Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 166

سورة آل عمران

وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ یَوۡمَ الۡتَقَی الۡجَمۡعٰنِ فَبِاِذۡنِ اللّٰہِ وَ لِیَعۡلَمَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۶۶﴾ۙ

And what struck you on the day the two armies met was by permission of Allah that He might make evident the [true] believers.

اور تمہیں جو کچھ اس دن پہنچا جس دن دو جماعتوں میں مڈبھیڑہوئی تھی ، وہ سب اللہ کے حکم سے تھا اور اس لئے کہ اللہ تعالٰی ایمان والوں کو ظاہری طور پر جان لے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللّهِ ... And what you suffered on the day the two armies met, was by the leave of Allah, for when you ran away from your enemy, who killed many of you and injured many others, all this occurred by Allah's will and decree out of His perfect wisdom. ... وَلِيَعْلَمَ الْمُوْمِنِينَ in order that He might test the believers. who were patient, firm and were not shaken.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَآ اَصَابَكُمْ ۔۔ : یعنی جنگ احد میں تمہیں جس نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مشیت سے تھا اور اس میں حکمت یہ تھی کہ اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان تمیز ہوجائے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Immediately later, in verse 166, the words fa bi idhnillahi: فَبِإِذْنِ اللَّـه indicate that whatever happened there was with the leave and will of Allah Almighty operating behind which are many wise divine arrange¬ments, some of them having been explained earlier. One such wise arrangement is that Allah will &see& His true believers, and the hypo¬crites too, that is, the sincerity of Muslims and the hypocrisy of the hypocrites will become so clear that everybody could see it for himself. Here, the reference to Allah&s knowing or seeing means seeing in the perspective of our own sense-experience in the mortal world. Otherwise, as far as Allah is concerned, He knows and sees everything, all the time. So, the wise arrangement became all the more clear when, at the time of the trial, the hypocrites bowed out of the harm&s way while true Muslims stood undaunted& in the middle of the battle front.

اس کے بعد کی آیت فباذن اللہ میں اس طرف اشارہ کیا گیا کہ یہ جو کچھ ہوا حق تعالیٰ کے اذن و مشیت سے ہوا، جس میں بہت سی حکمتیں مستور ہیں، جن میں سے بعض کا بیان پہلے بھی، یعنی مؤمنین کا اخلاص اور منافقین کی منافقت ایسی واضح ہوجائے کہ ہر دیکھنے والا دیکھ سکے یہاں اللہ تعالیٰ کے دیکھنے سے مراد یہی ہے کہ دنیا میں جو دیکھنے کی صورت متعارف ہے اس صورت میں دیکھ لیں ورنہ اللہ تعالیٰ تو ہر وقت ہر چیز کو دیکھ رہے ہیں چناچہ یہ حکمت اس طرح واضح ہوگئی کہ اس شدت کے وقت منافقین الگ ہو کر کھڑے ہوئے اور مخلص مومن معرکہ میں ڈٹے رہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَآ اَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِـاِذْنِ اللہِ وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ ١٦٦ ۙ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ وأَذِنَ : استمع، نحو قوله : وَأَذِنَتْ لِرَبِّها وَحُقَّتْ [ الانشقاق/ 2] ، ويستعمل ذلک في العلم الذي يتوصل إليه بالسماع، نحو قوله : فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ البقرة/ 279] . ( اذ ن) الاذن اور اذن ( الیہ ) کے معنی تو جہ سے سننا کے ہیں جیسے فرمایا ۔ { وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ } ( سورة الِانْشقاق 2 - 5) اور وہ اپنے پروردگار کا فرمان سننے کی اور اسے واجب بھی ہے اور اذن کا لفظ اس علم پر بھی بولا جاتا ہے جو سماع سے حاصل ہو ۔ جیسے فرمایا :۔ { فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ } ( سورة البقرة 279) تو خبردار ہوجاؤ کہ ندا اور رسول سے تمہاری چنگ ہے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٦٦۔ ١٦٧) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابو سفیان کی باہم جنگ میں جو تمہیں زخم اور شہادت وغیرہ ہوئی وہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم اور ارادہ سے ہوئی تاکہ مومنین کی جہاد پر بہادری اور منافقین کے راستہ ہی سے مدینہ لوٹ جانے کا اللہ تعالیٰ مظاہرہ کرا دے اور ان منافقوں سے عبداللہ بن جبیر (رض) نے کہا تھا کہ میدان جہاد میں آؤ اور دشمنوں کو اپنے گھروں اور بال بچوں سے دور کرو اور منافق ایمان اور مسلمانوں سے قریب تر ہونے کی بجائے کفر سے زیادہ قریب ہوگئے اور کافر ان منافقین سے ان دنوں بہت زیادہ قریب تھے، یہ منافقین صرف اپنی زبانوں سے اسلام کی حمایت کی باتیں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اہل کفر اور منافقین کو اچھی طرح جانتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٦٦ (وَمَآ اَصَابَکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰہِ ) اللہ کے اذن کے بغیر تو یہ تکلیف نہیں آسکتی تھی۔ (وَلِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَ ) ۔ یہ ظاہر ہوجائے کہ کون ہیں اصل مؤمن ‘ حقیقی مؤمن جو صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ‘ ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:166) ولیعلم میں فاعل اللہ تعالیٰ ہے (تاکہ تمیز کرے اللہ تعالیٰ مؤمنین اور منافقین میں ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : احد کے واقعات پر تبصرہ رواں ہے تاکہ امت آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کی کوشش کرے۔ ساتھ ہی منافقین کا ردّ عمل اور کردار بتلایا گیا ہے۔ اُحد کے دن کفار کے ساتھ ٹکراؤ میں مسلمانوں کو جو کچھ پیش آیا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق تھا۔ اس ارشاد کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے مقدّر میں اسی طرح لکھا تھا اور دوسرا معنٰی یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر کفار کے خلاف برسر پیکار ہوئے جس کے نتیجے میں تمہیں زخم اور پریشانی اٹھانا پڑی۔ اس کے پیچھے یہ فلسفہ کار فرما تھا کہ مومنوں اور منافقوں کے درمیان حد فاصل قائم ہوجائے۔ جب مخلص مسلمان منافقوں کو سمجھا رہے تھے کہ آؤ اللہ کے راستے میں قتال کرو اگر تم لڑنے پر آمادہ نہیں ہو تو کم از کم ہمارے ساتھ شامل ہو کر دفاع کو مضبوط بناؤ۔ لیکن منافق تو یہی کہے جا رہے تھے کہ اگر ہم اسے قتال فی سبیل اللہ سمجھتے تو ضرور تمہارے ساتھ شامل ہوتے کیونکہ اتنے بڑے لشکر کے ساتھ لڑنا سرا سر خود کشی کرنے کے مترادف ہے۔ ایسی صورت میں ہم تمہارے ساتھ کس طرح کھڑے رہ سکتے ہیں ؟ بہر حال منافقین نے واپسی کا فیصلہ کیا تو اس نازک ترین موقعہ پر حضرت جابر (رض) کے والد عبداللہ بن عمرو (رض) نے انہیں ان کا فرض یاد دلانا چاہا کہ واپس آؤ۔ اللہ کی راہ میں لڑو یا دفاع کرو مگر انہوں نے جواب میں کہا کہ اگر ہم جانتے کہ واقعی جہاد ہے تو ہم ضرور تمہارے ساتھ شامل ہوتے یہ جواب سن کر حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) یہ کہتے ہوئے واپس آئے کہ اللہ کے دشمنو ! تم پر اللہ کی مار ہو۔ یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تم سے بےنیاز کر دے گا۔ [ الرحیق المختوم : عبداللہ بن أبی اور اس کے ساتھیوں کی سرکشی ] درحقیقت منافق یہ بہانہ بنا کر مسلمانوں کو کمزور اور کفار پر اپنی ہمدردیاں ظاہر کرنا چاہتے تھے کیونکہ حقیقت میں منافق مسلمانوں کے بجائے کفار کے قریب ہوا کرتے ہیں اور اس دن بھی ایسا ہی تھا۔ منافق مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے لیے وہ کچھ اپنی زبان سے ظاہر کرتے ہیں جو ان کے دل کی آواز نہیں تھی۔ وہ مسلمانوں سے اپنا خبث باطن چھپاسکتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت میں وہ کچھ نہیں چھپا سکتے۔ مسائل ١۔ احد کے دن پہنچنے والی مصیبت میں مومنوں کا امتحان تھا۔ ٢۔ منافق ایمان کے بجائے کفر کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ ٣۔ منافق کا دعو ٰی فریب پر مبنی ہوتا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ آزمائش کے ذریعے مومن اور منافق کے درمیان امتیاز پیدا کرتا ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے جو لوگ چھپاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن منافق کی نشانیاں : ١۔ منافق کو مسلمان کی بھلائی اچھی نہیں لگتی۔ (آل عمران : ١٢٠) ٢۔ منافق صرف زبان سے حق کی شہادت دیتا ہے۔ (المنافقون : ١) ٣۔ منافق کفار سے دوستی رکھتا ہے۔ (البقرۃ : ١٤) ٤۔ منافق دنیا کے فائدے کے لیے اسلام قبول کرتا ہے۔ ( البقرۃ : ٢٠) ٥۔ منافق اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ سنجیدہ نہیں ہوتا۔ (البقرہ : ١٤) ٦۔ منافق مسلمانوں کو حقیر سمجھتا ہے۔ (المنافقون : ٨) ٧۔ منافق کفر کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ (آل عمران : ١٦٧) ٨۔ منافق ریا کار ہوتا ہے۔ (النساء : ١٤٢) ٩۔ منافق جھوٹا ہوتا ہے۔ (البقرہ : ١٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس کے ساتھ ساتھ یہ بات پیش نظر رہے کہ تمام واقعات کی پشت پر اللہ کی تقدیر ہوتی ہے اور اس میں کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے ‘ جس کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے ۔ ہر معاملہ جو پیش آتا اور ہر حادثہ جو واقعہ ہوتا ہے اس کی پشت پر اللہ کی تقدیر ہوتی ہے ۔ ہر حرکت اور ہر سکوں کے پیچھے دست تقدیر ہوتا ہے اور اس کائنات میں جو وقوعہ بھی پیش آتا ہوتا ہے اس کی پشت پر تقدیر ہوتی ہے ۔ وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّهِ……………” جو نقصان لڑائی کے دن جب دو گروہ متقابل ہوئے ‘ تمہیں پہنچا وہ اللہ کے اذن سے تھا ۔ “ یہ نقصان محض اتفاق سے یا سوئے اتفاق سے ازخود پیش نہیں آیا۔ نہ وہ خوامخواہ بطور عبث پیش آیا۔ اس لئے کہ اس کائنات کے اندر ہونے والی ہر حرکت منصوبے اور دست قدرت کے مطابق ہوتی ہے اور مجموعی لحاظ سے ان واقعات کے پیچھے حکمت پوشیدہ ہوتی ہے اور مجموعی لحاظ سے یہ واقعات اس پوری کائنات کی اسکیم کے مطابق ہوتے ہیں ۔ اور اس کے باوجود وہ اس کائنات کے اندر جاری سنن الٰہیہ اور ان اٹل قوانین کے مطابق ہوتے ہیں جن کا کبھی بھی نہ تخلف ہوتا ‘ نہ ان میں کوئی تعطل ہوتا ہے اور نہ ہی وہ قوانین کسی کے ساتھ رورعایت کرتے ہیں۔ تقدیر کے مسئلے میں اسلامی تصور حیات اس قدر کامل ‘ شامل اور متوازن ہے ‘ جس کا مقابلہ آغاز انسانیت سے لے کر آج تک کوئی تصور حیات نہیں کرسکتا۔ اسلامی تصور حیات کے مطابق اس کائنات کا ایک اٹل قانون ہے اور بعض ناقابل تعطل سنن الٰہیہ ہیں ۔ ان اٹل قوانین فطرت اور ناقابل انحراف سنن الٰہیہ کے پیچھے اللہ کا ارادہ کام کرتا ہے اور اللہ کی آزاد مشیئت ہے ‘ جو کسی قید میں مقید نہیں ہے ۔ اور ان سب یعنی سنن الٰہیہ اور مشیئت الٰہیہ کی پشت پر پھر اللہ کی حکمت مدبرہ ہے ۔ اور یہ تمام پھر اللہ کی حکمت مدبرہ کے موافق چلتے ہیں ۔ ناموس کی حکمرانی ہے اور سنن الٰہیہ میں ہر چیز جاری ہیں ، انسان بھی ان ان کا تابع و محکوم ہے ۔ انسان ان سنن الٰہیہ کے دائرے میں اپنے فعل ارادی کے ساتھ اپنے دائرہ اختیار کے اندر کام کرتا ہے ۔ اور وہ اپنی سوچ اور اپنی تدابیر کے مطابق جو کام کرتا ہے ‘ یہ سنن ان افعال پر بھی منطبق ہوتی ہیں اور اس پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔ لیکن یہ سب کچھ اللہ کی تقدیر اور مشیئت کے مطابق ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس میں اللہ کی کوئی حکمت اور تدبیر بھی کام کرتی ہے ۔ اس نظام میں انسان کا ارادہ ‘ اس کی حرکت ‘ اس کی سوچ ‘ اس کی قوت عمل یہ سب کچھ سنن الٰہیہ کا ایک حصہ ہیں ۔ وہ ناموس کائنات کا حصہ ہیں ۔ ان انسانی افعال کے ساتھ بھی اللہ اپنا کام کرتے ہیں ‘ ان کو بھی وہ موثر بناتے ہیں اور یہ سب کچھ پھر بھی اس کے دائرہ قدرت کے اندرہوتا ہے ۔ ان میں سے کوئی چیز نوامیس فطرت اور سنن الٰہیہ کے دائرے سے خارج نہیں ہوتی ۔ اور نہ انسان کی کوئی حرکت اور سوچ ان سنن کے ساتھ متضاد ہوتی ہے یا ان کے بالمقابل ہوتی ہے۔ بعض لوگوں کی سوچ یہ ہے کہ وہ ترازو کے ایک پلڑے میں اللہ کے ارادے کے بالمقابل ہو۔ یہ صورت حال بالکل ممکن نہیں ہے ۔ اسلامی تصورحیات ایسا نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسان اس کا شریک بالمقابل نہیں ہے۔ نہ انسان اللہ کا دشمن ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو اس کا وجود ‘ اس کی فکر ‘ اس کا ارادہ بخشا تھا ‘ اس کی تقدیر ‘ اس کی تدبیر اور زمین کے اندر اس کی فاعلیت اسے عطاکی تھی تو اس نے اس وقت ان انسانی قوتوں اور سنن الٰہیہ کے درمیان کوئی تضاد نہ رکھا تھا اور نہ ان کے درمیان کوئی مقابلہ رکھا تھا۔ نہ یہ چیزیں مشیئت الٰہیہ کے خلاف تھیں ۔ نہ اللہ کے نزدیک یہ سب امور اللہ کی گہری حکمت سے باہر تھے ۔ جو اللہ کی تقدیر کی پشت پر کارفرما ہے۔ اللہ کی سنت اور اللہ کی تقدیر کے اندر یہ بات رکھی گئی تھی کہ انسان اپنی تدبیر سے کام لے ۔ وہ متحرک ہو اور اس کائنات میں مؤثر ہو ۔ وہ سنن الٰہیہ کے بالمقابل کھڑا ہو اور وہ اس پر منطبق ہوں اور اللہ کی سنن کے تحت اس دنیا میں اسے لذت والم ‘ آرام وبے آرامی ‘ سعادت و شقاوت سے دوچار ہونا پڑے اور پھر اس کی ان تمام سرگرمیوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کام کرے جس کے احاطے میں یہ پوری کائنات ہے ‘ نہایت ہی توازن اور تناسق کے ساتھ ۔ یہ واقعات جو احد میں وقوع پذیر ہوئے ‘ وہ اسلامی تصور حیات کی مثال تھے ‘ یعنی تقدیر کے حوالے سے جو ہم بات کر آئے ہیں ۔ ان واقعات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سکھایا کہ فتح وشکست کے بارے میں اس کی سنت کیا ہے ۔ انہوں نے اللہ کی سنت اور اس شرط کی خلاف ورزی کی جو اس نے فتح کے لئے رکھی ہوئی تھی تو اس نے انہیں ان آلام اور ان مصائب سے دوچار کیا جو احد میں انہیں پیش آئے۔ لیکن بات یہاں آکر ختم نہیں ہوگئی ۔ اس مخالفت اور رنج والم کے پیچھے یہ تقدیر کام کررہی تھی کہ ان کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اسلامی صفوں میں منافقین کو چھانٹ کر علیحدہ کردے۔ اہل ایمان کے دلوں کو صاف کردے اور ان کے تصورات کے اندر جو ملاوٹ اور میل تھی اسے دور کردے یا ان کے کردار میں جو ضعف اور کمزوری تھی وہ دورہوجائے۔ بظاہر وہ رنج والم سے دوچار ہوئے ‘ لیکن اپنی جگہ اہل ایمان کے حق میں مستقبل کے اعتبار سے یہ خیر تھا ۔ اگرچہ یہ رنج والم بھی سنت الٰہی کے عین مطابق تھا ‘ اللہ کے سنن میں سے ایک سنت یہ بھی ہے جو مسلمان اسلامی نظام حیات کو قبول کرکے اس کے آگے سرتسلیم خم کریں گے اور عموماً اسلامی نظام کی اطاعت کریں گے ‘ اللہ ان کی حمایت ورعایت کرے گا اور ان کی غلطیاں بھی ‘ اپنی انتہاء پر جاکر وسیلہ ظفر اور ذریعہ خیر ہوں گی ۔ اگرچہ وہ رنج والم سے دوچار ہوں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ رنج والم اور مصائب وشدائد کے ذریعہ تربیت ہوتی ہے ‘ اسلامی صفوں سے کھوٹ دور ہوتا ہے اور آئندہ مرحلے کی خوب تیاری ہوتی ہے ۔ اس مضبوط اور کھلے موقف پر مسلمانوں کے قدم جم جائیں گے ‘ ان کے دل مطمئن ہوں گے ‘ ان میں کوئی تزلزل نہ ہوگا ‘ کوئی حیرانی نہ ہوگی اور کوئی پریشانی نہ ہوگی ۔ اس طرح وہ اللہ کی تقدیر کو انگیز کریں گے ‘ اس کائنات میں سنن الٰہیہ کے مطابق اپنے معاملات سر انجام دیں گے ۔ انہیں یقین ہوگا کہ اللہ ان کی ذات اور ان کے ماحول میں فعال لمایرید ہے اور یہ کہ وہ تقدیر الٰہی کے آلات اور ذریعہ کا رہیں ۔ اللہ جس طرح چاہے اپنے آلات کار کو استعمال کرسکتا ہے ‘ یہ کہ ان کے درست فیصلے ‘ ان کے صائب فیصلے اور درست فیصلوں کے اثرات اور غلط فیصلوں کے نتائج سب کے سب اللہ کی تقدیر کے پردے سے ظاہر ہوتے ہیں ۔ ان میں اس کی کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے اور جب تک وہ اس راہ انقلاب پر گامزن رہیں گے ‘ ان کے لئے ہر مرحلہ خیر ہی خیر ہوگا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

253 یَوْمَ الْتَقیَ الْجَمْعَانِ (جس دن دو جماعتوں کی مڈبھیڑ ہوئی) سے جنگ احد مراد ہے اور اِذْن اللہ سے اللہ کے ارادہ اور اس کی قضاء وقدر کی طرف اشارہ ہے۔ پہلے فرمایا کہ احد کی شکست تمہاری اپنی ہی بعض عملی خامیوں کا نتیجہ تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شکست کی تمام تر ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے محض اپنی شفقت و رحمت سے اس بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے فرمایا کہ احد میں جو وقتی شکست ہوئی تھی۔ اس کے بارے میں اللہ کا ارادہ اور فیصلہ یہی تھا کہ وہ واقع ہو کیونکہ اس میں کئی مصلحتیں پوشیدہ تھیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi