it includes all good enjoined by Islam, and promoted by all prophets (علیہم السلام) during their respective ages. Since what is good is known and recognized, it has been referred to as معروف &ma` ruf . Similarly, the word, منکر &munkar& literally means &non-recognized|" or alien|", but as a Qur&anic term it includes all evils and disorders about which it is well-known and recognized that the Holy Prophet declared them to be impermissible. Keeping this in view, another point is worth-consideration. The Holy Qur&an could have used the word &wajib& (what is obligating) instead of معروف &ma` ruf, and the word معاصی &ma` asi (sins) instead of &munkar&., but it did not do so. The selection of the words معروف &ma’ ruf and منکر &munkar& maybe indicative of the principle that the subject of bidding the Fair and forbidding the Unfair1 must be an act which is recognized by the entire Muslim Ummah as &fair& or &unfair& without any difference of interpre¬tation. As for the rules deduced through اجتہاد ijtihad, which have always been open for the different interpretations offered by the capable Muslim jurists, they should not be made an issue during the process of الامر بالمعروف والنھیٰ عن المنکر : &bidding the fair and forbidding the unfair|" It is a pity that such a wise Qur&anic principle is being generally neglected in the Muslim community, and the Muslims are made to fight each other on the secondary issues which can admit different interpretations. People tend to consider such efforts as some feat of piety while the evils which are held by the entire ummah unanimously as sins and are being committed in the community receive much less attention and often go unchecked. 1. It means that if a recognized school of Islamic jurisprudence, such as Hanafi school adopting a particular interpretation of Islamic law, has held an act as &fair&, the holders of an opposite view like Sh&afi&ites should not blame or reproach the former for their action, and vice versa. (editor) Towards the conclusion of the verse, the commendable end of the group described therein has been enshrined in the following words: وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ And it is these who are successful. It simply means that, in reality, success is achieved by such people alone. Primarily, this description applies to the great group of the Companions of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . They were the ones who rose with the great objective of calling towards the good and of curbing what was bad and in a very brief period of time conquered the entire world of their time. There were power centers of Byzantine and Persia which could not stop them and they went ahead teaching lessons in morality and purity and ushering around the light of right¬eousness and Godliness wherever they went.

ربط آیات : پچھلی دو آیتوں میں مسلمانوں کے اجتماعی فلاح و صلاح کے دو اصول بتلائے گئے تھے جن میں ہر فرد کو ایک خاص انداز سے اپنی اصلاح کرنے کی ہدایت تھی کہ ہر شخص تقوی اختیار کرے، اور اللہ تعالیٰ کے سلسلہ (اسلام) سے مربوط ہوجائے اس طرح انفرادی اصلاح کے ساتھ ساتھ خودبخود ایک اجتماعی قوت بھی مسلمانوں کو حاصل ہوجائے گی، مذکورہ دو آیتوں میں اسی نظام صلاح و فلاح کا تکملہ اس طرح کیا گیا ہے کہ مسلمان صرف اپنے اعمال و افعال کی اصلاح پر بس نہ کریں، بلکہ اپنے دوسرے بھائیوں کی اصلاح کی فکر بھی ساتھ ساتھ کریں، اسی صورت سے پوری قوم کی اصلاح بھی ہوگی، اور ربط و اتحاد کو بقاء و قیام بھی ہوگا۔ خلاصہ تفسیر : اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے کہ (اور لوگوں کو بھی) خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کاموں کے کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں اور ایسے لوگ (آخرت میں ثواب سے) پورے کامیاب ہوں گے، اور تم لوگ ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا جنہوں نے (دین میں) باہم تفریق کرلی اور (نفسانیت سے) باہم اختلاف کرلیا، ان کے پاس واضح احکام پہنچنے کے بعد اور ان لوگوں کے لئے سزائے عظیم ہوگی (یعنی قیامت کے روز) ۔ معارف و مسائل : مسلمانوں کی قومی اور اجتماعی فلاح دو چیزوں پر موقوف ہے : پہلے تقوی اور اعتصام بحبل اللہ کے ذریعہ اپنی اصلاح دوسرے دعوت و تبلیغ کے ذریعہ دوسروں کی اصلاح۔ آیت ولتکن منکم میں اسی دوسری ہدایت کا بیان ہے، گویا ان دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہوا کہ خود بھی اپنے اعمال و اخلاق کو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے قانون کے مطابق درست کرو، اور اپنے دوسرے بھائیوں کے اعمال کو درست کرنے کی بھی فکر رکھو، یہی مضمون ہے جو سورة والعصر میں ارشاد فرمایا ہے : الا الذین امنوا و عملوا الصلحت وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر۔ |" یعنی آخرت کے خسارہ سے صرف وہ لوگ محفوظ ہیں جو خود بھی ایمان اور عمل صالح کے پابند ہیں اور دوسروں کو بھی عقائد صحیحہ اور اعمال صالحہ کی ہدایت کرتے رہتے ہیں |"۔ قومی اور اجتماعی زندی کے لئے جس طرح یہ ضروری تھا کہ ان کا کوئی مضبوط و مستحکم رشتہ وحدت ہو، جس کو پہلی آیت میں اعتصام بحبل اللہ کے الفاظ سے واضح فرمایا گیا ہے، اسی طرح رشتہ کو قائم اور باقی رکھنے کے لئے یہ دوسرا عمل بھی ضروری ہے جو اس آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے، یعنی دوسرے بھائیوں کو احکام قرآن و سنت کے مطابق اچھے کاموں کی ہدایت اور برے کاموں سے روکنے کو ہر شخص اپنا فریضہ سمجھے، تاکہ یہ حبل اللہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ نہ جائے، کیونکہ بقول استاد مرحوم شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی |" اللہ تعالیٰ کی یہ رسی ٹوٹ تو نہیں سکتی ہاں چھوٹ سکتی ہے |" اس لئے قرآن کریم نے اس رسی کے چھوٹ جانے کے خطرے کے پیش نظر یہ ہدایت جاری فرمائی کہ ہر مسلمان جس طرح خود نیک عمل کرنے کو اور گناہ سے بچنے کو اپنا فرض سمجھتا ہے اس کو بھی ضروری سمجھے کہ دوسرے لوگوں کو بھی نیک عمل کی ہدایت اور برے اعمال سے روکنے کی کوشش کرتا رہے، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ سب ملکر مضبوطی کے ساتھ حبل متین کو تھامے رہیں گے، اور اس کے نتیجہ میں فلاح دنیا و آخرت ان کے ساتھ ہوگی، اپنی اصلاح کے ساتھ دوسروں کی اصلاح کی ذمہ داری ہر مسلمان پر ڈالنے کے لئے قرآن کریم میں بہت سے واضح ارشادات وارد ہیں۔ سورة العصر کا مضمون ابھی آپ دیکھ چکے ہیں اور اسی سورة آل عمران میں ارشاد ہے : کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر۔ (٣: ١١٠) |" تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے نکالی گئی ہے کیونکہ تم نیک کاموں کا لوگوں کو حکم کرتے ہور اور برے کاموں سے روکتے ہو |"۔ اس میں بھی پوری امت پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ عائد کیا گیا ہے، اور دوسری امتوں پر اس کی فضیلت کا سبب ہی اس خاص کام کو بتلایا ہے، اسی طرح رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات اس بارے میں بیشمار ہیں، ترمذی اور ابن ماجہ وغیرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : والذی نفسی بیدہ لتامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر او لیوشکن اللہ ان یبعث علیکم عقابا من عندہ ثم لتدعنہ فلا یستجیب لکم۔ |" قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ تم ضرور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ گنہگاروں کے ساتھ تم سب پر بھی اپنا عذاب بھیج دے اس وقت تم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو گے تو قبول نہ ہوگی۔ ایک حدیث میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ وان لم یستطع فبقلبہ وذلک اضعف الایمان۔ |" یعنی تم میں سے جو شخص کوئی گناہ ہوتا ہوا دیکھے تو اس کو چاہے کہ اپنے ہاتھ اور قوت سے اس کو روک دے، اور اگر یہ بھی نہ کرسکے تو زبان سے روکے اور یہ بھی نہ کرسکے تو کم از کم دل میں اس فعل کو برا سمجھے، اور یہ ادنی درجہ کا ایمان ہے |"۔ ان تمام آیات اور روایات سے یہی ثابت ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر امت کے ہر فرد پر لازم ہے، البتہ تمام احکام شرعیہ کی طرح اس میں بھی ہر شخص کی قدرت و استطاعت پر احکام دائر ہوں گے جس کو جتنی قدرت ہو اتنا ہی امر بالمعروف کا فریضہ اس پر عائد ہوگا ابھی جو حدیث آپ نے دیکھی ہے اس میں استطاعت ہی پر مدار رکھا گیا ہے۔ پھر استطاعت وقدرت ہر کام کی جدا ہوتی ہے، امر بالمعروف کی قدرت پہلے تو اس پر موقوف ہے کہ وہ معروف و منکر اس شخص کو پوری طرح صحیح صحیح معلوم ہو، جس کو خود ہی معروف و منکر کی تمییز نہ ہو یا اس مسئلہ کا پورا علم نہ ہو، وہ اگر دوسروں کو امر بالمعروف یا نہی عن المنکر کرنے لگے تو ظاہر ہے کہ بجائے اصلاح ہونے کے فساد ہوگا، اور بہت ممکن ہے کہ وہ اپنی ناواقفیت کی بناء پر کسی معروف کو منع کرنے لگے، یا منکر کا حکم کرنے لگے، اس لئے جو شخص خود معروف و منکر سے واقف نہیں اس پر یہ فریضہ تو عائد ہے کہ واقفیت اور احکام شرعیہ کے معروف و منکر کا علم حاصل کرلے، اور پھر اس کے مطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی خدمت انجام دے۔ لیکن جب تک اس کو واقفیت نہیں اس کا اس خدمت کے لئے کھڑا ہونا جائز نہیں جیسے اس زمانہ میں بہت سے جاہل وعظ کہنے کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں نہ انہیں قرآن کا علم ہے نہ حدیث کا، یا بہت سے عوام سنی سنائی غلط باتوں کو لے کر لوگوں سے جھگڑنے لگتے ہیں کہ ایسا کرو ایسا نہ کرو، یہ طریق کار بجائے معاشرہ کے درست کرنے کے اور زیادہ ہلاکت اور جنگ و جدل کا سبب ہوتا ہے۔ اسی طرح امر بالمعروف کی قدرت میں یہ بھی داخل ہے کہ اپنے آپ کو کوئی ناقابل برداشت ضرر پہنچنے کا قوی خطرہ نہ ہو، اسی لئے حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ گناہ کو ہاتھ اور قوت سے نہ روک سکے تو زبان سے روکے، اور زبان سے روکنے پر قدرت نہ ہو تو دل ہی سے برا سمجھے ظاہر ہے کہ زبان سے روکنے پر قدرت نہ ہونے کے یہ معنی تو ہیں نہیں کہ اس کی زبان حرکت نہیں کرسکتی، بلکہ مراد یہی ہے کہ اس کو یہ خطرہ قوی ہے کہ اس نے حق بات کی تلقین کی تو اس کی جان جائے گی، یا کوئی دوسرا شدید نقصان پہنچ جائے گا، ایسی حالت میں اس شخص کو قادر نہ سمجھا جائے گا، اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ترک پر اس کو گنہگار نہ کہا جائے گا، یہ دوسری بات ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال کی پرواہ نہ کرے، اور نقصان برداشت کر کے بھی امر بالمعروف نہی عن المنکر کی خدمت انجام دے، جیسے بہت سے صحابہ وتابعین اور ائمہ اسلام کے واقعات منقول ہیں، یہ ان کی اولوا العزمی اور بڑی فضیلت ہے، جس سے ان کا مقام دنیا و آخرت میں بلند ہوا، مگر ان کے ذمہ ایسا کرنا فرض واجب نہ تھا۔ سورة والعصر کی آیت اور کنتم خیر امۃ (٣: ١١٠) وغیرہ آیات سے، نیز احادیث مذکورہ سے امت کے ہر فرد پر اس کی قدرت کے مطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر واجب کیا جارہا ہے، لیکن اس کے وجوب میں یہ تفصیل ہے کہ امور واجبہ میں معروف کا امر اور منکر سے نہی کرنا واجب اور امور مستحبہ میں مستحب ہے، مثلا نماز پنجگانہ فرض ہے تو ہر شخص پر واجب ہوگا کہ بےنمازی کو نصیحت کرے اور نوافل مستحب ہیں، اس کی نصیحت کرنا مستحب ہوگا، اس کے علاوہ ایک ضروری ادب یہ بھی پیش نظر رکھنا ہوگا کہ مستحبات میں مطلقا نرمی سے اظہار کرے اور واجبات میں اولا نرمی سے اور نہ ماننے پر سختی کی بھی گنجائش ہے، آج کل لوگ مستحبات میں یا مباحات میں تو سختی سے روک ٹوک کرتے ہیں لیکن امور واجبہ اور فرائض کے ترک پر کوئی ملامت نہیں کرتے۔ نیز ہر شخص پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ اس وقت عائد ہوگا جبکہ وہ اپنے سامنے کسی منکر کو ہوتے ہوئے دیکھے، مثلا ایک شخص دیکھ رہا ہے کہ کوئی مسلمان شراب پی رہا ہے یا چوری کر رہا ہے یا کسی غیر عورت سے مجرمانہ اختلاط کر رہا ہے، تو اس کے ذمہ واجب ہوگا کہ اپنی استطاعت وقدرت کے مطابق اس کو روکے، اور اگر اس کے سامنے یہ سب کچھ نہیں ہورہا ہے تو یہ فریضہ اس کے ذمہ نہیں، بلکہ اب یہ فریضہ اسلامی حکومت کا ہے کہ مجرم کے جرم کی تفتیش و تحقیق کر کے اس کو سزا دے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد من رای منکم میں اسی طرف اشارہ ہے کیونکہ اس میں ارشاد ہے کہ جو شخص تم میں سے کسی منکر کو دیکھے۔ امر بالمعروف کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک جماعت خاص دعوت و ارشاد ہی کے لئے قائم رہے اس کا وظیفہ یہ یہی ہو کہ اپنے قول و عمل سے لوگوں کو قرآن و سنت کی طرف بلائے، اور جب لوگوں کو اچھے کاموں میں سست یا برائیوں میں مبتلا دیکھے اس وقت بھلائی کی طرف متوجہ کرنے اور برائی سے روکنے کی اپنے مقور کے موافق کوتاہی نہ کرے، اور چونکہ اس اہم فریضہ یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو پوری طرح اسی وقت ادا کیا جاسکتا ہے جب کہ اس کو مسائل کا پورا علم بھی ہو اور امر بالمعروف کو موثر بنانے کے آداب اور طریقے بھی سنت کے مطابق اس کو معلوم ہوں، اس لئے مکمل طور پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے لئے مسلمانوں میں سے ایک مخصوص جماعت کو اس منصب پر مامور کیا گیا، جو ہر طرح دعوت الی الخیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہل ہو، چناچہ اسی آیت میں ایسی جماعت کی ضرورت اور اہمت کو بتلاتے ہوئے فرمایا : ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر۔ |" یعنی تم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے کہ خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کاموں کے کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں |"۔ ولتکن منکم امۃ میں اشارہ ہے کہ اس جماعت کا وجود ضروری ہے، اگر کوئی حکومت یہ فریضہ انجام نہ دے تو تمام مسلمانوں پر فرض ہوگا کہ وہ ایسی جماعت قائم کریں کیونکہ ان کی حیات ملی اسی وقت محفوظ رہے گی جب تک یہ جماعت باقی ہے، پھر اس جماعت کے بعض اہم اوصاف اور امتیازات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا یدعون الی الخیر یعی اس جماعت کا پہلا امتیاز خصوصی یہ ہوگا کہ وہ خیر کی طرف دعوت دیا کرے گی، گویا دعوت الی الخیر اس کا مقصد اعلی ہوگا، خیر سے مراد کیا ہے، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تفسیر میں ارشاد فرمایا کہ الخیر ھو اتباع القران وسنتی، |" یعنی خیر سے مراد قرآن اور میری سنت کا اتباع ہے |"۔ (ابن کثیر) |" خیر |" کی اس سے زیادہ جامع اور مانع تعریف نہیں ہوسکتی، پورا دین شریعت اس میں آگیا پھر یدعون کو صیغہ مضارع سے لاکر بتلایا کہ اس جماعت کا وظیفہ دعوت الی الخیر ہوگا، یعنی دعوت الی الخیر کی مسلسل اور لگاتار کوشش ان کا فریضہ ہوگا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے تو یہ سمجھا جاسکتا تھا کہ اس کی ضرورت خاص مواقع پر ہوگی، جب وہ منکرات دیکھے جائیں، لیکن یدعون الی الخیر کہہ کر بتلادیا کہ اس جماعت کا کام دعوت الی الخیر ہوگا، اگرچہ اس وقت منکرات موجود نہ ہوں، یا کسی فرض کی ادائیگی کا وقت نہ ہو، مثلا آفتاب نکلنے کے بعد زوال تک نماز کا وقت نہیں ہے، لیکن وہ جماعت اس وقت بھی نماز پڑھنے کی تلقین کرے گی کہ وقت نماز آنے کے بعد نماز ادا کرنا ضروری ہے یا روزہ کا وقت نہیں آیا ابھی رمضان کا مہینہ دور ہے، لیکن وہ جماعت اپنے فرض سے غافل نہیں رہے گی، بلکہ وہ پہلے سے لوگوں کو بتلاتی رہے گی کہ جب رمضان کا مہینہ آئے تو روزہ رکھنا فرض ہوگا، غرضیکہ اس جماعت کا فریضہ دعوت الی الخیر ہوگا۔ پھر اس دعوت الی الخیر کے بھی دو رجے ہیں، پہلا یہ کہ غیر مسلموں کو خیر یعنی اسلام کی طرف دعوت دینا ہے مسلمانوں کا ہر فرد عموما اور یہ جماعت خصوصا دنیا کی تمام قوموں کو خیر یعنی اسلام کی دعوت دے، زبان سے بھی اور عمل سے بھی، چناچہ مسلمانوں کو جس آیت میں قتال و جہاد کا حکم دیا وہاں سچے مومنین کی اس طرح تعریف کی : الذین ان مکنھم فی الارض اقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ وامروا بالمعروف ونھوا عن المنکر۔ (٢٢: ٤١) |" یعنی سچے مسلمان وہ ہیں کہ جب ہم ان کو زمین کی تمکین وقدرت یعنی حکومت دیتے ہیں تو ان کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہا اللہ کی زمین میں نظام اطاعت قائم کرتے ہیں جس کا ایک مظہر نماز ہے اور اپنا مالیاتی نظام زکوٰۃ کے اصولوں پر قائم کرتے ہیں، نیز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اپنا مقصد حیات بناتے ہیں، اگر آج امت مسلمہ اپنا مقصد دیگر اقوام کو خیر کی طرف دعوت دینا بنالیں تو وہ سب بیماریاں ختم ہوجائیں گی جو دوسری قوموں کی نقالی سے ہمارے اندر پھیلی ہیں، کیونکہ جب کوئی قوم اس عظیم مقصد (دعوت الی الخیر) پر مجتمع ہوجائے اور یہ سمجھ لے کہ ہمیں علمی اور عملی حیثیت سے اقوام عالم پر غالب آنا ہے اور اقوام کی تربیت و تہذیب ہمارے ذمہ ہے تو اس کی نااتفاقیاں بھی یکسر ختم ہوجائیں گی، اور پوری قوم ایک عظیم مقصد کے حصول کے لئے لگ جائے گی، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کامیابیوں کا راز اسی میں مضمر تھا، حدیث میں ہے کہ حضرت ضحاک نے یہ آیت ولتکن منکم تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا ھم خاصۃ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ابن جریر) یعنی یہ جماعت مخصوص صحابہ کرام کی جماعت ہے، کیونکہ ان نفوس قدسیہ کا ہر فرد خود کو دعوت الی الخیر کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔ دعوت الی الخیر کا دوسرا درجہ خود مسلمانوں کو دعوت خیر دینا ہے، کہ تمام مسلمان علی العموم اور جماعت خاصہ علی الخصوص مسلمانوں کے درمیان تبلیغ اور فریضہ دعوت الی الخیر انجام دے، پھر اس میں بھی ایک تو دعوت الی الخیر عام ہوگی، یعنی تمام مسلمانوں کو ضروری احکام و اسلامی اخلاق سے واقف کیا جائے، دوسری دعوت الی الخیر خاص ہوگی یعنی امت مسلمہ میں علوم قرآن و سنت کے ماہرین پیدا کرنا، اس طرف ایک دوسری آیت میں رہنمائی کی گئی : فلو لا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم لعلھم یحذرون۔ (٩: ١٢٢) آگے اس جماعت داعیہ کا دوسرا وصف اور امتیاز خصوصی یہ بتلایا یامرون بالمعروف وینھون عن المنکر یعنی وہ لوگ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور منکر سے روکتے ہیں۔ معروف وہ تمام نیکیاں اور بھلائیاں داخل ہیں جن کا اسلام نے حکم دیا ہے اور ہر نبی نے ہر زمانے میں اس کی ترویج کی کوشش کی، اور چونکہ یہ امور خیر جانے پہچانے ہوئے ہیں اس لئے معروف کہلاتے ہیں۔ اسی طرح منکر میں تمام وہ برائیاں اور مفاسد داخل ہیں جن کو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ناجائز قرار دینا معلوم و معروف ہے، اس مقام پر واجبات اور معاصی کے بجائے معروف و منکر کا عنوان اختیار کرنے میں شاید یہ حکمت بھی ہو کہ روکنے ٹوکنے کا معاملہ صرف ان مسائل میں ہوگا جو امت میں مشہور و معروف ہیں اور سب کے نزدیک متفق علیہ ہیں، اجتہادی مسائل جن میں اصول شرعیہ کے ماتحت رائیں ہوسکتی ہیں، ان میں یہ روک ٹوک کا سلسلہ نہ ہونا چاہیے، افسوس ہے کہ عام طور پر اس حکیمانہ تعلیم سے غفلت برتی جاتی ہے اور اجتہادی مسائل کو جدال کا میدان بنا کر مسلمانوں کی جماعت کو ٹکرایا جاتا ہے، اور اس کو سب سے بڑی نیکی قرار دیا جاتا ہے، اور اس کے بالمقابل متفق علیہ معاصی اور گناہوں سے روکنے کی طرف توجہ بہت کم دی جاتی ہے، آیت کے اختتام پر اس جماعت کے انجام اور عاقبت محمودہ کو ان لفظوں میں فرمایا واولئک ھم المفلحون، یعنی درحقیقت یہ لوگ کامیاب ہیں، فلاح وسعادت دارین انہی کا حصہ ہے۔ اس جماعت کا سب سے پہلا مصداق جماعت صحابہ ہے، جو دعوت الی الخیر اور امر بالمروف اور نہی عن المنکر کے عظیم مقصد کو لے کر اٹھی اور قلیل عرصہ میں ساری دنیا پر چھا گئی، روم و ایران کی عظیم سلطنتیں روند ڈالیں، اور دنیا کو اخلاق و پاکیزگی کا درس دیا، نیکی اور تقوی کی شمعیں روشن کیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّۃٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝ ١٠٤ الأُمّة : كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38] الامۃ ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتہ دینی ہو یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں پھر وہ رشتہ اور تعلق اختیاری اس کی جمع امم آتی ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ } ( سورة الأَنعام 38) اور زمین پر جو چلنے پھر نے والے ( حیوان ) دو پروں سے اڑنے والے پرند ہیں وہ بھی تمہاری طرح جماعتیں ہیں دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔ معْرُوفُ : اسمٌ لكلّ فعل يُعْرَفُ بالعقل أو الشّرع حسنه، والمنکر : ما ينكر بهما . قال : يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ [ آل عمران/ 104] ، وقال تعالی: وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ [ لقمان/ 17] ، وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفاً [ الأحزاب/ 32] ، ولهذا قيل للاقتصاد في الجود : مَعْرُوفٌ ، لمّا کان ذلک مستحسنا في العقول وبالشّرع . نحو : وَمَنْ كانَ فَقِيراً فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ [ النساء/ 6] المعروف ہر اس قول یا فعل کا نام ہے جس کی خوبی عقل یا شریعت سے ثابت ہو اور منکر ہر اس بات کو کہاجائے گا جو عقل و شریعت کی رو سے بری سمجھی جائے ۔ قرآن پاک میں ہے : يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ [ آل عمران/ 104] اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ۔ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفاً [ الأحزاب/ 32] اور دستور کے مطابق ان سے بات کیا کرو ۔ یہی وجہ ہے کہ جود ( سخاوت ) میں اعتدال اختیار کرنے کو بھی معروف کہاجاتا ہے کیونکہ اعتدال عقل و شریعت کے اعتبار سے قابل ستائش ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : وَمَنْ كانَ فَقِيراً فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ [ النساء/ 6] اور جو بےمقدور ہو وہ مناسب طور پر یعنی بقدر خدمت کچھ لے لے ۔ نهى النهي : الزّجر عن الشیء . قال تعالی: أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] ( ن ھ ی ) النهي کسی چیز سے منع کردینا ۔ قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] بھلاتم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے ( یعنی ) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے ۔ مُنْكَرُ والمُنْكَرُ : كلُّ فِعْلٍ تحكُم العقولُ الصحیحةُ بقُبْحِهِ ، أو تتوقَّفُ في استقباحِهِ واستحسانه العقولُ ، فتحکم بقبحه الشّريعة، وإلى ذلک قصد بقوله : الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ [ التوبة/ 112] اور المنکر ہر اس فعل کو کہتے ہیں جسے عقول سلیمہ قبیح خیال کریں یا عقل کو اس کے حسن وقبیح میں تو قف ہو مگر شریعت نے اس کے قبیح ہونے کا حکم دیا ہو ۔ چناچہ آیات : ۔ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ [ التوبة/ 112] نیک کاموں کا امر کرنے والے اور بری باتوں سے منع کرنے والے ۔ فلح والفَلَاحُ : الظَّفَرُ وإدراک بغية، وذلک ضربان : دنیويّ وأخرويّ ، فالدّنيويّ : الظّفر بالسّعادات التي تطیب بها حياة الدّنيا، وهو البقاء والغنی والعزّ ، وإيّاه قصد الشاعر بقوله : أَفْلِحْ بما شئت فقد يدرک بال ... ضعف وقد يخدّع الأريب وفَلَاحٌ أخرويّ ، وذلک أربعة أشياء : بقاء بلا فناء، وغنی بلا فقر، وعزّ بلا ذلّ ، وعلم بلا جهل . ولذلک قيل : «لا عيش إلّا عيش الآخرة» وقال تعالی: وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ( ف ل ح ) الفلاح فلاح کے معنی کامیابی اور مطلب وری کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے دینوی اور اخروی ۔ فلاح دنیوی ان سعادتوں کو حاصل کرلینے کا نام ہے جن سے دنیوی زندگی خوشگوار بنتی ہو یعنی بقاء لمال اور عزت و دولت ۔ چناچہ شاعر نے اسی معنی کے مدنظر کہا ہے ( نحلع البسیط) (344) افلح بماشئت فقد یدرک بالضد عف وقد یخدع الاریب جس طریقہ سے چاہو خوش عیشی کرو کبھی کمزور کامیاب ہوجاتا ہے اور چالاک دہو کا کھانا جاتا ہے ۔ اور فلاح اخروی چار چیزوں کے حاصل ہوجانے کا نام ہے بقابلا فناء غنا بلا فقر، عزت بلا ذلت ، علم بلا جہلاسی لئے کہا گیا ہے (75) لاعیش الاعیش الاخرۃ کہ آخرت کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے اور اسی فلاح کے متعلق فرمایا : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] اور زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی فرضیت قول باری ہے (ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیرویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر، تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیئے جو لوگوں کو بھلائی کی طرف بلاتا رہے اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا رہے) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت دو باتوں پر مشتمل ہے اول امربالمعروف اور نہی عن المنکرکاوجوب۔ دوم یہ فرض کفایہ ہے۔ ہر شخص پر فرض عین نہیں۔ جب ایک شخص اس فرض کا داداکردے گا تو دوسرے پر اس کی فرضیت باقی نہیں رہے گی اس لیے کہ قول باری (ولتکن منکم امۃ) اس کی حقیقت کا تقاضا کہ بعض پر فرض اور دوسرے بعض پر نہ ہو۔ جس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ فرض کفایہ ہے کہ جب کچھ لوگ اسے داداکر لیں گے توباقیوں سے اس کی فرضیت ساقط ہوجائے گی۔ بعض لوگوں کا یہ قول ہے کہ یہ فرض عین ہے یعنی اس کی فرضیت ہر شخص پر عائد ہوتی ہے۔ یہ لوگ اس قول باری (ولتکن منکم امۃ) کے اندازبیان کو مجاز اخصوص پر محمول کرتے ہیں (لیکن حکم میں عموم ہے جس طرح کہ یہ قول باری ہے (یغفرلکم من ذنوبکم، اللہ تعالیٰ تمہارے بعض گناہ بخش دے گا) اس کے معنی ہیں کہ تمہارے سب گناہ بخش دے گا۔ فرض کفایہ کے قول کی صحت پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ جب کچھ لوگ امربالمعروف اور رنہی عن المنکر کرلیں گے تو باقی ماندہ لوگوں سے اس کی فرضیت ساقط ہوجائے گی۔ جس طرح کہ جہاد، مردوں کی تغسیل وتکفین اور جنازے کی نماز اور ان کی تدفین کا مسئلہ ہے۔ اگر یہ فرض کفایہ نہ ہوتا تو بعض کی طرف سے اس کی ادائیگی کی بناپردوسروں سے اس کی فرضیت ہرگز ساقط نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا کئی اور مقامات پر بھی ذکر فرمایا ہے۔ چناچہ ارشاد ہے (کنتم خیرامۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر، اب دنیا میں تم وہ بہترین گروہ ہوج سے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیئے دنیا میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور بدی سے روکتے ہو) اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان (علیہ السلام) کے الفاظ میں فرمایا (یا بنی اقم الصلوۃ وامربالمعروف وانہ عن المنکرواصبرعلی مااصابک، اے میرے بیٹے ! قائم کرنی کی کا حکم دے اور برائی سے روک اور اس سلسلے میں) جو تکلیفیں تجھے اٹھانی پڑیں انہیں برداشت کر) نیز قول باری ہے (وان طائفتان من المؤمنین اقتتلوافاصلحوابینھما فان یغت احداھما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی حتی تفیء الی امر اللہ، اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں جنگ کرنے لگ جائیں تو ان کے درمیان اصلاح کرادو۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو اس سے لڑوجوزیادتی کررہا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرلے۔ ) نیز فرمایا (یعن الذین کفروامن بنی اسرائیل علی لسان داؤد وعیسیٰ بن مریم ذلک بماعصواوکانوایعتدون۔ کانوالا یتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوایفعلون، بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے کفراختیار کیا۔ ان پر داود اورعیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت ہوء۔ یہ اس لیئے کہ انہوں نے نافرمانیاں کیں اور وہ حد سے آگے نکل نکل جاتے تھے۔ جو برائی انہوں نے اختیارکررکھی تھی اس سے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔ جو کچھ وہ کررہے تھے وہ بہت ہی برا تھا۔ ) یہ آیتیں اور ان جیسی دوسری آیتیں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے ایجاب کا تقاضا کرتی ہیں۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے کئی مراحل ہیں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے کئی مراحل ہیں۔ اول کسی برائی کو ہاتھ سے یعنی اگر ممکن ہو تو بزور طاقت بدل ڈالنا اور روک دینا۔ اگر یہ ممکن نہ ہو اور اسے اس برائی کو بزور روکنے میں اپنی جان کا خوف ہو تو اس پرا سے اپنی زبان سے روکنا اور اس کے خلاف بولنا لازم ہے۔ اگر درج بالاوجہ کی بناپریہ بھی مشکل ہو تو پھر اس برائی کو دل سے برا سمجھنا اس پر لازم ہوگا۔ اس سلسلے میں ہمیں عبداللہ بن جعفربن احمد بن فارس نے روایت بیان کی انہیں یونس بن حبیب نے انہیں ابوداؤ دطیالسی نے انہیں شعبہ نے انہیں قیس بن مسلم نے کہ میں نے طارق بن شہاب کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ مروان بن الحکم نے نماز پر خطبے کو مقدم کردیا۔ ایک شخص نے کھڑے ہوکرکہا امیر ! تم نے سنت کے خلاف عمل کیا خطبہ نما ز کے بعد ہوا کرتا تھا۔ مروان نے سن کر کہا اس بات کو چھوڑو اے فلاں کے باپ شعیہ کہتے ہیں کہ مروان اونچی آوازوالا تھا اس کی یہ آوازسن کر ابوسعید خدری (رض) اٹھے اور فرمایا مروان سے یہ بات کہنے والا کون شخص ہے، اس نے اپنا فرض پوراکردیا ہے۔ ہم سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا (من رای منکم منکوافلینکرہ بیدہ فان لم یستطع فلینکرہ بلسانہ فان لم یستطع فلینکرہ بقلبہ وذلک ضعف الایمان، تم میں سے جو شخص کسی برائی کو دیکھے توا سے اپنے ہاتھوں سے ہٹادے اگر اس میں اس کی طاقت نہ ہو تو اس کے خلاف اپنی زبان استعمال کرلے اگر ا سے اس کی بھی طاقت نہ ہوتوا سے اپنے دل سے براجانے اور یہ ایمان کا کمزورترین درجہ ہے۔ ہمیں محمد بن بکربصری نے روایت بیان کی انہیں ابوداؤدنے انہیں محمد بن علاء نے انہیں ابو معاویہ نے اعمش سے انہوں نے اسماعیل بن رجاء سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے ابو سعید اور قیس بن مسلم سے انہوں نے طارق بن شہاب سے انہوں نے ابوسعید خدر (رض) ی سے کہ میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (من رای منکم منکراواستطاع ان یغیرہ بیدہ فلیغیرہ بیدہ ، فان لم یستطع فبقلبہ وذاک اضعف الایمان، تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے اور اسے اپنے ہاتھ سے ہٹاسکتا ہو تو اسے اپنے ہاتھوں سے ہٹادے اگر ا سے اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے یہ کام کرے۔ اگر اس کی بھی اس میں طاقت نہ ہو تو اسے اپنے دل سے براس مجھے اور یہ ایمان کا کمزورترین درجہ ہے۔ ) برائی کو روکنا حالا و امکان کے مطابق ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بتادیا کہ منکر اوربرائی کو روکنا حالات و امکان کے مطابق ان تین مرحلوں میں ہوتا ہے۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر دہ اپنے ہاتھوں سے منکر یعنی برائی کو ہٹانہ سکے تو پھر اپنی زبان سے ہٹائے یعنی اس کے خلاف زبانی جہاد کرے۔ اگر اس کے لیئے یہ ممکن نہ ہو تو اس پر اس سے زیادہ اور کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ دل سے اسے براس مجھے۔ برائی سے نہ روکنے والا اس کی زد میں آسکتا ہے ہمیں عبداللہ بن جعفرنے روایت بیان کی انہیں یونس بن حبیب نے انہیں ابوداؤدنے انہیں شعبہ نے ابواسحاق سے انہوں نے عبداللہ بن جریرالنجلی سے انہوں نے والد حضرت جریرالجبلی (رض) سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (مامن قوم یعمل بینھم بالمعامی ھم اکثرواعزممن یعملہ ثم لم یغیروا الاعمھم اللہ منہ یعقاب، جو قوم ایسی ہو کہ اس کے اندر بےڈھرک معاصی کا ارتکاب ہورہاہو۔ اس میں ایسے لوگ موجودہوں جوان مرتکبین سے بڑھ کر اثردرسوخ دالے ہوں اور ان کی عددی اکثیریت بھی ہو اس کے باوجود وہ ان معاصی کو ختم نہ کرائیں تو اللہ تعالیٰ ان پر ایسی سزانازل کرے گا جس کی لپیٹ میں سب آجائیں گے) ہمیں محمد بن ب کرنے روایت بیان کی انہیں ابوداؤد نے انہیں عبداللہ بن محمد النفیلی نے انہیں یونس بن راشد نے علی بن بدیمہ سے انہوں نے ابوعبیدہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعو (رض) د سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ (ان اول مادخل النقص علی بنی اسرائیل کان الرجل یلقی الرجل فیقول یاھداتق اللہ ودع ماتصنع فانہ لا یحل لک ثم یلقاہ من الغد فلا یمنعہ ذلک ان یکون اکیدہ وشریبہ وقعیدہ فلما فعلواذلک ضرب اللہ تعالیٰ قلوب بعضھم ببعض، بنی اسرائیل میں سب سے پہلے جو خرابی پیداہوئی اس کی صورت یہ تھی کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا اور اسے اس کی معاصی پر سرزنش کرتے ہوئے کہتا کہ اے فلاں ! اللہ سے ڈر اوریہ کام چھوڑکیون کہ یہ تیرے لیئے حلال نہیں ہے پھر وہی نصیحت کرنے والا دوسرے روز اس سے ملتا لیکن اس کی خطاکاری اور معاصی اسے اس کے اٹھتے بیٹھنے اور کھانے پینے سے نہ روکتے جب بنی اسرائیل نے یہ طرز عمل اختیارکیاتو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر ایک دوسرے کے ذریعے مہرلگادی۔ ) برائیوں سے صرف نظرلعنت خداوندی کی موجب ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی (لعن الذین کفروامن بنی اسرئیل علی لسان داؤدوعیسیٰ بن مریم ذلک بماعصواوکانویعتدون) تاقول باری (فاسقون) پھر آپ نے فرمایا (کلا، واللہ لتامرن بالمعروف ولتنھون عن المنکرولتاخذن علی یدی الظالم ولتاطرنہ علی الحق اطرا وتقرنہ علی الحق قصرا، ہرگز نہیں سبخدا تم ضرورنی کی کا حکم دوگے اور برائی سے ضرورروکوگے۔ ظالم کا ہاتھ پکڑکرا سے ظلم سے بازرکھوگے۔ اور اسے حق کی طرف موڑدوگے۔ نیزا سے حق کی طرف لوٹادوگے) ابوداؤد نے کہا ہمیں خلف بنی ہشام نے انہیں ابوشہاب الحناط نے العلاء بن المسیب سے انہوں نے عمروبن مرہ سے انہوں نے سالم سے انہوں نے ابوعبیدہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعو (رض) د سے انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس طرح کی روایت بیان کی البتہ اس روایت میں ان الفاظ کا اضافہ بھی کیا (اولیضربن اللہ یقلوب بعضکم علی بعض ثم لیلعنتکم لعنھم، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں پر ایک دوسرے کے ذریعے مہرلگادے گا اور تم پر اسی طرح لعنت بھیجے گا جس طرح ان پر یعنی بنی اسرائیل پر لعنت بھیجی تھی) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بتادیا کہ نہی عن المنکر کی ایک شرط یہ ہے کہ برائی سے روکنے والاخود اس برائی کو براسمجھتا ہو۔ نیز برائی اور معصیت میں گرفتارانسان کے ساتھ نہ اٹھے بیٹھے اور نہ ہی کھائے پیئے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو کچھ فرمایا ہے دراصل اس قول باری کا بیان ہے۔ اور اس کی وضاحت ہے (تری کثیرامنھم یتولون لذین کفروا، تم ان میں سے بہت سوں کو دیکھو گے کہ وہ کافروں سے دوستی گا نھتے ہیں) یعنی وہ لوگ معاصی کے مرتکبین کے ساتھ اٹھنے بیٹھتے اور کھانے پینے کی وجہ سے خود نہی عن المنکرکے ترک کے مرتکب قرارپائے۔ اس لیے کہ قول باری ہے (کانوالا یتناھون عن منکرفعلوہ) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بتادیا کہ اگر ایک شخص برائی کی زبان سے تردیدکرے لیکن وہ اس برائی کے مرتکبین کے ساتھ اٹھنابیٹھنا اور کھانا پینا بھی جاری رکھے تو اس کی یہ زبانی تردید اس کے لیئے فائد ہ مند نہیں ہوگی۔ اس بارے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے جسے ہمیں محمد بن ب کرتے بیان کی انہیں ابوداؤد نے انہیں وہب بن بقیہ نے انہیں خالد نے اسماعیل سے انہوں نے قیس سے انہوں نے کہا کہ حضرت ابوبکرصدیق (رض) نے حمدوثنا کے بعد فرمایا لوگو ! تم اس آیت (لایضرکوم من ضل اذا اھتدیتم ، جب تم ہدایت پر ہوگے تو گمراہ ہونے والوں کی وجہ سے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ کی تلاوت کرتے ہو لیکن اسے اس کے درست معنی پر محمول نہیں کرتے ہم نے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے یہ سنا ہے (ان الناس اذاروا الظالم فلم یاخذواعلی یدیہ یوشک ان یعمھم اللہ بعقاب، لوگ جب ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں اور پھر اس کا ہاتھ پکڑکرا سے ظلم کرنے سے نہ روک دیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو عمومی سزادے) ہمیں محمد بن ب کرنے روایت بیان کی انہیں ابوداؤدنے انہیں ابوالربیع سلیمان بن داؤد العتکی نے انہیں ابن المبارک نے عقبہ بن ابلی حکم سے انہیں عمروبن جاریہ الخمی نے انہیں ابوامیہ شعبانی نے کہ میں نے ابوثعلبہ خشنی سے آیت (علیکم انفسکم) کے متعلق سوال کیا انہوں نے جواب میں فرمایا کہ میں نے یہی سوال حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تھا۔ جس کے جواب میں آپ نے فرمایا تھا کہ۔ بات ایسی نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو نیکی کا حکم دو اوربرائی سیروکو۔ حتی کہ تم جب یہ دیکھ لو کہ بخل کی پیروی کی جاتی ہے۔ خواہشات کی اتباع کی جاتی ہے دنیا کو ترجیح دی جاتی ہے اور ہر شخص اپنی رائے کے متعلق خوش فہم نظر آتا ہے تو اس وقت تم صرف اپنی ذات کی فکر کرو اورلوگوں کو ان کے حال پرچھوڑدو۔ تمہارے اوپر آنے والے دن صبر کے دن ہوں گے اور اس وقت صبر کرنا انگارے کو مٹھی میں لینے کے مترادف ہوگا ایسے لوگوں میں رہ کر شریعت پر عامل انسان کا اجر پچاس آدمیوں کے اجر کے برابر ہوگا۔ ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ ابوثعلبہ (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ آیا اس شخص کو اس زمانے کے پچاس آدمیوں کے عمل کے برابراجر ملے گا ؟ آپ نے فرمایا : نہیں بلکہ تمہارے زمانے یعنی صحابہ کرام کے پچاس آدمیوں کے عمل کے برابر اجرملے گا۔ ان ردایات میں اس بات پر دلالت ہورہی ہے کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی دوصورتیں ہیں۔ ایک صورت تو وہ ہے جس میں ایک بدی کو بدل ڈالنا اور ختم کردینا ممکن ہو ایسی صورت میں ہراس شخص پر اس بدی کو مٹا ڈالنا فرض ہے جس کے لیے اسے اپنے ہاتھوں سے ایسا کرنا ممکن ہو۔ ہاتھوں سے اسے مٹا ڈالنے کی بھی کئی شکلیں ہیں ایک شکل تو یہ ہے کہ تلوار کے سوا اس کا ازالہ ممکن نہ ہو یعنی اس بدی کے مرتکب کی جب تک جان ن لے لی جائے اس وقت تک اس کا ازالہ ممکن نہ ہو ایسی صورت میں اسے یہ کرگزرنا چاہیے۔ مثلا کوئی شخص کسی کو اس کی اپنی جان یا کسی اور کی جان کے درپے دیکھے یا اس کا مال ہتھیانے کی فکر میں ہویا کسی عورت سے زنا کے ارتکاب پر کمر بستہ ہو یا اس قسم کی اور کوئی صورت حال ہو اورا سے علم ہو کہ زبان سے روکنے یا ہتھیار کے علا وہ کسی اور چیز سے مقابلہ کرنے پر بھی وہ باز نہیں آئے گا تو ایسی صورت میں وہ اسے قتل کردے۔ اس لیے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے (من راہ منکرا فلیغرہ بیدہ) ایسی صورت میں اگر اس کے لیئے اس بدی کو اپنے ہاتھ سے ہٹادینا ممکن نہ ہو الایہ کہ اس بدی پر اڑے رہنے والے شخص کا خاتمہ کرکے ہی اس بدی سے چھٹکارامل سکتا ہو تو اس پر اس شخص کو ختم کردینا فرض ہوگا۔ اگر اس کا غالب گمان یہ ہو کہ اگر زبان سے یا ہاتھ سے ہتھیاراستعمال کیئے بغیر اسے روکنے سے وہ رک جائے گا تو پھر اس کے لیے اس شخص کو قتل کردینے کا اقدام جائز نہیں ہوگا۔ اگر اس کا گمان غالب یہ ہو کہ ہاتھ یا زبان سے روکنے پر وہ اڑ جائے گا اور مقابلہ پر اترآئے گا اور اس کے بعد اسے ہٹانا اور قتل کا اقدام کیئے بغیر اس بدی کو دور کرنا ممکن نہیں رہے گا تو ایسی صورت میں اس پر لازم ہوگا کہ وہ اسے خبردار کیئے بغیر قتل کرڈالے ۔ ابن رستم نے امام محمد سے نقل کیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کا سامان غصب کرلے تو پھر تمہارے لیے ایسے شخص کو قتل کردینے کی گنجائش ہے تاکہ غصب شدہ سامان اس سے برآمد کرکے اصل مالک کو لوٹادو۔ امام ابوحنیفہ فے چور کے متعلق بھی یہی فرمایا ہے کہ جب وہ سامان چراکربھاگے تو تمھارے لیے گنجائش ہے کہ اس کاپیچھاکرکے اسے پکڑلو اورسامان کی واپسی سے انکارپرا سے قتل کردو۔ امام محمد نے فرمایا کہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ اگر چورگھر میں نقب لگاکرگھس جائے تو تمہارے لیے اسے قتل کردینے کی گنجائش ہے۔ آپ نے اس شخص کے متعلق جو تمھارے دانت اکھاڑناچاہتا ہو یہ فرمایا کہ اگر جگہ ایسی ہو جہاں تم کسی کو اپنی مدد کے لیے بلانہ سکتے ہو تو پھر اسے قتل کردینا تمہارے لیے جائز ہوگا۔ اس پر قول باری (فقاتلوا التی تبغی حتی تفئی الی امر اللہ) دلالت کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان سے قتال کرنے کا حکم دیا ، اور ان کے خلاف قتال کا اقدام اس وقت ہی ختم ہوگا جب کہ ایسے لوگ سرکشی اور بدی کے ارتکاب سے منہ موڑکر اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئیں گے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان (من رای منکم مکرافلیغیر ہ بیدہ ) بھی اس چیز کو واجب کرتا ہے اس لیے کہ آپ نے بدی کو جس طریقے سے بھی ممکن ہو، دور کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے اگر بدی کے مرتکب کو قتل کیئے بغیر اس کادورکرنا ممکن نہ ہو تو اس پر لازم ہے کہ قتل کا اقدام کرکے اس بدی کو ووکردے۔ ٹیکس اور محصول چنگی وصول کرنے والوں کا خون مباح ہے لوگوں کے مال ومتاع ٹیکس اور محصول چنگی وصول کرنے والوں کے متعلق بھی ہمارا یہی قول ہے کہ ان کا خون مباح ہے اور مسلمانوں پر انہیں قتل کردینا واجب ہے بلکہ ہر شخص کا یہ فرض ہے کہ ان میں سے جو بھی اس کے قابو میں آجائے اسے خبردارکیئے بغیر اور زبانی طورپر روکے بغیر اور زبانی طورپرروکے بغیر، اس کا خاتم کردے اس لیے کہ ایسے لوگوں کی یہ بات سب کو معلوم ہے کہ جب یہ ٹیکس اور محصول وغیرہ وصول کرنے پر کمربستہ ہوجائیں تو باوجودیکہ انہیں اس قسم کی وصولی کی ممانعت کا علم ہے یہ کسی کی بات سننے یا ماننے پر تیار نہیں ہوتے اور جب کوئی انہیں اس قسم کی وصولی کی ممانعت کا علم ہے یہ کسی کی بات سننے یا ماننے پر تیار نہیں ہوتے اور جب کوئی انہیں اس سے یاز رہنے کی دھمکی دے تو اس کے خلاف صف آراء ہوجاتے ہیں حتی کہ ان کی ذات سے وابستہ لوگوں کو قتل کردینا جائز ہے۔ جان کا خطرہ ہو تو صرف قطع تعلق کافی ہے ساتھ ہی ساتھ جس شخص کو یہ خوف ہو کہ اگر وہ ایسے لوگوں کے خلاف قتل کا اقدام کرے گا تو اس کی اپنی جان چلی جائے گی، ایسی صورت میں انہیں ان کے حال پرچھوڑدینا اس کے لیے جائز ہوگا۔ البتہ اس پر ان سے دوررہنا ان کے ساتھ سختی سے پیش آنا اور ان سے قطع تعلق کرنا لازم ہوگا۔ یہی حکم ان لوگوں کے متعلق بھی ہے جو دین وایمان کے لیے تباہ کن معصیت کے مرتکب ہوں۔ اس پر ان کا اصرارہو، اور وہ کھلم کھلا اس کا ارتکاب کرتے ہوں۔ ایسی بدی اور معصیت کو ہر ممکن طریقے سے روکنا لازمی ہے، اگر ہاتھ سے روکنا ناممکن ہو تو اپنی زبان سے روکے ، یہ اس وقت کرے جب اسے یہ امید ہو کہ زبانی طورپر اس کے خلاف آواز اٹھا نے سے یہ لوگ اس برائی سے باز آجائیں گے اور اسے ترک کردیں گے۔ بدی کے خلاف طاقت نہ ہوتوخاموش رہنا مباح تو ہے افضل نہیں لیکن اگر اسے یہ امید نہ ہو، بلکہ غالب گمان یہ ہو کہ جروتوبیخ اور زبانی تنقید کا ان لوگوں پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ جبکہ انہیں خود بھی اس بدمی کے متعلق علم ہے۔ تو ایسی صورت میں اس کے لیئے خاموش رہنے کی گنجائش ہے تاہم ان سے قطع تعلقی اورعلیحد گی ضرور ہے اس لیے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ (فلیغیرہ بلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ) آپ کے اس قول کا مفہوم یہ ہے کہ اگر زبانی جہاد کے باوجود برے لوگ برائی سے بازنہ آئیں تو پھر ایسے لوگوں کو دل سے برا سمجھنا ضروری ہے خواہ یہ اپنے بچاؤ کی شکل میں ہو یا کسی اور صورت میں اسی لیے کہ آپ کا یہ فرمانا کہ اگر ایسا کرنے کی طاقت نہ ہو تو اس کا اس کا مفہوم یہی ہے کہ اگر کہنے سننے اور زبان سے روکنے کے باوجود یہ لوگ باز نہ آئیں اور برائی کو دور کرنا ممکن نہ ہو، تو ایسی حالت میں خاموش ہوجانے کی اباحت ہے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے حکمت سے کام لیاجائے حضرت ابن مسعو (رض) د سے قول باری (علیکم انفسکم لایضرکم من ضل اذا ھتدیتم) کے متعلق مروی ہے آپ نے فرمایا امربالمعروف اور نہی عن المنکر، اسی مقام پر کروجہاں تمہاری بات مان لی جائے اگر بات نہ مانی جائے تو پھر تم صرف اپنی ذات کے ذمہ دارہو، حضرت ابوثعلیہ (رض) خشنی کی روایت بھی ۔۔ جس کا ہم پہلے ذکرکر آئے ہیں۔۔ اس پر دلالت کرتی ہے۔ اس حدیث کا مطلب ۔۔ واللہ اعلم۔۔ یہی ہے کہ جب لوگ تمہاری بات نہ مانیں بلکہ اپنی ہواء وہوس میں لگ کر اپنی رائے پر ڈٹ جائیں تو ایسی صورت میں تمہارے لیے گنجائش ہے کہ تم انہیں چھوڑکر اپنی ذات کی فکر کرو اورا نہیں ان کی حالت پر رہنے دو ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے لوگوں کو زبانی طورپر روکنے سے کنارہ کشی کی اجازت دے دی ۔ صحابہ کرام کے نزدیک علم کی قدر عکرمہ (رض) نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ (رض) نے فرمایا : مجھے ان لوگوں کے انجام کا علم نہیں ہوسکاجواصحاب سبت (بنی اسرئیل کا ایک گروہ جو یوم السبت یعنی ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑا کرتا تھا جبکہ اسرائیلی شریعت میں ہفتے کا دن صرف عبادت کے لیے مخصوص تھا اور دنیا دی کاموں کی ممانعت تھی اس خلاف ورزی کی انہیں یہ سزادی گئی کہ ان کی شکلیں مسخ کردی گئیں۔ ) کو ہفتے کے دن کی خلاف ورزی پر ٹوکتے اور انہیں اس کام سے روکتے نہیں تھے۔ یہ سن کر عکرمہ (رض) نے کہا : میں آپ کو بتاتاہوں، آپاگلی آیت (انجیناالذین یتھون عن السوء ہم نے ان لوگوں کو بچالیا جو برائی سے لوگوں کو روکتے تھے) تلاوت کرین، یہ سن کر حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا ، تم نے ٹھیک کہا پھر آپ نے میری اس بات سے خوش ہوکر ایک جو ڑاپہننے کے لیے عنایت کیا، حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت سے یہ استدلال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ہلاک کردیا جو برائی کرتے تھے یعنی ہفتے کے دن کی حرمت اور تقدس کو پامال کرتے تھے۔ نیز انہیں بھی ہلاک کردیاجوا نہیں اس برائی سے روکتے اور اس پر ٹوکتے نہیں۔ آپ نے عذاب کی لپیٹ میں آنے کے لحاظ سے ایسے لوگوں کو بھی اس برائی کے مرتکبین جیسا قراردیا۔ ہمارے نزدیک اس کی تاویل یہ ہے کہ مؤخرالذکرلوگ اس بدی کے مرتکبین کے اعمال سے راضی تھے۔ اور ان پر گرفت نہیں کرتے تھے اور نہ ہی دل سے انہیں براسمجھتے تھے۔ فعل قبیح پر رضا مندی ارتکاب قبیح کے مساوی ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں موجودیہودیوں کی طرف اللہ تعالیٰ نے انبیائے سابقین کے قتل کی نسبت ان الفاظ میں کی (قدجاء کم رسل من قبلی بالبینات وبالذی قلتم فلم قتلتموھم) تمہارے پاس مجھ سے پہلے بھی رسول نشانیاں اور (قربانی کو آگ کھانے جانے کا) معجزہ جو تم چاہتے ہو لے کر آئے تھے، پھر تم نے ان کو کیوں قتل کردیا) نیز (فلم تقتلون اتبیاء اللہ من قبل ان کنتم مؤمنین ، تم اس سے پہلے اللہ کے پیغمبروں کو کیوں قتل کردیتے تھے۔ اگر تم سچے ہو) اس کی وجہ یہی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے یہوداپنے اسلاف سے جو انبیاء کے قاتل تھے محبت کرنے اور ان سے تعلق برقراررکھنے میں کوئی ہچکچا ہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔ اس بناپرقتل کی نسبت ان کی طرف کردی گئی اگرچہ واقعہ براہ راست وہ انبیائے کرام کے قتل میں ملوث نہیں تھے۔ لیکن صرف اس وجہ سے کہ وہ اپنے اسلاف کے اس فعل قبیح پر رضامند تھے انہیں قاتل گروانا گیا۔ ٹھیک اسی طرح اصحاب سبت میں جو لوگ ہفتے کے دن کے تقد س کو پامال کرتے تھے ان کے ساتھ ان لوگوں کو بھی ملحق کردیا گیا جو اس فعل قبیح سے انہیں روکتے نہیں تھے۔ دراصل وہ ان لوگوں کی اس حرکت پر نہ صرف راضی تھے بلکہ ان سے دوستی اور تعلق باقی رکھ کر گویا عملی طورپرا سے پسند بھی کرتے تھے۔ اگر کوئی شخص اپنے دل سے کسی برائی کو براسمجھتا ہو اور اس میں اتنی طاقت نہ ہو کہ دوسروں کو اس برائی سے روک سکے تو ایسا شخص اس وعید میں میں داخل نہیں ہوگا جو اس برائی کے مرتکبین کو سنائی گئی ہو بلکہ اس کا شماران لوگوں میں ہوگا جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (علیکم انفسکم لایضرکم من ضل اذا اھتدیتم) ہمیں مکرم بن احمد القاضی نے روایت بیان کی انہیں احمد بن عطیہ الکونی نے انہیں الحمانی نے انہوں نے ابن المبارک کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ امام ابوحنیفہ کو جب ابراہیم الصائغ کے قتل کی اطلاع ملی تو آپ اس قدرروئے کہ ہم نے یہ خیال کیا کہ شائد روتے روتے آپ کی وفات ہوجائے گی۔ جب تنہائی ہوئی تو آپ نے فرمایا بخدا، ابراہیم ایک عقلمند انسان تھے مجھے خطرہ تھا کہ ان کے ساتھ یہی کچھ ہوگا۔ میں نے عرض کیا۔ اس قتل کا سبب کیا تھا ؟ آپ نے فرمیاا، وہ میرے پاس آتے اور مجھ سے سوالات کرتے، اللہ کی طاعت میں وہ اپنی جان لگادیتے تھے انتہائی متقی اور پرہیزگار تھے۔ بعض دفعہ میں ان کے سامنے کھانے کی کوئی چیز پیش کرتا تو اس کے متعلق مجھ سے پوچھناشروع کردیتے پھر ایسا ہوتا کہ وہ چیزا نہیں پسند نہ آتی اور اسے وہ ہاتھ بھی نہ لگاتے اور بعض دفعہ پسند آجاتی توکھالیتے ۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے عملی اقدام کے متعلق امام ابوحنیفہ کا مسلک ایک دفعہ مجھ سے، امربالمعروف اور نہی عن المنکرکے متعلق سوالات کیئے پھر بحث ومباحثہ کے بعد ہم اس پر مفتق ہوگئے کہ یہ اللہ کی طرف سے مقررکردہ ایک فرض ہے پھر انہوں نے مجھ سے کہا کہ ہاتھ بڑھاؤ میں بیعت کرتاہوں۔ ان کے قتل کے بعد اب میری نظروں میں دنیا تاریک ہوگئی ہے۔ میں نے عرض کیا۔ وہ کیسے ؟ فرمایا مجھے انہوں نے اللہ کے ایک حق کی طرف بلایا لیکن میں نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا اور ان سے یہ کہہ دیا کہ اگر، امربالمعروف اورنہی عن المنکر ، کی دعوت اکیلا شخص لے کر اٹھے گا تو قتل کردیاجائے گا اور لوگوں کی ایک بات بھی درست نہیں ہوسکے گی۔ لیکن اگر ا سے نیک اور مخلص ساتھی مل جائیں جن کا سردار کوئی ایسا شخص ہو جس کی دینی حالت پوری طرح قابل اطمینان ہو تو اس صورت میں اس دعوت کے راستے میں رکاوٹ پیدا نہیں ہوسکتی۔ آپ نے مزید فرمایا، ابراہیم جب کبھی میرے پاس آتے تو اس پر نکلنے کے لیے مجھ سے اس قدرشدید تقاضا کرتے جس طرح قرض خواہ ہاتھ دھو کرمقروض سے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے۔ جب کبھی وہ میرے آتے تو مجھ سے یہی تقاضا کرتے۔ میں ان سے یہی کہتا کہ یہ ایک آدمی کا کام نہیں ہے انبیاء (علیہم السلام) کو بھی جب تک غیبی امداد حاصل نہیں ہوگئی انہیں اس کام کی ہمت نہیں ہوئی۔ اس فرض کی نوعیت دیگر فرائض سے مختلف ہے اس لیے کہ دوسرے فرائض کی ادائیگی ایک شخص خود تنہا کرسکتا ہے اور یہ فرض ایسا ہے کہ جب ایک آدمی تنہا اس کے لیے اٹھ کھڑا ہوگا تو گویا وہ اپنے آپ کو قتل کے لیے پیش کردے گا۔ اس لیے ان کے بارے میں مجھے ہمیشہ یہی خطرہ رہتا کہ وہ اپنے قتل کا سامان خود ہی پیداکر رہے ہیں۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب اس راستے میں ایک آدمی قتل ہوجائے تو کسی اور کو اس کام کے لیے اپنے آپ کو پیش کرنے کا حوصلہ ہی نہیں ہوسکتا۔ اس لیے میں نے انہیں انتظار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ آخرفرشتوں نے بھی تو اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کیا تھا۔ اتجعل فیھا من یفسد فیھا ویسفک الد ماء ونحن نسبح بحمد ک ونقد س لک قال انی اعلم ما لاتعلمون، کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اس کے انتظام کو بگاڑدے گا اور خونریزی کرے گا۔ آپ کی حمد وثناء کے ساتھ تسبیح اور آپ کے لیے تقدیس توہم کر ہی رہے ہیں۔ فرمایا : میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے) ابراہیم امام ابوحنیفہ کے پاس سے نکل کرمروچلے گئے جہاں ابومسلم خراسانی (عباسی حکومت کی جڑیں مضبوط کرنے والا مشہورجرنیل) مقیم تھا وہاں جاکر اس کے ساتھ سخت کلامی کی جس کی بناپر اس نے انہیں پکڑلیا۔ لیکن خراسان کے فقہاء اور دیندارلوگوں کی کوششوں سے انہیں رہائی مل گئی ابراہیم نے پھر وہی طرزعمل اختیار کیا اور ابومسلم کو اس کی غلط کاریوں پر ٹوکا۔ اس نے انہیں تنبیہ کی۔ لیکن ابراہیم پھر اس کے پاس گئے۔ اور کہنے لگے کہ میری نظر میں نیزے خلاف جہاد سے بڑھ کر کوئی نیکی نہیں جو میں اللہ کی خاطرسرانجام دے سکوں۔ لیکن میرے ہاتھ میں چونکہ کوئی قوت نہیں ہے اس لیے میں تیرے خلاف زبانی جہاد جاری رکھوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے راستہ دکھادیا ہے میں اس کی خاطر تجھ سے ہمیشہ نفرت رکھوں گا۔ ابومسلم یہ باتیں سن کر طیش میں آگیا اور انہیں قتل کرادیا۔ ابوبکر جصاص کا استنباط ابوبکرجصا ص کہتے ہیں کہ سابقہ سطور میں قران وحدیث کی روشنی میں جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ، امربالمعروف اورنہی عن المنکر، کرنا امت پر عائدشدہ ایک فریضہ ہے اور یہ چیز بھی واضح کردی گئی کہ اس کی نوعیت فرض کفایہ کی ہے کہ جب کچھ افراد اس کی ادائیگی کریں تو باقیماندہ لوگوں سے اس کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے، تو اس سے یہ ضروری ہوگیا کہ اس کی فرضیت کے لزوم میں نیک اور بد کے درمیان کوئی فرق نہ ہو، اس لیے کہ بعض فرائض کے ترک سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایسے انسان سے دوسرے فرائض بھی ساقط ہوجائیں، آپ نہیں دیکھتے کہ ایک اگر نماز ترک کردے تو اس کی بناپر اس سے روزے کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی اور دوسری تمام عبادات بھی اس پر لازم رہتی ہیں ٹھیک اسی طرح جو شخص تمام نیکیاں نہیں کرتا اور تمام برائیوں سے باز نہیں رہتا، اس سے، امربالمعروف اور نہی عن المنکر، کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی۔ طلحہ (رض) بن عمرونے عطاء (رض) بن ابی رباح سے انہوں نے حضرت ابوہریر (رض) ہ سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چند صحابہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوکرعرض کرنے لگے کہ حضور کیا ہمارے لیے، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی گنجائش اس وقت پیدا ہوگی جب ہم تمام نیکیاں کر گزریں گے اور تمام برائیوں سے باز آجائیں گی ؟ جواب میں آپ نے فرمایا (مروابالمعروف وان لم تعملوابہ کلہ وانھوا عن المنکروان لم تنھواعنہ کلہ، اگرچہ تم تمام نیکیوں پر خود عمل پیرانہ بھی ہو پھر بھی امربالمعروف کرواسی طرح اگرچہ تم تمام برائیوں سے خود باز نہ بھی آئے ہو پھر بھی لوگوں کو برائیوں سے روکو) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعض فرائض میں کوتاہی کے باوجود امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ادائیگی کے لزوم کے (رح) لحاظ سے دوسرے فرائض کے برابر قراردیا۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے متعلق جاہلانہ تصور علمائے امت اور فقہائے ملت میں سے خواہ ان کا تعلق سلف سے ہو یا خلف سے کسی نے بھی امربالمعروف اور نہی عن المنکر، کے وجوب کا انکار نہیں کیا۔ البتہ نام نہاداصحاب حدیث کا ایک جاہل اور علم سے تہی دامن گروہ مسلمانوں کے کسی باغی گروہ کے خلاف جنگی اقدامات کا قائل نہیں ہے۔ یعنی وہ ہتھیار کے سہارے، امربالمعروف اور نہی عن المنکر، کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ اس کی نظروں میں اس کام کے لیے اگر ہتھیاراٹھا نے اور باغی گروہ سے قتال کرنے کی ضرورت پیش آجائے تو یہ تبلیغ نہیں ہوگی بلکہ یہ ایک فتنہ ہوگا، حالانکہ ان کے کافوں میں اس قول باری (فقاتلوا التی تبغی حتی تفئی الی امر اللہ) کی آوازپہنچ چکی ہے اور ان کے سامنے اس آیت کے الفاظ کا مقتضی بھی واضح ہے اور یہ مقتضیٰ باغی گروہ کے ساتھ قتال بالسیف کے وجوب کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ اس گروہ کا یہ زعم بھی باطل ہے کہ سلطان یا صاحب اقتداراگرظلم وجورکرے نیز بےگناہوں کے خون سے ہاتھ رنگے تو اس کے خلاف لب کشائی نہ کی جائے، البتہ سلطان کے علاوہ کوئی اور شخص ایسی حرکتیں کرے تو اس کے خلاف صرف زبانی یا ہاتھ سے کارروائی کی جائے ہتھیارپھر بھی استعمال نہ کیے جائیں۔ ان جاہلوں نے اپنے اس طرزعمل سے امت کو اس سے زیادہ نقصان پہنچایاجتنا دشمنوں کے ہاتھوں سے اسے پہنچ سکتا تھا۔ اس لیے کہ انہوںنی اپنے اس زعم باطل کا پرچارکرکے مسلمانوں کو باغی گروہوں کے خلاف ہتھیاراٹھا نے اور سلطان یابرسراقتدار شخص کے ظلم وجور کے خلاف لب کشائی کرنے سے روک دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فاسقوں اورفاجروں بلکہ محبوسیوں اور دشمنان اسلام کو زورپکڑنے اور حکومت پر قبضہ جمانے کا موقعہ مل گیا جس سے بلاد اسلامیہ کی سرحدیں غیر محفوظ ہوگئیں، ظلم وستم کا بازارگرم ہوگیا ، شہراجڑگئے، علاقے تباہ ہوگئے اور دین ودنیا دونوں ہاتھ سے گئے دوسری طرف فکر ی اتنشار کے نتیجے میں زندیقیت ، بےتباہ ہوگئے اور دین ودنیا دونوں ہاتھ سے گئے دوسری طرف فکر ی اتنشار کے نتیجے میں زندہ لقیت بےدینی اور تشیع کو ہواملی نہ صرف یہ بلکہ ثنویت ، مزوکیت اور خرمیت جیسے باطل خیالات عام ہونے لگے یہ تمام خرایباں دراصل ، امربالمعروف اور نہی عن المنکر، کے فریضہ کو ترک کرنے نیز ظالم سلطان کے خلافآواز بلند نہ کرنے نہ کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوئیں۔ دو خداؤں یعنی یزدان وہرمن کا نظر یہ جس کے مطابق یزدان خالق خیر اور اہرمن خالق شر ہے۔ فرقہ خرمیہ دراصل مجوسیوں کا طائفہ تھا جو تناسخ کا قائل تھا۔ ان کے ہاں محرمات کی اباحت تھی ۔ یعنی ایک انسان اپنی ماں بہن وغیرہ سے نکاح کرسکتا تھا۔ اس فرقے کی نسبت ایران کے ایک گاؤں خرمہ کی طرف ہے، مزدکیت بھی ان ہی نظریات کی حامل تھی البتہ اسکاوجود فرقہ خرمیہ سے پہلے ہوا تھا۔ قرآن وسنت کی روشنی میں جاہلانہ تصورد ہمیں محمد بن ب کرنے روایت بیان کی انہیں ابوداؤدنے ، انہیں محمد بن عبادالوواسطی نے، انہیں یزید بن ہاون نے انہیں اسرائیل نے انہیں محمد بن حجادہ نے عطیہ عوفی سے انہوں نے ابوسعید خدری سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (افضل الجھاد کلمہ عدل عند سلطان جائراوامیرجائر۔ ظالم وجابرسلطان یاحاکم کے سامنے کلمہ حق وانصاف بلند کرنا افضل ترین جہاد ہے۔ ) ہمیں محمد بن عمر نے روایت بیان کی انہیں احمد بن محمد بن عمروبن مصعب المروزی نے انہوں نے ابوعمارہ سے انہوں نے الحسن بن رشید سے ، انہوں نے امام ابوحنیفہ سے، آپ نے فرمایا، میں نے ابراہیم صائغ کو عکرمہ سے ایک روایت بیان کی جو انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی تھی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (سیدالشھداء حمزہ بن عبدالمطلب ورجل قام الی امام جائرفامرہ ونھا ، فقتلہ، شہیدوں کے سروارحمزہ (رض) بن عبدالمطلب ہیں نیزوہ شخص بھی ہے جو کسی ظالم حاکم کے پاس جاکرامربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے ہوئے اس کے ہاتھوں شہید ہوجائے) قول باری ہے (وما اللہ یرید ظلما للعباد، اور اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ بندوں پر ظلم ہو) یہ قول باری (من کل الوجوہ ارادہ ظلم کی نفی کا متقاضی ہے۔ یعنی نہ تو اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی وہ یہ چاہتا ہے کہ بندے ایک دوسرے پر ظلم کریں اس لیے کہ ظلم کی یہ دونوں صورتیں قبیح ہونے کے لحاظ سے یکساں ہیں۔ کیونکہ اگر یہ جائز ہوتا کہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا اللہ کے ارادے میں ہے تو اس کی طرف سے بندوں پر ارادہ ظلم بھی جائز ہوتا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ ایسے دو شخصوں کے درمیان عقلی لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہوتا جن میں سے ایک غیر کی خاطر اپنے اوپر اور دوسرا غیر کی خاطر کسی اور پر ظلم کرنے کا ارادہ کرے۔ فعل قبیح کے ارتکاب کے لحاظ سے دونوں کی حیثیت یکساں ہوتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اور بندوں دونوں سے ارادہ ظلم کی نفی ہونی چاہیے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٤) اب اللہ تعالیٰ امر بالمعروف اور آپس میں صلح کرانے کا حکم دیتا ہے کہ تم لوگوں میں ہمیشہ ایک ایسی جماعت رہنی چاہیے، جو نیکی، صلح توحید اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کا حکم اور کفر وشرک سے روکتی اور منع کرتی رہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٤ (وَلْتَکُنْ مِّنکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ط) اس جماعت کے کرنے کے تین کام بتائے گئے ہیں ‘ جن میں اوّلین دعوت الی الخیر ہے ‘ اور واضح رہے کہ سب سے بڑا خیر یہ قرآن ہے۔ (وَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ) یہاں لفظ منکُمْ بڑا معنی خیز ہے کہ تم میں سے ایک ایسی امت وجود میں آنی چاہیے۔ گویا ایک تو بڑی امت ہے امت مسلمہ ‘ وہ تو ایک سو پچاس کروڑ نفوس پر مشتمل ہے ‘ جو خواب غفلت میں مدہوش ہیں ‘ اپنے منصب کو بھولے ہوئے ہیں ‘ دین سے دور ہیں۔ لہٰذا اس امت کے اندر ایک چھوٹی امت یعنی ایک جماعت وجود میں آئے جو جاگو اور جگاؤکا فریضہ سرانجام دے۔ اللہ نے تمہیں جاگنے کی صلاحیت دے دی ہے ‘ اب اوروں کو جگاؤ اور اس کے لیے طاقت فراہم کرو ‘ ایک منظم جماعت بناؤ ! فرمایا کہ یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ وہ بڑی امت جو کروڑوں افراد پر مشتمل ہے اور یہ کام نہیں کرتی وہ اگر فلاح اور نجات کی امید رکھتی ہے تو یہ ایک امید موہوم ہے۔ فلاح پانے والے صرف یہ لوگ ہوں گے جو تین کام کریں گے : ) (i دعوت الی الخیر (ii) امر بالمعروف (iii) نہی عن المنکر۔ میں نے منہج انقلاب نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مراحل و مدارج کے ضمن میں بھی یہ بات واضح کی ہے کہ اسلامی انقلاب کے لیے آخری اقدام بھی نہی عن المنکر بالیدہو گا۔ اس لیے کہ حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہی عن المنکر کے تین مراتب بیان کیے ہیں۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : (مَنْ رَاٰی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ ‘ فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ ‘ فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ ‘ وَذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ ) (١) تم میں سے جو کوئی کسی منکر کو دیکھے اس کا فرض ہے کہ اسے زور بازو سے روک ‘ دے۔ پس اگر اس کی طاقت نہیں ہے تو زبان سے روکے۔ پھر اگر اس کی بھی ہمت نہیں ہے تو دل میں برائی سے نفرت ضرور رکھے۔ اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ‘ ہے۔ اگر دل میں نفرت بھی ختم ہوگئی ہے تو سمجھ لو کہ متاع ایمان رخصت ہوگئی ہے۔ بقول اقبال : ؂ وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا ! ہاں ‘ دل میں نفرت ہے تو اگلا قدم اٹھاؤ۔ زبان سے کہنا شروع کرو کہ بھائی یہ چیز غلط ہے ‘ اللہ نے اس کو حرام ٹھہرایا ہے ‘ یہ کام مت کرو۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی ایک طاقت بناتے جاؤ۔ ایک جماعت بناؤ ‘ قوت مجتمع کرو۔ جب وہ طاقت جمع ہوجائے تو پھر کھڑے ہوجاؤ کہ اب ہم یہ غلط کام نہیں کرنے دیں گے۔ پھر وہ ہوگا نہی عن المنکر بالید یعنی طاقت کے ساتھ برائی کو روک دینا۔ اور یہ ہوگا انقلاب کا آخری مرحلہ۔ تو ان تین آیات کے اندر عظیم ہدایت ہے ‘ انقلاب کا پورا لائحہ عمل موجود ہے ‘ بلکہ اسی میں منہج انقلاب نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جو آخری اقدامی عمل ہے وہ بھی پوشیدہ ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(104 ۔ 109) ۔ اوپر ذکر تھا کہ یہود نے انصار کے دو گروہ کو بہکا کر ان دو گروہ کو آپس میں لڑانے کی شرارت کی تھی مگر اللہ کے رسول کی فہمایش سے یہود کا وہ بہانہ چل نہ سکا۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ سب بہکانے والوں کے سر گروہ ابلیس علیہ اللعنہ اور شیاطین الجن والانس کے اغوا سے انجان مسلمانوں کو بچانے کے لئے مسلمانوں میں ہمیشہ کے تھے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے کہ دین کی باتوں کی لوگوں کو نصیحت اور فہمایش کیا کرے۔ اس سے زیادہ تفسیر اس باب میں آئندہ کی آیت کی تفسیر میں آتی ہے۔ ١١٠۔ ١١٢۔ خازن وغیرہ میں جو حدیثیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مالک بن صیف اور وہب بن یہود یہودیوں نے ایک روز عبد اللہ بن مسعود (رض) اور ابی بن کعب (رض) اور معاذ بن جبل (رض) سے بڑا جھگڑا کیا۔ اور یہ کہا کہ جس دین کی طرف تم لوگ ہم کو بلاتے ہو بلا شک ہم لوگ تم سے اور ہمارا دین تمہارے دین سے اچھے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اگرچہ بعض مفسروں نے کہا ہے کہ اس آیت سے مراد فقط صحابہ (رض) ہیں۔ لیکن اکثر مفسروں نے کہا ہے کہ جس طرح کتب علیکم الصیام، کتب علیکم القصاص ان آیتوں میں صحابہ کرام (رض) کو ہی مخاطب ٹھہرایا ہے اور مراد عام امت ہے۔ اسی طرح اس آیت میں بھی عام امت مراد ہے مسند احمد ترمذی، ابن ماجہ مستدرک حاکم میں معاویہ بن حیدہ (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم لوگ ستر امتوں کو پورا کرتے ہو اور ان سب میں تم اللہ کے نزدیک بہتر ہو یہ حدیث مشہور ہے اور ترمذی نے اس حدیث کو حسن کرہا ہے ١۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ سب میری امت جنت میں جائے گی مگر جو مجھ کو نہ مانے گا وہ دوزخ میں جائے گا صحابہ (رض) نے عرض کیا حضرت وہ کون لوگ ہیں آپ نے فرمایا جو میری اطاعت نہیں کرتے ٢۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو لوگ آنحضرت کی اطاعت پوری نہیں کرتے اس کو اس خوشخبری سے جو اس آیت میں ہے کہ آنحضرت کی امت بہترین امت ہے کچھ بہرہ نہیں ہے۔ کیونکہ اس امت کا شرف آپ کے اشرف الانبیاء ہونے کے سبب سے ہے چناچہ مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ مجھ کو اللہ نے وہ شرف عنایت فرمایا ہے کسی نبی کو نہ تھا۔ اور میری امت بہترین امت ہے۔ ٣ پھر جو شخص باوجود ان کی امت میں ہونے کی پوری اطاعت ان اشرف الانبیاء کی نہ کرے وہ اس شرف کو جو محض آپ کی اطاعت کے سبب سے اس امت کو ملا ہے کیونکہ حاصل کرسکتا ہے بلکہ اس شرف کا حاصل کرنا تو درکنار صحیح بخاری مکی حدیث جو اوپر بیان ہوئی اس کی رو سے ایسے شخص کا جنت میں داخل ہو بھی دشوار ہے اس آیت میں اللہ نے اس امت مرحومہ کے اوصاف میں یہ وصف جو ذکر فرمایا ہے کہ ” اچھی باتوں کا امر کرتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں “ اس کے متعلق اس کی صراحت کر دینی ضرور ہے کہ اچھی باتوں کا امر کرنا۔ اور بری باتوں سے منع کرنا دو قسم کا ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ اس امت میں سے ایک جماعت خاص اسی کام کی ہونی چاہیے کہ وہ ان پڑھ لوگوں کو اللہ اور اللہ کے رسول کے حکم سناتے رہیں۔ یہ ایک دین کا بڑا کام ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے فلاح و دارین کا وعدہ فرمایا ہے۔ چناچہ اس آیت سے پیشتر کی آیت میں گزرچکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو اور لوگوں کو نیک باتوں کی رغبت دلاتا رہے اور بری باتوں سے روکتا رہے اور اس گروہ کو اللہ فلاح و دارین کی خوش خبری سناتا ہے یہ گروہ علماء واعظین کا ہے۔ مگر اصل خوش خبری ان واعظین کو فلاح و دارین کی ہے جن کے وعظ میں اللہ اور اللہ کے رسول کا کلام سنایا جاتا ہے چناچہ اس آیت کی تفسیر میں ابن مردویہ نے حضرت امام جعفر سے روایت کی ہے کہ آنحضرت نے یہ پڑھی اور یدعون الی الخیر کی تفسیر میں فرمایا کہ مراد خیر سے قرآن اور حدیث ہے ١۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو واعظ اپنے وعظ کو ادھر ادھر کے بےسند قصوں اور نقلوں اور حکایتوں میں پورا کردیتے ہیں نہ ان کا وعظ اس آیت کے حکم میں داخل ہوسکتا ہے نہ ان کے وعظ سے شریعت کی اچھی بری بات کسی انجان آدمی کو معلوم ہوسکتی ہے۔ بلکہ اس طرح کے وعظ سے ایک طرح کے عقبٰی کے مواخذہ کا اندیشہ ہے اس لئے کہ اگر کوئی انجان آدمی اس طرح کے کسی وعظ میں بےسند بات کو سن کر شریعت کی ایک بات جان لے گا تو اس کا وبال اس طرح کے بےسند واعظ کے ذمہ رہے گا۔ اس لئے اس گروہ کو لازم ہے کہ اپنے وعظ میں وہی بات پیدا کریں۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے فلاح وارین کا وعدہ فرمایا ہے دوسری قسم اچھی بات کی رغبت دلانے اور بری بات سے روکنے کی کسی خاص گروہ کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ جہاں تک بن پڑے اس خلاف شریعت بات کو نیست و نابود کر ڈالے اور اگر اس خلاف شریعت بات کو نیست نابود کرنا اس مسلمان آدمی کی طاقت سے با ہر ہے تو اتنا تو ضرور ہے کہ دل سے اس خلاف شریعت بات کو برا جانے اور یہ نہایت ضعیف ایمان کا مرتبہ ہے اور بعض روایتوں میں یوں ہے کہ جس شخص میں اتنی بھی بات نہیں اس برائی کے دانہ برابر بھی ایمان نہیں ٢ اور ترمذی ابن ماجہ اور مسند امام احمد بن حنبل میں مرفوع اور موقوف روایتوں میں ہے اس امت میں سے جب یہ بات اٹھ جائے گی کہ ایک دوسرے کو اچھی بات کی رغبت دلائے یا بری بات سے روکے تو اس وقت اللہ کا کوئی عذاب اس امت پر آئے گا۔ اور عذاب کے وقت پر نجات کی دعا ہرگز قبول نہ ہوگی ١۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:104) ولتکن منکم۔ لتکن میں لام امر ہے صیغہ واحد مؤنث غائب۔ امر غائب و متکلم معروف بناوٹ کے لحاظ سے کوئی مستقل فعل نہیں بلکہ ایک دوسرا نام مضارع بلام امر کا ہے لام امر و مضارع غائب و متکلم معروف کے آٹھوں صیغوں سے خاص ہے جو صیغہ ہائے واحد کو جزم دیتا ہے۔ جیسے لیکن (واحد مذکر غائب) لتکن (واحد مؤنث غائب) اور لاکن واحد متکلم۔ نون اعرابی کے سقوط اور نون ضمیری کی قائمی میں مثل لم کے عمل کرتا ہے۔ ولتکن۔ چاہیے کہ ہو ایک (جماعت) تم میں سے جو ۔۔ منکم۔ میں من تبیین کے لئے ہے تبعیض کے لئے نہیں۔ یعنی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام تمام امت پر واجب ہے کسی مخصوص جماعت کی ذمہ داری نہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی اللہ تعالیٰ کہ رسی کو مضبوط پکڑ نے اور اختلاف و خلالت سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ تم میں جماعت امر بالمعروف ونھی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتی رہے جب تک اس قسم کی جماعت قائم رہے گی لوگ ہدا یت پر رہیں گے ایک حدیث میں ہے کہ تم میں سے جو شخص بھی برائی دیکھے اس چاہیے کہ ہاتھ سے بدلنے کی کوشش کرے اگر ایسا نہ کرسکے تو بذریعہ تبلغ کے ارد اگر ایسا بھی نہ کرسکے تو دل سے اسے برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ّ (مسلم) امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو وجوب کتاب و سنت سے ثابت ہے اور شریعت میں اسے ایک اصل اور رکن کی حثیت حاصل ہے اس کے بغیر سریعت کا نظام کا مل طور پر نہیں چل سکتا۔ (شوکانی) ف

