Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 142

سورة آل عمران

اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ یَعۡلَمَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾

Or do you think that you will enter Paradise while Allah has not yet made evident those of you who fight in His cause and made evident those who are steadfast?

کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک اللہ تعالٰی نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے جہاد کرنے والے کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ہیں؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Do you think that you will enter Paradise before Allah knows (tests) those of you who will perform Jihad and (also) knows (tests) those who are the patient! The Ayah asks, do you think that you will enter Paradise without being tested with warfare and hardships. Allah said in Surah Al-Baqarah, أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَأءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُواْ Or think you that you will enter Paradise without such (trials) as came to those who passed away before you! They were afflicted with severe poverty and ailments and were so shaken... (2:214) Allah said, أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا امَنَّا وَهُمْ لاَ يُفْتَنُونَ Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested. (29:2) This is why He said here, أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّهُ الَّذِينَ جَاهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ (Do you think that you will enter Paradise before Allah knows (tests) those of you who will perform Jihad and (also) knows (tests) those who are the patient), meaning, you will not earn Paradise until you are tested and thus Allah knows who among you are the ones who struggle and fight in His cause and are patient in the face of the enemy. Allah said, وَلَقَدْ كُنتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِن قَبْلِ أَن تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

142۔ 1 بغیر قتال کی آزمائش کے تم جنت میں چلے جاؤ گے ؟ نہیں ! بلکہ جنت ان لوگوں کو ملے گی جو آزمائش میں پورا اتریں گے، ابھی تم پر وہ حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھی، انہیں تنگ دستی اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ خوب بلائے گئے مذید فرمایا، کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ انہیں صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی۔ 142۔ 2 یہ مضمون اس سے پہلے سورة بقرہ میں گزر چکا ہے، یہاں موقع کی مناسبت سے پھر بیان کیا جا رہا ہے کہ جنت یوں ہی نہیں مل جائے گی اس کے لئے پہلے تمہیں آزمائش کی بھٹی سے گزارا اور میدان جہاد میں آزمایا جائے گا وہاں نرغہ اعداء میں تم سرفروشی اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہو یا نہیں ؟۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٩] یعنی جنت کے جن اعلیٰ درجات اور مقامات پر اللہ تعالیٰ تمہیں پہنچانا چاہتا ہے کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ بس یوں ہی بیٹھے بیٹھے آرام سے وہاں جاپہنچو گے اور اللہ تمہارا امتحان لے کر یہ نہ دیکھے گا کہ جہاد میں حصہ لینے والے اور اس میں ثابت قدم رہنے والے کون کون ہیں۔ جنت کے بلند درجات پر تو وہی لوگ فائز ہوں گے جو اللہ کی راہ میں ہر طرح کی سختیاں جھیلنے اور قربانیاں پیش کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہاں بھی اللہ کے دیکھنے یا جاننے سے وہی مراد ہے جو سابقہ آیت میں مذکور ہوئی یعنی (وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاۗءَ ١٤٠؁ۙ ) 3 ۔ آل عمران :140) کہ مسلمانوں کی پوری جماعت یہ صورت حال بچشم خود ملاحظہ کرے۔ مکی دور میں مسلمانوں پر قریش مکہ کی طرف سے بےپناہ مظالم اور مصائب ڈھائے جارہے تھے۔ حضرت خباب بن ارت ان مصائب سے کچھ گھبرا سے گئے اور چاہا کہ جاکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت فرمائیں کہ جس وقت کی آپ بشارت سناتے ہیں وہ کب آئے گا ؟ چناچہ وہ خود راوی ہیں کہ & میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اس وقت آپ کعبہ کے سایہ میں ایک چادر پر تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ اس زمانہ میں ہم مشرک لوگوں سے سخت تکلیفیں اٹھا رہے تھے۔ میں نے آپ سے عرض کیا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ان مشرکوں کے لیے بددعا کیوں نہیں کرتے ؟ یہ سنتے ہی آپ (تکیہ چھوڑ کر) سیدھے بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ (غصے سے) سرخ ہوگیا اور فرمایا : & تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں جن کے گوشت اور پٹھوں میں ہڈیوں تک لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتی تھیں۔ مگر وہ اپنے سچے دین سے پھرتے نہیں تھے اور آرا ان کے سر کے درمیان رکھ کر چلا دیا جاتا اور ان کے دو ٹکڑے کردیے جاتے مگر وہ سچے دین سے نہیں پھرتے تھے اور اللہ ایک دن اس کام کو ضرور پورا کرے گا & (بخاری، باب بنیان الکعبہ باب مالقی النبی واصحابہ من المشرکین بمکۃ) اور ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ & مگر تم لوگ تو جلدی مچاتے ہو & گویا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی حضرت خباب بن ارت کو صبر و استقلال اور ثابت قدمی کا وہی سبق سکھلایا جو اس آیت میں مسلمانوں کو سکھلایا جارہا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا ۔۔ : بعض سلف نے اس کا معنی کیا ہے ابھی تک اللہ نے ظاہر نہیں کیا “ ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو ماضی، حال اور مستقبل ہر بات کا علم ہے، اس لیے یہ ترجمہ کہ ” ابھی تک اللہ نے نہیں جانا۔ “ درست نہیں، مگر ” عَلِمَ یَعْلَمُ “ کا معنی تو جاننا ہی ہوتا ہے، ظاہر کرنے کے لیے تو ” لَمَّا یُظْہِرِ اللّٰہُ “ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ ہونے چاہییں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات ازلی بھی ہیں اور کچھ حادث بھی ہیں، مثلاً پیدا کرنا، سننا اور جاننا وغیرہ، جیسا کہ فرمایا : ( كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ ) [ الرحمن : ٢٩ ] ” ہر دن وہ ایک نئی شان میں ہے۔ “ خالق تو وہ ازل سے ہے، مگر جب وہ کوئی چیز پیدا کرے گا تو اس چیز کی خلق اس وقت وجود میں آئے گی۔ اسی طرح آیت : ( قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا) [ المجادلۃ : ١ ] ” یقیناً اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی “ اس عورت کے جھگڑے کے بعد ہی واقعاتی سماع وجود میں آیا، اسی طرح جہاد کرنے کا واقعاتی علم تو جہاد کے واقع ہونے کے بعد ہی ہوگا۔ مقصد یہ کہ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا وقوع میں آنا نہیں جانا کہ تم میں سے کس نے جہاد کیا ہے۔ ” وَيَعْلَمَ الصّٰبِرِيْن “ میں میم ” لام کے “ کی وجہ سے منصوب ہے، جو یہاں محذوف ہے اس لیے ترجمہ کیا ہے ” اور “ تاکہ وہ صبر کرنے والوں کو جان لے۔ “ خلاصہ یہ ہے کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ ایسی آزمائش کے بغیر ہی تم کو جنت میں اعلیٰ مراتب مل جائیں گے ؟ مطلب یہ کہ جب تک اس قسم کی آزمائشوں میں پورے نہیں اترو گے جنت میں اعلیٰ مراتب حاصل نہیں ہوسکتے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللہُ الَّذِيْنَ جٰہَدُوْا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ۝ ١٤٢ أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔ حسب ( گمان) والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] ( ح س ب ) الحساب اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں ۔ کیا وہ لوگ جو بڑے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں : وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] اور ( مومنو ) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کررہے ہیں خدا ان سے بیخبر ہے ۔ فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا : أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ( یوں ہی ) جنت میں داخل ہوجاؤ گے ۔ دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک طورپر استعمال ہوتا ہے ۔ اور یہ قرآن میں بکژت آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔ جهد الجَهْدُ والجُهْد : الطاقة والمشقة، وقیل : الجَهْد بالفتح : المشقة، والجُهْد : الوسع . وقیل : الجهد للإنسان، وقال تعالی: وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ [ التوبة/ 79] ، وقال تعالی: وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ النور/ 53] ، أي : حلفوا واجتهدوا في الحلف أن يأتوا به علی أبلغ ما في وسعهم . والاجتهاد : أخذ النفس ببذل الطاقة وتحمّل المشقة، يقال : جَهَدْتُ رأيي وأَجْهَدْتُهُ : أتعبته بالفکر، والجِهادُ والمجاهدة : استفراغ الوسع في مدافعة العدو، والجِهَاد ثلاثة أضرب : - مجاهدة العدو الظاهر . - ومجاهدة الشیطان . - ومجاهدة النفس . وتدخل ثلاثتها في قوله تعالی: وَجاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهادِهِ [ الحج/ 78] ، وَجاهِدُوا بِأَمْوالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ التوبة/ 41] ، إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا بِأَمْوالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ الأنفال/ 72] ، وقال صلّى اللہ عليه وسلم : «جاهدوا أهواء کم کما تجاهدون أعداء کم» والمجاهدة تکون بالید واللسان، قال صلّى اللہ عليه وسلم «جاهدوا الکفار بأيديكم وألسنتکم» ( ج ھ د ) الجھد والجھد کے معنی وسعت و طاقت اور تکلف ومشقت کے ہیں ۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ الجھد ( فتح جیم کے معنی مشقت کے ہیں اور الجھد ( ( بضم جیم ) طاقت اور وسعت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ الجھد کا لفظ صرف انسان کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ [ التوبة/ 79] اور جنہیں اپنی محنت ومشقت ( کی کمائی ) کے سوا کچھ میسر نہیں ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ النور/ 53] کے معنی یہ ہیں کہ وہ بڑی زور زور سے قسمیں کھاکر کہتے ہیں کے وہ اس میں اپنی انتہائی کوشش صرف کریں گے الاجتھاد ( افتعال ) کے معنی کسی کام پر پوری طاقت صرف کرنے اور اس میں انتہائی مشقت اٹھانے پر طبیعت کو مجبور کرنا کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے میں نے غور ومحکر سے اپنی رائے کو مشقت اور تعب میں ڈالا ۔ الجھاد والمجاھدۃ دشمن کے مقابلہ اور مدافعت میں اپنی انتہائی طاقت اور وسعت خرچ کرنا اور جہا دتین قسم پر ہے ( 1 ) ظاہری دشمن یعنی کفار سے جہاد کرنا ( 2 ) شیطان اور ( 3 ) نفس سے مجاہدہ کرنا اور آیت کریمہ : ۔ وَجاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهادِهِ [ الحج/ 78] کہ اللہ کی راہ میں پوری طرح جہاد کرو ۔۔۔۔۔ تینوں قسم جہاد پر مشتمل ہے ۔ نیز فرمایا :۔ وَجاهِدُوا بِأَمْوالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ التوبة/ 41] کہ خدا کی راہ میں اپنے مال وجان سے جہاد کرو ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا بِأَمْوالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ الأنفال/ 72] جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال وجان سے جہاد کرتے رہے ۔ اور حدیث میں ہے (66) کہ جس طرح اپنے دشمن سے جہاد کرتے ہو اسی طرح اسی خواہشات سے بھی جہاد کیا کرو ۔ اور مجاہدہ ہاتھ اور زبان دونوں کے ساتھ ہوتا ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا (67) کہ کفار سے ہاتھ اور زبان دونوں کے ذریعہ جہاد کرو ۔ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٤٢) کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ جنت میں بغیر جہاد ہی کے داخل ہوجاؤ گے، ابھی اللہ تعالیٰ نے ظاہری طور پر تو ان لوگوں کو دیکھا (آزمایا) ہی نہیں، جنھوں نے احد کے دن خوب خوب جہاد کیا اور نہ ان لوگوں کو جو اپنے نبی کے ساتھ مل کر کفار کے مقابلہ میں ڈٹے رہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤٢ (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ ) (وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰہَدُوْا مِنْکُمْ وَیَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ ) گویا ع ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں ! ابھی تو تمہارے لیے اس راستے میں کڑی سے کڑی منزلیں آنے والی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ مضمون ہم سورة البقرۃ کی آیت ٢١٤ میں پڑھ آئے ہیں۔ نوٹ کیجیے کہ زیر مطالعہ آیت کا نمبر ١٤٢ ہے ‘ یعنی ہندسوں کی صرف ترتیب بدلی ہوئی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:142) لما یعلم اللہ۔ میں یعلم مضارع مجزوم بوجہ لما کے ہے متحرک کرنے کے لئے میم کو کسرہ دیا گیا۔ ابھی جانا ہی نہیں اللہ نے یعنی آزما کر دیکھا ہی نہیں ۔ ویعلم الصبرین۔ میں میم پر فتح بوجوہ ذیل ہے۔ (1) واؤ حرف عطف ہے اور یعلم الصبرین کا یعلم اللہ پر عطف ہے۔ دراصل یہاں بھی مجزوم تھا۔ لیکن التقاء ساکنین کی وجہ سے میم سے قبل لام کی فتح کی رعایت سے اسے فتح دیا گیا۔ (2) واؤ۔ واو الصرف ہے جس کے بعد ان پوشیدہ ہوتا ہے لہٰذا واؤ کے بعد اور یعلم سے پہلے ان مقدر ہے جیسے کہا جاتا ہے۔ لا تاکل السمک وتشرب اللبن۔ (3) امام حسن (رض) کی قرأت میں یہاں بھی یعلم کی میم کو زیر ہے۔ کیونکہ واؤ عاطفہ ہے اور یہ یعلم پہلے یعلم پر معطوف ہے اور لما کی وجہ سے مجزوم (یہاں لام ماقبل میم کی حرکت کی رعایت ملحوظ نہیں رکھی گئی) (94 ابو عمرو (رح) کی قرأت میں یہ یعلم میم کے پیش کے ساتھ ہے۔ اس صورت میں واؤ ابتدائیہ ہے اور جملہ نیا ہے۔ اب معنی یہ ہوں گے کہ رب تعالیٰ صابروں کو جانتا ہے اور انہیں بقدو صبر اجر دے گا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یہاں ام بمعنی بل ہے (قرطبی) ابھی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم میں جو کچھ تھا اسے ظاہر نہیں کیا اور کھول کر انہیں دکھا یا کہ کون جہاد کرتے اور لڑائی میں ثا بت قدم رہتے ہیں کیا تم سمجھتے ہو کہ ایسی آزمائش سے پہلے تم کو جنت میں لعلی ٰ مراتب مل جائیں گے مطلب یہ ہے کہ جب تک اس قسم کی آزمائشوں میں پورے نہیں اترو گے جنت میں اعلی ٰ مرابت حاصل نہیں ہوسکتے۔ (وحیدی بتصرف )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : آزمائش سے قوموں کے کردار میں پختگی پیدا ہوتی ہے احد کی عارضی شکست اسی سلسلہ کی کڑی سمجھنا چاہیے۔ دنیا کی یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ آدمی کا مقصد جتنا بلند اور اہم ہوتا ہے اتنی ہی وہ محنت اور اس کے لیے تکلیف اٹھاتا ہے۔ مومن کی زندگی کا مقصد دین کو سر بلند کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنا ہے جس کا ما حصل جنت ہے۔ یہ مقصد عظیم خالی دعوؤں اور کھوکھلے نعروں سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے مال لٹانا، پیٹ پر پتھر باندھنا ‘ گھر بار چھوڑنا ‘ اولاد قربان کرنا اور جسم کٹواتے ہوئے صابر و شاکر رہنا پڑتا ہے تب جا کر اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ممکن ہوا کرتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے (حُجِبَتِ الْجَنَّۃُ بالْمَکَارِہِ ) ” کہ جنت مصائب اور مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق ] اب یہاں ایک لطیف سرزنش کے ساتھ مسلمانوں کو باور کروا یا جا رہا ہے کہ تم خود ہی تو موت کی تمنا کر رہے تھے۔ یعنی جو لوگ کسی وجہ سے بدر کے معرکہ میں شامل نہ ہو سکے وہ تمنا کرتے تھے کہ کفار کے ساتھ پھر کب لڑائی ہو جس میں ہم اللہ کے راستے میں کٹ مریں۔ جب احد میں موت سے تمہارا آمنا سامنا ہوا اور کچھ لوگ موت کا لقمہ بنے تو تم اس پر حیرانگی کا اظہار کر رہے ہو کہ ہمیں یہ جانی نقصان کیوں اٹھانا پڑا ؟ یہاں موت کی تمنا سے مراد شہادت ہے۔ جو مومن کی منزل مقصود اور جنت کے حصول کا مؤثر زینہ ہے کیونکہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الجہاد ] مسائل ١۔ صبر اور جہاد کے بغیر کوئی ایماندار جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ ٢۔ قتال فی سبیل اللہ میں مجاہد موت کو اپنے قریب دیکھتا ہے۔ نوٹ : صبر کی فضیلت کے بارے میں البقرۃ آیت 153 کی تفسیر بالقرآن دیکھیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب اگلی حکیمانہ بات بصورت استفہام انکاری آتی ہے۔ دعوت اسلامی کے بارے میں مسلمانوں کی سوچ کو درست کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلے میں سنت الٰہی کیا ہے ؟ بتایا جاتا ہے کہ فتح وشکست ‘ اعمال اور انکے نتائج کے بارے میں اللہ کا ایک اٹل قانون ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جنت کی راہ میں تو کانٹے بھی بچھے ہوئے ہوتے ہیں ‘ مشکلات بھی ہوتی ہیں ‘ اور اس راہ میں مشکلات کو صبر وثبات کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے ۔ محض خالی خولی تمناؤں اور نیک خواہشات کے ذریعہ یہ گھاٹی عبور نہیں کی جاسکتی ۔ تمہیں اس راہ میں مشکلات انگیز کرنی ہوں گی اور اپنی صفوں کو کمزور لوگوں سے صاف کرنا ہوگا۔ أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ (١٤٢) وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ ” کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں چلے جاؤگے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں وہ کون لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے اور اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں ۔ تم موت کی تمنائیں کررہے تھے مگر یہ اس وقت کی بات تھی جب موت سامنے نہ آئی تھی ‘ لو اب وہ تمہارے سامنے آگئی ہے اور تم نے اسے آنکھوں سے دیکھ لیا ۔ “ صیغہ استفہام انکاری اس مقام پر استعمال ہوتا ہے جہاں مخاطب کو ایک نہایت ہی خطرناک فکری غلطی پر متنبہ کرنا مطلوب ہوتا ہے ۔ یہاں فکری غلطی یہ تھی کہ لوگوں نے سمجھا کہ بس زبان سے اس قسم کا اعلان ہی کافی ہے کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں اور میں موت کے لئے تیار ہوں ‘ اسلام کی راہ میں مرمٹنے کے لئے۔ صرف اس اعلان ہی سے گویا انہوں نے دعوت اسلامی کی راہ کی تمام مشکلات برداشت کرلیں اور اب وہ اللہ کی رضامندی اور جنت دونوں کے مستحق ہوگئے ہیں۔ یہاں انہیں سختی کے ساتھ بتایا گیا کہ تمہاری یہ سوچ درست نہیں ہے ۔ تمہیں مشکلات کے واقعی تجربے سے گزرنا ہوگا ‘ عملی امتحان ہوگا ، جہاد میں شرکت کرنی ہوگی اور مصائب کو گلے لگانا ہوگا۔ اور اس کے بعد یہ کہ ان مشکلات کی حالت میں جزع وفزع نہیں بلکہ صبر کرنا ہوگا اور ان کو برداشت کرنا ہوگا۔ یہاں اس آیت کے بعض الفاظ چونکادینے والے ہیں وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ …………… ” حالانکہ ابھی یہ تو اللہ نے دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے ہیں وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ……………” اور کون ہیں جو اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں۔ “ اس لئے اس راہ میں صرف جہاد کرلینا ہی کافی نہیں ہے ‘ بلکہ مشکلات راہ پر صبر کرنا بھی ضروری ہے ۔ یہ مشکلات تو مسلسل ہوتی ہیں ‘ مختلف نوعیت کی ہوا کرتی ہیں اور یہ اس وقت تک ختم نہیں ہوجاتیں جب میدان جنگ میں جہاد ختم ہوجاتا ہے ‘ بلکہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ میدان جنگ میں مشکلات جہاد بہت ہی کم ہوتی ہیں بمقابلہ اس کے جو جہاد کے بعد آتی ہیں اور جن کی خاطر صبر کا تقاضا کیا گیا ہے اور جن میں ایمان کی آزمائش ہوتی ہے ۔ ہماری روزمرہ کی زندگی میں نہ ختم ہونے والی مشکلات ہوتی ہیں ‘ افق ایمان پر مسلسل جمے رہنا ‘ شعور اور عمل دونوں میں ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہنا ‘ زندگی کی راہوں میں انسانی کمزوریوں پر بذریعہ صبر قابو پاتے رہنا ‘ روز مرہ زندگی میں ان تمام لوگوں کے ساتھ یومیہ معاملات میں اور اپنے نفس کے ساتھ تمام معاملات میں اسلام پر جمے رہنا اور خصوصاً ان مقامات پر صبروثبات کا مظاہرہ کرنا جن میں باطل قوتوں کو بظاہر کامیابی حاصل ہوتی ہے اور وہ یوں نظر آتی ہیں گویا بس فتح اب ان کے لئے مقدر ہے ۔ پھر بعض اوقات جدوجہد طویل ہوتی ہے اور راستہ طویل اور کٹھن نظرآتا ہے اور مشکلات سے پر نظر آتا ہے ‘ ایسے حالات میں صبر کرتے رہنا ‘ جہاد اور مشکلات اور جنگاہ میں آرام طلبی کی تمنا ‘ وسوسے اور نفس کی اکتاہٹ کے مقابلے میں صبر وثبات کا مظاہرہ کرتے چلے جانا ‘ غرض اس راہ میں جو نامعلوم اور پوشیدہ مشکلات ہوتی ہیں ‘ اور ان میں سے میدان جنگ صرف ایک مشکل ہے ‘ ان سب کو انگیز کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا وغیرہ یہ سب اس آیت کے تقاضے ہیں اور جنت کی راہ کی مشکلات ہیں ۔ غرض ان مقاصد کا حصول صرف الفاظ اور تمناؤں سے نہیں ہوتا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کیا جنت میں بغیر جہاد اور صبر کے داخل ہوجاؤ گے ؟ پھر ارشاد فرمایا (اَم حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ ) (الآیۃ) (کیا تم نے یہ خیال کیا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کا علم نہ ہو جنہوں نے جہاد کیا، اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو نہ جان لے جو صبر کرنے والے ہیں) مطلب یہ ہے کہ تم جنت کے طلب گار ہو جنت حاصل کرنے کے لیے محنت، مشقت، جہاد اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے جنت میں جانے کی آرزو رکھنے والوں کو ان سب چیزوں کے لیے تیار رہنا چاہیے اور حسب موقع ان چیزوں میں اپنی جانوں کو لگا دینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت تھی کہ وہ تم کو ان تکالیف میں مبتلا کرے پھر وہ تمہاری جہاد والی محنت کو اور صبر کو ان کے وقوع کے بعد جان لے کہ تم نے واقعی جہاد کیا اور صبر سے کام لیا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

211 ترغیب الی الجہاد کے بعد یہ مومنوں کے لیے زجر وتوبیخ ہے اور علم سے یہاں بھی بدستور اظہار اور تمییز مراد ہے اور خطاب ان لوگوں سے ہے جنہوں نے احد میں کمزوری دکھائی اور شکست خوردہ ہو کر بھاگ نکلے تھے یہاں فتح وشکست کے الٹ پھیر کا اصل مقصد بیان کیا گیا ہے۔ جو مداولت کی مذکورہ تینوں علتوں کا نتیجہ ہے۔ خطاب للمنھزمین یوم احد وھو کلام مستانف لبیان ماھی الغایۃ القصوی من المداولۃ والنتیجۃ لما ذکر من العلل الثلث الاول (روح ص 70 ج 4) یعنی تم احد کی شکست وریخت اور جراحات سے اس قدر کیوں دلگیر ہو کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت کے اعلیٰ درجات ابتلاء وامتحان، میدان جنگ میں کشت وخون اور صبر و استقامت کے بغیر ہی حاصل کرلوگے ؟ ہرگز نہیں بلکہ تم کو بڑے بڑے مشکل اور دشوار امتحانات سے گزرنا ہوگا۔ میدان جنگ میں ہمت و استقلال سے محض اللہ کی رضا کی خاطر اور توحید کو سربلند کرنے کے لیے جہاد کرنا ہوگا۔ اور پھر جہاد میں تمہارا مالی نقصان بھی ہوگا۔ تمہیں زخم بھی آئیں گے اور احباب و اقارب کی شہادت کا صدمہ بھی اٹھانا ہوگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi