Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 180

سورة آل عمران

وَ لَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبۡخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ہُوَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ بَلۡ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمۡ ؕ سَیُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِہٖ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ وَ لِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۱۸۰﴾٪  9

And let not those who [greedily] withhold what Allah has given them of His bounty ever think that it is better for them. Rather, it is worse for them. Their necks will be encircled by what they withheld on the Day of Resurrection. And to Allah belongs the heritage of the heavens and the earth. And Allah , with what you do, is [fully] Acquainted.

جنہیں اللہ تعالٰی نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے وہ اس میں اپنی کنجُوسی کو اپنے لئے بہتر خیال نہ کریں بلکہ وہ ان کے لئے نہایت بدتر ہے ؟عنقریب قیامت والے دن یہ اپنی کنجوسی کی چیز کے طوق ڈالے جائیں گے ، آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ تعالیٰ ہی کے لئے اور جو کچھ تم کر رہے ہو ، اس سے اللہ تعالٰی آگاہ ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا اتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ ... And let not those who are stingy with that which Allah has bestowed on them of His bounty (wealth) think that it is good for them. Nay, it will be worse for them. Therefore, the Ayah says that the miser should not think that collecting money will benefit him. Rather, it will harm him in his religion and worldly affairs. Allah mentions the money that the miser collected on the Day of Resurrection, ... سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ... the things that they stingy with shall be tied to their necks like a collar on the Day of Resurrection. Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah said, مَنْ اتَاهُ اللهُ مَالاً فَلَمْ يُوَدِّ زَكَاتَهُ مُثِّلَ لَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَعْنِي بِشِدْقَيْهِ يَقُولُ أَنَا مَالُكَ أَنَا كَنْزُك Whoever Allah makes wealthy and he does not pay the Zakah due on his wealth, then (on the Day of Resurrection) his wealth will be made in the likeness of a bald-headed poisonous male snake with two black spots over the eyes. The snake will encircle his neck and bite his cheeks and proclaim, `I am your wealth, I am your treasure.' The Prophet then recited the Ayah, وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا اتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ And let not those who are stingy with that which Allah has bestowed on them of His bounty think that it is good for them. Nay, it will be worse for them, until the end. Al-Bukhari, but not Muslim, collected this Hadith using this chain of narration, Ibn Hibban also collected it in his Sahih. Imam Ahmad recorded that Abdullah said that the Prophet said, مَا مِنْ عَبْدٍلاَا يُوَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلاَّ جُعِلَ لَهُ شُجَاعٌ أَقْرَعُ يَتْبَعُهُ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ فَيَقُولُ أَنَا كَنْزُك Every person who does not pay the Zakah due on his wealth, will have his money made into the shape of a bald-headed, poisonous male snake who will follow him. The person will run away from the snake, who will follow him and proclaim, `I am your treasure.' Abdullah then recited the Ayah in Allah's Book that testifies to this fact, سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (the things that they were stingy with shall be tied to their necks like a collar on the Day of Resurrection). This was recorded by At-Tirmidhi, An-Nasa'i, and Ibn Majah, and At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih." Allah's statement, ... وَلِلّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ ... And to Allah belongs the inheritance of the heavens and the Earth, means, وَأَنفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ (and spend of that whereof He has made you trustees), (57:7). Therefore, since all affairs are under Allah's control, then spend from your money so it will benefit you on the Day of Return. ... وَاللّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ and Allah is Well-Acquainted with all that you do. with your intentions and what your hearts conceal.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

180۔ 1 اس میں اس بخیل کا بیان کیا گیا ہے جو اللہ کے دیئے ہوئے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا حتی کہ اس میں سے فرض زکوٰۃ بھی نہیں نکالتا، صحیح بخاری کی حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن اس کے مالک کو ایک زہریلا اور نہایت خوف ناک سانپ بنا کر طوق کی طرح اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا، وہ سانپ اس کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧٨] آیت نمبر ١٧٧ میں یہ بیان ہوا تھا کہ دنیا میں نعمتوں کی فراوانی اس بات کی دلیل نہیں ہوتی کہ اللہ ان پر خوش ہے۔ مال و دولت اسی صورت میں اللہ کی نعمت کہلا سکتا ہے جب کہ اس سے مال کے حقوق ادا کردیئے جائیں اور اگر بخل سے کام لیا جائے تو یہی مال و دولت عذاب کا باعث بن جاتا ہے چناچہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال عطا فرمائے، پھر وہ اس سے زکوٰۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کا مال ایک گنجے سانپ کی شکل میں ہوگا جس کی آنکھوں پر دو کالے نقطے ہوں گے وہ سانپ اس کے گلے کا طوق بن جائے گا اور اس کی دونوں باچھیں پکڑ کر کہے گا، میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ (بخاری، کتاب التفسیر، نیز کتاب الزکوٰۃ، باب اثم مانع الزکوٰۃ وقول اللہ (وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 34؀ۙ ) 9 ۔ التوبہ :34) [١٧٩] یعنی جو مال تم چھوڑ کر مرجاؤ گے وہ تمہارے وارثوں کا ہوگا اور بالآخر اللہ کی ہی میراث میں چلا جائے گا چناچہ حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا : انسان کہتا رہتا ہے کہ یہ میرا مال ہے۔ یہ میرا مال ہے۔ حالانکہ اس کا مال وہی ہے۔ جو اس نے کھالیا یا پہن لیا یا اللہ کی راہ میں دے دیا۔ باقی مال تو اس کے وارثوں کا ہوگا ہے & نیز آپ سے کسی نے سوال کیا کہ & افضل صدقہ کون سا ہے۔ & آپ نے فرمایا &: جو تو تندرستی کی حالت میں مال کی خواہش مالدار ہونے کی امید اور محتاجی کا ڈر رکھتے ہوئے کرے اور اتنی دیر مت لگا کہ حلق میں دم آجائے تو اس وقت یوں کہنے لگے کہ اتنا مال فلاں کو دے دینا اور اتنا فلاں کو۔ حالانکہ اب وہ تو فلاں کا ہو ہی چکا & (بخاری، کتاب الوصایا، باب الصدقہ عندالموت)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ : اوپر ترغیب جہاد کے سلسلے میں جانی قربانی پر زور دیا ہے اور جو جان بچانے کی خاطر اس سے فرار اختیار کرتے ہیں ان کے حق میں وعید سنائی ہے۔ اب یہاں جہاد میں مالی قربانی پر زور دیا جا رہا ہے اور بخل کرنے والوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح ان منافقین کو اپنی جان پیاری ہے اسی طرح ان کو اپنا مال بھی پیارا ہے اور جو لوگ مال کے حقوق ادا کرنے سے پہلوتہی کرتے ہیں، قیامت کے دن یہی مال ان کے لیے وبال جان بن جائے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کچھ مال دیا ہے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کے مال کو ایک گنجے سانپ کی شکل دے دی جائے گی اور وہ طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔ وہ اسے اپنے دونوں جبڑوں سے پکڑے گا اور اس سے کہے گا : ” میں ہوں تمہارا مال، میں ہوں تمہارا خزانہ۔ “ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ [ بخاری، التفسیر، باب (وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ ۔۔ ) : ٤٥٦٥، عن أبی ہریرہ (رض) ] 2 بخل ان حقوق کو ادا نہ کرنے کا نام ہے جو انسان پر واجب ہوں، مثلاً گھر والوں کا نان و نفقہ، مہمان نوازی، جہاد کی تیاری، زکوٰۃ و عشر وغیرہ۔ ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : ( وَ اَیُّ دَاءٍ اَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ ) ” بخل سے بڑی بیماری کیا ہوسکتی ہے ؟ “ [ بخاری، المغازی، باب قصۃ عمان والبحرین : ٤٣٨٣ ] 3 وَلِلّٰهِ مِيْرَاث الخ : یعنی جب زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی میراث اور ملکیت ہے تو جس مال کے بظاہر تم وارث بنائے گئے ہو، اس میں بخل کیوں کرتے ہو ؟ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” اللہ وارث ہے، آخر تم مرجاؤ گے اور مال اسی کا ہو رہے گا، تم اپنے ہاتھ سے دو تو ثواب پاؤ۔ “ (موضح)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Anomalies in the conduct of Jews were mentioned at the beginning of Surah &Al-` Imran (21-25). The text now reverts back to the same subject. The verses cited above carry related topics. In between, there are words of comfort for the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as well as those giving good counsel to Muslims. Commentary The first (180) of the seven verses (180-186) appearing here repudi¬ates miserliness and carries a warning for those who practice it. The Definition of Miserliness and the punishment it brings In the terminology of the Shari` ah of Islam, miserliness (بُخل Bukhl) refers to the act of not spending that which it is obligatory to spend in the way of Allah. Therefore, miserliness is forbidden (haram). Besides, it carries a stern warning of Hell for its practitioners. As for occasions where spending is not obligatory (wajib) but only recommended (mustahabb), then not spending there is not included under the miser¬liness which is forbidden. However, this too is called miserliness in its general sense. As said earlier, this kind of miserliness is not forbidden (haram) but against the preferred choice (khilaf aula) it certainly is. Appearing in Hadith, there is another word - شُّحَّ Shuhh - also used in the sense of بُخل Bukhl or miserliness. By definition, it means not spending what it was obligatory to spend - one may go even farther than that by remaining consumed with greed to increase one&s wealth. This then, shall be a crime much more severe than ordinary miserliness. Therefore, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: لا یَجتمِعُ شُحُّ و ایمانُ فی قَلبِ رَجُلِ مُسلِم ابَدا That is, miserliness (Shuhh) and faith (Iman) can never coexist in the heart of a Muslim. (Qurtubi) The punishment for miserliness بُخُل (Bukhl) mentioned in this verse: &They shall be forced, on the Doomsday, to put on round their necks the shackles of what they were miserly with& has been explained by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in the following words reported by Sayy¬idna Abu Hurairah (رض) &Anyone Allah blessed with some wealth and who did not pay the zakah due on it properly will find his or her wealth turn into a deadly snake shackled round the neck chomping at the person&s mouth from one to the other end of the lips and saying: &I am your wealth. I am your capital gain.& Thereafter, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) recited this verse (180). (Al-Nas&i, from Tafsir al-Qurtubi)

ربط آیات : سورة آل عمران کے شروع میں یہودیوں کی بری خصلتوں اور شرارتوں کا ذکر تھا یہاں سے پھر اسی کی طرف عود کیا گیا، آیات مذکورہ سب اسی طرح کے مضامین پر مشتمل ہیں، درمیان میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی اور مسلمانوں کے لئے نصائح کا ذکر ہے : خلاصہ تفسیر اور ہرگز نہ خیال کریں ایسے لوگ جو (ضروری مواقع میں) ایسی چیز (کے خرچ کرنے) میں بخل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے دی ہے کہ یہ بات ان کے لئے کچھ اچھی ہوگی، (ہرگز نہیں) بلکہ یہ بات ان کے لئے بہت ہی بری ہے (کیونکہ انجام اس کا یہ ہوگا کہ) وہ لوگ قیامت کے روز طوق پہنائے جائیں گے اس (مال) کا (سانپ بنا کر) جس میں انہوں نے بخل کیا تھا اور (بخل کرنا یوں بھی حماقت ہے کہ) اخیر میں (جب سب مر جایں گے) سب آسمان و زمین (ور جو کائنات ان کے اندر ہیں سب) اللہ ہی کا رہ جاوے گا (لیکن اس وقت یہ مال اللہ کے لئے ہوجانے سے تمہیں کوئی ثواب نہیں ملے گا، کیونکہ تم نے اپنے اختیار سے نہیں دیئے اور جب انجام کار سب اللہ ہی کا ہونا ہے تو عقل کی بات یہ ہے کہ ابھی اپنے اختیار سے دے دو تاکہ ثواب کے مستحق بنو) اور اللہ تمہارے سب اعمال کی پوری خبر رکھتے ہیں (اس لئے جو کچھ خرچ کرو اخلاص کے ساتھ اللہ کے لئے کرو۔ ) بیشک اللہ نے سن لیا ہے ان (گستاخ) لوگوں کا قول جنہوں نے (استہزاء) یوں کہا کہ (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ مفلس ہے اور ہم مالدار ہیں، (اور صرف اس سننے پر اکتفاء نہیں کیا جاوے گا بلکہ ہم ان کے کہے ہوئے کو (ان کے نامہ اعمال میں) لکھ کر رہیں گے اور (اسی طرح) ان کا انبیاء (علیہم السلام) کو ناحق قتل کرنا بھی (ان کے نامہ اعمال میں لکھا جاوے گا) اور ہم (ان پر سزا جاری کرنے کے وقت جتلانے کے لئے) کہیں گے کہ (لو) چکھو آگ کا عذاب، (اور ان کو روحانی رنج دینے کے لئے اس وقت یہ بھی کہا جاوے گا کہ) یہ (عذاب) ان اعمال (کفریہ) کی وجہ سے ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں سمیٹے ہیں اور یہ امر ثابت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنیوالے نہیں، وہ (یہود) ایسے لوگ ہیں کہ (بالکل جھوٹ تراش کر) کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو (بواسطہ انبیاء سابقین) حکم فرمایا تھا کہ ہم کسی پیغمبری کے مدعی) پر اعتقاد (ان کے پیغمبر ہونے کا) نہ لاویں جب تک ہمارے سامنے معجزہ (خاص) نذر و نیاز خداوندی کا ظاہر نہ کرے، کہ اس کو (آسمانی) آگ کھا جاوے (پہلے انبیاء (علیہم السلام) کا یہ معجزہ ہوا ہے کہ کوئی چیز جاندار یا بےجان اللہ کے نام کی نکال کر کسی میدان یا پہاڑ پر رکھ دی، غیب سے ایک آگ نمودار ہوئی اور اس چیز کو جلا دیا یہ علامت قبول صدقات کی ہوتی تھی، مطلب یہ ہے کہ آپ نے یہ خاص معجزہ ظاہر نہیں فرمایا، اس لئے ہم آپ پر ایمان نہیں لاتے، حق تعالیٰ اس کا جواب تعلیم فرماتے ہیں کہ) آپ فرما دیجئے کہ بالیقین بہت سے پیغمبر مجھ سے پہلے بہت سے دلائل (معجزات وغیرہ) لے کر آئے اور خود یہ معجزہ بھی جس کو تم کہہ رہے ہو، سو تم نے ان کو کیوں قتل کیا تھا اگر تم (اس امر میں) سچے ہو سو اگر یہ (کفار) لوگ آپ کی تکذیب کریں تو (غم نہ کیجئے کیونکہ) بہت سے پیغمبروں کی جو آپ سے پہلے گذرے ہیں، تکذیب کی جا چکی ہے، جو معجزات لے کر آئے تھے اور (چھوٹے چھوٹے) صحیفے لے کر اور روشن کتاب لے کر (جب کفار کی یہ عادت ہی ہے کہ انبیاء کی تکذیب کیا کرتے ہیں تو پھر آپ کو کیا غم ہے۔ ) (تم میں) ہر جان (دار) کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور (مرنے کے بعد) تم کو پوری پاداش تمہاری (بھلائی برائی کی) قیامت ہی کے روز ملے گی (اگر دنیا میں کافروں پر کسی سزا کا ظہور نہ ہو تو اس سے تکذیب کرنے الوں کو خوشی کا اور تصدیق کرنے والوں کو غم کا کوئی موقع نہیں، آگے اس پاداش کی تفصیل ہے) تو جو شخص دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا سو پورا کامیاب وہ ہوا، (اسی طرح جو جنت سے جدا رہا اور دوزخ میں بھیجا گیا پورا ناکام وہ ہوا) اور دنیوی زندگی تو کچھ بھی نہیں صرف (ایسی چیز ہے جیسے) دھوکہ کا سودا (ہوتا) ہے (جس کی ظاہری آب و تاب کو دیکھ کر خریدار پھنس جاتا ہے، بعد میں اس کی قلعی کھل جاتی ہے تو افسوس کرتا ہے اسی طرح دنیا کی ظاہری چمک دمک سے دھوکہ کھا کر آخرت سے غافل نہ ہونا چاہئے۔ (ابھی کیا ہے) البتہ آگے (آگے) اور آزمائے جاؤ گے اپنے مالوں (کے نقصان) میں اپنی جانوں (کے نقصان) میں اور البتہ آگے کو اور سنو گے بہت سی باتیں دل آزاری کی ان لوگوں سے (بھی) جو تم سے پہلے (آسمانی کتاب دیئے گئے ہیں (یعنی اہل کتاب سے) اور ان ان لوگوں سے (بھی) جو کہ مشرک ہیں اور اگر (ان مواقع پر) صبر کرو گے اور خلاف شروع امور ہے۔ ) پرہیز رکھو گے تو (تمہارے لئے اچھا ہوگا، کیونکہ) یہ (صبر وتقویٰ ) تاکیدی احکام میں سے ہے۔ معارف و مسائل مذکورہ سات آیتوں میں سے پہلی آیت میں بخل کی مذمت اور اس پر وعید مذکور ہے۔ بخل کے معنی شرعی یہ ہیں کہ جو چیز اللہ کی راہ میں خرچ کرنا کسی پر واجب ہو۔ بخل کی تعریف اور اس پر سزا کی تفصیل :۔ اس کو خرچ نہ کرے، اسی لئے بخل حرام ہے اور اس پر جہنم کی وعید شدید ہے۔ اور جن مواقع میں خرچ کرنا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے، وہ اس بخل حرام میں داخل نہیں، البتہ معنی عام کے اعتبار سے اس کو بھی بخل کہہ دیا جاتا ہے، اس قسم کا بخل حرام نہیں، مگر خلاف اولیٰ ہے۔ بخل ہی کے معنی میں ایک دوسرا لفظ بھی احادیث میں آیا ہے، یعنی شح، اس کی تعریف یہ ہی کہ اپنے ذمہ جو خرچ کرنا واجب تھا وہ ادا نہ کرے، اس پر مزید یہ کہ مال بڑھانے کی حرص میں مبتلا رہے، تو وہ بخل سے بھی زیادہ شدید جرم ہے، اسی لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یعنی شح و ایمان کسی مسلمان کے قلب میں جمع نہیں ہو سکتے۔ “ (قرطبی) بخل کی جو سزا اس آیت میں ذکر کی گئی ہے کہ قیامت کے روز جس چیز کے دینے میں بخل کیا اس کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ اس کی تفسیر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمائی ہے : حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ :” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس شخص کو اللہ نے کوئی مال عطا فرمایا پھر اس نے اس کی زکوة اد نہیں کی تو قیامت کے روز یہ مال ایک سخت زہریلا سانپ بن کر اس کے گلے کا طوق بنادیا جائے گا وہ اس شخص کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں تیرا سرمایہ ہوں، پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی۔ (نسائی از تفسیر قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ ھُوَخَيْرًا لَّھُمْ۝ ٠ۭ بَلْ ھُوَشَرٌّ لَّھُمْ۝ ٠ۭ سَيُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝ ٠ۭ وَلِلہِ مِيْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ ٠ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ۝ ١٨٠ۧ حسب ( گمان) والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] ( ح س ب ) الحساب اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں ۔ کیا وہ لوگ جو بڑے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں : وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] اور ( مومنو ) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کررہے ہیں خدا ان سے بیخبر ہے ۔ فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا : أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ( یوں ہی ) جنت میں داخل ہوجاؤ گے ۔ بخل البُخْلُ : إمساک المقتنیات عمّا لا يحق حبسها عنه، ويقابله الجود، يقال : بَخِلَ فهو بَاخِلٌ ، وأمّا البَخِيل فالذي يكثر منه البخل، کالرحیم من الراحم . والبُخْلُ ضربان : بخل بقنیات نفسه، وبخل بقنیات غيره، وهو أكثرها ذمّا، دلیلنا علی ذلک قوله تعالی: الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ [ النساء/ 37] . ( ب خ ل ) البخل ( دس ) اپنے جمع کردہ ذخائر کو ان جگہوں سے روک لینا جہاں پر خرچ کرنے سے اسے روکنا نہیں چاہیئے ۔ اس کے بالمقابل الجواد ہے بخل اس نے بخیل کیا باخل ۔ بخل کرنے والا ۔ البخیل ( صیغہ مبالغہ ) جو بہت زیادہ بخل سے کام لیتا ہو جیسا کہ الراحم ( مہربان ) سے الرحیم مبالغہ کے لئے آتا جاتا ہے ۔ البخیل ۔ دو قسم پر ہے ایک یہ ہے کہ انسان اپنی چیزوں کو خرچ کرنے سے روک لے اور دوم یہ کہ دوسروں کو بھی خرچ کرنے سے منع کرے یہ پہلی قسم سے بدتر ہے جیسے فرمایا : { الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ } ( سورة النساء 37) یعنی جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل کی تعلیم دیں ۔ إِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔ شر الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ، وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ( ش ر ر ) الشر وہ چیز ہے جس سے ہر ایک کراہت کرتا ہو جیسا کہ خیر اسے کہتے ہیں ۔ جو ہر ایک کو مرغوب ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] کہ مکان کس کا برا ہے ۔ طوق أصل الطَّوْقِ : ما يجعل في العنق، خلقة كَطَوْقِ الحمامِ ، أو صنعة كطَوْقِ الذّهب والفضّة، ويتوسّع فيه فيقال : طَوَّقْتُهُ كذا، کقولک : قلّدته . قال تعالی: سَيُطَوَّقُونَ ما بَخِلُوا بِهِ [ آل عمران/ 180] ، وذلک علی التشبيه، كما روي في الخبر «يأتي أحدکم يوم القیامة شجاع أقرع له زبیبتان فَيَتَطَوَّقُ به فيقول أنا الزّكاة التي منعتني» ( ط و ق ) الطوق اس حلقہ کو کہتے ہیں جو پیدائشی طور پر گردن کے گرد بنا ہوتا ہے جیسے کبوتر ی کی گردن میں یا مصنوعی ہو جیسے سونے چاندی کا حلقہ جو گلے میں ڈالا جاتا ہے پھر بطور توسیع کے قلدتہ کی طرح طوقتہ کذا کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے اور قرآن میں جو مال کے متعلق ؛ سَيُطَوَّقُونَ ما بَخِلُوا بِهِ [ آل عمران/ 180] وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں ( قیامت کے دن ) اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائیگا ۔ فرمایا ہے تو یہ بطور تشبیہ کے ہے ۔ جیسا کہ حدیث میں ہے ۔ ( 24 ) یاتی احدکم یوم القیامتہ شجاع اقرع لہ زبیتان فیتطوق بہ فیقول اماالذکوۃ التی منعتنی کہ قیامت کے دن تم میں سے کسی ایک کے پاس گنجا سانپ آئے گا ۔ اور اس کے گلے میں طوق بن کر پڑجائے گا اور کہے گا میں تمہارا خزانہ ہو جس کی تم نے زکٰوۃ ادا نہیں کی تھی۔ قِيامَةُ : عبارة عن قيام الساعة المذکور في قوله : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] ، يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] ، وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] ، والْقِيَامَةُ أصلها ما يكون من الإنسان من القیام دُفْعَةً واحدة، أدخل فيها الهاء تنبيها علی وقوعها دُفْعَة، القیامت سے مراد وہ ساعت ( گھڑی ) ہے جس کا ذکر کہ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] اور جس روز قیامت برپا ہوگی ۔ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] جس دن لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ وغیرہ آیات میں پایاجاتا ہے ۔ اصل میں قیامتہ کے معنی انسان یکبارگی قیام یعنی کھڑا ہونے کے ہیں اور قیامت کے یکبارگی وقوع پذیر ہونے پر تنبیہ کرنے کے لئے لفظ قیام کے آخر میں ھاء ( ۃ ) کا اضافہ کیا گیا ہے ورث الوِرَاثَةُ والإِرْثُ : انتقال قنية إليك عن غيرک من غير عقد، ولا ما يجري مجری العقد، وسمّي بذلک المنتقل عن الميّت فيقال للقنيةِ المَوْرُوثَةِ : مِيرَاثٌ وإِرْثٌ. وتُرَاثٌ أصله وُرَاثٌ ، فقلبت الواو ألفا وتاء، قال تعالی: وَتَأْكُلُونَ التُّراثَ [ الفجر/ 19] وقال عليه الصلاة والسلام : «اثبتوا علی مشاعرکم فإنّكم علی إِرْثِ أبيكم» أي : أصله وبقيّته ( ور ث ) الوارثۃ والا رث کے معنی عقد شرعی یا جو عقد کے قائم مقام ہے جو کے بغیر کسی چیز کے ایک عقد کے قائم مقام ہے کے بغیر کسی چیز کے ایک شخص کی ملکیت سے نکل کر دسرے کی ملکیت میں چلے جانا کئے ہیں اسی سے میت کی جانب سے جو مال ورثاء کی طرف منتقل ہوتا ہے اسے تراث اور کیراث کہا جاتا ہے اور تراث اصل میں وراث ہے واؤ مضموم کے شروع میں آنے کی وجہ سے اسے تا سے تبدیل کرلو اسے چناچہ قرآن میں سے ۔ وَتَأْكُلُونَ التُّراثَ [ الفجر/ 19] اور حج کے موقعہ پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ۔«اثبتوا علی مشاعرکم فإنّكم علی إِرْثِ أبيكم» کہ اپنے مشاعر ( مواضع نسکہ ) پر ٹھہرے رہو تم اپنے باپ ( ابراہیم کے ورثہ پر ہو ۔ تو یہاں ارث کے معنی اصل اور بقیہ نشان کے ہیں ۔ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے خبر الخُبْرُ : العلم بالأشياء المعلومة من جهة الخَبَر، وخَبَرْتُهُ خُبْراً وخِبْرَة، وأَخْبَرْتُ : أعلمت بما حصل لي من الخبر، وقیل الخِبْرَة المعرفة ببواطن الأمر، والخَبَار والخَبْرَاء : الأرض اللّيِّنة « وقد يقال ذلک لما فيها من الشّجر، والمخابرة : مزارعة الخبار بشیء معلوم، والخَبِيرُ : الأكّار فيه، والخبر : المزادة العظیمة، وشبّهت بها النّاقة فسمّيت خبرا، وقوله تعالی: وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] ، أي : عالم بأخبار أعمالکم، وقیل أي : عالم ببواطن أمورکم، وقیل : خبیر بمعنی مخبر، کقوله : فَيُنَبِّئُكُمْ بِما كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ [ المائدة/ 105] ، وقال تعالی: وَنَبْلُوَا أَخْبارَكُمْ [ محمد/ 31] ، قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبارِكُمْ [ التوبة/ 94] ، أي : من أحوالکم التي نخبر عنها . ( خ ب ر ) الخبر ۔ جو باتیں بذریعہ خبر کے معلوم ہوسکیں ان کے جاننے کا نام ، ، خبر ، ، ہے کہا جاتا ہے ۔ خبرتہ خبرۃ واخبرت ۔ جو خبر مجھے حاصل ہوئی تھی اس کی میں نے اطلاع دی ۔ بعض نے کہا ہے کہ خبرۃ کا لفظ کسی معاملہ کی باطنی حقیقت کو جاننے پر بولا جاتا ہے ۔ الخبارو الخبرآء نرم زمین ۔ اور کبھی درختوں والی زمین پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ المخابرۃ ۔ بٹائی پر کاشت کرنا ۔ اسی سے کسان کو ِِ ، ، خبیر ، ، کہاجاتا ہے ۔ الخبر۔ چھوٹا توشہ دان ۔ تشبیہ کے طور پر زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی کو بھی خبر کہاجاتا ہے اور آیت کریمہ :۔ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] اور جو کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی حقیقت کو جانتا ہے :۔ اور بعض نے کہا ہے کہ وہ تمہارے باطن امور سے واقف ہے ۔ اور بعض نے خبیر بمعنی مخیر کہا ہے ۔ جیسا کہ آیت ۔ فَيُنَبِّئُكُمْ بِما كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ [ المائدة/ 105] پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائیگا سے مفہوم ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَنَبْلُوَا أَخْبارَكُمْ [ محمد/ 31] اور تمہارے حالات جانچ لیں ۔ قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبارِكُمْ [ التوبة/ 94] خدا نے ہم کو تمہارے سب حالات بتادئے ہیں ۔ یعنی تمہارے احوال سے ہمیں آگاہ کردیا گیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

نجیل آدمی خوداپنا دشمن ہوتا ہے قول باری ہے (ولایحسبن الذین یبخلون بما اتاھم اللہ من فضلہ ھوخیرالھم بل ھوشرالھم، سیطوقون مابخلوابہ یوم القیامۃ، جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل سے کام لیتے ہیں وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ نجیلی ان کے لیے اچھی ہے۔ نہیں، یہ ان کے حق میں بہت بری ہے جو کچھ وہ اپنی کنجوسی سے جمع کررہے ہیں وہی قیامت کے روزان کے گلے کا طوق بن جائے گا) سدی کا قول ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور زکوۃ ادا کرنے میں نجل کریں ان کے لیے یہ حکم ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ یہ اہل کتاب کے متعلق ہے، انھوں نے اپنی کتاب میں درج شدہ احکام الٰہی کو لوگوں سے بیان کرنے میں بخل کیا تھا۔ لیکن اس سے زکوۃ کے معنی لینے اولی ہیں جس طرح کہ قول باری ہے (والذین یکنزون الذھب والفضۃ ولاینفقونھافی سبیل اللہ فبشرھم بعذاب الیم۔ یوم یحی علیھا فی نارجھنم فتکوی بھاجباھھم وجنوبھم وظھورھم۔ جو لوگ سونا چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تم انھیں ایک درد ناک عذاب کی خبرسنادو۔ یہ عذاب اس روز واقع ہوگا جب کہ اس سونے چاندی کو دوزخ کی آگ میں تپایاجائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیوں کو اور ان کے پہلوؤں کو اور ان کی پشتوں کو داغاجائے گا۔ قول باری (سیطوقون مابخلوابہ) بھی اس پر دلالت کرتا ہے۔ سہل بن صالح نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا (مامن صاحب کنزلایوری زکوۃ کنزہ الاجیئی بہ یوم القیا مۃ وبکنزہ فیحمی بھا جبینہ وجبھتہ حتی یحکم اللہ بین عبادہ۔ جو شخص کسی خزانے کا مالک ہو اور وہ اس کی زکوۃ ادانہ کرتا ہو تو قیامت کے دن اسے اس کے خزانے کے ساتھ حاضر کیا جائے گا اور پھر اس خزانے کو پگھلاکر اس کی پیشانی اور چہرے کو داغاجائے گا۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ بندوں کا حساب وکتاب مکمل ہونے کے بعد ان کے بارے میں اللہ کا فیصلہ سنادیاجائے گا) مسروق کا قول ہے کہ اللہ کا جو حق یعنی زکوۃ وہ ادا کرنے سے بازرہا ہوگا اسے ایک سانپ کی شکل دے دی جائے گی جو اس کی گردن سے آکرلپٹ جائے گا۔ وہ شخص کہے گا کہ تیرے ساتھ میرا کیا تعلق ہے۔ جواب میں سانپ کہے گا کہ میں تیرامال ہوں۔ حضرت عبداللہ کا قول ہے کہ اس کے گلے سے ایک اژدہالپٹ جائے گا جس کے دانت ہوں گے اور پھر وہ اس سے کہے گا کہ میں تیرامال ہوں جسے اللہ کی راہ میں خرچ میں توبخل کرتا تھا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٨٠) کفار ومنافقین کو اللہ تعالیٰ نے جو مال و دولت عطا فرمایا تھا اس میں وہ بخل کرتے تھے اللہ تعالیٰ اس کی مذمت فرماتے ہیں کہ یہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ عطا خداوندی پر یہ بخل ان کے لیے اچھا ہوگا ہرگز نہیں، بلکہ اللہ کی جانب سے ان کے اس بخل کے سبب یہ خالص سزا ہوگی کہ جہنم میں ان کی گردنوں میں قیامت کے دن ان کے سونے اور چاندی کے طوق ڈالے جائیں گے۔ آسمانوں اور زمینوں کے تمام خزانے اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں یا یہ کہ اس دن تمام آسمان و زمین والے فنا ہوجائیں گے اور صرف واحد قہار کی بادشاہت باقی رہ جائے گی وہ ان کے بخل اور سخاوت کو بخوبی جانتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٨٠ (وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰٹہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ہُوَ خَیْرًا لَّہُم ْ ط) ۔ ظاہر بات ہے کہ جب جنگ احد کے لیے تیاری ہو رہی ہوگی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو انفاق مال کی دعوت دی ہوگی تاکہ اسباب جنگ فراہم کیے جائیں۔ لیکن جن لوگوں نے دولت مند ہونے کے باوجود بخل کیا ان کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ انہوں نے بخل کر کے جو اپنا مال بچالیا وہ یہ نہ سمجھیں کہ انہوں نے کوئی اچھا کام کیا ہے۔ یہ مال اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کیا تھا ‘ اس میں بخل سے کام لے کر انہوں نے اچھا نہیں کیا۔ (بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمْ ط) (سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط) (وَلِلّٰہِ مِیْرَاث السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط) دنیا کا مال و اسباب آج تمہارے پاس ہے تو کل کسی اور کے پاس چلا جائے گا اور بالآخر سب کچھ اللہ کے لیے رہ جائے گا۔ آسمانوں اور زمین کی میراث کا حقیقی وارث اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ (وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ ) یہاں وہ چھ رکوع مکمل ہوگئے ہیں جو غزوۂ احد کے حالات و واقعات اور ان پر تبصرے پر مشتمل تھے۔ اس سورة مبارکہ کے آخری دو رکوع کی نوعیت حاصل کلام کی ہے۔ یہ گویا concluding رکوع ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

127. Everything in the heavens and the earth belongs to God alone. Hence the possession and use of anything by man is purely transient. For everyone will be dispossessed of his temporary belongings, and everything will ultimately return to and abide with God. If anyone therefore spends openheartedly in the way of God out of his temporary possessions he does so from property which, ultimately, belongs to God alone. Anyone who hoards his possessions and fails to spend them in the way of God is indeed stupid.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :127 یعنی زمین و آسمان کی جو چیز بھی کوئی مخلوق استعمال کر رہی ہے وہ دراصل اللہ کی ملک ہے اور اس پر مخلوق کا قبضہ و تصرف عارضی ہے ۔ ہر ایک اپنے مقبوضات سے بہرحال بے دخل ہونا ہے اور آخر کار سب کچھ اللہ ہی کے پاس رہ جانے والا ہے ۔ لہٰذا عقل مند ہے وہ جو اس عارضی قبضہ کے دوران میں اللہ کے مال کو اللہ کی راہ میں دل کھول کر صرف کرتا ہے ۔ اور سخت بیوقوف ہے وہ جو اسے بچا بچا کر رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

61: وہ بخل جسے حرام قرار دیا گیا ہے یہ ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ خرچ کرنے کا حکم دیں، انسان وہاں خرچ نہ کرے، مثلاً زکوٰۃ نہ دے، ایسی صورت میں جو مال انسان بچا کر رکھے گا، قیامت کے دن وہ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔ حدیث میں اس کی تشریح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمائی ہے کہ ایسا مال ایک زہریلے سانپ کی شکل میں منتقل کر کے اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا جو اس کی باچھیں پکڑ کر کہے گا کہ : ’’ میں ہوں تیرا مال ! میں ہوں تیرا جمع کیا ہوا خزانہ !‘‘۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:180) یبخلون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ (باب سمع) بخل کرتے ہیں۔ بخل مصدر۔ بخل ۔ کنجوسی۔ بخیل بصیغہ مبالغہ بہت بڑا کنجوس۔ بخل (سمع) ۔ بخل (کرم) کے مفعول اول پر علی یا عن آتا ہے (سیوطی) اور دوسرے مفعول پر (اگر مذکور ہو تو ) باء آتی ہے۔ جیسے بخل علیہ بہ۔ اس نے اس کو وہ چیز دینے میں کنجوسی کی لیکن آیۃ ہذا میں یبخلون اور بخلوا کے بعد ایک ہی مفعول مذکور ہے اور اس پر ہر وہ جگہ باء آئی ہے۔ ھو سے مراد ان کا بخیلی کا فعل ہے۔ سیطوقون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ س مستقبل قریب کے لئے آتا ہے۔ تطویق (تفعیل) مصدر۔ طوق کی طرح ان کی گردن میں ڈالا جائے گا۔ طوق۔ گردن بند۔ گھیرا۔ طاقت۔ وسعت۔ قابو۔ رسی کا بل۔ طوق مصدر بھی ہے۔ اطاقۃ (افعال) کسی چیز پر قابو رکھ سکنا۔ میراث۔ مصدر مرفوع۔ ملکیت۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 اور برتر غیب جہاد کے سلسلہ میں جانی قربانی پر زور دیا ہے اور جو حفاظت جان کی خاطر اس سے فرار کرتے ہیں بیس ان کے حق میں وعید سنائی ہے۔ اب یہاں جہاد میں مالی قربانی پر زور دیا جارہا ہے اور بخل کرنے والوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔ (کبیر) مقصد یہ ہے کہ ان منافقین کو جس طرح اپنی جان پیاری ہے اسی طرح ان کو اپنا مال بھی پیارا ہے۔ جو لوگ مال کے حقوق ادا کرنے سے پہلو تہی کرتے ہیں قیامت کے دن یہی مال ان کے لیے وبال بن جائے گا۔ ؟ صحیح بخاری میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کچھ مال دیا ہے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا قیامت کے دن اس کے مال کو ایک گنجے سانپ کی شکل دے دی جائے گیا اور وہ طوق بناکر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔ وہ اسے اپنے دونوں جبڑوں سے بکڑے گا اور اس سے کہے گا۔ میں ہوں تمہارا مال میں ہوں تمہارا خزانہ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (ابن کثیر) یاد رہے کہ حقوق واجبہ کر ادا نہ کرنے کا نام بخل ہے اور قرآن و حدیث میں اس کی سخت مذمت آئی ہے۔ کہ بخل سے بڑھ کر اور کون سامرض ہوسکتا ہے۔ (قرطبی) نیز دیکھئے۔ التوبہ آیت 35)6 یعنی جب زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی میراث اور ملکیت ہے تو جس مال کے بظا ہر تم وارث بنائے گئے ہو اس میں بخل کیوں کرتے ہو۔۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ اللہ وارث ہے آخرتم مرجا و گے اور مال اسی کا ہو رہے گا۔ تم اپنے ہاتھ سے دو ثواب پا و (موضح )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ اس طوق پہنائے جانے کی کیفیت حدیث بخاری میں آئی ہے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس کو خدا تعالیٰ مال دے اور وہ اس کی زکوة نہ دے تو اس کا وہ مال قیامت کے روز ایک زہریلے سانپ کی شکل بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا اور وہ اس شخص کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں تیرا سرمایہ ہوں پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مال اور جان اللہ کے راستے میں قربان کرنے چاہییں۔ منافق مخلص مسلمانوں کو جہاد پر خرچ کرنے سے روکتے تھے اس لیے احد کے غزوہ پر تبصرہ کرتے ہوئے بخل کی مذمت کی گئی ہے۔ منافق مسلمانوں کو صرف جہاد فی سبیل اللہ سے دلبرداشتہ اور منع ہی نہیں کرتے تھے بلکہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو مایوس کرنے کی کوشش بھی کرتے۔ ان کا اپنا حال یہ تھا کہ جہاد فی سبیل اللہ سے دور بھاگتے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے بچنے کی کوشش کرتے۔ اس طرح وہ مال خرچ کرنے کی بجائے اسے جمع رکھنے کے روییّ پر گامزن تھے۔ ایک موقع پر انہوں نے یہاں تک مہم چلائی اور زبان درازی کرتے ہوئے ایک دوسرے کو کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ قطعاً تعاون نہیں کرنا چاہیے تاکہ یہ تنگ آکر مدینہ خالی کردیں اس طرح مدینہ گھٹیا لوگوں سے پاک ہوجائے گا۔ [ المنافقون : ٨] یہاں منافقوں کے حوالے سے ہر کسی کو آگاہ کیا جارہا ہے کہ جو لوگ غریبوں ‘ مسکینوں اور جہاد فی سبیل اللہ پر خرچ کرنے کے بجائے بخل کرتے ہیں وہ ہرگز گمان نہ کریں کہ جو مال اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمایا ہے وہ جمع کرنے کی صورت میں ان کے لیے بہتر ہوگا بلکہ جس مال کو اپنے مستقبل کی بہتری کے لیے جمع کر رہے ہیں وہ ان کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگا۔ عنقریب درہم و دینار اور سونا چاندی جہنم میں تپا کر قیامت کے دن ان کے گلے کا ہار بنادیے جائیں گے۔ ان بخیلوں اور کنجوسوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ حقیقتاً اللہ ہی زمین و آسمان کی میراث کا وارث ہے۔ اگر یہ پلٹ کر دیکھیں تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ زمین کی ملکیت کا دعو ٰی کرنے اور دنیا کا مال و متاع جمع کرنے والے ان سے پہلے لوگ کہاں ہیں ؟ ان پر بھی وقت آئے گا جب ان کی جائیداد کا وارث دوسرابنے گا تو پھر کیوں نہ یہ اللہ کے دین کی سربلندی اور اس کے مجبور بندوں پر خرچ کیا کریں۔ جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کی خوب خبر رکھنے والا ہے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (یَوْمَ یُحْمٰی عَلَیْھَا فِيْ نَارِ جَھَنَّمَ فَتُکْوٰی بِھَا جِبَاھُھُمْ وَجُنُوْبُھُمْ وَظُھُوْرُھُمْ ھٰذَا مَاکَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِکُمْ فَذُوْقُوْا مَاکُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَ ) [ التوبۃ : ٣٥] ” روز قیامت مال کو جہنم کی آگ میں گرم کر کے ان کی پیشانیوں ‘ پہلوؤں اور پیٹھوں پر داغا جائے گا۔ یہ ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تم چکھو جو تم جمع کرتے تھے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) یَبْلُغُ بِہِ النَّبِيَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَامِنْ رَجُلٍ لَا یُؤَدِّيْ زَکَاۃَ مَالِہٖ إِلَّا جَعَلَ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِيْ عُنُقِہٖ شُجَاعًا ثُمَّ قَرَأَ عَلَیْنَا مِصْدَاقَہُ مِنْ کِتَاب اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ (وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَا آتَاھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ) الآیۃَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب : تفسیر القرآن، باب ومن سورة آل عمران ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اس بات کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ روز قیامت یہ مال اس کی گردن میں گنجا سانپ بنا کر ڈالے گا۔ پھر آپ نے کتاب اللہ سے اس آیت کی تلاوت کی (وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَا آتَاھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ) ۔ “ مسائل ١۔ بخیل کے لیے اس کا بخل کرنا کبھی بہتر نہیں ہوگا۔ ٢۔ رزق حلال اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خرچ کرتے رہنا چاہیے۔ ٤۔ قیامت کے دن بخیل کا مال سانپ بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔ ٥۔ زمین و آسمان کی حقیقی اور دائمی ملکیت اللہ ہی کی ہے۔ ٦۔ اللہ ہر کسی کے اعمال سے باخبر ہے۔ تفسیر بالقرآن بخل اور بخیل کا انجام : ١۔ خزانے جمع کرنے والوں کو عذاب کی خوشخبری۔ (التوبۃ : ٣٤) ٢۔ بخیل اپنا مال ہمیشہ باقی نہیں رکھ سکتا۔ (ھمزہ : ٣) ٣۔ بخیل کے مال کے ذریعے ہی اسے سزادی جائے گی۔ (التوبۃ : ٣٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس ٢٨ ایک نظر میں یہاں تک معرکہ احد کا بیان ختم ہوجاتا ہے لیکن جماعت مسلمہ اور اس کے اردگرد نواح میں پھیلے ہوئے دشمنان اسلام کے ساتھ معرکہ آرائی ابھی ختم نہ ہوئی تھی ۔ خصوصاً یہودیوں نے مباحثے اور مجادلے شروع کر رکھے تھے ‘ تشکیک اور بےچینی پیدا کرنا ‘ سازشیں اور کینہ پروری اور گھات میں بیٹھ کر وار کرنے کے مواقع تلاش کرنا ۔ اس معرکے کے اردگرد یہ اس سورت کے اکثر مباحث پھیلے ہوئے ہیں اور گھومتے ہیں ۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبیلہ بنی قینقاع کو مدینہ کے قرب و جوار سے جلاوطن کردیا تھا کیونکہ غزوہ بدر کے بعد وہ سخت بوکھلا گئے تھے اور انہوں نے سازشیں شروع کردی تھیں ۔ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کردی تھی اور جو عہد و پیمان ان کے ساتھ ہوئے تھے ان کو وہ کھلے بندوں توڑتے تھے ۔ یہ عہد ان کے ساتھ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ طیبہ میں ہجرت کرنے کے متصلاً بعد ہوئے تھے ۔ اور اس وقت ہوئے تھے کہ اوس وکذرج کی اکثریت اسلام میں داخل ہونے کی وجہ سے مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوگئی تھی ۔ لیکن مدینہ کے اردگرد بنی النضیر ‘ بنوقریظہ ابھی موجود تھے ۔ اس کے علاوہ خیبر کے یہودی اور ان کے علاوہ جزیرۃ العرب کے دوسرے یہودی بھی موجود تھے ۔ یہ سب لوگ باہم مراسلت کرتے تھے ‘ فوجیں جمع کررہے تھے ۔ مدینہ کے منافقین کے ساتھ رابطے قائم کررہے تھے اور مدینہ اور مدینہ کے اردگرد کے کفار کے ساتھ اور مکہ کے مشرکین کے ساتھ کے روابط قائم تھے ۔ اور مسلمانوں کے خلاف انہوں نے نہ ختم ہونے والی سازشوں کا سلسلہ شروع کررکھا تھا۔ قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ (١٢) قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأُخْرَى كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشَاءُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لأولِي الأبْصَارِ (١٣) ” تمہارے لئے ان دوگروہوں میں نشان عبرت تھا ‘ جو (بدر میں) ایک دوسرے سے نبردآزما ہوئے ۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑرہا تھا تھا اور دوسرا گروہ کافر تھا۔ دیکھنے والے بچشم سر دیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دوچند ہے ۔ (مگر نتیجے نے ثابت کردیا کہ ) اللہ اپنی فتح ونصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے۔ دیدہ بینا رکھنے والوں کے لئے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے ۔ “ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اللہ کی جانب سے آیا ہوایہ ڈراوا پہنچایا ‘ جو اس لئے نازل ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں تھیں وہ تمام سرگرمیاں جو وہ ان دنوں دکھا رہے تھے اور جس غصے کا اظہار ان کی جانب سے ہورہا ہے اور بدر کے بعد تو وہ مسلسل سازشوں میں لگے ہوئے تھے تو انہوں نے اس ڈراوے کو بہت ہی برے اور حقارت آمیز طریقے سے رد کردیا ۔ انہوں نے کہا :” محمد ! اپنے آپ کو غرور میں نہ ڈالو ‘ تم نے بیشک قریش کے بعض لوگوں کو قتل کردیا ۔ یہ لوگ ناتجربہ کار تھے ۔ انہیں کیا پتہ تھا کہ جنگ کس طرح لڑی جاتی ہے ۔ اللہ کی قسم ! اگر تم نے کبھی ہم سے جنگ لڑی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم لوگ کچھ ہیں ۔ یقیناً تم ہم جیسے لوگ نہ پاؤگے ۔ “ اس جواب کے بعد وہ سازشوں میں شریک ہوگئے ۔ اس سورت میں ان کی سازشوں کے کچھ رنگ نقل کئے گئے ہیں ۔ یہاں تک کہ انہوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو عہد و پیمان کیا تھا ‘ اسے انہوں نے توڑدیا ۔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا محاصرہ کرلیا ۔ چناچہ وہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے آمادہ ہوگئے ۔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں مدینہ سے جلاوطن کرکے ” اذرعات “ بھیج دیا ۔ یہودیوں کے مدینہ میں صرف دو گروہ رہ گئے بنوقریظہ اور بنو النضیر جو عہد کی پابندی بظاہر کررہے تھے لیکن خفیہ طور پر یہ بھی سازشوں ‘ مکاریوں ‘ دھوکہ بازی ‘ فتنہ بازی اور افواہیں پھیلانے میں مصروف تھے ۔ غرض یہ لوگ وہ تمام کام کرنے لگے جو یہود اپنی پوری تاریخ میں بڑی مہارت سے کرتے آئے ہیں ۔ اور کتاب اللہ میں اسے بالکل تفصیلات کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا ہے اور پوری کرہ ارض کی آبادی کو ان سے خبردار کیا گیا ہے کہ اس زمین پر یہ ایک ملعون قوم ہے ۔ اس سبق میں بنی اسرائیل کے بعض اقوال وافعال کو لیا گیا ہے ۔ نظر آتا ہے کہ وہ بارگاہ رب العزت میں بھی بےادبی کرنے پر اتر آئے تھے ۔ مسلمانوں کے ساتھ برا رویہ تو ان کے لئے کوئی بات ہی نہ تھی ۔ یہ لوگ میثاق مدینہ کے مطابق اپنی مالی ذمہ داریاں ادا کرنے سے پہلو تہی کرتے تھے جو معاہدہ انہوں نے خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کیا تھا ‘ وہ کہتے تھے اِنَّ اللّٰہَ فَقِیرٌوَّنَحنُ اَغنَیَآءُ……………” اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ “ اس سبق میں یہودیوں کے وہ واہی دلائل بھی ملیں گے جو وہ دعوت اسلامی کے خلاف پیش کیا کرتے تھے ‘ جب بھی یہ دعوت انہیں دی جاتی ۔ یہ دلائل سب کے سب جھوٹے ہوتے اور تاریخی اعتبار سے بھی ان کی کوئی اصل نہ ہوتی ۔ مثلاً یہ کہ وہ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کی بھی خلاف ورزی کررہے تھے ۔ وہ عہد یہ تھا کہ وہ اللہ کے احکام اور سچائی کو بیان کریں گے اور کبھی نہیں چھپائیں گے ۔ انہوں نے اس عہد کو توڑ دیا تھا ‘ پس پشت ڈال دیا تھا اور اس کے بدلے انہوں نے مالی فوائد حاصل کئے ۔ اپنے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا ‘ حالانکہ یہ پیغمبر ان کے پاس خارق عادت معجزات حسب الطلب ظاہر کرچکے تھے ۔ نیز وہ پیغمبر واضح دلائل کے ساتھ آئے تھے مگر ان یہودیوں نے ان کو مسترد کردیا۔ یہودیوں کے ان شرمناک اقوال وافعال کے ذکر کی وجہ سے ‘ انبیاء کے ساتھ ان کے برتاؤ اور بارگاہ باری تعالیٰ میں ان کی گستاخیوں کے اظہار بیان کی وجہ سے ‘ مدینہ کے ارد گرد بسنے والے یہودی اس نوخیز جماعت مسلمہ کے دشمن ہوگئے تھے ۔ نیز اس سبق میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہودیوں اور مشرکین کی سازشوں اور ایذا رسانیوں سے مسلمانوں کو کس قدر تکلیف ہورہی ہے ۔ ان امور کا ذکر جماعت مسلمہ کی تربیت کے لئے یہاں نہایت ہی ضروری تھا ۔ تاکہ وہ اپنے ماحول سے علی وجہ البصیرت خبردار ہوں کہ ان کے اردگرد جو لوگ رہ رہے ہیں وہ کون ہیں۔ تاکہ اہل ایمان کو اس سرزمین کے حالات اچھی طرح معلوم ہوجائیں جس میں وہ کام کررہے ہیں ۔ نیز یہ کہ ان کی راہ میں کیا کیا مشکلات ہیں ‘ کہاں کہاں ان کے لئے دام زیر زمین بچھے ہیں ۔ اور اس راہ میں ان کے لئے کیا کیا مصائب تیار ہیں ۔ مدینہ طیبہ میں یہودی مسلمانوں کے خلاف جو سازشیں کررہے تھے ‘ وہ ان عداوتوں سے کم خطرناک تھیں جو مکہ کے مشرکین مسلمانوں کے ساتھ روا رکھتے تھے۔ غالباً مسلمانوں کے خلاف پوری تاریخ اسلام میں جو سازشیں ہوتی ہیں وہ یہودی کرتے رہے ہیں ۔ ہمیشہ یہ لوگ مسلمانوں کے لئے خطرناک رہے ہیں ۔ اس اثر آفریں سبق میں پے درپے اس سلسلے میں ہدایات دی گئی ہیں ۔ مسلمانوں کو بتایا جاتا ہے کہ کون سی اقدار ہیں جو دائمی ہیں اور کون سی اقدار زائل ہونے والی ہیں ۔ اس لئے کہ اس دنیا میں زندگی کی ایک محدود وقت کے لئے ہے ۔ ہر نفس ایک دن موت سے ہمکنار ہونے والا ہے ۔ اصل جزء تو آخرت میں ملے گی ۔ اصل کمائی اور خسارے کا پتہ تو وہاں لگے گا ۔ وہاں جو شخص آگ سے بچالیا گیا اور جنت میں داخل ہوگیا تو گویا وہ کامیاب رہا۔ اور دنیا تو ایسے ساز و سامان سے اٹی پڑی ہے جو ہر وقت دھوکے میں ڈال سکتا ہے ۔ اور یہ ہمارے اموال ‘ ہماری جانیں ہمارے پاس اللہ کی امانت ہیں ۔ اہل کتاب اور مشرکین کی جانب سے اذیت تمہیں پہنچتی رہے گی۔ صرف صبر ‘ اللہ خوفی اور اسلام پر پختگی سے عمل ہی تمہیں آگ سے بچاسکتا ہے اور یوں ان سازشوں سے بھی بچاجاسکتا ہے۔ مدینہ کی پہلی جماعت کو جو ہدایات دی گئی ہیں ‘ وہ آج بھی ہمارے لئے تازہ ہدایات ہیں ۔ کل بھی ہمارے لئے یہی ہدایات ہیں ۔ جو لوگ اسلام کو ازسر نو قائم کرنا چاہتے ہیں اور جو لوگ اسلامی زندگی کا قیام چاہتے ہیں وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ ان کے دشمنوں کا وہی مزاج ہے جو مدینہ کے دشمنوں کا تھا۔ یہ دشمن وہی مشرکین اور اہل کتاب کے ملحدین ہیں ۔ آج یہودی عالمین صہیونیت کی شکل میں آئے ہیں ۔ عیسائی عالمی صلیب کی شکل میں ہیں ۔ اور عالمی کمیونزم کی شکل میں ہیں ۔ آج بھی تحریک اسلامی کو بتایا جاتا ہے کہ اس کی راہ میں جو مشکلات ہیں ‘ جو دام رکھے ہوئے ہیں ‘ ان کے وہی قربانیاں ہیں ‘ وہی اذیتیں ہیں اور وہی ابتلاء ہیں ۔ لیکن تم اپنی نظر آخرت پر رکھو ۔ مالی اور جانی نقصانات برداشت کرنے پڑیں گے ۔ لیکن تمہیں پہلی جماعت اسلامی کی طرح آج بھی وہی سبق یاد کرنا ہوگا۔” آخر کار ہر شخص کو مرنا ہے ۔ اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو ‘ کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتش دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے ۔ رہی یہ دنیا ‘ تو یہ محض ایک ظاہر فریب دینے والی چیز ہے ……مسلمانو ! تمہیں مال اور جان دونوں آزمائشیں پیش آکر رہیں گی ‘ اور تم ابھی اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنوگے ۔ اگر ان سب حالات میں صبر اور اللہ ترسی کی روش قائم ہوئے تو یہ بڑے حوصلے کا کام ہے۔ “ غرض قرآن وہی قرآن ہے جو تھا ‘ اس کی حیثیت وہی ہے کہ یہ اس امت کے لئے دائمی ہدایات پر مشتمل کتاب ہے ۔ یہ اس امت کا حدی خواں اور رہبر ورہنما ہے۔ یہ اس کے لئے قابل اعتمادقائد ہے……لیکن اس کے دشمن بھی وہی دشمن ہیں ‘ جو تھے اور انقلاب کی راہ بھی وہی ہے جو تھی ۔ اس مجموعہ آیات میں پہلی آیت کے بارے میں کوئی ایسی روایت نہیں ہے کہ اس میں بخیلوں سے مراد کون لوگ ہیں اور یہ کہ بخل کے فعل مذموم سے کن لوگوں کو ڈرایا گیا ہے ؟ اور یہ کہ قیامت میں ان کا انجام یہ ہوگا لیکن جس مقام پر یہ آیت ہے ‘ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق بعد میں آنے والی آیات سے ہے جو یہودیوں کے بارے میں وارد ہیں ‘ اس لئے کہ یہ یہودی ہی تھے جنہوں نے یہ کہا تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ۔ اور یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ نے ہم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی رسول کو نہ مانیں جب تک وہ ایسی قربانی نہ لے آئیں جسے آگ جلادے ۔ “ اصل بات یہ ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں ہے جنہیں اس وقت یہ دعوت دی جارہی تھی کہ وہ میثاق مدینہ کے مطابق جن مالی ذمہ داریوں کے پابند ہیں ‘ انہیں وہ ادا کریں ۔ اور یہ دعوت بھی انہیں دی گئی تھی کہ وہ نبی آخرالزمان کی دعوت کو قبول کرلیں اور اللہ کی راہ میں انفاق کریں۔ چناچہ یہ تہدید آمیز ڈراوا نازل ہوا ‘ اور اس کے بعد یہودیوں کی ان کٹ حجتی دلائل کو رد کیا گیا جو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہ لانے کے لئے پیش کرتے تھے ۔ ان دلائل میں نہایت ہی گستاخانہ طرز ادب اختیار کرتے تھے اور یہ بےادبی دراصل وہ اپنے رب کی کرتے تھے ۔ یہودیوں کو تہدید آمیز تنبیہ کے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی جاتی ہے ‘ کہ ٹھیک ہے کہ یہ یہود آپ کی تکذیب کررہے ہیں لیکن آپ سے قبل جو رسول گزرے ہیں اس کے ساتھ بہ نسبت آپ کے سخت رویہ ان کی اقوام نے اختیار کیا تھا۔ ان رسولوں میں سے انبیاء بنی اسرائیل بھی تھے جو ان کے پاس باقاعدہ دلائل لے کر آئے تھے ‘ انہوں نے حسب طلب معجزات بھی پیش کئے جیسا کہ تاریخ بنی اسرائیل میں مشہو رہے۔ اس آیت کا مفہوم عام ہے ۔ اس سے یہودی بھی مراد ہوسکتے ہیں جو میثاق مدینہ کے تحت عائد ہونے والی مالی ذمہ داریوں میں بخل سے کام لیتے تھے اور دوسرے لوگ بھی اس کے مدلول میں شامل ہیں جو اپنے دئیے سے خرچ نہیں کرتے اور بخل سے کام لیتے ہیں ۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بخل ان کے لئے خیر ہے کہ ان کے مال اس سے محفوظ ہوتے ہیں اور انفاق کی وجہ سے یہ اموال جاتے ہیں۔ یہ آیت انہیں اس قسم کے جھوٹے حساب و کتاب سے منع کرتی ہے ‘ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ وہ جو کچھ جمع کرتے ہیں قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا اور یہ طوق آگے سے بنے گا ۔ یہ ایک نہایت خوفناک تہدید ہے ۔ انداز تعبیر اس طرح ہے کہ اس میں بخل کو زیادہ بدشکل کرکے پیش کرتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور وہ پھر بھی بخل کرتے ہیں ۔ وہ اپنے ذاتی مال میں بخل نہیں کررہے بلکہ اللہ کے دئیے میں بخل کرتے ہیں ۔ وہ جب اس دنیا میں آئے تھے تو ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا ۔ نہ ان کے ہم قبیلہ لوگوں کے پاس کچھ تھا ۔ تو اللہ نے ان پر اپنا فضل کیا اور ان کو سب کچھ دے دیا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ خود اس کے دئیے میں سے اسے کچھ دیں تو انہوں نے اللہ کے فضل وکرم کو یاد نہ کیا اور تھوڑا سا واپس دینے میں بھی بخیلی کی ۔ وہ یہ گمان کرنے لگے کہ یہ ذخیرہ اندوزی ان کے لئے مفید ہوگی حالانکہ یہ ان کے لئے سخت مضر ہے بلکہ شرمناک قسم کی مضرت ہے ۔ اس لئے کہ وہ بہرحال اس جہاں سے جانے والے ہیں ۔ اس مال اور دولت کو چھوڑنے والے ہیں ۔ بعد کے لوگوں کے لئے اور آخرکار اللہ ہی وارث ہوگا۔ اس لئے کہ ” اللہ ہی کے لئے میراث ہے آسمانوں اور زمین کی ۔ “ تو پھر یہ سونا اور جمع شدہ دولت تو نہایت ہی تھوڑے عرصے کے لئے رہتی ہے ۔ اس کے بعد سب کی سب اللہ کی طرف لوٹتی ہے ۔ اور ان کے کھاتے میں تو وہی کچھ ہے جو انہوں نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا ۔ اللہ کی رضا کے لئے خرچ کیا ۔ اس کا اجر ان کو پورا پورا ملے گا اور صرف اس صورت میں وہ آگ سے طوق سے بچ سکتے جب وہ اپنی زائد دولت اللہ راہ مین خرچ کردیں۔ اس کے بعد یہودیوں پر سخت تنقید کی جاتی ہے ۔ جن کے ہاتھوں میں دولت تھی ۔ یہ دولت انہیں اللہ نے دی تھی۔ اور یہ سمجھنے لگے اپنے آپ کو غنی اور اللہ سے مستغنی کہ انہیں اللہ کی جانب سے کسی اجر اور صلے کی حاجت نہیں ہے ۔ اور نہ انہیں دوچند سہ چند ثواب کی ضرورت ہے جو اللہ ان لوگوں کو دیتا ہے جو اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور جسے اللہ اپنا فضل کہتا ہے اور ان لوگوں کی جانب سے قرضہ سے تعبیر کرتا ہے ۔ لیکن ان لوگوں نے ایک ذلیل شخص کی حیثیت سے یہ جواب دیا کہ اللہ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ ہم سے ہمارا مال قرض مانگتے ہیں اور پھر ہمیں دوگنا کردیتے ہیں ‘ حالانکہ خود اللہ تعالیٰ ربا سے منع کرتے ہیں اور اضعاف مضاعفہ کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ان کی یہ بات الفاظ کا کھیل ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہایت ہی رذیل اور بےادب اور گستاخ لوگ ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

جو لوگ بخیل ہیں وہ بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں جو لوگ مومن نہ تھے وہ اللہ کی راہ میں جس طرح جان دینے سے بچتے تھے اسی طرح مال خرچ کرنے سے بھی گریز کرتے تھے۔ اس آیت میں بخل کی مذمت فرمائی اور فرمایا کہ اللہ کے دیئے ہوئے مال میں جو لوگ کنجوسی کرتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کا یہ عمل ان کے لیے بہتر ہے۔ یہ تو ان کے لیے بہت ہی برا ہے اور اس کا برا انجام آخرت میں سامنے آئے گا، ان کا مال قیامت کے دن طوق بنا کر ان کے گلون میں ڈال دیا جائے گا۔ حضرت ابو ہریرۃ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جسے اللہ نے مال دیا پھر اس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی تو اس کا مال قیامت کے دن گنجا سانپ بنا دیا جائے گا۔ (جس سانپ کے زیادہ زہریلا ہونے کی وجہ سے سر کے بال اڑ گئے ہوں اسے گنجا سانپ کہا جاتا ہے) یہ گنجا سانپ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا پھر وہ اس کی دونوں باچھوں کو پکڑ کر کہے گا انا مالک انا کنزک (کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں) پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ ) (الآیۃ) (رواہ البخاری صفحہ ١٨٨: ج ١) پھر فرمایا (وَ لِلّٰہِ مِیْرَاث السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) یعنی آسمانوں کی اور زمین کی میراث سب اللہ کے لیے ہے سب کا وہی مالک ہے ملکیت حقیقی میں کوئی اس کا ساجھی نہیں، اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے اللہ کا حکم نازل ہونے پر خرچ نہ کرنا اور مال خرچ کرنے میں اللہ کی رضا کا خیال نہ کرنا بڑی بےوقوفی ہے جن مالوں کو آپس میں یکے بعد دیگرے میراث میں تقسیم کرلیتے ہیں وہ اولاً آخراً سب اللہ ہی کا ہے۔ (وَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ) اور جو بھی عمل کرتے ہو سخاوت ہو یا کنجوسی خیر ہو یا شر اللہ تعالیٰ کو ان سب کی خبر ہے وہ ان سب کا بدلہ دے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