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ جو شخص امر بالمعروف ونہی عن المنکر پر قادر ہو یعنی قرائن سے غالب گمان رکھتا ہے کہ اگر میں امرونہی کروں گا تو مجھ کو کوئی ضرر معتد بہ لاحق نہ ہوگا اس کے لیے امور واجبہ میں امرونہی کرنا واجب ہے اور امور مستحبہ میں مستحب اور جو آدمی بالمعنی مذکور قادر نہ ہو اس پر امر ونہی کرنا امور واجبہ میں بھی واجب نہ ہوگا البتہ اگر ہمت کرے تو ثواب ملے گا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ لوگوں کی ہدایت کے لیے اپنے احکامات بیان کرتا ہے لہٰذا مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے لوگوں کو تبلیغ کرتے رہیں۔ خاص کر ایک جماعت کو مسلسل یہ فریضۂ سرانجام دینا چاہیے۔ تھوڑا سا آگے چل کر آیت ١١٠ میں اس امت کے وجود کی غرض وغایت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے وجود کا مقصدہی یہ ہے کہ تم لوگوں کو نیکی کا حکم کرو اور برائی سے روکتے رہو۔ چونکہ امت میں ہر آدمی اتنا وقت نہیں دے سکتا جس سے فریضۂ تبلیغ کا حق ادا ہو سکے اور نہ ہی ہر کسی میں اتنی صلاحیت ہوا کرتی ہے کہ وہ دلائل کی بنیاد پر دوسرے کو مطمئن کرسکے۔ اس لیے یہاں امت میں ایسی جماعت ہونے کا تقاضا کیا گیا ہے۔ جو لوگوں کو ہمہ وقت تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ خیر کی دعوت اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکتی رہے۔ ایسے لوگ اپنے مقاصد میں کامیاب اور آخرت میں سرخرو ہوں گے۔ جو لوگ فریضۂ تبلیغ ادا نہیں کرتے ان پر خدا کی لعنت ہوا کرتی ہے۔ جس طرح بنی اسرائیل کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل پر حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے پھٹکار کی کیوں کہ یہ لوگ اللہ کے نافرمان اور اس کی حدّوں کو توڑنے والے تھے۔ ان پر اس لیے بھی لعنت کی گئی کہ وہ لوگوں کو برائی سے روکنے کے بجائے خود بھی گناہوں میں ملّوث ہوگئے اور یہ برے کردار کے حامل لوگ تھے۔ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ اَوَّلَ مَا دَخَلَ النَّقْصُ عَلٰی بَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ کَان الرَّجُلُ یَلْقَی الرَّجُلَ فَیَقُوْلُ : یَا ہٰذَا !إِتَّقِ اللّٰہَ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ فَإِنَّہٗ لَایَحِلُّ لَکَ ثُمَّ یَلْقَاہُ مِنَ الْغَدِ فَلَا یَمْنَعُہٗ ذٰلِکَ أَنْ یَّکُوْنَ أَکِیلَہٗ وَشَرِیْبَہٗ وَقَعِیدَہٗ فَلَمَّا فَعَلُوْا ذٰلِکَ ضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِہِمْ بِبَعْضٍ ثُمَّ قَالَ : (لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ بَنِیْ اِسْرَاءِیْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ )إِلٰی قَوْلِہٖ (فَاسِقُوْنَ ) ثُمَّ قَالَ کَلَّا وَاللّٰہِ لَتَأْمُرُنَّ بالْمَعْرُوْفِ وَلَتَنْہَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ لَتَأْخُذُنَّ عَلٰی یَدَیِ الظَّالِمِ ) [ رواہ أبو داؤد : کتاب الملاحم، باب الأمر والنھی ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بنی اسرائیل میں پہلا نقص یہ پیدا ہوا کہ کوئی آدمی کسی کو برا کام کرتے دیکھتا تو اسے اللہ کا خوف دلاتے ہوئے اس کام سے منع کر تاکہ ایسا کام نہیں کرنا چاہیے۔ اگلے دن اسے منع نہ کرتا بلکہ اس کے ساتھ مل کر کھاتا ‘ پیتا ‘ اٹھتا ‘ بیٹھتا ان کی جب یہ حالت ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل بھی ایک جیسے کردیے۔ پھر فرمایا بنی اسرائیل پر بزبان داوٗد اور عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) لعنت کی گئی۔ اس کے بعد فرمایا سنو ! اللہ کی قسم ! تمہیں ضرور بالضرور نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرتے ہوئے ظالم کا ہاتھ روکنا ہوگا۔ “ ایک اور موقع پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عمل کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کشتی میں سوار لوگوں کی مثال بیان فرمائی : (مَثَلُ الْقَاءِمِ عَلٰی حُدُوْدِ اللّٰہِ وَالْوَاقِعِ فِیْھَا کَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَھَمُّوْا عَلٰی سَفِیْنَۃٍ فَأَصَابَ بَعْضُھُمْ أَعْلَاھَا وَبَعْضُھُمْ أَسْفَلَھَا فَکَانَ الَّذِیْنَ فِيْ أَسْفَلِھَا إِذَا اسْتَقَوْا مِنَ الْمَاءِ مَرُّوْا عَلٰی مَنْ فَوْقَھُمْ فَقَالُوْا لَوْ أَنَّا خَرَقْنَا فِيْ نَصِیْبِنَا خَرْقًا وَلَمْ نُؤْذِ مَنْ فَوْقَنَا فَإِنْ یَتْرُکُوْھُمْ وَمَا أَرَادُوْاھَلَکُوْا جَمِیْعًآ وَإِنْ أَخَذُوْا عَلٰی أَیْدِیْھِمْ نَجَوْا وَنَجَوْا جَمِیْعًا) [ رواہ البخاری : کتاب الشرکۃ، ھل یقرع فی القسمۃ والإستھام فیہ ] ” اللہ تعالیٰ کی حدود پر قائم رہنے والے اور اس میں ملوث ہونے والوں کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جنہوں نے ایک بحری جہاز کے بارے میں قرعہ اندازی کی۔ بعض کو اوپر والے حصے میں اور کچھ کو نیچے والے حصے میں جگہ ملی۔ نیچے والوں کو جب پانی کی ضرورت پڑتی تو اوپر والوں کے پاس جاتے۔ نیچے والوں نے کہا کہ ہم اپنے حصے میں سوراخ کرلیتے ہیں اور اوپر والوں کو تکلیف نہیں دیتے۔ اگر اوپر والے انہیں اسی حالت پر چھوڑ دیں تو تمام ہلاک ہوجائیں گے اور اگر ان کے ہاتھوں کو روک لیں تو وہ سب بچ جائیں گے۔ “ مسائل ١۔ امت محمدیہ کا مقصد نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا ہے۔ ٢۔ نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے ہی کامیاب ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن امّتِ محمدیہ کے اجتماعی فرائض : ١۔ اپنے آپ اور اعزاء و اقرباء کو جہنم کی آگ سے بچانا۔ (التحریم : ٦) ٢۔ تبلیغ کے لیے ایک جماعت کا ہونا ضروری ہے۔ (آل عمران : ١٠٤) ٣۔ اجتماعی زندگی میں شریعت نافذ کرنا فرض ہے۔ (الحج : ٤١) ٤۔ باہمی معاملات مشورہ سے طے کرنے چاہییں۔ (آل عمران : ١٥٩) ٥۔ عہدہ اہل شخص کو دینا چاہیے۔ (النساء : ٥٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سوال یہ ہے کہ ان یہودی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ان دوآسامیوں (Bases) پر استوار ہوکر پھر امت مسلمہ کا منشور اور ہدف کیا ہے ؟ اس کا فریضہ ‘ فریضہ اقامت دین ہے ۔ اس کرہ ارض پر اسلامی نظام زندگی کا قیام ہے ۔ حق کو باطل پر غالب کرنا ہے ‘ معروف کو منکر پر غالب کرنا ہے ‘ خیر کو پھیلانا ہے اور شر کو روکنا ہے ۔ یہ ہے وہ نصب العین جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ہاتھوں سے ‘ اپنی نظروں کے سامنے ‘ اپنے خاص منہاج کے مطابق اس امت کو برپا کیا ہے ۔ اس نصب العین کا تعین ان الفاظ میں کیا جاتا ہے۔ وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ” تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور رہنے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں ‘ بھلائی کا حکم دیں ‘ اور برائیوں سے روکیں اور جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے ۔ “ بس یہ ضروری ہوا کہ ایسی جماعت ہر وقت موجود ہو جو بھلائی کی طرف دعوت دے ‘ معروف کا حکم دے اور منکر سے منع کرے ۔ ان کے اندر ایک ایسا اقتدار ‘ ایک ایسی قوت ضرور ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دے ۔ یہ بات کہ ایک ایسا اقتدار یا ایسا مقتدر اعلیٰ ضروری ہے جو یہ کام کرے ‘ اس پر یہ آیت بصراحت دلالت کرتی ہے ۔ یعنی دعوت الی الخیر ہر وقت ہو اور یہ بات ہر کوئی کرسکتا ہے ‘ لیکن یہاں تو ساتھ ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے الفاظ بھی وارد ہیں ۔ اگر دعوت اسلامی بغیر اقتدار اعلیٰ کے ممکن العمل بھی ہے تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بغیر اقتدار اعلیٰ کے حصول کے ممکن نہیں ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے صحیح اسلامی تصور حیات یہی ہے کہ ایسا قتدار اعلیٰ ضروری ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرے ۔ یہ اقتدار اعلیٰ دعوت الی الخیر کے نصب العین پر قائم ہوگا ۔ اور اس کا مقصد دفعیہ شر ہوگا ۔ یہ اقتدار اعلیٰ ایسا ہوگا جو مکمل اتحاد واتفاق کے نتیجے میں حاصل ہوگا ‘ یہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کے نتیجے میں اور اخوت اسلامی کے قیام کے بعد ہوگا ۔ یعنی یہ اقتدار اعلیٰ ‘ یا مملکت یا سلطنت ان دوبنیادوں پر قائم ہوگی یعنی اتحاد اور اخوت اور اس کا نصب العین انسانی زندگی میں اسلامی نظام حیات کا قیام ہوگا۔ اور اس اقتدار اعلیٰ کا قیام اس طرح ہوگا کہ اس نظام کی طرف جو خیر ہی خیر ہے ‘ عام لوگوں کو دعوت دی جائے گی ۔ لوگوں کو اس سے متعارف کرایا جائے گا کہ اس کی نظام کی حقیقت کیا ہے ۔ انہیں یہ بتایا جائے گا کہ اسلامی نظام اقتدار اعلیٰ کا خواہاں ہے تاکہ وہ معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے ۔ اور لوگ اس کی اطاعت کریں یا وہ اپنی اطاعت کروائے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَمَا اَرسَلنَا مِن رَّسُولٍ اِلّا لِیُطَاعَ بِاِذنِ اللّٰہِ……………” ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے ‘ وہ صرف اس لئے بھیجا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔ “ اس لئے یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اس کرہ ارض پر اسلامی نظام زندگی کے معنی یہ نہیں ہیں کہ صرف وعظ و ارشاد اور تبلیغ بیان جاری ہو ۔ یہ تو اسلامی نظام کا ایک حصہ اور جزء ہے ۔ اس کا دوسرا اہم جزء یہ ہے کہ ایک ایسا اقتدار اعلیٰ قائم کیا جائے جو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو ادا کرے ۔ اور انسانی زندگی میں معروف کو رائج کرے ۔ اور منکر کا قلع قمع کرے ۔ اور اس ” جماعت ممتازہ “ کو بھی بچائے رکھے کہ ہر کس وناکس اس امت کو اپنی خواہشات ‘ اپنی مرغوبات اور شہوات کے بھینٹ نہ چڑھاسکے ۔ اور اسے اپنی ذاتی مصلحتوں کی خاطر استعمال نہ کرسکے ۔ اور معاشرہ کے اندر نیکی اور بھلائی پر مبنی اخلاق کو کوئی اپنی خاص رائے اور اپنے مخصوص تصورات کے تحت تباہ نہ کرسکے ‘ اگرچہ وہ سمجھتا ہو کہ وہ جو کچھ کررہا ہے وہ معروف اور درست ہے۔ یہی وجہ ہے دعوت الی الخیر ‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ کوئی آسان اور سہل کام نہیں ہے ۔ خصوصاً جب اس کے مزاج پر غور کریں اور دیکھیں کہ وہ لوگوں کی خواہشات اور میلانات کے ساتھ متصادم ہے ۔ وہ بعض لوگوں کی ذاتی مصلحتوں اور مفادات کے ساتھ ٹکراتا ہے ‘ بعض لوگوں کے غرور اور کبریائی پر اس کی زد پڑتی ہے ‘ بعض غاصب جابروں اور زبردستی مسلط ہونے والے حکام بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں ‘ بعض گرے ہوئے طبقات جن میں ترقی اور بلندی کا داعیہ ہی نہیں ہے ‘ وہ اسے مصیبت سمجھتے ہیں ‘ بعض اس قدر کامل ہوں کہ اس کی مشقتیں برداشت کرنے کی ہمت نہ رکھتے ہوں ‘ بعض ظالم طبقات ہوں جس کے ساتھ عدل لگانہ کھاتا ہو۔ بعض ایسے گم کردہ راہ اور کجرو ہوں کہ انہیں صراط مستقیم اچھا ہی نہ لگتا ہو ‘ اور ان میں سے بعض ایسے بھی موجود ہوں جو منکر کو پسند کرتے ہوں اور معروف کے دشمن ہوں……حالانکہ انسانیت اور امت مسلمہ صرف اس وقت فلاح پاسکتی ہے کہ اس میں خیر غالب ہو ‘ معروف ہو معروف سمجھا جاتا ہو ‘ منکر کو منکر سمجھا جاتا ہو ‘ اور ان تمام امور کا منطقی تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسا اقتدار اعلیٰ ہو جس میں خیر غالب ہو اور وہ نہی عن المنکر اور امر بالمعروف کا فریضہ ادا کرتاہو ۔ اور پھر اپنے اوامر اور نواہی کو منوانے کی قوت بھی رکھتا ہو۔ لہٰذا ایک ایسی جماعت کا قیام ازحد ضروری ہے جس کی بنیاد پر ان دو ستونوں پر ہو ‘ اللہ پر ایمان اور اخوت اسلامی تاکہ وہ اپنی قوت ایمانی ‘ قوت خدا خوفی اور باہم الفت اور محبت اور اتفاق و اتحاد کی قوت کے بل بوتے پر وہ فریضہ ادا کرسکے جس کے لئے اسے اٹھایا گیا ہو ‘ اس لئے کہ جماعت مسلمہ کو جو نصب العین دیا گیا ہے اور جو فریضہ اس پر عائد کیا گیا ہے کہ وہ ان دوخصوصیات کے بغیر اس میں عہدہ برآ نہیں ہوسکتی اور نہ کامیاب وکامران ہوسکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ……………” یہی لوگ فلاح پائیں گے ۔ “ غرض اس قسم کی جماعت کا قیام اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لئے ایک بنیادی ضرورت ہے ۔ یہ اسلامی نظام کی ذاتی ضرورت ہے ۔ یہ جماعت وہ ماحول فراہم کرے گی جس کے اندر اسلامی نظام سانس لے گا ‘ زندہ ہوگا اور ایک حقیقت کے روپ میں نمودار ہوگا ۔ یہ ماحول بھلائی کا ماحول ہوگا ‘ باہم متعاون ومتکافل ہوگا ‘ اور اس میں دعوت الی الخیر کا چرچا ہوگا۔ اس میں بھلائی ‘ نیکی ‘ سچائی ‘ انصاف معروف ہوں گے ۔ شر ‘ رذالت ‘ باطل اور ظلم اس میں منکر تصور ہوں گے ۔ اس ماحول میں بھلائی آسان ہوگی اور برائی کا ارتکاب مشکل ہوگا۔ اس میں بھلائی پر عمل پیرا ہونے میں اس قدر مشقت نہ کرنا ہوگی جس قدر برائی پر مشقت ہوگی ۔ اس میں حق باطل کے مقابلے میں طاقتور ہوگا۔ اس میں ظلم کے مقابلے میں عدل سے زیادہ نفع ہوگا ‘ اس میں بھلائی کرنے والے کو معاونین بسہولت دستیاب ہوں گے ۔ اور اس میں برائی کا ارتکاب کرنے والے مزاحمت اور مخالفت کا سامنا کرنا ہوگا ‘ یہی وجہ ہے کہ ایسی سوسائٹی کا قیام ضروری ہے ‘ جس میں سچائی اور بھلائی بلاجدوجہد نشوونما پاسکے ۔ اس کے لئے اس کا پورا ماحول اور اس کا ہر فرد اس میں معاون ہوگا اور جس میں باطل اور شر کی نشو ونما کی راہ میں بےحد مشکلات اور رکاوٹیں ہوں گی ‘ اس لئے کہ پورا ماحول اس کے لئے ساز گار نہ ہوگا۔ اسلام کا تصور کائنات ، اس کا تصور حیات ‘ اس کا تصور اقتدار ‘ اس کا تصور اعمال ‘ اس کا تصور واقعات ‘ اس کا تصور اشیاء اور افراد تمام دوسرے جاہلی تصورات سے ‘ اپنی اساس اور نوعیت کے اعتبار سے بالکل مختلف ہے۔ اس لئے اسلام کے اس وسیع تصور حیات کے لئے ضروری ہے کہ اس کے لئے ایک ماحول ہو ‘ جس میں یہ تصور حیات پھلے پھولے اور اس میں اس کی اپنی اقدار حیات پروان چڑھیں ۔ لہٰذا اسلام کے جاہلی ماحول سے جدا ایک عمدہ ماحول کی ضرورت ہے اور اسے ایک جاہلی معاشرے کے سوا اس کا اپنا معاشرہ درکا رہے ۔ یہ ماحول اور یہ معاشرہ اسلامی تصور حیات کے لئے ہو جس میں یہ تصور زندہ رہے اور یہ ماحول بھی اس کے لئے زندہ ہو ‘ اس ماحول میں یہ تصور پھلے پھولے ‘ اور آزادی کے ساتھ وہ اس ماحول میں سانس لے سکے ‘ اس میں ذاتی ترقی کرسکے ‘ اور اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ‘ نہ داخلی رکاوٹیں جو اس کی راہ میں مشکلات پیدا کریں اور نہ خارجی رکاوٹیں جو مزاحمت کریں ۔ اور اگر ایسی رکاوٹیں کسی وقت وجود میں آجائیں تو دعوت اسلامی ان کا مقابلہ کرے ‘ اس لئے کہ یہ دعوت الی الخیر ہے ‘ دعوت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے ۔ اور جب اس قسم کی کوئی قاہرانہ قوت دعوت اسلامی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالے تو اس معاشرے میں اس کی مدافعت کرنے والے موجود ہوں اور یہ لوگ اسلامی نظام کے محافظین ہوں۔ یہ ماحول اسلامی جماعت کی صورت میں فراہم ہوتا ہے اور یہ جماعت دوبنیادوں پر قائم ہوتی ہے ۔ ایمان باللہ اور اخوت اسلامی ۔ ایمان باللہ اس لئے ضروری ہے تاکہ اس کا تصور کائنات ، تصور حیات ‘ اس کی اقدار ‘ تصور اعمال اور تصور اشخاص واشیاء میں مطابقت ہو۔ یہ تمام تصورات ایک ہی پیمانے کے مطابق ہوں اور ایک ہی منبع سے ماخوذ ہوں ‘ انہی کے مطابق زندگی کے تمام مسائل حل کئے جائیں اور پوری زندگی کے فیصلے اللہ کی طرف سے آئی ہوئی شریعت کے مطابق ہوں ۔ اور وہ جماعت محبت کے ساتھ اس قیادت کی پیروی کرے جو اسلامی نظام حیات کے مطابق قائم ہو ۔ وہ اسلامی اخوت پر قائم ہو۔ اس کی تشکیل محبت اور باہم تعاون وتکافل کے اصولوں پر ہو ‘ یہ ایسے اصول ہیں جن کے سایہ میں خود غرضی اور لالچ ختم ہوجاتی ہے اور ایثار اور قربانی کے جذبات دوچند ہوجاتے ہیں ‘ لوگ بڑی سہولت اور آزادی سے اور بڑی گرمجوشی سے ایثار کرتے ہیں اور نہایت ہی اطمینان ‘ خوشی اور اعتماد کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔ غرض مدینہ طیبہ میں پہلی اسلامی جماعت انہی دواصولوں پر قائم ہوئی تھی ‘ اس کا ایمان باللہ نہایت ہی پختہ تھا جو معرفت الٰہی پر مبنی تھا۔ معرفت الٰہی کی وجہ سے صفات باری کا پرتو ان کے ضمیروں پر پڑگیا ‘ خدا خوفی ‘ خدا کی نگرانی کا شعور ‘ مسلسل بیداری ‘ ذات باری کا احساس اس جماعت کے اندر اس ھد تک پہنچا ہوا تھا کہ جس کی نظیر تاریخ انسانی میں بڑی نادر ہے ۔ اور معرفت کردگار کے ساتھ ساتھ خوبصورت اور میٹھی محبت کے پیکر تھے ۔ معاشی لحاظ سے باہم معاون متکافل اور گہری اور سچی ہمدردی رکھتے تھے ۔ اور وہ اس میدان میں اس قدر اونچے مقام تک پہنچے ہوئے تھے کہ اگر انہوں نے یہ معیار عملاً پیش نہ کیا ہوتا تو وہ محض خواب ہی خواب ہوتا ۔ غرض مہاجرین اور انصار کے درمیان برادری اور مواخات کا قصہ تو ایک حقیقت تھا ‘ لیکن وہ اس قدر ممتاز اور بلند معیار کا تھا کہ آج بھی وہ محض افسانہ نظر آتا ہے ‘ حالانکہ وہ حقیقت تھی ۔ اور وہ قصہ اس سرزمین پر بطور واقعہ پیش آیا تھا۔ اگرچہ وہ محیر العقول اور افسانہ نظر آتا تھا ۔ غرض اس قسم کے ایمان اور اس قسم کی اخوت اور بھائی چارے پر ہر دور میں اسلامی نظام قائم ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاق کلام میں مکرر ‘ جماعت مسلمہ کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ تفرقے اور بےجا اختلاف سے باز رہیں ۔ ان سے پہلے جن لوگوں کو اس امانت کے اٹھانے کے لئے منتخب کیا گیا تھا ‘ اور جنہوں نے تفرقہ بازی کی تھی اور انجام کار وہ جس طرح تباہ وبرباد ہوئے تھے ‘ اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان سے وہ اعزاز چھین لیا تھا اور جماعت مسلمہ کے سپرد کردیا تھا ‘ اس لئے وہ باہم جڑے ہوئے تھے ۔ نیز ان لوگوں کا جو برا انجام قیامت میں ہونے والا ہے وہ مستزاد ہے ‘ کہ جس دن کچھ چہرے سیاہ ہوں گے اور کچھ سفید ہوں گے اور یہ لوگ سیاہ چہروں والے ہوں گے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے جو خیر کی دعوت دیتی ہو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتی ہو مسلمان کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ خود اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات پر عمل کرے۔ نیکیاں کرتا رہے گناہوں سے بچتا رہے اور دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ دوسروں کو خیر کی دعوت دیتا رہے اور برائیوں سے روکتا رہے خود نیک بن جانا اسلامی معاشرہ باقی رکھنے کے لیے کافی نہیں ہے دوسروں کو بھی خیر کی دعوت دیتے رہیں اور نیکیوں کا حکم کرتے رہیں اور برائیوں سے روکیں تب اسلامی معاشرہ باقی رہے گا چونکہ انسان کے اندر بہیمیت کے جذبات بھی ہیں اور اس کے پیچھے شیطان بھی لگا ہوا ہے اس لیے بہت سے لوگ فرائض اور واجبات چھوڑ بیٹھتے ہیں اور گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں ایسے لوگوں کو صحیح راہ پر باقی رکھنے کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ضرورت ہے۔ امر بالعمروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت : آیت بالا میں حکم فرمایا ہے کہ مسلمانوں میں ایک جماعت ایسی ہو جو خیر کی دعوت دیتی ہو امر المعروف کرتی ہو اور نہی عن المنکر کرتی ہو، جو کام اللہ کی رضا مندی کے ہیں ان کو معروف اور جو کام اللہ کی ناراضگی کے ہیں ان کو منکر کہا جاتا ہے پانچ آیات کے بعد پھر اس کی اہمیت پر زور دیا ہے اور فرمایا ہے (کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ ) اور سورة توبہ میں ارشاد فرمایا ہے : (وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ یَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ اُولٰٓءِکَ سَیَرْحَمُھُمُ اللّٰہُ ) (اور مسلمان مرد اور عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے (دینی) رفیق ہیں یہ لوگ نیک باتوں کی تعلیم دیتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرمانبر داری کرتے ہیں عنقریب اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے گا۔ ) اس کے علاوہ دوسری آیات میں بھی قرآن مجید میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت اور ضرورت بتائی ہے سورة توبہ کی آیت سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں کام مومنین کی خاص امتیازی صفات ہیں احادیث شریفہ میں بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی بہت زیادہ اہمیت اور ضرورت بتائی گئی ہے۔ (صحیح مسلم صفحہ ٥١: ج ١) میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مَنْ رَیٰی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیّرہُ بِیَدِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلسَانِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ وَ ذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ ” یعنی تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے تو اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے یعنی برائی کرنے والے کو اپنے زور کی طاقت سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے بدل دے (یعنی برائی کرنے سے روک دے) اگر اس کی طاقت نہ ہو تو دل سے برا جانے اور یہ (صرف دل سے برا جان کر خاموش رہ جانا اور ہاتھ یا زبان سے منع نہ کرنا) ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ معلوم ہوا کہ ہر شخص نیکیوں کا حکم کرنے اور برائیوں سے روکنے کا مامور ہے اپنے گھر کے بڑے، اداروں کے بڑے، کمپنیوں اور فرموں کے ذمہ دار، حکومتوں کے عہدیدار بقدر اپنی قوت اور طاقت کے اس فریضے کو انجام دیں۔ گھر کے لوگ اپنی اولاد کو اور نوکروں کو نیکیوں کی دعوت دینے اور برائیوں سے روکنے میں پوری قوت استعمال کرسکتے ہیں لیکن افسوس فرائض اور واجبات کا انہیں حکم نہیں دیتے اور گناہوں سے انہیں نہیں روکتے۔ اصحاب اقتدار کی غفلت : بہت سے لوگوں کو مختلف طرح کے عہدے اور مناصب حاصل ہیں وہ اپنے ماتحتوں کو نہ فرائض اور واجبات کا حکم کرتے ہیں اور نہ گناہ چھوڑنے کا حکم دیتے ہیں۔ حکومتوں کے چھوٹے بڑے عہدوں پر فائز ہونے والے خود بھی بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور فرضوں کے تارک ہوتے ہیں نہ صرف یہ کہ اپنے ماتحتوں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہیں کرتے بلکہ اپنا اقتدار جمانے کے لیے ماتحتوں کو گناہ کرنے کا حکم دیتے ہیں اور سرکاری کاموں میں نمازیں تک برباد کردی جاتی ہیں۔ اہل ایمان اصحاب اقتدار کی صفات بتاتے ہوئے سورة حج میں ارشاد فرمایا ہے (اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوْا بالْمَعْرُوْفِ وَ نَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَ لِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ ) (یہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر ہم ان کو حکومت دے دیں تو نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور اچھے کاموں کا حکم کریں گے اور برائیوں سے روکیں گے اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑنے پر دنیا میں عذاب : قدرت ہوتے ہوئے امر بالمعروف نہ کرنا اور برائیوں سے نہ روکنا سخت و بال کی چیز ہے اس دنیا میں عہدے اچھے لگتے ہیں لیکن جب ان کا و بال آخرت میں سامنے آئے گا تب پچھتاوا ہوگا جس سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ ہر مسلمان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا پابند ہے اور اس فریضہ کا چھوڑ دینا آخرت سے پہلے دنیا میں بھی عذاب آنے کا ذریعہ ہے اگر اس فریضہ کو چھوڑ دیا جائے تو دعائیں تک قبول نہیں ہوتیں۔ حضرت جریر بن عبداللہ (رض) نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ جس قوم میں کوئی ایک شخص گناہ کرتا ہو جسے روکنے پر قدرت رکھتے ہوئے وہ لوگ نہ روکیں تو مرنے سے پہلے ان لوگوں پر عذاب آئے گا۔ (رواہ ابوداؤد صفحہ ٢٤٠: ج ١) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل کو حکم دیا کہ فلاں فلاں بستی کا تختہ اس کے رہنے والوں کے ساتھ الٹ دو ۔ حضرت جبریل نے عرض کیا کہ اے پروردگار ان میں آپ کا فلاں بندہ بھی ہے جس نے پلک جھپکنے کے بقدر بھی آپ کی نافرمانی نہیں کی (کیا اسے بھی عذاب میں شریک کرلیا جائے) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ اس بستی کو اس شخص پر اور باقی رہنے والوں پر الٹ دو کیونکہ اس کے چہرہ پر میرے (احکام) کے بارے میں کبھی کسی وقت شکن بھی نہیں پڑی۔ (مشکوٰۃ المصابیح باب الامر بالمعروف والنہی عن المنکر) حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم ضرور ضرور امر بالمعروف کرو اور نہی عن المنکر کرو ورنہ قریب ہے کہ اللہ اوپر اپنے پاس سے عذاب بھیج دے گا۔ پھر تم اس سے دعا کرو گے تو وہ دعا قبول نہ فرمائے گا۔ (رواہ الترمذی) معلوم ہوا کہ بھلائیوں کا حکم دینا اور برائیوں سے روکنا ایسا اہم اور ضروری کام ہے کہ اس کے نہ ہونے سے نیکیاں کرنے والے بھی عذاب کی لپیٹ میں آسکتے ہیں اور جب عذاب آئے گا تو جو دعائیں کی جائیں گی تو وہ بھی قبول نہ ہوں گی۔ عموماً لوگ خود گناہوں میں مبتلا ہیں نمازیں چھوڑے ہوئے ہیں زکوٰتیں نہیں دیتے۔ جھوٹ بولتے ہیں۔ جھوٹی گواہیاں دیتے ہیں ان گواہیوں کے ذریعہ پیسہ کماتے ہیں ڈاکے پڑ رہے ہیں مال لوٹے جا رہے ہیں۔ چوریاں ہو رہی ہیں۔ قانون شریعت کی اجازت کے بغیر قتل ہو رہے ہیں۔ اور کوئی شخص بولنے والا نہیں ایسی صورت میں عذاب سے کیسے حفاظت ہو ؟ اور عذاب آئے تو دعائیں کیسے قبول ہوں ؟ ہر شخص کی ایمانی ذمہ داری حدیث شریف میں بتادی کہ جو بھی شخص کسی منکر کو دیکھے اس کو اپنی طاقت کے بقدر روک دے۔ اور ہر شخص کی ذمہ داری کے سوا آیت بالا میں مسلمانوں میں ایک جماعت ایسی ہونے کا حکم بھی فرمایا جو دعوت الی الخیر کرتی ہو اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ان کا خصوصی کام ہو۔ یہ جماعت فرض کفایہ کے طور پر ہر علاقہ میں کام کرے اور اتنے افراد ہونے چاہئیں جو ہر علاقہ کے افراد کو دعوت خیر دے سکیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے سکیں۔ جماعت سے یہ مراد نہیں کہ دور حاضر کے انداز کی کوئی جماعت ہو جس کا صدر ہو سیکرٹری ہو ممبران ہوں دفتر ہو جماعت کا کوئی نام یونیفارم ہو بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کام کے کرنے والے بقدر ضرورت امت میں موجود رہیں۔ حکومت ایسے افراد مہیا کرے۔ حکومت نہ کرے تو مسلمان خود ایسی جماعت قائم رکھیں جو اس فریضہ کو انجام دیتی رہے اور چھوٹی موٹی جماعت نہ ہو بلکہ اتنی بڑی جماعت ہو کہ ہر علاقہ میں اہل اسلام کے جتنے افراد رہتے اور بستے ہوں ان تک بات پہنچانے کے لیے کافی ہوں۔ فائدہ : آیت شریفہ میں پہلے (یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ ) فرمایا اس کے بعد (یَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ) فرمایا، دعوت الی الخیر میں سب باتیں داخل ہوگئیں کافروں کو اسلام کی دعوت دینا بھی اس میں آگیا اور فرائض اور واجبات کے علاوہ سنن اور مستحبات کی دعوت دینے کو بھی (یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ ) کا عموم شامل ہوگیا، مستحبات کو چھوڑ دینا اگرچہ منکر نہیں ہیں لیکن ان پر عمل کرنے میں بہت بڑا فائدہ ہے۔ اس لیے ان کی دعوت بھی دیتے رہنا چاہیے لیکن سختی نہ کی جائے البتہ فرائض اور واجبات کی دعوت سختی سے دی جائے۔ جس درجہ کا جو حکم ہے اسی درجہ میں اس کی دعوت ہونی چاہیے بہت سے لوگ فرائض اور واجبات میں مسامحت کرتے ہیں بلکہ خود بھی فرائض کو چھوڑے ہوئے ہوتے ہیں اور مستحبات کے بارے میں سختی کرتے ہیں۔ یہ طریقہ صحیح نہیں شریعت محمد یہ علی صاحبھا الصلوٰۃ والتحیۃ میں جس چیز کا جو درجہ ہے اسی درجہ کے مطابق دعوت میں سختی اور نرمی اختیار کی جائے، لفظ ” خیر “ ہر نیک کام کو شامل ہے۔ تفسیر ابن کثیر صفحہ ٤٩٠: ج ١ میں حضرت ابو جعفر باقر (رض) سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیت (وَ لْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ ) تلاوت فرمائی پھر فرمایا کہ الخیر اتباع القرآن و سنتی (کہ قرآن کا اور میری سنت کا اتباع کرنا خیر ہے) اس کے مطابق ہر چھوٹی بڑی نیکی کو لفظ خیر شامل ہے۔ کامیاب کون لوگ ہیں ؟ جو لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا (وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ) کہ یہ لوگ پورے پورے کامیاب ہیں۔ کامیابی کو تو ہر شخص چاہتا ہے لیکن مقاصد کے اعتبار سے ہر ایک کے نزدیک کامیابی کا معیار الگ الگ ہے۔ قرآن کریم نے بھی کامیابی کا معیار بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کی رضا کے کام کیے جائیں۔ جن کی وجہ سے دوزخ سے حفاظت ہوجائے اور جنت مل جائے اوپر جو کام بتائے ہیں وہ اللہ کے کام ہیں اس لیے ان پر عمل پیرا ہونے والوں کو مفلحون (کامیاب) فرمایا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

151 لفظ خَیْر عام ہے جو امر بالمعروف اور نھی عن المنکر دونوں کو شامل ہے اس لیے تعمیم کے بعد تخصیص ان دونوں کاموں کی اہمیت اور مزید فضیلت کے اظہار کے لیے ہے۔ معروف ہر وہ کام ہے جو کتاب وسنت کے مطابق ہو اور منکر وہ کام ہے جو ان کے مخالف ہو۔ المعروف ما وافق الکتاب والسنۃ الی مخاطبۃ المؤمنین امرھم اولا بالتقویٰ والایمان ثم امرھم بالسعی فی القاء الغیر فی الایمان والطاعۃ (کبیر ص 26 ج 2) اور مطلب یہ ہے کہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کا جو سلسلہ تمہارے اندر جاری ہے اسے قائم رکھو یہ سلسلہ ٹوٹنے نہ پائے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ اب یہ سلسلہ شروع کرو کیونکہ یہ سلسہ تو پہلے سے موجود تھا۔ بقرینة کنتم خیر امۃ حضرت شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں۔ مسلمانوں پر فرض ہے ان کی ایک جماعتقائم رہے جہاد کرنے کو اور دین کی باتوں کا خیال رکھنے کو تاکہ دین کے خلاف کوئی کچھ نہ کرے۔ جو اس پر قائم رہیں۔ وہی کامیاب ہیں اور یہ کہ کوئی کسی سے تعرض نہ کرے۔ موسیٰ بدین خود اور عیسیٰ بدین خود یہ راہ مسلمانوں کی نہیں۔ 152 یہاں حصر فلاح کامل کے اعتبار سے ہے نہ کہ فلاح مطلق کے اعتبار سے ای ھم الاخصاء بالفلاح الکامل (مدارک ص 136 ج 1) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 اور تم میں مبلغین اور داعین الی الحق کی ایک ایسی جماعت ضرور ہونی چاہئے جو دوسرے لوگوں کو خیر اور بھلائی کی طرف دعوت دیا کریں اور اس جماعت کے لوگ دوسروں کو بھلے کام کرنے کا حکم دیا کریں اور برے کاموں سے ان کو منع کیا کریں اور ایسے ہی لوگ جو تبلیغ کا فریضہ ادا کریں گے اپنے مقصد میں کامیاب ہونے والے ہیں۔ (تیسیر) خیر سے ہر قسم کی صلاح مراد ہے خواہ وہ عقائد کی درستی ہو یا اعمال و اخلاق کی ہو۔ یا دین و دنیا دونوں کی اصلاح ہو۔ ابن مردویہ نے ابو جعفر محمد بن باقر سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ خیر سے مراد کتاب اللہ کی اور میری سنت کی پیروی ہے۔ حضرت عثمان غنی (رض) جب اس آیت کی تلاوت کرتے تھے تو فرماتے تھے خیر سے مراد یہ ہے کہ مصائب و آلام کے وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور مسلمانوں کی پریشانی کو رفع کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کریں۔ اس تقدیر پر اس جماعت سے مراد صلحا اور نیک لوگوں کی جماعت مراد ہوگی۔ اور ہوسکتا ہے کہ تبلیغ کی دو قسمیں کی جائیں۔ ایک یہ کہ غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دی جائے اور ان کو مسلمان بنایا جائے اور دوسری قسم یہ کہ مسلمانوں کو بھلے کام کا حکم کیا جائے اور برے کاموں سے روکا جائے۔ بہرحال خیر سے عام احکام مراد ہیں۔ معروف سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کو شرعاً اور عقلاً مستحسن سمجھا جاتا ہے اور منکر سے مراد وہ چیزیں ہیں جو شرعاً اور عقلاً بری سمجھی جاتی ہیں، ہوسکتا ہے کہ معروف سے مراد وہ امور ہوں جو کتاب و سنت کے موافق ہوں اور منکر سے وہ چیزیں مراد ہوں جو ان دونوں کے خلاف ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ معروف سے مراد طاعت اور منکر سے مراد معاصی ہوں۔ بہرحال معروف میں فرض، واجب، مستحب و مندوب وغیرہ سب شامل ہیں اور منکر میں حرام، مکروہ تحریمی، مکروہ تنزیہی وغیرہ سب شامل ہیں۔ اگرچہ یہ جماعت امام مقرر کرے تب تو امر کے معنی حکم کرنے کے ظاہر ہیں۔ اور اگر خود مسلمان ایسی جماعت بنائیں اور حکومت کی سرپرستی اس کو حاصل نہ ہو تو ظاہر ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اچھی باتوں کو کہیں اور بری باتوں کو سمجھا کر ان سے منع کریں۔ اور چونکہ اس جماعت کے افراد کو من وجہ فوقیت اور خصوصیت حاصل ہے اس لئے امر کا لفظ ان لوگوں کے لئے قرآن نے استعمال فرمایا ہے۔ خواہ یہ امام کی طرف سے مامور ہوں یا نہ ہوں۔ مامور نہ ہونے کا یہ مطلب کہ امام غفلت کرے یا بدقسمتی سے امام ہی نہ ہو جیسے ہمارے دور میں امام کا وجود مفقود ہے۔ بہرحال امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو علماء نے فرض کفایہ فرمایا ہے اور امۃ کے لفظ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کچھ لوگ اس خدمت کو انجام دیتے رہیں تو دوسرے لوگوں سے مواخذہ نہ ہوگا ورنہ اب گناہ گار ہوں گے جس طرح جہاد کا حکم ہے۔ باقی رہا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا الزام ان ہی لوگوں پر عائد ہوگا جو معروف و منکر سے واقف ہوں یعنی اہل علم ہوں۔ ہمارے زمانے میں غیر اہل علم نے جو وعظ گوئی کا پیشہ اختیار کرلیا ہے اور بعض جاہل میلاد خوانوں کو لوگوں نے عالم سمجھ لیا ہے یہ لوگ مسلمانوں کے لئے بجائے نفع سخت نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں میں سے اچھے برے کی تمیز جاتی رہی ہے اور وہ ہر خوش گو گلو گویے کو عالم سمجھنے لگے ہیں اور اسی وجہ سے اسلامی اخلاق کا انحطاط ہو رہا ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ امر بالمعروف کے مختلف درجے ہیں جو شحص امر بالمعروف پر قدرت رکھتا ہے تو امور واجبہ میں نصیحت کرنا اس پر واجب ہوگا اور یہ امور مستحبہ میں مستحب ہوگا اور اگر قدرت نہ ہو اور یہ جانتا ہو کہ لوگ مجھ کو نقصان پہنچائیں گے اور میں برداشت نہ کرسکوں گا تو امور واجبہ میں وجوب نہ رہے گا البتہ اگر ہمت کرے تو ثواب کا مستحق ہوگا اور اجر پائے گا۔ پھر قدرت کے بھی مختلف درجے ہیں اگر ہاتھ سے بری باتوں کو روک سکتا ہے تو منہیات شرعیہ کو ہاتھ سے روکنا واجب ہوگا ورنہ زبان سے کہنا واجب ہوگا اور اگر اتنی استطاعت بھی نہ ہو اور اہل فسق کا غلبہ ہو تو دل سے ہی نفرت کرنا کافی ہوگا اور بری بات کو قلب سے برا جاننا ضروری ہوگا۔ جیسا کہ ابو سعید خدری کی روایت مشہور ہے جس کو مسلم نے نقل کیا ہے جب ہاتھ اور زبان کی قدرت نہ رہے اور مایوس ہوجائے تو ایسے وقت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کردینے میں مضائقہ نہیں البتہ فساق و فجار کی صحبت سے اجتناب ضروری ہوگا اور ایسی مجالس کو ترک کردینے کا حکم ہوگا۔ ہم پہلے پارے میں انا مرون الناس بالبر کی تفسیر میں تفصیلاً عرض کرچکے ہیں۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا خود بھی پابند ہونا چاہئے لیکن بدقسمتی سے اگر کوئی عالم خود بےعمل ہو تو اس کی بےعملی کو عذر بنا کر عوام کو ترک عمل کی اجازت نہ ہوگی اگرچہ کسی عالم کا بےعمل ہونا بہت بری بات ہے۔ نعمان بن بشیر کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود میں مداہنت کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ کی حدود کو توڑنے والوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک جہاز کے مختلف درجوں میں لوگ سوار ہیں نیچے درجے والے پانی لینے کی غرض سے اورپ آتے ہیں اور یہ اوپر کے درجے والے ان کو ستاتے ہیں اور پانی حاصل کرنے سے منع کرتے ہیں اس پر نیچے کے درجے والے جہاز کے تختہ کو توڑنا شروع کردیتے ہیں تاکہ پانی حاصل کریں اس پر اوپر کے لوگ ان کے پاس جاتے ہیں اور دریافت کرتے ہیں کہ تم یہ کیا حرکت کر رہے ہو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم کو پانی کی ضرورت ہے جب ہم اوپر جاتے ہیں تو تم لوگ ہم کو ستاتے اور تکلیف پہنچاتے ہو۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں تم ان کو جہاز کا تختہ توڑنے سے روکو اور ان کو پانی کی سہولت بہم پہنچائو ورنہ وہ بھی تباہ ہوں گے اور تم بھی غرق ہو جائو گے اور اگر تم نے جہاز کے تختوں کو توڑنے سے بچا لیا تو تم بھی بچ جائو گے اور وہ بھی بچ جائیں گے اس روایت کو بخاری نے نقل کیا ہے۔ حضرت حذیفہ کی روایت میں ہے فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کرتے رہو ورنہ قریب ہے کہ تم پر اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے ایسا عذاب بھیجے گا کہ پھر تم خواہ کتنی دعائیں کرو گے وہ واپس نہیں ہوگا۔ حضرت ابن مسعود کی روایت میں مرفوعاً آیا ہے کہ جب بنی اسرائیل کے لوگ معاصی میں مبتلا ہوئے تو ان کے علماء نے ان کو سمجھایا لیکن وہ بعض نہ آئے تو ان کے علماء نے مداہنت اختیار کرلی اور ان کی مجالس میں شریک ہونے لگے اور ان سے علیحدگی اختیار نہیں کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر حضرت دائود (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) بن مریم کی زبان سے لعنت کرائی۔ حضرت اسامہ بن زید (رح) کی روایت ہے فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو قیامت کے دن جہنم میں ڈالا جائے گا اور اس کی آنتیں اس کے پیٹ سے باہر نکل پڑیں گی اور وہ اپنی آنتوں کے چاروں طرف اس طرح گھومتا ہوگا جس طرح چکی کا گدھا چکی کے چاروں طرف پھرتا ہے لوگ اس کو دیکھ کر کہیں گے کیا تو وہ شخص نہیں ہے جو دنیا میں ہم کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا کرتا تھا۔ وہ جواب دے گا ہاں میں وہی ہوں لیکن میں بدقسمت جن باتوں کا تم کو حکم دیا کرتا تھا خود ان کو نہیں کرتا تھا یعنی بےعمل واعظ تھا۔ بغوی نے شرح السنۃ میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شب معراج میں ایک ایسی قوم پر گزرے جن کے ہونٹ قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں جبرئیل نے جواب دیا یہ آپ کی امت کے خطیب ہیں جو لوگوں کو خیر پر عمل کرنے کو کہتے تھے اور اپنے آپ کو فراموش کئے ہوئے تھے۔ بہرحال ایک جماعت دعوت الی الخیر اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے مقرر رہنی چاہئے اگر کچھ لوگ یہ کام کرتے رہے تو یہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے یعنی ان کو اجر ملے گا اور دنیا میں مسلمانوں کو فائدہ پہنچے گا ان کی مردم شماری میں اضافہ ہوجائے گا جس کی آج کل جمہوریت میں بڑی ضرورت ہے قیامت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں سے خوش ہوں گے کیونکہ امت کی کثرت آپ کے لئے موجب فخرومباہات ہے نیز مسلمانوں کے عقائد و اعمال اور ان کے اخلاق درست رہیں گے باقی رہی آیت یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم اس کے متعلق انشاء اللہ تعالیٰ بشرط زندگی ساتویں پارے میں عرض کرینگے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں معلوم ہوا کہ مسلمانوں میں فرض ہے ایک جماعت قائم رہے جہاد کرنے کو اور دین کا تقید رکھنے کو تاخلاف دین کوئی نہ کرے اور جو اس کام پر قائم ہوں وہی کامیاب ہیں اور یہ کہ کوئی کسی سے تعرض نہ کرے موسیٰ بدین خود عیسیٰ بدین خود یہ راہ مسلمانی کی نہیں۔ (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) نے زبانی تبلیغ کے ساتھ جہاد کو بھی شامل کرلیا۔ ہم اوپر عرض کرچکے ہیں آیت میں ہر قسم کی گنجائش ہے ہوسکتا ہے کہ دعوت الی الخیر سے جہاد مراد ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعض ضدی اور ہٹ دھرم مسلمانوں سے بھی جہاد کی نوبت آجائے۔ جیسا کہ مانعین زکوٰۃ سے قرن اول میں ہوا اب آگے پھر تفریق اور باہم نااتفاقی کی تفصیل مذکور ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر افضل جہاد ہے یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے بہت بڑے عالم کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جس بات کی خوبی اور جس کام کی برائی کا کسی کو علم حاصل ہو وہ اتنی ہی بات کی تبلیغ کرسکتا ہے مثلاً نماز کی فرضیت کو ہر شخص جانتا ہے تو ایک بےنمازی سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ نماز فرض ہے تو نماز پڑھا کر اسی طرح شراب کی حرمت سے عام آدمی واقف ہیں اس لئے ایک شرابی کو یہ کہہ کر روکا جاسکتا ہے کہ تو شراب نہ پیا کر اس کو شریعت نے حرام کیا ہے بہرحال ہم نے یہاں مختصر طور پر چند باتیں لکھ دی ہیں ورنہ اس بحث میں فرعی مسائل بہت ہیں۔ اب آگے مسلمانوں کے باہم متحد رہنے اور تفریق سے بچنے کی تفصیل مذکور ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)