Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 170

سورة آل عمران

فَرِحِیۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۙ وَ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ لَمۡ یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ مِّنۡ خَلۡفِہِمۡ ۙ اَلَّا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۱۷۰﴾ۘ

Rejoicing in what Allah has bestowed upon them of His bounty, and they receive good tidings about those [to be martyred] after them who have not yet joined them - that there will be no fear concerning them, nor will they grieve.

اللہ تعالٰی نے اپنا فضل جو انہیں دے رکھا ہے اس سے بہت خوش ہیں اور خوشیاں منا رہے ہیں ان لوگوں کی بابت جو اب تک ان سے نہیں ملے ان کے پیچھے ہیں اس پر کہ انہیں نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہونگے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

...of His bounty and rejoice for the sake of those who have not yet joined them, but are left behind (not yet martyred) that on them no fear shall come, nor shall they grieve. They are also awaiting their brethren, who will die in Allah's cause after them, for they will be meeting them soon. These martyrs do not have fear about the future or sorrow for what they left behind. We ask Allah to grant us Paradise. The Two Sahihs record from Anas, the story of the seventy Ansar Companions who were murdered at Bir Ma`unah in one night. In this Hadith, Anas reported that the Prophet used to supplicate to Allah in Qunut in prayer against those who killed them. Anas said, "A part of the Qur'an was revealed about them, but was later abrogated, `Convey to our people that we met Allah and He was pleased with us and made us pleased."' Allah said next, يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُوْمِنِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

170۔ 1 یعنی وہ اہل اسلام جو ان کے پیچھے دنیا میں زندہ ہیں یا مصروف جہاد ہیں، ان کی بابت وہ خواہش کرتے ہیں کہ کاش وہ بھی شہادت سے ہمکنار ہو کر یہاں ہم جیسی پر لطف زندگی اختیار کریں۔ شہدائے احد نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ ہمارے وہ مسلمان بھائی جو دنیا میں زندہ ہیں، انہیں ہمارے حالات اور پر مسرت زندگی سے کوئی مطلع کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تمہاری یہ بات ان تک پہنچا دیتا ہوں ' اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائیں (سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد) علاوہ ازیں متعدد احادیث سے شہادت کی فضیلت ثابت ہے۔ مثلا ایک حدیث میں فرمایا (مامن نفس تموت، لھا عند اللہ حیر، یسرہ ان ترجع الی الدنیا الا الشہید، فانہ یسرہ ان یرجع الی الدنیا فیقتل مرۃ اخریٰ لما یریٰ من فضل الشہادۃ) ( مسند احمد، صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الشہادۃ) کوئی مرنے والی جان، جس کو اللہ کے ہاں اچھا مقام حاصل ہے دنیا میں لوٹنا پسند نہیں کرتی۔ البتہ شہید دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرتا ہے تاکہ وہ دوبارہ اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے یہ آرزو وہ اس لیے کرتا ہے کہ شہادت کی فضیلت کا وہ مشاہدہ کرلیتا ہے۔ حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تجھے معلوم ہے کہ اللہ نے تیرے باپ کو زندہ کیا اور اس سے کہا کہ مجھ سے اپنی کسی آرزو کا اظہار کر (تاکہ میں اسے پورا کر دوں) تیرے باپ نے جواب دیا کہ میری تو صرف یہی آرزو ہے کہ مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تاکہ دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ تو ممکن نہیں ہے اس لیے کہ میرا فیصلہ ہے کہ یہاں آنے کے بعد کوئی دنیا میں واپس نہیں جاسکتا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يَسْتَبْشِرُوْنَ ۔۔ : یعنی اپنے جن مسلمان بھائیوں کو جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول چھوڑ آئے ہیں ان کا تصور کر کے خوش ہوتے ہیں کہ ان کو بھی ہماری طرح پر لطف اور بےخوف و خطر زندگی حاصل ہوگی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب تمہارے بھائی احد میں شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز رنگ کے پر وندں کے قالبوں میں ڈال دیا، جو جنت کی نہروں پر آتی ہیں، جنت کے پھل کھاتی ہیں اور عرش کے سائے میں سونے کی قندیلوں کے پاس ٹھہر جاتی ہیں، جب انھوں نے اپنے پاکیزہ کھانے اور پینے کو دیکھا اور اپنے حسن انجام کو ملاحظہ کیا تو کہنے لگے : ” اے کاش ! ہمارے بھائیوں کو بھی یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ کیا اچھا سلوک فرمایا ہے، تاکہ وہ جہاد سے غافل ہو کر جنگ سے منہ نہ موڑیں۔ “ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” تمہارا یہ پیغام میں پہنچا دیتا ہوں۔ “ تو یہ آیات نازل فرمائیں : ( وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ) [ أحمد، ط الرسالۃ ح : ٢٣٨٨، عن عبداللہ بن عباس (رض) وحسنہ الارنوؤط ] ( يَسْتَبْشِرُوْنَ ) میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ ” بہت خوش ہوتے ہیں “ کیا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

So, in summation, their first merit as pointed out in this verse is their distinct perennial life; the second is their being well-provided from Allah and the third (فَرِ‌حِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّـهُ ) is that they shall always be happy with Allah&s blessings and grace. The fourth (وَيَسْتَبْشِرُ‌ونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِم) merit is the good news given to them about their relatives and circle of friends they left behind in the mortal world that they too shall deserve the same blessings and ranks with their Lord if they remain good in deeds and are active in Jihad (170-171). Al-Suddi says that a شھید shahld is informed beforehand when one of his close friend or relative is about to die. The news that a certain person was coming to them makes them as happy as one would usually be when an old friend, long separated by time and distance, comes to meet him. The background of the revelation of this verse as narrated by Abu Dawud on sound authorities from Sayyidna Ibn ` Abbas is as follows. The Holy Prophet said to the noble Companions: &When your brothers-in-faith fell martyrs at the battle of Uhud, Allah Almighty placed their spirits in the bodies of green birds and set them free. They get their sustenance from the streams and fruit-trees of the Paradise following which they return to special candelabrums held suspending for them underneath the عرش &throne& (&arsh) of the All-Merciful. When they noticed the luxury of their life there, they said, &Can anyone tell them (their grieving friends and relatives in the world) about how we live here so that they stop grieving about us and go about striving in Jihad as we did.& Allah Almighty said, &We shall let them know about this state of yours.& Thereupon, this verse was revealed (Qurtubi).

