Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 187

سورة آل عمران

وَ اِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَکۡتُمُوۡنَہٗ ۫ فَنَبَذُوۡہُ وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمۡ وَ اشۡتَرَوۡا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ فَبِئۡسَ مَا یَشۡتَرُوۡنَ ﴿۱۸۷﴾

And [mention, O Muhammad], when Allah took a covenant from those who were given the Scripture, [saying], "You must make it clear to the people and not conceal it." But they threw it away behind their backs and exchanged it for a small price. And wretched is that which they purchased.

اور اللہ تعالٰی نے جب اہل کتاب سے عہد لیا کہ تم اسے سب لوگوں سے ضُرور بیان کرو گے اور اسے چھُپاؤ گے نہیں ، تو پھر بھی ان لوگوں نے اس عہد کو اپنی پیٹھ پیچھے ڈال دیا اور اسے بہت کم قیمت پر بیچ ڈالا ۔ ان کا یہ بیوپار بہت بُرا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Chastising the People of the Scriptures for Breaking the Covenant and Hiding the Truth Allah says; وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاء ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْاْ بِهِ ثَمَناً قَلِيلً فَبِيْسَ مَا يَشْتَرُونَ (And remember) when Allah took a covenant from those who were given the Scripture (Jews and Christians) to make it (the truth) known and clear to mankind, and not to hide it, but they threw it away behind their backs, and purchased with it some miserable gain! And indeed worst is that which they bought. In this Ayah, Allah chastises the People of the Scriptures, from whom Allah took the covenant by the words of their Prophets, that they would believe in Muhammad and describe him to the people, so that they would recognize and follow him when Allah sent him. However, they hid this truth and preferred the the small amounts and the material gains instead of the rewards of this life and the Hereafter that they were promised. This is a losing deal and a failing trade, indeed. These Ayat also contain a warning for the scholars not to imitate their behavior, so that they do not suffer the same fate and become like them. Therefore, the scholars are required to spread the beneficial knowledge that they have, encouraging the various righteous good deeds. They are also warned against hiding any part of their knowledge. A Hadith states that the Prophet said, مَنْ سُيِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَار Whoever was asked about knowledge that he knew but did not disclose it, will be tied with a bridle made of fire on the Day of Resurrection. Chastising Those Who Love to be Praised for What They Have not Done Allah's statement,

بدترین خریدوفروخت! اللہ تعالیٰ یہاں اہل کتاب کو ڈانٹ رہا ہے کہ پیغمبروں کی وساطت سے جو عہد ان کا جناب باری سے ہوا تھا کہ حضور پیغمبر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں گے اور آپ کے ذکر کو اور آپ کی بشارت کی پیش گوئی کو لوگوں میں پھیلائیں گے انہیں آپ کی تابعداری پر آمادہ کریں گے اور پھر جس وقت آپ آجائیں تو دل سے آپ کے تابعدار ہو جائیں گے لیکن انہوں نے اس عہد کو چھپا لیا اور اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کرنے پر جن دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کا ان سے وعدہ کیا تھا ان کے بدلے دنیا کی تھوڑی سی پونجی میں الجھ کر رہ گئے ان کی یہ خریدو فروخت بد سے بدتر ہے ، اس میں علماء کو تنبیہہ ہے کہ وہ ان کی طرح نہ کریں ورنہ ان پر بھی وہی سزا ہوگی جو ان کو ملی اور انہیں بھی اللہ کی وہ ناراضگی اٹھانی پڑے گی جو انہوں نے اٹھائی علماء کرام کو چاہئے کہ ان کے پاس جو نفع دینے والا دینی علم ہو جس سے لوگ نیک عمل جم کر سکتے ہوں اسے پھیلاتے رہیں اور کسی بات کو نہ چھپائیں ، حدیث شریف میں سے جس شخص سے علم کا کوئی مسئلہ پوچھا جائے اور وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن آگ کی لگام پہنایا جائے گا ۔ دوسری آیت میں ریاکاروں کی مذمت بیان ہو رہی ہے ، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جھوٹا دعویٰ کر کے زیادہ مال کمانا چاہے اسے اللہ تعالیٰ اور کم کر دے گا ، بخاری و مسلم کی دوسری حدیث میں ہے جو نہ دیا گیا ہو اس کے ساتھ آسودگی جتنانے والا دو چھوٹے کپڑے پہننے والے کی مثل ہے ، مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے اپنے دربان رافع سے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اگر اپنے کام پر خوش ہونے اور نہ کئے ہوئے کام پر تعریف پسند کرنے کے باعث اللہ کا عذاب ہوگا تو ہم سے کوئی اس سے چھٹکارا نہیں پا سکتا ، حضرت عبداللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تمہیں اس آیت سے کیا تعلق؟ یہ تو اہل کتاب کے بارے میں ہے پھر آپ نے ( واذ اخذ اللہ ) سے اس آیت کے ختم تک تلاوت کی اور فرمایا کہ ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا تھا تو انہوں نے اس کا کچھ اور ہی غلط جواب دیا اور باہر نکل کر گمان کرنے لگے کہ ہم نے آپ کے سوال کا جواب دے دیا جس کی وجہ سے آپ کے پاس ہماری تعریف ہوگی اور سوال کے اصلی جواب کے چھپا لینے اور اپنے جھوٹے فقرہ چل جانے پر بھی خوش تھے ، اسی کا بیان اس آیت میں ہے ، یہ حدیث بخاری وغیرہ میں بھی ہے اور صحیح بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان جنگ میں تشریف لے جاتے تو منافقین اپنے گھروں میں گھسے بیٹھے رہتے ساتھ نہ جاتے پھر خوشیاں مناتے کہ ہم لڑائی سے بچ گئے اب جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹتے تو یہ باتیں بناتے جھوٹے سچے عذر پیش کرتے اور قسمیں کھا کھا کر اپنے معذور ہونے کا آپ کو یقین دلاتے اور چاہتے کہ نہ کئے ہوئے کام پر بھی ہماری تعریفیں ہوں جس پر یہ آیت اتری ، تفسیر ابن مردویہ میں ہے کہ مروان نے حضرت ابو سعید سے اس آیت کے بارے میں اسی طرح سوال کیا تھا جس طرح اوپر گزرا کہ حضرت ابن عباس سے پچھوایا تو حضرت ابو سعید نے اس کا مصداق اور اس کا شان نزول ان مناقوں کو قرار دیا جو غزوہ کے وقت بیٹھ جاتے اگر مسلمانوں کو نقصان پہنچا تو بغلیں بجاتے اگر فائدہ ہوا تو اپنا معذور ہونا ظاہر کرتے اور فتح و نصرت کی خوشی کا اظہار کرتے اس پر مروان نے کہا کہاں یہ واقعہ کہاں یہ آیت؟ تو حضرت ابو سعید نے فرمایا کہ یہ زید بن ثابت بھی اس سے واقف ہیں مروان نے حضرت زید سے پوچھا آپ نے بھی اس کی تصدیق کی پھر حضرت ابو سعید نے اونٹنیاں جو صدقہ کی ہیں چھین لیں گے باہر نکل کر حضرت زید نے کہا میری شہادت پر تم میری تعریف نہیں کرتے؟ حضرت ابو سعید نے فرمایا تم نے سچی شہادت ادا کر دی تو حضرت زید نے فرمایا پھر میں بھی سچی شہادت دینے پر مستحق تعریف تو ہوں مروان اس زمانہ میں مدینہ کا امیر تھا ، دوسری روایت میں ہے کہ مروان کا یہ سوال رافع بن خدیج سے ہی پہلے ہوا تھا ، اس سے پہلے کی روایت میں گزر چکا ہے کہ مروان نے اس آیت کی بابت حضرت عبداللہ بن عباس سے پچھوایا تھا تو یاد رہے کہ ان دونوں میں کوئی تضاد اور نفی کا عنصر نہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آیت عام ہے اس میں بھی شامل ہے اور اس میں بھی ، مروان والی روایت میں بھی ممکن ہے پہلے ان دونوں صاحبوں نے جواب دیئے پھر مزید تشفی کے طور پر حبر الامہ حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی مروان نے بذریعہ اپنے آدمی کے سوال کیا ہو ، واللہ اعلم ، حضرت ثابت بن قیس انصاری خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تو اپنی ہلاکت کا بڑا اندیشہ ہے آپ نے فرمایا کیوں؟ جواب دیا ایک تو اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے روکا ہے کہ جو نہ کیا ہو اس پر تعریف کو پسند کریں اور میرا یہ حال ہے کہ میں تعریف پسند کرتا ہوں ، دوسری بات یہ ہے کہ تکبر سے اللہ نے روکا ہے اور میں جمال کو پسند کرتا ہوں تیسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند آواز کرنا ممنوع ہے اور میں بلند آواز ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو اس بات سے خوش نہیں کہ تیری زندگی بہترین اور باخیر ہو اور تیری موت شہادت کی موت ہو اور تو جنتی بن جائے خوش ہو کر کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے چنانچہ یہی ہوا کہ آپ کی زندگی انتہائی اچھی گزری اور موت شہادت کی نصیب ہوئی ، مسیلمہ کذاب سے مسلمانوں کی جنگ میں آپ نے شہادت پائی ۔ تحسبنھم کو یحسبنھم پڑھا گیا ہے ، پھر فرمان ہے کہ تو انہیں عذاب سے نجات پانے والے خیال نہ کر انہیں عذاب ضرور ہوگا اور وہ بھی درد ناک ، پھر ارشاد ہے کہ ہر چیز کا مالک اور ہر چیز پر قادر اللہ تعالیٰ ہے اسے کوئی کام عاجز نہیں کر سکتا پس تم اس سے ڈرتے رہو اور اس کی مخالفت نہ کرو اس کے غضب سے بچنے کی کوشش کرو اس کے عذابوں سے اپنا بچاؤ کر لو نہ تو کوئی اس سے بڑا نہ اس سے زیادہ قدرت والا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