274 وَلَا یَحْسَبَنَّ سے وَ اللہُ بِمَاتَعْمَلُوْنَ خَبِیْر تک مضمون انفاق کا پہلی بار اعادہ ہے۔ یہاں جہاد میں خرچ کرنے کی ترغیب فرمائی ہے یعنی تم اللہ کی راہ میں خرچ کیوں نہیں کرتے ہو۔ یہ سب کچھ دیا ہوا تو اللہ ہی کا ہے پھر اس کا دیا ہوا مال اسی کی راہ میں خرچ کرنے سے بخل کرنا بہت بری بات ہے۔ آخر تم مرو گے اور سب کچھ دنیا میں چھوڑ جاؤ گے۔ باقی تو صرف اللہ ہی رہے گا۔ سورة آل عمران اور سورة بقرہ میں مضمون انفاق کی آیتوں سے اس آیت کا ربط اس طرح ہے۔ سورة بقرہ میں ایک جگہ فرمایا۔ وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ پھر فرمایا مَنْ ذَالَّذِیْ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا۔ آل عمران میں علی سبیل الترقی فرمایا۔ لَا تَاکُلُوْا الرِّبَا اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً ۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا تو درکنار تم تو قرضہ بھی سود کے بغیر نہیں دیتے ہو۔ حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ تم ہر حال (فی السراء والضراء) اللہ کی توحید اور اس کے دین کی خاطر مال خرچ کرتے اور توحید کو ماننے والوں کی غلطیوں پر غصہ پی جاتے اور ان سے درگذر کرتے۔ اب یہاں فرمایا یاد رکھو اگر اللہ کی راہ میں مال خرچ نہ کیا اور اگر بخل ہی کرتے رہو گے تو آخرت میں اس کی سزا پاؤ گے اور اس کا برا نتیجہ بھگتو گے۔ وجہ الارتباط انہ تعالیٰ لما بالغ فی التحریض علی بذل الارواح فی الجھاد وغیرہ شرع ھنا فی التحریض علی بذل المال وبین الوعید الشدید لمن یبخل الخ (روح ج 4 ص 139) ۔ یہاں لَایَحْسَبَنَّ کا پہلا مفعول محذوف ہے یعنی البخل اور خَیْرًا لَّھُمْ اس کا دوسرا مفعول ہے اور ھُوَ ضمیر فصل ہے۔ قال الخلیل وسیبویہ والفراء المعنی البخل خیرا لھم ای لایحسبن الباخلون البخل خیرا لھم (قرطبی ج 4 ص 290) ۔ بخیل اور اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والے اپنے فعل بخل کو اپنے حق میں مفید سمجھتے ہیں۔ کیونکہ وہ نادان خیال کرتے ہیں کہ خرچ کرنے سے مال کم ہوجائے گا۔ لیکن ان کا یہ خیال غلط ہے۔ بخل ان کے لیے مفید نہیں بلکہ سخت مضر اور بری چیز ہے جیسا کہ آیت کے اگلے حصہ میں بیان فرمایا۔ 275 یہ بخل کے مضر اور شر ہونے کا بیان ہے اور بخل کرنے والوں کو یعنی مال کی زکات ادا نہ کرنے والوں اور جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ نہ کرنیوالوں کے لیے تخویف اخروی ہے یہ آیت اپنے ظاہر پر محمول ہے جیسا کہ حدیث میں وارد ہے حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا من اٰتاہ اللہ مالا فلم یؤد زکوتہ مثل لہ مالہ شجاعا اقرع لہ زبیبتان یطوقہ یوم القیمۃ یاخذ بلھزمیتہ یعنی شدقیہ یقول انا مالک انا کترک ثم تلا ھذہ الایۃ (بخاری ج 2 ص 655) ۔ جس کو اللہ نے مال دیا لیکن اس نے اس کا حق ادا نہ کیا تو قیامت کے دن اس کا مال گنجے اژدہا کی صورت میں متمثل کیا جائے گا۔ جس کی آنکھوں پر سیاہ نقطے ہوں گے اور وہ اس کے گلے کا طوق بن جائے گا اور اس کے دونوں جبڑوں کو پکڑ کر اس سے کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں۔ میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ 276 زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے ہر چیز کا مالک اللہ ہے۔ یہ تمام اموال واملاک جو ایک سے دوسرے کی طرف منتقل ہوتے چلے آرہے ہیں یہ سب اللہ ہی کی عطا کردہ ہیں اور آخر کار یہ تمام مدعی مر کھپ جائیں گے اور صرف اللہ ہی باقی رہے گا۔ جب یہ تمام اموال و املاک جو اللہ ہیں۔ اسی کے عطا کردہ ہیں اور انجام کار بھی اسی کی رہیں گی تو پھر ان چیزوں کے خرچ کرنے میں بخل کرنا اور وہ بھی اللہ کی راہ میں اور بھی مذموم اور بری بات ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اور وہ لوگ جو ایسی چیز کے خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل و کرم سے عطا فرمائی ہے یہ نہ سمجھیں اور ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ یہ بخل کرنا اور بخل کی روش اختیار کرنا ان کے حق میں کچھ اچھا ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ یہ بخل کرنا ان کے لئے بہت برا ہے کیونکہ قیامت کے دن یہ لوگ اس مال کا طوق بناکر پہنائے جائیں گے جس مال میں انہوں نے بخل کیا تھا یعنی وہی چیز جس میں بخل کیا تھا قیامت کے روز ان کے گلے میں طوق ہوگی اور آسمانوں کی اور زمین کی تمام میراث اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اور آخر میں سب آسمان و زمین اور جو کائنات ان کے اندر ہے ان سب کا وارث وہی ہوگا اور تم لوگ جو اعمال کرتے ہو ان سب سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے۔ (تیسیر) ربط کی ایک تقریر تو ہم اوپر عرض کرچکے ہیں لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اوپر جہاد کا ذکر تھا اور جہاد میں جان دینے کا ثواب فرمایا تھا اسی سلسلے میں بذل مال کا بھی ذکر فرمایا اور بخل کی مذمت فرمائی۔ بما اتا ھم اللہ کا یہ مطلب تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا تقاضا تو یہ تو تھا کہ اس کی راہ میں خوب خرچ کرتے لیکن ان بدبختوں نے الٹا اس کو اپنے بخل کا سبب بنالیا۔ طوق ڈالے جانے کا مطلب یہ ہے کہ سونے چاندی کا طوق گرم کرکے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔ یا آگ کا طوق ان کے گلے میں ڈال دیا جائے گا جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ ان کے مال کو اژد ہے کی شکل عطا کردی جائے گی اور وہ بخیل کے گلے میں لپٹ کر بخیل کے منہ کو اپنے جبڑوں سے چباتا رہے گا اور جب تک میدان حشر قائم رہے گا اور لوگ حساب و کتاب سے فارغ ہوں گے یہ سانپ اس بخیل پر اسی طرح مسلط رہے گا اور یہ سانپ کہے گا۔ انا کنزک انا مالک میں تیرا خزانہ ہوں میں تیرا مال ہوں۔ بعض لوگوں نے اس وعید کو مانعین زکوٰۃ پر حمل کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ ہر قسم کے حقوق واجبہ کی ادائیگی میں بخل کرنے والے مراد ہیں خواہ وہ اپنا نفس ہو یا اپنے اہل و عیال ہوں یا حاجت مند عزیزو اقارب ہوں یا جہاد ہو غرض جن حقوق کا پورا کرنا واجب اور لازم ہے ان سب میں کوتاہی اور بخل کرنے والے شامل ہیں۔ اسی طرح علم کے بخیل اور کتمان حق کرنے والے مال کے بخیل سے بھی بدتر ہیں آخر میں بخلا کی حماقت کا اظہار فرمایا کہ یہ لوگ اتنی بات نہیں سمجھتے کہ سب کی موت کے بعد اس کائنات کا وارث اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ سب کچھ اسی کی ملک ہے اور آخر میں وہی رہ جائے گا اور وہی سب کا مالک ہوگا پھر بھی تو جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ اسی کا ہوگا اور اگر زندگی میں اس کی راہ پر خرچ کردو اور حقوق واجبہ ادا کردو تو اجر کے مستحق ہوگے اور اگر آخر میں سب کچھ اس ک پاس رہا تو تم کو ثواب بھی نہیں ملے گا۔ اور یہ جو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری سخاوت سے بھی واقف ہے۔ اور تمہارے بخل سے بھی واقف ہے یا یہ مطلب ہے کہ ظاہری اعمال کے ساتھ تمہاری نیت اور تمہارے خلوص سے باخبر ہے لہٰذا جو خرچ کرو خالص نیت سے خرچ کرو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو کوئی زکوٰۃ نہ دے گا اس کا مال اژدہا بن کر گلے میں ہار پڑے گا اور اس کے گلے چیرے گا اور اللہ وارث ہے آخرتم مرجائو گے اور مال اسی کا ہوگا تم اپنے ہاتھ سے دو تو ثواب پائو۔ (موضح القرآن) ہم نے عرض کیا تھا کہ بعض حضرات نے یہاں بخل سے زکوٰۃ نہ دینے والے مراد لئے ہیں اور جس حدیث میں اژد ہے کا گلے کا ہار بننا اور اونٹ کا کاٹنا اور گائے کا سینگ مارنا وغیرہ کا ذکر آتا ہے اس میں مانعین زکوٰۃ مراد ہیں اس لئے بعض علماء نے آیت کی تفسیر بھی مانعین زکوٰۃ سے کی ہے بعض نے کتمان علم سے کی ہے اور بعض نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وہ صفات جو توریت میں مذکور ہیں ان کو چھپانے سے کی ہے۔ لیکن ہم عرض چکے ہیں کہ بہتر یہ ہے کہ آیت کو عام رکھا جائے اور جملہ حقوق واجبہ کی ادائیگی میں بخل کرنا مراد لیا جائے۔ اب آگے اس گستاخانہ بات کا جواب ہے جو یہود نے کہی تھی۔ (تسہیل)