چوتھی فضیلت یہ ہے ویستبشرون بالذین لم یلحقوابھم، یعنی وہ اپنے جن متعلقین کو دنیا میں چھوڑ گئے تھے ان کے متعلق بھی ان کو یہ خوشی ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں رہ کر نیک عمل اور جہاد میں مصروف رہیں تو ان کو بھی یہاں آ کر یہی نعمتیں اور درجات عالیہ ملیں گے۔ اور سدی نے بیان فرمایا کہ شہید کا جو کوئی عزیز دوست مرنے والا ہوتا ہے شہید کو پہلے سے اس کی اطلاع کردی جاتی ہے کہ فلاں شخص اب تمہارے پاس آ رہا ہے وہ اس سے ایسا خوش ہوتا ہے جیسے دنیا میں کسی دور افتادہ دوست سے بعد مدت ملاقات کی خوشی ہوتی ہے۔ اس آیت کا شان نزول جو ابو داؤد نے باسناد صحیح حضرت ابن عباس سے روایت کیا وہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ جب واقعہ احد میں تمہارے بھائی شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو سبز پرندوں کے جسم میں رکھ کر آزاد کردیا وہ جنت کی نہروں اور باغات کے پھلوں سے اپنا رزق حاصل کرتے ہیں اور پھر ان قندیلوں میں آجاتے ہیں جو ان کے لئے عرش رحمن کے نیچے معلق ہیں، جب ان لوگوں نے اپنی راحت و عیش کی یہ زندگی دیکھی تو کہنے لگے کہ (ہمارے متعلقین دنیا میں ہمارے مرنے سے غمگین ہیں) کیا کوئی ہمارے حالات کی خبر ان کو پہنچا سکتا ہے، تاکہ وہ ہم پر غم نہ کریں اور وہ بھی جہاد میں کوشش کرتے رہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم تمہاری یہ خبر ان کو پہنچائے دیتے ہیں اس پر یہ آیت نازل فرمائی گئی۔ (قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَرِحِيْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ۝ ٠ ۙ وَيَسْـتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِيْنَ لَمْ يَلْحَقُوْا بِھِمْ مِّنْ خَلْفِھِمْ۝ ٠ ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَيْھِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ۝ ١٧٠ ۘ فرح الْفَرَحُ : انشراح الصّدر بلذّة عاجلة، وأكثر ما يكون ذلک في اللّذات البدنيّة الدّنيوية، فلهذا قال تعالی: لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِما آتاکُمْ [ الحدید/ 23] ، وَفَرِحُوا بِالْحَياةِ الدُّنْيا[ الرعد/ 26] ، ذلِكُمْ بِما كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ [ غافر/ 75] ، ( ف ر ح ) ا لفرح کے معنی کسی فوری یا دینوی لذت پر انشراح صدر کے ہیں ۔ عموما اس کا اطلاق جسمانی لذتوں پر خوش ہونے کے معنی میں ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِما آتاکُمْ [ الحدید/ 23] اور جو تم کو اس نے دیا ہوا اس پر اترایا نہ کرو ۔ وَفَرِحُوا بِالْحَياةِ الدُّنْيا[ الرعد/ 26] اور ( کافر ) لوگ دنیا کی زندگی پر خوش ہورہے ہیں ۔ ذلِكُمْ بِما كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ [ غافر/ 75] یہ اس کا بدلہ ہے کہ تم ۔۔۔۔۔ خوش کرتے تھے إِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن يزيل نقصه وأن يستفید الفضل، کالفرس والحمار لا يمكنهما أن يکتسبا الفضیلة التي خصّ بها الإنسان، والفضل الثالث قد يكون عرضيّا فيوجد السّبيل علی اکتسابه، ومن هذا النّوع التّفضیل المذکور في قوله : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] ، لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] ، يعني : المال وما يکتسب، ( ف ض ل ) الفضل کے منعی کسی چیز کے اقتضا ( متوسط درجہ سے زیادہ ہونا کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے محمود جیسے علم وحلم وغیرہ کی زیادتی مذموم جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا لیکن عام طور الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے اور الفضول بری باتوں میں اور جب فضل کے منعی ایک چیز کے دوسری پر زیادتی کے ہوتے ہیں تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ( ۔ ) بر تری بلحاظ جنس کے جیسے جنس حیوان کا جنس نباتات سے افضل ہونا ۔ ( 2 ) بر تری بلحاظ نوع کے جیسے نوع انسان کا دوسرے حیوانات سے بر تر ہونا جیسے فرمایا : ۔ وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ ( 3 ) فضیلت بلحاظ ذات مثلا ایک شخص کا دوسرے شخص سے بر تر ہونا اول الذکر دونوں قسم کی فضیلت بلحاظ جو ہر ہوتی ہے ۔ جن میں ادنیٰ ترقی کر کے اپنے سے اعلٰی کے درجہ کو حاصل نہیں کرسکتا مثلا گھوڑا اور گدھا کہ یہ دونوں انسان کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے ۔ البتہ تیسری قسم کی فضیلت من حیث الذات چونکہ کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے اس کا اکتساب عین ممکن ہے چناچہ آیات کریمہ : ۔ وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] اور خدا نے رزق ( دولت ) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل ( یعنی روزی تلاش کرو ۔ میں یہی تیسری قسم کی فضیلت مراد ہے جسے محنت اور سعی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ بشر واستبشر : إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] ، وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] ، يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] ، وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] . ( ب ش ر ) البشر التبشیر کے معنی ہیں اس قسم کی خبر سنانا جسے سن کر چہرہ شدت فرحت سے نمٹما اٹھے ۔ مگر ان کے معافی میں قدر سے فرق پایا جاتا ہے ۔ تبیشتر میں کثرت کے معنی ملحوظ ہوتے ہیں ۔ اور بشرتہ ( مجرد ) عام ہے جو اچھی وبری دونوں قسم کی خبر پر بولا جاتا ہے ۔ اور البشرتہ احمدتہ کی طرح لازم ومتعدی آتا ہے جیسے : بشرتہ فابشر ( یعنی وہ خوش ہوا : اور آیت کریمہ : { إِنَّ اللهَ يُبَشِّرُكِ } ( سورة آل عمران 45) کہ خدا تم کو اپنی طرف سے بشارت دیتا ہے میں ایک قرآت نیز فرمایا : لا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ عَلِيمٍ قالَ : أَبَشَّرْتُمُونِي عَلى أَنْ مَسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ قالُوا : بَشَّرْناكَ بِالْحَقِّ [ الحجر/ 53- 54] مہمانوں نے کہا ڈریے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند بیٹے کی خوشخبری دیتے ہیں وہ بولے کہ جب بڑھاپے نے آپکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے اب کا ہے کی خوشخبری دیتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں ۔ { فَبَشِّرْ عِبَادِ } ( سورة الزمر 17) تو میرے بندوں کو بشارت سنادو ۔ { فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ } ( سورة يس 11) سو اس کو مغفرت کے بشارت سنادو استبشر کے معنی خوش ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے ( اور شہید ہوکر ) ان میں شامل ہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں ۔ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہیں ۔ وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] اور اہل شہر ( لوط کے پاس ) خوش خوش ( دورے ) آئے ۔ اور خوش کن خبر کو بشارۃ اور بشرٰی کہا جاتا چناچہ فرمایا : هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی ۔ وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری سے کرآئے ۔ يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] زہے قسمت یہ تو حسین ) لڑکا ہے ۔ وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] اس مدد کو تو خدا نے تمہارے لئے رذریعہ بشارت ) بنایا لحق لَحِقْتُهُ ولَحِقْتُ به : أدركته . قال تعالی: بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ [ الجمعة/ 3] ( ل ح ق ) لحقتہ ولحقت بہ کے معنی کیس کو پالینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے ۔ ( اور شہید ہو کر ) ان میں شامل نہ ہو سکے ۔ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ [ الجمعة/ 3] اور ان میں سے دوسرے لوگوں کی طرف بھی ( ان کو بھیجا ہے جو ابھی ان مسلمان سے نہیں ملے ۔ خلف ( پیچھے ) خَلْفُ : ضدّ القُدَّام، قال تعالی: يَعْلَمُ ما بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَما خَلْفَهُمْ [ البقرة/ 255] ، وقال تعالی: لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ [ الرعد/ 11] ( خ ل ف ) خلف ( پیچھے ) یہ قدام کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ يَعْلَمُ ما بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَما خَلْفَهُمْ [ البقرة/ 255] جو کچھ ان کے روبرو ہو راہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے ۔ لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ [ الرعد/ 11] اس کے آگے پیچھے خدا کے جو کیدار ہیں ۔ خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ حزن الحُزْن والحَزَن : خشونة في الأرض وخشونة في النفس لما يحصل فيه من الغمّ ، ويضادّه الفرح، ولاعتبار الخشونة بالغم قيل : خشّنت بصدره : إذا حزنته، يقال : حَزِنَ يَحْزَنُ ، وحَزَنْتُهُ وأَحْزَنْتُهُ قال عزّ وجلّ : لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] ( ح ز ن ) الحزن والحزن کے معنی زمین کی سختی کے ہیں ۔ نیز غم کی وجہ سے جو بیقراری سے طبیعت کے اندر پیدا ہوجاتی ہے اسے بھی حزن یا حزن کہا جاتا ہے اس کی ضد فوح ہے اور غم میں چونکہ خشونت کے معنی معتبر ہوتے ہیں اس لئے گم زدہ ہوے کے لئے خشنت بصررہ بھی کہا جاتا ہے حزن ( س ) غمزدہ ہونا غمگین کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے ۔۔۔۔۔ اس سے تم اندو ہناک نہ ہو

