Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 167

سورة آل عمران

وَ لِیَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ نَافَقُوۡا ۚ ۖ وَ قِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَوِ ادۡفَعُوۡا ؕ قَالُوۡا لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا تَّبَعۡنٰکُمۡ ؕ ہُمۡ لِلۡکُفۡرِ یَوۡمَئِذٍ اَقۡرَبُ مِنۡہُمۡ لِلۡاِیۡمَانِ ۚ یَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاہِہِمۡ مَّا لَیۡسَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا یَکۡتُمُوۡنَ ﴿۱۶۷﴾ۚ

And that He might make evident those who are hypocrites. For it was said to them, "Come, fight in the way of Allah or [at least] defend." They said, "If we had known [there would be] fighting, we would have followed you." They were nearer to disbelief that day than to faith, saying with their mouths what was not in their hearts. And Allah is most Knowing of what they conceal -

اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے جن سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں جہاد کرو ، یا کافروں کو ہٹاؤ ، تو وہ کہنے لگے کہ اگر ہم لڑائی جانتے ہوتے تو ضرور ساتھ دیتے ، وہ اس دن بہ نسبت ایمان کے کُفر سے بہت قریب تھے ، اپنے منہ سے وہ باتیں بناتے ہیں جو ان کے دِلوں میں نہیں ، اور اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے جسے وہ چھپاتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلْيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُواْ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْاْ قَاتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَوِ ادْفَعُواْ قَالُواْ لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنَاكُمْ ... And that He might test the hypocrites, it was said to them: "Come, fight in the way of Allah or defend yourselves." They said: "Had we known that fighting will take place, we would certainly have followed you." Ibn Abbas, Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Ad-Dahhak, Abu Salih, Al-Hasan and As-Suddi stated, This refers to the Companions of Abdullah bin Ubayy bin Salul who went back (to Al-Madinah) with him before the battle. Some believers followed them and encouraged them to come back and fight, saying, أَوِ ادْفَعُواْ (or defend), so that the number of Muslims increases. Al-Hasan bin Salih said that this part of the Ayah means, help by supplicating for us, while others said it means, man the posts. However, they refused, saying, لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنَاكُمْ ("Had we known that fighting will take place, we would certainly have followed you."), According to Mujahid meaning, if we knew that you would fight today, we would join you, but we think you will not fight. Allah said, ... هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَيِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلِيمَانِ ... They were that day, nearer to disbelief than to faith, This Ayah indicates that a person passes through various stages, sometimes being closer to Kufr and sometimes closer to faith, as evident by, هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَيِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلِيمَانِ (They were that day, nearer to disbelief than to faith). Allah then said, ... يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ... saying with their mouths what was not in their hearts. for they utter what they do not truly believe in, such as, لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنَاكُمْ "(Had we known that fighting will take place, we would certainly have followed you)." They knew that there was an army of idolators that came from a far land raging against the Muslims, to avenge their noble men whom the Muslims killed in Badr. These idolators came in larger numbers than the Muslims, so it was clear that a battle will certainly occur. Allah said; ... وَاللّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ And Allah has full knowledge of what they conceal.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

167۔ 1 یعنی احد میں جو تمہیں نقصان پہنچا، وہ اللہ کے حکم سے ہی پہنچا (تاکہ آئندہ تم اطاعت رسول کا کماحقہ اہتمام کرو) علاوہ ازیں اس کا ایک مقصد مومنین اور منافقین کو ایک دوسرے سے الگ اور ممتاز کرنا بھی تھا۔ 167۔ 2 لڑائی جاننے کا مطلب یہ ہے کہ واقع آپ لوگ لڑائی لڑنے چل رہے ہوتے تو ہم بھی ساتھ دیتے مگر آپ تو لڑائی کی بجائے اپنے آپ کو تباہی کے دہانے میں جھونکنے جا رہے ہو۔ ایسے غلط کام میں ہم کیوں آپ کا ساتھ دیں۔ یہ عبد اللہ بن ابی اور ان کے ساتھیوں نے اس لئے کہا کہ ان کی بات نہیں مانی گئی تھی اور اس وقت کہا جب وہ مقام شوط پر پہنچ کر واپس ہو رہے تھے اور عبد اللہ بن حرام انصاری (رض) انہیں سمجھا بجھا کر شریک جنگ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ (قدرے تفصیل گزرچکی ہے) 167۔ 3 اپنے نفاق اور ان باتوں کی وجہ سے جو انہوں نے کیں۔ 167۔ 4 یعنی زبان سے تو ظاہر کیا جو مذکور ہوا لیکن دل میں تھا کہ ہماری علٰیحدگی سے ایک تو مسلمانوں کے اندر بھی ضعف پیدا ہوگا۔ دوسرے کافروں کو فائدہ ہوگا۔ مقصد اسلام، مسلمانوں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نقصان پہنچانا تھا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٦٣] اللہ کو تو مومنوں اور منافقوں کی صورتحال کا پہلے ہی علم تھا۔ اس قسم کی آیات کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی صورت حال پیدا کردے جس سے دوسروں کو ان باتوں کا علم ہوجائے۔ چناچہ اس شکست میں بہت سے لوگوں کے پول کھل گئے اور جو شخص ایمان کے جس درجہ پر تھا نتھر کر سب کے سامنے آگیا۔ [١٦٤] جب عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں سمیت واپس جانے لگا تو اسے مسلمانوں نے سمجھایا کہ آج مشکل پڑنے پر چھوڑ کر جارہے ہو۔ اگر تم لڑنا نہیں چاہتے تو کم از کم دفاع ہی کرو۔ دفاع کے یہاں دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کے لشکر میں شامل رہو۔ واپس نہ جاؤ۔ تاکہ مجموعی تعداد سے دشمن کسی حد تک مرعوب رہے اور دوسرے یہ کہ جاکر شہر مدینہ کا دفاع کرو اور مسلمانوں کے گھروں کی حفاظت کرو۔ [١٦٥] عبداللہ بن ابی نے مسلمانوں کو جو جواب دیا۔ اس کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ لڑائی ہوگی ہی نہیں۔ پھر تمہارے ساتھ رہنے کا کیا فائدہ۔ ہمیں واپس ہی جانا چاہئے۔ یہ جواب تو اس لیے غلط تھا کہ بھلا جو کافر اتنی دور دراز کی مسافت سے لڑنے آئے تھے اور ان کے دلوں میں بدر کے انتقام کی آگ بھی سلگ رہی تھی، وہ بھلا لڑے بغیر واپس جاسکتے تھے وہ تو آئے ہی اس نیت سے تھے کہ مسلمانوں کا کچومر نکال کے رکھ دیں پھر وہ کیوں نہ لڑتے ؟ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہم تو فنون جنگ سے واقف ہی نہیں، پھر تمہارا ساتھ کیسے دے سکتے ہیں ؟ یہ دراصل طنزیہ جواب تھا کہ جب ہمارے مشورہ کو درخور اعتناء سمجھا ہی نہیں گیا اور اس کے بجائے چند پرجوش نوجوانوں کے مشورہ کو ترجیح دی گئی ہے کہ باہر کھلے میدان میں لڑنا چاہئے تو پھر وہی لوگ تم لوگوں کا ساتھ دیں گے ہم کیسے دے سکتے ہیں۔ فنون جنگ کو جاننے والے وہ لوگ ہوئے ہم تو نہ ہوئے۔ [١٦٦] یعنی ان منافقوں کے دل میں یہ بات تھی کہ مسلمانوں کی اس تھوڑی سی بےسروسامان جماعت کی شکست یقینی ہے۔ پھر ہم کیوں ان کے ساتھ ذلیل ہوں اور مارے جائیں بلکہ ان کی اصل خوشی ہی اس بات میں تھی کہ مسلمان تباہ و برباد ہوجائیں اور ہمیں بغلیں بجانے کا موقع ملے اور اور عبداللہ بن ابی کی کھوئی ہوئی ریاست پھر اسے مل جائے۔ [١٦٧] یعنی ان کے دلوں میں تو اس طرح کی باتیں تھیں اور بظاہر انہوں نے یہ جواب دے دیا۔ کہ ہم لڑائی جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے۔ حالانکہ اللہ کو تو سب کچھ معلوم ہے جو انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَوِ ادْفَعُوْا ۭ : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنگ احد میں ایک ہزار کی جمعیت لے کر احد کی طرف چلے، مقام شوط پر پہنچے تو عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں سمیت وہاں سے لوٹ آیا۔ لوگوں نے ان سے کہا کہ اگر اللہ کی راہ میں جہاد نہیں کرسکتے تو کم از کم مسلمانوں کے ساتھ رہو، تاکہ کثرت تعداد کا دشمنوں پر اثر پڑے اور وہ آگے بڑھنے کی جرأت نہ کریں۔ اکثر مفسرین نے ( اَوِ ادْفَعُوْا ۭ ) کے یہی معنی کیے ہیں، مگر بعض نے یہ معنی بھی کیے ہیں کہ حمیت قومی اور حفاظت وطن کی خاطر ہی لڑائی میں شامل رہو۔ (یہ معنی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے، الغرض ! لوگوں نے ہر طرح انھیں واپس لانے کی کوشش کی مگر وہ تیار نہ ہوئے اور وہ جواب دیا جو آگے آ رہا ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر) 2 قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا۔۔ : وہ کہنے لگے، کوئی لڑائی وڑائی نہیں ہوگی، اگر ہمیں واقعی لڑائی کی توقع ہوتی تو ہم ضرور تمہارا ساتھ دیتے، یا مطلب یہ ہے کہ کوئی ڈھب کی جنگ ہوتی اور فریقین میں کچھ تناسب ہوتا تو ہم ضرور شرکت کرتے، مگر ادھر تین ہزار کا مسلح لشکر ہے اور ادھر ایک ہزار بےسروسامان آدمی ہیں، یہ کوئی جنگ ہے ! ؟ یہ تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے، اس بنا پر ہم ساتھ نہیں دے سکتے۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” یہ کلمہ انھوں نے طعن کے طور پر کہا تھا اور مطلب یہ تھا کہ مسلمان فنون حرب سے بالکل نا آشنا ہیں، ورنہ ہماری رائے مان لی جاتی تو مدینہ کے اندر رہ کر مدافعت کی جاتی۔ “ (موضح) 3 ھُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَىِٕذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ لِلْاِيْمَانِ ۚ: یعنی اس سے قبل تو وہ بظاہر مسلمانوں کے ساتھ شامل تھے، گو ان کے باطن میں کفر تھا، مگر اعلانیہ اس کا اظہار نہیں کرتے تھے، لیکن اس روز انھوں نے ایمان کو چھوڑ کر علانیہ کفر اختیار کرلیا، یا مطلب یہ ہے کہ اس دن انھیں ایمان کی بہ نسبت کفر کا مفاد زیادہ عزیز تھا اور انھوں نے واپس ہو کر مسلمانوں کو کمزور کیا اور کفر کو تقویت بخشی۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” یہ کلمہ انھوں نے طعن کے طور پر کہا تھا، پس اس لفظ کی وجہ سے وہ کفر کے قریب اور ایمان سے دور ہوگئے۔ “ (موضح) 4 يَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِھِمْ ۔۔ : یعنی بظاہر یہ کلمہ کہہ کر عذر لنگ اور بہانہ بناتے ہیں، مگر جو جذبات ان کے دلوں میں چھپے ہوئے ہیں ان کا صاف طور پر اظہار نہیں کرتے، دراصل یہ مسلمانوں کی ہلاکت کے متمنی ہیں، لیکن انھیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل کی باتوں سے خوب واقف ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ نَافَقُوْا۝ ٠ ۚۖ وَقِيْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ اَوِ ادْفَعُوْا۝ ٠ ۭ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّااتَّبَعْنٰكُمْ۝ ٠ ۭ ھُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَىِٕذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ لِلْاِيْمَانِ۝ ٠ ۚ يَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاہِھِمْ مَّا لَيْسَ فِيْ قُلُوْبِھِمْ۝ ٠ ۭ وَاللہُ اَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُوْنَ۝ ١٦٧ ۚ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا نِّفَاقُ ، وهو الدّخولُ في الشَّرْعِ من بابٍ والخروجُ عنه من بابٍ ، وعلی ذلک نبَّه بقوله : إِنَّ الْمُنافِقِينَ هُمُ الْفاسِقُونَ [ التوبة/ 67] أي : الخارجون من الشَّرْعِ ، وجعل اللَّهُ المنافقین شرّاً من الکافرین . فقال : إِنَّ الْمُنافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ [ النساء/ 145] نفاق جس کے معنی شریعت میں دو رخی اختیار کرنے ( یعنی شریعت میں ایک دروازے سے داخل ہوکر دوسرے نکل جانا کے ہیں چناچہ اسی معنی پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا : ۔ إِنَّ الْمُنافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ [ النساء/ 145] کچھ شک نہیں کہ منافق لوگ دوزخ کے سب سے نیچے کے درجہ میں ہوں گے ۔ تَعالَ قيل : أصله أن يدعی الإنسان إلى مکان مرتفع، ثم جعل للدّعاء إلى كلّ مکان، قال بعضهم : أصله من العلوّ ، وهو ارتفاع المنزلة، فكأنه دعا إلى ما فيه رفعة، کقولک : افعل کذا غير صاغر تشریفا للمقول له . وعلی ذلک قال : فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا[ آل عمران/ 61] ، تَعالَوْا إِلى كَلِمَةٍ [ آل عمران/ 64] ، تَعالَوْا إِلى ما أَنْزَلَ اللَّهُ [ النساء/ 61] ، أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ [ النمل/ 31] ، تَعالَوْا أَتْلُ [ الأنعام/ 151] . وتَعَلَّى: ذهب صعدا . يقال : عَلَيْتُهُ فتَعَلَّى تعالٰی ۔ اس کے اصل معنی کسی کو بلند جگہ کی طرف بلانے کے ہیں پھر عام بلانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے بعض کہتے ہیں کہ کہ یہ اصل میں علو ہے جس کے معنی بلند مر تبہ کے ہیں لہذا جب کوئی شخص دوسرے کو تعال کہہ کر بلاتا ہے تو گویا وہ کسی رفعت کے حصول کی طرف وعورت دیتا ہے جیسا کہ مخاطب کا شرف ظاہر کرنے کے لئے افعل کذا غیر صاغر کہا جاتا ہے چناچہ اسی معنی میں فرمایا : ۔ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا[ آل عمران/ 61] تو ان سے کہنا کہ آ ؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں ۔ تَعالَوْا إِلى كَلِمَةٍ [ آل عمران/ 64] تعالو ا الیٰ کلمۃ ( جو ) بات ( یکساں تسلیم کی گئی ہے اس کی ) طرف آؤ تَعالَوْا إِلى ما أَنْزَلَ اللَّهُ [ النساء/ 61] جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کی طرف رجوع کرو ) اور آؤ أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ [ النمل/ 31] مجھ سے سر کشی نہ کرو ۔ تَعالَوْا أَتْلُ [ الأنعام/ 151] کہہ کہ ( لوگو) آؤ میں ( تمہیں ) پڑھ کر سناؤں ۔ تعلیٰ بلندی پر چڑھا گیا ۔ دور چلا گیا ۔ کہا جاتا ہے علیتہ متعلٰی میں نے اسے بلند کیا ۔ چناچہ وہ بلند ہوگیا سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ دفع الدَّفْعُ إذا عدّي بإلى اقتضی معنی الإنالة، نحو قوله تعالی: فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوالَهُمْ [ النساء/ 6] ، وإذا عدّي بعن اقتضی معنی الحماية، نحو : إِنَّ اللَّهَ يُدافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا [ الحج/ 38] ، وقال : وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ [ الحج/ 40] ، وقوله : لَيْسَ لَهُ دافِعٌ مِنَ اللَّهِ ذِي الْمَعارِجِ [ المعارج/ 2- 3] ، أي : حام، والمُدَفَّع : الذي يدفعه كلّ أحد «3» ، والدُّفْعَة من المطر، والدُّفَّاع من السّيل . ( د ف ع ) الدفع ( دفع کرنا ، ہٹا دینا ) جب اس کا تعدیہ بذریعہ الیٰ ہو تو اس کے معنی دے دینے اور حوالے کردینا ہوتے ہیں جیسے فرمایا : ۔ فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوالَهُمْ [ النساء/ 6] تو ان کا مال ان کے حوالے کردو ۔ اور جب بذریعہ عن متعدی ہو تو اس کے معنی مدافعت اور حمایت کرنا ہوتے ہیں ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّ اللَّهَ يُدافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا[ الحج/ 38] خدا تو مومنوں سے ان کے دشمنوں کو ہٹا تا تا رہتا ہے ہے ۔ وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ [ الحج/ 40] اور خدا لوگوں کو ایک دوسرے ( پر چڑھائی اور حملہ کرنے ) سے ہٹاتا نہ رہتا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لَيْسَ لَهُ دافِعٌ مِنَ اللَّهِ ذِي الْمَعارِجِ [ المعارج/ 2- 3] کوئی اس کو ٹال نہ سکے گا ۔ اور وہ ) خدائے صاحب درجات کی طرف سے ( نازل ہوگا ) میں دافع کے معنی حامی اور محافظ کے ہیں ۔ المدقع ۔ ہر جگہ سے دھتکار ہوا ۔ ذلیل ار سوار ۔ الدفعۃ ۔ بارش کی بوچھاڑ ۔ الدفاع سیلاب کا زور ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ قرب الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة . فمن الأوّل نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] ، ( ق ر ب ) القرب القرب والبعد یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابلہ میں استعمال ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قربت منہ اقرب وقربتہ اقربہ قربا قربانا کسی کے قریب جانا اور مکان زمان ، نسبی تعلق مرتبہ حفاظت اور قدرت سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے جنانچہ فرب مکانی کے متعلق فرمایا : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں داخل ہوجاؤ گے ۔ فوه أَفْوَاهُ جمع فَمٍ ، وأصل فَمٍ فَوَهٌ ، وكلّ موضع علّق اللہ تعالیٰ حکم القول بِالْفَمِ فإشارة إلى الکذب، وتنبيه أنّ الاعتقاد لا يطابقه . نحو : ذلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْواهِكُمْ [ الأحزاب/ 4] ، وقوله : كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْواهِهِمْ [ الكهف/ 5]. ( ف و ہ ) افواہ فم کی جمع ہے اور فم اصل میں فوہ ہے اور قرآن پاک میں جہاں کہیں بھی قول کی نسبت فم یعنی منہ کی طرف کی گئی ہے وہاں در وغ گوئی کی طرف اشارہ ہے اور اس پر تنبیہ ہے کہ وہ صرف زبان سے ایسا کہتے ہیں ان کے اندرون اس کے خلاف ہیں جیسے فرمایا ذلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْواهِكُمْ [ الأحزاب/ 4] یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں ۔ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْواهِهِمْ [ الكهف/ 5] بات جوان کے منہ سے نکلتی ہے ۔ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ كتم الْكِتْمَانُ : ستر الحدیث، يقال : كَتَمْتُهُ كَتْماً وكِتْمَاناً. قال تعالی: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ [ البقرة/ 140] ، ( ک ت م ) کتمہ ( ن ) کتما وکتما نا کے معنی کوئی بات چھپانا کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ [ البقرة/ 140] اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا کی شہادت کو جو اس کے پاس کتاب اللہ میں موجود ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (ولیعلم الذین نافقو اوقیل لھم تعالو اقاتلوافی سبیل اللہ اوادفعوا۔ اور تاکہ اللہ دیکھ لے کہ منافق کون ہے۔ وہ منافق کہ جب ان سے کہا گیا آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرویا کم ازکم اپنے شہر کی مدافعت ہی کرو) سدی اور ابن جریج سے (اوادفعوا) کا یہ مفہوم منقول ہے کہ اگر تم ہمارے ساتھ مل کر قتال نہیں کرنا چاہتے تو کم ازکم ہمارے ساتھ رہ کر ہماری جمعیت میں اضافے کا سبب بن کرمدافعت کرو۔ ابوعون انصاری کا قول ہے : اگر تم جنگ میں شریک نہیں ہونا چاہتے ہو تو کم ازکم جنگی گھوڑوں کی دیکھ بھال کا کام سنبھال لو، ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں یہ دلالت موجود ہے کہ جس شخص کی شمولیت مسلمانوں کی جمعیت میں اضافے، قوت مدافعت میں بہتری اور بوقت ضرورت جہاد کے گھوڑوں کی دیکھ بھال میں فائدے کا سبب بن سکتی ہو اس پر جہاد میں شمولیت فرض ہوجاتی ہے۔ قول باری ہے (یقولون بافواھھم مالیس فی قلوبھم، وہ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جوان کے دلوں میں نہیں ہوتیں) اس کی تفسیر میں دواقوال، میں۔ اول اس بات کی تاکید کہ ان باتوں کے کہنے والے یہی ہیں، کوئی دوسرا نہیں، کیونکہ بعض دفعہ مجازافعل کو اس کے غیرفاعل کی طرف منسوب کردیاجاتا ہے۔ اگر وہ اس فعل کو پسندید گی کی نظروں سے دیکھتا ہو جیسا کہ قول باری ہے (واذقتلتم نفسا، اور جب تم نے ایک آدمی کو قتل کردیا) ظاہر ہے کہ قتل کا ارتکاب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں موجود یہود نے نہیں کیا تھا بلکہ ان کے آباؤجداد کے زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا تھا البتہ یہ لوگ اس فعل کو ناپسند ید گی کی نظروں سے دیکھتے تھے۔ اسی طرح یہ قول باری ہے (فلم تقتلونانبیاء اللہ من قبل۔ تو پھر اس سے پہلے تم انبیاء کا کیوں خون بہایا کرتے تھے) دواللہ تعالیٰ نے افواہ، یعنی منہ کا ذکرکرکے زبان سے اداکیے ہوئے جملوں اور ضبط تحریر میں لائے ہوئے جملوں کے درمیان فرق بیان کردیا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧٦ (وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْاج ۔ لِیَعْلَمَ کا معنی ہے تاکہ جان لے۔۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ ہرچیز کا جاننے والا ہے لہٰذا ایسے مقامات پر ترجمہ کیا جاتا ہے : تاکہ اللہ ظاہر کر دے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے واقعتا ظاہر کردیا کہ کون مؤمن ہے اور کون منافق ! عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر چلا گیا تو سب پر ان کا نفاق ظاہر ہوگیا۔ اب آئندہ اہل ایمان ان کی بات پر اعتبار تو نہیں کریں گے ‘ ان کی چکنی چپڑی باتیں کان لگا کر تو نہیں سنیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ یہ بالکل واضح ہوجائے کہ Who is who & what is what ?۔ (وَقِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوِ ادْفَعُوْا ط) عبداللہ بن ابی جب اپنے تین سو آدمیوں کو لے کر واپس جا رہا تھا تو اس وقت ان سے کچھ لوگوں نے کہا ہوگا کہ بیوقوفو ! کہاں جا رہے ہو ؟ اس وقت تو لشکر سامنے ہے۔ اگر ایک ہزار میں سے تین سو آدمی نکل جائیں گے تو باقی لوگوں کے دلوں میں بھی کچھ نہ کچھ کمزوری پیدا ہوگی۔ اگر تم میدان جنگ میں دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو کم از کم مدینہ کے دفاع کے لیے تو کمربستہ ہوجاؤ۔ اگر مدینہ پر حملہ ہوا تو کیا ہوگا ؟ اگر یہاں پر یہ لشکر شکست کھا گیا تو کیا دشمن تمہاری بہوبیٹیوں کو اپنی باندیاں بنا کر نہیں لے جائیں گے ؟ (قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنٰکُمْ ط) یعنی یہ تو درحقیقت نورا کشتی ہو رہی ہے ‘ یہ حقیقت میں جنگ ہے ہی نہیں۔ یہ جو مکہ سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی مہاجرین آئے ہیں اور اب یہ جو مکہ ہی سے لشکر ہم پر چڑھائی کر کے آیا ہے یہ سب ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں اور ہمارا ان سے کوئی سروکار نہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

119. When 'Abd Allah b. Ubayy decided to withdraw from the battlefield with his men several Muslims attempted to persuade him not to do so. Ibn Ubayy replied that he was sure that there would be no fighting that day, and he assured them that had he expected fighting to take place, he would have gone along with them.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :119 عبداللہ بن ابی جب تین سو منافقوں کو اپنے ساتھ لے کر راستہ سے پلٹنے لگا تو بعض مسلمانوں نے جا کر اسے سمجھانے کی کوشش کی اور ساتھ چلنے کے لیے راضی کرنا چاہا ۔ مگر اس نے جواب دیا کہ ہمیں یقین ہے کہ آج جنگ نہیں ہو گی ، اس لیے ہم جا رہے ہیں ، ورنہ اگر ہمیں توقع ہوتی کہ آج جنگ ہوگی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

57: ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر کوئی برابر کی جنگ ہوتی تو ہم ضرور اس میں شریک ہوتے، لیکن یہاں تو مسلمانوں کا دشمن سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ دشمن کی تعداد تین گنے سے بھی زیادہ ہے، لہذا یہ جنگ نہیں، خود کشی ہے، اس میں ہم شامل نہیں ہوسکتے۔ 58: یعنی زبان سے تو یہ کہتے ہیں کہ اگر برابر کی جنگ ہوتی تو ہم ضرور شامل ہوتے، لیکن یہ صرف ایک بہانہ ہے، درحقیقت ان کے دل میں یہ ہے کہ برابر کی جنگ میں بھی مسلمانوں کا ساتھ نہیں دینا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:167) اوادفعوا۔ اوادفعوا۔ یا دفاع کرو اپنا۔ لو نعلم قتالا۔ اگر ہم جانتے کہ یہ ایسی جنگ ہے جو عام طور پر ان معنوں میں لی جاتی تو ہم ضرور تمہاری پیروی کرتے (لیکن اپنے سے چار گنا مسلح اور ہر سازو سامان سے لیس لشکر کے ساتھ ٹکر لینا جنگ نہیں خود کشی ہے۔ ولکن ما انتم علیہ لیس بقتال بل القاء بالنفس الی التہلکۃ (بیضاوی) اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ : اگر ہمیں یقین ہوتا کہ جنگ ضرور ہوگی تو ہم ضرور شامل ہوجاتے لیکن ہمیں تو اس امر کا یقین ہے کہ جنگ نہیں ہوگی۔ لا اتبعنکم۔ لام تاکید کے لئے ہے ہم ضرور تمہاری پیروی کرتے۔ ہم للکفر ۔۔ للایمان۔ اس دن وہ ایمان کی نسبت کفر کے زیادہ نزدیک تھے۔ تکتمون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ کتم سے جو تم چھپاتے ہو۔ جو تم چھپائے ہوئے ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی جنگ احد میں تمہیں جس نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مشیئت سے تھا اور اس میں حکمت یہ تھی کہ اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان تمیز ہوجائے۔4 آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنگ احد میں ایک ہزار کی جمیعت لے کر احد کی طرف چلے۔ مقام شوط پر پہنچے تو عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں سمیت وہاں سے سے لوٹ آیا۔ عبد الہ بن عمر و بن حرا انصاری (رض) ۔ اخو نبی سلمہ۔ حضرت جابر (رض) کے والد ان کے پیچھے گئے اور ان سے کہا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد نہیں کرسکتے تو کم از کم مسلمانوں کے ساتھ تو رہو تاکہ کثرت تعداد کا دشمنوں پر اثر پڑے اور وہ آگے بڑھنے کی جرات نہ کرے۔ اکثر مفسرین نے اوادفعوا کے یہی معنی بیان کئے ہیں مگر بعض نے ادفعوا کے یہ معنی بھی کئے کہ حمیت قومی اور حفاظت وطن کی خاطر ہی لڑائی میں شامل رہو، الغرٖ ض حضرت عبد اللہ (رض) بن عمر و نے ان کو ہر طریقے سے واپس لانے کی کوشش کی مگر وہ تیار نہ ہوئے اور وہ جواب آگے ْآرہا ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)5 وہ کہنے لگے کہ کوئی لڑائی وڑائی نہیں ہوگی اگر واقعی لڑائی کی توقع ہوتی تو ہم ضرور تمہارا ساتھ دیتے یا مطلب یہ ہے کہ کوئی ڈھب کی جنگ ہوتی اور فریقین میں کچھ تبا سب ہوتا تو ہم ضرور شرکت کرتے مگر ادھر تین ہزار کا مسلح لشکر ہے اور او ادھر ایک ہزار بےسرو سامان آدمی ہیں یہ کوئی جنگ ہے یہ تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے اس پر ہم ساتھ نہیں دے سکتے (ابن کثیر۔ رازی) حضرت شاہ صا حب لکھتے ہیں کہ یہ کلمہ انہوں نے طعن کو طور پر کہا تھا اور مطلب یہ تھا کہ مسلمان فنون حرب سے با لکک نا آشنا ہیں ورنہ ہماری رائے مان لی جاتی تو مدینہ کے اندر رہ کر مدافعت کی جاتی۔ (موضح)6 یعنی اس سے قبل تو وہ بظاہر مسلمانوں کے ساتھ شامل تھے گو ان کے باطن میں کفر تھا مگر علانیہ اس کا اظہار نہیں کرتے تھے لیکن اس روز انہوں نے علا نیہ ایمان چھوڑ کر کفر اختیار کرلیا۔ یا مطلب یہ ہے کہ اس دن انہیں ایمان کی نسبت سے کفر کا مفاد زیادہ عزیز تھا اور انہوں نے واپس ہو کر مسلمانوں کو کمزور کیا اور کفر کو تقویت بخشی۔ (رازی۔ قرطبی) حضرت شاہ صاحب (رح) لک تھے ہیں یہ کلمہ انہوں نے طعن کر طور پر کہا تھا۔ پس اس لفظ کی و جہ سے کفر کے قریب ہوگئے اور ایمان سے دور۔ (موضح)7 یعنی بظاہر یہ کلمہ کہ کر عذر لنگ اور بہانہ بناتے ہیں مگر جو جذبات ان کے دلوں میں مستور ہیں ان کا صاف طور پر اظہار نہیں کرتے در اصل یہ مسلمانوں کی ہلاکت کے متمنی ہیں۔ لیکن انہیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل کی باتوں سے خوب واقف ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس آیت میں عبداللہ ابن ابی ابن السلول اور اس کے ساتھیوں کے موقف کی طرف اشارہ ہے ۔ انہیں جو خطاب دیا گیا ہے وہ الَّذِينَ نَافَقُوا ………(وہ لوگ جنہوں نے نفاق کیا ) کا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقعہ پر ان کا پردہ فاش کردیا۔ اور اسلامی صفوں سے انہیں جدا کردیا ۔ اور ان کے اس دن کے موقف پر یہ تبصرہ کیا هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلإيمَانِ …………… (اس وقت وہ ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے ) یہ کہ وہ اپنے اس احتجاج میں سچے نہ تھے کہ آج مسلمانوں اور کافروں کے درمیان جنگ نہیں ہورہی ہے ۔ اس لئے وہ واپس ہورہے ہیں ۔ اس لئے کہ ان کی واپسی کا فی الحقیقت یہ سبب نہ تھا۔ بلکہ وہ ” جو کچھ اپنے منہ سے کہہ رہے تھے وہ بات ان کے دل میں نہ تھی ۔ “ ان کے دلوں میں تو نفاق کی بیماری تھی ۔ اور یہ نفاق انہیں نظریہ ٔ حیات کے تابع نہ کرتا تھا بلکہ وہ ان کی شخصیات اور ان کی ذاتی حیثیات کو نظریہ حیات سے زیادہ اہمیت دیتا تھا۔ ان لوگوں کے رئیس عبداللہ ابن ابی ابن السلول نے یہ اعتراض بھی کیا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کی دن اس کی رائے کو قبول نہیں کیا ۔ اور اس واقعہ سے پہلے کے اسباب یہ تھے کہ جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی رسالت کے پیغام کو لے کر مدینہ طیبہ پہنچے تو اس وقت عبداللہ ابن ابی کی سربراہی میں ایک ریاست کی تشکیل کی تیاریاں ہورہی تھیں ۔ اس کے لئے تاج بن رہا تھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کے نتیجے میں ریاست کا مقام حاملین اسلام نے حاصل کرلیا ۔ یہ بات ان کے دل میں تیر کی طرح پیوست تھی ۔ اور یہی وجہ تھی کہ وہ احد کے دن واپس ہوگئے تھے ۔ چونکہ دشمن مدینہ کے دروازے پر تھے ‘ اس لئے یہ لوگ واپس ہوگئے اور مومن صادق کی یہ بات انہوں نے رد کردی ۔ یہ مومن صادق عبداللہ بن عمرو ابن حزام تھے ۔ وہ انہیں پکار رہے تھے تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ادْفَعُوا……………”(آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا دفاع ہی کرو) اس کے جواب ان کا احتجاج و استدلال یہ تھا کہ ان کے خیال میں کوئی جنگ نہیں ہے ۔ اگر کوئی بات ہوتی وہ ضرور جاتے ۔ اور ان کے موقف کی تردید یوں کی گئی وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ……………” اور جو کچھ وہ دلوں میں چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے ۔ “ یوں وہ اپنے تخلف اور پلٹنے کو حکمت اور مفید قرار دیتے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کو نقصان اور ضرر رساں قرار دیتے ہیں ۔ اور اس سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ اسلام کے صاف اور ستھرے تصور حیات کو خراب کرتے ہیں ‘ کیونکہ اسلامی تصور حیات کے مطابق ہر شخص کی موت کا وقت مقرر ہوتا ہے ۔ موت وحیات کی حقیقت یہ ہے کہ ان کا تعلق تقدیر الٰہی کے ساتھ ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ یہاں ان کے ان غلط تصورات کی تردید ضروری سمجھتے ہیں ۔ فوراً ان کے اس تصور کی واضح تردید کردی جاتی ہے ‘ جس سے ایک طرف ان کی تیار کی ہوئی سازش کے تار وپور بکھر جاتے ہیں اور دوسری جانب سے اسلامی تصور حیات ہر قسم کے اجمال اور دھندلے پن سے پاک وصاف ہوجاتا ہے ۔ فرماتے ہیں قُلْ فَادْرَءُوا عَنْ أَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ……………” ان سے کہو اگر تم اپنے اس قول میں سچے ہو تو خود تمہاری موت جب آئے تو اسے ٹال کر دکھادینا ۔ “ موت تو جس طرح مجاہد کو آتی ہے اسی طرح جو لوگ گھر میں بیٹھے رہتے ہیں ‘ انہیں بھی آتی ہے ‘ بہادر کو بھی آتی ہے اور بزدل کو بھی آتی ہے۔ نہ کوئی محافظ اسے ٹال سکتا ہے اور نہ کوئی احتیاطی تدبیر ۔ نہ بزدلی اور جہاد سے غیر حاضری سے وہ ٹل سکتی ہے۔ اور یہ صورت حال ایسی ہے ‘ جو خود اپنی دلیل آپ ہے اور اس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ یہی حقیقی صورت حال ہے جس کو قرآن مجید خود ان کے خلاف پیش کرتا ہے ۔ یوں ان کی مکروہ سازش کو رد کردیا جاتا ہے ۔ سچائی کو اپنی جگہ رکھ کر مستحکم کردیا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کے دل مطمئن اور مضبوط ہوجاتے ہیں ۔ انہیں اطمینان ‘ آرام اور ذوق یقین سے سیراب کردیا جاتا ہے۔ واقعات احد کے بیان کے اس انداز کی طرف ذہن انسانی ملتفت ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس بیان میں اس واقعہ یعنی عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کی روگردانی کو بہت ہی موخر کرکے لایا گیا ہے ۔ حالانکہ یہ واقعہ اس معرکے کے ابتدائی دور میں ہوا تھا اور معرکے کے آغاز ہی سے وہ واپس ہوگیا تھا۔ اسے اول میں بیان کرنے کے بجائے آخر میں لایا گیا یہ کیوں ؟ یہ تاخیر اس لئے کی گئی کہ اس میں بھی قرآن کریم کے انداز تربیت میں سے ایک خاص انداز کا اظہار کیا گیا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ اس حادثہ پر تبصرے سے قبل وہ تمام اساسی تصورات بیان کردئیے جو اسلامی نظام زندگی کے بنیادی قواعد میں شمار ہوتے ہیں اور جب مسلمانوں کے ذہن میں وہ تمام احساسات جاگزیں ہوگئے ‘ اور مسلمانوں کی اقدار کے لئے حقیقی پیمانے وضع ہوگئے تو آخر میں ان لوگوں کی طرف اشارہ کردیا گیا جنہوں نے نفاق اختیار کیا تھا۔ ان کے کردار اور ان کی سرگرمیوں کو بےنقاب کیا گیا۔ ایسے موقعہ پر ان لوگوں کے خلاف تنقید آئی جب مسلمانوں کے ذہن اس کے لئے تیار تھے اور اس قابل ہوگئے تھے کہ معلوم کرسکیں کہ ان کے افکار و تصورات کے اندر کیا کیا انحراف ہے اور کیا کیا کمزوریاں ہیں ؟ اور یہ کہ ان کے پیمانے کس قدر غلط ہیں ؟ اور یہ کہ ایک مومن کے دل و دماغ کے اندر افکار اور تصورات اور حسن وقبح کے پیمانے ایسے ہونے چاہئیں اور کسی فرد اور قوم کے اعمال کا جائزہ ان پیمانوں کے مطابق ہونا چاہئے اور اس کے بعد جب مومن پر اعمال اور افراد کو پیش کیا جاتا ہے تو وہ ایک روشن مزاج اور ایمانی احساس اور ایمانی سرمایہ حکمت کی روشنی میں ان پر فوراً حکم لگاتا ہے کہ کیا کمتر ہے اور کیا بہتر ہے ۔ کون صالح ہے اور کون برا ہے۔ یہ قرآنی انداز بیان کا ایک خاص رنگ ہے ۔ عبداللہ ابن ابی اس وقت تک اپنی قوم کا سرکردہ لیڈر تھا جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے ۔ وہ اس لئے سوج گیا کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی رائے کو قبول نہ کیا تھا۔ اس لئے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اصول مشورہ کو رائج کرنا تھا۔ پھر جو بات طے ہوجائے اس کو نافذ کرنا تھا ‘ چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو کیونکہ دوسری رائے کے سلسلے میں لوگوں کو رجحان ظاہرہوگیا تھا ۔ اس شخص کی اس روگردانی کی وجہ سے اسلامی صفوں کے اندر بڑی افراتفری پیدا ہوگئی تھی ۔ ان کے افکار میں تزلزل پیدا ہوگیا تھا۔ پھر اس کی رائے کی اہمیت اور بھی واضح ہوگئی جب شکست ہوئی اور لوگوں کو حسرت اور افسوس ہونے لگا۔ اور دلوں میں یہ بات آئی کہ اسی کے کہنے پر عمل کرلیا ہوتا ۔ اسلامی منہاج کے لئے یہ ضروری تھا کہ اس کی رائے اور اس کے اس فعل کو قدرے نظر انداز کرکے اور غیر اہم کرکے پیش کیا جائے اور جنگ کے واقعات کا آغاز اس واقعہ سے نہ کیا جائے ۔ حالانکہ یہ حادثہ پہلے درپیش ہوا تھا۔ اس واقعہ کو اس قدر موخر کرنے اور پھر اسے بیان کرکے اس گروہ پر نفاق کا لیبل چسپاں کردینے اور پھر ان کے لئے غائب اور مجہول صیغے کا استعمال اور اس گروہ کے سرغنے کا ذکر نہ کرنے سے اور انہیں الَّذِينَ نَافَقُوا……………کہہ کر پکارنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ان کی اہمیت کو کم کیا جائے اور یہ بات اصولاًان تمام لوگوں پر چسپاں ہو ‘ جو ایسی حرکات کرتے ہیں اور بات اس طرح اصولی رنگ اختیار کرے جس طرح آغاز کلام میں اسے اصولی رکھا گیا تھا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ (ھُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَءِذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ لِلْاِیْمَانِ ) یعنی اس بات کے کہنے سے وہ اب ظاہر میں بھی کفر سے زیادہ قریب ہوگئے جبکہ اس سے پہلے ایمان کے جھوٹے دعوے کرکے مسلمانوں میں گھلے ملے رہنے کی وجہ سے ظاہر میں ایمان کے قریب تھے، اندر سے کافر تو پہلے ہی سے تھے لیکن ظاہر میں جو ایمان کا دعویٰ کرتے تھے اس دعوے پر خود ان کے اپنے قول و فعل نے پانی پھیر دیا۔ ہر عقل مند ان کی باتوں کے پیش نظر یہ کہنے پر مجبور ہے کہ یہ مومن نہیں ہیں، کیونکہ باتیں کافروں جیسی کر رہے ہیں۔ پھر فرمایا (یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاھِھِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ ) کہ وہ اپنے مونہوں سے وہ باتیں کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں، ان کا یہ کہنا کہ ہم جنگ کو جانتے ہوتے یا یہ کہ جنگ کا ڈھنگ دیکھتے تو تمہارے ساتھ ہوجاتے، دونوں باتیں ایسی ہیں جو ان کے قلبی عزائم کے خلاف ہیں۔ حقیقی بات یہ ہے کہ وہ کوئی بھی حیلہ بہانہ کریں ان کو تمہارے ساتھ ہونا ہی منظور نہ تھا، پھر فرمایا (وَ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یَکْتُمُوْنَ ) کہ اللہ تعالیٰ کو پوری طرح اس کا علم ہے جس کو وہ دلوں میں چھپاتے ہیں (مومنین تو اجمالی طور پر علامات سے ان کے ظاہر کو دیکھ کر باطن کا اندازہ کرتے ہیں اور اللہ جل شانہٗ پوری طرح ان کے باطن سے باخبر ہے ان کے قلبی عزائم کو پوری طرح جانتا ہے)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

254 دوسرا لِیَعْلَمَ پہلے لَیَعْلَمَ پر معطوف ہے اور اس کا عطف بِاِذْنِ اللہِ پر ہے از قبیل عطف سبب بر مسبب اور علم سے مراد اظہار ہے۔ عطف علی باذن اللہ من عطف السبب علی المسبب والمراد یظھر للناس ویثبت لدیھم ایمان المومن (روح ج 4 ص 117) یعنی اللہ تعالیٰ نے احد میں مسلمانوں کی شکست کا قضاء وقدر میں اس لیے فیصلہ فرمایا تاکہ مخلص مومن اور منافق ظاہر ہوجائیں اور لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ کون لوگ خلوص دل سے ایمان لائے ہیں اور کون لوگ منافق ہیں۔ 255 قِیْلَ لَھُمْ کا عطف نَافَقُوْا پر ہے یا یہ استیناف ہے اور ھُمْ ضمیر اَّلَّذِیْنِ نَافَقُوْا کی طرف راجع ہے اور اس سے مراد عبداللہ بن ابی اور اس کے وہ تین سو ساتھی ہیں جو احد میں مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ جب وہ واپس جانے لگے تو عبداللہ بن عمرو بن حرام اور دوسرے مسلمانوں نے ان کو سمجھا بجھا کر واپس لانے کی کوشش کی اور ان منافقین سے کہا کہ واپس کیوں جاتے ہو آؤ ہمارے ساتھ آگے بڑھو اور، قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ۔ اللہ کے دین اور اس کی توحید کو سربلند کرنے کے لیے مشرکین سے جہاد کرو۔ اَوِادْفَعُوْا اور اگر تم اللہ کی خوشنودی اور ثواب آخرت کے لیے نہیں لڑنا چاہتے تو کم از کم اپنے مال وجان اور اپنے شہر سے مدافعت ہی کے لیے کافروں سے لڑو۔ اَوِادْفَعُوْا عَنْ اھلکم وبدلدکم وحریمکم ان لم تقاتلوا فی سبیل اللہ تعالیٰ (ابو السعود ج 3 ص 133 وقیل انھم خیر وابین ان یقاتلوا للاخرۃ او لدفع الکفار عن انفسھم واموالھم (روح ج 4 ص 118) ۔ 256 یہ منافقین کا جواب ہے مسلمانوں کی پندونصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ کہنے لگے کہ اگر یہ جنگ کسی ڈھنگ کی ہوتی تو ہم ضرور اس میں تمہارا ساتھ دیتے مگر یہ جنگ نہیں یہ تو خود کشی ہے۔ دشمن کی فوج زیادہ اس کے پاس تم سے سامان جگ زیادہ اور پھر اپنے شہر سے باہر نکل کر ایسے زبردست دشمن سے لڑنا یہ کونسی دانشمندی ہے۔ ای لونعلم ما یصح ان یسمی قتالا لاتبعنا کم یعنون ما انتم فیہ لخطا ریکم لیس بشیئ ولا یقال لمثلہ قتال انما ھوالقاء النفس فی التھلکۃ (مدارک ج 1 ص 50) لیکن حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر ہم اس کو جہاد سمجھتے تو ضرور اس میں شریک ہوتے اور تمہارا ساتھ دیتے لیکن یہ تو جہاد ہے ہی نہیں یہ تو ظلم اور خونخواری ہے۔ ھُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ لِلْاِیْمَانِ ۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے نفاق اور پوشیدہ کفر کو واضح تر الفاظ میں بیان فرما دیا ہے کہ جب انہوں نے یہ باتیں کہیں اس وقت وہ ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب ہوگئے۔ پہلے تو وہ اپنے اقوال وافعال میں پوری احتیاط سے کام لیتے تھے جس سے ان کا نفاق پوشیدہ اور مخفی تھا۔ لیکن ان کے جہاد میں شریک نہ ہونے اور ان کی مذکورہ بالا باتوں سے ان کے نفاق کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ اور وہ بالکل ننگے ہوگئے۔ انھم کانوا یظھرون الایمان ولم تکن تظھر لھم امانۃ تدل علی الکفر فلما اتخذوا عن المؤمنین وقالو ما قالوا ازادواقر بالکفر وتباعدوا عن الایمان (بحر ج 3 ص 110) ۔ 257 یہ جملہ مسانفہ ہے جو منافقین کا مطلق حال بیان کر رہا ہے یعنی وہ زبانوں سے ایک ایسی بات کا اقرار کرتے ہیں جو ان کے اندرونی اور باطنی عقیدہ کے خلاف ہے زبان سے تو وہ ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہے ان کے دلوں میں تو وہی کفر وشرک کا اعتقاد ہے۔ المراد ان لسانھم مخالف لقلبھم فھم وان کانوا یظھرون الایمان باللسان لکھم یضمرون فی قلوبھم الکفر (کبیر ج 3 ص 136) ۔ وَاللہُ اَعْلَمُ بِمَایَکْتُمُوْنَ ۔ اللہ تعالیٰ ان کے نفاق اور ان کی پوشیدہ خباثتوں کو پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنوں کی نسبت زیادہ جانتا ہے کیونکہ ان کو تو ظاہری علامتوں سے کچھ تھوڑا بہت معلوم ہے لیکن اللہ تعالیٰ تو ہر چیز کی پوری حقیقت کو تمام تفصیلات کے ساتھ جانتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اور جس دن دو جماعتیں باہم نبرد آزما ہوئیں اور آپس میں بھڑیں اس دن جو نقصان تم کو پہنچا اور جو مصیبت تم پر پڑی یعنی میدان احد میں پس وہ تو قضائے الٰہی اور مشیت ایزدی سے پڑی اور اس لئے پڑی تاکہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو پرکھ لے اور اس لئے بھی یہ نقصان پہونچا تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو نمایاں کر دے جنہوں نے منافقانہ روش اختیار کر رکھی ہے اور ان منافقین سے اتنا ہی تو کہا گیا تھا کہ آئو اگر ہمت ہو تو اللہ کی راہ میں لڑ و یا ہمت نہ ہو تو کم از کم دشمن کی مدافعت ہی کرو اور اپنی تعدادکو دکھا کر ان کو مرغوب ہی کرو کہ مسلمانوں کی کثرت دیکھ کر ان کافروں کے پائوں اکھڑ جائیں۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو گھبرانے اور پریشان ہونے کی بات نہیں میدان مقابلہ میں جو کچھ ہوا اور تم کو شروع میں کامیابی اور بعد میں ناکامی ہوئی وہ تو مشیت اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت ہوئی کیونکہ تمہاری کو ہی کے باعث اس کو تمہیں مکمل فتح دینی منظور نہ تھی اس کے علاوہ اور بھی اس کی بیشمار حکمتیں تھیں جن میں سے کچھ تو پہلے بیان ہو چکیں اور ان میں سے بعض یہ ہیں کہ اللہ تعلیٰ ظاہری طور پر مسلمانوں کو پرکھنا اور جاننا چاہتا تھا اور وہ یہ چاہتا تھا کہ مسلمانوں کو متمیز کر دے اور جن لوگوں نے اس دن منافقانہ برتائو کیا ان کو نمایاں اور آشکارا کر دے تاکہ منافق الگ اور مسلمان الگ پہچانے جائیں پھر اس کو بیان کیا جو عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے احد میں کیا تھا۔ جس وقت عبداللہ اپنے ساتھیوں کو لے کر میدان سے واپس ہونے لگا تو اس سے کہا گیا کہ جائو نہیں اس سے نقصان پہنچے گا تم کو چاہئے تو یہ ہے کہ تم ہمارے ساتھ مل کر دشمن سے لڑو اور اگر لڑنے کی ہمت نہ ہو تو کم از کم شریک رہو تاکہ تمہاری وجہ سے ہماری تعداد زیادہ دکھلائی دے اور کافر مرعوب ہوجائیں اور اس طرح تم لڑائی میں نہ سہی مدافعت میں تو شریک ہو ۔ اگر خدانخواستہ اس جنگ میں مسلمان مغلوب ہوگئے اور مدینہ پر حملہ ہوگیا تو کافر بلا امتیاز مسلمان اور منافق کے سب کو قتل کریں گے اور سب کو لوٹیں گے اس لئے تم لڑتے نہیں تو دشمن کی مدافعت ہی کرو۔ اس پر عبداللہ بن ابی نے جو جواب دیا اس کو بیان فرماتے ہیں۔ (تسہیل) ف 3 ان منافقوں سے جو کہا گیا تھا اس کا انہوں نے یہ جواب دیا کہ اگر ہم اس لڑائی کو کوئی قرب نے اور ڈھنگ کی لڑائی سمجھتے تو واقعی لڑائی جانتے تو ضرور ہم تمہارے ساتھ رہتے یہ لڑائی کہاں ہے یہ تو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا اور کھلا ہوا خطرہ مول لینا ہے یہ منافق اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر سے قریب تر ہوگئے یعنی ظاہر میں بھی ان کا اقرب الی الکفر ہونا کھل گیا یہ منافق اپنے منہ سے ایسی باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتیں اور جن باتوں کو یہ چھپاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے۔ (تیسیر) منافقوں کا جواب کس قدر زہر آلود ہے یعنی یہ کوئی قرینے کی لڑائی ہے ایک طرف ٹڈی دل فوج ہر قسم کا سامان جنگ اور تمام فوج پر پوری طرح مسلح اور دوسری طرف کچھ بھی نہیں خواہ مخواہ کی بھیڑ اکٹھی کرنے سے کہیں لڑائی جپتی جاتی ہے یا یہ مطلب ہے کہ ہم لوگ لڑائی کے فن سے واقف نہیں اس لئے یہ کوئی لڑائی نہیں ہے بلکہ اپنے کو تباہ کرنا ہے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تم لوگ لڑائی سے ناواقف ہو ہمارا کہنا نہیں مانا مدینہ چھوڑ کر یہاں چلے آئے یہ بھی کوئی لڑائی کا ڈھنگ ہے یہ تو اپنے کو خطرہ میں ڈالنا ہے۔ ہم تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ حضرت حق نے فرمایا یوں تو منافق پہلے بھی مسلمان نہیں تھے لیکن ظاہری روا داری اور برتائو کے اعتبار سے اسلام اور ایمان سے قریب معلوم ہوتے تھے لیکن اس کہنے اور اس بیہودہ جواب دینے سے اس دن یہ ظاہری طور پر بھی بجائے ایمان کے کفر سے قریب ہوگئے بلکہ یہ قرب اس قرب سے اقرب اور قریب تر ہے کیونکہ مسلمانوں کے ساتھ ان کا سابقہ برتائو تو دل سے نہ تھا اور یہ بات انہوں نے دل سے کہی ہے۔ اس لئے بہ نسبت قرب الی الایمان کے قرب الی الکفر زیادہ ہے اور یہ بدبخت دل میں جو کچھ چھپائے ہوئے ہیں اس کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ اس کتمان سے یا تو مراد یہ ہے کہ مسلمان مغلوب ہوں اور ہم خوش ہوں اور یہ بھی کہ ان کے دل میں یہ ہے کہ ہم کو مسلمانوں کے استھ مل کر لڑنا ہی نہیں خواہ لڑائی قرینے کی ہو یا بےقرینے کی ہو۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ بھی منافقوں کا کلام تھا کہ ہم کو معلوم ہو لڑائی یعنی ظاہر میں کہا کہ جس وقت لڑائی دیکھیں گے تو شامل ہوں گے یا کہا کہ ہم لڑائی کے قاعدے سے واقف نہیں اور دل میں طعن دیا کہ ہماری مشورت نہیں مانتے ان کو لڑائی معلوم ہوئی اسی لفظ سے کفر سے قریب ہوگئے اور ایمان سے دور (موضح القرآن) اب آگے ان کے ایک اور قول کا جواب ہے۔ (تسہیل)