Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 144

سورة آل عمران

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّنۡقَلِبۡ عَلٰی عَقِبَیۡہِ فَلَنۡ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیۡئًا ؕ وَ سَیَجۡزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾

Muhammad is not but a messenger. [Other] messengers have passed on before him. So if he was to die or be killed, would you turn back on your heels [to unbelief]? And he who turns back on his heels will never harm Allah at all; but Allah will reward the grateful.

۔ ( حضرت ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف رسول ہی ہیں ان سے پہلے بہت سے رُسول ہو چکے ہیں کیا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا یہ شہید ہوجائیں ، تو تم اسلام سے اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے ؟اور جو کوئی پھر جائے اپنی ایڑیوں پر تو ہر گز اللہ تعالٰی کا کچھ نہ بگاڑے گا ، عنقریب اللہ تعالٰی شکر گزاروں کو نیک بدلہ دے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Rumor that the Prophet was Killed at Uhud When Muslims suffered defeat in battle at Uhud and some of them were killed, Shaytan shouted, "Muhammad has been killed." Ibn Qami'ah went back to the idolators and claimed, "I have killed Muhammad." Some Muslims believed this rumor and thought that the Messenger of Allah had been killed, claiming that this could happen, for Allah narrated that this occurred to many Prophets before. Therefore, the Muslims' resolve was weakened and they did not actively participate in battle. This is why Allah sent down to His Messenger His statement, وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ... Muhammad is no more than a Messenger, and indeed Messengers have passed away before him. he is to deliver Allah's Message and may be killed in the process, just as what happened to many Prophets before. Ibn Abi Najih said that his father said that; a man from the Muhajirin passed by an Ansari man who was bleeding (during Uhud) and said to him, "O fellow! Did you know that Muhammad was killed?" The Ansari man said, "Even if Muhammad was killed, he has indeed conveyed the Message. Therefore, defend your religion." The Ayah, وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ (Muhammad is no more than a Messenger, and indeed (many) Messengers have passed away before him), was revealed. This story was collected by Al-Hafiz Abu Bakr Al-Bayhaqi in Dala'il An-Nubuwwah. Allah said next, while chastising those who became weak, ... أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ ... If he dies or is killed, will you then turn back on your heels, become disbelievers. ... وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىَ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللّهَ شَيْيًا وَسَيَجْزِي اللّهُ الشَّاكِرِينَ And he who turns back on his heels, not the least harm will he do to Allah; and Allah will give reward to those who are grateful. those who obeyed Allah, defended His religion and followed His Messenger whether he was alive or dead. The Sahih, Musnad and Sunan collections gathered various chains of narration stating that Abu Bakr recited this Ayah when the Messenger of Allah died. Al-Bukhari recorded that Aishah said that; Abu Bakr came riding his horse from his dwelling in As-Sunh. He dismounted, entered the Masjid and did not speak to anyone until he came to her (in her room) and went directly to the Prophet, who was covered with a marked blanket. Abu Bakr uncovered his face, knelt down and kissed him, then started weeping and proclaimed, "My father and my mother be sacrificed for you! Allah will not combine two deaths on you. You have died the death, which was written for you." Ibn Abbas narrated that; Abu Bakr then came out, while Umar was addressing the people, and Abu Bakr told him to sit down but Umar refused, and the people attended to Abu Bakr and left Umar. Abu Bakr said, "To proceed; whoever among you worshipped Muhammad, then Muhammad is dead, but whoever worshipped Allah, Allah is alive and will never die. Allah said, وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىَ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللّهَ شَيْيًا وَسَيَجْزِي اللّهُ الشَّاكِرِينَ Muhammad is no more than a Messenger and indeed (many) Messengers have passed away before him. If he dies or is killed, will you then turn back on your heels And he who turns back on his heels, not the least harm will he do to Allah; and Allah will reward the grateful." The narrator added, "By Allah, it was as if the people never knew that Allah had revealed this verse before until Abu Bakr recited it, and then whoever heard it, started reciting it." Sa`id bin Al-Musayyib said that Umar said, "By Allah! When I heard Abu Bakr recite this Ayah, my feet could not hold me, and I fell to the ground." Allah said,

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے ۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کر دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہو گئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بے اصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا ۔ اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ قدرے زخمی ہوگیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کردیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بد دل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء کی طرح یہ بھی ایک نبی ہیں ہوسکتا ہے کہ میدان میں قتل کردیئے جائیں لیکن کچھ اللہ کا دین نہیں جاتا رہے گا ایک روایت میں ہے کہ ایک مہاجر نے دیکھا کہ ایک انصاری جنگ احد میں زخموں سے چور زمین پر گرا پڑا ہے اور خاک و خون میں لوٹ رہا ہے اس سے کہا کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قتل کردیئے گئے اس نے کہا اگر یہ صحیح ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنا کام کر گئے ، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر سے تم سب بھی قربان ہو جاؤ ، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری پھر فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل یا انتقال ایسی چیز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین سے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ اور ایسا کرنے والے اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے ، اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو جزائے خیر دے گا جو اس کی اطاعت پر جم جائیں اور اس کے دین کی مدد میں لگ جائیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری میں مضبوط ہوجائیں خواہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہوں یا نہ ہوں ، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کی خبر سن کر حضرت ابو بکر صدیق جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں کی حالت دیکھی بھالی اور بغیر کچھ کہے سنے حضرت عائشہ کے گھر پر آئے یہاں حضور علیہ السلام پر حبرہ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی آپ نے چادر کا کونہ چہرہ مبارک پر سے ہٹا کر بےساختہ بوسہ لے لیا اور روتے ہوئے فرمانے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو مرتبہ موت نہ لائے گا جو موت آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ کو آچکی ۔ اس کے بعد آپ پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ حضرت عمر خطبہ سنا رہے ہیں ان سے فرمایا کہ خاموش ہو جاؤ انہیں چپ کرا کر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مرگئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش رہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر موت نہیں آتی ۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لوگوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا یہ آیت اب اتری ہے پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہ آیت چڑھ گئی اور لوگوں نے یقین کرلیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے ( صلی اللہ علیہ وسلم ) حضرت صدیق اکبر کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر حضرت عمر کے تو گویا قدموں تلے سے زمین نکل گئی ، انہیں بھی یقین ہوگیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس جہان فانی کو چھوڑ کر چل بسے ، حضرت علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ نہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر مرتد ہوں نہ آپ کی شہادت پر اللہ کی قسم اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم قتل کئے جائیں تو ہم بھی اس دین پر مرمٹیں جس پر پر شہید ہوئے اللہ کی قسم میں آپ کا بھائی ہوں آپ کا ولی ہوں آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اور آپ کا وارث ہوں مجھ سے زیادہ حقدار آپ کا اور کون ہوگا ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنی مدت پوری کرکے ہی مرتا ہے جیسے اور جگہ ہے وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الی فی کتاب نہ کوئی عمر دیا جاتا ہے نہ عمر گھٹائی جاتی ہے مگر سب کتاب اللہ میں موجود ہے اور جگہ ہے ( هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا ) 6 ۔ الانعام:2 ) جس اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا قھر وقت پورا کیا اور اجل مقرر کی اس آیت میں بزدل لوگوں کو شجاعت کی رغبت دلائی گئی ہے اور اللہ کی راہ کے جہاد کا شوق دلایا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ جو انمردی کی وجہ سے کچھ عمر گھٹ نہیں جاتی اور پیچھے ہٹنے کی وجہ سے عمر بڑھ نہیں جاتی ۔ موت تو اپنے وقت پر آکر ہی رہے گی خواہ شجاعت اور بہادری برتو خواہ نامردی اور بزدلی دکھاؤ ۔ حجر بن عدی جب دشمنان دین کے مقابلے میں جاتے ہیں اور دریائے دجلہ بیچ میں آجاتا ہے اور لشکر اسلام ٹھٹھک کر کھڑا ہوجاتا ہے تو آپ اس آیت کی تلاوت کرکے فرماتے ہیں کہکوئی بھی بے اجل نہیں مرتا آؤ اسی دجلہ میں گھوڑے ڈال دو ، یہ فرما کر آپ اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیتے ہیں آپ کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی اپنے گھوڑوں کو پانی میں ڈال دیتے ہیں ۔ دشمن کا خون خشک ہوجاتا ہے اور اس پر ہیبت طاری ہوجاتی ہے ۔ وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو دیوانے آدمی ہیں یہ تو پانی کی موجوں سے بھی نہیں ڈرتے بھاگو بھاگو چنانچہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس کا عمل صرف دنیا کیلئے ہو تو اس میں سے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے مل جاتا ہے لیکن آخرت میں وہ خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور جس کا مقصد آخرت طلبی ہو اسے آخرت تو ملتی ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اپنے مقدر کا پالیتا ہے جیسے اور جگہ فرمایا من کان یرید حرث الاخرۃ الخ ، آخرت کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم زیادتی کے ساتھ دیتے ہیں اور دنیا کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم گو دنیا دے دیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں اور جگہ ہے من کان یرید العاجلتہ جو شخص صرف دنیا طلب ہی ہو ہم ان میں سے جسے چاہیں جس قدر چاہیں دنیا دے دیتے ہیں پھر وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ساتھ میں جاتا ہے اور جو آخرت کا خواہاں ہو اور کوشاں بھی ہو اور باایمان بھی ہو ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مشکور ہے اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ ہم شکر گزاروں کو اچھا دبلہ دے دیتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ احد کے مجاہدین کو خطاب کرتا ہوا فرماتا ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سے نبی اپنی جماعتوں کو ساتھ لے کر دشمنان دین سے لڑے بھڑے اور وہ تمہاری طرح اللہ کی راہ میں تکلیفیں بھی پہنچائے گئے لیکن پھر بھی مضبوط دل اور صابرو شاکر رہے نہ سست ہوئے نہ ہمت ہاری اور اس صبر کے بدلے انہوں نے اللہ کریم کی محبت مول لے لی ، ایک یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اے مجاہدین احد تم یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوئے کیوں ہمت ہار بیٹھے؟ اور کفر کے مقابلے میں کیوں دب گئے؟ حالانکہ تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء کی شہادت کو دیکھ کر بھی نہ دبے نہ پیچھے ہٹے بلکہ اور تیزی کے ساتھ لڑے ، یہ اتنی بڑی مصیبت بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی اور کے دل چھوٹے نہ کرسکی پھر تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سن کر اتنے بودے کیوں ہوگئے ربیون کے بہت سے معنی آتے ہیں مثلاً علماء ابرار متقی عابد زاہد تابع فرمان وغیرہ وغیرہ ۔ پس قرآن کریم ان کی اس مصیبت کے وقت دعا کو نقل کرتا ہے پھر فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کا ثواب نصرت و مدد ظفرو اقبال ملا اور آخرت کی بھلائی اور اچھائی بھی اسی کے ساتھ جمع ہوئی یہ محسن لوگ اللہ کے چہیتے بندے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

144۔ 1 محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف رسول ہی ہیں ' یعنی ان کا امتیاز بھی وصف رسالت ہی ہے۔ یہ نہیں کہ وہ بشری خصائص سے بالاتر اور خدائی صفات سے متصف ہوں کہ انہیں موت سے دو چار نہ ہونا پڑے 144۔ 2 جنگ احد میں شکست کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کافروں نے یہ افواہ اڑا دی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل کردیئے گئے۔ مسلمانوں میں جب یہ خبر پھیلی تو اس سے بعض مسلمانوں کے حوصلے پست ہوگئے اور لڑائی سے پیچھے ہٹ گئے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کافروں کے ہاتھوں قتل ہوجانا یا ان پر موت کا وارد ہوجانا، کوئی نئی بات تو نہیں ہے۔ پچھلے انبیاء (علیہم السلام) بھی قتل اور موت سے ہمکنار ہوچکے ہیں۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی (بالفرض) اس سے دو چار ہوجائیں تو کیا تم اس دین سے ہی پھر جاؤ گے۔ یاد رکھو جو پھرجائے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا، اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سانحہ وفات کے وقت جب حضرت عمر (رض) شدت جذبات میں وفات نبوی کا انکار کر رہے تھے، حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے نہایت حکمت سے کام لیتے ہوئے منبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو میں کھڑے ہو کر انہی آیات کی تلاوت کی جس سے حضرت عمر (رض) بھی متاثر ہوئے اور انہیں محسوس ہوا کہ یہ آیات ابھی ابھی اتری ہیں۔ 144۔ 3 یعنی ثابت قدم رہنے والوں کو جنہوں نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کر کے اللہ کی نعمتوں کا عملی شکر ادا کیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣١] جب حضرت عبداللہ بن جبیر کے ساتھی درہ چھوڑ کر لوٹ مار میں لگ گئے تو خالد بن ولید (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور کفار کے ایک دستہ کی کمان کر رہے تھے) پہاڑی کا چکر کاٹ کر اسی درہ سے مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔ سو سوار ان کے ہمراہ تھے۔ ادھر حضرت عبداللہ کے ساتھ صرف بارہ آدمی رہ گئے تھے۔ دس بارہ تیر انداز بھلا سو سواروں کی یلغار کو کیسے روک سکتے تھے۔ انہوں نے مقابلہ تو بڑی بےجگری سے کیا مگر سب شہید ہوگئے۔ مسلمان مجاہدین اپنے عقب یعنی درہ کی طرف سے مطمئن تھے کہ اچانک مشرکین کا یہ رسالہ ان کے سروں پر جا پہنچا اور سامنے سے مشرکوں کی جو فوج بھاگ کھڑی ہوئی تھی وہ بھی پیچھے پلٹ آئی اور مسلمان دونوں طرف سے گھر گئے۔ بہت زور کا رن پڑا اور بہت سے مسلمان شہید اور زخمی ہوئے۔ اسی دوران ابن قیہ نے ایک بھاری پتھر آپ پر پھینکا جس سے آپ کا سامنے کا دانت بھی ٹوٹ گیا اور چہرہ مبارک بھی زخمی ہوا۔ اس ضرب کی شدت سے آپ بےہوش ہو کر گرپڑے اور ابن قمیئہ یا کسی اور نے دور سے پکارا & محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل کردیئے گئے & یہ سنتے ہی مسلمانوں کے اوسان خطا ہوگئے اور پاؤں اکھڑ گئے بعض مسلمان جنگ چھوڑ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے۔ اب لڑنے کا کیا فائدہ ہے اور بعض کمزور دل مسلمانوں کو یہ خیال آیا کہ جاکر مشرکوں کے سردار ابو سفیان سے امان حاصل کرلیں اور اس بدحواسی کے عالم میں بعض یہ بھی سوچنے لگے کہ جب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل ہوگئے تو ہمیں اپنے پہلے دین میں واپس چلے جانا چاہئے۔ یہی وہ وقت تھا جب منافقوں نے یوں زبان درازی شروع کردی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر اللہ کے رسول ہوتے تو مارے نہ جاتے۔ اس وقت حضرت انس بن مالک (رض) کے چچا انس بن نضر نے کہا اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل ہوگئے تو رب محمد قتل نہیں ہوئے۔ آپ کے بعد تمہارا زندہ رہنا کس کام کا ؟ جس بات پر آپ نے جان دی ہے اسی پر تم بھی اپنی جان دے دو اور کٹ مرو۔ یہ کہہ کر آپ کافروں میں گھس گئے اور بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے آخر شہید ہوگئے۔ اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہوش آگیا تو آپ نے آواز دی & الی عباد اللہ انا رسول اللہ & (اللہ کے بندو ! ادھر آؤ میں اللہ کا رسول ہوں) اور کعب بن مالک آپ کو پہچان کر چلائے۔ مسلمانو ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہاں موجود ہیں۔ چناچہ مسلمان آپ کے گرد جمع ہونا شروع ہوگئے۔ تیس کے قریب صحابہ (رض) نے آپ کے قریب ہو کر دفاع کیا اور مشرکوں کی فوج کو منتشر کردیا۔ اس موقع پر سعد بن ابی وقاص اور ابو طلحہ (رض) نے نہایت جانبازی اور جانثاری کا نمونہ پیش کیا۔ اس موقع سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آخر اللہ تو نہیں جو حی وقیوم ہوں، ایک رسول ہی ہیں۔ ان سے پہلے سب رسول دنیا سے رخصت ہوچکے پھر آگر آپ فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم اسلام چھوڑ دو گے ؟۔ دین کی حفاظت اور جہاد فی سبیل اللہ ترک کردو گے ؟ تمہیں ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہئے اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو اپنا ہی نقصان کرے گا۔ اللہ کا تو کچھ بھی بگاڑ نہیں سکے گا۔ واضح رہے کہ اس آیت کے نزول کے ساڑھے سات سال بعد جب فی الواقعہ آپ کی وفات ہوگئی تو اس وقت مسلمانوں کو اتنا صدمہ ہوا کہ ان کے اوسان خطا ہوگئے۔ دوسرے صحابہ (رض) کا کیا ذکر حضرت عمر (رض) جیسے فقیہ اور مدبر صحابی کھڑے ہو کر تقریر کر رہے تھے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے ہیں میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) آئے اور حضرت عمر (رض) کو بیٹھ جانے کو کہا۔ لیکن جوش خطابت میں انہوں نے اس بات پر کان ہی نہ دھرا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) الگ کھڑے ہو کر تقریر کرنے لگے تو لوگ ادھر متوجہ ہوگئے۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا : تم میں سے جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پوجتا تھا تو وہ سمجھ لے کہ بلاشبہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پاگئے اور جو شخص اللہ کو پوجتا تھا تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی (وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓى اَعْقَابِكُمْ ۭ وَمَنْ يَّنْقَلِبْ عَلٰي عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَـيْـــًٔـا ۭ وَسَيَجْزِي اللّٰهُ الشّٰكِرِيْنَ ١٤٤۔ ) 3 ۔ آل عمران :144) تک۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں ایسا معلوم ہوتا تھا گویا لوگوں کو پتا نہیں تھا کہ اللہ نے یہ آیت بھی نازل فرمائی ہے۔ جب تک حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے یہ آیت نہ پڑھی پھر ابوبکر صدیق (رض) سے لوگوں نے یہ آیت سیکھی۔ پھر جسے دیکھو وہ یہی آیت پڑھ رہا تھا اور خود حضرت عمر (رض) کہتے ہیں۔ اللہ کی قسم ! مجھے یوں معلوم ہوا کہ میں نے یہ آیت ابوبکر صدیق (رض) کی تلاوت کرنے سے پہلے سنی ہی نہ تھی اور جب سنی تو سہم گیا۔ دہشت کے مارے میرے پاؤں نہیں اٹھ رہے تھے میں زمین پر گرگیا اور جب میں نے ابوبکر صدیق (رض) کو یہ آیت پڑھتے سنا تب معلوم ہوا کہ واقعی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی۔ & (بخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی) پھر اس بات پر بھی غور فرمائیے کہ یہ آیت غزوہ احد کے موقعہ پر نازل ہوئی تھی اور حضرت عمر (رض) نے اور اسی طرح دوسرے صحابہ کرام (رض) نے اسے سینکڑوں بار پڑھا بھی ہوگا۔ لیکن اس آیت کی صحیح سمجھ انہیں اس وقت آئی جب فی الواقع رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی۔ اس سے پہلے نہیں آئی اور یہی مفہوم ہے اللہ تعالیٰ کے قول (وَلَمَّا يَاْتِهِمْ تَاْوِيْلُهٗ 39؀) 10 ۔ یونس :39) کا۔ نیز اس سے لفظ تاویل کا صحیح مفہوم بھی سمجھا سکتا ہے۔ پھر جس وقت میدان احد میں بعض کمزور ایمان والوں نے سوچا کہ اسلام کو چھوڑ کر پہلے دین میں چلے جائیں، اسی طرح آپ کی وفات پر واقعی کئی عرب قبائل مرتد ہوگئے وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ دین اسلام کی ساری سربلندیاں آپ کی ذات سے وابستہ ہیں۔ پھر جب آپ نہ رہے تو اسلام از خود مٹ جائے گا۔ چناچہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ایسے مرتدین سے جہاد کیا اور انہیں شکست فاش دی۔ ان میں سے کچھ مارے گئے اور باقی پھر سے دین اسلام پر قائم ہوگئے۔ گویا ان لوگوں نے اپنا ہی نقصان کیا۔ اسلام اللہ کے فضل سے سربلند رہا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ : جنگ احد میں بعض صحابہ نے تو مرتبۂ شہادت حاصل کرلیا اور بعض میدان چھوڑ کر فرار ہونے لگے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی زخمی ہوگئے اور کسی شیطان نے آپ کی شہادت کی افواہ پھیلا دی، صحابہ کرام (رض) کے دل اس افواہ سے ٹوٹ گئے اور وہ ہمت ہار بیٹھے اور منافقین نے طعن و تشنیع کے نشتر چبھونے شروع کردیے کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہوتے تو قتل کیوں ہوتے ؟ ! اس پر یہ آیات اتریں : ( وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ ) ” نہیں ہے محمد مگر ایک رسول۔ “ اس میں حصر قلب ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق تم نے جو سمجھا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہیں، یا اللہ تعالیٰ کے اختیارات کے مالک ہیں، ایسا نہیں، وہ محض اللہ کا پیغام پہنچانے والے ہیں۔ وہ قتل بھی ہوسکتے ہیں، فوت بھی ہوسکتے ہیں اور ان سے پہلے کئی رسول گزر چکے ہیں۔ کیا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتل ہونے یا طبعی موت مرجانے سے تم اللہ کا دین چھوڑ بیٹھو گے ؟ تمہیں چاہیے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہو۔ (ابن کثیر۔ قرطبی) شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” اور اشارتاً یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات پر بعض لوگ پھرجائیں گے۔ اسی طرح ہوا کہ بہت سے لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد مرتد ہوئے تو ابوبکر صدیق (رض) نے ان کو پھر مسلمان کیا اور بعضوں کو مارا۔ “ (موضح) 2 عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ (جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو) ابوبکر صدیق (رض) اپنے گھر سے، جو ” اَلسُّنْح “ میں تھا، گھوڑے پر تشریف لائے، وہ گھوڑے سے اتر کر مسجد میں آگئے، لوگوں سے انھوں نے کوئی بات نہ کی، بلکہ سیدھے عائشہ (r) کے ہاں چلے گئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قصد کیا، اس وقت آپ یمنی دھاری دار چادر سے ڈھانپے ہوئے تھے۔ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے سے کپڑا ہٹایا، پھر آپ پر جھک کر آپ کو بوسہ دیا، پھر رو پڑے اور کہنے لگے : ” میرے ماں باپ آپ پر قربان ! اے اللہ کے نبی ! اللہ آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا، جو موت آپ پر لکھی گئی تھی، وہ آپ فوت ہوچکے۔ “ (بخاری) ابو سلمہ کہتے ہیں، مجھے ابن عباس (رض) نے بتایا کہ ابوبکر (رض) نکلے، عمر (رض) لوگوں سے باتیں کر رہے تھے، تو فرمایا : ” بیٹھ جاؤ۔ “ انھوں نے نہ مانا، پھر فرمایا : ” بیٹھ جاؤ۔ “ وہ پھر بھی نہ مانے تو ابوبکر (رض) نے خطبہ پڑھا، اب لوگ ان کی طرف متوجہ ہوگئے اور عمر (رض) کو چھوڑ دیا۔ ابوبکر (رض) نے فرمایا : ” اما بعد ! تم میں سے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کرتا تھا تو بیشک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو بیشک اللہ زندہ ہے، کبھی فوت نہیں ہوگا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ( وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۭ ) یہ مکمل آیت تلاوت کی۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : ” اللہ کی قسم ! ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ لوگ جانتے ہی نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے، یہاں تک کہ ابوبکر صدیق (رض) نے یہ آیت پڑھی تو لوگوں نے اسے ان سے لے لیا تو جسے سنو یہی آیت پڑھ رہا تھا۔ “ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے فرمایا : ” اللہ کی قسم ! میں نے ابوبکر (رض) سے جب اس آیت کی تلاوت سنی تو میں کھڑے کا کھڑا رہ گیا، میرے پاؤں مجھے اٹھا نہیں رہے تھے، یہاں تک کہ میں گرگیا۔ “ [ بخاری، المغازی، باب مرض النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ووفاتہ : ٤٤٥٢، ٤٤٥٣، ٤٤٥٤ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Related to the battle of Uhud, these verses recount events which have a particular significance of their own for several reasons. As such, the Holy Qur&an devotes four to five sections of the Surah &Al ` Imran to the sequence of victory and defeat at the battle of Uhud and to the natural points of guidance underlying these. In the first verse out of those appearing above, the warning which is rather frightening, given to the noble Companions on an act of indis¬cretion by some of them, actually settles a matter of principle. A little deliberation shows that there was a secret behind the temporary debacle suffered by the Muslims, the wounding of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، the spreading of the news that he had passed away and that some Companions lost heart because of it: that secret was nothing but that Muslims should come to understand this basic principle and become practically firm when the challenge comes. This principle of Islam was bipolar. First of all it must be fully realized that Islam gives great importance to the unique respect and love given to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، so much so that it has been made an integral part of Faith and the slightest deviation or weakness in this delicate matter has been equated with straight kufr, disbelief or infidelity. Then, at the same time, it was equally important to ensure that Muslims should not fall a prey to the same disease that afflicted the Nazarenes and Chris¬tians. They exaggerated the respect and love due to Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) by taking it to the extremes, invested him with partnership in the divinity of Allah Almighty and started to worship him. When, at the time of the temporary setback suffered by Muslims at the battle of Uhud, someone started the rumour that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had passed away, the agony that seized the noble Companions (رض) a very direct, very natural reaction indeed - is something everybody cannot experience or reckon even in its most modest measure. Only he who has the knowledge of and feeling for the supreme love and devo¬tion the noble Companions had for the prophet could come close to guessing the kind of agony and distress faced by them at that time. It really takes the full knowledge and realization of the sacrifices made by these blessed souls who, out of their unflinching devotion and love for their most dear mentor and the messenger of Allah, staked every-thing they had - money, property, children and their very lives for his sake, considering their sacrifices as the most desirable achievement of this mortal life, and proving it by their deeds. Just imagine what would have happened to these devotees of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) when this shocking news came to them, specially so when the battle was in full cry, defeat was looming large after the initial victory, Muslims were losing ground and in this heat of the moment, they come to know the passing away of someone who was the very pivot of their struggle and the symbol of all their hopes. The natural outcome of this situation was that a large group of the noble Companions (رض) started retreating from the battlefield in a state of confusion. This retreat from the battlefield was no doubt a result of fleeting confusion and in the least, without any indication of turning away from Islam. The truth of the matter was that Allah Almighty intended to mould into a group the Companions of His Messenger who were pious and angelic and who could become role models for the whole world. It was for this reason that an ordinary mistake by them was considered to be very serious. Therefore they were addressed on their retreating away from the battlefield in a fashion similar to what it would have been, had they deserted the fold of Islam. With this expressing of wrath, warning was given that all obligations of Faith, Worship and Jihad are for Allah who is Living and Eternal. Even if the news that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had been martyred on the battlefield were to be true, that would have been something which was to come to pass when appointed. Losing heart and abandoning the dictates of Faith were responses that did not behoove those in their position. Therefore, it was said: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَ‌سُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّ‌سُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ‌ اللَّـهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّـهُ الشَّاكِرِ‌ينَ ﴿١٤٤﴾ And Muhammad is but a messenger, there have been messen¬gers before him. So, if he dies or is killed. would you turn back on your heels? And whoever turns back on his heels can never harm Allah at all. And Allah shall soon reward the grateful. Here, Muslims are being warned that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . is going to leave this mortal world on one or the other day but they have to hold on to the Faith firmly after him as well, in the same measure as they did during his blessed times. From here, we also come to know that the injury caused to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) during that temporary setback and the news of his passing away on the battlefield was concealed divine arrangement through which all that could happen to the noble Companions (رض) after him was revealed during his very life-time so that any slip in their conduct of affairs could be corrected in the very words of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as a result of which it could be ensured that these ardent lovers and devotees of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) do not lose their coolness under exacting conditions, especially when this event of the passing away of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) does actually take place. This is exactly what happened later on when the noble Companions (رض) ، even the greatest among them, were overwhelmed with the severest emotional shock at the time of his passing away. At this juncture, it was Sayyidna Abu Bakr (رض) ، may Allah be pleased with him, who used the authority of Qur&anic verses such as these to explain the situation to them as a result of which all of them were able to accept the truth and control their emotions.

خلاصہ تفسیر : اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نرے رسول ہی تو ہیں (خدا تو نہیں جس پر قتل یا موت ممکن نہ ہو) آپ سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں (اسی طرح آپ بھی ایک روز گزر ہی جائیں گے) سو اگر آپ کا انتقال ہوجاوے یا آپ شہید ہوجاویں تو کیا تم لوگ (جہاد یا اسلام سے) الٹے پھر جاؤ گے (جیسا کہ اس واقعہ میں بعضے مسلمان میدان جنگ سے بھاگ پڑے تھے اور منافقین ترغیب ارتداد کی دے رہے تھے) اور جو شخص (جہاد یا اسلام سے) الٹا پھر جاوے گا تو اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہ کرے گا (بلکہ اپنا ہی کچھ کھو دے گا) اور اللہ تعالیٰ جلد ہی (نیک) عوض دے گا، حق شناس لوگوں کو (جو ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد رکھ کر اس کی اطاعت پر قائم و مستقل رہتے ہیں، اور قیامت کو ملنا جلد ہی ملنا ہے، کیونکہ قیامت روزانہ قریب ہی ہو رہی ہے) اور (نیز کسی کے مرنے سے اتنا گھبرانا بھی فضول ہے، کیونکہ اول تو) کسی شخص کو موت آنا ممکن نہیں (خواہ طبعا خواہ عقلا) بدون حکم خدا کے (پھر جب خدا کے حکم سے ہے تو اس پر راضی رہنا ضرور ہے، دوسرے یہ کہ جس کی موت آتی بھی ہے تو) اس طور سے کہ اس کی میعاد معین لکھی ہوئی رہتی ہے (جس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی، تو پھر ارمان اور حسرت محض بیکار ہے، تو وہ وقت پر ضرور ہوگی، اور وقت سے پہلے ہرگز نہ ہوگی) اور (پھر یہ کہ اس توحش پر بھاگنے کا آخر نتیجہ کیا، بجز اس کے کہ دنیا میں اور چند روز زندہ رہیں، سو ایسی تدبیر کا اثر سن لو کہ) جو شخص (اپنے اعمال و تدابیر میں) دنیوی نتیجہ چاہتا ہے تو ہم اس کو دنیا کا حصہ (بشرط اپنی مشیت کے) دیدیتے ہیں (اور آخرت میں اس کے لئے کچھ حصہ نہیں) اور جو شخص (اپنے اعمال و تدابیر میں) اخروی نتیجہ چاہتا ہے (مثلا جہاد میں اس لئے ثابت قدم رہا کہ یہ تدبیر ہے ثواب آخرت کی) تو ہم اس کو آخرت کا (حصہ اور ذمہ کر کے) دیں گے، اور بہت جلد (نیک) عوض دیں گے (ایسے) حق شناسوں کو (جو اپنے اعمال میں آخرت کی نعمت چاہیں) ۔ معارف و مسائل : یہ آیات بھی غزوہ احد کے واقعات سے متعلق ہیں، کیونکہ ان واقعات کو کئی وجوہ سے خاص اہمیت حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے سورة آل عمران کے چار پانچ رکوع تک غزوہ احد میں پیش آنے والی فتح و شکست اور ان دونوں میں جو قدرتی ہدایات پوشیدہ تھیں ان کا بیان مسلسل فرمایا ہے۔ مذکورہ آیتوں میں سے پہلی آیت میں بعض صحابہ کرام کی ایک لغزش پر تہدید آمیز تنبیہ کر کے ایک ایسے اصولی مسئلہ کی طرف ہدایت کی گئ ہے کہ سوچنے والوں کو اس سے یہ بھی پتہ لگ جاتا ہے کہ اس عارضی شکست اور اس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زخمی ہونے اور حضور کی وفات کی خبر پھیل جانے کی اور اس پر بعض صحابہ کی ہمت پست ہوجانے میں یہ راز بھی تھا کہ مسلمان اس اصولی مسئلہ پر عملی طور پر پختہ ہوجائیں، وہ مسئلہ یہ تھا کہ جہاں اصول اسلام میں اس کی بری اہمیت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت و محبت کو جزو ایمان قرار دیا گیا ہے، اس میں ادنی کمزوری کو کفر کے مرادف بتلایا گیا ہے، وہیں یہ بات بھی اتنی ہی اہم تھی کہ کہیں مسلمان اس مرض کا شکار نہ ہوجائیں جس میں نصاری اور عیسائی مبتلا ہوگئے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عظمت و محبت کو پرستش اور عبادت کی حد تک پہنچا دیا، اور ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک خدائی ٹھہرا لیا۔ غزوہ احد کی عارضی شکست کے وقت جب کسی نے یہ مشہور کردیا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو صحابہ کرام پر جو کچھ گزری اور گزرنی چاہئے تھی اس کا ادنی سا اندازہ کرنا بھی ہر شخص کے لئے آسان نہیں، اس کا اندازہ کچھ وہی لگا سکتا ہے جس کو صحابہ کرام کی جاں نثاری اور عشق رسول کا کچھ اندازہ ہو، جس کو یہ پوری طرح معلوم ہو کہ یہ وہ حضرات ہیں جنہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت میں مال، اولاد اور اپنی جانیں اور سب کچھ گنوا دینے کو دنیا کی سب سے بڑی سعادت سمجھی اور عمل سے اس کا ثبوت دیا ہے۔ ان عشاق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کانوں میں جب یہ خبر پری ہوگی ان کے ہوش و حواس کا کیا عالم ہوگا خصوصا جب کہ میدان جنگ گرم ہے، اور فتح کے بعد شکست کا منظر آنکھوں کے سامنے ہے، مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ رہے ہیں، اس عالم میں وہ ہستی جو ساری کوششوں کا محور اور ساری امیدوں کا مظہر تھی، وہ بھی ان سے رخصت ہوتی ہے، اس کا طبعی نتیجہ یہ تھا کہ صحابہ کرام کی ایک بھاری جماعت سراسیمہ ہو کر میدان جنگ سے ہٹنے لگی، یہ میدان جہاد سے ہٹ جانا اگرچہ ہنگامی اور سرسری اور وقتی سراسیمگی کا نتیجہ تھا، خدانخواستہ اسلام سے پھرجانے کا کوئی شبہ یا وسوسہ بھی نہ تھا، لیکن حق تعالیٰ تو اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کو ایک ایسی پاکباز فرشتہ خصلت جماعت بنانا چاہتا ہے جو دنیا کے لئے نمونہ عمل بنے، اس لئے ان کی ادنی لغزش بھی سخت قرار دی گئی۔ نزدیکاں رابیش بود حیرانی ان کے لئے میدان جنگ چھوڑنے پر ایسا خطاب کیا گیا جیسے اسلام چھوڑنے پر کیا جاتا ہے، اور سخت عتاب کے ساتھ اس بنیادی مسئلہ پر تنبیہ کی گئی کہ دین و عبادت اللہ کے لئے اور جہاد اسی کے لئے ہیں، جو ہمیشہ زندہ اور قائم ہے، اگر بالفرض یہ خبر صحیح بھی ہوتی کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو بہرحال یہ تو ایک دن ہونا ہی ہے اس پر ہمت ہار بیٹھنا اور دین کا کام چھوڑ دینا ان حضرات کے شایان شان نہیں۔ اس لیے ارشاد فرمایا : (وما محمد الا رسول) یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک رسول ہی تو ہیں۔ (خدا تو نہیں) آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں، اگر آپ کی وفات ہوجائے یا آپ کو شہید کردیا جائے تو کیا تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے، اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرجائے گا، وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا اور اللہ تعالیٰ ثواب دے گا شکر گزاروں کو۔ اس میں تنبیہ فرمادی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ایک نہ ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں، آپ کے بعد بھی مسلمانوں کو دین پر ثابت قدم رہنا ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اس عارضی شکست کے وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مجروح ہونے اور وفات کی خبر مشہور ہونے میں یہ قدرتی راز تھا کہ آپ کے بعد جو حالات صحابہ کرام پر پیش آسکتے تھے وہ آپ کی دنیوی حیات ہی میں ظاہر کردیئے گئے تاکہ ان میں جو لغزش ہو اس کی اصلاح خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے ہوجائے، اور آئندہ جب یہ واقعہ وفات سچ مچ پیش آئے تو یہ عشاق رسول از جار فتہ نہ ہوجائیں، چناچہ یہی ہوا آپ کی وفات کے وقت جب بڑے بڑے صحابہ کرام کے ہوش و حواس بجا نہ تھے، تو حضرت صدیق اکبر (رض) نے اسی قسم کی آیات قرآنیہ کی سند لے کر ان کو سمجھایا، اور وہ سب سنبھل گئے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ۝ ٠ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ۝ ٠ ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓى اَعْقَابِكُمْ۝ ٠ ۭ وَمَنْ يَّنْقَلِبْ عَلٰي عَقِبَيْہِ فَلَنْ يَّضُرَّ اللہَ شَـيْـــًٔـا۝ ٠ ۭ وَسَيَجْزِي اللہُ الشّٰكِرِيْنَ۝ ١٤٤ حمد الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود : إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ :إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] ، يصحّ أن يكون في معنی المحمود، وأن يكون في معنی الحامد، وحُمَادَاكَ أن تفعل کذا «3» ، أي : غایتک المحمودة، وقوله عزّ وجل : وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ [ الصف/ 6] ، فأحمد إشارة إلى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم باسمه وفعله، تنبيها أنه كما وجد اسمه أحمد يوجد وهو محمود في أخلاقه وأحواله، وخصّ لفظة أحمد فيما بشّر به عيسى صلّى اللہ عليه وسلم تنبيها أنه أحمد منه ومن الذین قبله، وقوله تعالی: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ [ الفتح/ 29] ، فمحمد هاهنا وإن کان من وجه اسما له علما۔ ففيه إشارة إلى وصفه بذلک وتخصیصه بمعناه كما مضی ذلک في قوله تعالی: إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ اسْمُهُ يَحْيى [ مریم/ 7] ، أنه علی معنی الحیاة كما بيّن في بابه «4» إن شاء اللہ . ( ح م د ) الحمدللہ ( تعالیٰ ) کے معنی اللہ تعالے کی فضیلت کے ساتھ اس کی ثنا بیان کرنے کے ہیں ۔ یہ مدح سے خاص اور شکر سے عام ہے کیونکہ مدح ان افعال پر بھی ہوتی ہے جو انسان سے اختیاری طور پر سرزد ہوتے ہیں اور ان اوصاف پر بھی جو پیدا کشی طور پر اس میں پائے جاتے ہیں چناچہ جس طرح خرچ کرنے اور علم وسخا پر انسان کی مدح ہوتی ہے اس طرح اسکی درازی قدو قامت اور چہرہ کی خوبصورتی پر بھی تعریف کی جاتی ہے ۔ لیکن حمد صرف افعال اختیار یہ پر ہوتی ہے ۔ نہ کہ اوصاف اضطرار ہپ پر اور شکر تو صرف کسی کے احسان کی وجہ سے اس کی تعریف کو کہتے ہیں ۔ لہذا ہر شکر حمد ہے ۔ مگر ہر شکر نہیں ہے اور ہر حمد مدح ہے مگر ہر مدح حمد نہیں ہے ۔ اور جس کی تعریف کی جائے اسے محمود کہا جاتا ہے ۔ مگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف اسی کو کہہ سکتے ہیں جو کثرت قابل ستائش خصلتیں رکھتا ہو نیز جب کوئی شخص محمود ثابت ہو تو اسے بھی محمود کہہ دیتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے ۔ میں حمید بمعنی محمود بھی ہوسکتا ہے اور حامد بھی حماد اک ان تفعل کذا یعنی ایسا کرنے میں تمہارا انجام بخیر ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ [ الصف/ 6] اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا ان کی بشارت سناتاہوں ۔ میں لفظ احمد سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کی طرف اشارہ ہے اور اس میں تنبیہ ہے کہ جس طرح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام احمد ہوگا اسی طرح آپ اپنے اخلاق واطوار کے اعتبار سے بھی محمود ہوں گے اور عیٰسی (علیہ السلام) کا اپنی بشارت میں لفظ احمد ( صیغہ تفضیل ) بولنے سے اس بات پر تنبیہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کے بیشتر وجملہ انبیاء سے افضل ہیں اور آیت کریمہ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ [ الفتح/ 29] محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا کے پیغمبر ہیں ۔ میں لفظ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گومن وجہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام ہے لیکن اس میں آنجناب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف حمیدہ کی طرف بھی اشاره پایا جاتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ : إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ اسْمُهُ يَحْيى [ مریم/ 7] میں بیان ہوچکا ہے کہ ان کا یہ نام معنی حیات پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ اس کے مقام پر مذ کور ہے ۔ رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس خلا الخلاء : المکان الذي لا ساتر فيه من بناء ومساکن وغیرهما، والخلوّ يستعمل في الزمان والمکان، لکن لما تصوّر في الزمان المضيّ فسّر أهل اللغة : خلا الزمان، بقولهم : مضی الزمان وذهب، قال تعالی: وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدخَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ [ آل عمران/ 144] ( خ ل و ) الخلاء ۔ خالی جگہ جہاں عمارت و مکان وغیرہ نہ ہو اور الخلو کا لفظ زمان و مکان دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ چونکہ زمانہ میں مضی ( گذرنا ) کا مفہوم پایا جاتا ہے اس لئے اہل لغت خلاالزفان کے معنی زمانہ گزر گیا کرلیتے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) تو صرف ( خدا کے ) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہوگزرے ہیں ۔ موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا [ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] . الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة . نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] . الرابع : الحزن المکدِّر للحیاة، وإيّاه قصد بقوله : وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَ بِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] . الخامس : المنامُ ، فقیل : النّوم مَوْتٌ خفیف، والموت نوم ثقیل، وعلی هذا النحو سمّاهما اللہ تعالیٰ توفِّيا . فقال : وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] ( م و ت ) الموت یہ حیات کی ضد ہے لہذا حیات کی طرح موت کی بھی کئی قسمیں ہیں ۔ اول قوت نامیہ ( جو کہ انسان حیوانات اور نباتات ( سب میں پائی جاتی ہے ) کے زوال کو موت کہتے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] اور اس پانی سے ہم نے شہر مردہ یعنی زمین افتادہ کو زندہ کیا ۔ دوم حس و شعور کے زائل ہوجانے کو موت کہتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا[ مریم/ 23] کاش میں اس سے پہلے مر چکتی ۔ أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا ۔ سوم ۔ قوت عاقلہ کا زائل ہوجانا اور اسی کا نام جہالت ہے چناچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو بات نہیں سنا سکتے ۔ چہارم ۔ غم جو زندگی کے چشمہ صافی کو مکدر کردیتا ہے چنانچہ آیت کریمہ : ۔ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَبِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی ۔ مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا ۔ میں موت سے یہی معنی مراد ہیں ۔ پنجم ۔ موت بمعنی نیند ہوتا ہے اسی لئے کسی نے کہا ہے کہ النوم موت خفیف والموت نوم ثقیل کہ نیند کا نام ہے اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو توفی سے تعبیر فرمایا ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو ارت کو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے انقلاب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، والِانْقِلابُ : الانصراف، قال : انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] ، وقال : إِنَّا إِلى رَبِّنا مُنْقَلِبُونَ [ الأعراف/ 125] ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں الانقلاب کے معنی پھرجانے کے ہیں ارشاد ہے ۔ انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ ( یعنی مرتد ہوجاؤ ) وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا ۔