Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 116

سورة آل عمران

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡہُمۡ اَمۡوَالُہُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾

Indeed, those who disbelieve - never will their wealth or their children avail them against Allah at all, and those are the companions of the Fire; they will abide therein eternally.

کافروں کو ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی ، یہ جہنّمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ ... Surely, those who disbelieve, Allah mentions the disbelieving polytheists: ... لَن تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلاَ أَوْلاَدُهُم مِّنَ اللّهِ شَيْيًا ... neither their properties nor their offspring will avail them against Allah, meaning, nothing can avert Allah's torment and punishment from striking them. ... وَأُوْلَـيِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ They are the dwellers of the Fire, therein they will abide. The Parable of What the Disbelievers Spend in This Life Allah gave a parable for what the disbelievers spend in this life,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَنْ تُغْنِىَ عَنْھُمْ اَمْوَالُھُمْ ۔۔ : یعنی جو مال خرچ کیا اور اللہ کی رضا پر نہ دیا، آخرت میں دیا نہ دیا برابر ہے۔ (موضح) عام طور پر مصیبت کے وقت اولاد انسان کے کام آتی ہے، مگر اس وقت کفار کی اولاد ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔ اوپر کی آیات میں مومن اور متقی کے نیک اعمال کا انجام ذکر فرمایا کہ ان کی ادنیٰ سے ادنیٰ نیکی بھی ضائع نہیں ہوگی، بلکہ اس کا پورا پورا بدلہ ملے گا، اب اس آیت میں کافر کے صدقہ و خیرات اور رفاہی کاموں کو آخرت میں بےفائدہ اور ضائع ہونے کے اعتبار سے ان لوگوں کی کھیتی سے تشبیہ دی ہے، جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، جو کھیتی دیکھنے میں سرسبز و شاداب نظر آئے لیکن درمیانی فاصلہ ختم کریں سخت سرد ہوا چلے اور اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دے۔ یہی حال کفار کے صدقہ و خیرات کا ہے، وہ چونکہ ایمان و اخلاص کی دولت سے محروم ہیں، اس لیے آخرت میں ان کے اعمال تباہ و برباد ہوجائیں گے اور انھیں ان اعمال کا کچھ بھی اجر نہیں ملے گا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة فرقان (٢٣) اور سورة نور ( ٣٩، ٤٠) ۔ ہاں کفار کو دنیا ہی میں ان کے اچھے اعمال کا بدلہ مل جائے گا۔ [ دیکھیے الأحقاف : ٢٠ ] ” صِرٌّ“ شدید ٹھنڈی ہوا جو کھیتوں کو جلا دے۔ واضح رہے کہ قرآن میں عموماً ” رِیْحٌ“ کا لفظ عذاب کے لیے استعمال ہوا ہے اور ” رِیَاحٌ“ جمع کا لفظ رحمت کے لیے۔ ( مفردات) میں ریح کا لفظ موافق ہوا کے لیے آیا ہے ( وَجَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيْحٍ طَيِّبَةٍ ) دوسرے مقامات پر عذاب کی ھود کے لیے آیا ہے۔ وَمَا ظَلَمَھُمُ اللّٰه : یعنی ان کے اعمال جو ضائع اور برباد ہوئے یہ اس وجہ سے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم کیا ہے، بلکہ خود ان کے اپنے اوپر ظلم کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ انھوں نے نہ تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں اور کتابوں کی تصدیق کی اور نہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کیے، بلکہ ریاکاری کرتے رہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِىَ عَنْھُمْ اَمْوَالُھُمْ وَلَآ اَوْلَادُھُمْ مِّنَ اللہِ شَـيْــــًٔـا۝ ٠ ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ۝ ٠ ۚ ھُمْ فِيْھَا خٰلِدُوْنَ۝ ١١٦ غنی( فایدة) أَغْنَانِي كذا، وأغْنَى عنه كذا : إذا کفاه . قال تعالی: ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] ، ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] ، لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] ، ( غ ن ی ) الغنیٰ اور اغنانی کذا اور اغنی کذا عنہ کذا کسی چیز کا کا فی ہونا اور فائدہ بخشنا ۔ قر آں میں ہے : ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا ۔۔۔۔ لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] نہ تو ان کا مال ہی خدا کے عذاب سے انہیں بچا سکے گا اور نہ ان کی اولاد ہی کچھ کام آئیگی ميل المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین، والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا، ( م ی ل ) المیل اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔ ولد الوَلَدُ : المَوْلُودُ. يقال للواحد والجمع والصّغير والکبير . قال اللہ تعالی: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] ، ( و ل د ) الولد ۔ جو جنا گیا ہو یہ لفظ واحد جمع مذکر مونث چھوٹے بڑے سب پر بولاجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] اور اگر اولاد نہ ہو ۔ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں ہے ) اور حزف میں صاحب صرف اسی کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر ساتھ رہے اور کبھی کسی چیز کے مالک کو بھی ھو صاحبہ کہہ دیا جاتا ہے اسی طرح اس کو بھی جو کسی چیز میں تصرف کا مالک ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ خلد الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، ( خ ل د ) الخلودُ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام چیزیں اپنی اپنی اصلی حالت پر قائم رہیں گی اور ان میں تغیر پیدا نہیں ہوگا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] یہی صاحب جنت میں ہمشہ اسمیں رہیں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٦) اور جن لوگوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کا انکار کیا جیسا کہ کعب اور اس کے ساتھی تو ان کے اموال واولاد کی زیادتی انھیں خداوند کے عذاب سے نہیں بچا سکے گی یہ جہنمی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:116) لن تغنی۔ مضارع معروف نفی تاکید بلن۔ صیغہ واحد مؤنث غائب (باب افعال) وہ کفایت ہرگز نہیں کرے گی۔ وہ ہرگز کام نہ آئے گی۔ ھذا ما یغنی عنک شیئا۔ یہ تمہارے کسی کام نہ آئے گی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل ایمان کے بعد اہل کفر کا انجام ذکر ہوتا ہے۔ اسلام کے مخالف اپنی انا کی خاطر مسلمانوں کے خلاف مال بھی خرچ کرتے ہیں۔ انہیں اس خرچ کرنے کی حقیقت سے آگاہ کیا گیا ہے کہ بالآخر اس کا انجام کیا ہوگا۔ صاحب ایمان اور صالح کردار لوگوں کی ہرگز ناقدری نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے کفر کا رویّہ اختیار کیا ان کے مال اور اولادربِّ ذوالجلال کے ہاں انہیں کچھ فائدہ نہیں دے سکیں گے۔ کفار اور اہل کتاب رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کو غریبی کے طعنے دیتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ اگر آپ لوگ سچے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ضرور تمہیں دنیا کے اسباب سے مالا مال کرتا۔ اگر ہم اس کی بارگاہ میں غلط ہوتے تو وہ ہمیں مال اور اولاد سے کیوں نوازتا ؟ اس خیال کی تردید اور اہل کفر کے کان کھولنے کے لیے بتلایا جارہا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک معیار دنیا کی بجائے آدمی کا عقیدہ اور صالح کردار ہے۔ جو لوگ اس سے تہی دامن ہوئے انہیں جہنم میں جھونکا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا : ( لَایَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِی الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ ثُمَّ مَ اْوٰہُمْ جَہَنَّمُ وَ بِءْسَ الْمِہَادُ ) [ آل عمران : ١٩٦، ١٩٧] ” آپ کو کفار کا شہروں اور بستیوں میں چلنا پھرنا دھوکے میں نہ ڈالے یہ تھوڑا سا فائدہ ہے پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بدترین ٹھکانہ ہے۔ “ اس عقیدہ کے حامل لوگ دنیا میں فلاح و بہبود اور نیکی کے کاموں پر لاکھوں روپے خرچ کریں تو بھی انہیں کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ جس طرح لہلہاتے ہوئے باغ ‘ کھلے ہوئے پھول اور سرسبز و شاداب کھیتیاں باد صرصر سے خاکستر ہوجایا کرتی ہیں۔ عقیدۂ کفر و شرک کی وجہ سے ان کے اعمال بھی اسی طرح ضائع ہوجائیں گے۔ ان کے صدقات اور عبادات کا غارت ہونا ظلم کی بنا پر نہیں بلکہ ان کے اپنے عقیدے اور کردار کی وجہ سے ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ کفار کے اعمال کے بارے میں حدیث مبارکہ میں یوں آیا ہے : (عَنْ عَاءِشَۃ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ یَصِلُ الرَّحِمَ وَیُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ فَہَلْ ذَاکَ نَافِعُہٗ قَالَ لاَ یَنْفَعُہٗ إِنَّہُ لَمْ یَقُلْ یَوْمًا رَبِ اغْفِرْلِیْ خَطِیْءَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب الدلیل علی من مات علی الکفر لاینفعہ عمل ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ ابن جدعان جاہلیت میں صلہ رحمی اور مساکین کو کھانا کھلایا کرتا تھا کیا اسے یہ چیزیں نفع دیں گی ؟ آپ نے فرمایا نہیں کیونکہ اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ اے میرے رب ! قیامت کے دن میری خطاؤں کو معاف فرمادینا۔ (یعنی اس کا اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں تھا ) ۔ “ مسائل ١۔ کفار کے مال اور اولاد اللہ کے ہاں کچھ فائدہ نہیں دیں گے۔ ٢۔ کفار جہنمی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ٣۔ کفار کا سب کچھ ضائع ہوجائے گا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن کفار کو کوئی چیز فائدہ نہ دے گی : ١۔ کافر زمین کے برابر سونا دے کر بھی جہنم سے نجات نہیں پاسکتے۔ (آل عمران : ٩١) ٢۔ قیامت کے دن ان کا کوئی سفارشی نہیں ہوگا۔ (الانعام : ٥١) ٣۔ کافر بغیر حساب کے جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے۔ (الکہف : ١٠٥) ٤۔ کافروں کو ان کی جمعیت اور تکبر کام نہ آسکے گا۔ (الاعراف : ٤٨) ٥۔ کفار کے مال و اولاد ہرگز ان کے کام نہ آسکیں گے۔ (آل عمران : ١٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یوں اس حقیقت کو ایک ایسے منظر کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے ‘ جس میں حرکت ہی حرکت ہے ۔ اور یہ حرکت زندگی سے بھرپور ہے اور یہ قرآن کا حسین و جمیل طرز تعبیر ہے ‘ جس میں ایک نظری حقیقت بھی متحرک نظر آتی ہے ۔ “ ان کفار کے اموال اور ان کی اولاد اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ کام نہ آئے گی ‘ وہ اپنے جرائم کا جرم ادا نہ کرسکیں گے ‘ اس لئے کہ وہاں نہ زور چلے گا اور نہ زر۔ یہ لوگ جہنمی ہیں اور وہ دنیا میں جو مال بھی خرچ کرتے ہیں وہ اکارت ہوجائے گا اور بےاثر ہوگا۔ اگرچہ انہوں نے جن کاموں میں مال خرچ کیا وہ اسے کار خیر سمجھتے ہیں ۔ اس لئے کہ خیر وہی ہوتی ہے جس کی کونپلیں شاخ ایمان سے پھوٹیں اور جن کا تعلق ایمان سے ہو ‘ لیکن قرآن کریم اس کی تعبیر اس طرح نہیں کرتا جس طرح ہم کرتے ہیں ۔ وہ اس حقیقت کو ایک زندہ اور متحرک منظر کی صورت میں پیش کرتا ہے ‘ جو نبض کی طرح متحرک ہو ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کافروں کے اموال اور اولاد عذاب سے نہ بچا سکیں گے پہلی آیت میں تو یہ فرمایا کہ اہل کفر پر جب اللہ کا عذاب آئے گا تو ان کے مال اور اولاد کچھ بھی نفع نہ دے سکیں گے یہ لوگ اپنے کفر کی وجہ سے دوزخی ہیں اور دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ سورة آل عمران کے رکوع ٢ کے شروع میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے۔ پھر ان لوگوں کے اخراجات اور نفقات کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ خرچ کرتے ہیں اور ان اخراجات میں وہ اموال بھی ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دشمنی میں خرچ کیے جاتے ہیں۔ ان اخراجات کی مثال ایسی ہے جیسے کسی ایسی قوم کی کھیتی ہو جنہوں نے کفر اور معاصی کے ذریعہ اپنی جانوں پر ظلم کیا ہو۔ اس کھیتی پر اللہ تعالیٰ نے ہوا بھیج دی جس میں سخت ٹھنڈک تھی اس ٹھنڈک نے ساری کھیتی کو برباد کردیا۔ کھیتوں کو سخت سردی پہنچ جاتی ہے تو اس کو عام محاورات میں پالا پڑجانا یا پالے سے ہلاک ہو جاناکہتے ہیں یہ ہوا بطور سزا اور عقاب کے ان کے کھیتوں کو لگی اور سب کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان پر اللہ نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہی خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے، یہ عذاب ان کے کرتوتوں کی وجہ سے آیا۔ اللہ کو کوئی الزام نہ دیں اپنے کفر اور معاصی کو دیکھیں کافروں نے ثواب کی نیت سے جو کچھ خرچ کیا وہ بھی بھسم ہے اس کا کوئی ثواب آخرت میں نہیں ملے گا اور جو کچھ دین اسلام کی دشمنی میں خرچ کرتے ہیں ظاہر ہے اس کا کیا ملنا ہے ؟ دنیا میں بھی مالوں کی بربادی ہے اور آخرت میں زیادتی فی الکفر کی وجہ سے عذاب در عذاب کا سبب بنے گا۔ سورة ابراہیم میں فرمایا : (مَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ اَعْمَالُھُمْ کَرَمَادِ نِ اشْتَدَّتْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا کَسَبُوْا عَلٰی شَیْءٍ ذٰلِکَ ھُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ ) (مثال ان لوگوں کی جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ایسی ہے جیسے کہیں راکھ پڑی ہو آندھی کے دن میں سخت تیز ہوا اس کو اڑا دے یہ لوگ قادر نہ ہوں گے اپنے کمائے ہوئے میں سے کسی چیز پر بھی یہ دور کی گمراہی ہے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

174 ۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے مومنین اہل کتاب کا ذکر فرمایا ان کی خوبیاں گنائیں اور انہیں بشارت اخروی سے نوازا اب یہاں سے کفار اہل کتاب کا ذکر کر کے انہیں اخروی تخویف فرمائی۔ قال مقاتل لما ذکر تعالیٰ مومنی اھل الکتاب ذکر کفارھم وھو قولہ ان الذین کفروا (قرطبی ص 177 ج 4) اور کفار اہل کتاب سے یہاں مراد عام ہے خواہ عوام ہوں یا خواص، مریدین اور متبعین ہوں یا ان کے علماء سجادہ نشین اور متبوعین جس طرح مریدین اپنے پیروں اور سجادہ نشینوں پر خرچ کرتے ہیں۔ ان کی خدمت میں نذرانے اور شیرینیاں پیش کرتے اور ان نذرانوں کے ذریعے اپنے پیروں سے آخرت میں نفع کی امید رکھتے ہیں اور اس توقع میں رہتے ہیں کہ ان نیازوں اور نذرانوں کے عوض ان کے پیر قیامت کے دن ان کی سفارش کریں گے اور خدا کے عذاب سے ان کو چھڑا لیں گے اسی طرح پیر اور سجادہ نشین بھی دنیا میں زعم خود اپنی دولت نیک کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔ مثلاً بزرگوں کے مزارات اور ان کی خانقاہیں تعمیر کراتے ہیں مریدوں اور مزارات پر نذرانے لانے والوں کے لیے سرائیں بنواتے اور لنگر جاری کرتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہودیوں کے ان مولویوں اور سجادہ نشینوں اور اسی طرح ان کے مریدوں کا اس طرح دنیا میں دولت خرچ کرنا بالکل بیکار ہے اس کا ان کو سر مو فائدہ نہیں پہنچے گا کیونکہ انفاق اور دوسرے اعمال صالحہ کا آخرت میں مفید اور نفع بخش ہونا ایمان خالص اور توحید پر موقوف ہے اور یہ شرک اور کفر میں منہمک ہیں۔ 175 لہذا انجام کار ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ خلود فی النار ان کے کفر وشرک پر قائم رہنے کا نتیجہ ہے۔ اس آیت سے معتزلہ کے اس خیال کی تردید ہوتی ہے کہ فساق المؤمنین مخلد فی النار ہوں گے۔ کیونکہ اُولئِکَ اَصْحَابُ النَّارِ کی ترکیب مفید حصر ہے تو مطلب یہ ہوا کہ صرف کفار ہی ایسے جہنمی ہیں جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے تو معلوم ہوا کہ مؤمن گنہگار جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے جیسا کہ معتزلہ کا خیال ہے۔ ولما افادت ھذہ الکلمۃ معنی الحصر ثبت ان الخلود فی النار لیس الا للکافر (کبیر ص 49 ج 3) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi