Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 188

سورة آل عمران

لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوۡا وَّ یُحِبُّوۡنَ اَنۡ یُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ یَفۡعَلُوۡا فَلَا تَحۡسَبَنَّہُمۡ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الۡعَذَابِ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۸۸﴾

And never think that those who rejoice in what they have perpetrated and like to be praised for what they did not do - never think them [to be] in safety from the punishment, and for them is a painful punishment.

وہ لوگ جو اپنے کرتوتُوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی ان کی تعریفیں کی جائیں آپ انہیں عذاب سے چھُٹکارہ میں نہ سمجھئے ان کے لئے تو دردناک عذاب ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لااَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَواْ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُواْ بِمَا لَمْ يَفْعَلُواْ ... Think not that those who rejoice in what they have done, and love to be praised for what they have not done, refers to those who show off, rejoice in what they do and claim to do what they have not done. The Two Sahihs recorded that the Prophet said, مَنِ ادَّعَى دَعْوَةً كَاذِبَةً لِيَتَكَثَّرَ بِهَا لَمْ يَزِدْهُ اللهُ إِلاَّ قِلَّة Whoever issues a false claim to acquire some type of gain, then Allah will only grant him decrease. The Sahih also recorded; الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَبِسِ ثَوْبَيْ زُور He who claims to do what he has not done, is just like a person who wears two robes made of falsehood. Imam Ahmad recorded that; Marwan told his guard Rafi to go to Ibn Abbas and proclaim to him, "If every person among us who rejoices with what he has done and loves to be praised for what he has not done will be tormented, we all will be tormented." Ibn Abbas said, "This Ayah was revealed about the People of the Scriptures." He then recited the Ayah, وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاء ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْاْ بِهِ ثَمَناً قَلِيلً فَبِيْسَ مَا يَشْتَرُونَ (And remember) when Allah took a covenant from those who were given the Scripture (Jews and Christians) to make it (the truth) known and clear to mankind, and not to hide it, but they threw it away behind their backs, and purchased with it some miserable gain! And indeed worst is that which they bought. (3:187) then the Ayah, لااَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَواْ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُواْ بِمَا لَمْ يَفْعَلُواْ Think not that those who rejoice in what they have done, and love to be praised for what they have not done. Ibn Abbas said, "The Prophet asked them about something, and they hid its knowledge, giving him an incorrect answer. They parted after showing off and rejoicing in front of him because they answered him, so they pretended, and they were delighted that they hid the correct news about what he had asked them." This was recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi and An-Nasa'i. Al-Bukhari recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said, "During the time of the Messenger of Allah, when the Messenger would go to battle, some hypocrite men would remain behind and rejoice because they did not accompany the Prophet in battle. When the Messenger would come back, they would ask him to excuse them swearing to having some excuse, and wanting to be praised for that which they did not do. So Allah revealed, لااَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَواْ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُواْ بِمَا لَمْ يَفْعَلُواْ Think not that those who rejoice in what they have done, and love to be praised for what they have not done)," to the end of the Ayah." And Muslim recorded similarly. Allah said; ... فَلَ تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ ... think not that they are rescued from the torment, Do not think that they will be saved from punishment, rather it will certainly strike them. So Allah said; ... وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ and for them is a painful torment. Allah then said, وَلِلّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ وَاللّهُ عَلَىَ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

188۔ 1 ایسے لوگوں کے لئے سخت وعید ہے جو صرف اپنے واقعی کارناموں پر ہی خوش نہیں ہوتے بلکہ چاہتے ہیں کہ ان کے کھاتے میں وہ کارنامے بھی درج یا ظاہر کئے جائیں جو انہوں نے نہیں کئے ہوتے۔ یہ بیماری جس طرح عہد رسالت کے بعض لوگوں میں تھی جن کے پیش نظر آیات کا نزول ہوا۔ اسی طرح آج بھی جاہ پسند قسم کے لوگوں اور پراپیگنڈے اور دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے سے بننے والے لیڈروں میں یہ بیماری عام ہے، آیت کے سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی کتاب الٰہی میں تحریف کے مجرم تھے مگر وہ اپنے ان کرتوتوں پر خوش ہوتے تھے، یہی حال باطل گروہوں کا بھی ہے وہ بھی لوگوں کو گمراہ کر کے، غلط رہنمائی کرکے اور آیات الٰہی میں معنوی تحریف و تبدیل کر کے بڑے خوش ہوتے ہیں اور دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ وہ اہل حق ہیں اور یہ کہ انکی فریب کاری کی انہیں داد دی جائے۔ ( قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ 30؀) 009:030

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٨٨] اس آیت کے شان نزول کے سلسلے میں مندرجہ ذیل تین احادیث ملاحظہ فرمائیے یہ تینوں حدیثیں بخاری شریف میں مذکور ہیں۔ ١۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ آپنے یہود کو بلا بھیجا اور ان سے دین کی کوئی بات پوچھی۔ انہوں نے حق چھپایا اور غلط بات بتلادی۔ پھر سمجھے کہ ہم (نے کمال کیا) آپ کے نزدیک قابل تعریف ٹھہرے یعنی آپ کو بتلایا بھی اور حق بات چھپا بھی لی۔ پھر یہی آیت پڑھی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) ٢۔ مروان نے اپنے دربان رافع کو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے پاس بھیجا کہ اس آیت کا مطلب پوچھ کے آؤ، کیونکہ اس آیت کی رو سے ہر شخص عذاب کا مستحق قرار پاتا ہے۔ کیونکہ ہر شخص کو جو نعمت ملی، یا وہ جو کرتا ہے۔ اس پر خوش ہوتا ہے اور وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے ناکردہ کام پر اس کی تعریف کی جائے۔ چناچہ رافع ابن عباس (رض) کے پاس آئے تو ابن عباس (رض) نے فرمایا : تم مسلمانوں کا اس سے کیا تعلق ؟ پھر انہوں نے اس سے پہلی آیت ساتھ ملا کر پڑھی اور کہا کہ یہ ان یہودیوں کے حق میں ہے۔ جنہیں آپ نے بلا کر ان سے کوئی بات پوچھی تو انہوں نے حق بات تو چھپا دی اور کوئی غلط بات بتلا دی پھر یہ سمجھے کہ وہ ان کے نزدیک قابل تعریف ٹھہرے (یعنی آپ کو بتلا بھی دیا اور حق بھی چھپالیا) پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) ٣۔ حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ آپ کے زمانہ میں چند ایسے منافق تھے کہ جب آپ جہاد پر جاتے تو وہ پیچھے رہ جاتے اور خوش ہوتے۔ پھر جب آپ واپس آتے تو قسمیں کھا کر طرح طرح کے بہانے بناتے اور یہ بات انہیں اچھی لگتی تھی کہ ان کے ناکردہ کاموں پر ان کی تعریف ہو۔ انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) ان میں سے حدیث نمبر ١ اور ٢ کے راوی ابن عباس (رض) ہیں اور اس آیت کو یہود سے متعلق بتلاتے ہیں اور حدیث ٣ کے راوی ابو سعید خدری ہیں اور وہ اس آیت کو منافقین سے متعلق بتلاتے ہیں۔ ربط مضمون کے لحاظ سے پہلی دو احادیث راجح معلوم ہوتی ہیں۔ کیونکہ پیچھے یہود کی کرتوتوں کا ذکر چل رہا ہے۔ تاہم اس مضمون میں منافقین تو کیا خود مسلمانوں کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ یعنی جو شخص بھی ایسی شہرت پسند کرتا ہو کہ فلاں آدمی بڑا مخلص، دیانتدار، ایثار پیشہ خادم خلق اور عالم دین ہے یا ان میں سے کسی بھی صفت کی شہرت چاہتا ہو جبکہ حقیقت میں معاملہ ایسا نہ ہو یا کسی نے اچھے کام میں محنت تو تھوڑی ہی کی مگر شہرت اور ناموری اس سے بہت زیادہ چاہتا تو اس کا وہی حشر ہوگا جو اس آیت میں مذکور ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یعنی جو کام انھوں نے کیے ہیں ان پر اتراتے چلے جاتے ہیں اور جو کام انھوں نے نہیں کیے ان کے متعلق بھی چاہتے ہیں کہ انھیں ان کے کارناموں میں شمار کیا جائے، ایسے لوگوں کے بارے میں ہرگز یہ خیال نہ کرو کہ وہ اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے چھوٹ جائیں گے۔ یہ آیت دراصل یہود اور منافقین کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ چناچہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود سے کوئی بات دریافت کی تو انھوں نے اس کا غلط جواب دیا، پھر خوش ہوئے کہ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مطمئن کردیا، اب انھیں ہماری تعریف کرنی چاہیے۔ [ بخاری، التفسیر، باب : ( لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا) : ٤٥٦٨ ] ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب کبھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنگ کے لیے تشریف لے جاتے تو بعض منافقین آپ کے ساتھ نہ جاتے اور آپ کے جانے کے بعد ( اپنے گھروں میں) بیٹھے رہنے سے بہت خوش ہوا کرتے، پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس تشریف لاتے تو عذر اور بہانے پیش کرتے اور (ان عذر بہانوں پر ) قسم کھاتے اور چاہتے کہ اس کام پر ان کی تعریف کی جائے جو انھوں نے نہیں کیا، چناچہ اس سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی : ( لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا وَّيُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا ) [ بخاری، التفسیر، باب : ( لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا : ٤٥٦٧ ] مگر یہ حکم اہل کتاب اور مسلمانوں کے لیے عام ہے جو بھی خوشامد پسند ہوگا اور اس قسم کا ذہن رکھے گا، کہ اس کے ناکردہ کارناموں پر اس کی تعریف کی جائے۔ اس کے لیے وہ وعید ہے جو اس آیت میں مذکور ہے۔ (شوکانی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا وَّيُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ۝ ٠ ۚ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۝ ١٨٨ فرح الْفَرَحُ : انشراح الصّدر بلذّة عاجلة، وأكثر ما يكون ذلک في اللّذات البدنيّة الدّنيوية، فلهذا قال تعالی: لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِما آتاکُمْ [ الحدید/ 23] ، وَفَرِحُوا بِالْحَياةِ الدُّنْيا[ الرعد/ 26] ، ذلِكُمْ بِما كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ [ غافر/ 75] ، ( ف ر ح ) ا لفرح کے معنی کسی فوری یا دینوی لذت پر انشراح صدر کے ہیں ۔ عموما اس کا اطلاق جسمانی لذتوں پر خوش ہونے کے معنی میں ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِما آتاکُمْ [ الحدید/ 23] اور جو تم کو اس نے دیا ہوا اس پر اترایا نہ کرو ۔ وَفَرِحُوا بِالْحَياةِ الدُّنْيا[ الرعد/ 26] اور ( کافر ) لوگ دنیا کی زندگی پر خوش ہورہے ہیں ۔ ذلِكُمْ بِما كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ [ غافر/ 75] یہ اس کا بدلہ ہے کہ تم ۔۔۔۔۔ خوش کرتے تھے حب والمحبَّة : إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا، وهي علی ثلاثة أوجه : - محبّة للّذة، کمحبّة الرجل المرأة، ومنه : وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] . - ومحبّة للنفع، کمحبة شيء ينتفع به، ومنه : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] . - ومحبّة للفضل، کمحبّة أهل العلم بعضهم لبعض لأجل العلم . ( ح ب ب ) الحب والحبۃ المحبۃ کے معنی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر اس کا ارادہ کرنے اور چاہنے کے ہیں اور محبت تین قسم پر ہے : ۔ ( 1) محض لذت اندوزی کے لئے جیسے مرد کسی عورت سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ آیت : ۔ وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] میں اسی نوع کی محبت کی طرف اشارہ ہے ۔ ( 2 ) محبت نفع اندوزی کی خاطر جیسا کہ انسان کسی نفع بخش اور مفید شے سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13 اور ایک چیز کو تم بہت چاہتے ہو یعنی تمہیں خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح حاصل ہوگی ۔ ( 3 ) کبھی یہ محبت یہ محض فضل وشرف کی وجہ سے ہوتی ہے جیسا کہ اہل علم وفضل آپس میں ایک دوسرے سے محض علم کی خاطر محبت کرتے ہیں ۔ حمد الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود : إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ :إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] ، يصحّ أن يكون في معنی المحمود، وأن يكون في معنی الحامد، وحُمَادَاكَ أن تفعل کذا «3» ، أي : غایتک المحمودة، وقوله عزّ وجل : وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ [ الصف/ 6] ، فأحمد إشارة إلى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم باسمه وفعله، تنبيها أنه كما وجد اسمه أحمد يوجد وهو محمود في أخلاقه وأحواله، وخصّ لفظة أحمد فيما بشّر به عيسى صلّى اللہ عليه وسلم تنبيها أنه أحمد منه ومن الذین قبله، وقوله تعالی: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ [ الفتح/ 29] ، فمحمد هاهنا وإن کان من وجه اسما له علما۔ ففيه إشارة إلى وصفه بذلک وتخصیصه بمعناه كما مضی ذلک في قوله تعالی: إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ اسْمُهُ يَحْيى [ مریم/ 7] ، أنه علی معنی الحیاة كما بيّن في بابه «4» إن شاء اللہ . ( ح م د ) الحمدللہ ( تعالیٰ ) کے معنی اللہ تعالے کی فضیلت کے ساتھ اس کی ثنا بیان کرنے کے ہیں ۔ یہ مدح سے خاص اور شکر سے عام ہے کیونکہ مدح ان افعال پر بھی ہوتی ہے جو انسان سے اختیاری طور پر سرزد ہوتے ہیں اور ان اوصاف پر بھی جو پیدا کشی طور پر اس میں پائے جاتے ہیں چناچہ جس طرح خرچ کرنے اور علم وسخا پر انسان کی مدح ہوتی ہے اس طرح اسکی درازی قدو قامت اور چہرہ کی خوبصورتی پر بھی تعریف کی جاتی ہے ۔ لیکن حمد صرف افعال اختیار یہ پر ہوتی ہے ۔ نہ کہ اوصاف اضطرار ہپ پر اور شکر تو صرف کسی کے احسان کی وجہ سے اس کی تعریف کو کہتے ہیں ۔ لہذا ہر شکر حمد ہے ۔ مگر ہر شکر نہیں ہے اور ہر حمد مدح ہے مگر ہر مدح حمد نہیں ہے ۔ اور جس کی تعریف کی جائے اسے محمود کہا جاتا ہے ۔ مگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف اسی کو کہہ سکتے ہیں جو کثرت قابل ستائش خصلتیں رکھتا ہو نیز جب کوئی شخص محمود ثابت ہو تو اسے بھی محمود کہہ دیتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے ۔ میں حمید بمعنی محمود بھی ہوسکتا ہے اور حامد بھی حماد اک ان تفعل کذا یعنی ایسا کرنے میں تمہارا انجام بخیر ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ [ الصف/ 6] اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا ان کی بشارت سناتاہوں ۔ میں لفظ احمد سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کی طرف اشارہ ہے اور اس میں تنبیہ ہے کہ جس طرح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام احمد ہوگا اسی طرح آپ اپنے اخلاق واطوار کے اعتبار سے بھی محمود ہوں گے اور عیٰسی (علیہ السلام) کا اپنی بشارت میں لفظ احمد ( صیغہ تفضیل ) بولنے سے اس بات پر تنبیہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کے بیشتر وجملہ انبیاء سے افضل ہیں اور آیت کریمہ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ [ الفتح/ 29] محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا کے پیغمبر ہیں ۔ میں لفظ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گومن وجہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام ہے لیکن اس میں آنجناب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف حمیدہ کی طرف بھی اشاره پایا جاتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ : إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ اسْمُهُ يَحْيى [ مریم/ 7] میں بیان ہوچکا ہے کہ ان کا یہ نام معنی حیات پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ اس کے مقام پر مذ کور ہے ۔ فوز الْفَوْزُ : الظّفر بالخیر مع حصول السّلامة . قال تعالی: ذلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ [ البروج/ 11] ، فازَ فَوْزاً عَظِيماً [ الأحزاب/ 71] ، ( ف و ز ) الفوز کے معنی سلامتی کے ساتھ خیر حاصل کرلینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ ذلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ [ البروج/ 11] یہی بڑی کامیابی ہے ۔ فازَ فَوْزاً عَظِيماً [ الأحزاب/ 71] تو بیشک بڑی مراد پایئکا ۔ یہی صریح کامیابی ہے ۔ ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٨٨) یہود جو نیک کام نہیں کرتے تھے اس پر خواہ مخواہ تعریف اور ستائش کے طلب گار ہوتے تھے۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان لوگوں کا ہرگز نہ خیال کیجیے جنہوں نے کتاب میں آپ کی نعت وصفت میں تبدیلی کردی اور وہ اب اس بات کے متمنی ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے اور ملت ابراہیمی اور فقرا کے ساتھ احسان کرنے کے بھی دعویدار ہیں، حالانکہ ذرہ برابر بھی ان میں کوئی ایسی نیکی نہیں کہ جس کے سبب وہ عذاب الہی سے چھٹکارا حاصل کرسکیں۔ شان نزول : (آیت) ” لا تحسبن الذین یفرحون “۔ (الخ) بخاری (رح) ومسلم (رح) نے حمید بن عبدالرحمن بن عوف (رح) کے ذریعہ سے روایت کیا ہے کہ مروان نے اپنے دربان سے کہا کہ رافع، ابن عباس (رض) کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ ہم میں سے ہر ایک شخص جو چیز اس کو دی گئی ہے اس پر خوش ہے اور یہ چاہتا ہے کہ جو کام وہ نہیں کرسکتا، اس پر بھی اس کی تعریف کی جائے، ایسے شخص کو اگر عذاب ہوگا تو پھر سب عذاب میں گرفتار ہوجائیں گے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا تم لوگوں کو اس آیت سے کیا واسطہ یہ آیت تو اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان لوگوں سے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی چیز کے متعلق دریافت کیا تھا انہوں نے اس بات کو تو چھپا لیا اور دوسری بات بتلا دی اور پھر آپ کے پاس سے آکر یہ ظاہر کیا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا تھا وہ ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتلایا ہے اور بڑی ڈھٹائی سے اس پر اپنی تعریف بھی چاہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوال کے جواب کو جو چھپا لیا تھا اس پر آپس میں خوش ہوئے۔ اور بخاری (رح) و مسلم (رح) نے ابوسعید خدری (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جہاد پر تشریف لے جاتے تو منافقین میں سے کچھ لوگ آپ کے ساتھ نہ جاتے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عدم موجودگی میں نہ جانے پر خوش ہوتے اور جب آپ واپس تشریف لاتے تو معذرت کرتے اور قسمیں کھاتے اور یہ چاہتے کہ جو کام انہوں نے نہیں کیا، اس پر ان کی تعریف کی جائے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ، عبدابن حمید (رح) نے اپنی تفسیر میں زید بن اسلم (رح) سے روایت نقل کی ہے کہ رافع بن خدیج (رض) اور زید بن ثابت (رض) دونوں مروان کے پاس تھے۔ مروان کہنے لگا، رافع (آیت) ” لا تحسبن الذین “۔ (الخ) یہ آیت کس چیز کے بارے میں نازل ہوئی ہے، رافع بولے یہ منافقین میں سے کچھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب باہر تشریف لے جاتے تو یہ عذر کرتے اور کہتے کہ ہمیں کام ہے اور حقیقت میں ہماری خواہش یہ ہے کہ ہم آپ کے ساتھ جائیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، مروان نے اس واقعہ کو روایت کیا، اس پر رافع ناراض ہو کر زید بن ثابت (رض) سے بولے کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کیا تم جانتے ہو جو میں کہہ رہا ہوں زید بن ثابت نے کہا جی ہاں، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ اس روایت اور ابن عباس (رض) کے فرمان میں مطابقت اس طرح ہے کہ ہوسکتا ہے یہ آیت دونوں قسم کے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ اور فراء نے روایت کیا ہے کہ یہ آیت یہود کے قول کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس بات کے مدعی تھے کہ ہم پہلے ہی سے کتاب والے نماز والے اور اہل طاعت ہیں اور اس کے باوجود رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٨٨ (لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا) اگر کچھ نیکی کرلیتے ہیں ‘ کسی کو کچھ دے دیتے ہیں تو اس پر بہت اتراتے ہیں ‘ اکڑتے ہیں کہ ہم نے یہ کچھ کرلیا ہے۔ (وَّیُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْاص) آج کل اس کی سب سے بڑی مثال سپاس نامے ہیں ‘ جو تقریبات میں مدعو شخصیات کو پیش کیے جاتے ہیں۔ ان سپاس ناموں میں ان حضرات کے ایسے ایسے کارہائے نمایاں بیان کیے جاتے ہیں جو ان کی پشتوں میں سے بھی کسی نے نہ کیے ہوں۔ اس طرح ان کی خوشامد اور چاپلوسی کی جاتی ہے اور وہ اسے پسند کرتے ہیں۔ ( فَلاَ تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ ج) تو ان کے بارے میں یہ خیال نہ کریں کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

133. Such people expected praises to be lavished upon them for being God-fearing, devout and pious, for being sincere servants of the true faith, for being defenders of God's Law and for having reformed and purified the lives of people, even though none of this might be true. They wanted people to go about trumpeting that such and such a person had made great sacrifices in the cause of God and had sincerely guided people to the right way even though the facts might be the reverse of what they claimed.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :133 مثلا وہ اپنی تعریف میں یہ سننا چاہتے ہیں کہ حضرت بڑے متقی ہیں ، دیندار اور پارسا ہیں خادم دین ہیں ۔ حامی شرع متین ہیں ، مصلح ومزکی ہیں ، حالانکہ حضرت کچھ بھی نہیں ۔ یا اپنے حق میں یہ ڈھنڈورا پٹوانا چاہتے ہیں کہ فلاں صاحب بڑے ایثار پیشہ اور مخلص اور دیانت دار رہنما ہیں اور انہوں نے ملت کی بڑی خدمت کی ہے ۔ حالانکہ معاملہ برعکس ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(188 ۔ 189) ۔ صحیحین میں حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی لڑائی پر جاتے تو منافق لوگ جھوٹے عذر پیش کر کے مدینہ میں رہ جاتے اور اپنے اس حیلہ سازی پر بہت خوش ہوتے تھے۔ اور جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ لڑائی پر سے واپس آتے تو اپنے ان عذروں کے سچے ہونے اور لڑائی سے رہ جانے کے افسوس پر قسمیں کھاتے تھے ٤ غرض ان کی اس قسما قسمی سے یہ ہوتی تھی کہ باوجود لڑائی میں شریک نہ ہونے کے لوگ ان کی تعریف کریں اور کہیں کہ مجبوری سے وہ لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ ورنہ وہ شریک ہونے پر پورے آمادہ تھے اب حکم اس آیت کا عام ہے جو کوئی بغیر کسی نیک کام کرنے کے اس کام پر اپنی جھوٹی تعریف چاہے گا وہ اس حکم میں داخل ہو کر جس سخت عذاب کا اس آیت میں ذکرے اس عذاب میں مبتلا ہوگا اسی واسطے یہود لوگ جو تورات کے بعض مسئلے چھوڑ کر پھر اپنے آپ کو توریت کا پورا پابند جھوٹ موٹ بتلاتے تھے اور اس جھوٹی پابندی پر لوگوں سے اپنی مدح چاہتے تھے اس آیت کے حکم میں داخل ہونا خیال کر کے بعض صحابہ نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت یہود کی شان میں اتری ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ یہود پر بھی اس آیت کا مطلب صادق آتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:188) اتو۔ ماضی جمع مذکر غائب ۔ باب ضرب اتیان مصدر اتی یاتی (ب) کوئی چیز لانا کسی کو لانا۔ اتوا۔ وہ لائے۔ وہ آئے۔ وہ پہنچے۔ اتوا۔ ب انہوں نے کہا۔ یفرحون بما اتوا۔ خوش ہوئے اپنے کئے پر۔ مفازۃ۔ فاز (مادہ فوز) کا مصدر ہے۔ باب نصر۔ کامیاب ہونا۔ فاز یفوز ۔ بالامر۔ کسی امر میں کامیاب ہونا۔ فاز یفوز من المروہ کسی تکلیف سے نجات پانا۔ فلا تحسبھم بمفازۃ من العذاب۔ ہرگز خیال نہ کریں کہ وہ عذاب سے بجات پالیں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یہ کہ جو کام انہوں نے کئے ہیں ان پر اتر تے چلے ت جاتے ہیں اور جو کام انہوں نے نہیں کئے ہیں ان کے متعلق بھی جانتے ہیں کہ انہیں انکے کار ناموں میں شمار کیا جائے ایسے لوگوں کے بارے میں ہرگز یہ خیال نہ کرو وہ اللہ کی پکڑ اور اس کی عذاب سے چھوٹ جائیں گے یہ آیت دواصل یہود اور ان کے منافقین کے حق میں نازل ہوئی ہے (ابن جریر) چناچہ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود سے کوئی بات دریافت کی۔ انہوں نے اس کا غلط جواب دیا پھر خوش ہوئے کہ ہم نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مطمئن اب انہیں ہماری تعریف کرنی چاہیے (بخاری مسلم) حضرت ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ اس طرح کہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنگ کے لیے نکلتے تو وہ واپس تشریف لاتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے جھوٹی قسمین کھا کھا کر عذا پیش کرتے اور چاہتے کہ ان کی تعریف ہو۔ (بخاری) مگر یہ حکم اہل کتاب اور سب مسلمانوں کے لیے ہے جو بھی خوشامد مد پسند ہوگا اور قسم کا زہن رکھے گا اس کے لیے وہ وعید ہے جو اس آیت میں مذکور ہے۔ (شوکانی، ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ کردار بدیہی کے احکام کو چھپاتے تھے اور جو نیک کام نہیں کیا اس سے مراد اظہار حق ہے جس کو وہ نہ کرتے تھے لیکن دوسروں کو یقین دلانا چاہتے تھے کہ ہم اظہار حق کرتے ہیں تاکہ ان کا خداع معلوم نہ ہو چناچہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روبرو بھی یہود نے یہ جرات کی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید تحریری شکل میں نازل نہیں ہوا یہ پر مغز خطابی انداز میں نازل ہوا ہے اس لیے مخاطب کو سمجھانے کے لیے جس پیرائے اور الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے وہی استعمال ہوتے ہیں جو موقعہ کے مطابق ہوں جس بنا پر بات کا تعلق بہت پیچھے کی بات سے جوڑ کر اسے کسی دوسرے انداز میں سمجھایا جاتا ہے یہاں یہ سمجھایا گیا ہے کہ جس دین کی مخالفت اور دنیا کی خاطر تم بخل اور خوشامد کرتے ہو اس وجہ سے جو تمہارا انجام ہونے والا ہے اس کی طرف توجہ دو ۔ انسان کی اخلاقی گراوٹ کی انتہا دیکھنا ہو تو اس شخص کے کردار کی طرف دیکھیے جو گناہ پر معذرت کرنے کے بجائے اس پر اصرار کرتے ہوئے خوش ہوتا اور فخر محسوس کرتا ہے۔ ایسے آدمی کی عادت ہوجاتی ہے کہ وہ صرف صحت مند تنقید سننا گواراہی نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے عمل اور ناپسندیدہ کردار کی بھی تعریف چاہتا ہے۔ جس شخص کی یہ حالت ہوجائے اس کے سنورنے کی تمام صورتیں ختم ہوجایا کرتی ہیں۔ اگر ایسا شخص کسی ملک یا قوم کا سربراہ ہو تو ہلاکت اس قوم کا مقدر ہوا کرتی ہے۔ اہل کتاب کے علماء اور زعماء کی یہی حالت تھی کہ وہ ہر حال میں اپنی تعریف سننا پسند کرتے تھے یہاں تک کہ جس کام کے ساتھ ان کا دور کا تعلق نہ ہوتا اس کی بھی تعریف چاہتے تھے۔ حتیٰ کہ مفاد پرست اور جاہل لوگ ان کی ذات اور خاندان میں وہ وہ خوبیاں ظاہر کرنے کی کوشش کرتے جن کا ان کے ہاں تصور بھی نہیں پایا جاتا تھا۔ اپنی کردہ اور ناکردہ خدمات کی تعریف چاہنے والا شخص مغرور ‘ ریا کار اور خود پسند ہوجایا کرتا ہے۔ اس قسم کے کردار کے حامل لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ آخرت میں بھی ان کی تعریف اور خوشامدہو گی اور وہ کامیاب ہوجائیں گے۔ ہرگز نہیں ان کے لیے تو رب ذوالجلال نے نہایت ہی تکلیف دہ عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس طرح کی اخلاقی بیماریوں سے بچنے اور بچانے کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کے رو برو تعریف کرنے والے کے بارے میں فرمایا ایسا شخص دوسرے کو کند چھری کے ساتھ ہلاک کرتا ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ اأَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اأنْ نَّحْثُوَ فِیْ أَفْوَاہِ الْمَدَّاحِیْنَ التُّرَابَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الزھد، باب ماجاء فی کراھیۃ المدحۃ والمداحین ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمیں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ ہم کسی کے منہ پر تعریف کرنے والے کے منہ میں مٹی ڈالیں۔ “ (عَنِ ابْنِ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ قَالَ اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاس (رض) قَبْلَ مَوْتِھَا عَلٰی عَاءِشَۃَ وَھِیَ مَغْلُوْبَۃٌ قَالَتْ أَخْشٰی یُثْنِیَ عَلَیَّ فَقِیْلَ ابْنُ عَمِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَمِنْ وُجُوْہِ الْمُسْلِمِیْنَ قَالَتْ إِءْذَنُوْا لَہٗ فَقَالَ کَیْفَ تَجِدِیْنَکِ قَالَتْ بِخَیْرٍ إِنِ اتَّقَیْتُ قَالَ فَأَنْتِ بِخَیْرٍ إِنْ شَآء اللّٰہُ زَوْجَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَلَمْ یَنْکِحْ بِکْرًا غَیْرَکِ وَنَزَلَ عُذْرُکِ مِنَ السَّمَاءِ وَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَیْرِ خِلَافَہٗ فَقَالَتْ دَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ (رض) فَأَثْنٰی عَلَیَّ وَوَدِدْتُّ أَنِّیْ کُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب ولولا إذ سمعتموہ قلتم مایکون لنا أن نتکلم بھذا ] ” ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں حضرت عائشہ (رض) جب موت کے قریب تھیں تو اس وقت عبداللہ بن عباس (رض) نے ان کے پاس آنے کی اجازت چاہی حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا مجھے ڈر ہے کہ وہ میری تعریف نہ کرنے لگیں۔ کسی نے عرض کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا زاد بھائی اور خود بھی عزت دار ہیں اس پر انہوں نے کہا کہ انہیں اندر بلالو۔ ابن عباس (رض) نے ان سے پوچھا کہ آپ کس حال میں ہیں ؟ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اگر میں اللہ سے ڈرنے والی ہوں تو اچھا ہی اچھا ہے۔ عبداللہ بن عباس (رض) نے کہا انشاء اللہ آپ اچھی ہی رہیں گی آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ مطہرہ ہیں اور آپ کی براءت آسمان سے نازل ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے تشریف لے جانے کے بعد آپ کی خدمت میں ابن زبیر (رض) حاضر ہوئے۔ حضرت عائشہ (رض) نے ان سے فرمایا کہ ابھی ابن عباس آئے تھے اور میری تعریف کی کاش ! میں بھولی بسری گمنام ہوتی۔ “ مسائل ١۔ جو لوگ ہر کام پر اپنی تعریف چاہتے ہیں وہ آخرت کے عذاب سے بچ نہیں سکیں گے۔ تفسیر بالقرآن اپنی تعریف کروانا بہتر نہیں : ١۔ خواہ مخواہ تعریف کروانے والا جہنم میں جائے گا۔ (آل عمران : ١٨٨) ٢۔ اپنی پاک دامنی کا دعو ٰی کرنا بہتر نہیں۔ (النجم : ٣٢) ٣۔ اللہ کے نیک بندے شکریہ سے مبرّا ہوتے ہیں۔ (الدھر : ٩) ٤۔ پاک وہی ہے جسے اللہ پاک کرے۔ (النساء : ٤٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

بخاری شریف میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہودیوں سے کوئی بات پوچھی ۔ انہوں نے اسے چھپادیا اور انہوں نے غلط جواب دیا ۔ وہ چلے گئے ۔ وہ یہ تاثر دیتے ہوئے گئے کہ انہوں نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ بات بتادی جو انہوں نے پوچھی تھی اور اس پر وہ اپنی جگہ خوش تھے کہ ان کو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں تعریف کا مستحق قراردیا گیا لیکن خوش اس لئے بھی تھے کہ انہوں نے اصل بات چھپادی تھی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : لا ﺗَﺤۡﺴَﺒَﻦ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ” تم ان لوگوں کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھو جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسے کاموں کی تعریف انہیں حاصل ہو جو فی الواقعہ انہوں نے نہیں کئے ۔ حقیقت میں ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے ۔ “ ایک دوسری روایت میں امام بخاری نے ابوسعید الخدری سے نقل کیا ہے کہ منافقین میں سے لوگ ایسے تھے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جہاد کے لئے نکلتے تو وہ ہمیشہ پیچھے رہ جاتے اور وہ یوں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے بہت ہی خوش ہوتے کیونکہ یہ رسول اللہ کی مرضی کے خلاف ہوتا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آتے تو یہ لوگ عذرات پیش کرتے اور قسمیں اٹھاتے ۔ اور وہ اس بات کو پسند کرتے کہ انہوں نے جو نہیں کئے اس پر ان کی تعریف کی جائے ۔ اس پر یہ آیت نازل لا ﺗَﺤۡﺴَﺒَﻦ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا اصل حقیقت یہ ہے کہ کوئی آیت کس واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی ؟ یہ کوئی قطعی بات نہیں ہے ۔ ایسی روایات بعض اوقات ایسی صورتحال کو بیان کرتی ہیں جن میں کسی آیت سے کوئی دلیل رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیش کی ہوتی ہے ۔ راوی کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ شاید یہ آیت ابھی نازل ہوئی ہے یا اگر کسی واقعہ پر کوئی آیت منطبق ہوتی ہے تو راوی کہتا ہے کہ یہ آیت اس کا مصداق ہے ۔ اور یہ آیت اس بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ اس لئے ان دوروایتوں کے بارے میں بھی قطعی بات نہیں کی جاسکتی ۔ رہی پہلی روایت تو اس میں سیاق کلام کے ساتھ ہم آہنگی ہے اس لئے کہ بات اہل کتاب کی ہورہی ہے ۔ اہل کتاب کے اس دعویٰ کا ذکر ہے کہ ان کو جو کتاب دی گئی ہے اور اس میں جو ان کے پاس امانت ہے وہ اسے چھپائیں گے نہیں ۔ لوگوں کے سامنے بیان کریں گے ۔ وہ چھپا رہے ہیں اور جھوٹ اور فریب کاری کے طور پر کچھ اور بتاتے ہیں اور پھر یہ توقع بھی کرتے ہیں کہ ان کے اس جھوٹ اور اختراء پر ان کی تعریف ہوگی ۔ اگر دوسری روایت درست ہے تو پھر بھی سیاق کلام میں منافقین کی بات موجود ہے اور یہ آیت بھی انہیں آیات کے ساتھ ملحق ہے ۔ غرض یہ ان لوگوں کے نمونے ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں پائے جاتے تھے ۔ ایسے لوگ آج بھی ہر تحریک میں پائے جاتے ہیں ۔ یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے نظریات کے تقاضے اور ان کے فرائض پورے نہیں کرسکتے اور نہ ہی نتائج برداشت کرسکتے ہیں اور نہ ہی نظریہ کی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں ۔ جدوجہد سے پیچھے بیٹھے رہتے ہیں ۔ اگر جدوجہد کرنے والے ناکام ہوجائیں اور انہیں ہزیمت ہو تو یہ لوگ سر اٹھاتے ہیں اور ناک میں شکن ڈال کر اور ناک کھینچ کر بات کرتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ بہت ہی عقلمند ہیں اور موقع شناس ہیں اور خوددار ہیں ۔ اور اگر مجاہدین کو فتح حاصل ہوجائے اور انہیں مفادات ملیں تو ہمارے ایسے ساتھی آگے بڑھتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ان کے اس منصوبے کے مؤید تھے اور یہ کہ اس فتح میں ہمارا بھی ہاتھ ہے ۔ اور یہ لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ان کی مدح سرائی ان کاموں پر بھی ہو جو انہوں نے نہیں کئے۔ انسانیت میں سے یہ ان لوگوں کانمونہ ہے جو ڈرپوک ہوتے ہیں اور بلند وبانگ دعویٰ کرتے ہیں ۔ قرآن کریم ان لوگوں کی پینٹنگ چند لکیروں کے اندر کردیتا ہے اور ان کے خدوخال بہت ہی واضح طور پر نظرآنے لگتے ہیں ۔ پھر ان الفاظ کا جامہ پہناکر قرآن کریم ان خدوخال کو دائمی ریکارڈ کے طور پر محفوظ کرلیتا ہے تاکہ اس آئینے میں آنے والے اپنے چہرہ دیکھیں ۔ یہ ہے اسلوب قرآن کریم کا ۔ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتاکید بتاتے ہیں کہ ان کے لئے نجات اخروی کی کوئی صورت نہیں ہے ۔ فَلا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ (تم ان لوگوں کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھو) وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ……………(بےشک ان کے لئے دردناک عذاب ہے ) اور عذاب الیم کی یہ وعید اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔ جو مالک السمٰوٰت والارض ہے ۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ تو پھر بچنے کی صورت ہی کیا رہتی ہے ۔ اور نجات کب مل سکتی ہے ؟ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (اور زمین وآسمانوں کا مالک اللہ ہے اور اس کی قدرت سب پر حاوی ہے)

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اور بعض روایات میں یہ ہے کہ بہت سے لوگ منافقین میں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد میں نہیں گئے اور مدینہ منورہ ہی میں بیٹھے رہے جب آپ واپس تشریف لائے تو جھوٹے عذر پیش کیے جن پر قسمیں کھا گئے اور ان کی یہ خواہش تھی کہ جو کام نہیں کیا اس پر تعریف کی جائے (یعنی جہاد کے شرکاء میں ان کو شامل کرلیا جائے) اس پر آیت کریمہ (لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ ) (آخر تک) نازل ہوئی۔ (درمنثور صفحہ ١٠٨: ج ٢) دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے، دونوں ہی باتیں سبب نزول ہوسکتی ہیں۔ انسان کے نفسانی تقاضوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی تعریف کی جائے اور اس کی محبت اس درجہ میں ہے کہ جو عمل نہیں کیے وہ عمل اس کی طرف منسوب کیے جائیں اور پھر ان کی تعریف کی جائے یہودیوں اور منافقوں کا یہی طریقہ تھا اور بھی بہت سے لوگ اس مزاج کے پائے جاتے ہیں جو حضرات متقی اور محتاط ہیں وہ اپنے اعمال حسنہ پر بندوں کی طرف سے تعریف کیے جانے کی تمنا نہیں کرتے پھر جو عمل نہیں کیے ان پر کہاں تعریف کے متمنی ہوسکتے ہیں، حضرت امام ابوحنیفہ (رح) بازار سے گزر رہے تھے کہ ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ دیکھو یہ شخص پوری رات نماز پڑھتا ہے یہ سن کر حضرت امام صاحب پوری رات نماز پڑھنے لگے اور فرمایا کہ مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ اس عمل پر میری تعریف ہو جو میں نے نہیں کیا۔ یہودیوں نے اور منافقین نے جو اس بات کی آرزو کی کہ جو کام انہوں نے نہیں کیے ان پر ان تعریف کی جائے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم کامیاب ہوگئے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فَلَا تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ) (آپ ہرگز یہ خیال نہ فرمائیں کہ یہ لوگ عذاب سے چھوٹ گئے بلکہ ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

286 اس کا تعلق وَلَا تَکْتُمُوْنَہ سے ہے اور مَا اَتَوا سے کتمان حق اور تحریف کا فعل مراد ہے یعنی پہلے تو ان علماء اہل کتاب نے عہد کیا تھا کہ وہ حق بیان کریں گے مگر اب وہ ایک طرف تو عہد شکنی کر کے حق چھپا رہے ہیں اور پھر اس فعل پر خوش بھی ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کی مدح سرائی ہو اور ان کی حق بیانی دیانت وامانت اور ان کے علم و فضل کی تعریف کی جائے۔ قال ابن عباس (رض) ھم الیھود حرفوا التوراۃ وفرحوا بذالک واحبوا ان یوصفوا بالدیانۃ والفضل (ابو السعود ج 3 ص 170) ۔ 287 یہ علماء یہود کے لیے تخویف اخروی ہے اور اس میں خطاب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے یا ہر مخاطب سے ان کی ظاہری شان و شوکت اور ٹھاٹھ سے کوئی یہ اندازہ نہ کر بیٹھے کہ شاید آخرت میں بھی یہ لوگ عیش میں ہوں گے بلکہ اس بات کا تو کسی کے ذہن میں گمان اور خیال بھی نہ آنے پائے کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے بلکہ انہیں مفسدانہ اور گمراہانہ کارروائیوں کی ضرور سزا ملے گی جو بہت ہی دردناک ہوگی۔ فاخبر ان لھم عذابا الیما بما افسدوا الدین علی عباد اللہ (قرطبی ج 4 ص 306) ۔ اسی طرح موجودہ زمانہ کے گدی نشین اور بدعت پسند مولوی محض اپنی گدیوں اور اپنے جھوٹے وقار کی خاطر مسئلہ توحید کو چھپاتے ہیں اور اسے ظاہر نہیں کرتے۔ سورة آل عمران میں چار مضامین بیان کیے گئے ہیں۔ توحید، رسالت، جہاد فی سبیل اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ۔ اب یہاں ان چاروں کا اعادہ کیا گیا ہے۔ پہلے مضمونِ توحید کا اعادہ ہے۔ سورة آل عمران میں چونکہ زیادہ تر نصاریٰ کی اصلاح مد نظر تھی، جو حضرت عیسیٰ ، مائی مریم اور آل عمران کو کارساز سمجھتے اور ان کو پکارتے تھے۔ اس لیے فرمایا لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰواتِ والْاَرضِ ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi