Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 158

سورة آل عمران

وَ لَئِنۡ مُّتُّمۡ اَوۡ قُتِلۡتُمۡ لَاِالَی اللّٰہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾

And whether you die or are killed, unto Allah you will be gathered.

بِالیقین خواہ تم مر جاؤ یا مار ڈالے جاؤ جمع تو اللہ تعالٰی کی طرف ہی کئے جاؤ گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And whether you die or are killed, verily, unto Allah you shall be gathered.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَىِٕنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ ۔۔ الخ : اوپر کی آیت میں خاص قسم کے قتل اور موت، یعنی فی سبیل اللہ کا ذکر تھا، جس پر رحمت و مغفرت کی خوش خبری تھی، اب یہاں عمومی موت اور قتل کا ذکر ہے ( جس طرح بھی واقع ہو) مطلب یہ کہ تمہیں مر کر بہر حال ہمارے پاس آنا اور اپنے اعمال کا اچھا یا برا بدلہ پانا ہے، اگر تمہاری زندگی اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر ہو اور اسی کی راہ میں موت ہو تو تم اپنے اعمال کا خوش کن بدلہ پاؤ گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَىِٕنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاِالَى اللہِ تُحْشَرُوْنَ۝ ١٥٨ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے حشر الحَشْرُ : إخراج الجماعة عن مقرّهم وإزعاجهم عنه إلى الحرب ونحوها، وروي : «النّساء لا يُحْشَرن» أي : لا يخرجن إلى الغزو، ويقال ذلک في الإنسان وفي غيره، يقال : حَشَرَتِ السنة مال بني فلان، أي : أزالته عنهم، ولا يقال الحشر إلا في الجماعة، قال اللہ تعالی: وَابْعَثْ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 36] وَحَشَرْناهُمْ فَلَمْ نُغادِرْ مِنْهُمْ أَحَداً [ الكهف/ 47] ، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما سمّي يوم البعث والنشر، ورجل حَشْرُ الأذنین، أي : في أذنيه انتشار وحدّة . ( ح ش ر ) الحشر ( ن ) ( ح ش ر ) الحشر ( ن ) کے معنی لوگوں کو ان کے ٹھکانہ سے مجبور کرکے نکال کر لڑائی وغیرہ کی طرف لے جانے کے ہیں ۔ ایک روایت میں ہے (83) النساء لایحضرون کہ عورتوں کو جنگ کے لئے نہ نکلا جائے اور انسان اور غیر انسان سب کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ کہا جاتا ہے ۔ حشرت النسۃ مال بنی فلان یعنی قحط سالی نے مال کو ان سے زائل کردیا اور حشر کا لفظ صرف جماعت کے متعلق بولا جاتا ہے قرآن میں ہے : وَابْعَثْ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 36] اور شہروں میں ہر کار سے بھیج دیجئے ۔ اور قیامت کے دن کو یوم الحشر بھی کہا جاتا ہے جیسا ک اسے یوم البعث اور یوم النشور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے لطیف اور باریک کانوں والا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٥٨) یاد رکھو موت خواہ سفر یا اقامت یا جہاد کہیں بھی آئے مرنے کے بعد آخرکار تم سب اللہ تعالیٰ کے سامنے جمع کیے جاؤ گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٥٨ ( وَلَءِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاِلَی اللّٰہِ تُحْشَرُوْنَ ) چاہے تمہیں اپنے بستروں پر موت آئے اور چاہے تم قتل ہو ‘ ہر حال میں تمہیں اللہ کی جناب میں حاضر کردیا جائے گا۔ تمہاری آخری منزل تو وہی ہے ‘ خواہ تم بستر پر پڑے ہوئے دم توڑ دو یا میدان جنگ کے اندر جام شہادت نوش کرلو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 اوپر کی آیت میں خاص قسم کے قتل اور موت کا ذکر تھا جس پر رحمت و مغفرت کی خوشخبری تھی۔ اب یہاں عمومی موت وقتل کا ذکر ہے ( یای سبب کا ن) مطلب یہ کہ تمہیں مر کر بہر حال ہمارے پاس آنا اور اپنے اعمال کا اچھا یا برا بدلہ پانا ہے۔ اگر تمہاری جو زند گی اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر ہو اور موت اسی کی راہ میں ہو تو تم اپنے اعمال کا خوش کن بدلہ پا و گے۔ (شو کانی ک۔ المنار )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

242 اگر تم طبعی موت مرجاؤ یا اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے قتل ہوجاؤ تو تمہارے لیے خوف وہراس کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ تم موت اور قتل کے بعد خدائے غفور روحیم کی بارگاہ میں حاضر کیے جاؤ گے جو تمہیں اپنی رحمت اور بخشش سے نوازے گا آخرت میں خدا کی رحمت ومغفرت کے امیدوار صرف تم ایمان والے ہو کفار، مشرکین اور منافقین آخرت میں رحمت ومغفرت کے بجائے خدا کے غضب و عقاب کا موردبنیں گے۔ یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا سے یہاں تک خطاب ایمان والوں سے ہے لیکن اس سے منافقین کا زجر بھی مقصود ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 ورنہ حقیقت حال یہ ہے کہ جلاتا اور مارتا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ وہ سب دیکھ رہا ہے اور تمہارا کوئی عقیدہ یا عمل اس سے پوشیدہ نہیں ہے اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں مار دیئے جائو یا تم اپنی موت سے مر جائو تو یقینا اللہ تعالیٰ کی وہ بخشش جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور وہ مہربانی جو تم کو حاصل ہونیوالی ہے وہ مغفرت و رحمت یقینا دنیا کی ان چیزوں سے بدرجہا بہتر ہے جو چیزیں یہ کافر جمع کیا کرتے ہیں اور اگر تم ویسے بھی اپنی موت سے مرگئے یا مار دیئے گئے تب بھی کیا ہے۔ بہرحال تم سب یقینی طور پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جمع کئے جائو گے اس سے بچ کر تو کہیں نہیں جاسکتے۔ (تیسیر) ان منافقوں کا کہنا یہ تھا کہ سفر میں نہ جاتے اور جہاد میں شریک نہ ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ حضرت حق تعالیٰ نے جواب دیا کہ مارنے اور جلانے والا تو حقیقتاً اللہ تعالیٰ ہے بہت سے آدمی سفر سے اور جہاد سے زندہ آتے ہیں اور بہت سے گھر میں بیٹھے بیٹھے مرتے ہیں اور کبھی مار دیئے جاتے ہیں تو احیاء اور امانت تو خدا کے ہاتھ میں ہے خواہ کوئی سفر میں ہو یا حضر میں یا کوئی میدان جنگ میں ہو یا مجلس صلح میں بیٹھا ہو۔ دوسرا جواب یہ دیا کہ مرنا تو بہرال ہے پھر بجائے اس کے کہ گھر میں ایڑیاں رگڑ کر مرو اگر اللہ کی راہ میں تم شہید کردیئے جائو یا اپنی موت سے مر جائو اور اسی طرح سفر میں مر جائو یا مار دیئے جائو تو جو مغفرت اور رحمت اللہ تعالیٰ کی جانب سے میسر ہوگی وہ ان چیزوں سے بدرجہا بہتر ہے جو یہ کافر گھر میں بیٹھ کر جمع کرتے ہیں۔ اگر سفر سے مراد یہاں کسی نیک کام کا سفر ہو تب تو رحمت و مغفرت کے میسر آنے میں کوئی شبہ ہی نہیں اور قرینہ بھی اسی کا ہے کہ سفر سے مراد نیک سفر ہے لیکن اگر سفر مطلق بھی ہو اور قتل کردیا جائے یا اپنی موت سے مرجائے تب بھی غربت کی موت بہرحال قابل رحم ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اول تو سفر اور جہاد کو موت میں کوئی خاص دخل نہیں اور نہ گھر میں بیٹھنے کی زندگی میں کوئی خاص دخل ہے بلکہ موت اور زندگی میں حقیقی دخل اللہ تعالیٰ کو ہے اور اگر فرض کرو کہ سفر کو اور جہاد کو کوئی دخل ہو بھی تب بھی سفر میں اور جہاد میں مرنا خدا تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کا موجب اور اس سے کہیں بہتر ہے۔ جو یہ لوگ جمع کرتے ہیں یعنی دنیا کے مال و متاع سے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت بہت بہتر ہے ۔ اس لئے فرمایا کہ جو مال حلال سے حاصل کیا جائے اس میں بھی کچھ نہ کچھ بہتری ہوتی ہے۔ آخر میں فرمایا تم کسی طرح مرو یا مارے جائو ۔ تم سب کو خدا کی جناب میں حاضر ہونا ہے اور تم اسی کے روبرو جمع کئے جائو گے اس لئے اللہ تعالیٰ سے انس و محبت بڑھائو اور فراق سے نجات پائو اور یہ جو اوپر کی آیت میں فرمایا تھا۔ لیجعل اللہ ذلک حسرۃ ایک مطلب تو اس کا وہ تھا جو ہم عرض کرچکے ہیں اور ایک وہ ہے جو بعض اور لوگوں نے بیان کیا ہے اور ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے ماما توا وما قتلوا کہنے کا مطلب مسلمانوں سے کوئی ہمدردی کے طور پر نہ تھا بلکہ اس غرض سے تھا کہ مسلمان بزدل ہو کر بیٹھ جائیں اور جہاد میں نہ جایا کریں اور وہ بات پوری نہ سوئی اور مشتاقان جہاد باز نہ آئے اس لئے یہ کہنا ان کا ان کے حق میں اللہ تعالیٰ نے موجب حسرت کردیا اور اشد ندامت کا سبب کردیا اب اس توجیہہ کی شاید ضرورت نہ رہے کہ مئومنین سے کافروں کو ایسی کیا ہمدردی تھی جو انہوں نے یہ کہا پھر ہمدردی ثابت کرنے کے لئے مختلف توجیہات کی جائیں۔ (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی نیک کام پر نکلے اور مرگئے یا مارے گئے تو نکلنے پر افسوس نہ کرے اس میں انکار آتے ہے تقدیر کا اور آخرت کا نہ دیکھنا دنیا کے جینے کو دیکھنا یہ سب خصلت ہے کافروں کی ۔ (موضح القرآن) شاہ صاحب کا مقصد بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ سفر سے مراد ان کے نزدیک نیک سفر ہے (واللہ علم) اب آگے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب ہے اور صحابہ کو معاف فرما دینے کے بعد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہے کہ میں نے ان کو معاف کردیا تم بھی اپنا حق ان کو معاف کردو۔ (تسہیل)