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٧٠۔ ١٧١) اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے جو انعامات ان کو عطا فرماتا ہے وہ اس سے خوش ہیں اور جو ان کے بھائی دنیا میں رہ گئے اور ان تک نہیں پہنچے وہ ان کی بھی اس حالت پر خوش ہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے انکو اس کی خوشخبری دی ہے نیز وہ انعامات خداوندی اور بلند درجات کی وجہ سے بھی خوش ہیں۔ جہاد میں جو تکالیف لاحق ہوتی ہیں، انکو اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

121. There is a Tradition from the Prophet that he who leaves the world after having lived righteously is greeted with a life so felicitous that he never wishes to return to the world. The only exception to this are martyrs who wish to be sent back to the world so that they may once again attain martyrdom and thereby enjoy that unique joy, bliss and ecstasy which one experiences at the time of laying down one's life for God. (Ahmad b. Hanbal, Musnad, vol. Ill, 103, 126, 153, 173, 251, 276, 278, 284, 289; Bukhari, 'Tafsir al-Qur'an', 6 and 21: Muslim, 'Al-Imarah', 108, 109. 121 - Ed.)

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :121 مسند احمد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مروی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ جو شخص نیک عمل لے کر دنیا سے جاتا ہے اسے اللہ کے ہاں اس قدر پر لطف اور پر کیف زندگی میسر آتی ہے جس کے بعد وہ کبھی دنیا میں واپس آنے کی تمنا نہیں کرتا ۔ مگر شہید اس سے مستثنیٰ ہے ۔ وہ تمناکرتا ہے کہ پھر دنیا میں بھیجا جائے اور پھر اس لذت ، اس سرور اور اس نشے سے لطف اندوز ہو جو راہ خدا میں جان دیتے وقت حاصل ہوتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:170) یستبشرون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ استبشار (استفعال) مصدر خوش ہیں۔ خوش ہوتے ہیں بالذین ان کے متعلق لم یلحقوا بھم جو ابھی نہیں آملے ان کے ساتھ ۔ من خلفھم ان کے پیچھے رہ جانے والوں میں سے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 یعنی اپنے جب مسلمانوں بھا ئیوں کو جہاد فی سبیل اللہ مشٖغول چھوڑ آئے ہیں ان کا تصور کر کے خوز ہوتے ہیں کہ ان کو بھی ہماری طرح پر لطف اور بیخوف و خطر زندگی حاصل ہوگی۔ بعض روایات میں ہے کہ شہدا بئر معونہ نے اللہ تعالیٰ سے یہ خواہش کی کہ ہم جس عیش و خوشی میں زندگی بسر کر رہے ہیں ہمارے بھائیوں کو اس کی اطلاع پہنچا دی جائے تاکہ وہ بھی جہاد فی سبیل اللہ میں رغبت کریں چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ التجا منظور فرمائی اور یہ آیات نازل فرمائیں۔ (کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ……………” جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اس پر خوش اور خرم ہیں ۔ “ یعنی وہ اللہ کے ہاں سے آیا ہوا رزق بڑی فرحت کے ساتھ حاصل کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ انہیں اچھی طرح ادراک ہوچکا ہوتا ہے کہ یہ تو اللہ کا فضل خاص ہے ۔ یہ فضل خاص ان کے لئے ثبوت ہے اللہ کی رضامندی کا ‘ اس لئے کہ وہ اس کی راہ میں قتل ہوئے ۔ پس اس سے زیادہ ان کے لئے اور کیا چیز سامان فرحت ہوسکتی ہے کہ انہیں اللہ کا رزق اس احساس کے ساتھ ملے کہ وہ ان سے راضی بھی ہوچکا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

261 فَرِحِیْن۔ یہ یُرْزَقُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے اور فَضلِہٖ سے وہ انعام واکرام مراد ہے جو شہادت کے بعد جنت میں ان کو عطا کیا گیا ہے جنت کی یہ خاص نعمتیں اور یہ اعزاز واکرام چونکہ شہادت کی جزاء ہے اس لیے نعمت شہادت بھی فَضْلِہٖ میں داخل ہے۔ وھو فی الشھادۃ وما ساق الیھم من الکرامۃ والتفضیل علی غیرھم من کو نھم احیاء مقربین معجلا لھم رق الجنۃ ونعیمھا (مدارک ج 1 ص 151 یعنی بما اعطاھم من الثواب والکرامۃ والاحسان والافضال فی دار النعیم (خازن ج 1 ص 376) مطلب یہ کہ درجہ شہادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے عالم برزخ میں ان کو جن نعمتوں سے نوازا ہے۔ وہ ان میں خوش وخرم ہیں۔ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ الخ یہ یُرْزَقُوْنَ پر معطوف ہے اور اَلَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِھِمْ سے وہ مجاہدین مراد ہیں جن کو یہ شہداء جہاد میں مصروف چھوڑ کر آئے تھے جب شہداء نے عالم برزخ میں اللہ تعالیٰ کے بےپایاں انعام واکرام اور وہاں کی عیش و عشرت اور نعیم مقیم کو دیکھا تو انہیں مجاہدیں کے حق میں بہت خوشی ہوئی کہ جب وہ شہادت پا کر وہاں پہنچیں گے تو ان کو بھی اسی اعزاز وانعام سے نوازا جائے گا۔ ھم الشھداء الذین یاتونھم بعد من اخوانھم المؤمنین الذین ترکوھم یجادھون فیستشھدون فرحوا لانفسھم و لمن یلحق بھم من الشھداء اذ یصرون الی ما صاروا الیہ من کر امۃ اللہ تعالیٰ (بحر ج 3 ص 114) ۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اَلَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِھِمْ میں تمام ایمان والوں کی طرف اشارہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب شہداء عالم برزخ میں پہنچے اور اللہ کے انعام و احسان کا معاینہ کیا تو ان کو عین الیقین حاصل ہوگیا کہ دین اسلام ہی دین حق ہے اس لیے ان کو تمام مؤمنین کے بارے میں خوشی ہوئی کہ اگر ان کا خاتمہ ایمان اور دین اسلام پر ہی ہوا تو ان کا انجام بہت عمدہ ہوگا اور وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ثواب وجزا حاصل کریں گے۔ الاشارۃ بالاستبشار للذین لم یلحقوا بھم الی جمیع المؤمنین وان لم یقتدروا و لکنہم لما عاینوا ثواب اللہ وقع الیقین بان دین الاسلام ھو الحق الذین یثیب اللہ علیہ فھم فرحون لانفسہم بما اٰتاھم اللہ من فضلہ مستبشرون للمؤمنین الخ (قرطبی ج 4 ص 275) ۔ 262 یہ اَلَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِھِمْ سے بدل الاشتمال ہے یا منصوب بنزع خافض ہے اور اصل میں لئلا یا بان لا تھا اور یَسْتَبشِرُوْنَ کے مفعول لہ کی جگہ واقع ہے (روح ج 4 ص 123) بہر صورت اس میں شہداء کی خوشی کا اصل متعلق بیان کیا گیا ہے یعنی شہداء کو زندہ مجاہدین یا قیامت تک ہونے والے تمام مؤمنین کے بارے میں خوشی اس لیے ہوگی کہ آخرت میں ان (مجاہدین اور مومنین) کو نہ کسی قسم کا خوف لاحق ہوگا اور نہ غم، تو خوشی کا منشا مجاہدین اور مؤمنین کی ذوات و اشخاص نہیں بلکہ ان کا نیک انجام اور آخرت کی نعیم مقیم ہے۔ خوف (ڈر) کا اطلاق آنیوالے نقصان یا مستقبل میں نازل ہونے والی کسی ناپسندیدہ بات پر ہوتا ہے اور حزن (غم) گذشتہ منفعت کے فوت ہونے پر ہوتا ہے مطلب یہ کہ ان شہداء اور مومنین کو آخرت میں نہ تو قیامت کے احوال اور عذاب و عقاب کا ڈر ہوگا اور نہ ہی دنیا کی عیش و عشرت کے ہاتھ سے جانے کا غم۔ لاخوف علیھم فیما سیاتیھم من احوال القیامۃ ولا حزن لھم فیما فاتھم من نعیم الدنیا (کبیر ج 3 ص 143) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi