Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 108

سورة آل عمران

تِلۡکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتۡلُوۡہَا عَلَیۡکَ بِالۡحَقِّ ؕ وَ مَا اللّٰہُ یُرِیۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾

These are the verses of Allah . We recite them to you, [O Muhammad], in truth; and Allah wants no injustice to the worlds.

اے نبی! ہم ان حقانی آیتوں کی تلاوت آپ پر کر رہے ہیں اور اللہ تعالٰی کا ارادہ لوگوں پر ظلم کرنے کا نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

تِلْكَ ايَاتُ اللّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ ... These are the Ayat of Allah. We recite them to you, meaning, `These are the verses of Allah, His proofs and signs that We reveal to you, O Muhammad.' ... بِالْحَقِّ ... in truth, making known the true reality of this world and the Hereafter. ... وَمَا اللّهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِّلْعَالَمِينَ and Allah wills no injustice to the Alamin. for He never treats them with injustice. Rather, He is the Just Ruler Who is able to do everything and has knowledge of everything. Therefore, He does not need to treat any of His creatures with injustice. this is why He said next,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٨] اسی لیے تو اس نے اپنے رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کرکے لوگوں کو سیدھا راستہ بتلا دیا ہے اور اس بات سے آگاہ کردیا ہے کہ آخرت میں وہ کن امور کی باز پرس کرنے والا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ ہدایت کی راہ اختیار نہ کریں یا اپنے غلط طرز عمل یا معاندانہ روش سے بازنہ آئیں تو وہ اپنے آپ پر خود ظلم کرنے والے ہیں۔ لفظ ظلم بڑا وسیع مفہوم رکھتا ہے اور اس کی ضد عدل ہے اور اللہ تعالیٰ عادل ہے۔ ظالم نہیں۔ اس لئے اس سے ایسے افعال کا صدور ممکن ہی نہیں جس میں ظلم کا شائبہ تک پایا جاتا ہو۔ مثلاً وہ کسی مستحق رحمت کو سزا دے دے، یا زیادہ اجر کے مستحق کو تھوڑا اجر دے یا کم سزا کے مستحق کو زیادہ سزا دے دے وغیرہ وغیرہ، ایسی سب باتیں اس کی صفت عدل کے منافی ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ۭوَمَا اللّٰهُ يُرِيْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِيْنَ : یعنی جہاد اور امر بالمعروف کا جو حکم فرمایا یہ مخلوق پر ظلم نہیں، اس میں ان کی تربیت ہے۔ (موضح) جب اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم اور ہر چیز پر قدرت حاصل ہے تو اسے کسی پر ظلم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ (ابن کثیر)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