187۔ 1 اس میں اہل کتاب کو بتایا جا رہا ہے کہ ان سے اللہ نے یہ عہد لیا تھا کہ کتاب الٰہی (تورات اور انجیل) میں جو باتیں درج ہیں اور آخری نبی کی جو صفات ہیں، انہیں لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اور انہیں چھپائیں گے نہیں، لیکن انہوں نے دنیا کے تھوڑے سے مفادات کے لئے اللہ کے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا، یہ گویا اہل علم کو تلقین و تنبیہ ہے کہ ان کے ہاں جو علم نافع ہے، جس سے لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح ہوسکتی ہو، وہ لوگوں تک ضرور پہنچانا چاہیے اور دنیاوی اغراض و مفادات کی خاطر ان کو چھپانا بہت بڑا جرم ہے، قیامت والے دن ایسے لوگوں کو آگ کی لگام پہنائی جائیگی (کما فی الحدیث)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٨٧] یہود سے ہرگز یہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ صرف اسی نبی کو سچا سمجھیں اور اس پر ایمان لائیں جس کو آتشیں قربانی کا معجزہ دیا گیا ہو۔ لیکن انہوں نے اپنی طرف سے اللہ پر یہ بہتان لگا دیا تھا، تاکہ رسول اللہ پر ایمان نہ لانے کا معقول بہانہ ہاتھ آجائے اور جو عہد ان سے فی الواقعہ لیا گیا تھا اس کی ایک ایک شق میں انہوں نے اس عہد کو توڑ ڈالا اور جی بھر کے عہد شکنی کی۔ ان سے عہد یہ لیا گیا تھا کہ وہ تورات پر سختی سے عمل کریں گے۔ اس کی خوب اشاعت کریں گے۔ اس میں سے کچھ بھی چھپائیں گے نہیں۔ لیکن یہود نے یہ کیا کہ اس کے بیشمار احکام کی خلاف ورزی کی جن کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اس کی بہت سی آیات کو چھپاتے رہے۔ مثلاً ایسی آیات جن میں آپ کی بشارت دی گئی تھی یا رجم سے متعلقہ آیات کو، پھر انہوں نے تحریف لفظی بھی کی اور معنوی بھی، جیسے دوسروں کا مال بٹورنے کی خاطر (لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْاُمِّيّٖنَ سَبِيْلٌ 75؀) 3 ۔ آل عمران :75) کا مسئلہ گھڑ لیا تھا اور غیر یہود سے سود بھی وصول کرلیتے اور کسی بھی ناجائز طریقہ سے ان کا مال ہڑپ کرنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے تھے۔ یا غلط فتوے دے کر پیسے بٹورتے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یعنی اہل کتاب سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ ان کی کتابوں میں جو احکام دیے گئے ہیں اور نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متعلق جو بشارتیں اور علامتیں بیان کی گئی ہیں، ان کا اعلانیہ اظہار کریں گے اور ان کو چھپانے کے جرم کا ارتکاب نہیں کریں گے، مگر انھوں نے دنیا طلبی میں پڑ کر اس عہد کی کوئی پروا نہ کی اور ان احکام کی بھی لفظی اور معنوی تحریف کی اور ان بشارتوں اور علامتوں کو چھپایا، ( فبئس ما یشترون ) ” سو برا ہے جو وہ خرید رہے ہیں۔ “ اس آیت میں ضمناً عام مسلمان علماء کو بھی یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حق بات کو جانتے بوجھتے ہوئے چھپانے کے جرم کا ارتکاب نہ کریں۔ حدیث میں متعدد سندوں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد مروی ہے : ( مَنْ سُءِلَ عَنْ عِلْمٍ فَکَتَمَہُ اُلْجِمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِلِجَامٍ مِّنْ نَارٍ ) [ ترمذی، العلم، باب ما جاء فی کتمان العلم : ٢٦٤٩، عن أبی ہریرہ (رض) ] ” جس سے علم کی کوئی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپایا تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In continuation of the description of evils practiced by the Jews mentioned in previous verses, the first of the present two verses (187, 188) takes up yet another evil practice of theirs. This is their habit of going back on solemn pledges and covenants - for Allah Almighty had taken pledge from the people of the Book that they would communicate the commandments of Allah appearing in the Torah freely, openly and universally and that they would not conceal any injunction out of their selfish ends. The people of the Book broke this covenant. They concealed injunctions. Not only that, they were audacious enough to show their pleasure about having acted in this manner and taking this deed of theirs as commendable. Commentary Concealing the Knowledge of Faith is forbidden and waiting or manipulating to be praised without practicing it is deplorable The three verses cited above describe two crimes committed by scholars from the people of the Book along with their subsequent punishment. As pointed out earlier, they were commanded to tell their people about injunctions revealed in the Book of Allah freely and openly without any effort. To curtail or hold back what was in there people. Although, they were explicitly instructed not to hide any commandment, yet they elected to ignore the pledge they had made, out of their worldly consid¬erations and personal greed. They did hide a good many command¬ments from their people. Secondly, they had the problem of personally staying aloof from acting righteously while, at the same time, they had no qualms of conscience in wishing to be praised without acting the way they were expected to. As for the incidence of hiding the commandments of the Torah, it has been reported in Sahih al-Bukhari on the authority of Sayyidna &Abdullah ibn &Abbas (رض) . He narrates that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked the Jews about something mentioned in the Torah. They concealed the truth and told him something contrary to what was said in the Torah - and they left his company all pleased with their exercise in evil congratulating themselves on their deceit. Thereupon, this verse which carries a warning for them was revealed. As for the other statement -&they love to be praised for what they never did& - it refers to the hypocrites among the Jews who would make excuses at the time of Jihad, sit home and celebrate how well they were able to dodge the hardships of Jihad. When the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) returned from Jihad, they would go to him, take false oaths and offer excuses and, on top of that, they would demand that this act of theirs be praised. (Sahih al-Bukhri) The Holy Qur&an condemns them for both these attitudes. From here, we know that concealing the knowledge of Faith and the injunc¬tions of Allah and His Messenger is forbidden (Haram ). But this forbiddance applies to the kind of concealment which was practiced by the Jews for they used to conceal Divine injunctions to promote their own worldly interest and, in this process, they made people pay for it. However, if an injunction is not broadcast publicly due to some expe¬dient religious consideration, such an action would not fall under the purview of this ruling. This problem has been taken up by Imam al-Bukhari (رح) under a separate subject heading supported by relevant Hadith narrations. According to him, there are occasions when there is the danger that masses would fall prey to misunderstanding and disorder by publicising a certain injunction openly. If an injunction is allowed to remain unpublicised on the basis of such a danger, it does not matter. The rule about doing a good deed is simple. If anyone does a good deed, then looks forward to be praised for it - or, worse still, takes elaborate steps to make this happen - then, despite having done what one did, this act will be deemed blameworthy under the Islamic legal-moral norms. And should one elect not to do that good deed at all, that would, then, be taken as far more blameworthy. As for the natural desire to do something good and thereby earn a fair name, it is not included under the purview of this ruling - unless, of course, if one does not make unusual projections to earn that fair name (Bayan al-Qur&an).

ربط آیات : جیسا کہ پچھلی ایٓات میں یہودیوں کے افعال بد اور بری خصلتوں کا بیان تھا، مذکورہ پہلی آیت میں ان کے ایک ایسے ہی برے عمل کا ذکر ہے اور وہ ہے عہد و پیمان کی خلاف ورزی کیونکہ اہل کتاب سے اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام جو تورات میں آئے ہیں وہ ان کی اشاعت عام کریں گے اور کسی حکم کو اپنی نفسانی غرض سے چھپائیں گے نہیں اہل کتاب نے یہ عہد توڑ دیا، احکام کو چھپایا اور پھر دلیری یہ کی کہ اس پر خوشی کا اظہار کیا اور اپنے اس فعل کو قابل تعریف قرار دیا۔ خلاصہ تفسیر (یہ حالت بھی قابل ذکر ہے) جبکہ اللہ تعالیٰ نے (کتب سابقہ میں) اہل کتاب سے یہ عہد لیا (یعنی ان کو حکم فرمایا اور انہوں نے قبول کرلیا) کہ اس کتاب کے (سب مضامین) عام لوگوں کے روبرو بیان کردینا اور اس (کے کسی مضمون) کو (دنیوی غرض سے) پوشیدہ نہ رکھنا، سو ان لوگوں نے اس (عہد) کو اپنے پس پشت پھینک دیا، (یعنی اس پر عمل نہ کیا) اور اس کے مقابلہ میں (دنیا کا) کم حقیقت معاوضہ لے لیا، سو بری چیز ہے جس کو وہ لوگ لے رہے ہیں (کیونکہ انجام اس کا سزائے دوزخ ہے) (اے مخاطب) جو لوگ ایسے ہیں کہ اپنے کردار (بد) پر خوش ہوتے ہیں اور جو (نیک) کام نہیں کیا اس پر چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف ہو سو ایسے شخصوں کو ہرگز ہرگز مت خیال کرو کہ وہ (دنیا میں) خاص طور کے عذاب سے بچاؤ اور (حفاظت) میں رہیں گے (ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں بھی کچھ سزا ہوگی) اور (آخری میں بھی) ان کو درد ناک سزا ہوگی۔ اور اللہ ہی کے لئے (خاص) ہے سلطنت آسمانوں کی اور زمین کی اور اللہ تعالیٰ ہر شئے پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔ معارف و مسائل علم دین کو چھپانا حرام اور بغیر عمل کئے اس مدح پر تعریف کا انتظار و اہتمام مذموم ہے : مذکورہ تین آیتوں میں علماء اہل کتاب کے دو جرم اور ان کی سزا کا بیان ہے اور یہ کہ ان کو حکم یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی کاتب میں جو احکام آئے ہیں ان کو سب کے سامنے بےکم وکاست بیان کریں گے اور کسی حکم کو چھپائیں گے نہیں، مگر انہوں نے اپنی دنیوی اغراض اور طمع نفسانی کی خاطر اس عہد کی پروا نہ کی، بہت سے احکام کو لوگوں سے چھپا لیا۔ دوسرے یہ کہ وہ نیک عمل کرتے تو ہے نہیں اور چاہتے ہیں کہ بغیر عمل کے ان کی تعریف کی جائے۔ احکام تو رات کو چھپانے کا واقعہ تو صحیح بخاری میں بروایت حضرت عبداللہ بن عباس منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود سے ایک بات پوچھی کہ کیا یہ تورات میں ہے ان لوگوں نے چھپا لیا، اور جو تورات میں تھا اس کے خلاف بیان کردیا اور اپنے اس عمل بد پر خوش ہوتے ہوئے واپس آئے کہ ہم نے خوب دھوکا دیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، جس میں ان لوگوں کے لئے وعید ہے۔ اور دوسرا معاملہ نہ کئے ہوئے عمل پر تعریف و مدح کے خواہشمند ہیں یہ ہے کہ منافقین یہود کا ایک طرز عمل یہ بھی تھا کہ جب کسی جہاد کا وقت آتا تو بہانے کر کے گھر میں بیٹھ جاتے، اور اس طرح جہاد کی مشقت سے بچنے پر خوشیاں مناتے اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آتے تو آپ کے سامنے جھوٹی قسمیں کھا کر عذر بیان کردیتے اور اس کے طالب ہوتے تھے کہ ان کے اس عمل کی تعریف کی جائے (رواہ البخاری) قرآن کریم نے ان دونوں چیزوں پر ان کی مذمت فرمائی جس سے معلوم ہوا کہ علم دین اور احکام خدا رسول کو چھپانا حرام ہے، مگر یہ حرمت اسی طرح کے چھپانے کی ہے جو یہود کا عمل تھا کہ اپنی دنیوی اغرض سے احکام خداوندی کو چھپاتے تھے اور اس پر لوگوں سے مال وصول کرتے تھے اور اگر کسی دینی اور شرعی مصلحت سے کوئی کم عوام پر ظاہر نہ کیا جائے تو وہ اس میں داخل نہیں، جیسا کہ امام بخاری نے ایک مستقل باب میں اس مسئلہ کو بحوالہ احادیث بیان فرمایا ہے کہ بعض اوقات کسی حکم کے اظہار سے عوام کی غلط فہمی اور فتنہ میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہوتا ہے اس خطرہ کی بناء پر کوئی حکم پوشیدہ رکھا جائے تو مضائقہ نہیں۔ اور کوئی نیک عمل کرنے کے بعد بھی اس پر مدح ثناء کا انتظار و اہتمام کرے تو عمل کرنے کے باوجود بھی قواعد شرعیہ کی رو سے مذموم ہے اور نہ کرنے کی صورت میں تو اور بھی زیادہ مذموم ہے اور طبعی طور پر یہ خواہش ہونا کہ میں بھی فلاں نیک کام کروں اور نیک نام ہوں وہ اس میں داخل نہیں، جبکہ اس نیک نامی کا اہتمام نہ کرے۔ (بیان القرآن)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِيْثَاقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُوْنَہٗ۝ ٠ ۡفَنَبَذُوْہُ وَرَاۗءَ ظُہُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا۝ ٠ ۭ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُوْنَ۝ ١٨٧ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ وثق وَثِقْتُ به أَثِقُ ثِقَةً : سکنت إليه واعتمدت عليه، وأَوْثَقْتُهُ : شددته، والوَثَاقُ والوِثَاقُ : اسمان لما يُوثَقُ به الشیء، والوُثْقَى: تأنيث الأَوْثَق . قال تعالی: وَلا يُوثِقُ وَثاقَهُ أَحَدٌ [ الفجر/ 26] ، حَتَّى إِذا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثاقَ [ محمد/ 4] والمِيثاقُ : عقد مؤكّد بيمين وعهد، قال : وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثاقَ النَّبِيِّينَ [ آل عمران/ 81] ، وَإِذْ أَخَذْنا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثاقَهُمْ [ الأحزاب/ 7] ، وَأَخَذْنا مِنْهُمْ مِيثاقاً غَلِيظاً [ النساء/ 154] والمَوْثِقُ الاسم منه . قال : حَتَّى تُؤْتُونِ مَوْثِقاً مِنَ اللَّهِ إلى قوله : مَوْثِقَهُمْ [يوسف/ 66] ( و ث ق ) وثقت بہ اثق ثقتہ ۔ کسی پر اعتماد کرنا اور مطمئن ہونا ۔ اوثقتہ ) افعال ) زنجیر میں جکڑنا رسی سے کس کر باندھنا ۔ اولوثاق والوثاق اس زنجیر یارسی کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز کو کس کو باندھ دیا جائے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلا يُوثِقُ وَثاقَهُ أَحَدٌ [ الفجر/ 26] اور نہ کوئی ایسا جکڑنا چکڑے گا ۔ حَتَّى إِذا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثاقَ [ محمد/ 4] یہ ان تک کہ جب ان کو خوب قتل کرچکو تو ( جو زندہ پکڑے جائیں ان کو قید کرلو ۔ المیثاق کے منیق پختہ عہدو پیمان کے ہیں جو قسموں کے ساتھ موکد کیا گیا ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثاقَ النَّبِيِّينَ [ آل عمران/ 81] اور جب ہم نے پیغمبروں سے عہد لیا ۔ وَأَخَذْنا مِنْهُمْ مِيثاقاً غَلِيظاً [ النساء/ 154] اور عہد بھی ان سے پکالیا ۔ الموثق ( اسم ) پختہ عہد و پیمان کو کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ حَتَّى تُؤْتُونِ مَوْثِقاً مِنَ اللَّهِ إلى قوله : مَوْثِقَهُمْ [يوسف/ 66] کہ جب تک تم خدا کا عہد نہ دو ۔ كتم الْكِتْمَانُ : ستر الحدیث، يقال : كَتَمْتُهُ كَتْماً وكِتْمَاناً. قال تعالی: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ [ البقرة/ 140] ، ( ک ت م ) کتمہ ( ن ) کتما وکتما نا کے معنی کوئی بات چھپانا کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ [ البقرة/ 140] اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا کی شہادت کو جو اس کے پاس کتاب اللہ میں موجود ہے چھپائے نبذ النَّبْذُ : إلقاء الشیء وطرحه لقلّة الاعتداد به، ولذلک يقال : نَبَذْتُهُ نَبْذَ النَّعْل الخَلِق، قال تعالی: لَيُنْبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ [ الهمزة/ 4] ، فَنَبَذُوهُ وَراءَ ظُهُورِهِمْ [ آل عمران/ 187] لقلّة اعتدادهم به، وقال : نَبَذَهُ فَرِيقٌ مِنْهُمْ [ البقرة/ 100] أي : طرحوه لقلّة اعتدادهم به، وقال : فَأَخَذْناهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْناهُمْ فِي الْيَمِ [ القصص/ 40] ، فَنَبَذْناهُ بِالْعَراءِ [ الصافات/ 145] ، لَنُبِذَ بِالْعَراءِ [ القلم/ 49] ، وقوله : فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلى سَواءٍ [ الأنفال/ 58] فمعناه : ألق إليهم السّلم، واستعمال النّبذ في ذلک کاستعمال الإلقاء کقوله : فَأَلْقَوْا إِلَيْهِمُ الْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكاذِبُونَ [ النحل/ 86] ، وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] تنبيها أن لا يؤكّد العقد معهم بل حقّهم أن يطرح ذلک إليهم طرحا مستحثّا به علی سبیل المجاملة، وأن يراعيهم حسب مراعاتهم له، ويعاهدهم علی قدر ما عاهدوه، وَانْتَبَذَ فلان : اعتزل اعتزال من لا يقلّ مبالاته بنفسه فيما بين الناس . قال تعالی: فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهِ مَکاناً قَصِيًّا[ مریم/ 22] وقعد نَبْذَةً ونُبْذَةً. أي : ناحية معتزلة، وصبيّ مَنْبُوذٌ ونَبِيذٌ کقولک : ملقوط ولقیط، لکن يقال : منبوذ اعتبارا بمن طرحه، وملقوط ولقیط اعتبارا بمن تناوله، والنَّبِيذُ : التّمرُ والزّبيبُ الملقَى مع الماء في الإناء، ثمّ صار اسما للشّراب المخصوص . ( ن ب ذ) النبذ کے معنی کسی چیز کو در خود اعتنا نہ سمجھ کر پھینک دینے کے ہیں اسی سے محاورہ مشہور ہے ۔ نبذ تہ نبذلنعل الخلق میں نے اسے پرانے جو تا کی طرح پھینک دیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَيُنْبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ [ الهمزة/ 4] وہ ضرور حطمہ میں ڈالا جائیگا ۔ فَنَبَذُوهُ وَراءَ ظُهُورِهِمْ [ آل عمران/ 187] تو انہونے اسے پس پشت پھینک دیا ۔ یعنی انہوں نے اسے قابل التفات نہ سمجھا نیز فرمایا ۔ نَبَذَهُ فَرِيقٌ مِنْهُمْ [ البقرة/ 100] تو ان بیس ایک فریق نے اس کو بےقدر چیز کی طرح پھینک دیا فَأَخَذْناهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْناهُمْ فِي الْيَمِ [ القصص/ 40] تو ہم نے ان کو اور ان کے لشکر کو پکڑ لیا ۔ اور دریا میں ڈال دیا ۔ فَنَبَذْناهُ بِالْعَراءِ [ الصافات/ 145] پھر ہم نے ان کو فراخ میدان میں ڈال دیا ۔ لَنُبِذَ بِالْعَراءِ [ القلم/ 49] تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دیئے جاتے ۔ تو ان کا عہد انہی کی طرف پھینک دو اور برابر کا جواب دو میں کے معنی یہ ہیں کہ معاہدہ صلح سے دستبر ہونے کے لئے لہذا یہاں معاہدہ صلح ست دستبر دار ہونے کے لئے مجازا نبذا کا لفظ استعمال ہوا ہے جیسا کہ آیت کریمہ : ۔ فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلى سَواءٍ [ الأنفال/ 58] تو ان کے کلام کو مسترد کردیں گے اور ان سے نہیں کے کہ تم جھوٹے ہو اور اس دن خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے میں قول ( اور متکلم القاء کا لفظ استعمال ہوا ہے اور آیت ۔ فَأَلْقَوْا إِلَيْهِمُ الْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكاذِبُونَ [ النحل/ 86] فانبذا الخ میں متنبہ کیا ہے کہ اس صورت میں ان کے معاہدہ کو مزید مؤکد نہ کیا جائے بلکہ حسن معاملہ سے اسے فسخ کردیا جائے اور ان کے رویہ کے مطابق ان سے سلوک کیا جائے یعنی جب تک وہ معاہدہ کو قائم رکھیں اسکا احترام کیا جائے فانتبذ فلان کے معنی اس شخص کی طرح یکسو ہوجانے کے ہیں جو اپنے آپ کو ناقابل اعتبار سمجھاتے ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهِ مَکاناً قَصِيًّا[ مریم/ 22] اور وہ اس بچے کے ساتھ حاملہ ہوگئیں اور اسے لے کر ایک دور جگہ چلی گئیں ۔ اور قعد نبذ ۃ کے معنی یکسو ہوکر بیٹھ جانے کے ہیں اور راستہ میں پڑے ہوئے بچے کو صبی منبوذ ونبیذ کہتے ہیں جیسا کہ اسئ ملقوط یا لقیط کہا جاتا ہے ۔ لیکن اس لحاظ سے کہ کسی نے اسے پھینک دیا ہے اسے منبوذ کہا جاتا ہے اور اٹھائے جانے کے لحاظ سے لقیط کہا جاتا ہے ۔ النبذ اصل میں انگور یا کجھور کو کہتے ہیں ۔ جو پانی میں ملائی گئی ہو ۔ پھر خاص قسم کی شراب پر بولا جاتا ہے ۔ وراء ( وَرَاءُ ) إذا قيل : وَرَاءُ زيدٍ كذا، فإنه يقال لمن خلفه . نحو قوله تعالی: وَمِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ [هود/ 71] ، ( و ر ی ) واریت الورآء کے معنی خلف یعنی پچھلی جانب کے ہیں مثلا جو زہد کے پیچھے یا بعد میں آئے اس کے متعلق ورآء زید کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ [هود/ 71] اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی ۔ ظهر الظَّهْرُ الجارحةُ ، وجمعه ظُهُورٌ. قال عزّ وجل : وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ وَراءَ ظَهْرِهِ [ الانشقاق/ 10] ( ظ ھ ر ) الظھر کے معنی پیٹھ اور پشت کے ہیں اس کی جمع ظھور آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ وَراءَ ظَهْرِهِ [ الانشقاق/ 10] اور جس کا نام اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائیگا شری الشِّرَاءُ والبیع يتلازمان، فَالْمُشْتَرِي دافع الثّمن، وآخذ المثمن، والبائع دافع المثمن، وآخذ الثّمن . هذا إذا کانت المبایعة والْمُشَارَاةُ بناضّ وسلعة، فأمّا إذا کانت بيع سلعة بسلعة صحّ أن يتصور کلّ واحد منهما مُشْتَرِياً وبائعا، ومن هذا الوجه صار لفظ البیع والشّراء يستعمل کلّ واحد منهما في موضع الآخر . وشَرَيْتُ بمعنی بعت أكثر، وابتعت بمعنی اشْتَرَيْتُ أكثر، قال اللہ تعالی: وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] ، أي : باعوه، ( ش ر ی ) شراء اور بیع دونوں لازم ملزوم ہیں ۔ کیونکہ مشتری کے معنی قیمت دے کر اس کے بدلے میں کوئی چیز لینے والے کے ہیں ۔ اور بائع اسے کہتے ہیں جو چیز دے کہ قیمت لے اور یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب ایک طرف سے نقدی اور دوسری طرف سے سامان ہو لیکن جب خریدو فروخت جنس کے عوض جنس ہو ۔ تو دونوں میں سے ہر ایک کو بائع اور مشتری تصور کرسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بیع اور شراء کے الفاظ ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں اور عام طور پر شربت بمعنی بعت اور ابتعت بمعنی اشتریت آتا ہے قرآن میں ہے ۔ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] اور اس کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ ڈالا ۔ ثمن قوله تعالی: وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] . الثَّمَنُ : اسم لما يأخذه البائع في مقابلة البیع، عينا کان أو سلعة . وکل ما يحصل عوضا عن شيء فهو ثمنه . قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمانِهِمْ ثَمَناً قَلِيلًا [ آل عمران/ 77] ، ( ث م ن ) الثمن اصل میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو فروخت کرنے والا اپنی چیز کے عوض خریدار سے وصول کرتا ہے خواہ وہ زر نقد ہو یا سامان ۔ قرآن میں ہے :۔ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] اور اسے تھوڑی سی قیمت یعنی چند درہموں پر بیچ ڈالا ۔ قل القِلَّةُ والکثرة يستعملان في الأعداد، كما أنّ العظم والصّغر يستعملان في الأجسام، ثم يستعار کلّ واحد من الکثرة والعظم، ومن القلّة والصّغر للآخر . وقوله تعالی: ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] ( ق ل ل ) القلۃ والکثرۃ بلحاظ اصل وضع کے صفات عدد سے ہیں جیسا کہ عظم اور صغر صفات اجسام سے ہیں بعد کثرت وقلت اور عظم وصغڑ میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ بطور استعارہ استعمال ہونے لگا ہے اور آیت کریمہ ؛ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہیں رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن ۔ میں قلیلا سے عرصہ قلیل مراد ہے ۔ بِئْسَ و «بِئْسَ» كلمة تستعمل في جمیع المذام، كما أنّ نعم تستعمل في جمیع الممادح، ويرفعان ما فيه الألف واللام، أو مضافا إلى ما فيه الألف واللام، نحو : بئس الرجل زيد، وبئس غلام الرجل زيد . وينصبان النکرة نحو : بئس رجلا، ولَبِئْسَ ما کانوا يَفْعَلُونَ [ المائدة/ 79] ، أي : شيئا يفعلونه، ( ب ء س) البؤس والباس بئس ۔ فعل ذم ہے اور ہر قسم کی مذمت کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسا کہ نعم ہر قسم کی مدح کے لئے استعمال ہوتا ہے ان کا اسم اگر معرف بالللام ہو یا معرف باللام کی طرف مضاف ہو تو اسے رفع دیتے ہیں جیسے بئس الرجل زید وبئس غلام الرجل زید ۔ اور اسم نکرہ کو نصب دیتے ہیں جیسے قرآن میں ہے ؛ ۔ { بِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ } ( سورة المائدة 79) یعنی بلا شبہ وہ برا کرتے تھے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (واذاخذاللہ میثاق الذین اوتوالکتاب لتبیننہ للناس ولاتکتمونہ، ان اہل کتاب کو وہ عہد بھی یاددلاؤجو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ تمہیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہوگا۔ انھیں پوشیدہ نہیں رکھنا ہوگا) اس آیت کی نظیر کا ذکرسورہ بقرہ میں گزرچکا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) ، سعید بن جبیر (رض) اور سدی مروی ہے کہ اہل کتاب سے مرادیہود ہیں ۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ یہاں یہودونصاری دونوں مراد ہیں۔ حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جسے کوئی علم دیاگیا ہو اور پھر وہ اسے لوگوں سے چھپائے رکھے۔ حضرت ابوہریر (رض) ہ نے فرمایا، اگر قرآن مجید میں ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہارے سامنے حدثیں بیان نہ کرتا، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی (واذاخذاللہ میثاق الذین اوتوا الکتاب) تاآخر آیت۔ پہلے گروہ کے قول کے مطابق (لتبننہ) میں غمیرحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف راجع ہوگی۔ اس لیے کہ یہودنے آپ کی صفات اور آپ کی باتوں کو چھپائے رکھا تھا۔ دوسرے حضرات کے قول کے مطابق ضمیر کتاب کی طرف راجع ہوگی۔ اس صورت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معاملے کا بیان اور اللہ کی نازل کردہ تمام کتابوں کی باتیں ان میں داخل ہوجائیں گی۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٨٧) اہل کتاب سے اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعت وصفت بیان کرنے کا جو عہد لیا تھا اس کا تذکرہ فرماتے ہیں جن لوگوں کو توریت وانجیل دی گئی تھی، ان سے عہد و پیمان لیا گیا تھا کہ اپنی کتابوں میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعت وصفت کو نہیں چھپائیں گے مگر انہوں نے کتاب اور اس عہد کو بھی فراموش کردیا اور اس کی قدر نہ کی بلکہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعت واوصاف چھپا کر اس کے مقابلہ کم حقیقت کھانے پینے کی معمولی سی چیز لی، ان لوگوں کا ایسا کرنا اور یہودیت کو اپنے لیے پسند کرنا بہت ہی بری اختیار کردہ چیز ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

132. Although the Jews remembered that some Prophets had been endowed with the miracle of consuming fire, they conveniently forgot their covenant with God at the time they were entrusted with the Scripture, and their mission as the bearers of the Scripture. The 'covenant' to which this verse alludes is mentioned at several places in the Bible. In the last sermon of Moses, cited in Deuteronomy, he again and again calls the attention of Israel to the covenant in the following words: 'Hear, O Israel: The Lord our God is one Lord; and you shall love the Lord your God with all your heart, with all your soul, with all your might. And these words which I command shall be upon your heart; and you shall teach them diligently to your children, and shall talk of them when you sit in your house, and when you walk by the way, and when you lie down, and when you rise. And you shall bind them as a sign upon your hand, and they shall be as frontlets between your eyes. And you shall write them on the doorposts of your house and on your gates.' (Deuteronomy 6: 4-9.) Then, in his last testament Moses said: 'And on the day you pass over the Jordan to the land which the Lord your God gives you, you shall set up large stones, and plaster them with plaster and you shall write upon them all the words of this law, when you pass over to enter the land which the Lord your God gives you, a land flowing with milk and honey, as the Lord, the God of your fathers, has promised you. And when you have passed over the Jordan, you shall set up these stones, concerning which I command you this day, on Mount Ebal, and you shall plaster them with plaster.' (Deuteronomy 27: 2-4.) When the Levites were handed a copy of the Torah, they were instructed to gather men, women and children every seventh year on the occasion of the Feast of Tabernacles and to recite the entire text to them. But their indifference to the Book of God grew to such a point that seven hundred years later even the priests of the Temple of Solomon and the Jewish ruler of Jerusalem did not know that they had the Book of God with them. (See 2 Kings 22: 8-13.)

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :132 یعنی انہیں یہ تو یاد رہ گیا کہ بعض پیغمبروں کو آگ میں جلنے والی قربانی بطور نشان کے دی گئی تھی ، مگر یہ یاد نہ رہا کہ اللہ نے اپنی کتاب ان کے سپرد کرتے وقت ان سے کیا عہد لیا تھا اور کس خدمت عظمٰی کی ذمہ داری ان پر ڈالی تھی ۔ یہاں جس عہد کا ذکر کیا گیا ہے اس کا ذکر جگہ جگہ بائیبل میں آتا ہے ۔ خصوصاً کتاب استثناء میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جو آخری تقریر نقل کی گئی ہے اس میں تو وہ بار بار بنی اسرائیل سے عہد لیتے ہیں کہ جو احکام میں نے تم کو پہنچائے ہیں انہیں اپنے دل پر نقش کر نا ، اپنی آئندہ نسلوں کو سکھانا ، گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اٹھتے ، ہر وقت ان کا چرچا کرنا ، اپنے گھر کی چوکھٹوں پر اور اپنے پھاٹکوں پر ان کو لکھ دینا ( ٦:٤ ۔ ۹ ) ۔ پھر اپنی آخری نصیحت میں انھوں نے تاکید کی کہ فلسطین کی سرحد میں داخل ہونے کے بعد پہلا کام یہ کرنا کہ کوہ عیبال پر بڑے بڑے پتھر نصب کر کے توراة کے احکام ان پر کندہ کر دینا ( ۲۷:۲ ۔ ٤ ) ۔ نیز بنی لاوی کو توراة کا ایک نسخہ دے کر ہدایت فرمائی کہ ہر ساتویں برس عید خیام کے موقع پر قوم کے مردوں ، عورتوں ، بچوں سب کو جگہ جگہ جمع کر کے یہ پوری کتاب لفظ بلفظ ان کو سناتے رہنا ۔ لیکن اس پر بھی کتاب اللہ سے بنی اسرائیل کی غفلت رفتہ رفتہ یہاں تک بڑھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سات سو برس بعد ہیکل سلیمانی کے سجادہ نشین ، اور یروشلم کے یہودی فرماں روا تک کو یہ معلوم نہ تھا کہ ان کے ہاں توراة نامی بھی کوئی کتاب موجود ہے ۔ ( ۲ ۔ سلاطین ۔ ۲۲ :۸ ۔ ١۳ ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

یہ وہی معاہدہ ہے جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گذرا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پیدا کرنے سے ہزار ہا برس پہلے دنیا کے ہر ایک دورہ کی مصلحت کے موافق اپے علم ازلی میں ایک قانون قرار دیا ہے جس کو اس دورہ دنیوی کی شریعت کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے اور نبیوں نے اپنی اپنی امتوں سے یہ عہد لیا ہے کہ ہر زمانہ میں اس شریعت کے موافق عمل ہوگا جو شریعت اس زمانہ کے لئے ٹھہرائی گئی ہے۔ مگر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کے اہل کتاب نے محض اس دشمنی سے کہ یہ نبی آخر الزمان بنی اسماعیل میں کیوں ہوئے ہیں بنی اسرائیل میں کیوں نہیں ہوئے اس معاہدہ کی پابندی چھوڑ دی تھی۔ اور نبی آخر الزمان کے اوصاف کی آیتوں کو چھپا ڈالا تھا لوگوں کو اپنی طرف رجوع رکھنے اور اپنی ریاست اور فضیلت قائم رہنے کے لئے تورات کے مسئلے غلط بتاتے تھے۔ اسی معاہدہ کی یاد دہی کی تنبیہ میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی آیتیں قرآن شریف میں حسب موقع نازل فرمائی ہیں۔ چناچہ پچھلی آیتوں میں یہود کی ایک غلط بیانی کا ذکر تھا کہ ہر نبی کے لئے آگ کا معجزہ ضرور ہے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ان کی اس غلط بیان کا جواب دیا۔ اور ان آیتوں میں یہ تنبیہ فرمائی کہ دنیا کے تھوڑے سے لالچ کے لئے اتنے بڑے سخت اور قدیمی معاہدہ کی مخالفت جو ان لوگوں نے اختیار کی ہے اور پھر اس پر اس بات کی ان کو خوشی ہے کہ ان کی چوری کوئی پکڑا نہیں سکتا یہ ان کی تجارت ایک بڑے ٹوٹے کی تجارت ہے دنیا چند روز ہے اس میں پھر چل کر انہوں نے کچھ کھا کما لیا تو پھر عقبیٰ کے ابدا لآباد عذاب سے بچ کر کہاں جائیں گے وہ اللہ جس کی بادشاہت زمین و آسمان میں ہے کیا کوئی ہے ایسا جو ان کو اس کے عذاب سے چھوڑا سکے بعض روایتوں میں یہ جو ہے کہ یہ آیتیں منافقوں کی شان میں نازل ہوئی ہیں اس کا یہ مطلب ہے کہ منافقوں کے حال پر بھی ان آیتوں کا مضمون صادق آتا ہے کہ وہ بھی یہود کی طرح کہتے ہیں کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں ورنہ جو شان نزول ان آیتوں کی اوپر بیان کی گئی ہے۔ وہ صحیحین ١ وغیرہ میں امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی روایت سے ہے جو قابل ترجیح ہے اتنا ضرور ہے کہ اس روایت کے موافق اگرچہ یہ آیتیں اہل کتاب کی شان میں ہیں لیکن حکم ان کا عام ہے اس امت کا کوئی عالم بھی کسی حق بات کو جان بوجھ کر چھپائے گا تو قیامت کے دن اس سے ضرور مواخذہ ہوگا۔ چناچہ ابو داؤد ترمذی ابن ماجہ صحیح ابن حبان وغیرہ میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو عالم جان کر کسی دین کی بات کو چھپائے گا تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے ٢ اور حاکم نے اس کو بخاری مسلم کی شرط کے موافق صحیح بتلایا ہے ٣۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:187) لبیننہ۔ مضارع بلام تاکید و نون ثقلیہ۔ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ کہ تم ضرور بیان کروگے یہ میثاق کا مضمون ہے یعنی اہل کتاب سے یہ وعدہ لیا گیا تھا کہ تم ضرور بیان کرو گے لوگوں کے سامنے اور اس کو چھپاؤ گے نہیں۔ فنبذوہ۔ ہ ضمیر میثاق کی طف راجع ہے۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ نبذ ینبذ (ضرب) نبذ سے پھینکنا۔ نبذ ینبذ ینبذ (نصر) نچوڑنا۔ نبیذ نچوڑا ہوا عرق۔ انہوں نے اس کو پھینک دیا۔ یا ڈال دیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی اہل کتاب سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ ان کی کتابوں میں جو احکام دیئے گئے ہیں اور نبی آخرالزمان (ﷺ) کے متعلق جو بشارتیں اور علامتیں بیان کی گئی ہیں۔ ان کا اعلانیہ اظہار کریں گے اور ان کو چھپانے کا جرم کا ارتکاب نہ کریں گے۔ مگر انہوں نے دنیا طلبی میں پڑکر اس عہد کی کوئی پر وا نہ کی اور ان احکام کی بھی لفظی اور معنوی تحریف کی اور ان بشارتوں اور علامتوں کو چھپایا فبئس ایشترون۔ اس آیت میں ضمنا مسلمان علمائ کو بھی یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حق بات کو جانتے بوجھتے چھپانے کے جرم کا ارتکاب نہ کریں حدیث میں متعدد طریق سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد مردی ہے من سل عن علم فکتمہ الجم یوم القیامتہ بلجام ناذ کہ جس سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا اور اس سے اسے چھپایا قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔ (ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : یہودیوں کے من گھڑت بہانے کی تردید کرنے کے بعد انہیں اظہارِ حق کے عہد کی یاد دہانی کروائی گئی ہے۔ یہود و نصاری نہ صرف نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف اور آپ کی نبوت کے ٹھوس دلائل چھپاتے ہیں۔ بلکہ انہوں نے ہر اس بات کو تورات اور انجیل سے نکال دیا ہے جو ان کے مفادات کے خلاف ہے حالانکہ ان سے اللہ تعالیٰ نے پختہ عہد لیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے احکامات کو چھپانے کی بجائے انہیں کھول کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرو گے۔ انہوں نے اس عہد کو اس طرح فراموش کردیا اور دور پھینکا جس طرح کوئی شخص کسی چیز کو اپنے پیچھے پھینک کر الٹے منہ دیکھ نہیں سکتا۔ دنیا کے وقتی وقار، عارضی اقتدار، معمولی فائدے اور چند دمڑیوں کی خاطر انہوں نے اللہ کے احکام کو بیچ ڈالا۔ پھر اپنے کیے پر افسوس کا اظہار کرنے کی بجائے اس پر اترایا کرتے تھے۔ بڑا ہی برا کردار اور سودا ہے جو انہوں نے اختیار کیا۔ حضرت حسن بصری کی والدہ حضرت ام المومنین امّ سلمہ (رض) کی کنیز تھیں۔ اس بدولت حسن بصری نے حضرت ام المومنین امّ سلمہ (رض) کے ہاں پرورش پائی وہ اس آیت کی تصریح میں فرمایا کرتے تھے کہ یہ عہد اللہ تعالیٰ نے بالواسطہ امت محمدیہ کے علماء سے بھی لیا ہے کہ وہ حق کو چھپانے کے بجائے اسے ہر حال میں بیان کرتے رہیں گے۔ حضرت حسن بصری (رض) کا اپنا کردار یہ تھا کہ وہ حجاج بن یوسف پر سر عام تنقید کرتے۔ ایک دن حجاج نے انہیں بلا کر تلوار لہراتے ہوئے پوچھا کہ آپ میرے بارے میں یہ یہ باتیں کرتے ہیں ؟ حضرت حسن بصری (رض) نے وہی باتیں حجاج کے رو برو کہتے ہوئے فرمایا کہ ہاں جب تک تم ان جرائم سے باز نہیں آؤ گے میں تمہیں ٹوکتا رہوں گا۔ اس کے بعد انہوں نے مذکورہ آیات کی تلاوت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے سچ بولنے کا وعدہ لیا ہے جس کی پاسداری کرنا ہمارا فرض ہے۔ (تفسیر رازی) مسائل ١۔ اہل کتاب نے دنیا کے تھوڑے سے مفاد کی خاطر اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈالا اور تھوڑی قیمت کے بدلے بیچ دیا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس سورت میں اہل کتاب کے بہت سے اقوال وافعال کو لیا گیا ہے خصوصا ! یہودیوں کے ۔ ان میں سے ممتاز ترین کرداران کا یہ بیان ہوا ہے کہ ان لوگوں کی یہ عادت رہی ہے کہ یہ حق کو چھپاتے ہیں حالانکہ ان کو اچھی طرح یہ پتہ ہوتا ہے کہ یہ حق ہے ۔ پھر یہ اس حق کو باطل کے ساتھ ملاتے ہیں اور اس طرح اپنے پروپیگنڈے کے لئے راہ ہموار کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ دین کے مفہوم میں شکوک و شبہات پھیلاتے ہیں ۔ وہ اسلام کی صحت پر اعتراضات کرتے ہیں ۔ وہ اس بات کا بھی انکار کرتے ہیں کہ اسلام اور ادیان سابقہ کے اندر بنیادیں مشترک ہیں ۔ اسلام ادیان سابقہ کی تصدیق کرتا ہے اور دین اسلام کی تصدیق کرتے ہیں ۔ ان کے پاس تورات موجود تھی جس میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سچائی ثبت تھی اور وہ جانتے تھے ۔ اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ قرآن مجید بھی اسی منبع سے آیا ہے جس سے تورات اتری ہے۔ اب وہ جو یہ موقف اختیار کررہے ہیں وہ ان کے لئے نہایت ہی نامناسب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا ہے کہ وہ کتاب کی تبلیغ کریں گے اور اس میں جو کچھ ہے اسے چھپائیں گے نہیں وہ اسے بیان کریں گے اور تمام لوگوں کے سامنے بیان کریں گے ۔ نہ چھپائیں گے اور نہ خفیہ رکھیں گے ۔ لیکن انہوں نے اللہ کے اس عہد صریح کو پس پشت ڈال دیا ۔ اس آیت کا انداز تعبیر نہایت ہی موثر ہے ۔ اس کے اندر دینی فعل کے علاوہ ظاہری حرکت بھی ہے یعنی کسی چیز کو پس پشت پھینک دینا۔ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ……………(انہوں نے اسے پس پشت ڈال دیا ) اور یہ حیا سوز کام انہوں نے کیا ‘ کیوں ؟ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلا……………(انہوں نے تھوڑی سی قیمت پر اسے بیچ ڈالا) یہ کام انہوں نے اس دنیا کے مفادات کے لئے کیا ۔ یہ یہودیوں کے مذہبی راہنماؤں کے ذاتی مفادات اور ان کی قومیت کے بچاؤ کے لئے انہوں نے یہ کام کیا ۔ اور یہ سب کچھ ثمن قلیل ہی ہیں۔ اگرچہ وہ تمام عرصے کے لئے تمام دنیا پر قابض ہوجائیں۔ یہ بھی اللہ کے عہد کے مقابلے میں ثمن قلیل ہوگا۔ اور اگر اللہ کے ہاں ان کے لئے جو اجر تھا وہ اسے نظروں میں رکھتے تو یہ انہیں واقعی ثمن قلیل نظر آتا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ……………(کتنا براکاروبار ہے جو یہ کررہے ہیں) ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل کتاب سے میثاق لینا اور ان کا عہد سے پھرجانا جن لوگوں کو امت محمدیہ سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب دی گئی جن میں یہود و نصاریٰ کے علماء بھی تھے ان سے اللہ تعالیٰ نے عہد لیا تھا کہ جو کتاب تمہیں دی گئی ہے اس کو لوگوں کے سامنے بیان کرو گے اور کسی چیز کو چھپانا نہیں۔ عہد کی ان لوگوں نے پاسداری نہ کی، اور اس کو پس پشت ڈال دیا اور حقیر دنیا حاصل کرنے کے لیے کتاب کے مضامین کو چھپایا اور حق کو بیان کرنے سے پیچھے ہٹتے رہے، اللہ کے عہد کو پس پشت ڈال کر اور حق کو چھپا کر جو اپنے معتقدین سے ذرا بہت دنیا حاصل کرلی یہ انہوں نے بہت بڑے نقصان کا سودا کیا اپنی آخرت برباد کی اور ذرا سی دنیا کے لیے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ حق چھپانے کے واقعات یہودیوں کی طرف سے پیش آتے رہے تھے ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علماء یہود سے کوئی بات پوچھی (جو توریت شریف میں تھی) ان لوگوں نے اصل بات کو چھپا دیا اور اس کی جگہ دوسری بات نقل کردی جب وہاں سے چلے گئے تو خوش ہو رہے تھے کہ واہ ہم نے خوب کام کیا اور ان کی خواہش تھی کہ ان کی اس پر تعریف کی جائے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب بیان کردی اس پر آیت (لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ ) نازل ہوئی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

285 یہ ماقبل ہی سے متعلق ہے پہلے مومنوں کو تشجیع دلائی کہ اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے دی گئی ایذاؤں پر صبر کریں اب یہاں اہل کتاب کے لیے زجر کا ذکر فرمایا کہ ہم نے ان سے عہد لیا تھا کہ وہ حق یعنی مسئلہ توحید کو مانیں گے اور اسے بیان کریں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں لیکن انہوں نے اس عہد و میثاق کی کوئی پرواہ نہ کی۔ فَنَبَذُوْہُ وَرَاءَ ظَھُوْرِھِمْ ۔ ھم ضمیر میثاق کی طرف راجع ہے انہوں نے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا اور اس کی پابندی نہ کی۔ وَاشْتَرَوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا۔ بہ کی ضمیر الکتاب کی طرف راجع ہے جس کتاب کو کھول کھول کر بیان کرنے کا حکم دیا گیا تھا اس کتاب کو بیان کرنے کی بجائے اسے عوام سے پوشیدہ رکھا۔ اور کوئی حق بات ان کے کانوں تک نہ پہنچنے دی اور یہ سب کچھ محض دنیائے دنی کی حقیر دولت اور دنیا کی فانی اور عارضی عیش اور اپنی گدیوں کی حفاظت کی خاطر کیا۔ اس آیت میں خاص طور پر علماء یہود مراد ہیں۔ یعنی ؟ واشیع و اشباھھما من الاحبار (ابن جریر ج 4 ص 126) یہ لوگ محض اپنی دنیوی ریاست عزت و وقار اور نذر ونیاز کی آمدنی کی حفاظت کے لیے حق چھپاتے تھے اور عوام کو الو بنا کر غلط راہ پر ڈال رکھا تھا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اور وہ واقعہ یاد کرو جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان اہل کتاب سے انبیاء کی یا کتب سماویہ کی معرفت یہ عہد لیا کہ تم اس کتاب کے تمام مضامین کو لوگوں کے سامنے صاف صاف بیان کرنا اور کتاب کے کسی مضمون اور کسی حکم کو چھپانا نہیں اور نہ پوشیدہ رکھنا لیکن انہوں نے اس عہد کا یہ حشر کیا کہ اس عہد کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے ڈال دیا اور اس پر عمل نہ کیا اور اس کتاب کے بدلے میں انہوں نے معمولی قیمت اور کم حقیقت معاوضہ حاصل کرلیا وہ چیز بہت بری ہے جس کو یہ لوگ حاصل کررہے ہیں۔ عہد کا مطلب یہ ہے کہ ان کو انبیاء کی معرفت یا ان کی کتابوں میں یہ حکم دیا گیا تھا اور انہوں نے اس کو قبول کیا تھا کہ ہم کتاب کے مضامین اور احکام میں خیانت نہیں کریں گے۔ واشتروابہ سے مراد کتاب ہے جیسا کہ ہم نے اختیار کیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ بجائے کتاب کے عہدمراد ہو مطل میں کوئی فرق نہیں ہے۔ حضرت حق نے دنیا کا مال لے لے کر مسائل کو چھپانا اور تحریف کرنا۔ مسئلہ غلط بتانا ان سب کو اشترا سے تعبیر فرمایا گویا روپیہ لیکر مسائل اور احکام الٰہی کو بیچ ڈالا۔ یا مسائل کے بدلے میں دنیاوی منافع خرید لئے لیکن مقصد استبدال ہے اور اشتراکو استبدال سے استعارہ کیا ہے اسی لئے ہم نے ترجمہ میں حاصل کرنا کیا ہے۔ کہ کتاب کے مقابلہ میں کم حقیقت مال حاصل کرلیا۔ کم ثمن قلیل اس لئے فرمایا کہ دنیا کا کتنا ہی بڑا فائدہ کیوں نہ ہو آخرت کے مقابلہ میں کم ہی ہے جیسا کہ ہم کئی بار عرض کرچکے ہیں۔ آخر میں فرمایا وہ چیز بہت بری ہے جو یہ حاصل کررہے ہیں کیونکہ اس کا انجام عذاب الیم اور جہنم ہے حضرت ابن عباس اور ابن جبیر کا قول یہ ہے کہ اس آیت سے یہود کے احبار مراد ہیں اور دوسرا قول جو علقمہ کے واسطے سے ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے نصاریٰ کے علماء مراد ہیں۔ بہرحال ہوسکتا ہے کہ دونوں ہوں۔ بہرحال جو عالم دنیوی لالچ کی وجہ سے دین کی بات کو چھپائے اس کو یہ وعید شامل ہے خواہ یہ دنیوی لالچ مال یا جاہ ہو یا ظالم حکام کو خوش کرنی کی غرض سے ہو۔ البتہ جہاں کسی جاہل کے بگڑجانے کا اندیشہ ہو اور عالم کو یہ خطرہ ہو کہ یہ اپنی ناسمجھی کی وجہ سے گمراہ ہوجائے گا وہاں کسی دقیق بات کو نہ بیان کیا جائے تو وہ صورت اس سے مستثنا ہے۔ حدیث میں آتا ہے جس شخص سے کوئی علم کی بات دریافت کی گئی اور اس نے اس کو چھپالیا تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔ حضرت حسن بن عمارہ کا واقعہ تو مشہور ہے کہ وہ زہری کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ وہ زمانہ ہے جب زہری نے حدیث کا بیان کرنا ترک کردیا تھا۔ حسن بن عمارہ نے زہری کو آواز دی جب وہ باہرآئے تو ان سے کہا میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ کوئی حدیث مجھے سنائیں انہوں نے فرمایا تم جانتے ہو میں نے تو حدیث کا بیان کرنا ترک کردیا ہے حسن نے کہا اگر آپ نہیں بیان کرتے تو میری حدیث سنئیے۔ انہوں نے فرمایا اچھا سنائو۔ حسن نے کہا مجھ سے عینیہ بن حکم نے بیان کیا اور عینیہ نے نجم الخراز سے روایت کی۔ نجم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت علی فرماتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پڑھوں پر علم کا سیکھنا اس وقت تک لازم نہیں کیا جب تک اہل علم پر علم کا سکھانا لازم نہیں کردیا۔ یہ سن کر زہری نے حسن بن عمارہ کے سامنے چالیس 04 حدیثیں روایت کیں۔ حضرت ابوہریرہ کا قول ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے اگر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے عہد نہ لیا ہوتا کہ مضامین کو لوگوں کے سامنے بیان کرنا اور چھپانا نہیں تو میں تمہارے سامنے کبھی حدیث نہ بیان کرتا یہ کہہ کر قرآن کی زیر بحث آیت پڑھا کرتے تھے۔ بہرحال یہود کی یا اہل کتاب کی یہ بڑی زیادتی ہے کہ انہوں نے معمولی لالچ کی خاطر کتاب کو چھپایا اور اس کے مضامین میں خیانت کی اور سب سے بڑا کتمان حق یہ کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جو صفات توریت و انجیل میں مذکور تھیں ان کو عوام کے روبرو ظاہر نہیں کیا اور ان کو چھپالیا۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ اپنی اس عہد شکنی پر بجائے شرمندہ اور نادم ہونے کے فخر کرتے اور خوش ہوتے۔ چناچہ آگے کی آیت میں اس فخر اور مباہات کی مذمت اور وعید مذکور ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ (تسہیل)