إِنَّا إِلى رَبِّنا مُنْقَلِبُونَ [ الأعراف/ 125] ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔ عقب العَقِبُ : مؤخّر الرّجل، وقیل : عَقْبٌ ، وجمعه : أعقاب، وروي : «ويل للأعقاب من النّار» واستعیر العَقِبُ للولد وولد الولد . قال تعالی: وَجَعَلَها كَلِمَةً باقِيَةً فِي عَقِبِهِ [ الزخرف/ 28] ، وعَقِبِ الشّهر، من قولهم : جاء في عقب الشّهر، أي : آخره، وجاء في عَقِبِه : إذا بقیت منه بقيّة، ورجع علی عَقِبِه : إذا انثنی راجعا، وانقلب علی عقبيه، نحو رجع علی حافرته ونحو : فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] ، وقولهم : رجع عوده علی بدئه قال : وَنُرَدُّ عَلى أَعْقابِنا [ الأنعام/ 71] ، انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ [ آل عمران/ 144] ، وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] ، ونَكَصَ عَلى عَقِبَيْهِ [ الأنفال/ 48] ، فَكُنْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ تَنْكِصُونَ [ المؤمنون/ 66] ( ع ق ب ) ب والعقب پاؤں کا پچھلا حصہ یعنی ایڑی اس کی جمع اعقاب ہے حدیث میں ہے ویلمَةً باقِيَةً فِي عَقِبِهِ [ الزخرف/ 28] وضو میں خشک رہنے والی ایڑیوں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے اور بطور استعارہ عقب کا لفظ بیٹے پوتے پر بھی بولا جاتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے ۔ اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے ۔ جاء فی عقب الشھر مہنے کے آخری دنوں میں آیا ۔ رجع علٰی عقیبہ الٹے پاؤں واپس لوٹا ۔ انقلب علٰی عقیبہ وہ الٹے پاؤں واپس لوٹا جیسے : ۔ رجع علٰی ھافرتہ کا محاورہ ہے اور جیسا کہ قرآن میں ہے : فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے لوٹ گئے ۔ نیز کہا جاتا ہے ۔ رجع عودہ علٰی بدئہ یعنی جس راستہ پر گیا تھا اسی راستہ سے واپس لوٹ ایا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَنُرَدُّ عَلى أَعْقابِنا [ الأنعام/ 71] تو کیا ہم الٹے پاؤں پھرجائیں ۔ انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ [ آل عمران/ 144] تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ ( یعنی مرتد ہوجاؤ ) اور جو الٹے پاؤں پھر جائیگا ۔ ونَكَصَ عَلى عَقِبَيْهِ [ الأنفال/ 48] تو پسپا ہوکر چل دیا ۔ فَكُنْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ تَنْكِصُونَ [ المؤمنون/ 66] اور تم الٹے پاؤں پھر پھرجاتے تھے ۔ عقبہ وہ اس کے پیچھے پیچھے چلا اس کا جانشین ہوا جیسا کہ دبرہ اقفاہ کا محاورہ ہے ۔ ضر الضُّرُّ : سوءُ الحال، إمّا في نفسه لقلّة العلم والفضل والعفّة، وإمّا في بدنه لعدم جارحة ونقص، وإمّا في حالة ظاهرة من قلّة مال وجاه، وقوله : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] ، فهو محتمل لثلاثتها، ( ض ر ر) الضر کے معنی بدحالی کے ہیں خواہ اس کا تعلق انسان کے نفس سے ہو جیسے علم وفضل اور عفت کی کمی اور خواہ بدن سے ہو جیسے کسی عضو کا ناقص ہونا یا قلت مال وجاہ کے سبب ظاہری حالت کا برا ہونا ۔ اور آیت کریمہ : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] اور جوان کو تکلیف تھی وہ دورکردی ۔ میں لفظ ضر سے تینوں معنی مراد ہوسکتے ہیں جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ جو کافی ہو جیسے خیر کا بدلہ خیر سے اور شر کا بدلہ شر سے دیا جائے ۔ کہا جاتا ہے ۔ جزیتہ کذا بکذا میں نے فلاں کو اس ک عمل کا ایسا بدلہ دیا قرآن میں ہے :۔ وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، اور یہ آں شخص کا بدلہ ہے چو پاک ہوا ۔ جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ جو کافی ہو جیسے خیر کا بدلہ خیر سے اور شر کا بدلہ شر سے دیا جائے ۔ کہا جاتا ہے ۔ جزیتہ کذا بکذا میں نے فلاں کو اس ک عمل کا ایسا بدلہ دیا قرآن میں ہے :۔ وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، اور یہ آں شخص کا بدلہ ہے چو پاک ہوا ۔ شكر الشُّكْرُ : تصوّر النّعمة وإظهارها، قيل : وهو مقلوب عن الکشر، أي : الکشف، ويضادّه الکفر، وهو : نسیان النّعمة وسترها۔ والشُّكْرُ ثلاثة أضرب : شُكْرُ القلب، وهو تصوّر النّعمة . وشُكْرُ اللّسان، وهو الثّناء علی المنعم . وشُكْرُ سائر الجوارح، وهو مکافأة النّعمة بقدر استحقاقه . وقوله تعالی: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] ، ( ش ک ر ) الشکر کے معنی کسی نعمت کا تصور اور اس کے اظہار کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ کشر سے مقلوب ہے جس کے معنی کشف یعنی کھولنا کے ہیں ۔ شکر کی ضد کفر ہے ۔ جس کے معنی نعمت کو بھلا دینے اور اسے چھپا رکھنے کے ہیں شکر تین قسم پر ہے شکر قلبی یعنی نعمت کا تصور کرنا شکر لسانی یعنی زبان سے منعم کی تعریف کرنا شکر بالجوارح یعنی بقدر استحقاق نعمت کی مکافات کرنا ۔ اور آیت کریمہ : اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] اسے داود کی آل میرا شکر کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٤٤) صحابہ کرام (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کے دن ہمیں یہ اطلاع ملی کہ خدانخواستہ آپ شہید کردیے گئے آپکی جدائی کے عظیم صدمہ و پریشانی سے وقتی طور پر ہم حوصلہ چھوڑ گئے اور ظاہرا ہمیں شکست ہوگئی، اللہ تعالیٰ اس چیز کا تذکرہ فرما رہے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں، اسی طرح اگر آپ انتقال فرما جائیں یا شہید کردیے جائیں تو کیا تم اپنے پہلے والے دین کی طرف لوٹ جاؤ گے اور جو شخص اپنے سابقہ دین کی طرف پھرجائے گا تو اس کا یہ لوٹنا اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا، اللہ تعالیٰ مومنین کو ان کے ایمان اور جہاد کے عوض جلد ہی نیک بدلہ دے گا۔ شان نزول : (آیت) ” وما محمد الا رسول “۔ (الخ) ابن منذر (رح) نے حضرت عمر فاروق (رض) سے روایت کیا ہے کہ احد کے دن ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے علیحدہ ہوگئے میں اچانک پہاڑ پر چڑھا، ایک یہودی سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید کردیے گئے، میں نے یہ عزم کیا کہ جس کسی کو بھی یہ کہتے ہوئے سنوں گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید کردیے گئے تو اس کی گردن اڑا دوں گا، اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) تشریف لارہے ہیں اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (آیت) ” وما محمد الا رسول “۔ (الخ ) اور ابن ابی حاتم (رح) نے ربیع سے روایت کیا ہے کہ غزوہ احد میں جب مسلمان شہید اور زخمی ہوئے تو انہوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاش شروع کی تو کچھ بدبخت بولے کہ آپ شہید کردیے گئے، اس پر کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی شہید نہیں کرسکتا اور بعض لوگوں نے کہا کہ جس چیز پر تمہارے نبی نے جہاد کیا، اسی پر تم جہاد کرو یہاں تک کہ تمہیں فتح حاصل ہو یا یہ کہ تم شہید ہوجاؤ، اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ، اور بیہقی (رح) نے دلائل میں ابو نجیح سے روایت کیا ہے کہ مہاجرین میں سے ایک شخص ایک انصاری کے پاس سے گزرا اور وہ اپنے بدن سے خون صاف کررہے تھے، مہاجر کہنے لگا کہ تمہیں معلوم ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید کردیے گئے، انصاری نے کہا کہ اگر ایسا ہی ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو اپنے مقام اصلی پر پہنچ گئے تم اپنے دین کی حمایت میں لڑتے رہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ابن راہویہ نے مسند میں زہری سے روایت کیا کہ شیطان نے احد کے دن بلند آواز سے چیخ ماری کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید کردیے گئے، کعب بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے میدان جنگ میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دور پہچانا، میں نے آپ کی آنکھوں کو خود نیچے سے دیکھا، دیکھتے ہی خوشی ومسرت میں بلند آواز کے ساتھ میں نے پکارا کہ اے صحابہ کرام (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤٤ (وَمَا مُحَمَّدٌ الاَّ رَسُوْلٌ ج) غزوۂ احد کے دوران جب یہ افواہ اڑ گئی کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوگیا ہے تو بعض لوگ بہت دل گرفتہ ہوگئے کہ اب کس لیے جنگ کرنی ہے ؟ حضرت عمر (رض) بھی ان میں سے تھے۔ آپ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کی خبر سن کر تلوار پھینک دی اور دل برداشتہ ہو کر بیٹھ گئے کہ اب ہم نے جنگ کر کے کیا لینا ہے ! یہاں اس طرز عمل پر گرفت ہورہی ہے کہ تمہارا یہ رویہ غلط تھا۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ‘ وہ معبود تو نہیں ہیں۔ تم ان کے لیے جہاد نہیں کر رہے ‘ بلکہ اللہ کے لیے کر رہے ہو ‘ اللہ کے دین کے غلبے کے لیے اپنے جان و مال قربان کر رہے ہو۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو اللہ کے رسول ہیں۔ (قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ط) (اَفَاءِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَآٰی اَعْقَابِکُمْ ط) کیا اس صورت میں تم الٹے پاؤں راہ حق سے پھر جاؤ گے ؟ کیا یہی تمہارے دین اور ایمان کی حقیقت ہے ؟ (وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْءًا ط ) (وَسَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ ) حضرت عمر (رض) چونکہ جذباتی انسان تھے لہٰذا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کی خبر سن کر حوصلہ چھوڑ گئے۔ آپ (رض) ‘ کی تقریباً یہی کیفیت پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انتقال پر ہوگئی تھی۔ آپ (رض) ‘ تلوار سونت کر بیٹھ گئے تھے کہ جو کہے گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوگیا ہے میں اس کا سر اڑا دوں گا۔ حضرت ابوبکر (رض) ثانئ اسلام و غار وبدر و قبر اس وقت مدینہ کے مضافات میں تھے۔ آپ (رض) ‘ آتے ہی سیدھے اپنی بیٹی حضرت عائشہ (رض) کے حجرے میں گئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرۂ مبارک پر چادر تھی ‘ آپ (رض) نے چادر ہٹائی اور جھک کر آنحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیشانی کو بوسہ دیا اور رو دیے۔ پھر کہا : اے اللہ کے رسول ‘ میرے ماں باپ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان ! اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا۔ یعنی اب دوبارہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر موت وارد نہیں ہوگی ‘ اب تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ کو حیات جاودانی حاصل ہوچکی ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) باہر آئے اور لوگوں سے خطاب شروع کیا تو حضرت عمر (رض) بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا : مَنْ کَانَ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَاِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ ‘ وَمَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ حَیٌّ لاَ یَمُوْتُجو کوئی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوچکا ہے ‘ اور جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا اسے معلوم ہو کہ اللہ تو زندہ ہے ‘ جسے موت نہیں آئے گی۔ اس کے بعد آپ (رض) نے یہ آیت تلاوت فرمائی : (وَمَا مُحَمَّدٌ الاَّ رَسُوْلٌج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُط اَفَاءِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَآٰی اَعْقَابِکُمْط وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْءًاط وَسَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ ) حضرت ابوبکر (رض) کی زبانی یہ آیت سن کر لوگوں کو ایسے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے یہ آیت اسی وقت نازل ہوئی ہو۔ (١)

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

103. When the rumour of the Prophet's martyrdom spread during the battle, it disheartened most of the Companions. The hypocrites who were in the Muslim camp began to advise the believers to approach 'Abd Allah b. Ubayy so that he might secure protection for them from Abu Sufyan. Some went so far as to say that had Muhammad really been the Messenger of God he would not have been put to death, and for that reason they counselled people to revert to their ancestral faith. It is in this context that the Muslims are now told that if their devotion to the truth is wholly bound up with the person of Muhammad (peace be on him), and if their submission to God is so lukewarm that his demise would cause them to plunge back into the disbelief they had cast off, then they should bear in mind the fact that Islam does not need them.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :103 جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر مشہور ہوئی تو اکثر صحابہ کی ہمتیں چھوٹ گئیں ۔ اس حالت میں منافقین نے ( جو مسلمانوں کے ساتھ ہی لگے ہوئے تھے ) کہنا شروع کیا کہ چلو عبداللہ بن ابی کے پاس چلیں تاکہ وہ ہمارے لیے ابوسفیان سے امان لے دے ۔ اور بعض نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے رسول ہوتے تو قتل کیسے ہوتے ، چلو اب دین آبائی کی طرف لوٹ چلیں ۔ انہی باتوں کے جواب میں ارشاد ہو رہا ہے کہ اگر تمہاری ” حق پرستی“ محض محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت سے وابستہ ہے اور تمہارا اسلام ایسا سست بنیاد ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہوتے ہی تم اسی کفر کی طرف پلٹ جاؤ گے جس سے نکل کر آئے تھے تو اللہ کے دین کو تمہاری ضرورت نہیں ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(144 ۔ 148) ۔ بیہقی نے دلائل النبوۃ میں اور ابن نذر اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر اور اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں جو کچھ اس آیت کے شان نزول بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب احد کی لڑائی میں شیطان نے یہ افواہ اڑا دی کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید ہوگئے تو مسلمانوں میں طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں کچھ لوگ تو یہ کہتے تھے کہہ اگر آپ نبی ہوتے تو زندہ رہتے۔ اور کچھ لوگ یہ کہتے تھے کہ دین تو اللہ کا ہے اگر آپ شہید بھی ہوگئے تو جس دین کے واسطے آپ لڑتے تھے ہم کو بھی ضرور لڑنا چاہیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ١۔ اس شان نزول کی روایت کے چند طریقے ہیں اس لئے ایک کو دوسرے سے قوت ہوجاتی ہے۔ حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ پہلے زمانہ میں انبیاء اور انکے ساتھ کے لوگ لڑے اور امت کے لوگوں کے سامنے بعض نبی شہید بھی ہوگئے۔ لیکن وہ لوگ اسی طرح ثابت قدم رہے جس طرح اپنے نبی کے روبرو تھے اسی طرح تم کو بھی چاہیے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:144) افائن۔ أ استفہامیہ ف زائد۔ ان اگر نہیں۔ تاکید و تحقیق۔ ان کی چار صورتیں ہیں : (1) ان۔ شرطیہ۔ ان تعذبھم فانھم عبادک (5:118) اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ ریتے بندے ہیں۔ ان ینتھوا یغفرلہم ما قد سلف (8:38) اگر وہ باز آجائیں تو معاف ہو ان کو جو کچھ ہوچکا۔ (2) ان مخففہ۔ جو ان ثقیلہ سے مخفف ہوکر ان بن گیا۔ یہ تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے اس کے بعد لام مفتوح کا آنا لازمی ہے جیسے ان کان اصحب الایکۃ لظالمین ۔ (15:78) بلاشبہ اصحاب الایکہ ظالم تھے۔ ان کاد لیضلنا عن الھتنا (25:42) تو ضرور یہ ہم کو ہمارے معبودوں سے بہکا دیتا۔ (3) ان نافیہ۔ یہ جملہ اسمیہ پر بھی آتا ہے اور جملہ فعلیہ پر بھی۔ ان یتبعون الا الظن (جملہ فعلیہ) وان ھم الا یخرصون (جملہ اسمیہ) (6:116) سو یہ کچھ نہیں مگر پیچھے پڑے اپنے خیال کے اور کچھ نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔ یا ان نظن الا ظنا (45:32) ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں اور ان ھذا الاقول البشر (74:25) یہ خدا کا کلام نہیں بلکہ بشر کا کلام ہے۔ اس کے بعد اکثر الا ولما آتا ہے مگر ہر جگہ ضروری نہیں۔ مثلاً ان عندکم من سلطان بھذا تمہارے پاس اس کی کوئی سند نہیں ہے۔ (4) ان موکدہ جو زائد ہوتا ہے اور ما نافیہ کی تاکید میں آتا ہے۔ مثلاً ولقد مکنکم فیما ان مکنکم فیہ (46:26) اور ہم نے ان کو مقدور دیا تھا ان چیزوں کا جن کا تم کو مقدور نہیں دیا۔ لیکن یہاں ان نافیہ بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں ما نافیہ نہ ہوگا بلکہ ما بیانیہ ہوگا۔ یا جیسے کہتے ہیں ما ان یخرج زبد زید باہر نہیں نکلے گا۔ انقلبتم علی اعقابکم۔ انقلب ینقلب انقلاب الٹ جانا۔ پھرجانا۔ لوٹ جانا۔ اعقاب۔ عقب کی جمع۔ ایڑیاں۔ انقلب علی عقبیہ۔ وہ الٹے پاؤں واپس لوٹا وہ الٹے پاؤں پھر گیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 جن گا احد میں بعض صحابہ (رض) نے تو مرتبہ شہادت حاصل کیا اور بعض میدان چھوڑ کر فرار ہونے گلے آنحضر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی زخمی ہوگئے او کسی شیطان نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت کی افواہ پھیلا دی صحابہ (رض) اس افواہ سے انتہائی شکستہ خاطر ہوگئے اور ہمت ہار بیٹھے اور منافقین نے طعن طنز کے نشتر حپھبو نے شروح کردیئے کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے رسول ہوتے تو قتل کیوں ہوتے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ کیا پیغمبر کے قتل ہونے یا طبعی موت مرجانے سے اللہ تعالیٰ کا دین چھوڑ بیٹھو گے ؟ تمہیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے رہو (ابن کثیر قرطبی) شاہ صاحب لکھتے ہیں اور اشارات نکلتی ہے کہ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات پر بعض لوگ پھر جاویں گے۔ اسی طرح ہوا کہ بہت سے لوگ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد مرتد ہوئے اور حضرت صدیق (رض) نے ان کے پھر مسلمان کیا اور بعض کو مارا۔ (مو ضح) احادیث میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہو یہ تو حضرت عمر (رض) اپنا ذہنی توازن بر قرار نہ رکھ سکتے اور لوگوں سے خطاب کیا کہ جو شخص یہ کہے گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوگیا ہے اس کا سر تلوار سے قلم کر دوں گا۔ اتنے میں حضرت صدیق (رض) اکبر تشریف لے آئے اور تقریر فرمائی کہ جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پرستش کرتا تھا اسے جان لینا چاہیے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی پرستش کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس کے آپ (رض) یہ آیت تلاوت فرمائی تو لوگوں کو ایسا محسوس ہوا کہ اس موقعہ کے لئے ہی یہ آیت اتری ہے۔ (ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 144 148 اسرارو معارف وما محمد الارسول………………وسنجزی الشکرین۔ نیز محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہی تو ہیں اللہ کے کسی بھی وصف ہیں شریک نہیں کہ صفات الوہیت کے حامل ہوں بلکہ ان سے قبل بھی بہت سے اللہ کے رسول گزر چکے ہیں کہ رسول دنیا میں اللہ کا پیغام بندوں تک لاتے ہیں اور اپنا فریضہ ادا فرما کر قانون قدرت کے مطابق اس دارفانی سے گزر جاتے ہیں۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوجائے یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید ہوجائیں تو آپ کا پیغام اور آپ کا لایا ہوا دین تو چھوڑ نہ دیا جائے گا۔ بلکہ اس پر عمل بدستور جاری رہے گا اور فیوضات وبرکات مرتب ہوتے رہیں گے یہ تو درست نہیں کہ پیغمبر کی موت کے بعد اس کا اتباع ترک کردیا جائے تو کیا تم صرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دنیاوی زندگی کے عرصے میں ہی اتباع کرو گے اور آپ کی وفات اگر واقع ہوجائے جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے ہوتا آیا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی یقینا موت وارد ہوگی تو تم الٹے پھر جائو گے ؟ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دنیا سے چلا جانا آپ کی برکات کو ختم کردے گا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اتباع چھوڑ دو گے ؟ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رخ انور رخمی ہوا اور مسلمانوں کا لشکر نہایت ابتری کی حالت میں لڑرہا تھا کسی نے آواز لگائی ، ” محمد قتل ہوگئے ! “ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مفسرین لکھتے ہیں کہ آواز لگانے والا ابلیس تھا۔ اکثر اکابر صحابہ (رض) شہید ہوچکے تھے۔ باقی میں سے بیشتر زخموں سے چور تھے میدان میں افراتفری کا عالم تھا کہ یہ آواز بجلی بن کر گری جس کے مختلف حضرات پر مختلف اثرات مرتب ہوئے بعض نے تو یہ سن کر کہا اب زندگی کس کام کی بےجگری سے لڑو اور جس مقصد پہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جان دی اسی پر جان دے دو ! کچھ لوگ کا رد عمل یہ تھا کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید ہوگئے تو اب ہم کس کے لئے لڑیں ؟ بعض دوسرے لوگ مبہوت ہو کر رہ گئے اور کوئی فیصلہ نہ کر پا رہے تھے۔ کہ ایک صحابی (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچان لیا۔ اور نعرہ لگایا کہ مسلمانو ! بشارت ہو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہاں ہیں۔ اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پندرہ سولہ کے قریب جاں نثار تھے تو سب اس طرف لپکے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو محفوظ مقام پر پہنچایا اور مشرکین میدان چھوڑ گئے۔ اگرچہ محبت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی عین ایمان ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ادب تمام نیکیوں کی بنیاد۔ مگر اس کا یہ مفہوم کہ صرف محبت کی جائے اور اطاعت ترک کردی جائے بالکل صحیح نہیں۔ یہ سخت غلطی ہے ۔ محب کا تقاضا بھی محبوب کی اطاعت ہے فان المحب لمن یحب مطیع کہ محب محبوب کے تابع ہوتا ہے اور ادب کا تقاضا بھی خلوص دل کے ساتھ اطاعت ہے۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واقعیہ شہید ہوجائیں تو بھی تم جہاد کے ویسے ہی مکلف ہو اور جہاد اتنا اہم رکن ہے کہ اسے ترک کرنا ترک اسلام کے مترادف قرار دیا۔ اور فرمایا ، تم الٹے پھر جائو گے یعنی معاذ اللہ ! مرتدہوجائو گے۔ اصحاب کشف کے لئے : نیز یہاں اصحاب کشف کے لئے یہ جان لینا ضروری ہے کہ شیطان صحابہ کرام (رض) کو بہکانے کے لئے میدان احد میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے موجود ہوتے ہوئے نعرہ لگانے سے نہیں چوکا تو موجودہ دور کے لوگوں کو دھوکا دینا اس کے لئے کیا مشکل ہوگا ؟ تمام مشاہدات کی سند قول رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی ہے جو بات بھی اس سے ٹکرائے گی وہ خود پاس پاش ہوجائے گی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بہرحال ضروری ہے اور یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ موت شے عدمی نہیں ہے کہ مرنے والا معدوم ہوجائے اگر ایسا ہو تو پھر اس کی برکات بھی ختم ہوجانا چاہئیں۔ لیکن یہاں عارضی سراسیمگی پر جو اس خبر وحشت اثر کا فطری اثر تھا کس قدر سخت عتاب ہوا کہ جہاد میں ذرا سے تساہل کو دین سے پھرجانا کہا گیا۔ ایک تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت اس اعلیٰ پائے کی کرنا مقصود تھی کہ وہ دنیا کی قیادت کا حق ادا کرسکیں۔ دوسرے اتباع رسالت اور خصوصاً جہاد کی اہمیت بھی اجاگر فرمادی گئی اور ارشاد ہوا کہ اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا یعنی خود اپنی ذات کو تباہی میں گراد دے گا۔ اللہ تو شکر گزاروں کو اجر عطا فرمائیں گے۔ یہاں بھی متبعین کا شکرین کے لقب سے یاد فرمایا گیا ہے یعنی اطاعت ہی حقیقی شکر ہے اور جو لوگ جہاد میں ثابت قدم رہے پریشان ہو کر چھوڑ نہیں بیٹھے وہی شکر گزار تھے۔ امین الشا کرین : یہاں مفسرین کرام نے حضرت علی (رض) کی روایت نقل فرمائی ہے بحر محیط میں ہے کہ آپ نے فرمایا ، ابوبکر (رضی اللہ عنہ) امین الشاکرین ہیں کہ آپ کا قدم ذرا سا نہ ڈگمگایا۔ ایسے ہی تفسیر قرطبی اور روح المعانی میں امیر الشاکرین اور تفسیر کبیر میں سید الشاکرین لکھا ہے۔ امام رازی (رح) نے یہاں بڑی مزیدار بحث فرمائی کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول کس قدر صادق ہے کہ احد میں مثالی اثبات ابوبکرصدیق (رض) کا ہے تو واقعتا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوا تو بھی یہی ذات واحد تھی جو ثابت قدم رہی اور سب کو سنبھالا پھر فوراً بعد مرتدین اور مدعیان نبوت کی شورش اٹھی تو اس نے بھی صحابہ کرام (رض) کو سوچنے پہ مجبور کردیا مگر صدیق اکبر سید الشاکرین (رض) ہی وہ ہستی ہے جس نے ثابت قدم رہ کر واضح اور دو ٹوک فیصلہ فرمایا اور جہاد کرکے ان فتنوں کو نابود کردیا۔ نیز ارشاد ہوا کہ موت کا ایک معین وقت ہے اور اللہ کے مقرر کردہ وقت سے پہلے نہیں آسکتی ۔ اسی طرح جب وقت مقررہ آجائے تو ٹالی بھی نہیں جاسکتی۔ ایسے حالات میں گھبرانا یا موت کے ڈر سے جہاد میں شرکت نہ کرنا وغیرہ ہرگز مفید نہیں اور نہ ان کی ضرورت۔ بات صرف اس قدر ہے کہ اس زندگی کو جس نے حصول دنیا پہ صرف کردیا وہ صرف دنیا ہی کو پاسکا جس کا پالینا نہ پانے سے بھی زیادہ ایذارساں ہے کہ آخر چھوڑنا پڑتا ہے اور جس نے یہاں رہ کر آخرت بنانا چاہی اسے آخرت سے خطہ وافر نصیب ہوا کہ ہم ایسے ہی حق شناسوں کو ان کا اجر عطا فرمائیں گے۔ وکای من نبی قاتل معہ ربیون کثیر…………واللہ بحی المحسنین۔ قبل ازیں بھی متعدد انبیاء (علیہ السلام) نے جہاد فرمایا اور اللہ کے بندوں نے ان کی اطاعت میں جانیں قربان کیں بڑے بڑے مشکل وقت بھی ان پر پڑے مگر انہوں نے نہ ہمتیں ہاریں نہ کاہلی دکھائی اور نہ ہی لشکر کفار سے مرعوب ہوئے بلکہ ایسی شاندار قربانی کے ساتھ اور اتنے عظیم صبر کے باوجود کہ جس پر وہ اللہ کے محبوب قرار پائے وہ یہی دعا کرتے رہے کہ اے اللہ ! ہماری خطائوں سے درگزر فرما ۔ اور جو غلطیاں ہم سے سرزد ہوئی ہیں معاف کردے ہمیں ثابت قدم رکھ اور کفار کے مقابل ہماری مدد فرما اور ہمیں فتح یاب کر !۔ یعنی باجود ساری محنت کے بھی عبادات اتنی عظمت نہیں حاصل کر پاتیں جتنی عظیم اس کی بارگاہ ہے ۔ پھر بتقاضائے بشریت کئی طرح کی کمی رہ جاتی ہے۔ ساری محنت کے باوجود اللہ کے بندے اپنی عبادت پہ نازاں نہیں ہوتے۔ بلکہ اپنی کوتاہیوں کی بخشش طلب کرتے ہیں اور نصرت الٰہیہ کے خواستگار ہوتے ہیں۔ تو تم خیرالامم ہو تمہیں ان امور میں ان پر بہت سبقت حاصل ہونی چاہیے۔ اللہ ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی سر بلند رکھتا ہے اور آخرت کا بہترین اجر عطا فرماتا ہے کہ ایسے ہی صدق دل اور کامل اخلاص کے ساتھ اطاعت کرنے والوں سے اللہ کریم محبت رکھتے ہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 144 تا 148 افان (پھر اگر) مات (مرگیا (مرجاتا) انقلبتم (کیا تم پلٹ جاتے) ینقلب (پلٹ جائے گا) سیجزی (عنقریب وہ بدلہ دے گا) کتابا مؤجلا (مدت لکھی ہوئی ہے (مدت مقرر کردی گئی ہے) نؤت (ہم دیتے ہیں) کاین (کتنے ہی) ربیون (اللہ والے) ماوھنوا (نہ وہ سست ہوئے) ما استکانوا (نہ وہ تھکے) اسرافنا (ہماری زیادتی) ثبت (ثابت رکھ) حسن (بہترین) ۔ تشریح : آیت نمبر 144 تا 148 یہ آیات غزوۂ احد کے فوراً بعد 3 ھ میں اس وقت نازل ہوئیں جب کچھ صحابہ (رض) کی اجتہادی غلطی کی وجہ سے وقتی طور پر فتح شکست میں بدل گئی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دندان مبارک شہید ہوئے اور صحابہ کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے آنے لگے تھے۔ ان آیات میں سب پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے ایک رسول ہیں جن کا کام اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچانا اور لوگوں کو اللہ کا فرماں بردار بنانا ہے۔ آپ کوئی معبود نہیں ہیں کہ وفات سے دین ہی ختم ہوکر رہ جائے گا اور آپ رسول بھی نئے نہیں ہیں بلکہ آپ سے پہلے اللہ کے رسولوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ جن کی وفات کے بعد ان کے جانشیوں نے دین کے اہم کاموں کی ذمہ رادی قبول کی اور آنے والی نسلوں تک اللہ کے پیغام کو پہنچایا۔ لہٰذا آپ کا اس دنیا سے چلے جانا ایک انوکھی یا حیرت کی بات نہیں ہے ۔ اس وقت نہ سہی اگر وقت مقررہ پر آپ کی وفات ہوگئی یا آپ شہید کردیئے گئے تو کیا اے اہل ایمان تم دین کی خدمت ، نصرت ، اور حفاظت سے الٹے پاؤں پھر جاؤ گے اور اللہ کی راہ میں جہاد چھوڑ بیٹھو گے جس طرح غزوۂ احد میں کچھ مسلمانوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کی خبر سن کر حوصلہ چھوڑدیا تھا۔ اللہ نے فرمایا یادرکھو اگر تم میں سے کوئی ایسا کرے گا تو وہ خود اپناہی نقصان کرے گا وہ اللہ کا کچھ بگاڑ نہ سکے کیونکہ وہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں ہے۔ بلکہ ہر انسان اس کی امدادو اعانت کا محتاج ہے۔ ان آیات میں صحابہ کرام (رض) سے فرمایا جارہا ہے کہ اللہ کے رسول کا کام اس کا پیغام پہنچانا ہے اور پھر ان پر بھی موت کی کیفیات کو طاری کیا جاتا ہے اسی طرح رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی ایک نہ ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو دین پر ثابت قدم رہنے کا عزم کرنا چاہئے تاکہ وہ نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیغام کو قیامت تک ساری دنیا کے انسانوں تک پورے عزم اور ذوق وشوق سے پہنچا سکیں۔ کیونکہ ان نبیوں کا سلسلہ تو ختم ہوچکا ہے لہٰذا اب امت کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس دین کو ساری دنیا تک پہنچانے کی مخلصانہ کوشش کرتا رہے۔ دوسری آیت میں یہ ارشاد گیا کہ موت کا وقت ہر ایک کے لئے متعین ہے، جس کی جتنی عمر لکھ دی گئی ہے اس سے ایک لمحہ نہ کم ہوسکتی ہے اور نہ زیادہ لہٰذا اسباب موت جمع ہونے سے جہاد کے جذبہ میں کوئی کمزوری نہ آنی چاہئے۔ اور نہ کسی چھوٹے بڑے کی موت کی خبر سن کر مایوس اور بددل ہونا چاہیے کیونکہ کبھی کسی کی موت اللہ کے حکم کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ اس کائنات کا مالک حی وقیوم یعنی زندہ وتابندہ یہی وجہ ہے کہ ہر روز لاکھوں انسانوں کے جانے کے باوجود یہ کائنات اپنی ترقی کی منزلوں کی طرف گامزن ہے اس کی رونق اور ترقی میں کوئی واقع نہیں ہوتا۔ لہٰذا موت نہ اللہ کی اس کائنات کو شکست دے سکتی ہے اور نہ اس کے بنانے والے کو۔ ان ہی آیات میں تیسرا مضمون گذشتہ مضمون کی تائید میں ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ اے مومنو ! تم سے پہلے بہت سے نبی گذرے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ والوں نے کفار سے جنگیں کی ہیں اور اللہ کی راہ میں بڑی بےجگری سے لڑے ہیں، شدید ہریشانیاں بھی آئیں مگر نہ تو ان کی ہمتوں نے جواب دیا نہ ان کے دل اور بدن کی طاقتوں میں کمی آئی۔ نہ وہ دشمن سے دب کررہے تو اللہ نے ان کو قدم قدم پر کامیابیاں عطا فرمائیں اور اللہ نے اپنی نعمتوں سے ایسے مستقل مزاج لوگوں کو نوازا۔ فرمایا، ان کا یہ حال تھا کہ شدید مصائب اور پریشانیوں میں بھی مخلوق کی طرف نہیں جھکے بلکہ اپنے خالق ومالک کی طرف جھک کر انہوں نے نہایت عاجزی سے یہی درخواست کی۔ اے اللہ ہمیں بخش دیجئے ہمارے گناہوں کو معاف کردیجئے ہمارے کاموں میں ہم سے جو زیادتی ہوگئی ہو اس کو معاف کردیجئے اور ہمیں کفار کے مقابلے میں ثابت قدم رکھئے گا اور ہمیں کفار پر غلبہ عطا فرمایئے گا۔ اللہ نے ان کی دعاؤں کو قبول کیا اور انہیں دنیا وآخرت کی تمام بھلائیاں عطافرمائیں۔ ان آیات میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دی جارہی ہے کہ کفار سے جنگ کے وقت ثابت قدم رہیں۔ اللہ کے دین کے لئے مرمٹنے کا جذبہ رکھنا ہی اصل ایمان ہے۔ ایک مومن اللہ کا سپاہی ہوتا ہے۔ جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا سلیقہ جانتا ہے وہ موت کے خوف سے ڈرتا نہیں ہے۔ وہ زندہ رہتا ہے تو اللہ کے لئے اور اس کی موت آتی ہے تو اللہ کی راہ میں ۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ جب غزوہ احد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دندان مبارک شہید ہوئے اور سر مبارک زخمی ہوا تو اس وقت کسی دشمن نے پکار دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل کیے گئے مسلمان لڑائی بگڑجانے سے بدحواس اور منتشر ہو ہی رہے تھے اس خبر سے اور بھی کمر ٹوٹ گئی کسی نے یہ تجویز کیا کہ اب کفار سے امن لے لینا چاہیے بعض ہمت ہار کر بیٹھ رہے اور ہاتھ پاوں چھوڑ دیے اور بعض بھاگ کھڑے ہوئے بعض منافق بولے کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں رہے تو پھر اپنا پہلاہی دین کیوں نہ اختیار کرلیا جائے بعض نے کہا کہ اگر نبی ہوتے تو قتل کیوں ہوتے اور بعض نے کہا کہ اگر آپ ہی نہ رہے تو ہم رہ کر کیا کریں گے جس پر آپ نے جان دی اس پر ہم کو بھی جان دی دینی چاہیے اور اگر آپ قتل ہوگئے تو تو کیا ہے اللہ تعالیٰ تو قتل نہیں ہوئے اس پریشانی میں اول آپ کو حضرت کعب بن مالک نے دیکھ کر پہچانا اور پکار کر کہا کہ اے مسلمانوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زندہ صحیح سلامت ہیں غرض اس وقت پھر مسلمان مجمع ہوئے آپ نے ان کو ملامت فرمائی عرض کیا یارسول اللہ یہ خبر سن کر ہمارے دلوں میں ہول بیٹھ گئی اس لیے ہمارے پاوں اکھڑ گئے اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : احد میں نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت کی خبر کی وجہ سے بعض صحابہ بددل ہوئے جس کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ شخصیات تو آنی جانی ہیں اصل مشن تو ان کی دعوت ہے جسے جاری رہنا اور رکھنا چاہیے۔ جنگی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ میدان جنگ میں جونہی فوج کا سپہ سالار زخمی ہو کر گرا۔ اس کے گرنے کے ساتھ ہی بڑے بڑے بہادروں اور جنگجوؤں کے قدم اکھڑ گئے۔ سپہ سالار کا گرنا اور مرنا تو بڑی بات ہے فوج کا پرچم سرنگوں ہوجائے تو لڑنے والوں کے حوصلے پست ہوجایا کرتے ہیں۔ غزوۂ احد میں اسلامی فوج کا پرچم ہی سر نگوں نہیں ہوا بلکہ جلیل القدر صحابہ شہید ہوئے اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ آواز اٹھی کہ آپ کو شہید کردیا گیا ہے۔ ایسے موقع پر صحابۂ کرام (رض) کے قدم اکھڑنا کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جرنیل ہی نہیں بلکہ جرنیل اعظم تھے۔ فاطمہ (رض) کے باپ اور حسن و حسین (رض) کے نانا ہی نہیں پوری امت کے روحانی باپ تھے۔ بیواؤں کے سرپرست ‘ یتیموں کے ملجا اور مسکینوں کے ماویٰ تھے۔ آپ صحابہ کی عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز ‘ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سرور تھے۔ اگر صحابہ اس خبر پر دل برداشتہ اور غمزدہ نہ ہوتے تو اس سے بڑھ کر دنیا میں کس کے لیے پریشان ہوا جاتا ؟ لیکن اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد آپ کی زندگی کا مقصود تھا اگر آپ کے بعد اسلام کا پرچم سرنگوں ہوجائے تو نہ صرف آپ کی محنت دنیا میں ضائع ہوجاتی بلکہ اتنی بڑی جماعت بنانے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا۔ اس طرح ایک نہیں دو ناقابل تلافی نقصان ہوتے۔ لہٰذا اس خطاب کا آغاز ہی یہاں سے کیا گیا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا نہیں اللہ کا رسول ہے۔ اللہ تو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو انسان ہیں اور ہر ذی روح نے اس دنیا سے کوچ کرنا ہے۔ رسول کا معنی ہی قاصد اور پیغام دینے والا ہے۔ جس ہستی نے آپ کو اپنے کام اور پیغام کے لیے مبعوث فرمایا ہے۔ وہ جب چاہے جس حال میں چاہے آپ کو واپس بلا سکتی ہے۔ آپ سے پہلے رسول گزر چکے جن میں کچھ طبعی موت فوت ہوئے اور کچھ شہادت کے منصب پر فائز ہوئے۔ کیا آپ کو طبعی موت یا شہادت نصیب ہوجائے تو تم اسلام اور جہاد سے منہ موڑ جاؤ گے ؟ یاد رکھو ! جو بھی اپنی ایڑیوں کے بل پھرجائے گا وہ اللہ تعالیٰ کو ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اس خطاب کا مقصد یہ ہے کہ شخصیات کتنی ہی گراں قدر اور اہم کیوں نہ ہوں اصل تو ان کا مشن ہوا کرتا ہے۔ ذمہ دار اور زندہ قومیں اپنے قائد کے صحیح نظریات ‘ اس کا مشن اور ان کے صحت مند کارناموں کو ہمیشہ آگے بڑھاتی ہیں۔ تم میں جو دنیا کے لیے کوشش کرے گا اسے دنیا مل جائے گی اور جو آخرت کے لیے کوشاں ہوگا اسے آخرت میں جزا ملے گی۔ اسی فلسفہ کی ترجمانی کرتے ہوئے ٹھیک ساڑھے سات سال بعد آپ کی وفات کے وقت حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے یہ ارشاد فرمایا تھا : (مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْمَاتَ وَمَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ فَإِنَّ اللّٰہَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب الدخول علی المیت بعد الموت إذا أدرج في أکفانہ ] ” جو کوئی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کرتا تھا تو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی طبعی موت فوت ہوچکے ہیں اور جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ زندہ ہے وہ کبھی فوت نہیں ہوگا۔ “ امام رازی (رض) اپنی تفسیر کبیر میں ان الفاظ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ” أَفَإِنْ مَّاتَ “ سے واضح ہو رہا ہے کہ آپ کو طبعی موت آئے گی اور اس کے ساتھ ہی حضرت سعید بن جبیر (رض) کا قول نقل کرتے ہیں کہ کسی رسول کو آج تک میدان کارزار میں قتل نہیں کیا گیا۔ آیت کے آخر میں ” شَاکِرِیْنَ “ کا لفظ اس لیے بھی لایا گیا ہے تاکہ واضح ہو کہ اللہ کے حقیقی شکر گزار بندے وہی ہوتے ہیں جو غم اور خوشی اور نفع و نقصان میں اللہ کے دین پر کاربند رہتے ہیں۔ حضرت علی (رض) فرمایا کرتے تھے کہ اس فرمان سے مراد حضرت ابوبکر صدیق (رض) ہیں کیونکہ وہ سب سے زیادہ شاکر رہنے والے تھے۔ [ معارف القرآن ] مسائل ١۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ ٢۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے آنے والے رسول دنیا سے جا چکے اور آپ بھی فوت ہوں گے۔ ٣۔ جو شخص اسلام سے پھر جائے وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ شکر گزار بندوں کو جزا دینے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ہر کسی نے فوت ہونا ہے : ١۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوں گے اور آپ کے مخالف بھی۔ (الزمر : ٣٠) ٢۔ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ (آل عمران : ١٨٥) ٣۔ کسی بشر کو دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا۔ (الانبیاء : ٣٤) ٤۔ رب ذوالجلال کے سوا سب کچھ فنا ہوجائے گا۔ (الرحمن : ٢٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس ٹکڑے کی پہلی آیت ایک متعین واقعہ کی طرف اشارہ کررہی ہے اور یہ واقعہ غزوہ احد میں پیش آیا۔ جب تیراندازوں نے پہاڑ پر اپنا متعین مقام چھوڑدیا ‘ اور مشرکین وہاں سے ان پر چڑھ دوڑے ‘ مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ‘ مسلمانوں کو شکست ہوئی اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دانت مبارک شہید ہوگئے اور آپ کے چہرے پر زخم آئے اور چہرہ مبارک سے خون بہنے لگا ‘ فریقین باہم گتھم گتھا ہوگئے ‘ مسلمان منتشر ہوگئے ‘ کسی کو کسی کا پتہ نہ رہا۔ ان حالات میں کسی پکارنے والے نے یہ آواز دے دی ۔ لوگو ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل ہوگئے۔ اس چیخ کا مسلمانوں پر بہت ہی برا اثر ہوا۔ ان میں سے بہت سے لوٹ کر مدینہ آگئے ۔ پہاڑ کے اوپر چڑھ گئے ‘ شکست کھاگئے اور مایوس ہوکر میدان جنگ کو چھوڑ گئے ۔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چند افراد رہ گئے اور ان حالات میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان چند افراد کے ساتھ جم گئے۔ اور مسلمانوں کو یہ آواز دینے لگے کہ واپس آؤ ‘ چناچہ وہ پھر سے مجتمع ہوئے ۔ ان کے دل تھم گئے ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ایک محسوس انداز میں ان پر اونگھ طاری کرکے انہیں طمانیت قلب اور امن و سکون عطا کردیا جب کہ تفصیلات بعد میں آرہی ہیں۔ یہ واقعہ جس نے ان لوگوں کو مکمل طور پر مدہوش کردیا تھا ‘ قرآن کریم اسے نکتہ توجہ بناتا ہے اور اس مناسبت سے وہ یہاں اسلامی تصور حیات کے اہم حقائق کو سامنے لاتا ہے۔ اس کو موضوع بناکر یہاں حقیقت موت وحیات کے بارے میں اہم اشارے دئیے جاتے ہیں اور تاریخ ایمانی اور حالات قافلہ ایمانی پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ ” محمد اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ‘ ان سے پہلے اور بھی رسول گزرچکے ہیں ‘ پھر کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردیئے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤگے یاد رکھو ‘ جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا ‘ البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے انہیں وہ اس کی جزادے گا۔ “ بیشک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف رسول ہیں ‘ ان سے پہلے بھی رسول گزرے ہیں ‘ یہ سب رسل فوت ہوئے ہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اس طرح فوت ہوں گے جس طرح وہ رسول فوت ہوئے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ جب اس معرکہ میں یہ حقیقت (اگرچہ جھوٹی افواہ کے طور پر) تمہارے سامنے آئی تو کیوں تمہاری نظروں سے اوجھل رہی ۔ یہ نہایت ہی حیرت انگیز بات ہے۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی طرف سے پیغام لانے والے ہیں ۔ وہ اس لئے آئے ہیں کہ اللہ کا پیغام پہنچادیں ۔ اللہ اپنی جگہ زندہ لایموت ہے ۔ اس کا پیغام زندہ جاوید ہے ۔ اس لئے یہ کس طرح مناسب ہوگا کہ اگر پیغام لانے والے فوت ہوجائیں یا قتل ہوجائیں تو تم اپنے نظریہ حیات کو چھوڑ کر الٹے پاؤں پھر جاؤ۔ یہ بھی ایک واضح حقیقت تھی جو اس معرکہ کی افراتفری میں ان کی نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی حالانکہ مناسب تھا کہ یہ اہل ایمان کی نظروں سے اوجھل ہوجائے کیونکہ یہ نہایت ہی سیدھی سادھی بات تھی۔ انسان فانی ہے اور نظریہ حیات باقی ہے ۔ اسلامی نظام زندگی ایک علیحدہ حقیقت ہے جو ان لوگوں سے بالکل مستقل حقیقت رکھتا ہے جو اس کے حاملین ہیں اور جو اسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں ‘ وہ رسول ہوں یا رسولوں کے بعد امت کے داعی اور مبلغین ہوں ۔ وہ مسلمان جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ محبت رکھتا ہے اور یہ محبت ایسی ہے جس کی پوری تاریخ انسانی میں کوئی نظیر نہیں ملتی ‘ اس کا فرض ہے کہ وہ ذات رسول اور اس نظریہ حیات کے اندر فرق و امتیاز کرے جسے اس ذات نے لوگوں تک پھیلایا۔ اس لئے کہ جو نظریہ حیات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیا وہ حَیٌّ لِایَمُوتُ…………ہے۔ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے جو حَیٌّ لَایَمُوتُ…………ہے۔ یہ فرق کرنا ان کا فرض اس لئے بنتا ہے کہ وہ محب رسول ہیں ۔ یہ لوگ نہیں چاہتے تھے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کانٹا تک بھی چبھے ۔ ابودجانہ کو دیکھو وہ اپنی پیٹھ کے ذریعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ڈھال بنے ہوئے ہیں ۔ ان پر تیروں کی بارش ہورہی ہے اور وہ وہیں ہیں جو جمے ہوئے ہیں اور یہ دیکھو کہ آپ صرف ٩ آدمیوں کے ساتھ رہ گئے اور ان سے ایک کے بعد ایک شہید ہورہا ہے ‘ سب ختم ہوجاتے ہیں لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گزند نہ پہنچے نہیں دیتے ۔ اور آج ہر جگہ اور ہر زمانے میں آپ کا نام سنتے ہی لوگ بوجہ محبت وجد میں آجاتے ہیں اور ٹوٹ کر آپ سے محبت کرتے ہیں ‘ اپنے پورتے پورے وجود کے ساتھ اور اپنے پورے جذبات کے ساتھ ۔ اے محبان رسول ! داعی سے دعوت کی قدر و قیمت زیادہ ہے ۔ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ……………” محمد اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ۔ ان سے پہلے اور رسول بھی گزرچکے ہیں ۔ “ وہ سابق رسول بھی اسی دعوت کے حاملین تھے جس کی جڑیں زمانہ قدیم تک دور تک پھیلی ہوئی ہیں ‘ تاریخ کے بڑے بڑے میدانوں میں بارہا یہ دعوت سر سبز ہوتی رہی ہے ۔ اس کا آغاز ‘ آغاز انسانیت کے ساتھ ساتھ ہوا ہے ۔ اور یہ رسول زندگی کی گزرگاہوں میں اس کے حدی خواں رہے ہیں ۔ قائدانہ انداز میں امن وسلامتی کے ساتھ ۔ اس لئے یہ پیغام اور یہ نظام داعی سے بڑا ہے اور داعی سے زیادہ زندہ رہنے والا ہے۔ داعی تو آتے جاتے رہتے ہیں لیکن یہ پیغام زمانوں اور نسلوں سے جاری وساری ہے ۔ اس کے ماننے والے اس کے منبع اول کے ساتھ مربوط اور جڑے رہتے ہیں ۔ وہ منبع اور مصدر جس نے خود ان رسولوں کو بھیجا وہ منبع باقی ہے۔ اس کی طرف مومنین کا رخ ہے ۔ وہ نصب العین ہے اور اہل ایمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ الٹے پاؤں پھریں اور اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر مرتد ہوجائیں حالانکہ اللہ زندہ جاوید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ان کے رویے پر سخت نکیر کی گئی ۔ فرماتے ہیں أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ ” کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردیئے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤگے ؟ یاد رکھو جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا ‘ البتہ جو اللہ کے شکر گزار بن رہیں گے انہیں وہ اس کی جزادے گا۔ “ تعبیر ایسی ہے کہ اس میں ارتداد کی زندہ تصویر سامنے آجاتی ہے۔” تم لوگ الٹے پھر جاؤگے۔ “ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ……………اوروَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ……………” جو الٹاپھرے۔ “ یہ ایک حسی اور دیکھے جانے والی حرکت ہے ‘ ایک زندہ شخص الٹے پاؤں مڑتا ہے۔ یہ انقلاب ارتداد کی ایک مجسم شکل ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات چھوڑنا بعینہ اسی طرح ہے جس طرح ایک شخص اچانک واپس الٹے پاؤں مڑجائے ۔ حالانکہ یہاں اس انقلاب سے مراد یہ حسی حرکت نہیں ہے ‘ بلکہ اس سے مراد وہ نفسیاتی حالت ہے جس میں ایک شخص نظریاتی پسپائی اختیار کرتا ہے ۔ ایک شخص نے یہ آواز دی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل ہوگئے ہیں ‘ یہ سنتے ہی بعض مسلمانوں کے ذہن میں یہ تصور اور یہ سوال آگیا کہ اب مشرکین کے ساتھ جنگ کا فائدیہ کیا ہے ؟ غرض اس طرح ذہنی حرکت اور اس ذہنی انقلاب کا اظہار حسی حرکت سے کیا گیا۔ یعنی ان کے ذہن اس طرح واپس ہوگئے جو طرح وہ معرکہ احد میں جسمانی طور پر پسپائی اختیار کررہے تھے ۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کی طرف نضربن انس (رض) نے اشارہ کیا تھا۔ لوگوں نے ہتھیار چھوڑ دئیے اور ان سے کہا گیا کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو مارے گئے۔ اس پر انہوں نے ان سے کہا :” پھر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد تم زندہ رہ کر کیا کروگے۔ اٹھو اور اس مقصد کے لئے شہیدہوجاؤ جس کے لئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید ہوئے۔ “ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا……………” یاد رکھو جو الٹاپھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا۔ “ وہ تو خود خسارہ اٹھائے گا ۔ وہ خود اپنے آپ کو ایذا شدیتا ہے کہ وہ الٹا پھرتا ہے اور اس کے اس انقلاب موقف سے اللہ کو کوئی نقصان نہ ہوگا۔ اللہ تو لوگوں سے بےنیاز ہے ۔ وہ ان کے ایمان کا محتاج نہیں ہے ۔ یہ تو اس کی مہربانی ہے کہ اس نے لوگوں کے لئے یہ نظام تجویز کیا جس میں خود ان کی سعادت اور ان کا فائدہ ہے ۔ اور جو شخص اس نظام سے روگردانی کرے گا وہ خود برے انجام سے اس دنیا میں دوچار ہوگا۔ وہ اپنی ذات میں حیران وپریشان ہوگا اور اپنی سوسائٹی میں بھی ۔ اس کے اس فعل کی وجہ سے یہ نظام خراب ہوگا ‘ حیات انسانی خراب ہوگی اور پوری انسانی آبادی خراب ہوگی ۔ تمام معاملات بےترتیب ہوجائیں گے ‘ لوگ خود اپنے ہاتھوں گرفتار مصیبت ہوں گے ۔ محض اس لئے کہ انہوں نے اس نظام سے روگردانی کی کہ صرف اس کے اندر پوری انسانی نظام زندگی کا نظام درست طور پر چل سکتا ہے ۔ انسان مطمئن ہوسکتا ہے اور صرف اس نظام کے زیرسایہ نفس انسانی اپنی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوسکتا ہے ۔ اور اس پوری کائنات کے ساتھ چل سکتا ہے جس کے اندر وہ زندہ رہ رہا ہے۔ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ……………” اور جو اللہ کے شکر گزاربندے بن کر رہیں گے انہیں وہ اس کی جزادے گا۔ “ یہ شکرگزار وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر و قیمت جاتے جو اس نے انہیں اسلامی نظام زندگی دے کر ان پر کی ۔ وہ شکر اس طرح ادا کرتے ہیں کہ وہ اس نظام کی اطاعت کرتے ہیں ‘ وہ اس طرح بھی شکر کرتے ہیں کہ اللہ کی ثناء خوانی کریں ‘ اور اس کو قائم کرکے اس دنیا کی سعادت حاصل کریں اور یہی ان کی جزا اس دنیا میں ہے ۔ ان کی شکر گزاری کی بہترین جزا اور اس کے بعد آخرت میں ان کو جزا دی جائے گی اور یہ اخروی سعادت ہوگی جو اس دنیاوی سعادت مندی سے بہت بڑی ہوگی اور جوابدہی ہوگی۔ گویا اس واقعہ پر اس تبصرے کے ذریعہ ‘ اللہ تعالیٰ ‘ مسلمانوں کی اس ذاتی دلچسپی کو ‘ جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کے ساتھ تھی ‘ ہٹاکر اسے براہ راست ذات باری کے ساتھ جوڑتے ہیں جو اس دعوت کا اصل سرچشمہ ہے ۔ اس لئے کہ دعوت اسلامی کا یہ چشمہ صافی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں جاری فرمایا تھا۔ آپ نے تو لوگوں راہنمائی اس طرف فرمائی اور لوگوں کو بلایا کہ وہ اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا کے فیض سے فیض یاب ہوں ‘ جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے دوسرے رسول بھی یہی راہنمائی کرتے رہے تھے ۔ اور وہ مخلوق کے پیاسے قافلوں کو دعوت دیتے رہے کہ اس چشمہ صافی سے سیراب ہوں اور پیاس بجھائیں۔ گویا اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ تھا کہ وہ لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر ان کے ہاتھ میں وہ مضبوط رسی تھمادیں ‘ جسے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں باندھا ‘ بلکہ آپ تو اس لئے تشریف لائے تھے کہ لوگوں کو اس پختہ رسی میں باندھ دیں۔ ان کو اسی حالت میں چھوڑ دیں اور وہ اس دنیا سے اس حالت میں چلے جائیں کہ لوگ اس رسی کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوں۔ گویا اللہ تعالیٰ یہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کا رابطہ براہ راست اسلام سے ہوجائے اور ان کا عہد براہ راست اللہ کے ساتھ ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ‘ اس عہد کے بارے میں ان کی شمولیت بلاواسطہ ہوجائے ۔ براہ راست اللہ کے سامنے وہ جوابدہ ہوں تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرسکیں ‘ ایسی ذمہ داریاں جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فوت ہونے سے ختم نہیں ہوجاتیں ۔ گویا انہوں نے براہ راست اللہ سے بیعت اور براہ راست اللہ کے سامنے وہ اس کے بارے میں جوابدہ ہیں ۔ گویا اللہ کی مشیئت یہ تھی کہ امت مسلمہ اس صدمے سے دوچار ہوجائے جس سے ایک دن اس نے دوچار ہونا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ جب یہ صدمہ ہوگا تو ان کے لئے ناقابل برداشت ہوگا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر انہیں اس صدمے کی ریہرسل کرادی ۔ وہ انہیں عملاً پہنچادیا یعنی رسول کی وفات کے بارے میں بھی انہیں یہ صدمہ پہنچادیا ‘ قبل اس کے کہ یہ صدمہ جب فی الواقعہ ہو تو انہیں بالکل ہی نڈھال نہ کردے۔ اور جب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے وقت وہ اس صدمے سے دوچار ہوئے تو وہ فی الوا قعہ اسے برداشت نہ کرسکے ۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ جیسی تربیت یافتہ شخصیت اٹھ کھڑی ہوئی ‘ تلوار سونت لی اور پکارا کہ کوئی یہ لفظ منہ تک نہ لائے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے ہیں۔ یہ ابوبکررضی اللہ عنہ ہی تھے جو فوراً اٹھے ‘ جو خدا رسیدہ تھے ‘ جن کا تعلق تقدیر الٰہی سے براہ راست مضبوط تھا ‘ انہوں اسی آیت کو پڑھا اور ان لوگوں کو یاد دلایا جو نڈھال ہوکر حواس کھوبیٹھے تھے ۔ جب انہوں نے اس خدائی پکار کو سنا تو ان کے حواس بحال ہوئے اور وہ ہوش میں آئے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کی خبر پر پریشان ہونے والوں کو تنبیہ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ حضرات صحابہ (رض) کو ابتداءً غزوہ احد میں فتح حاصل ہوگئی لیکن جب فتح یابی دیکھ کر ان تیر انداز حضرات نے اپنی جگہ چھوڑ دی جنہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک پہاڑی پر مقرر فرما دیا تھا تو مشرکین نے واپس ہو کر حملہ کیا اور ستر مسلمان شہید ہوگئے جن میں آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب بھی تھے اور وہ حضرات بھی جو پہاڑی پر استقامت کے ساتھ جمے رہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اس موقعہ میں تکلیف پہنچی آپ کے دندان مبارک میں ایک پتھر آکر لگا جس سے سامنے کے بعض دندان مبارک شہید ہوگئے اور چہرہ مبارک زخمی ہوگیا۔ اسی موقع پر ایک مشرک نے آپ کو شہید کرنے کا ارادہ کیا حضرت مصعب بن عمیر وہاں موجود تھے جن کے ہاتھ میں جھنڈا تھا انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دفاع کیا لیکن خود شہید ہوگئے دشمن نے یہ سمجھا کہ آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید ہوگئے تو اس نے پکار کر کہا کہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہید کردیا اور بعض اصحاب سیر لکھتے ہیں کہ ابلیس نے یہ اعلان کیا۔ یہ آواز سن کر مسلمانوں میں کھلبلی مچ گئی اور ادھر ادھر منتشر ہوگئے اس موقعہ پر بعض منافقین نے یوں کہا کہ محمد تو مقتول ہوگئے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لہٰذا اب اپنے پہلے دین کو اختیار کرلو۔ منافقین تو پہلے ہی دین اسلام پر نہ تھے ظاہری طور پر اپنے کو مسلمان کہتے تھے اب جب ایسا موقعہ آگیا تو مخلص مسلمانوں کو بھی دین اسلام سے پھرجانے کی دعوت دینے لگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پکارنا شروع کیا۔ الیّ عباد اللّٰہ (کہ اے اللہ کے بندو میری طرف آؤ) چناچہ تیس آدمی آپ کے آس پاس جمع ہوگئے اور انہوں نے آپ کی حفاظت کی حتیٰ کہ مشرکین کو دفع کردیا۔ اس موقعہ پر بعض صحابہ نے بہت ہی دلیری سے کام کیا حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) نے اتنی تیز تیر اندازی کی کہ ان کی کمان کا ایک حصہ مڑ گیا۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود اپنے دست مبارک سے ان کو تیر دیتے رہے اور فرماتے رہے کہ اے سعد تیر پھینکو تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں، اس موقعہ پر حضرت طلحہ نے اپنے ہاتھوں سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بچایا ان کا ایک ہاتھ تیر لگنے سے بالکل بیکار ہوگیا۔ حضرت قتادہ کی آنکھ حلقے سے نکل کر ان کے رخسار پر گر پڑی۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی آنکھ کو دو بارہ حلقے میں لگا دیا وہ پہلے سے بھی زیادہ اچھی ہوگئی۔ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ساتھیوں کو آواز دی اور صحابہ جمع ہونے شروع ہوئے تو سب سے پہلے آپ کو حضرت کعب بن مالک نے پہچانا ان کی نظر آپ کی مبارک آنکھوں پر پڑگئی دیکھا کہ آپ کی مبارک آنکھیں خود کے نیچے سے پوری آب و تاب کے ساتھ روشن ہیں۔ انہوں نے بلند آواز سے پکارا کہ خوشخبری سن لو۔ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما ہیں۔ آپ نے خاموش رہنے کو فرمایا (شاہد اس میں یہ مصلحت ہو کہ دشمن ارادہ بدل کر واپس نہ آجائے) حضرت کعب کی آواز سن کر صحابہ کی ایک جماعت آپ کے پاس پہنچ گئی آپ نے ان کو ملامت کی کہ تم لوگوں نے راہ فرار اختیار کی وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ہمارے باپ دادے اور بیٹے آپ پر قربان ہوں ہم نے جو خبر سنی تھی کہ آپ شہید کر دئیے گئے اس سے ہمارے دلوں پر رعب چھا گیا اور ہم بھاگ نکلے اس پر آیت (وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ) (الآیۃ) نازل ہوئی۔ جب حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت کی خبر اڑا دی گئی تو حضرت انس بن نضر نے صحابہ سے کہا آپ لوگ کیوں بیٹھے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید ہوگئے اب ہم کیا کریں انہوں نے کہا اب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد زندہ رہ کر ہی کیا کرو گے۔ قوموا فموتوا علی مامات علیہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کھڑے ہوجاؤ اور اسی دین پر مرجاؤ جس دین پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جان دے دی) اس کے بعد انہوں نے دشمن کی طرف رخ کیا اور جنگ کرتے کرتے شہید ہوگئے۔ حضرت ثابت بن وحداح نے بھی حضرات صحابہ سے اسی قسم کا خطاب کیا اور فرمایا : اِنْ کَانَ مُحَمَّدٌ قَدْ قُتِلَ فَاِنَّ اللّٰہَ حَیٌّ لاَ یَمُوْتُ فَقَاتِلُوْا عَنْ دِیْنکُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ مُطَھِّرُ کُمْ وَنَاصِرُ کُمْ (یعنی اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید ہوگئے تو اللہ تو ہمیشہ زندہ ہے اسے موت نہیں آئے گی لہٰذا اپنے دین کی طرف سے لڑائی لڑو اللہ تمہیں پاک صاف فرمائے گا اور تمہاری مدد فرمائے گا) کچھ انصاریٰ ان کے کہنے سے جمع ہوگئے۔ اور انہوں نے لڑنا شروع کردیا حتیٰ کہ خالد بن ولید نے نیزہ مار کر ان کو شہید کردیا۔ اس سلسلے کا ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ ایک مہاجر صحابی کا ایک انصاری پر گذر ہوا جو اپنے خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے۔ مہاجر صحابی نے ان سے کہا کیا تمہیں پتہ ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید ہوگئے اس انصاری نے اسی حالت میں جواب دیا اگر وہ شہید ہوگئے تو انہوں نے رسالت کا کام پورا کردیا (اب ہمارا کام باقی ہے) لہٰذا ان کے دین کی طرف سے قتال کرو۔ حضرت سعد بن ربیع کا واقعہ بھی اسی طرح کا ہے۔ حضرت زید بن ثابت کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی تلاش میں بھیجا اور فرمایا کہ ان کو کہیں دیکھ لو تو میرا سلام کہنا۔ حضرت زید بن ثابت ان کو مقتولین میں تلاش کر رہے تھے تو دیکھا کہ ان میں زندگی کے دو چار سانس رہ گئے ہیں اور ستر زخم ان کے جسم میں آ چکے ہیں۔ حضرت زید نے ان کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیغام دیا اور ان سے کہا کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ تمہارا کیا حال ہے ؟ سعد بن ربیع نے جواب دیا کہ اللہ کے رسول پر سلام اور تم پر سلام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہہ دینا کہ جنت کی خوشبو پا رہا ہوں اور میری قوم انصار سے کہنا کہ اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک دشمن پہنچ گئے اور تم میں سے ایک آنکھ بھی دیکھتی رہی (یعنی تم میں سے کوئی بھی زندہ رہ گیا) تو تمہارے لیے اللہ کے نزدیک کوئی عذر نہ ہوگا۔ یہ کہا اور ان کی روح پرواز کرگئی۔ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کی خبر اڑی جس سے مسلمانوں کے حوصلے پست ہوگئے تو اس وقت ابو سفیان نے (جو اس وقت لشکر کا قائد تھا) پہاڑ کے نیچے والے حصے سے آواز دی اَعْلٰی ھُبْل (ھبل مشرکین کا ایک بت تھا) مذکورہ الفاظ میں اس کا نعرہ لگایا۔ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا ہم اس کا جواب نہ دیں آپ نے فرمایا ہاں جواب دو اس پر حضرت عمر (رض) نے ابو سفیان کے جواب میں یہ نعرہ لگایا کہ اللّٰہُ اَعْلٰی وَ اَجَل (کہ اللہ سب سے بالا اور برتر ہے اور بزرگ تر ہے) ۔ پھر ابو سفیان نے کہا لَنَا الْعُزّٰی وَلآ عُزّٰی لَکُمْ (کہ ہمارے لیے عزی ہے اور تمہارے لیے عزی نہیں) عزی بھی ان لوگوں کا ایک بت تھا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس کا یوں جواب دو اللّٰہُ مَوْلاَنَا وَلاَ مَوْلٰی لَکُمْ اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں) چناچہ یہ جواب دے دیا گیا۔ پھر ابو سفیان نے پوچھا کہ فلاں فلاں کہاں ہیں، اس کا یہ سوال حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے بارے میں تھا۔ حضرت عمر نے جواب میں فرمایا یہ رسول اللہ ہیں اور یہ ابوبکر ہیں اور میں بھی موجود ہوں۔ ابو سفیان نے کہا کہ یہ بدر کے دن کا بدلہ ہے اور یہ بھی کہا کہ دن بدلتے رہتے ہیں کبھی کسی کی فتح ہوتی ہے اور کبھی کسی کی، لڑائی برابر سرا بر ہے۔ حضرت عمر (رض) نے جواب دیا کہ برابر نہیں ہے۔ ہمارے مقتولین جنت میں ہیں اور تمہارے مقتولین دوزخ میں ہیں۔ ابو سفیان نے کہا کہ اگر تم یہ عقیدہ رکھتے ہو تو ہم تو بالکل ہی برباد ہیں۔ اس موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بارہ افراد رہ گئے تھے (بعد میں دیگر افراد بھی حاضر ہوگئے تھے) ان کے علاوہ جو صحابہ تھے ان میں سے کچھ لوگ مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے اور کچھ پہاڑی پر چڑھ گئے ساتھ حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت حارث بن صمہ اور دیگر چند صحابہ تھے ( رض) آپ ان حضرات کے ساتھ گھاٹی کی طرف روانہ ہوگئے جہاں جنگ سے پہلے قیام تھا۔ مشرک ابی بن خلف کا قتل : جب آپ گھاٹی میں ٹیک لگا کر بیٹھ گئے تو ابی بن خلف مشرک نے آپ کو دیکھ لیا اور کہا کہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کر دوں گا، یہ بات وہ پہلے سے کہا کرتا تھا جب مکہ مکرمہ میں تھا۔ آپ نے فرمایا میں تجھے قتل کر دوں گا۔ یہ شخص پوری طرح لوہے کے ہتھیاروں سے مسلح تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی ہنسلی نظر آگئی آپ نے اس کو ایک نیزہ مار دیا جس کی وجہ سے وہ گھوڑے سے گرپڑا آپ کا نیزہ لگنے سے اسے بظاہر معمولی سی خراش آگئی تھی لیکن وہ گائے کی طرح آوازیں نکال رہا تھا۔ اس کے ساتھی اٹھا کرلے گئے اور کہنے لگے کہ اتنا کیوں چیختا ہے ذرا سی ہی تو خراش آئی ہے وہ کہنے لگا کہ میں مر کر رہوں گا، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا تھا کہ میں ابی کو قتل کروں گا۔ پھر کہنے لگا کہ یہ تکلیف جو مجھے ہو رہی ہے اگر سب اہل حجاز کو ہوجائے تو سب مرجائیں واپس ہوتے ہوئے رابغ میں مرگیا اور جہنم رسید ہوا۔ (صحیح بخاری، تفسیر روح المعانی، تفسیر ابن کثیر) سیدنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست مبارک سے پورے غزوات میں یہی ایک شخص مقتول ہوا۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب میں وہ شخص مبتلا ہوگا جس نے کسی نبی کو قتل کیا ہو یا جس کو کسی نبی نے قتل کیا ہو یا جس نے والدین میں سے کسی کو قتل کیا ہو اور تصویر بنانے والوں کو بھی سب سے زیادہ سخت عذاب ہوگا۔ اور اس عالم کو بھی سب سے زیادہ سخت عذاب ہوگا جس نے اپنے علم سے نفع حاصل نہ کیا ہو۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٣٨٧) آیت بالا میں اللہ جل شانہٗ نے ارشاد فرمایا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے عہدہ اور مرتبہ کے اعتبار سے رسول ہی تو ہیں تم نے یہ کیسے اپنے پاس سے تجویز کرلیا کہ ان کو موت نہیں آئے گی۔ یہ تو خالق کائنات جل مجدہ کی شان ہے کہ وہ ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ پھر مسلمانوں کو سرزنش فرمائی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی طرف بلانے والے تھے۔ معبود نہیں تھے۔ معبود تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اپنی دعوت کا کام کر کے شرک چھڑا کر اور تم کو توحید پر لگا کر اور اللہ کی عبادت کی تعلیم دے کر اپنی طبعی موت سے اس دنیا میں تشریف لے گئے یا مقتول ہوگئے تو کیا تم اپنے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ گے کیا دین حق کو چھوڑ کر پھر دین باطل کو اختیار کرلو گے۔ دین تو اللہ کا بھیجا ہوا ہے جس کا دین ہے وہ تو ہمیشہ زندہ ہے۔ ہمیشہ اسی کی عبادت کرتے رہو۔ ان باتوں اور ان وسوسوں کا کیا مقام ہے جو اس وقت تمہارے نفسوں میں ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے دن حضرت ابوبکر کا خطاب : غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ مقتول ہوئے تھے نہ آپ کو موت طبعی طاری ہوئی تھی لیکن جس دن آپ کو واقعی موت آئی تھی اس دن حضرات صحابہ کو بہت زیادہ حیرانی و پریشانی ہوئی۔ حضرت عمر جیسے جری اور سمجھدار شخص بھی کہنے لگے کہ اللہ کی قسم آپ کو موت نہیں آئی آپ تو اپنے رب سے ملاقات کرنے کے لیے تشریف لے گئے ہیں۔ جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چالیس رات کے لیے اپنے رب کی ملاقات کے لیے تشریف لے گئے تھے پھر واپس آگئے اسی طرح آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی واپس تشریف لے آئیں گے جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو موت آگئی ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے جائیں گے۔ یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ حضرت ابوبکر تشریف لائے اور انہوں نے فرمایا کہ اے عمر ٹھہرو خاموش ہوجاؤ۔ اس کے بعد انہوں نے اللہ جل شانہٗ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا کہ اے لوگو ! تم میں سے جو کوئی شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کرتا تھا تو وہ سمجھ لے کہ ان کو موت آچکی ہے اور جو کوئی شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے زندہ ہے ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس کو موت نہیں آئے گی۔ اس کے بعد انہوں نے آیت بالا (وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ) (آخر تک) تلاوت فرمائی۔ حضرات صحابہ اور حضرت عمر کے ذہنوں میں اس وقت یہ آیت نہ تھی۔ گویا کہ انہیں اس کا علم ہی نہ تھا۔ آیت شریفہ سن کر سب کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت کا یقین ہوگیا۔ حضرت عمر نے بھی فرمایا کہ جب میں نے یہ آیت سن لی تو میں نے بھی جان لیا کہ واقعی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو موت آگئی ہے۔ (البدایہ والنہایہ) آیت شریفہ میں اس سرزنش کے بعد کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید ہوجائیں یا مقتول ہوجائیں تو کیا تم پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ گے۔ یوں فرمایا (وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِیْبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْءًا) (کہ جو شخص پچھلے پاؤں پلٹ جائے اور دین حق کو چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ کو کچھ بھی نقصان نہ دے گا۔ ) اس میں یہ ارشاد فرمایا کہ جو کوئی شخص دین حق پر ہے یعنی دین اسلام قبول کیے ہوئے ہے۔ وہ ہرگز یہ نہ سمجھے کہ میرے ایمان و اسلام سے اور میری عبادت سے اللہ تعالیٰ کو کوئی نفع ہے اگر میں اس دین کو چھوڑ دوں اور اللہ کی عبادت نہ کروں تو اللہ کا کوئی نقصان ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس بات سے برتر اور بالا ہے کہ اسے کوئی فائدہ یا نقصان پہنچے۔ البتہ جو کوئی شخص موحد مومن مسلم ہے۔ اللہ کی عبادت کرتا ہے اللہ تعالیٰ شانہ اس کو اس کے ایمان کی اور اعمال صالحہ کی جزا دے گا۔ ایمان اور اعمال صالحہ میں خود مومنین کا اپنا نفع ہے۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ الشاکرین سے الثابتین علی دین الاسلام مراد ہیں۔ اسلام پر ثابت قدمی اسی وقت ہوتی ہے جب اس کی حقانیت کا یقین ہو۔ اور اسلام پر ثابت رہنا شکر ہے اور اس دین کو چھوڑ دینا کفران نعمت ہے (اور بہت بڑا کفران وہ ہے جو کفر کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے) ہر شخص کو اجل مقرر پر موت آئے گی :

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

213 یہ بھی مومنین کے لیے زجر ہے جنگ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن جبیر کی امارت میں پچاس تیر اندازوں کا دستہ لشکر کی پشت پر متعین فرمایا تاکہ دشمن پیچھے سے آکر حملہ نہ کرسکے۔ اور ان کو حکم دیا کہ مسلمانوں کو فتح ہو یا شکست وہ ہر حال میں اسی جگہ ڈٹے رہیں اور یہاں سے ہرگز نہ ہلیں ادھر جنگ شروع ہوگئی اورحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ نے مشرکین پر ایسا زبردست حملہ کیا کہ ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ سب بھاگ نکلے۔ جب تیرانداز دستہ نے دیکھا کہ میدان مشرکین سے خالی ہوچکا ہے اور مسلمان فتحیاب ہو کر مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہماری فتح ہوچکی ہے اس لیے اب یہاں ٹھہرے رہنے کی ضرورت نہیں چناچہ وہ اپنے امیر کے روکنے کے باوجود مورچہ چھوڑ کر میدان کی طرف لپکے اور مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہوگئے صرف چند تیر انداز حضرت عبداللہ بن جبیر کے ساتھ باقی رہ گئے چناچہ جب سپاہ مشرکین کے دائیں بازو کے امیر خالد بن ولید نے دیکھا کہ مسلمانوں کی پشت خالی ہے تو اڑھائی سو سواروں کے دستے سے فوراً پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کردیا۔ ادھر عبداللہ بن قمیہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حملہ آور ہوا حضرت مصعب بن عمیر جن کے ہاتھ میں مسلمانوں کا جھنڈا تھا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بجانے کے لیے سامنے ہوگئے اور ابن قمیہ شقی کے ہاتھوں شہید ہوگئے ابن قمیہ نے سمجھا کہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کر ڈالا ہے اس لیے چلا کر کہا کہ میں نے محمد کو قتل کردیا اس پر ابلیس لعین نے بلند آواز سے پکار کر کہا کہ محمد قتل ہوگئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اکثر مسلمانوں کی ہمتیں پست ہوگئیں۔ کچھ ان میں سے بھاگ نکلے اور کچھ مشرکین سے صلح کی سوچنے لگے۔ ادھر اس افواہ سے منافقین نے فائدہ اٹھا یا۔ اور بعض ضعیف الایمان مسلمانوں سے کہنے لگے کہ اگر محمد قتل ہوگئے ہیں تو تم اپنے پہلے دین میں واپس آجاؤ۔ وذالک ان المنافقین قالوا الضعۃ المسلمین ان کان محمد قتل فالحقوا بدینکم (کبیر ص 87 ج 3) اس پر بعض انصاریوں نے ان سے کہا کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل ہوگئے ہیں تو محمد کا رب تو قتل نہیں ہوا۔ آؤ اسی مقصد اور مشن کی خاطر لڑو جس کی خاطر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لڑتے رہے یعنی دین اسلام اور رب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی توحید اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا نہیں ہیں کہ ان پر موت نہ آئے بلکہ وہ اللہ کے رسول ہی تو ہیں اور موت تو ہر جاندار کے لیے مقدر ہے جو اپنے وقت پر ضرور آئے گی۔ تو کیا اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوجائیں یا شہید کردئیے جائیں تو تم دین اسلام کو چھوڑ کر پھر سے پہلا دین قبول کرلو گے آپ سے پہلے بھی تو ہزاروں پیغمبر گزرے ہیں۔ لیکن جب وہ دنیا سے رخصت ہوگئے تو ان کی امتوں نے ان کی وفات کے بعد ان کے دین کو چھوڑا نہیں بلکہ وہ ان کے بعد بھی انہیں کے ادیان پر قائم رہے۔ حاصل یہ کہ پیغمبر کی وفات سے اس کا دین ختم نہیں ہوجاتا۔ اور نہ باطل ہوجاتا ہے۔ 214 لیکن اس فہمائش کے باوجود اگر کوئی دین اسلام سے پھرجائے تو وہ خدا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا اور ہی اس کے ارتداد سے مذہب اسلام اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت پر کچھ اثر پڑے گا۔ بلکہ اس سے وہ اپنی ہی عاقبت خراب کرے گا۔ بل یضر نفسہ یعرضھا للعقاب بسبب الخالفۃ واللہ تعالیٰ لاتنفعہ الطاعۃ ولا تضرہ العصیۃ لغناہ (قرطبی ص 226 ج 4) وَسَیَجْزِیْ اللہُ الشَّاکِرِیْنَ اور جو لوگ نعمت اسلام کی قدر کریں گے اور دین توحید پر قائم اور ثابت قدم رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کو اس کی عمدہ جزا دے گا۔ الذین لم ینقلبوا وسماھم شاکرین لانھم شکروا نعمۃ اسلام فیما فعلا (مدارک ص 144 ج 1) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف اللہ تعالیٰ کے ایک رسول ہی تو ہیں بلاشبہ آپ سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گذر چکے ہیں تو پھر اگر وہ وفات پاجائیں یا فرض کرو وہ شہید ہی کر دئیے جائیں تو کیا تم لوگ اپنی ایڑیوں کے بل جہاد سے یا اسلام سے واپس لوٹ جائو گے اور جو شخص بھی اپنے دین سے اور خواہ جہاد سے الٹا پھر جائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نقصان نہ کرے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرر نہ پہنچائے گا اور بہت جلد اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو نیک عوض اور صلہ عطا فرمائے گا جو شکر گزار رہیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوائے اس کے کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول بھی گذر چکے ہیں پھر اگر وہ اپنی طبعی موت سے مرجائیں یا مار ڈالے جائیں وہ کوئی خدا تو نہیں ہیں جو نہ مرتا ہے اور نہ اس کو کوئی مار سکتا ہے تو کیا تم لوگ میدان جہاد کو یا معاذ اللہ دین اسلام کو چھوڑ کر واپس چلے جائو گے اور اگر کوئی واپس چلا جائے گا تو اللہ تعالیٰ کا کچھ نہ بگاڑے گا بلکہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور اللہ تعالیٰ عنقریب حق شناس اور شکر گزار لوگوں کو اچھی جزا اور اچھا بدلہ عطا فرمائے گا۔ اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے بجائے ماتت کے خلت فرمایا ۔ خلت کے معنی گذر جانے چھوڑ کر چلے جانے اور ہو چکنے وغیرہ کے ہیں اس لئے کہ حضرت عیسیٰ چونکہ زندہ ہیں مگر گزر جانے والوں میں وہ بھی شامل ہیں اسی آیت سے حضرت صدیق اکبر (رض) عنہنے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے دن استدلال کیا تھا اور تمام صحابہ (رض) کو کہہ کر سنبھالا تھا ۔ من کان یعبد محمد افان محمداً قدمات ومن کان یعبد اللہ فھوحی لایموت ۔ یعنی جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کرتا تھا تو وہ سن لے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ زندہ ہے وہ کبھی مرے گا نہیں یہ آیت تمام صحابہ کے روبرو پڑھی گئی تھی اور تمام صحابہ خلت کا مطلب یہی سمجھتے تھے کہ گذر گئے اور چلے گئے کسی نے بھی اس آیت سے موت مراد نہیں لی اور یہ جو فرمایا علی عقبیہ یہ ایک محاورہ ہے جیسا ہم اردو میں کہتے ہیں کہ ابھی آئے تھے کھڑے کھڑے اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ گئے مطلب یہ ہوتا ہے کہ واپس چلے گئے اور الٹے ہی لوٹ گئے ۔ شاکرین کا مطلب یہاں یہ ہے کہ ایسے نازک مواقع پر مشتقل رہتے ہیں اور تکالیف کو ہمت سے سہارتے ہیں ان کو اچھا بدلہ عطا ہوگا اور جلدی شاید اس لئے کہا کہ قیامت جلدی آنے والی ہے یا دنیاوی فتح کی طرف اشارہ ہو۔ (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس جنگ احد میں بعضے مسلمان کامل بھی بہت ہٹ گئے تھے اس لئے کہ ایک کافر نے اپنی فوج میں پکارا کہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مار آیا اور حضرت کو زخم سے خون بہت گیا تھا ضعف آ کر ایک گڑھے میں گرے تھے مسلمانوں نے حضرت کو نہ دیکھا یہ بات یقین ہوگئی۔ جب حضرت ہوشیار ہوئیتو میدان میں جو لوگ حاضر تھے ان کو جمع کر کے پھر لڑائی قائم کی تب کافر پھر کر چلے گئے سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رسول زندہ رہے یا نہ رہے دین اللہ کا ہے اس پر قائم رہو اور اشارت نکلتی ہے کہ حضرت کی وفات پر بعضے لوگ پھر جاویں گے اور جو قائم رہیں گے ان کو بڑا ثواب ہے اسی طرح ہوا کہ بہت لوگ حضرت کے بعد مرتد ہوئے اور حضرت صدیق نے ان کو پھر مسلمان کیا اور بعضوں کو مارا۔ (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب کے خلاصہ میں سب چیزیں آگئیں ہمارے زمانے کے بعض اہل باطل نے اس آیت سے وفات مسیح پر استدلال کیا ہے اور عجیب انداز سے اس آیت کا مطلب بیان کیا ہے لیکن اس کا کوئی تعلق حضرت عیسیٰ کی وفات سے نہیں ہے اور نہ الرسل کا الف لام استغراتی ہے یہ الف لام ایسا ہی ہے جیسے چھٹے پارے کے آخر میں قدخلت من قبلہ الرسل میں آیا ہے۔ اگر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زندہ آسمان پر اٹھایا جاتا تب بھی صحابہ کو اتنا صدمہ ہوتا۔ جیسا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات سے ہوا اب آگے اسی مضمون کی اور تاکید و وضاحت ہے۔ (تسہیل)