تِلْكَ اٰيٰتُ اللہِ نَتْلُوْھَا عَلَيْكَ بِالْحَـقِّ۝ ٠ ۭ وَمَا اللہُ يُرِيْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِيْنَ۝ ١٠٨ تلاوة تختص باتباع کتب اللہ المنزلة، تارة بالقراءة، وتارة بالارتسام لما فيها من أمر ونهي، وترغیب وترهيب . أو ما يتوهم فيه ذلك، وهو أخصّ من القراءة، فکل تلاوة قراءة، ولیس کل قراءة تلاوة، لا يقال : تلوت رقعتک، وإنما يقال في القرآن في شيء إذا قرأته وجب عليك اتباعه . هنالک تتلوا کلّ نفس ما أسلفت[يونس/ 30] ، وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا [ الأنفال/ 31] التلاوۃ ۔ بالخصوص خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتابوں کے اتباع تلاوۃ کہا جاتا ہے کبھی یہ اتباع ان کی قراءت پڑھنے ) کی صورت میں ہوتی ہے اور کبھی ان کے ادا مرد نواحی ( احکام ) ترغیب وترہیب اور جو کچھ ان سے سمجھا جا سکتا ہے ان کی اتباع کی صورت ہیں ، مگر یہ لفظ قرآت ( پڑھنے ) سے خاص ہے یعنی تلاوۃ کے اندر قراۃ کا مفہوم تو پایا جاتا ہے مگر تلاوۃ کا مفہوم قراء ۃ کے اندر نہیں آتا چناچہ کسی کا خط پڑھنے کے لئے تلوت رقعتک نہیں بالتے بلکہ یہ صرف قرآن پاک سے کچھ پڑھنے پر بولا جاتا ہے کیونکہ اس کے پڑھنے سے اس پر عمل کرنا واجب ہوجاتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ هنالک تتلوا کلّ نفس ما أسلفت «3» [يونس/ 30] وہاں ہر شخص اپنے ( اپنے ) اعمال کی ) جو اس نے آگے بھجیے ہوں گے آزمائش کرلے گا ۔ میں ایک قرآت تتلوا بھی ہے یعنی وہاں ہر شخص اپنے عمل نامے کو پڑھ کر اس کے پیچھے چلے گا ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا [ الأنفال/ 31] اورا ن کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں عالَمُ والعالَمُ : اسم للفلک وما يحويه من الجواهر والأعراض، وهو في الأصل اسم لما يعلم به کالطابع والخاتم لما يطبع به ويختم به، وجعل بناؤه علی هذه الصّيغة لکونه کا لآلة، والعَالَمُ آلة في الدّلالة علی صانعه، ولهذا أحالنا تعالیٰ عليه في معرفة وحدانيّته، فقال : أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] ، وأمّا جمعه فلأنّ من کلّ نوع من هذه قد يسمّى عالما، فيقال : عالم الإنسان، وعالم الماء، وعالم النّار، وأيضا قد روي : (إنّ لله بضعة عشر ألف عالم) «1» ، وأمّا جمعه جمع السّلامة فلکون النّاس في جملتهم، والإنسان إذا شارک غيره في اللّفظ غلب حكمه، العالم فلک الافلاک اور جن جواہر واعراض پر حاوی ہے سب کو العالم کہا جاتا ہے دراصل یہ فاعل کے وزن پر ہے جو اسم آلہ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے طابع بہ ۔ مایطبع بہ خاتم مایختم بہ وغیرہ اسی طرح عالم بھی ہے جس کے معنی ہیں ماعلم بہ یعنی وہ چیز جس کے ذریعہ کسی شے کا علم حاصل کیا جائے اور کائنات کے ذریعہ بھی چونکہ خدا کا علم حاصل ہوتا ہے اس لئے جملہ کائنات العالم کہلاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ذات باری تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت کے سلسلہ میں کائنات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] کیا انہوں نے اسمان اور زمین گی بادشاہت پر غور نہیں کیا ۔ اور العالم کی جمع ( العالمون ) اس لئے بناتے ہیں کہ کائنات کی ہر نوع اپنی جگہ ایک مستقلی عالم عالم کی حیثیت رکھتی ہے مثلا عالم الاانسان؛عالم الماء وعالمالناروغیرہ نیز ایک روایت میں ہے ۔ ان اللہ بضعتہ عشر الف عالم کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے کچھ اوپر عالم پیدا کئے ہیں باقی رہا یہ سوال کہ ( واؤنون کے ساتھ ) اسے جمع سلامت کے وزن پر کیوں لایا گیا ہے ( جو ذدی العقول کے ساتھ مختص ہے ) تو اس کا جواب یہ ہے کہ عالم میں چونکہ انسان بھی شامل ہیں اس لئے اس کی جمع جمع سلامت لائی گئی ہے کیونکہ جب کسی لفظ میں انسان کے ساتھ دوسری مخلوق بھی شامل ہو تو تغلیبا اس کی جمع واؤنون کے ساتھ بنالیتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٨۔ ١٠٩) یہ اللہ تعالیٰ کی قرآنی آیات ہیں جن کو جبریل امین (علیہ السلام) کے ذریعے حق اور باطل کے واضح کردینے کے لیے ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی جانب سے جن وانس میں سے کسی سے بھی زیادتی نہیں ہوگی تمام مخلوقات اور یہ عجائبات اسی کی ملک ہیں اور آخرت میں تم سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٨ (تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْہَا عَلَیْکَ بالْحَقِّ ط) (وَمَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ ) لوگ اپنے اوپر خود ظلم کرتے ہیں ‘ خود غلط راستے پر پڑتے ہیں اور پھر اس کی سزا انہیں دنیا اور آخرت میں بھگتنی پڑتی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

87. Since God does not want to subject people to any wrong He illuminates the straight path of their salvation, and forewarns them of the matters for which they will be asked to render an account in the Hereafter. It is clear that if people abandon the path of rectitude they wrong no one but themselves.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :87 یعنی چونکہ اللہ دنیا والوں پر ظلم نہیں کرنا چاہتا اس لیے وہ ان کو سیدھا راستہ بھی بتا رہا ہے اور اس بات سے بھی انہیں قبل از وقت آگاہ کیے دیتا ہے کہ آخر کار وہ کن امور پر ان سے باز پرس کرنے والا ہے ۔ اس کے بعد بھی جو لوگ کج روی اختیار کریں اور اپنے غلط طرز عمل سے باز نہ آئیں وہ اپنے اوپر آپ ظلم کریں گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یا یہ کہ دنیا اور آخرت کے معالات کی اصل حقیقت تم پر واضح کرنے کے لیے نازل فرماتے ہیں ،۔ (ابن کثیر)6 اور کفار کو جو سزا ملنے والی ہے اس سے ان کو آگاہ کردیا ہے تاکہ کسی پر ظلم نہ ہو (شواکانی) یعنی جہاد اور امر بالمعروف کا جو حکم فرمایا یہ ظلم نہیں خلق پر اس میں ان کی تربیت ہے۔ (موضح) جب اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے اور ہر چیز پر قدرت حاصل ہے تو اسے کسی پر ظلم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ (ابن کثیر ٌ)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے مجرموں کو سزا سنائی گئی تھی یہاں وضاحت فرمائی ہے کہ مجرموں کے چہرے کالے ہونا اور ان کا جہنم میں داخل ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے زیادتی نہیں بلکہ یہ تو ان کے اعمال کا نتیجہ اور بدلہ ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے ضابطے اور فیصلے ہیں جو ذات کبریا خود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پڑھ رہی ہے۔ اس کے منزل من اللہ ہونے میں ذرّہ برابر بھی شک نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق اور سچ ہیں۔ جو فرد اور قوم ان پر عمل پیرا ہوگی وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوتے ہوئے نہ صرف دنیا میں ساحل مراد تک پہنچیں گی بلکہ آخرت میں ایک لامتناہی روشن مستقبل ان کا منتظر ہوگا اور جو لوگ ان کا انکار کریں گے ان کے لیے دنیا میں بربادی ہے اور آخرت میں روسیاہی ہوگی۔ برے انجام کے ساتھ دوچار ہونا ان کا یقینی ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی نہ ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نہ صرف لوگوں کو ظلم سے روکتے ہیں بلکہ اس نے اپنی ذات اقدس پر ظلم و زیادتی حرام قرار دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی پر زیادتی کرنے کی اس لیے بھی ضرورت نہیں کیونکہ زمین و آسمان کا ذرّہ ذرّہ اس کا تابع فرمان اور زیر اقتدار ہے زیادتی تو وہ کرے جس کے اختیارات سے بڑھ کر کوئی نافرمانی کرنے والا ہو۔ انسان نافرمانی کرتا ہے تو اس مہلت کے مطابق کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھی ہے۔ آخرکار ہر کوئی اپنے اعمال کے ساتھ اس کے حضور پیش ہونے والا ہے اور آخرت میں ہر ایک کو اس کے کردار کا بدلہ چکا دیا جائے گا۔ (یَاعِبَادِيْ إِنِّيْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِيْ وَجَعَلْتُہٗ بَیْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوْا) [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ وا آداب، باب تحریم الظلم ] ” اے میرے بندو ! یقینًا میں نے اپنے آپ پر ظلم کرنا حرام کردیا ہے اور میں اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیتا ہوں پس تم آپس میں ظلم نہ کیا کرو۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ ٢۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ ہی کے لیے ہے۔ ٣۔ تمام معاملات اللہ کی طرف ہی لوٹائے جاتے ہیں۔ ٤۔ ہر کام کا انجام اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ صورتیں ‘ یہ حقائق اور یہ نتائج اللہ کی یہ آیات اور اس کے یہ دلائل وبراہین ‘ یہ سب آپ پر سچائی اور صداقت کے ساتھ پڑھی جارہی ہیں ‘ یہ آیات جو اصول اور جو اقدار طے کررہی ہیں وہ حق ہیں اور اعمال کے جو نتائج اور جو جزاء وسزا یہ طے کررہی ہیں وہ بھی حق ہیں اور پیش آنے والے ہیں ۔ یہ آیات سچائی کے ساتھ اس ذات کی طرف سے نازل ہورہی ہیں ۔ وہ ذات اس نزول کی سزاوار ہے ۔ اور ہی اس بات کی مالک ہے کہ قدار کا تعین کرے ‘ وہی مستحق ہے کہ نتائج تک پہنچائے اور وہی اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اعمال پر جزاء دے ۔ اللہ تعالیٰ کبھی اپنے بندوں پر ظلم کا ارادہ نہیں کرتا ‘ اس لئے کہ وہ حاکم عادل وہ امور سماوات اور امور ارض کا مالک ہے اور وہ آسمانوں اور زمینوں کے اندر جو کچھ ہے ‘ اس کا بھی مالک ہے ‘ اور تمام امور کا آخری فیصلہ اسی کے ہاں ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے عمل پر جزاء وسزا کا تعین اس لئے کیا ہے تاکہ سچ کا بول بالا ہو اور نظام عدل جاری ہو اور معاملات اس نہج پر چلیں جو شان جلالت کے لائق ہوں اور یہ بات نہیں ہے جیسا کہ اہل کتاب کو زعم ہے کہ انہیں تو صرف معدودے چند دنوں تک آگ کی سزا دی جائے گی پھر وہ نکل آئیں گے ۔ اس کے بعد امت مسلمہ کے اوصاف کا بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی حیثیت ‘ اپنی قدر و قیمت اور اپنی حقیقت سے شناسا ہوسکے ۔ اس کے بعد امت مسلمہ کے سامنے اہل کتاب کا تعارف کرایا جاتا ہے ۔ اہل کتاب کے رتبہ کو کم نہیں کیا جاتا ‘ ان کی حقیقت بیان کرکے انہیں یہ امیددلائی جاتی ہے کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کے لئے مفید ہوگا ‘ لہٰذا اہل ایمان کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ ان کے دشمن انہیں کوئی نقصان نہیں دے سکتے ‘ وہ ان کے مکر و فریب اور ان کے قتال کے باوجود مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں دے سکتے ‘ نہ مسلمانوں پر فتح یاب ہوسکتے ‘ اہل کفر آخرت میں دوزخ میں رہیں گے اور اس دنیا میں ایمان وتقویٰ کے بغیر انہوں نے جو کچھ بھی خرچ کیا وہ آخرت میں انہیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مضمون کے ختم پر فرمایا : (تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْھَا عَلَیْکَ بالْحَقِّ وَ مَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ ) (کہ یہ اللہ کی آیات ہیں ہم تمہارے اوپر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اللہ جہانوں کے ساتھ ظلم کا ارادہ نہیں فرماتا)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

158 تِلْکَ سے گذشتہ آیات کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ آیتیں ہم آپ پر اصل حقیقت واضح کرنے کے لیے نازل کرتے ہیں ای نکشف ما الامر علیہ فی الدنیا والٓخرۃ (ابن کثیر ص 390 ج 1) ۔ 159 پہلے کفار کے لیے سخت سزا کا اعلان تھا۔ اس لیے ساتھ ہی اعلان فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ ظالم نہیں ہے وہ بلا وجہ کسی کو سزا نہیں دیتا وہ حاکم عادل ہے۔ اور کیوں نہ ہو جب کہ وہ مالک ومختار اور ہر چیز پر قادر ہے۔ اور سب کچھ جانتا ہے۔ اس لیے اسے اپنی مخلوق پر ظلم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 یہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں جو ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں اور ان کی آپ کے روبرو صحیح صحیح تلاوت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بندوں پر کسی قسم کا ظلم نہیں کرنا چاہتا لہٰذا جو سزا بندوں کو دی جاتی ہے اور جو سزا ان کے لئے تجویز کی جاتی ہے وہ بالکل مناسب اور عین انصاف کے موافق ہوتی ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جہاد اور امر بالمعروف کا جو حکم فرمایا یہ ظلم نہیں خلق پر ان کی تربیت ہے۔ (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) نے اس آیت کو ولکن منکم کی آیت سے رابط دیا ہے۔ بہرحال حق تعالیٰ پر ظلم کا اطلاق تو کسی طرح ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ مطلق مالک ہے اس پر کوئی شئے واجب نہیں جس کے خلاف کرنے پر اس کا ظلم کہا جائے سب ان کے حقیقی مملوک ہیں وہ جو کچھ بھی کریں وہ ظلم نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح کسی شئے کو غیر ما وضع لہٗ میں استعمال کرنا بھی وہاں نہیں ہوسکتا اس لئے حضرت حق جل سجدہٗ کے لئے ظلم کے یہاں حقیقی معنی تو ہو ہی نہیں سکتے بلکہ مطلب یہ ہے کہ تم لوگ جس کو ظلم کہتے ہو اور عقلاً و شرعاً بندوں کے افعال و اعمال سے جو ظلم کہلاتا ہے وہ بھی وہاں نہیں کہ کسی کے ثواب میں کمی کر دے یا کسی کی سزا بڑھا دے یا کوئی ناقابل برداشت حکم بھیج دے یا وسعت سے زیادہ تکلیف دے بلکہ جو احکام تم کو دیتا ہے اس سے محض تمہاری تربیت اور تزکیہ نفس مقصود ہوتا ہے اور بدکرداری کی جو سزا تجویز کرتا ہے اور جو پاداش دیتا ہے وہ بالکل مناسب اور موزوں ہوتی ہے اور جو برتائو کسی کے ساتھ کرتے ہیں وہ عین حکمت اور مصلحت کے موافق ہوتا ہے اب آگے تمام کائنات پر اپنی ملکیت اور اختیارات مطلقہ کا اظہار ہے۔ (تسہیل