Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 149

سورة آل عمران

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِیۡعُوا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَرُدُّوۡکُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿۱۴۹﴾

O you who have believed, if you obey those who disbelieve, they will turn you back on your heels, and you will [then] become losers.

اے ایمان والو! اگر تم کافروں کی باتیں مانو گے تو وہ تمہیں تمہاری ایڑیوں کے بل پلٹا دیں گے ( یعنی تمہیں مرتد بنا دیں گے ) پھر تم نامُراد ہو جاؤ گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Prohibition of Obeying the Disbelievers; the Cause of Defeat at Uhud Allah warns His believing servants against obeying the disbelievers and hypocrites, because such obedience leads to utter destruction in this life and the Hereafter. This is why Allah said, يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوَاْ إِن تُطِيعُواْ الَّذِينَ كَفَرُواْ يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ فَتَنقَلِبُواْ خَاسِرِينَ O you who believe! If you obey those who disbelieve, they will send you back on your heels, and you will turn back (from faith) as losers. Allah also commands the believers to obey Him, take Him as their protector, seek His aid and trust in Him. Allah said, بَلِ اللّهُ مَوْلاَكُمْ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ

کافر اور منافقوں کے ارادے اور غزوہ احد کا پھر اندوہناک تذکرہ اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو کافروں اور منافقوں کی باتوں کے ماننے سے روک رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ اگر ان کی مانی تو دنیا اور آخرت کی ذلت تم پر آئے گی انکی چاہت تو یہی ہے کہ تمہیں دین اسلام سے ہٹا دیں پھر فرماتا ہے مجھ ہی کو اپنا والی اور مددگار جانو مجھی سے دوستی کرو مجھی پر بھروسہ کرو مجھی سے مدد چاہو پھر فرمایا کہ ان شریروں کے دلوں میں ان کے کفر کے سبب ڈر خوف ڈال دوں گا ، بخاری مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ باتیں دی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی ہے میرے لئے زمین مسجد اور اس کی مٹی وضو کی پاک چیز بنائی گئی ، میرے لئے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور مجھے شفاعت دی گئی اور ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف سے مخصوص بھیجا جاتا تھا اور میری بعثت میری نبوت تمام دنیا کیلئے عام ہوئی ، مسند احمد میں ہے آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں پر اور بعض روایتوں میں ہے تمام امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطا فرمائی ہیں ، مجھے تمام دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ، میرے اور میری امت کیلئے تمام زمین مسجد اور پاک بنائی گئی ، میرے امتی کو جہاں نماز کا وقت آجائے وہیں اس کی مسجد اور اس کا وضو ہے ، میرا دشمن مجھ سے مہینہ بھر کی راہ پر ہو وہیں سے اللہ تعالیٰ اس کا دل رعب سے پُر کر دیتا ہے اور وہ کانپنے لگتا ہے اور میرے لئے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور روایت میں ہے کہ میں مدد کیا گیا ہوں میرے رعب سے ہر دشمن پر ، مسند کی ایک اور حدیث میں ہے مجھے پانچ چیزیں دی گئیں میں ہر سرخ و سفید کی طرف بھیجا گیا میرے لئے تمام زمین وضو اور مسجد بنائی گی ۔ میرے لئے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے جو میرے پہلے کسی کے حلال نہ تھے اور میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی اور مجھے شفاعت دی گئی تمام انبیاء نے شفاعت مانگ لی لیکن میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت کے لوگوں کیلئے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو بچار کھی ہے ، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ لڑائی سے لوٹ گیا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور تمہاری مدد کی اس سے بھی یہ استدلال ہو سکتا ہے کہ یہ وعدہ احد کے دن کا تھا تین ہزار دشمن کا لشکر تھا تاہم مقابلہ پر آتے ہی ان کے قدم اکھڑ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی لیکن پھر تیر اندازوں کی نافرمانی کی وجہ سے اور بعض حضرات کی پست ہمتی کی بناء پر وہ وعدہ جو مشروط تھا رک گیا پس فرماتا ہے کہ تم انہیں اپنے ہاتھوں سے کاٹتے تھے ۔ شروع دن میں ہی اللہ نے تمہیں ان پر غالب کر دیا لیکن تم نے پھر بزدلی دکھائی اور نبی کی نافرمانی کی ان کی بتائی ہوئی جگہ سے ہٹ گئے اور آپس میں اختلاف کرنے لگے حالانکہ اللہ عزوجل نے تمہیں تمہاری پسند کی چیز فتح دکھا دی تھی یعنی مسلمان صاف طور پر غالب آگئے تھے مال غنیمت آنکھوں کے سامنے موجود تھا کفار پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے تم میں سے بعض نے دنیا طلبی کی اور کفار کی ہزیمت کو دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا خیال نہ کر کے مال غنیمت کی طرف لپکے گو بعض اور نیک آخرت طلب بھی تھے لیکن اس نافرمانی وغیرہ کی بنا پر کفار کی پھر بن آئی اور ایک مرتبہ تمہاری پوری آزمائش ہو گئی غالب ہو کر مغلوب ہو گئے فتح کے بعد شکست ہو گئی لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس جرم کو معاف فرما دیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بظاہر تم ان سے تعداد میں اور اسباب میں کم تھے خطا کا معاف ہونا بھی عفاعنکم میں داخل ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ کچھ یونہی سی گوشمالی کر کے کچھ بزرگوں کی شہادت کے بعد اس نے اپنی آزمائش کو اٹھا لیا اور باقی والوں کو معاف فرما دیا ، اللہ تعالیٰ باایمان لوگوں پر فضل و کرم لطف و رحم ہی کرتا ہے ، حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد جیسی احد میں ہوئی ہے کہیں نہیں ہوئی اسی کے بارے میں ارشاد باری ہے کہ اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا لیکن پھر تمہارے کرتوتوں سے معاملہ برعکس ہوگیا ، بعض لوگوں نے دنیا طلبی کر کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی یعنی بعض تیر اندوزوں نے جنہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ کے درے پر کھڑا کیا تھا اور فرما دیا تھا کہ تم یہاں سے دشمنوں کی نگہبانی کرو وہ تمہاری پیٹھ کی طرف سے نہ آجائیں ، اگر تم ہار دیکھو بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا اور اگر تم ہر طرح غالب آگئے تو بھی تم غنیمت جمع کرنے کیلئے بھی اپنی جگہ کو نہ چھوڑنا ، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم غالب آگئے تو تیر اندوزوں نے حکم عدولی کی اور وہ اپنی جگہ کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آملے اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کر دیا صفوں کا کوئی خیال نہ رہا درے کو خالی پا کر مشرکوں نے بھاگنا بند کیا اور غور و فکر کر کے اس جگہ حملہ کر دیا ، چند مسلمانوں کی پیٹھ کے پیچھے سے ان کی بےخبری میں اس زور کا حملہ کیا کہ مسلمانوں کے قدم نہ جم سکے اور شروع دن کی فتح اب شکست سے بدل گئی اور یہ مشہور ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہو گئے اور لڑائی کے رنگ نے مسلمانوں کو اس بات کا یقین بھی دلا دیا ، تھوڑی دیر بعد جبکہ مسلمانوں کی نظریں چہرہ مبارک پر پڑیں تو وہ اپنی سب کوفت اور ساری مصیبت بھول گئے اور خوشی کے مارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لپکے آپ ادھر آرہے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا سخت غضب نازل ہو ان لوگوں پر جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو خون آلودہ کر دیا ، انہیں کوئی حق نہ تھا کہ اس طرح ہم پر غالب رہ جائیں ، تھوڑی دیر میں ہم نے سنا کہ ابو سفیان پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوا کہہ رہا تھا اعل ہبل اعل ھبل ہبل بت کا بول بالا ہو ابو بکر کہاں ہے؟ عمر کہاں ہے؟ حضرت عمر نے پوچھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسے جواب دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تو حضرت عمر فاروق نے اس کے جواب میں فرمایا اللہ اعلی واجل اللہ اعلی واجل اللہ بہت بلند ہے اور جلال و عزت والا ہے اللہ بہت بلند اور جلال و عزت والا ہے ، وہ پوچھنے لگا بتاؤ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں ؟ ابو بکر کہاں ہیں ؟ عمر کہاں ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ ہیں حضرت ابو بکر اور یہ ہوں میں عمر فاروق ابو سفیان کہنے لگا یہ بدر کا بدلہ ہے یونہی دھوپ چھاؤں الٹتی پلٹتی رہتی ہے ، لڑائی کی مثال کنویں کے ڈول کی سی ہے ، حضرت عمر نے فرمایا برابری کا معاملہ ہرگز نہیں تمہارے مقتول تو جہنم میں گئے اور ہمارے شہید جنت میں پہنچے ، ابو سفیان کہنے لگا اگر یونہی ہو تو یقینا ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے ، سنو تمہارے مقتولین میں بعض ناک کان کٹے لوگ بھی تم پاؤ گے گویہ ہمارے سرداروں کی رائے سے نہیں ہوا لیکن ہمیں کچھ برا بھی نہیں معلوم ہوا ، یہ حدیث غریب ہے اور یہ قصہ بھی عجیب ہے ، یہ ابن عباس کی مرسلات سے ہے اور وہ یا ان کے والد جنگ احد میں موجود نہ تھے ، مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت موجود ہے ابن ابی حاتم اور بیہقی فی دلائل النبوۃ میں بھی یہ مروی ہے اور صحیح احادیث میں اس کے بعض حصوں کے شواہد بھی ہیں کہ احد والے دن عورتیں مسلمانوں کے پیچھے تھیں جو زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں تو پوری طرح یقین تھا کہ آج کے دن ہم میں کوئی ایک بھی طالب دنیا نہیں بلکہ اس وقت اگر مجھے اس بات پر قسم کھلوائی جاتی تو کھا لیتا لیکن قرآن میں یہ آیت اتری ( منکم من یرید الدنیا ) یعنی تم میں سے بعض طالب دنیا بھی ہیں ، جب صحابہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف آپ کی نافرمانی سرزد ہوئی تو انکے قدم اکھڑ گئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف سات انصاری اور دو مہاجر باقی رہ گئے جب مشرکین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا تو آپ فرمانے لگے اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو انہیں ہٹائے تو ایک انصار اٹھ کھڑے ہوئے اور اسجم غفیر کے مقابل تن تنہا داد شجاعت دینے لگے یہاں تک کہ شہید ہو گئے پھر کفار نے حملہ کیا آپ نے یہی فرمایا ایک انصاری تیار ہو گئے اور اس بےجگری سے لڑے کہ انہیں آگے نہ بڑھنے دیا لیکن بالآخر یہ بھی شہید ہو گئے یہاں تک کہ ساتوں صحابہ اللہ کے ہاں پہنچ گئے اللہ ان سے خوش ہو ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین سے فرمایا افسوس ہم نے اپنے ساتھیوں سے منصفانہ معاملہ نہ کیا ، اب ابو سفیان نے ہانک لگائی کہ اعل ہبل آپ نے فرمایا کہو اللہ اعلی واجل ابو سفیان نے کہا ( لنا العزی ولا عزی لکم ) ہمارا عزی بت ہے تمہاری کوئی عزی نہیں ، آپ نے فرمایا کہو اللہ مولانا والکافرون لا مولی لھم اللہ ہمارا مولی ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں ، ابو سفیان کہنے لگا آج کے دن بدر کے دن کا بدلہ ہے کوئی دن ہمارا اور کوئی دن تمہارا ، یہ تو ہاتھوں ہاتھ کا سودا ہے ، ایک کے بدلے ایک ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز برابری نہیں ہمارے شہداء زندہ ہیں وہاں رزق دے جاتے ہیں اور تمہارے مقتول جہنم میں عذاب کئے جا رہے ہیں پھر ابو سفیان بولا تمہارے مقتول میں تم دیکھو گے کہ بعض کے کان ناک وغیرہ کاٹ لئے گئے ہیں لیکن میں نے نہ یہ کہا نہ اسے روکا نہ اسے میں نے پسند کیا نہ مجھے یہ بھلا معلوم ہوا نہ برا ، اب جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ حضرت حمزہ کا پیٹ چاک کر دیا گیا تھا اور ہندہ نے انکا کلیجہ لے کر چبایا تھا لیکن نگل نہ سکی تو اگل دیا ، حضور علیہ السلام نے فرمایا ناممکن تھا کہ اس کے پیٹ میں حمزہ کا ذرا سا گوشت بھی چلا جائے اللہ تعالیٰ حمزہ کے کسی عضو بدن کو جہنم میں لے جانا نہیں چاہتا چنانچہ حمزہ کے جنازے کو اپنے سامنے رکھ کر نماز جنازہ ادا کی پھر ایک انصاری کا جنازہ لایا گیا وہ حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا اور آپ نے پھر نماز جنازہ پڑھی انصاری کا جنازہ اٹھا لیا گیا لیکن حضرت حمزہ کا جنازہ وہیں رہا اسی طرح ستر شخص لائے گئے اور حضرت حمزہ کی ستر دفعہ جنازے کی نماز پڑھی گئی ( مسند ) صحیح بخاری شریف میں حضرت براء سے مروی ہے کہ احد والے دن مشرکوں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو الگ جما دیا اور انکا سردار حضرت عبداللہ بن جیبر کو بنایا اور فرما دیا کہ اگر تم ہمیں ان پر غالب آیا ہوا دیکھو تو بھی یہاں سے نہ ہٹنا اور وہ ہم پر غالب آجائیں تو بھی تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا ، لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ کے فضل سے مشرکوں کے قدم پیچھے ہٹنے لگے یہاں تک کہ عورتیں بھی تہبند اونچا کر کر کے پہاڑوں میں ادھر دوڑنے لگیں ، اب تیر انداز گروہ غنیمت غنیمت کہتا ہوا نیچے اتر آیا ، ان کے امیر نے انہیں ہر چند سمجھایا لیکن کسی نے ان کی نہ سنی ، بس اب مشرکین مسلمانوں کی پیٹھ کی طرف سے آن پڑے اور ستر بزرگ شہید ہو گئے ابو سفیان ایک ٹیلے پر چڑھ کر کہنے لگا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم حیات ہیں ؟ کیا ابو بکر موجود ہیں ؟ کیا عمر زندہ ہیں ؟ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے صحابہ خوش رہے تو وہ خوشی کے مارے اچھل پڑا اور کہنے لگا یہ سب ہماری تلواروں کے گھاٹ اتر گئے اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے ایک حضرت عمر کو تاب ضبط نہ رہی فرمانے لگے ، اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے بحمد اللہ ہم سب موجود ہیں اور تیری تباہی اور بربادی کرنے والے زندہ ہیں ، پھر وہ باتیں ہوئیں جو اوپر بیان ہو چکی ہیں ، صحیح بخاری شریف میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جنگ احد میں مشرکوں کو ہزیمت ہوئی اور ابلیس نے آواز لگائی اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے کی خبر لو اگلی جماعتیں پچھلی جماعتوں پر ٹوٹ پڑیں ، حضرت حذیفہ نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تلواریں ان کے والد حضرت یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر برس رہی ہیں ہر چند کہتے رہے کہ اے اللہ کے بندو! یہ میرے باپ یمان ہیں مگر کون سنتا تھا وہ یونہی شہید ہو گئے لیکن حضرت حذیفہ نے کچھ نہ کہا بلکہ فرمایا اللہ تمہیں معاف کرے ، حضرت حذیفہ کی یہ بھلائی ان کے آخری دم تک ان میں رہی ، سیرت ابن اسحق میں ہے حضرت زبیر بن عوام فرماتے ہیں میں نے خود دیکھا کہ مشرک مسلمانوں کے اول حملہ میں ہی بھاگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کی عورتیں ہندہ وغیرہ تہمد اٹھائے تیز تیز دوڑ رہی تھیں لیکن اس کے بعد جب تیر اندازوں نے مرکز چھوڑا اور کفار نے سمٹ کر پیچھے کی طرف سے ہم پر حملہ کر دیا ادھر کسی نے آواز لگائی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے پھر معاملہ برعکس ہو گیا ورنہ ہم مشرکین کے علم برداروں تک پہنچ چکے تھے اور جھنڈا اس کے ہاتھ سے گر پڑا تھا لیکن عمرہ بن علقمہ حارثیہ عورت نے اسے تھام لیا اور قریش کا مجمع پھر یہاں جمع ہو گیا ، حضرت انس بن مالک چچا حضرت انس بن نضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ رنگ دیکھ حضرت عمر حضرت طلحہ وغیرہ کے پاس آتے ہی اور فرماتے ہیں تم نے کیوں ہمتیں چھوڑ دیں ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو شہید ہو گئے ۔ حضرت انس نے فرمایا پھر تم جی کر کیا کرو گے؟ یہ کہا اور مشرکین میں گھسے پھر لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ رب العزت سے جا ملے رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، یہ بدر والے دن جہاد میں نہیں پہنچ سکے تھے تو عہد کیا تھا کہ آئندہ اگر کوئی موقعہ آیا تو میں دکھا دوں گا چنانچہ اس جنگ میں وہ موجود تھے جب مسلمانوں میں کھلبلی مچی تو انہوں نے کہا الہ میں مسلمانوں کے اس کام سے معذور ہوں اور مشرکوں کے اس کام سے بری ہوں پھر اپنی تلوار لے کر آگے بڑھ گئے راہ میں حضرت سعد بن معاذ سے ملے اور کہنے لگے کہاں جا رہے ہو؟ مجھے تو جنت کی خوشبو کی لپٹیں احد پہاڑ سے چلی آرہی ہیں چنانچہ مشرکوں میں گھس گئے اور بڑی بےجگری سے لڑے یہاں تک کہ شہادت حاصل کی اسی سے زیادہ تیرو تلوار کے زخم بدن پر آئے تھے پہچانے نہ جاتے تھے انگلی کو دیکھ کر پہچانے گئے رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک حاجی نے بیت اللہ شریف میں ایک مجلس دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے کہا قریشی ہیں پوچھا ان کے شیخ کون ہیں ؟ جواب ملا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ، اب وہ آیا اور کہنے لگا میں کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں حضرت عبداللہ نے فرمایا پوچھو اس نے کہا آپ کو اس بیت اللہ کی حرمت کی قسم کیا آپ کو علم ہے کہ ( حضرت ) عثمان بن عفان احد والے دن بھاگ گئے تھے؟ آپ نے جواب دیا ہاں ۔ کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر والے دن بھی حاضر نہیں ہوئے تھے؟ فرمایا ہاں ، کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیعت الرضوان میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے؟ فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے ، اب اس نے ( خوش ہوکر ) تکبیر کہی ، حضرت عبداللہ نے فرمایا ادھر آ ، اب میں تجھے پورے واقعات سناؤں ، احد کے دن کا بھاگنا تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا ، بدر کے دن کی غیر حاضری کے باعث یہ ہوا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور وہ اس وقت سخت بیمار تھیں تو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ تم نہ آؤ مدینہ میں ہی رہو تمہیں اللہ تعالیٰ اس جنگ میں حاضر ہونے کا اجر دے گا اور غنیمت میں بھی تمہارا حصہ ہے ، بیعت الرضوان کا واقعہ یہ ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کے پاس اپنا پیغام دے کر حضرت عثمان کو بھیجا تھا اس لئے کہ مکہ میں جو عزت انہیں حاصل تھی کسی اور کو اتنی نہ تھی انکے تشریف لے جانے کے بعد یہ بیعت لی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ کھڑا کر کے کہا یہ عثمان کا ہاتھ ہے پھر اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا ( گویا بیعت کی ) پھر اس شخص سے کہا اب جاؤ اور اسے ساتھ لے جاؤ پھر فرمایا آیت ( او تصعدون ) الخ یعنی تم اپنے دشمن سے بھاگ کر پہاڑ چڑھ رہے تھے اور مارے خوف و دہشت کے دوسری جانب توجہ بھی نہیں کرتے تھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تم نے وہیں چھوڑ دیا تھا وہ تمہیں آوازیں دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے کہ بھاگو نہیں لوٹ آؤ ، حضرت سدی فرماتے ہیں مشرکین کے اس خفیہ اور پر زور اور اچانک حملہ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے کچھ تو مدینہ کی طرف لوٹ آئے کچھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اللہ کے نبی آوازیں دیتے رہے کہ اللہ کے بندوں میری طرف آؤ اللہ کے بندو میری طرف آؤ ، اس واقعہ کا بیان اس آیت میں ہے ، عبداللہ بن زحری شاعر نے اس واقعہ کو نظم میں بھی ادا کیا ہے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صرف بارہ آدمیوں کے ساتھ رہ گئے تھے مسند احمد کی ایک طویل حدیث میں بھی ان تمام واقعات کا ذکر ہے ، دلائل النبوۃ میں ہے کہ جب ہزیمت ہوئی تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف گیارہ شخص رہ گئے اور ایک حضرت طلحہ بن عبید اللہ تھے ، آپ پہاڑ پر چڑھنے لگے لیکن مشرکین نے آگھیرا آپ نے اپنے ساتھیوں یک طرف متوجہ ہو کر فرمایا کوئی ہے جو ان سے مقابلہ کرے ، حضرت طلحہ نے اس آواز پر فوراً لبیک کہا اور تیار ہو گئے لیکن آپ نے فرمایا تم ابھی ٹھہر جاؤ اب ایک انصاری تیار ہوئے اور وہ ان سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہوئے اسی طرح سب کے سب ایک ایک کر کے شہید ہو گئے اور اب صرف حضرت طلحہ رہ گئے گویہ بزرگ ہر مرتبہ تیار ہو جاتے تھے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روک لیا کرتے تھے آخر یہ مقابلہ پر آئے اور اس طرح جم کر لڑے کہ ان سب کی لڑائی ایک طرف اور یہ ایک طرف اس لڑائی میں ان کی انگلیاں کٹ گئیں تو زبان سے حس نکل گیا آپ نے فرمایا اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے یا اللہ کا نام لیتے تو تمہیں فرشتے اٹھا لیتے اور آسمان کی بلندی کی طرف لے چڑھتے اور لوگ دیکھتے رہتے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے مجمع میں پہنچ چکے تھیں ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت قیس بن حازم فرماتے ہیں میں نے دیکھا حضرت طلحہ کا وہ ہاتھ جسے انہوں نے ڈھال بنایا تھا شل ہو گیا تھا ، حضعرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں میرے پاس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ترکش سے احد والے دن تمام تیر پھیلا دئیے اور فرمایا تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں لے مشرکین کو مار آپ اٹھا اٹھا کر دیتے جاتے تھے اور میں تاک تاک کر مشرکین کو مارتا جاتا تھا اس دن میں نے دو شخصوں کو دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں تھے اور سخت ترین جنگ کر رہے تھے میں نے نہ تو اس سے پہلے کبھی انہیں دیکھا تھا نہ اس کے بعد یہ دونوں حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام تھے ایک اور روایت میں ہے کہ جو بزرگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھگدڑ کے بعد تھے اور ایک ایک ہو کر شہید ہوئے تھے انہیں آپ فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ہے جو انہیں رو کے اور جنت میں جائے میرا رفیق ہے ، ابی بن خلف نے مکہ میں قسم کھائی تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کروں گا ، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ تو نہیں بلکہ میں انشاء اللہ اسے قتل کروں گا احد والے دن یہ خبیث سرتاپا لوہے میں غرق زرہ بکتر لگائے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا اور یہ کہتا آتا تھا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم بچ گئے تو میں اپنے تئیں ہلاک کر ڈالوں گا ادھر سے حضرت مصعب بن عمیر اس ناہنجار کی طرف بڑھے لیکن آپ شہید ہو گئے اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف بڑھے اس کا سارا جسم لوہے میں چھپا ہوا تھا صرف ذرا سی پیشانی نظر آ رہی تھی آپ نے اپنا نیزہ تاک کر وہیں لگایا جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا اور یہ تیورا کر گھوڑے پر سے گرا گو اس زخم سے خون بھی نہ نکلا تھا لیکن اس کی یہ حالت تھی کہ بلبلا رہا تھا لوگوں نے اسے اٹھا لیا لشکر میں لے گئے اور تشفی دینے لگے کہ ایسا کوئی کاری زخم نہیں لگا کیوں اس قدر نامردی کرتا ہے آخر ان کے طعنوں سے مجبور ہو کر اس نے کہا میں نے سنا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں ابی کو قتل کروں گا سچ مانو اب میں کبھی نہیں بچ سکتا تم اس پر نہ جاؤ کہ مجھے ذرا سی خراش ہی آئی ہے اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کل اہل ذی المجاز کو اتنا زخم اس ہاتھ سے لگ جاتا تو سب ہلاک ہو جاتے پس یونہی تڑپتے تڑپتے اور بلکتے بلکتے اس جہنمی کی ہلاکت ہوئی اور مر کر جہنم رسید ہوا ، مغازی محمد بن اسحاق میں ہے کہ جب یہ شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا تو صحابہ نے اس کے مقابلہ کی خواہش کی لیکن آپ نے انہیں روک دیا اور فرمایا اسے آنے دو جب وہ قریب آ گیا تو آپ نے حضرت حارث بن صمہ سے نیزہ لے کر اس پر حملہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نیزہ دیکھتے ہی وہ کانپ اٹھا ہم نے اسی وقت سمجھ لیا کہ اس کی خیر نہیں آپ نے اس کی گردن پر وار کیا اور وہ لڑکھڑا کر گھوڑے پر سے گرا ، حضرت ابن عمر کا دہشت ناک شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے اور دیکھا کہ ایک شخص کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس آگ میں گھسیٹا جا رہا ہے اور وہ پیاس پیاس کر رہا ہے اور دوسرا شخص کہتا ہے اسے پانی نہ دینا یہ پیغمبر کے ہاتھ کا مارا ہوا ہے یہ ابی بن خلف ہے ، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے آپ اپنے سامنے کے چار دانتوں کی طرف جنہیں مشرکین نے احد والے دن شہید کیا تھا اشارہ کر کے فرما رہے تھے اللہ کا سخت تر غضب ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کیا اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا غضب ہے جسے اللہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں قتل کرے اور روایت میں یہ لفظ ہیں کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی کیا ، عتبہ بن ابی وقاص کے ہاتھ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ زخم لگا تھا سامنے کے چار دانٹ ٹوٹ گئے تھے ، رخسار پر زخم آیا تھا اور ہونٹ پر بھی ، حضرت سعد بن ابی وقاص فرمایا کرتے تھے مجھے جس قدر اس شخص کی حرص تھی کسی اور کے قتل کی نہ تھی ۔ یہ شخص بڑا بد خلق تھا اور ساری قوم سے اس کی دشمنی تھی اس کی برائی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کافی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی ہونے والے پر اللہ سخت غضبناک ہے ، عبدالرزاق میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیلئے بد دعا کی کہ اے اللہ سال بھر میں یہ ہلاک ہو جائے اور کفر پر اس کی موت ہو چنانچہ یہی ہوا اور یہ بدبخت کافر مرا اور جہنم واصل ہوا ۔ ایک مہاجر کا بیان ہے کہ چاروں طرف سے احد والے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر تیروں کی بارش ہو رہی تھی لیکن اللہ کی قدرت سے وہ سب پھیر دیئے جاتے تھے ، عبداللہ بن شہاب زہری نے اس دن قسم کھا کر کہا کہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھا دو وہ آج میرے ہاتھ سے بچ نہیں سکتا اگر وہ نجات پا گیا تو میری نجات نہیں اب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لپکا اور بالکل آپ کے پاس آ گیا اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نظر ہی نہ آئے جب وہ نامراد پلٹا تو صفوان نے اسے طعنہ زنی کی اس نے کہا اللہ تعالیٰ کی طرف سے محفوظ ہیں ہمارے ہاتھ نہیں لگنے کے سنو! ہم چار شخصوں نے ان کے قتل کا پختہ مشورہ کیا تھا اور آپس میں عہدو پیمان کئے تھے ہم نے ہر چند چاہا لیکن کامیابی نہ ہوئی واقدی کہتے ہیں لیکن ثابت شدہ بات یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی کو زخمی کرنے والا ابن قمیہ اور ہونٹ اور دانتوں پر صدمہ پہچانے والا عتبہ بن ابی وقاص تھا ۔ ام المومنین حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ میرے والد حضرت ابو بکر جب احد کا ذکر فرماتے تو صاف کہتے کہ اس دن کی تمام تر فضلیت کا سہرا حضرت طلحہ کے سر ہے میں جب لوٹ کر آیا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت میں جان ٹکائے لڑ رہا ہے میں نے کہا اللہ کرے یہ طلحہ ہو اب جو قریب آ کر دیکھا تو طلحہ ہی تھے رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں نے کہا الحمد اللہ میری ہی قوم کا ایک شخص ہے میرے اور مشرکوں کے درمیان ایک شخص تھا جو مشرکین میں کھڑا ہوا تھا لیکن اسکے بےپناہ حملے مشرکوں کی ہمت توڑ رہے تھے غور سے دیکھا تو وہ حضرت عبیدہ بن جراح تھے ، اب جو میں نے بغور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے ہیں چہرہ زخمی ہو رہا ہے اور پیشانی میں زرہ کی دو کڑیاں کھب گئی ہیں میں آپ کی طرف لپکا لیکن آپ نے فرمایا ابو طلحہ کی خبر لو میں نے چاہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں سے وہ دونوں کڑیاں نکالوں لیکن حضرت ابو عبیدہ نے مجھے قسم دے کر روک دیا اور خود قریب آئے اور ہاتھ سے نکالنے میں زیادہ تکلیف محسوس کر کے دانتوں سے پکڑ کر ایک کو نکال لیا لیکن اس میں ان کا دانت بھی ٹوٹ گیا میں نے اب پھر چاہا کہ دوسری میں نکال لوں لیکن حضرت ابو عبیدہ نے پھر قسم دی تو میں رک رہا انہوں نے پھر دوسری کڑی نکالی اب کی مرتبہ بھی ان کے دانت ٹوٹے اس سے فارغ ہو کر ہم حضرت طلحہ کی طرف متوجہ ہوئے ہم نے دیکھا کہ ستر سے زیادہ زخم انہیں لگ چکے ہیں انگلیاں کٹ گئی ہیں ہم نے پھر ان کی بھی خبر لی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کا خون حضرت ابو سعید خدری نے چوسا تاکہ خون تھم جائے پھر ان سے کہا گیا کہ کلی کر ڈالو لیکن انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں کلی نہ کروں گا پھر میدان جنگ میں چلے گئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص جنتی شخص کو دیکھنا چاہتا ہو تو انہیں دیکھ لے چنانچہ یہ اسی میدان میں شہید ہوئے ، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہوا سامنے کے دانت ٹوٹے سر کا خود ٹوٹا ، حضرت فاطمہ خون دھوتی تھیں اور حضرت علی ڈھال میں پانی لالا کر ڈالتے جاتے تھے جب دیکھا کہ خون کسی طرح تھمتا ہی نہیں تو حضرت فاطمہ نے بوریا جلا کر اس کا راکھ زخم پر رکھ دی جس سے خون بند ہوا ۔ پھر فرماتا ہے ، تمہیں غم پر غم پہنچا ( بِغَمِّ ) کا بامعنی میں علیٰ کے ہے جیسے آیت ( فی جذوع النخل ) میں فی معنی میں علیٰ کے ہے ، ایک غم تو شکست کا تھا جبکہ یہ مشہور ہو گیا کہ ( اللہ نہ کرے ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جان پر بن آئی ، دوسرا غم مشرکوں کو پہاڑ کے اوپر غالب آکر چڑھ جانے کا جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے یہ بلندی کے لائق نہ تھے ، حضرت عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں ایک غم شکست کا دوسرا غم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی خبر کا اور یہ غم پہلے غم سے زیادہ تھا ، اسی طرح یہ بھی ہے کہ ایک غم تو غنیمت کا ہاتھ میں آکر نکل جانے کا تھا دوسرا شکست ہونے کا اسی طرح ایک اپنے بھائیوں کے قتل کا غم دوسرا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایسی منحوس خبر کا غم ۔ پھر فرماتا ہے جو غنیمت اور فتح مندی تمہارے ہاتھ سے گئی اور جو زخم و شہادت ملی اس پر غم نہ کھاؤ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جو بلندی اور جلال والا ہے وہ تمہارے اعمال سے خبردار ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣٦] غزوہ احد میں چونکہ مسلمانوں کا کافی جانی نقصان ہوگیا اور بہت سے صحابہ زخمی بھی ہوگئے تھے تو مسلمانوں کے اس نقصان سے مشرکین یہود اور منافق سب بہت خوش تھے اور مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے تھے کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے نبی ہوتے تو مسلمانوں کو کبھی شکست نہ ہوتی اور نہ ہی وہ خود زخمی ہوتے۔ نیز آئندہ بھی اگر جنگ ہوئی تو تمہارا یہی حشر ہوا تو اس سے یہ بہتر نہیں کہ اب بھی اپنا نفع و نقصان سوچ لو۔ کچھ مسلمانوں کو طعنے بھی دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ اگر تم ان کی باتوں میں آگئے تو پھر یہ لوگ تمہیں اسی جاہلی دور کی طرف لوٹا دیں گے جس سے اللہ نے اپنے فضل سے تمہیں اسلام کے ذریعہ نکالا ہے۔ نیز یہ کہ یہ لوگ کسی حال میں بھی تمہاری مدد نہیں کریں گے۔ اللہ پر بھروسہ رکھو اور ثابت قدم رہو وہی تمہارا سب سے اچھا مددگار ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تُطِيْعُوا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : احد کی عارضی سی شکست کے بعد کفار نے، جن میں منافقین، یہود و نصاریٰ اور مشرکین سبھی شامل تھے، مسلمانوں کے دلوں میں مختلف قسم کے شکوک و شبہات پیدا کر کے انھیں اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی، اس پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ کفار کے فریب میں مت آنا، ورنہ تم خسارے میں پڑجاؤ گے۔ یہ آیت بھی پچھلی آیت کے مضمون کو مکمل کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ دنیا میں سب سے بڑا خسارا یہ ہے کہ کوئی انسان اپنے دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال دے اور آخرت کا خسارا ثواب سے محرومی اور عذاب میں گرفتاری ہے۔ پس خسارہ عام ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

When Muslims faced a temporary setback during the battle of Uhud and rumours went around that the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been martyred, the hypocrites found an occasion for mischief under the shadows of a battle nearly lost. They said to Muslims: &Now, that the Prophet is no more with us, why should we not go back to our old faith and thus get rid of all conflicts between us?& This shows how ugly the conduct of hypocrites was and how avowed an enemy they were to Muslims. In the verses appearing above, Muslims have been instructed not to listen to such enemies, nor to make them a party to any consultations among themselves, nor follow any advice given by them. In the previous verses, it will be recalled, the instruction was to follow the men of Allah; here, the instruction is not to act upon the advice of hypocrites and anti-Islam people. Indeed, the instruction is to continue taking guard against them. The Qur&anic expression, &they will make you turn back on your heels&, means that the real objective of anti-Islam people is to disengage Muslims from their Faith through engineered suspicion either overtly or covertly, the later method being designed and implemented in a manner which serves to gradually decrease the love and honour of Islam from their hearts resulting in a reversal of their position. Thus, those aiming to push Muslims in a state of loss cannot be their friends, even if they claim to be. The statement, &...Allah is your Lord and He is the best of helpers& tells Muslims to place their trust in Allah and rely on His help alone. Even if their antagonists come up with plans of help, Muslims should not go by these against the injunctions of Allah and the Messenger.

خلاصہ تفسیر ربط آیات غزوہ احد میں مسلمانوں کی عارضی شکست اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کی افواہ گرم ہونے پر منافقین نے جب جنگ کا پانسہ پلٹتے دیکھا تو شرارت کا موقع مل گیا، مسلمانوں سے کہنے لگے کہ جب آپ ہی نہ رہے تو ہم اپنا ہی دین کیوں نہ اختیار کرلیں، جس سے سارے جھگڑے مٹ جائیں اس سے منافقین کی خباثت اور مسلمانوں کا بدخواہ دشمن ہونا ظاہر ہے، اس لئے آیت مذکورہ میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان دشمنوں کی بات پر کان نہ لگائیں، ان کو اپنے کسی مشورہ میں شریک نہ کریں، نہ ان کے کسی مشورہ کا اتباع کریں، تو جیسے پچھلی آیات میں اللہ والوں کا اتباع کرنے کی ہدایت تھی اس میں منافقین اور مخالفین اسلام کے مشورہ پر عمل نہ کرنے اور ان سے بچنے رہنے کی ہدایت ہے، خلاصہ تفسیر یہ ہے : اے ایمان والو اگر تم کہنا مانگو گے کافروں کا تو وہ تم کو (کفر کی طرف) الٹا پھیر دیں گے (مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کا اصل مقصد مسلمانوں کو ان کے دین سے ہٹا اور بدگمان کرنا ہے رفتہ رفتہ ان کے دل سے اسلام کی عظمت و محبت کم ہوتی چلی جائے) پھر تم (ہر طرح) ناکام ہوجاؤ گے (خلاصہ یہ کہ وہ تمہارے دوست ہرگز نہیں اگر اظہار دوستی کا کریں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی تمہارا دوست ہے اور وہ سب سے بہتر مدد کرنے والا ہے (اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ صرف اللہ تعالیٰ پر اعتماد کریں، اسی کی مدد پر بھروسہ کریں، مخالفین اگر تمہاری نصرت و امداد کی کچھ تدبیریں بھی بتلائیں تو اللہ و رسول کے احکام کے خلاف ان پر عمل نہ کرو)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تُطِيْعُوا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَرُدُّوْكُمْ عَلٰٓي اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِيْنَ۝ ١٤٩ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] ، وقوله في صفة جبریل عليه السلام : مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] ، والتَّطَوُّعُ في الأصل : تكلُّفُ الطَّاعَةِ ، وهو في التّعارف التّبرّع بما لا يلزم کالتّنفّل، قال : فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] ، وقرئ :( ومن يَطَّوَّعْ خيراً ) ( ط و ع ) الطوع کے معنی ( بطیب خاطر ) تابعدار ہوجانا کے ہیں اس کے بالمقابل کرھ ہے جس کے منعی ہیں کسی کام کو ناگواری اور دل کی کراہت سے سر انجام دینا ۔ قرآن میں ہے : ۔ ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] آسمان و زمین سے فرمایا دونوں آؤ دل کی خوشی سے یا ناگواري سے وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] حالانکہ سب اہل آسمان و زمین بطبیب خاطر یا دل کے جبر سے خدا کے فرمانبردار ہیں ۔ یہی معنی الطاعۃ کے ہیں لیکن عام طور طاعۃ کا لفظ کسی حکم کے بجا لانے پر آجاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم دل سے آپ کے فرمانبردار ہیں ۔ طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21]( خوب بات ) فرمانبردار ی اور پسندیدہ بات کہنا ہے ۔ کسی کی فرمانبرداری کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] اور اس کے رسول کی فر مانبردار ی کرو ۔ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] جو شخص رسول کی فرمانبردار ی کرے گا بیشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی ۔ وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] اور کافروں کا کہا نہ مانو ۔ اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] سردار اور امانتدار ہے ۔ التوطوع ( تفعل اس کے اصل معنی تو تکلیف اٹھاکر حکم بجالا نا کے ہیں ۔ مگر عرف میں نوافل کے بجا لانے کو تطوع کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے ۔ ایک قرات میں ومن یطوع خیرا ہے كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ رد الرَّدُّ : صرف الشیء بذاته، أو بحالة من أحواله، يقال : رَدَدْتُهُ فَارْتَدَّ ، قال تعالی: وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147] ( رد د ) الرد ( ن ) اس کے معنی کسی چیز کو لوٹا دینے کے ہیں خواہ ذات شے کہ لوٹا یا جائے یا اس کی حالتوں میں سے کسی حالت کو محاورہ ہے ۔ رددتہ فارتد میں نے اسے لوٹا یا پس وہ لوٹ آیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147] ( مگر بکے ) لوگوں سے اس کا عذاب تو ہمیشہ کے لئے ٹلنے والا ہی نہیں ۔ عقب العَقِبُ : مؤخّر الرّجل، وقیل : عَقْبٌ ، وجمعه : أعقاب، وروي : «ويل للأعقاب من النّار» واستعیر العَقِبُ للولد وولد الولد . قال تعالی: وَجَعَلَها كَلِمَةً باقِيَةً فِي عَقِبِهِ [ الزخرف/ 28] ، وعَقِبِ الشّهر، من قولهم : جاء في عقب الشّهر، أي : آخره، وجاء في عَقِبِه : إذا بقیت منه بقيّة، ورجع علی عَقِبِه : إذا انثنی راجعا، وانقلب علی عقبيه، نحو رجع علی حافرته ونحو : فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] ، وقولهم : رجع عوده علی بدئه قال : وَنُرَدُّ عَلى أَعْقابِنا [ الأنعام/ 71] ، انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ [ آل عمران/ 144] ، وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] ، ونَكَصَ عَلى عَقِبَيْهِ [ الأنفال/ 48] ، فَكُنْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ تَنْكِصُونَ [ المؤمنون/ 66] ( ع ق ب ) ب والعقب پاؤں کا پچھلا حصہ یعنی ایڑی اس کی جمع اعقاب ہے حدیث میں ہے ویلمَةً باقِيَةً فِي عَقِبِهِ [ الزخرف/ 28] وضو میں خشک رہنے والی ایڑیوں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے اور بطور استعارہ عقب کا لفظ بیٹے پوتے پر بھی بولا جاتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے ۔ اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے ۔ جاء فی عقب الشھر مہنے کے آخری دنوں میں آیا ۔ رجع علٰی عقیبہ الٹے پاؤں واپس لوٹا ۔ انقلب علٰی عقیبہ وہ الٹے پاؤں واپس لوٹا جیسے : ۔ رجع علٰی ھافرتہ کا محاورہ ہے اور جیسا کہ قرآن میں ہے : فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے لوٹ گئے ۔ نیز کہا جاتا ہے ۔ رجع عودہ علٰی بدئہ یعنی جس راستہ پر گیا تھا اسی راستہ سے واپس لوٹ ایا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَنُرَدُّ عَلى أَعْقابِنا [ الأنعام/ 71] تو کیا ہم الٹے پاؤں پھرجائیں ۔ انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ [ آل عمران/ 144] تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ ( یعنی مرتد ہوجاؤ ) اور جو الٹے پاؤں پھر جائیگا ۔ ونَكَصَ عَلى عَقِبَيْهِ [ الأنفال/ 48] تو پسپا ہوکر چل دیا ۔ فَكُنْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ تَنْكِصُونَ [ المؤمنون/ 66] اور تم الٹے پاؤں پھر پھرجاتے تھے ۔ عقبہ وہ اس کے پیچھے پیچھے چلا اس کا جانشین ہوا جیسا کہ دبرہ اقفاہ کا محاورہ ہے ۔ خسر ويستعمل ذلک في المقتنیات الخارجة کالمال والجاه في الدّنيا وهو الأكثر، وفي المقتنیات النّفسيّة کالصّحّة والسّلامة، والعقل والإيمان، والثّواب، وهو الذي جعله اللہ تعالیٰ الخسران المبین، وقال : الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] ، ( خ س ر) الخسروالخسران عام طور پر اس کا استعمال خارجی ذخائر میں نقصان اٹھانے پر ہوتا ہے ۔ جیسے مال وجاء وغیرہ لیکن کبھی معنوی ذخائر یعنی صحت وسلامتی عقل و ایمان اور ثواب کھو بیٹھنے پر بولا جاتا ہے بلکہ ان چیزوں میں نقصان اٹھانے کو اللہ تعالیٰ نے خسران مبین قرار دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] جنہوں نے اپنے آپ اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈٖالا ۔ دیکھو یہی صریح نقصان ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

108. That is, they would push them back into the same state of unbelief from which they had extricated themselves. Since the Battle of Uhud the hypocrites and the Jews had constantly propagated the idea that, had Muhammad been a true Prophet, he would not have suffered the reverse that he encountered in that battle. This reverse was offered as proof that Muhammad (peace be on him) was an ordinary person whose fortunes varied, like those of other men, between victory and defeat. They further contended that the support and patronage of God which Muhammad claimed to enjoy was a sham.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :108 یعنی جس کفر کی حالت سے تم نکل کر آئے ہو اسی میں تمہیں پھر واپس لے جائیں گے ۔ منافقین اور یہودی احد کی شکست کے بعد مسلمانوں میں یہ خیال پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر واقعی نبی ہوتے تو شکست کیوں کھاتے ۔ یہ تو ایک معمولی آدمی ہیں ۔ ان کا معاملہ بھی دوسرے آدمیوں کی طرح ہے ۔ آج فتح ہے تو کل شکست ۔ خدا کی جس حمایت و نصرت کا انہوں نے تم کو یقین دلا رکھا ہے وہ محض ایک ڈھونگ ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(149 ۔ 153) ۔ جب شیطان نے یہ خبر اڑا دی کہ حضور شہید ہوگئے تو بعض کچے مسلمان یہ کہنے لگے کہ اب ہم اپنے باپ دادا کے دین پر قائم ہوجائیں تو اچھا ہے ان لوگوں کی صلاح نہ ماننے کی تنبیہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرمایا کہ ایسے لوگوں کا کہناماننے میں دین کا خسارہ ہے دنیا کا تو یہ کہ اللہ مسلمانوں کا حامی اور مددگار ہے۔ اس لئے آخر ان کو غلبہ ہوگا۔ اور جس طرح اب تم کو جان و مال کا خوف کافروں سے ہے۔ اگر تم کافروں میں شریک ہوگئے۔ تو وہی خوف تم کو مسلمانوں سے کرنا پڑے گا اور دین کا یہ نقصان کہ عقبیٰ میں اللہ کے عذاب میں پکڑے جاؤ گے اور جن کافروں کا تم کو خوف ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں یہ سبب ان کے جھوٹے دین پر ہونے کے مسلمانوں کے رعب ڈال دیا ہے۔ اس لئے ان سے ڈرنا بےفائدہ ہے۔ صحیحین میں حضرت جابر بن عبد اللہ (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ایک مہینے کے راستہ پر سے میرا رعب دشمنوں پر پڑتا ہے ١۔ یہ بھی ہدایت اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمائی کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اس رعب کے سب سے باوجود اس کے کہ مسلمان سات سو تھے اور ان کے دشمن تین ہزار تھے۔ اول اول شرع لڑائی میں اللہ کے حکم سے مسلمانوں کی فتح ہوئی تھی۔ لیکن تیراندازوں نے لوٹ کے لالچ سے اللہ کے رسول کے حکم کی نافرمانی کی اس سے یہ شکست خود تمہارے ہاتھوں سے ہوئی۔ اور مال غنیمت ہاتھ نہ لگنے کا غم رسول وقت کے شہید ہونے کی خبر سننے کا غم بھائی بندوں کے شہید ہونے کا غم شکست کھانے کا غم یہ غم پر غم سب تم کو سہنے پڑے۔ خیر اللہ نے اپنے فضل سے اب تو تمہارا قصور معاف کیا۔ مگر آئندہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:149) یردوکم علی اعقابکم۔ ای یرجعوکم الی امرکم الاول وھو الکفر۔ و الشرک باللہ۔ یعنی تمہیں تمہاری پہلی حالت کی طرف لوٹا دیں گے جو کفر و شرک کی حالت تھی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 احد کی شکست کے بعد کفار نے جن میں منافقین یہود و نصاری اور مشرکین سبھی شامل تھے۔ مسلمانوں کے دلوں میں مختلف قسم کے شکو کو شبہاے پیدا کر کے ان کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی متنبہ کیا کفار کے فریب میں مت آنا ورنہ تم خسارے میمن پڑجا و گے پس یہ آیت بھی آیات کا تتمہ ہے یادر رہے کہ دنیا میں سب سے بڑ اخسارہ یہ ہے یہ کہ کوئی انسان اپنے دشمن کے سامنے سپر انداز ہوجائے اور آخرت کا خسارہ ثواب سے محرومی اور عذاب میں گرفتاری ہے پس خسارہ عام ہے۔ (کبیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 149 155 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا………وھو خیر الناصرین۔ مومنین کو ہمیشہ ارشادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ اگر کفار کی بات پر کان دھریں گے تو وہ مومنوں کو بھی کھینچ کر کفر کی دلدل میں پھینک دیں گے جو ایک عظیم نقصان ہے اور جس کی عملی صورت احد میں ظاہر ہوئی کہ کفار نے علی الاعلان کہا کہ ہمیں واپس اپنے آبائی دین کی طرف لوٹ جانا چاہیے۔ احد مدینہ منورہ سے کچھ دور نہیں تھا اور منافقین اگرچہ ابن ابی کی سرکردگی میں لوٹ کر چلے گئے تھے مگر پھر بھی دور نزدیک سے جنگ کا تماشہ دیکھ رہے تھے جب مشرکین نے درہ سے حملہ کیا ، اور ان کی ساری فوج پلٹی تو وقتی طور پر ایک افراتفری کا عالم ضرور بپا ہوا اور ہونا بھی چاہیے تھا کہ مسلمان پہلے بھی تعداد میں کم تھے اور سخت جانفشانی سے لڑے تھے کہ مشرکین بھاگ نکلے اور اسی جوش تعاقب میں درہ پر متعین لوگ بھی تعاقب میں شامل ہوگئے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تو ایک طرف متوجہ تھے۔ کہ مشرکوں کے ایک رسالے نے درے سے نکل کر عقب پر حملہ کردیا ، ان کی طرف پلٹے تو بھاگئی ہوئی مشرک فوج پلٹ پڑی اور چکی کے دوپاٹوں میں آگئے اور اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت کی گپ نے ، جو شیطان مردود نے اڑا دی تھی ، کسر ہی نکال دی۔ مگر تائید باری ہے ان خوش نصیبوں کو محروم نہ رکھا پھر فتحمند ہوئے اور بھاگتے ہوئے مشرکوں کا حمر الاسد کے مقام تک تعاقب بھی کیا اور منافقین کو شرمندگی نصیب ہوئی۔ تو جب مسلمان انتہائی مصیبت کی حالت میں دو طرفہ گھرے ہوئے لڑ رہے تھے۔ ان کی صفیں منتشر ہوچکی تھیں اور زخموں سے چور جس میدان میں تڑپ رہے تھے کہ بھاگ دوڑ کر لڑنے والوں کے زخموں پر مزید نمک پاشی منافقین کے قول نے کی ، ” ابن ابی کے پاس جائو ! تمہیں ابو سفیان سے امان حال کردے گا۔ یا آبائی مذہب کو پلٹ آئو کہ اب اس دین میں کیا رکھا ہے ؟ جب نبی ہی قتل ہوچکا “۔ (معاذ اللہ) تو اللہ کریم نے مومنوں کو ان کی خباثت سے مطلع فرما کر حکم دیا کر خبردار ! ان کی بات پر ہرگز کان نہ دھرنا تو پھر کفر کی ذلت اور تباہی میں گرانے کی کوشش کریں گے اور تمہارا مددگار تو اللہ ہے۔ ولی اللہ : اور یہی ولایت ہے کہ ولی اللہ محفوظ ہوتے ہیں۔ اللہ کریم گناہوں کے مقامات اور حالات سے ان کی حفاظت فرماتے ہیں۔ جیسے یہاں ارشاد ہوا کہ اللہ تمہارا مولیٰ اور ولی ہے کہ تمہیں منافقین کے ارادوں سے مطلع فرما کر حفاظت کا سامان کردیا اور وہی سب سے بہتر مددگار ہے۔ یہ بات واضح ہوگئی کہ بدکار اور تارک سنت والی اللہ نہیں ہوسکتا۔ ایسے لوگوں کے پیچھے پھرنا نبوی جہالت ہے نیز شیطان کسی بڑے بڑے آدمی پر بھی وار کرنے سے نہیں چوکتا کہ عین میدان جہاد میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے موجود ہوتے ہوئے نعرہ لگانے سے باز نہ آیا۔ مگر مخلصین کو رحمت باری تھام تھام لیتی ہے اور ابلیس کے یہ دائو صرف ان لوگوں کو متاثر کرتے ہیں جو لوگ اللہ سے کٹ جائیں جیسا کہ ارشاد ہے ، سنلقی فی قلوب الذین کفروا الدعب بما اشرکو باللہ…واللہ ذوافضل علی المومنین۔ کافروں کے قلوب کو مرعوب کردیا جائے گا کہ خود انہوں نے اللہ سے شرک کرکے جس کی کوئی دلیل نہیں اس حال کو دعوت دی ہے کہ شرک کا وبال ہمیشہ انسان کو متعدد دروازوں پر بھٹکاتا رہتا ہے اور ایک ایک شے کا خوف اس کے دل میں بٹھاتا رہتا ہے ۔ بخلاف اس کے توحید اللہ سے ڈرنے کی دعوت بھی ہے اور اعتمادی علی اللہ مخلوق کے ڈر سے فارغ بھی کردیتا ہے۔ یہ حال تو دنیا میں ہے۔ آخرت میں مشرک کا ٹھکانہ دوزخ ہے جو بہت برا ٹھکانہ ہے اور ایسے ظالموں کے لئے سزاوار بھی ہے۔ نیز تمہیں ان کی طرف متوجہ ہونے کی کیا ضرورت کہ اللہ نے تمہارے ساتھ کئے ہوئے وعدے سچ ثابت فرمائے اور باوجود قلت تعداد کے اور سامان حرب کی کمی کے تم محض اللہ کی مدد سے انہیں قتل کر رہے تھے اور ان کے بڑے لشکر کو بھاگنے پر مجبور کردیا تھا کہ تمہاری رائے میں کمزور ی آگئی اور تم میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا۔ جو غیر شعوری طور پر عین حصول فتح یا تکمیل فتح کے موقع سے چھوٹ گیا۔ یعنی درہ پر مقررہ پچاس تیر اندازوں میں سے بیشتر نے کفار کے بھاگتے ہوئے لشکر کا تعاقب کرنا چاہا کچھ لوگوں نے وہیں جمے رہنے پر اصرار کیا۔ تھوڑے لوگ وہاں رہ گئے۔ اکثر چلے گئے۔ ان کی رائے یہ تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم لڑائی تک تھا اب جنگ ختم ہوگئی مشرک بھاگ رہے ہیں ، یہاں کھڑا رہنے کی ضرورت نہیں مگر حقیقتا ً ایسا نہ تھا۔ انہیں وہاں پر پہرہ دینا چاہیے تھا۔ مگر وہ وہاں سے ہٹ گیا تو یہ غیرارادی طور پر سر زد ہونے والی نافرمانی بھی وجہ ابتلاء بن گئی کہ تمہارا فیصلہ بڑی حد تک دنیاوی عظمت کی طلب رکھتا تھا۔ حالانکہ وہاں کھڑے رہنے والے محض آخرت کی طلب میں کھڑے رہے۔ یہاں یہ بات ضرور دیکھ لی جائے کہ اکثر حضرات نے دنیا سے مراد غنیمت کو لیا ہے حالانکہ غنیمت لوٹنے سے نہیں ملتی بلکہ سارا مال ایک جگہ جمع ہو کر باقاعدہ تقسیم ہوتا ہے کوئی بہت لوٹے یا تھوڑا جو حصے میں آئے وہ مل جاتا ہے میری نظر میں یہاں دنیا سے مراد وہ جوش ہے جو تعاقب کرنے والوں میں شامل ہونے کا سبب بنا۔ اس میں کسی حد تک تفاخر کی جھلک بھی ہے جو عظمت صحابہ (رض) کے ساتھ نہیں جچتی ۔ فوراً امتحان میں ڈال دیا اور حالات کو الٹ دیا اب صحابہ (رض) کٹنے لگے ، شہید ہوئے اور زخموں سے چور ہوگئے تو پھر معافی کی اطلاع بھی کردی ، نہ صرف معاف فرمادیا بلکہ بذریعہ وحی آگاہ بھی فرمادیا اور فرمایا کہ اللہ تو مومنین کے حق میں بہت ہی مہربان ہے اسی لئے تم پر فضل کیا ہے۔ یہ آیہ کریمہ صحابہ کرام (رض) کے کمال ایمان پر نص ہے۔ اذتصعدون ولا تلون علی احد…………ان اللہ غفور حلیم۔ اس کے بعد اس وقت کی حالت کا نقشہ کھینچا ہے کہ وہ وقت یاد کرو جب تم جدھر کو منہ اٹھاتے ادھر کو بڑھنے لگتے تھے اور میدان میں تتر بتر ہوچکے تھے حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آوازیں دینا پڑیں۔ یہاں بھی بعض حضرات نے لکھا ہے کہ کچھ لوگ بھاگ گئے تھے۔ مگر یہ بات قرین قیاس نہیں ہے کہ جو لوگ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے ہوں انہیں پیچھے سے بلایا جائے اول تو یہ فرار اکبر الکبائر ہے۔ دوسرے شہر قریب تھا بھاگنے والے گھروں میں جارکتے۔ پھر وہ کس کی سنتے ؟ بات صرف اتنی تھی کہ دو طرفہ حملے میں مٹھی بھر صحابہ (رض) کوئی ترتیب قائم نہ رکھ سکے اور میدان میں بکھر گئے جس کے باعث بیشتر شہید اور زخمی ہوئے اور اس پر یہ اعلان سن کر کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید ہوگئے اور بھی حالت دگرگوں ہوگئی تھی۔ حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آواز دی اور اپنے جمع ہونے کے لئے فرمایا تو سب وہاں جمع ہوگئے بکھری ہوئی قوت سمٹ آئی اور مشرکین کو نہ صرف بھگایا بلکہ تعاقب بھی کیا۔ یہی ارشاد یہاں موجود ہے کہ تمہیں غم پہ غم دیکھنا پڑا۔ غرض اصلی تربیت تھی کہ کامل فنا حاصل ہوجائے اور کسی بھی کام کے ہوجانے پر تمہاری قلبی کیفیت میں فرق نہ آئے۔ یعنی جو واقعہ بھی سامنے آئے تم اس کے پیچھے اس ذات کو دیکھ سکو جو افعال کی خالق ہے اور تمہارے اعمال سے بہت ہی باخبر۔ اسی لئے تو اس تمام امر کے بعد تم پر اونگھ سی نازل کردی جس نے مخلصین کو ڈھانپ لیا۔ یہ استغراقی کیفیت مراد ہے جو نزول تجلیات پر پیش آتی ہے اور صوفی پر بھی جب انوار کی کثرت ہو تو یہ حالت ہوجاتی ہے کہ بیدار بھی ہوتا ہے اور جسم بےحس ہوجاتا ہے جیسے کہ حضرت ابوطلحہ (رض) کا ارشاد ہے کہ احد میں یہ حال ہوا کہ میں تلوار کو مضبوطی سے تھامنا چاہ رہا تھا اور وہ میرے ہاتھ سے گری جارہی تھی۔ رہے منافق ! تو یہ برکات ان کے نصیب کہاں ، بلکہ عین اس وقت جب یہ نزول رحمت ہورہا تھا اور وہ اسی جاہلیت کے دور میں اور وہموں میں مبتلا تھے اور ذات باری سے بدظن ہو رہے تھے کہ جب خزرج کے لوگوں کو شہید ہوتے دیکھا تو ابن ابی نے کہا کیا کسی بات کا فیصلہ ہمارے اختیار میں بھی یا محض دوسروں کے فیصلوں کی وجہ سے ہمارے بھائی کٹتے رہیں گے۔ مراد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلے سے تھی تو ارشاد ہوا کہ کہہ دیجئے ! سب کام اللہ کے دست قدرت میں ہے اور میرا فیصلہ اسی ذات عظیم کا فیصلہ ہے کہ یہی بات انہوں نے دلوں میں چھپا رکھی تھی جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے نہیں کہہ پاتے ورنہ ان کے دل میں ہے کہ اگر ہماری بات پر عمل ہوتا تو یہ ہمارے لوگ کٹ کر نہ مرتے۔ انہیں فرمادیں کہ اگر تم اندر چھپ جائو تو بھی جنہیں قتل ہونا تھا۔ انہیں تقدیر وہیں لے آتی۔ جہاں ان کے لئے قتل ہونا مقدر ہوچکا تھا۔ اور یہ جنگ جو تمہارے لئے وجہ امتحان بن گئی کہ منافقین کا بھید کھل گیا ، اور مخلصین کے دل مزید صاف ہوگئے۔ منافقین کے پیدا کردہ وس اس کی بنیاد ہل گی کہ اللہ دلوں کے بھیدوں سے آگاہ ہے اور وہی دلوں میں کیفیات کو پیدا فرماتا ہے اور یہ بات یادرکھو کہ میدان میں جن حضرات کے قدم ڈگمگائے انہیں شیطان نے لغزش دے دی تھی کہ بعض نے مدینہ منورہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی منشاء مبارک کے خلاف رائے دے کر اور کچھ لوگوں نے درہ سے ہٹ کر قصور کیا تھا اس غیر ارادی غلطی کی وجہ سے بھی ان کے دلوں سے انوار کی وہ کثرت جاتی رہی جو شیطان کے وساوس کو بےاثر کرتی تھی۔ اس نے لغزش صادر کر اہی دی۔ لیکن اللہ نے ان کو معاف فرمادیا۔ کہ یہ ارادۃً صادر نہ ہوا تھا۔ بلکہ دونوں مقامات پر غیرارادی قصور تھا۔ اللہ کریم نے معاف فرمادیا۔ مگر دنیوی مصائب و تکلیف اس پر بھی مرتب ہوئیں اور ان سے دامن نہ بچایا جاسکا۔ بیشک اللہ بہت بڑا بخشنے والا اور تحمل والا ہے۔ یہاں ایسے لوگوں کو غور کرنا چاہیے جو بدقسمتی سے عمداً ترک سنت میں مبتلا ہیں۔ کیا وہ ایسے افعال پر کسی اچھے نتیجے کی امید کرسکتے ہیں ؟ کہ ان کا شان صحابہ (رض) کا سا ہے ، نہ جذبہ اور نہ خطا اجتہادی۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 149 تا 151 یردوکم (وہ تمہیں لوٹا دیں گے) اعقابکم (تمہاری ایڑیاں) تنقلبوا (تم پلٹ جاؤ گے) مولٰکم (وہ تمہارا مالک ہے) سنلقی (عنقریب ہم ڈالیں گے) الرعب (ہیبت) لم ینزل (نہیں اتاری) سلطان (دلیل) ماوٰی (ٹھکانا) مثوٰی (ٹھکانا) ۔ تشریح : آیت نمبر 149 تا 151 اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے گذشتہ امتوں کے حق پرست مجاہدین کی فروشیوں کا ذکر فرما کر مسلمانوں کو جنگ اور جہاد میں بلند ہمت رہنے کی تلقین فرمائی تھی۔ اور بتایا تھا کہ فتح وشکست کوئی حیثیت نہیں رکھتے اصل بات یہ ہے کہ ایک مومن کا مقصود اصلی صرف اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی ہوتا ہے۔ غزوۂ احد کی عارضی شکست کے بعد ایک طرف تو مسلمانوں کے دل ٹوٹے ہوئے تھے انہیں اس بات کا شدید افسوس تھا کہ ان کی معمولی سی لغزش کی وجہ سے اتنی جانیں ضائع ہوئیں۔ فتح شکست میں بدل گئی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ذہینی وجسمانی اذیت پہنچی ۔ دوسری طرف کفار اور منافقین نے موقع پاکر مسلمانوں کو طعنے بھی دینے شروع کئے اور طرح طرح کی باتیں بھی کرنا شروع کردیں۔ کوئی کہتا اگر تم سچے دین پر ہوتے تو اس طرح تم شکست نہ کھاتے ، منافقین نے خیر خواہی کا لبادہ اوڑھ کر یہ باتیں پھیلانا شروع کردیں کہ کفار کی طاقت بہت زیادہ ہے ان سے لڑنا اور مقابلہ کرنا خود موت کے منہ میں جانا ہے۔ انسان بڑا کمزور پیدا کیا گیا ہے ان باتوں اور طعنوں سے مخلص مسلمانوں کے دل اور چھلنی ہونے لگے تھے۔ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ اے مسلمانوں اگر تم ان کفار اور منافقین کی باتوں میں آگئے تو یہ لوگ تمہیں اسلام اور اس کی سچائی سے بدگمان کردیں گے اس سے ان دوزخیوں کا تو کچھ نہ بگڑے گا لیکن تمہاری دنیا اور آخرت برباد ہوکررہ جائیگی۔ اسلئے تم اللہ ہی پر مکمل بھروسہ رکھو۔ اس کی امداد پر اعتماد کرو۔ کیونکہ تمہیں کامیاب کرنے والی اللہ ہی کی ذات ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے کفار کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دیا ہے چناچہ اللہ نے ایسے اسباب پیدا کئے کہ غزوۂ احد سے ناکام ہونے کے بعد ” روحا “ کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے مدینہ کے خستہ حال مسلمانوں پر دوبارہ حملہ کا پروگرام بنایا مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت جو تدبیر فرمائی کہ آپ صحابہ کو لیکر کفار کے تعاقب میں چلے۔ اس بات کا کفار پر ایسا رعب پڑا کہ پھر وہ تیزی سے مکہ واپس چلے گئے۔ اللہ اپنے بندوں کو اسی طرح کامیاب فرمایا کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جب تمہارے دشمن احد میں تمہیں عظیم نقصان پہنچا چکے اور تمہیں کافر بنانے کے درپے ہیں تو ان سے خیر کی توقع کا کیا معنٰی ؟ مسلمانوں تمہارا مولیٰ اور خیر خواہ صرف اللہ تعالیٰ ہے بس اس پر بھروسہ رکھو۔ سورۃ آل عمران کی آیت ١٠٠ میں مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر تم کفار اور منافقین کے پیچھے چلو گے تو وہ تمہیں کافر بناکر چھوڑیں گے۔ اب دوبارہ تاکید کی جارہی ہے کہ اے مومنو ! تم کافروں کے پیچھے لگو گے تو وہ تمہیں یکسر الٹے پاؤں پھیر دیں گے جس سے تمہیں دنیا اور آخرت میں نقصان اٹھانا پڑے گا۔ یاد رکھو ! صرف اللہ ہی تمہاری مدد کرنے والا ہے عنقریب وہ کفار کے دلوں میں تمہارا رعب اور دبدبہ ڈال دے گا کیونکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ جس کی اللہ تعالیٰ نے کسی صورت بھی تائید نہیں فرمائی۔ ان کا ٹھکانہ دہکتی ہوئی آگ ہے اور یہ ظالموں کے لیے بدترین ٹھکانہ ہوگا۔ غزوۂ احد کی ہزیمت کے بعد منافقوں کی سرگرمیاں اس قدر تیز ہوئیں کہ وہ مسلمانوں کے گھروں میں جا جا کر پروپیگنڈہ کرتے کہ اگر یہ رسول سچا ہوتا تو اللہ اس کی نصرت و حمایت ضرور کرتا اور تمہیں اس طرح اپنی قیمتی جانوں سے محروم نہ ہونا پڑتا۔ تم اپنی خیر اور تحفظ چاہتے ہو تو ہمارے ساتھ مل جاؤ تاکہ ہم اپنے رئیس عبداللہ بن ابی کے ذریعے اہل مکہ سے تمہیں حفظ وامان کی گارنٹی لے دیں۔ یہاں کمزور مسلمانوں کو ارتداد اور منافقت سے بچانے کے لیے ایک دفعہ پھر حکم دیا گیا ہے کہ اگر تم منافقوں کے پیچھے چلو گے تو یقیناً وہ تمہیں مرتد کردیں گے۔ یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی تمہارا خیر خواہ اور مددگار نہیں ہوسکتا۔ عنقریب اللہ تعالیٰ کفار پر تمہارا رعب اور دبدبہ ڈال دے گا۔ چناچہ احد کے دورانیہ میں دو دفعہ کفار پر ایسا رعب پڑا کہ وہ خود بخود پسپا ہوئے اور اس پسپائی پر ہمیشہ شرمندہ رہے۔ ایک اس وقت جب درّے کے راستہ مسلمانوں پر ان کے عقب سے انہوں نے حملہ کیا اور جونہی مسلمان اکٹھے ہوئے تو انہوں نے بھاگنے میں اپنی عافیت سمجھی۔ دوسری دفعہ جب مدینے سے کچھ میل دور جا کر مسلمانوں پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے لگے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم ہوا تو آپ نے حکم دیا کہ ہمارے ساتھ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے وہی لوگ نکلیں جو احد کی جنگ میں شریک تھے۔ کچھ تازہ دم لوگوں نے بھی نکلنا چاہا لیکن آپ نے ایک آدمی کے سوا کسی کو اجازت نہیں دی (الرحیق المختوم) جب تھکے ماندے اور انتہائی زخمی احد کے مجاہدوں کے ساتھ آپ نکلے تو کافروں نے صورت حال جان کر مکہ کی راہ لی۔ اس طرح دوسری مرتبہ کفار پر مسلمانوں کا دبدبہ طاری ہوا۔ ایسے موقع پر رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (نُصِرْتُ بالرُّعْبِ مَسِیْرَۃَ شَھْرٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب التیمم ] ” اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا رعب عطا کردیا ہے کہ میرا دشمن ایک مہینے کی مسافت پر بیٹھا ہوا بھی کانپتا رہے گا۔ “ اسی رعب کا نتیجہ تھا کہ جب آپ نے مکہ پر یلغار کی تو مکہ والوں نے مقابلہ کرنے کی بجائی آپ سے معافی مانگ کر جان بچائی۔ اس کے بعد حنین والے پسپا ہوئے اور آخر میں سلطنت روم کے حکمران جو اس وقت دنیا کی واحد سپر پاور تھی تبوک کے مقام پر آپ کا سامنا کرنے کی تاب نہ لاسکے۔ مسائل ١۔ مسلمانوں کو کفار کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ ٢۔ کافر مسلمانوں کو مرتد بنا کر دنیا و آخرت کے نقصان میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا مالک اور بہترین مدد کرنے والا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کفار کے دل میں مسلمانوں کا رعب ڈالتا ہے۔ ٥۔ کافروں کے پاس اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کی کوئی دلیل نہیں۔ ٦۔ کفار کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ تفسیر بالقرآن شرک بےبنیاد نظریہ ہے : ١۔ شرکیہ عقیدے کی کوئی دلیل نہیں۔ (المومنون : ١١٧) ٢۔ شرک سے آدمی ذلیل ہوجاتا ہے۔ (الحج : ٣١) ٣۔ بتوں کے الٰہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ (النجم : ٢٣) ٤۔ مشرک پر جنت حرام ہے۔ (المائدۃ : ٧٢) ٥۔ مشرک کو اللہ تعالیٰ کسی صورت معاف نہیں کرے گا۔ (النساء : ٤٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیات کے اس مجموعے کو اگر گہری نظر سے دیکھاجائے تو یہ اپنے اندر زندگی سے بھرپور مناظر کی ایک بڑی مقدار کو لئے ہوئے ہے اور ان مناظر کے علاوہ انسانی زندگی اور اسلامی تصور حیات دونوں کے نہایت ہی اساسی حقائق اس میں ثبت کئے گئے ہیں ۔ نیز اس میں کائنات کے بعض اٹل اصول بھی بیان کئے گئے ہیں ۔ جہاں تک اس معرکہ کا تعلق ہے ‘ اس کی جھلکیاں زندگی سے بھرپور ‘ بڑی تیزی کے ساتھ اور بڑی گہرائی کے ساتھ پیش کی گئی ہیں ‘ اس معرکے کا کوئی اہم پہلو نہیں چھوڑا گیا اور وہ اس انداز میں فلم بند ہوا ہے کہ اسے پڑھ کر شعور اور جذبات میں ایک طلاطم برپا ہوجاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پوری طرح زندہ ‘ جزئیات پر مشتمل فضائے جنگ اور اس کے حالات وواقعات ان میں ریکارڈ کئے گئے ہیں ۔ اس کے اندر انسانی ضمیر میں پیدا ہونے والے خلجان اور شعوری اور لاشعوری حرکات کی طرف بھی اشارے کئے گئے ہیں ۔ جن کی وجہ سے سیرت النبی کی مفصل کتابوں میں بیان کردہ تمام واقعات مستحضر ہوجاتے ہیں اور اس تبصرے کے نتیجے میں اسلامی تصور حیات کے اصلی حقائق ‘ زندہ شکل میں ‘ حرکت کرتے ہوئے اور مسلمانوں کے لئے صحیح تصور حیات تعمیر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس میں شک نہیں ہے کہ اس معرکے کے تمام مشاہدات اور پورے حقائق کو الفاظ وفقرات کی اس مختصر مقدار میں ‘ زندگی سے بھرپور انداز میں ‘ حرکات اور اشارات کے اس مخصوص انداز میں ثبت کردینا ‘ کسی انسانی تعبیر کے لئے نہ ممکن ہے اور نہ ہی تاریخ آداب انسانی میں اس کی کوئی مثال ہے اور اس کا ادراک وہی شخص کرسکتا ہے جسے اسلوب ادا کے اسرار اور انسان کی قوت ادا کی حدود کا علم ہوتا ہے ‘ خصوصاً وہ لوگ جن کو مشکل تعبیرات سے واسطہ پڑتا ہے اور جو فن تعبیر میں درک رکھتے ہیں۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِينَ (١٤٩) بَلِ اللَّهُ مَوْلاكُمْ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ ” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم ان لوگوں کے اشاروں پر چلوگے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تم کو الٹا پھیر لے جائیں گے تو تم نامراد ہوجاؤگے ۔ حقیقت یہ ہے اللہ ہی تمہارا حامی و مددگار ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے ۔ “ جنگ احد میں مسلمانوں کو جو شکست ہوئی ‘ ایک بڑی تعداد ماری گئی ایک بڑی تعداد زخمی ہوئی ۔ اس سے مدینہ کے کفار ‘ منافقین اور یہودیوں کو یہ موقعہ مل گیا کہ وہ از سر نو اٹھیں اور مسلمانوں کو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ دینے کے نتائج سے ڈرائیں ۔ انہیں جنگ کی ہولناکیوں سے آگاہ کریں اور خصوصاً مکہ کے مشرکین اور قریش کے حلفاء کے ساتھ مزید معرکہ آرائی کے نتائج سے انہیں خائف کریں ۔ ظاہر ہے کہ شکست وریخت کی یہ فضاء دلوں و متزلزل کرنے ‘ اسلامی صفوں کو منتشر کرنے اور اسلامی قیادت کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے اور اپنے مقابلے میں زیادہ طاقتور قوتوں کے ساتھ ٹکرانے پر اصرار کرنے کی پالیسی کو جاری رکھنے کے فوائد کو مشکوک بنانے اور اس پالیسی سے نکل آنے کی افادیت ظاہر کرنے ‘ اور کامیاب ہونے والوں کے ساتھ مصالحت کی احادیث ظاہر کرنے اور اس سلسلے میں انفرادی درد وغم کو برانگیختہ کرنے کے لئے بہت زیادہ موزوں تھی ۔ یہ لوگ چاہتے تھے کہ اس فضا سے فائدہ اٹھاکر اسے جماعت مسلمہ کی بیخ کنی کے لئے استعمال کیا جائے ۔ اس کے بعد اسلامی نظریہ حیات کی بیخ کنی تک اسے پہنچایا جائے اور اہل اسلام کو اس پر آمادہ کرلیا جائے کہ وہ اپنے سے قوی لوگوں کے سامنے جھک جائیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس امر سے سخت الفاظ سے ڈرا کر منع فرمایا کہ وہ پالیسی کے معاملات میں اہل کفر کی اطاعت نہ کریں۔ اس معاملہ میں اگر وہ ان کی پیروی کریں گے تو اس کا نتیجہ لازماً خسارے کی شکل میں سامنے آئے گا ۔ اس میں کوئی نفع اور کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ البتہ یہ ہوگا کہ وہ الٹے پاؤں پھر دوبارہ کفر میں داخل ہوجائیں گے ۔ مومن کے لئے دوہی راستے ہیں ‘ یا تو وہ کفر اور اہل کفر کے ساتھ مسلسل برسر جنگ رہے گا ‘ باطل اور اہل باطل کے ساتھ برسر پیکار رہے گا اور یا پھر الٹے پاؤں پھر کر مرتد ہوجائے گا ۔ نعوذ باللہ منھا۔ ان دونوں راستوں کے سوا کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے کہ وہ علیحدہ ہو کر غیر جانبدار کھڑا ہوجائے ‘ بین بین رہے اور اپنے موقف پر بھی جما رہے اور اپنے دین کی حفاظت کررہا ہو ۔ ہوسکتا ہے کہ اس کی سوچ میں یہ بات آتی ہو خصوصاً اس معرکے میں شکست کی فضا میں ‘ چوٹ اور زخم کھاکر وہ یہ سوچ رہا ہو کہ مومن کے لئے ممکن ہے کہ وہ غالب قوتوں کے ساتھ اس معرکہ آرائی سے نکل آئے ‘ ان کے ساتھ مصالحت کرے ‘ ان کی پیروی کرے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے دین کی حفاظت بھی کرتا ہو ‘ اس کا عقیدہ اپنی جگہ درست ہو ‘ اس کا ایمان قائم ہو ‘ اس کا وجود بھی قائم رہے لیکن یہ سوچ ایک خطرناک واہمہ ہے اس لئے کہ وہ حق و باطل کے اس معرکے میں جو آگے نہیں بڑھتا وہ لازماً پیچھے کو پلٹتا ہے ۔ اور جو شخص کفر ‘ شر ‘ باطل ‘ گمراہی اور نافرمانی کے خلاف جدوجہد نہیں کرتا وہ لازماً ذلیل و خوار ہوگا ‘ الٹے پاؤں پھرے گا اور کفر ‘ شر ‘ گمراہی ‘ باطل اور نافرمانی میں داخل ہوجائے گا ۔ جسے اس کا ایمان نہ بچاسکے گا ‘ اس کا نظریہ حیات نہ بچاسکے گا ‘ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ کفار کی پیروی کررہا ہو ‘ ان کی بات سن رہا ہو اور ان پر اعتماد کررہا ہو تو درحقیقت اس شخص نے اپنے ایمان اور نظریہ حیات کا موقف چھوڑ دیا ہے ۔ وہ روحانی طور پر شکست کھاچکا ہے کیونکہ جب ایک نظریاتی شخص اپنے مخالفین کے سامنے جھکتا ہے تو وہ روحانی طور پر ٹوٹ چکا ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ اب وہ ان کی وسوسہ اندازی سے متاثر ہوتا ہے۔ ان سے ہدایات لیتا ہے ۔ یہی تو ہے شکست ۔ اب کسی بھی وقت دوبارہ عقیدہ کفر کی طرف پلٹ سکتا ہے ۔ اسے اس اخری شکست سے بچانے والا کوئی نہیں ہے ۔ اگرچہ ابتدا میں اسے احساس نہیں ہوتا کہ وہ ایک ایسی راہ پر پڑگیا ہے جس کا انجام حسرتناک ہوگا۔ صحیح مومن تو وہ ہوتا ہے جو اپنے عقیدے اور اپنی قیادت کی وجہ سے اپنے نظریاتی دشمنوں اور اپنی قیادت کے دشمنوں سے بےنیاز ہوجاتا ہے اور جب بھی وہ ان دشمنوں کی طرف کان دھرے گا گویا اس نے الٹے پاؤں سفر کا آغاز کردیا ہے ۔ یہ ایک فطری حقیقت اور عملی حقیقت ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے اہل ایمان کو آگاہ فرماتے ہیں ‘ متنبہ کرتے ہیں اور پکارتے ہیں يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِينَ…… ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم ان لوگوں کے اشاروں پر چلوگے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تم کو الٹا پھیر لے جائیں گے اور تم نامراد ہوجاؤگے ۔ “ اس سے بڑا خسارہ کیا ہوسکتا ہے کہ انسان الٹے پاؤں پھرے اور ایمان کے بعد کفر کی راہ کو از سرنو اختیار کرے ۔ اگر ایمان چلاجائے تو پھر کون فائدہ اس کی کمی کو پورا کرسکتا ہے ؟ سوال یہ ہے کہ تم کفار کی طرف مائل اس لئے ہوسکتے ہو کہ تم ان سے حمایت کی امید رکھتے ہو گے اور یہ کہ ان کو اس وقت فتح حاصل ہے ۔ یہ بہت بڑا وہم ہے جس میں تم مبتلا ہو ‘ اس لئے اس وہم کو رد کرنے کے لئے اچانک روئے سخن اس طرف مڑتا ہے کہ منبع نصرت وحمایت کہاں ہے بَلِ اللَّهُ مَوْلاكُمْ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ……………” حقیقت یہ ہے کہ تمہارا حامی و مددگار صرف اللہ ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے۔ “ مسلمانوں کی ولایت کا مرجع اللہ ہے ۔ وہ اسی سے نصرت طلب کرسکتے ہیں اور جس کا مددگار اللہ ہو تو اسے کسی دوسرے مددگار کی ضرورت کیا رہتی ہے ؟ جس کا ناصر اللہ ہو اسے بندوں کی جانب سے کسی نصرت کی ضرورت ہی کیا ہے ؟

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کافروں کی اطاعت نہ کرو اوپر تین آیتوں کا ترجمہ مذکور ہے۔ پہلی آیت میں کافروں کی بات ماننے پر زجر و توبیخ ہے اور اس کا نتیجہ بیان فرمایا ہے کہ اگر تم کافروں کی بات مانو گے تو وہ تم کو واپس الٹے پاؤں لوٹا دیں گے یعنی پھر سے دین شرک میں داخل کرلیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو تم بری طرح سے نا کام ہوجاؤ گے دنیا کی خیر اور آخرت کی سعادت دونوں سے محرومی ہوگی۔ پھر دوسری آیت میں فرمایا (بَلِ اللّٰہُ مَوْلٰکُمْ وَھُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ ) کہ اللہ تمہارا مولیٰ ہے اسی کی فرمانبر داری کرو اور اسی سے مدد مانگو اور وہ سب مدد کرنے والوں سے بہتر ہے۔ صاحب روح المعانی صفحہ ٨٧: ج ٤ میں لکھتے ہیں کہ کفروا سے منافقین مراد ہیں۔ جب شکست ہوگئی تو انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ اپنے بھائیوں کی طرف واپس ہوجاؤ اور ان کے دین میں داخل ہوجاؤ یہ حضرت علی سے منقول ہے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ ابو سفیان اور اس کے ساتھی یعنی مشرکین مکہ جو غزوہ احد میں جنگ کرنے کے لیے آئے تھے وہ مراد ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ ان کے سامنے عاجزی ظاہر نہ کرو اور ان سے امان طلب نہ کرو (کیونکہ اس موقعہ پر بعض لوگوں نے یہ رائے بھی دی تھی کہ اب ہتھیار ڈال دیں اور دشمنوں سے امان طلب کریں) ۔ اور یہود و نصاریٰ بھی مراد ہوسکتے ہیں اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ان کے مشوروں میں ان کو مخلص نہ جانو ان کی باتیں نہ مانو۔ ابن جریج نے اسی کو اختیار کیا ہے، قرآن مجید کا طرز بیان عام ہے جس میں ہمیشہ کے لیے تمام مسلمانوں کو کافروں کی باتیں اور ان کے مشورے ماننے کی ممانعت فرما دی ہے، مومن کا کام ہے کہ اللہ ہی سے مانگے اسی کو اپنا مددگار سمجھے کافروں کے سامنے نہ جھکے اور نہ ان کو خیر خواہ سمجھے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

220 یہ مومنوں کو کافروں کے اتباع سے زجر ہے۔ حضرت شیخ نے فرمایا کہ الذین کفروا سے مشرکین مراد ہیں جو مسلمانوں کو شرک کی طرف بلاتے اور ان کو جہاد میں شریک ہونے روکتے تھے۔ قال السدی ھم ابو سفیان و اصحابہ من عباد الاوثان (بحر ص 76 ج 3) یعنی اے ایمان والو مشرکین کی اطاعت مت کرو اور جہاد میں سستی اور کمزوری مت دکھاؤ یا اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْ سے وہ منافقین مراد ہیں جنہوں نے شکست احد کے وقت مسلمانوں سے کہا تھا کہ اپنے آبائی دین میں واپس آجاؤ قال علی (رض) یعنی المنافقین فی قولھم للمؤومنین عند الھزیمۃ ارجعوا الی اخوانکم وادخلوا فی دینکم (معالم ص 262 ج 1) یعنی اگر تم ان منافقوں کی بات مان لو گے تو وہ تمہیں پھر کفر وشرک کی طرف دھکیل دیں گے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم دنیا اور آخرت کی خیر وسعادت سے محروم ہوجاؤ گے اور یہ سب سے بڑا خسارہ ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi