Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 19

سورة آل عمران

اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ ۟ وَ مَا اخۡتَلَفَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۱۹﴾

Indeed, the religion in the sight of Allah is Islam. And those who were given the Scripture did not differ except after knowledge had come to them - out of jealous animosity between themselves. And whoever disbelieves in the verses of Allah , then indeed, Allah is swift in [taking] account.

بیشک اللہ تعالٰی کے نزدیک دین اسلام ہی ہے اور اہل کتاب اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بناء پر ہی اختلاف کیا ہے اور اللہ تعالٰی کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے اللہ تعالٰی اس کا جلد حساب لینے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللّهِ الاِسْلَمُ ... Truly, the religion with Allah is Islam. Allah states that there is no religion accepted with Him from any person, except Islam. Islam includes obeying all of the Messengers until Muhammad who finalized their commission, thus closing all paths to Allah except through Muhammad. Therefore, after Allah sent Muhammad, whoever meets Allah following a path other than Muhammad's, it will not be accepted of him. In another Ayah, Allah said, وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الاِسْلَـمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ And whoever seeks a religion other than Islam, it will never be accepted of him. (3:85) In this Ayah (3:19) Allah said, asserting that the only religion accepted with Him is Islam, إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللّهِ الاِسْلَمُ (Truly, the religion with Allah is Islam). Allah then states that those who were given the Scripture beforehand divided in the religion after Allah sent the Messengers and revealed the Books to them providing them the necessary proofs to not do so. Allah said, ... وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوْتُواْ الْكِتَابَ إِلاَّ مِن بَعْدِ مَا جَاءهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ... Those who were given the Scripture (Jews and Christians) did not differ except out of rivalry, after knowledge had come to them. meaning, some of them wronged others. Therefore, they differed over the truth, out of envy, hatred and enmity for each other. This hatred made some of them defy those whom they hated even if they were correct. Allah then said, ... وَمَن يَكْفُرْ بِأيَاتِ اللّهِ ... And whoever disbelieves in the Ayat of Allah, meaning, whoever rejects what Allah sent down in His Book. ... فَإِنَّ اللّهِ سَرِيعُ الْحِسَابِ then surely, Allah is Swift in reckoning. Allah will punish him for his rejection, reckon him for his denial, and torment him for defying His Book. Thereafter, Allah said.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

19۔ 1 اسلام وہی دین ہے جس کی دعوت وتعلیم ہر پیغمبر اپنے اپنے دور میں دیتے رہے ہیں اور اس کی کامل ترین شکل وہ ہے جسے نبی آخرزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دنیا کے سامنے پیش کیا جس میں توحید و رسالت اور آخرت پر اس طرح یقین و ایمان رکھنا ہے جس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتلایا ہے محض یہ عقیدہ رکھ لینا کہ اللہ ایک ہے یا کچھ اچھے عمل کرلینا یہ اسلام نہیں نہ اس سے نجات آخرت ملے گی۔ ایمان و اسلام اور دین عند اللہ قبول نہیں ہوگا۔ (الفرقان) برکتوں والی ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ وہ جہانوں کا ڈرانے والا ہو اور حدیث میں ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو یہودی یا نصرانی مجھ پر ایمان لائے بغیر فوت ہوگیا وہ جہنمی ہے۔ (صحیح مسلم) اسی لئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے وقت کے تمام سلاطین اور بادشاہوں کو خطوط تحریر فرمائے جن میں انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی (بحوالہ ابن کثیر) 19۔ 2 ْ ان کے اس باہمی اختلاف سے مراد وہ اختلاف ہے جو ایک ہی دین کے ماننے والوں نے آپس میں برپا کر رکھا تھا مثلاً یہودیوں کے باہمی اختلافات اور فرقہ بندیاں اسی طرح عیسائیوں کے باہمی اختلا فات اور فرقہ بندیاں پھر وہ اختلافات بھی مراد ہے جو اہل کتاب کے درمیان آپس میں تھا جس کی بنا پر یہودی نصرانیوں کو اور نصرانی یہودیوں کو کہا کرتے تھے تم کسی چیز پر نہیں ہو نبوت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور نبوت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ سارے اختلافات دلائل کی بنیاد پر نہیں تھے محض حسد اور بغض وعناد کی وجہ سے تھے یعنی وہ لوگ حق کو جاننے اور پہچاننے کے باوجود محض اپنے خیالی دنیاوی مفاد کے چکر میں غلط بات پر جمے رہتے۔ افسوس آج مسلمان علماء کی ایک بڑی تعداد ٹھیک ان ہی کے غلط مقاصد کے لئے غلط ڈگر پر چل رہی ہے۔ 19۔ 3 یہاں آیتوں سے مراد وہ آیات ہیں جو اسلام کے دین الہی ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٢] دین سے مراد ایسا نظام زندگی یا ضابطہ حیات ہے جسے انسان اس دنیا کے لیے یا دنیا و آخرت دونوں کے لیے بہتر سمجھ کر اختیار کرتا ہے۔ اس لحاظ سے یہودیت، نصرانیت، دہریت، بدھ مت، سکھ، اسلام، کمیونزم، سوشلزم، جمہوریت وغیرہ سب کے سب دین ہیں۔ لیکن اللہ کے ہاں ان میں سے قابل قبول دین صرف اور صرف اسلام ہے۔ اسلام کا معنی ہے اللہ کے احکام و ارشادات کے سامنے سرتسلیم خم کردینا اور برضا ورغبت اللہ کا مطیع و منقاد بن جانا ہے اور صرف اسلام ہی ایسا دین ہے جو دنیوی فلاح اور اخروی نجات کا ضامن ہے۔ دنیا میں جتنے بھی انبیاء و رسل مبعوث ہوئے وہ سب دین اسلام ہی کی دعوت دیتے رہے وہ یہی کہتے رہے کہ اللہ کے مطیع و فرمانبردار بندے بن جاؤ۔ اس لحاظ سے ان تمام انبیاء کے پیرو کار مسلم یا مسلمان ہی تھے۔ جنہوں نے بعد میں اپنے لیے الگ الگ نام تجویز کئے، جیسا کہ آج کل مسلمانوں کے بہت سے فرقوں نے بھی اپنے لیے الگ الگ نام تجویز کرلیے ہیں یا بعض مخصوص عقائد و نظریات کی بنا پر دوسروں نے ان کے نام رکھ دیئے ہیں۔ [٢٣] اختلاف سے مراد اہل کتاب کا باہمی اختلاف بھی ہوسکتا ہے اور دوسروں سے بھی۔ مثلاً یہود کے فرقوں کا باہمی اختلاف، عیسائیوں کے فرقوں کا باہمی اختلاف اور مسلمانوں کے فرقوں کا باہمی اختلاف اور دوسرے یہ کہ یہود کا عیسائیوں اور مسلمانوں سے، عیسائیوں کا یہود اور مسلمانوں سے اختلاف۔ [٢٤] اس جملہ میں اللہ تعالیٰ نے اختلاف کی اصل وجہ بیان فرما دی اور یہی وجہ قرآن کریم میں اور بھی تین مقامات پر بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اختلاف کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ حق انہیں نظر نہیں آتا بلکہ اس کی اصل وجہ اپنی اپنی سرداریاں اور چودھراہٹیں قائم کرنا اور اپنا جھنڈا سربلند رکھنے کی فکر، اسباب مال و جاہ کا حصول ہوتا ہے اور اس معاملہ میں آپ جتنا بھی غور کریں گے فرقہ بندیوں کی بنیاد میں آپ کو ذاتی اغراض و مفادات ہی نظر آئیں گے۔ مثلاً تورات اور انجیل دونوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبعوث ہونے کا ذکر موجود ہے اور ان کی نشانیاں بھی بیان کردی گئی ہیں اور اہل کتاب کو یہ بھی پوری طرح یقین ہوچکا ہے کہ کتاب میں مذکورہ نشانیوں کے مطابق وہی نبی آخرالزمان اور نبی برحق ہے۔ اب اس نبی کے انکار کی وجہ محض ان کی اپنی سرداریاں ختم ہونا یا بعض دوسرے دنیوی مفادات کا ضائع ہونا تھا۔ ان باتوں کے علاوہ انکار کی کوئی دوسری وجہ نہ تھی۔ لہذا اللہ ایسے لوگوں کا جلد ہی حساب چکا دیتا ہے اور اس آیت کا اطلاق مسلمانوں پر بھی بالکل اسی طرح ہوتا ہے جیسے اہل کتاب پر ہوا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے، یعنی اپنے آپ کو اللہ کے احکام کے تابع کردینا، جو اس کے رسول مختلف اوقات میں لے کر آتے رہے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کے آخر میں خاتم الانبیاء کو مبعوث فرمایا اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راستے کے سوا اپنے تک پہنچنے والے تمام راستوں کو بند کردیا۔ اب اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت کے سوا کوئی اور دین لے کر اللہ کے پاس جائے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، فرمایا : (وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ ۚ ) [ آل عمران : ٨٥ ] ” اور جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ “ اب جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا قائل نہیں اور نہ آپ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اپنا عمل اور عقیدہ ہی درست کرتا ہے تو اس کا دین اللہ کے ہاں معتبر نہیں، خواہ وہ توحید کا قائل اور دوسرے ایمانیات کا اقرار کرتا ہو۔ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیاء بھیجے ان سب کا دین یہی اسلام تھا۔ اہل کتاب نے یہ حقیقت جان لینے کے بعد کہ دین حق اسلام ہی ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے سچے رسول اور آخری نبی ہیں، محض باہمی بغض و عناد کی بنا پر اسلام سے انحراف کیا ہے۔ آج بھی ان کے لیے صحیح روش یہی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئیں اور دین اسلام کو اختیار کریں۔ سَرِيْعُ الْحِسَابِ : یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جلد محاسبہ ہونے والا ہے اور آیات الٰہی سے کفر کی سزا مل کر رہے گی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Din دین and Islam اسلام : An Explanation of the Two words: The word, Din (دین) has more than one meaning in the Arabic lan¬guage, one of them being &the way&. In the terminology of the Qur&an, the word, Din دین is used to stand for principles and injunctions which are common to all prophets (علیہم السلام) from Sayyidna Adam (علیہ السلام) to the last of the prophets, Sayyidna Muhammad al-Mustafa (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . The words, &shari&ah (شریعہ) or &al-minhaj& (المنھاج) or the word, &madhhab& (مذھب) from among the later-day terms, are used to cover subsidiary injunctions, which have been different during different ages and different commu¬nities. The Holy Qur&an says: شَرَ‌عَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا Allah made you follow the same religion with which He bound Nuh (and other prophets) - 42:13. This tells us that the دین din of all our blessed prophets (علیہم السلام) was one and the same, that is, belief in the most perfect Being and Attributes of Allah, in His being free of all shortcomings and- that He alone is wor¬thy of worship, believing in this from the depth of one&s heart and confirming it verbally; belief in the Day of Judgment, in the final reckon¬ing of deeds, the reward and the punishment and in Paradise and Hell and in every prophet and messenger sent by Him and in all command-ments and injunctions brought by them, believing all this in one&s heart and confirming such belief verbally as well. Now the real meaning of the word, اسلام Islam is to submit oneself to Allah and be obedient to His commands. Given this meaning, those who believed in the prophets and messengers of their time and were obedient to the commands of Allah they brought to them, were all enti¬tled to be called Muslims, and their religion was Islam. It was in this sense of the word that Sayyidna Nuh (علیہ السلام) said: وَأُمِرْ‌تُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِين I have been commanded that I be from among the Muslims 10:72) and therefore, Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) described himself and his community as Muslims when he said: رَ‌بَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّ‌يَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ (Our Lord, make us Muslims, the submitting ones to Thee, and from our progeny a community of Muslims submitting to Thee - 2:128). And it was in this very sense of the word that the disciples of Sayyidna &Isa (علیہ السلام) said: وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (And bear witness that we are Muslims - 3:52) Sometimes this word is applied particularly to the din دین and Shari` ah, the religion and the law brought finally by the last among the proph¬ets, Sayyidna Muhammad al-Mustafa (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) This law abrogated all previous ways in religion and this shall sustain right through the Day of Judgment. Given this meaning of the word Islam, it becomes particular to the religion brought by the prophet of Islam and to the large community of his followers. In a well-known hadith of Jibra&il (علیہ السلام) ، the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has explained Islam in this very man¬ner. The word, الاسلام &Al-Islam& as it appears in the verse here carries the likelihood of both meanings. If the first meaning is taken, it would mean that the only religion -acceptable with Allah is Islam, that is, becoming obedient in complete submission to the commands of Allah, believing in all prophets of all times and in whatever commandments they brought, by acting accordingly. Although, the religion brought by Hadhrat Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has not been specially identified here, yet, in pursuance of the general rule, once the last among the line of prophets had been sent, the belief and practice of all injunctions he brought becomes binding, and inclusive under this rule. As such, the outcome will be that the religion acceptable during the period of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) was what he brought; during the period of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ، what he brought. Similarly, the Islam of the period of Sayyidna Musa was what came in the form of the tablets of Torah and the teachings of Moses and the Islam of the period of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) was what came as Injil and the teachings of Jesus (علیہ السلام) ، At the end of this chain of prophets, the Islam of the period of Sayyidna Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the last among the prophets (علیہم السلام) ، shall be what took shape on the pattern given by the Qur&an and Sunnah. Now if we take the second meaning of Islam, that is, the Sharl&ah the way and law brought by the last of the prophets the verse would come to mean that in this period of time only that religion of Islam which is true to the teachings of the noble Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is the one acceptable. No doubt, previous religions too, during their age of currency, were known as Islam, but they are now abrogated. So, the end-result is the same both ways, that is, during the age of every prophet, the religion acceptable in the sight of Allah is that particular Islam which conforms to the revelation and teachings credited to that prophet. No religion, other than this, even if it be a previously abrogat¬ed one, is acceptable and certainly not deserving of being called |"Islam|" at a later stage. The Shari` ah of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) was the Islam of his times. When the time of Sayyidna Musa (علیہ السلام) came, the abrogated laws of that code did not remain the Islam of his time. Similarly, any laws of Moses (علیہ السلام) abrogated during the time of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) were not to be labeled as Islam any more. It is exactly like this when laws and injunctions of previous religious codes were abrogated during the time of the Last of the prophets (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، they no more remained valid as Islam. Therefore, whatever meaning of Islam is taken, general or particular, in relation to the community being addressed by the Holy Qur&an, the outcome of both is nothing but that, following the appearance of the noble Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، the only religion which shall be deserving of the Surah &Al-` Imran 3.18-19 name, Islam, will be the one that conforms to the قُرآن and the teachings of the blessed recipient of revelations and that alone shall be acceptable in the sight of Allah. Since no other religion is acceptable to Allah, it cannot become a source of salvation either. This subject has appeared in the Holy Qur&an in many verses separately. The exact words used in one such verse are: وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ‌ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ That is, whoever seeks a religion other than Islam, it will not be accepted from him (and what is done under its dictates shall be wasted). Salvation in our times depends on Islam: Even good deeds and morals from a non-Muslim are not acceptable. These verses have very clearly hit at the root of the atheistic ap¬proach which endeavours to bracket Islam and disbelief (kufr) on the same footing in the name of tolerance preached by Islam, thereby claiming that every faith of the world Judaism, Christianity, even pa¬ganism can each become the source of salvation, on condition that its followers perform good deeds and observe good morals. This is a veiled attempt to demolish a principle of Islam and to prove that reality Islam is nothing of substance. It is something limpid and imaginary which could be moulded to fit into whatever religion one chooses, even if it is kufr or disbelief The verses of the Holy Qur&an, those appearing here and a large number of others, have very explicitly stressed that the light and darkness cannot be the same. Similarly, it is grossly absurd and impossible that Allah would like disobedience to and rebellion against Him just as He likes obedience and submission. Whoever denies even one basic principle of Islam, he is, without any shadow of doubt, a rebel to Allah and the enemy of how impressing he may appear in his other deeds and formal morality. Salvation in the Hereafter depends, first of all, on obedience to Allah and His Messenger. Whoever remains deprived of it, not one of his deeds is credible. The Holy Qur&an says for such people: فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا We shall not assign weight to their deeds on the Day of Judgment - 18:105. In verse 19: وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ after declaring that &the religion in the sight of Allah is Islam&, the text moves on to explain why the people of the Book went about disputing the pro¬phethood of Sayyidna Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، and challenging Islam as false. They did this, not because they had any doubts in this connec¬tion for they knew the truth of the matter through their own scrip¬tures, but because they were scared of losing their ground against &Muslims. So, it was their malice towards Muslims, their love for power and influence and their arrogant self-image as traditional leaders which drove them to these altercations. Finally, it was said: وَمَن يَكْفُرْ‌ بِآيَاتِ اللَّـهِ فَإِنَّ اللَّـهَ سَرِ‌يعُ الْحِسَابِ that is, &whoever de¬nies the verses of Allah (as the people of the Book did), then, Allah is swift at reckoning&. The swiftness of this reckoning can be well ima¬gined as it starts initially soon after death when man passes into the state known as &barzakh برزخ &. But the detailed accounting for one&s deeds shall take place on the Day of Judgment when he will have to account for his doings in the minutest detail. Then, the penchant for disputing truth will be exposed. The people who denied the truth will discover their worth and the punishment it calls for shall become known to them.

دین اور اسلام کے الفاظ کی تشریح : عربی زبان میں لفظ دین کے چند معنی ہیں، جس میں ایک معنی ہیں طریقہ اور روش، قرآن کریم کی اصطلاح میں لفظ دین ان اصول و احکام کے لئے بولا جاتا ہے جو حضرت آدم (علیہ السلام) سے خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک سب انبیاء میں مشترک ہیں، اور لفظ |" شریعت |" یا |" منہاج |" یا بعد کی اصطلاحات میں لفظ |" مذہب |" فروعی احکام کے لئے بولے جاتے ہیں، جو مختلف زمانوں اور مختلف امتوں میں مختلف ہوتے چلے آئے ہیں، قرآن کریم کا ارشاد ہے : ( شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا۔ ٤٢: ١٣) |" یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی دین جاری فرمایا جس کی وصیت تم سے پہلے نوح (علیہ السلام) کو اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کو کی گئی تھی |" اس سے معلوم ہوا کہ دین سب انبیاء (علیہم السلام) کا ایک ہی تھا، یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کے جامع کمالات اور تمام نقائص سے پاک ہونے اور اس کے سوا کسی کا لائق عبادت نہ ہونے پر دل سے ایمان اور زبان سے اقرار، روز قیامت اور اس میں حساب کتاب اور جزا و سزا اور جنت و دوزخ پر دل سے ایمان لانا اور زبان سے اقرار کرنا، اس کے بھیجے ہوئے ہر نبی و رسول اور ان کے لائے ہوئے احکام پر اسی طرح ایمان لانا۔ اور لفظ |" اسلام |" کے اصلی معنی ہیں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردینا، اور اس کے تابع فرمان ہونا، اس کے معنی کے اعتبار سے ہر نبی و رسول کے زمانہ میں جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کے لائے ہوئے احکام میں ان کی فرمانبرداری کی وہ سب مسلمان اور مسلم کہلانے کے مستحق تھے، اور ان کا دین دین اسلام تھا، اسی معنی کے لحاظ سے حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا : ( وامرت ان اکون من المسلمین ( سورة یونس : ٧٢) اور اسی لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو اور اپنی امت کو امت مسلمہ فرمایا ( ربنا واجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک۔ (٢: ١٢٨) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریین نے اسی معنی کے اعتبار سے کہا تھا ( واشھد بانا مسلمون۔ (آل عمران : ٥٢) اور بعض اوقات یہ لفظ خصوصیت سے اس دین و شریعت کے لئے بولا جاتا ہے جو سب سے آخرت میں خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے کر آئے، اور جس نے پچھلی تمام شرائع کو منسوخ کردیا اور جو قیامت تک باقی رہے گا، اس معنی کے اعتبار سے یہ لفظ صرف دین محمدی اور امت محمدیہ کے لئے مخصوص ہوجاتا ہے۔ جبرئیل (علیہ السلام) کی ایک حدیث جو تمام کتب حدیث میں مشہور ہے اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلام کی یہی خاص تفسیر بیان فرمائی ہے، آیت مذکورہ کے لفظ |" الاسلام |" میں بھی دونوں معنی کا احتمال ہے۔ پہلے معنی لئے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول دین صرف دین اسلام ہے، یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان بنانا اور ہر زمانہ میں جو رسول آئے اور وہ جو کچھ احکام لائے اس پر ایمان لانا اور اس کی تعمیل کرنا اس میں دین محمدی کی اگرچہ تخصیص نہیں، لیکن عام قاعدہ کے ماتحت حضرت سید الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تشریف لانے کے بعد ان پر اور ان کے لائے ہوئے تمام احکام پر ایمان و عمل بھی اس میں داخل ہوجاتا ہے، جس کا حاصل یہ ہوگا کہ نوح (علیہ السلام) کے زمانہ دین مقبول وہ تھا جو نوح (علیہ السلام) لائے، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ میں وہ جو ابراہیم (علیہ السلام) لے کر آئے، اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا اسلام وہ تھا جو الواح توراۃ اور موسوی تعلیمات کی صورت میں آیا۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا اسلام وہ جو انجیل اور عیسوی ارشادات کے رنگ میں نازل ہوا اور آخرت میں خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کا اسلام وہ ہوگا جو قرآن وسنت کے بتلائے ہوئے نقشہ پر مرتب ہوا۔ خلاصہ یہ ہوا کہ ہر نبی کے زمانہ میں ان کا لایا ہوا دین ہی دین اسلام اور عنداللہ مقبول تھا، جو بعد میں یکے بعد دیگرے منسوخ ہوتا چلا آیا، آخر میں خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دین دین اسلام کہلایا، جو قیامت تک باقی رہے گا، اور اگر اسلام کے دوسرے معنی لیے جائیں یعنی وہ شریعت جو حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے کر تشریف لائے، تو آیت کا مفہوم یہ ہوجاتا ہے کہ اس زمانہ میں صرف وہی اسلام مقبول ہے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات کے مطابق ہے، پچھلے ادیان کو بھی اگرچہ ان کے اوقات میں اسلام کہا جاتا تھا، مگر اب وہ منسوخ ہوچکے ہیں، اور دونوں صورتوں میں نتیجہ کلام ایک ہی ہے، کہ ہر پیغمبر کے زمانہ میں اللہ کے نزدیک مقبول دین وہ اسلام ہے جو اس پیغمبر کی وحی اور تعلیمات کے مطابق ہو اس کے سوا دوسرا کوئی دین مقبول نہیں، خواہ وہ پچھلی منسوخ شدہ شریعت ہی ہو، اگلے زمانہ کے لئے وہ اسلام کہلانے کی مستحق نہیں، شریعت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے زمانہ میں اسلام تھی، موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں اس شریعت کے جو احکام منسوخ ہوگئے وہ اب اسلام نہیں رہے، اسی طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں شریعت موسویہ کا اگر کوئی حکم منسوخ ہوا ہے تو وہ اب اسلام نہیں، ٹھیک اسی طرح خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں شرائع سابقہ کے جو احکام منسوخ ہوگئے وہ اب اسلام نہیں رہے، اس لئے جو امت قرآن کی مخاطب ہے اس کے لئے اسلام کے معنی عام لئے جائیں یا خاص، دونوں کا حاصل یہی ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد صرف دین اسلام کہلانے کا مستحق وہ ہے جو قرآن اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات کے مطابق ہو اور وہی اللہ کے نزدیک مقبول ہے، اس کے سوا کوئی دین مقبول اور ذریعہ نجات نہیں، یہ مضمون قرآن مجید کی بیشمار آیات میں مختلف عنوانات سے آیا ہے ایک آیت کے الفاظ میں اس طرح وارد ہے ( ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ۔ ٣: ٨٥) |" یعنی جو شخص اسلام کے سوال کوئی دین اختیار کرے گا تو وہ اس سے قبول نہ کیا جائے گا اس کے تابع جو عمل کیا جائے گا وہ ضائع ہوگا |"۔ اس زمانہ میں نجات اسلام میں منحصر ہے غیر مسلم کے اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ بھی مقبول نہیں۔ ان آیات نے پوری وضاحت کے ساتھ اس ملحدانہ نظریہ کا خاتمہ کردیا جس میں اسلام کی رواداری کے نام پر کفر و اسلام کو ایک کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اور یہ قرار دیا گیا ہے کہ دنیا کا ہر مذہب خواہ یہودیت و نصرانیت ہو یا بت پرستی ہر ایک ذریعہ نجات بن سکتا ہے، بشرطیکہ اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کا پابند ہو، اور یہ درحقیقت اسلام کے اصول کو منہدم کرنا ہے، جس کا حاصل یہ ہوجاتا ہے کہ اسلام کی کوئی حقیقت ہی نہیں، محض ایک خیالی چیز ہے جو کفر کے ہر جامہ میں بھی کھپ سکتا ہے، قرآن کریم کی ان آیات اور انہی جیسی بیشمار آیات نے کھول کر بتلادیا ہے کہ جس طرح اجالا اور اندھیرا ایک نہیں ہوسکتے اسی طرح یہ بات نہایت نامعقول اور ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی نافرمانی اور بغاوت بھی ایسے ہی پسند ہو جیسے اطاعت و فرمانبرداری، جو شخص اسلام میں سے کسی ایک چیز کا منکر ہے وہ بلا شبہ خدا تعالیٰ کا باغی اور اس کے رسولوں (علیہم السلام) کا دشمن ہے، خواہ فروعی اعمال اور رسمی اخلاق میں وہ کتنا ہی اچھا نظر آئے، نجات آخرت کا مدار سب سے پہلے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری پر ہے جو اس سے محروم رہا اس کے کسی عمل کا اعتبار نہیں، قرآن مجید میں ایسے ہی لوگوں کے اعمال کے متعلق ارشاد ہے : (فلا نقیم لھم یوم القیامۃ وزنا۔ ١٨: ١٠٥) |" یعنی ہم قیامت کے دن ان کے کسی عمل کا وزن قائم نہ کریں گے |"۔ اس آخری آیت میں اور اس سے پچھلی آیات میں چونکہ روئے سخن اہل کتاب کی طرف ہے اس لئے آخری آیت میں ان کی بیوقوفی اور غلط کاری کو اس طرح بیان فرمایا ہے : (وما اختلف الذین اوتوا الکتب الا من بعد ماجاء ھم العلم بغیا بینھم) |" یعنی اہل کتاب نے جو خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور اسلام میں خلاف اور جھگڑا ڈالا تو وہ اس وجہ سے نہیں کہ ان کو کوئی اس معاملہ میں اشتباہ رہ گیا بلکہ ان کو اپنی کتاب تورات و انجیل سے اور دوسرے ذرائع سے پوری طرح اسلام اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حقانیت کا علم ہوچکا تھا، لیکن مسلمانوں سے حسد اور حب جاہ و مال نے ان کو اس اختلاف میں مبتلا کیا ہے۔ آخر میں فرمایا ہے ( ومن یکفر بایت اللہ فان اللہ سریع الحساب۔ ) |" یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ جلد اس سے حساب لینے والے ہیں |"۔ اول تو مرنے کے بعد اس عالم کا امتحان داخلہ قبر کے اس عالم میں ہوگا جس کو برزخ کہا جاتا ہے اور پھر تفصیلی حساب قیامت میں اس حساب و کتاب کے وقت سب جھگڑوں کی حقیقت کھل جائے گی، باطل پرستوں کو اپنی حقیقت واضح ہوجائے گی اور پھر اس کی سزا سامنے آجائے گی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ۝ ٠ ۣ وَمَا اخْتَلَـفَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَھُمُ الْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَھُمْ۝ ٠ ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِاٰيٰتِ اللہِ فَاِنَّ اللہَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ۝ ١٩ دين والدِّينُ يقال للطاعة والجزاء، واستعیر للشریعة، والدِّينُ کالملّة، لكنّه يقال اعتبارا بالطاعة والانقیاد للشریعة، قال إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] ( د ی ن ) دين الدین کے معنی طاعت اور جزا کے کے آتے ہیں اور دین ملت کی طرح ہے لیکن شریعت کی طاعت اور فرمانبردار ی کے لحاظ سے اسے دین کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے ۔ سلم والْإِسْلَامُ : الدّخول في السّلم، وهو أن يسلم کلّ واحد منهما أن يناله من ألم صاحبه، ومصدر أسلمت الشیء إلى فلان : إذا أخرجته إليه، ومنه : السَّلَمُ في البیع . والْإِسْلَامُ في الشّرع علی ضربین : أحدهما : دون الإيمان، وهو الاعتراف باللسان، وبه يحقن الدّم، حصل معه الاعتقاد أو لم يحصل، وإيّاه قصد بقوله : قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] . والثاني : فوق الإيمان، وهو أن يكون مع الاعتراف اعتقاد بالقلب، ووفاء بالفعل، واستسلام لله في جمیع ما قضی وقدّر، كما ذکر عن إبراهيم عليه السلام في قوله : إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] ، ( س ل م ) السلم والسلامۃ الاسلام اس کے اصل معنی سلم ) صلح) میں داخل ہونے کے ہیں اور صلح کے معنی یہ ہیں کہ فریقین باہم ایک دوسرے کی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بےخوف ہوجائیں ۔ اور یہ اسلمت الشئی الی ٰفلان ( باب افعال) کا مصدر ہے اور اسی سے بیع سلم ہے ۔ شرعا اسلام کی دوقسمیں ہیں کوئی انسان محض زبان سے اسلام کا اقرار کرے دل سے معتقد ہو یا نہ ہو اس سے انسان کا جان ومال اور عزت محفوظ ہوجاتی ہے مگر اس کا درجہ ایمان سے کم ہے اور آیت : ۔ قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہدو کہ تم ایمان نہیں لائے ( بلکہ یوں ) کہو اسلام لائے ہیں ۔ میں اسلمنا سے یہی معنی مراد ہیں ۔ دوسرا درجہ اسلام کا وہ ہے جو ایمان سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ زبان کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ولی اعتقاد بھی ہو اور عملا اس کے تقاضوں کو پورا کرے ۔ مزید پر آں کو ہر طرح سے قضا وقدر الہیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کردے ۔ جیسا کہ آیت : ۔ إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا ۔ کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سرا طاعت خم کرتا ہوں ۔ الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل ف ) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا ضدین ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں کا باہم کسی بات میں اختلاف کرنا عموما نزاع کا سبب بنتا ہے ۔ اس لئے استعارۃ اختلاف کا لفظ نزاع اور جدال کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] پھر کتنے فرقے پھٹ گئے ۔ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ بغي البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، والبَغْيُ علی ضربین : - أحدهما محمود، وهو تجاوز العدل إلى الإحسان، والفرض إلى التطوع . - والثاني مذموم، وهو تجاوز الحق إلى الباطل، أو تجاوزه إلى الشّبه، تعالی: إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ [ الشوری/ 42] ( ب غ ی ) البغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں درمیانہ روی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا کے ہیں ۔ بغی دو قسم پر ہے ۔ ( ١) محمود یعنی حد عدل و انصاف سے تجاوز کرکے مرتبہ احسان حاصل کرنا اور فرض سے تجاوز کرکے تطوع بجا لانا ۔ ( 2 ) مذموم ۔ یعنی حق سے تجاوز کرکے باطل یا شہاے ت میں واقع ہونا چونکہ بغی محمود بھی ہوتی ہے اور مذموم بھی اس لئے آیت کریمہ : ۔ { السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ } ( سورة الشوری 42) الزام تو ان لوگوں پر ہے ۔ جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ سرع السُّرْعَةُ : ضدّ البطء، ويستعمل في الأجسام، والأفعال، يقال : سَرُعَ ، فهو سَرِيعٌ ، وأَسْرَعَ فهو مُسْرِعٌ ، وأَسْرَعُوا : صارت إبلهم سِرَاعاً ، نحو : أبلدوا، وسَارَعُوا، وتَسَارَعُوا . قال تعالی: وَسارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ [ آل عمران/ 133] ، وَيُسارِعُونَ فِي الْخَيْراتِ [ آل عمران/ 114] ، يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] ( س ر ع ) السرعۃ اس کے معنی جلدی کرنے کے ہیں اور یہ بطا ( ورنگ گردن ) کی ضد ہے ۔ اجسام اور افعال دونوں کے ( ان کے اونٹ تیز رفتاری سے چلے گئے ) آتے ہں ۔ جیسا کہ اس کے بالمقابل ایلد وا کے معنی سست ہونا آتے ہیں ۔ سارعوا وتسارعو ایک دوسرے سے سبقت کرنا چناچہ قرآن میں ہے : وَسارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ [ آل عمران/ 133] اور اپنے پروردگار کی بخشش ( اور بہشت کی ) طرف لپکو ۔ وَيُسارِعُونَ فِي الْخَيْراتِ [ آل عمران/ 114] اور نیکیوں پر لپکتے ہیں ۔ يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] اس روز زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور جھٹ جھٹ نکل کھڑے ہوں گے ۔ حسب الحساب : استعمال العدد، يقال : حَسَبْتُ «5» أَحْسُبُ حِسَاباً وحُسْبَاناً ، قال تعالی: لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] ، وقال تعالی: وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] ، وقیل : لا يعلم حسبانه إلا الله، ( ح س ب ) الحساب کے معنی گنتے اور شمار کرنے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ حسبت ( ض ) قرآن میں ہے : ۔ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] اور برسوں کا شمار اور حساب جان لو ۔ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] اور اسی نے رات کو ( موجب ) آرام ( ٹھہرایا ) اور سورج اور چانا ۔ کو ( ذرائع ) شمار بنایا ہے ۔ اور اسی نے رات کو ( موجب ) آرام ( ٹھہرایا ) اور سورج اور چانا ۔ کو ( ذرائع ) شمار بنایا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٩) بیشک اللہ کا پسندیدہ دین اسلام ہے اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ اس مقام پر تقدیم وتاخیر ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے اور اس حقیقت کی اللہ تعالیٰ اور تمام فرشتوں اور انبیاء کرام اور مومنین نے گواہی دی ہے یہ آیت شام کے دو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا تھا کہ کون سی گواہی کتاب اللہ میں سب سے بڑی ہے چناچہ آپ نے یہ آیت بیان کی اور وہ مشرف بااسلام ہوگئے، یہود ونصاری نے اسلام اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں باوجود اس کے کہ ان کی کتابوں میں اس چیز کے متعلق دلیل پہنچ چکی تھی جو اختلاف کیا ہے اس کا مقصد محض حسد ہے اور جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن کریم کا انکار کرے تو اللہ تعالیٰ اسے بدبختوں کو سخت عذاب دینے والے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٩ (اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلاَمُ قف) اللہ کا پسندیدہ اور اللہ کے ہاں منظور شدہ دین ایک ہی ہے اور وہ اسلام ہے۔ سورة البقرۃ اور سورة آل عمران کی نسبت زوجیت کے حوالے سے یہ بات سمجھ لیجیے کہ سورة البقرۃ میں ایمان پر زیادہ زور ہے اور سورة آل عمران میں اسلام پر۔ سورة البقرۃ کے آغاز میں بھی ایمانیات کا تذکرہ ہے ‘ درمیان میں آیت البر میں بھی ایمانیات کا بیان ہے اور آخری آیات میں بھی ایمانیات کا ذکر ہے : (اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ط) جبکہ اس سورة مبارکہ میں اسلام کو emphasize کیا گیا ہے۔ یہاں فرمایا : (اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلاَمُ قف) آگے جا کر آیت آئے گی : (وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ ج) اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی اور دین کو قبول کرے گا وہ اس کی جانب سے اللہ کے ہاں منظور نہیں کیا جائے گا۔ (وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ الاَّ مِنْم بَعْدِ مَا جَآءَ ‘ ہُمُ الْعِلْمُ بَغْیًام بَیْنَہُمْ ط) ۔ یہ گویا سورة البقرۃ کی آیت ٢١٣ (آیت الاختلاف) کا خلاصہ ہے۔ دین اسلام تو حضرت آدم (علیہ السلام) سے چلا آ رہا ہے۔ جن لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ‘ پگڈنڈیاں نکالیں اور غلط راستوں پر مڑ گئے ‘ اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آچکا تھا ‘ ان کا اصلی روگ وہی ضدم ضدا کی روش اور غالب آنے کی امنگ (The urge to dominate) تھی۔ (وَمَنْ یَّکْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ) اللہ تعالیٰ کو حساب لیتے دیر نہیں لگے گی ‘ وہ بڑی تیزی کے ساتھ حساب لے لے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

16. In the sight of God there is only one system of life and way of conduct which is both in accord with reality and morally right. This consists of man's acknowledging God as his Lord and the sole object of his worship and devotion; of surrendering himself unreservedly to God in obedience and service. In doing so he should follow in toto the guidance communicated by God through His Messengers rather than try to devise ways of serving God according to his own lights. This mode of thought and action is known as Islam, and it is only reasonable that the Lord and Creator of the universe should accept nothing less from His creatures and servants. In his folly man thinks that he has the right to believe in and follow every doctrine that comes his way whether it be atheism or idolatry. In the sight of the Sovereign of the universe, however, all such attitudes amount to nothing short of rebellion against God. 17. This shows that the religion of every Messenger of God, in every age and clime, was none other than Islam (submission to God) . Likewise, every Divine book, in whichever language it was revealed, and to whichever people it was addressed, contained the teachings of Islam. The various religions which have spread among mankind are distortions of this true, original religion, and are the result of tampering. Coveting privileges over and above those to which they were entitled, people altered the beliefs, principles and injunctions of the true religion in a manner conducive to their own interests.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :16 یعنی اللہ کے نزدیک انسان کے لیے صرف ایک ہی نظام زندگی اور ایک ہی طریقہ حیات صحیح و درست ہے ، اور وہ یہ ہے کہ انسان اللہ کو اپنا مالک و معبود تسلیم کرے اور اس کی بندگی و غلامی میں اپنے آپ کو بالکل سپرد کردے اور اس کی بندگی بجا لانے کا طریقہ خود نہ ایجاد کرے ، بلکہ اس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سے جو ہدایت بھیجی ہے ، ہر کمی و بیشی کے بغیر صرف اسی کی پیروی کرے ۔ اسی طرز فکر و عمل کا نام”اسلام“ ہے اور یہ بات سراسر بجا ہے کہ کائنات کا خالق و مالک اپنی مخلوق اور رعیت کے لیے اس اسلام کے سوا کسی دوسرے طرز عمل کو جائز تسلیم نہ کرے ۔ آدمی اپنی حماقت سے اپنے آپ کو دہریت سے لے کر شرک و بت پرستی تک ہر نظریے اور ہر مسلک کی پیروی کا جائز حق دار سمجھ سکتا ہے ، مگر فرماں روائے کائنات کی نگاہ میں تو یہ نری بغاوت ہے ۔ سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :17 مطلب یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو پیغمبر بھی دنیا کے کسی گوشے اور کسی زمانہ میں آیا ہے ، اس کا دین اسلام ہی تھا اور جو کتاب بھی دنیا کی کسی زبان اور کسی قوم میں نازل ہوئی ہے ، اس نے اسلام ہی کی تعلیم دی ہے ۔ اس اصل دین کو مسخ کر کے اور اس میں کمی بیشی کر کے جو بہت سے مذاہب نوع انسانی میں رائج کیے گئے ، ان کی پیدائش کا سبب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ لوگوں نے اپنی جائز حد سے بڑھ کر حقوق ، فائدے اور امتیازات حاصل کرنے چاہے اور اپنی خواہشات کے مطابق اصل دین کے عقائد ، اصول اور احکام میں رد و بدل کر ڈالا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:19) وما اختلف۔ میں ما نافیہ ہے اور ماجاء ہم میں ما بیانیہ ہے۔ بغیا بینھم۔ بوجہ باہمی حسد و مخالفت کے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 دین اسلام کا نام ہے یعنی محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بتائے ہو ہوئے طریقہ کے مطابق اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کی عبادت کرنے اور اسی کے احکام کے مطابق اپنی پوری زندگی گزارنے کا۔ اس آیت میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جس دین کا اعتبار ہے وہ صرف یہی اسلام ہے۔ نیز جو شخص آنحضرت صلی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا قائل نہیں ہے اور نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اپنا عمل اور عقیدہ ہی درست کرتا ہے اس کا دین اللہ تعالیٰ کے ہاں معتبر نہیں ہے خواہ وہ توحید کا قائل ہو اور دوسرے ایمانیات کا قرار کرتا ہو۔ (م۔ ع) اسلام۔ ایمان اور دین اپنی حقیقت کے اعتبار سے تینوں ایک ہیں۔ (قرطبی)5 یعنی اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیا بھیجے ان سب کا دین یہی اسلام تھا۔ اہل کتاب نے اس حقیت کو جان لینے کے بعد کے اسلام دین حق ہے، محض وعناد کی بنا پر اسلام سے انحراف کیا ہے۔ آج بھی ان کے لیے صحیح روش یہی ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لیے آئیں اور دین اسلام کو اختیار کرلیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 22 حاجوک (وہ تجھ سے جھگڑتے ہیں (حاجون، ک) اسلمت (میں نے جھکادیا) وجھی (اپنا چہرہ) اتبعن (میری اتباع کی (اتبع، ن، ی) امیین (ان پڑھ، جاہل (امی، ان پڑھ) البلغ (پہنچادینا) عباد (بندے (عبد، بندہ) القسط (انصاف) حبطت (ضائع ہوگئے) ۔ تشریح : آیت نمبر 19 تا 22 سورة آل عمران کی آیت 19 سے 22 تک میں اللہ تعالیٰ نے بالکل واضح طریقے سے بتادیا ہے کہ اسلام کسی قوم ، ذات یا برادری کا نام نہیں اور جو دین نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے کر تشریف لائے وہ کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے جو آج ہی کہی جارہی ہو بلکہ اللہ کے تمام رسول اور انبیاء کرام (علیہ السلام) مختلف زمانوں میں الگ الگ دین لے کر نہیں آئے سب نے اپنے وقت میں ایک ہی دین کی طرف انسانوں کو بلایا اور اسی کی تبلیغ کی وہ سب کے سب سچائی کے علم بردار تھے وہ حق کی طرف بلاتے تھے اور نیکیوں پر چلنے کی تلقین کرتے تھے یہ وہ سچائی ہے جو کبھی بدلی ہے نہ بدل سکتی ہے اس لیے اللہ کے نزدیک صرف دین اسلام ہی دین ہے۔ اس کے سوا جو کوئی بھی اپنے لیے نیا طریقہ اختیار کرے گا تو وہ اللہ کے ہاں قبول نہ کیا جائے گا۔ دین میں اختلاف انبیاء کرام نے نہیں بلکہ بعض ان لوگوں نے کیا ہے جو حرص وہوس کے بندے اور بغض وعناد کے پیکر تھے جن کا کام اپنے مفاد کے لئے دین میں اختلاف پیدا کرنا ہی تھا۔ فرمایا گیا کہ اللہ نے جس دین کو انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعہ انسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے۔ آج نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اسی دین کو لے کر تشریف لائے ہیں۔ البتہ آپ کی ذات پر اس دین کو مکمل کردیا گیا ہے جسے تمام انبیاء (علیہ السلام) لے کر اس دنیا میں تشریف لاتے رہے۔ لہٰذا جو کوئی بھی حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقوں کے خلاف طریقے اور دین کے خلاف کوئی نئی بات گھڑ کر لائے گا تو وہ اللہ کے ہاں قبول نہ کیا جائے گا۔ اب یہی دین قیامت تک انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے مینارہ نور رہے گا۔ اب نہ تو کوئی نیا دین آئے گا نہ اور نہ کوئی کسی طرح کا نبی آئے گا بلکہ نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طریقہ ہی پسندیدہ طریقۂ زندگی ہے جو قیامت تک قائم ودائم رہے گا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی اسلام کے حق ہونے میں کوئی وجہ شبہ کی نہیں بلکہ علمائے یہود میں مادہ دوسروں سے بڑا بننے کا ہے، اور اسلام لانے میں یہ سرداری جو ان کو اب عوام پر حاصل ہے فوت ہوتی تھی اس لئے اسلام کو قبول نہیں کیا بلکہ الٹا اس کو باطل بتلانے لگے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : توحید اور اسلام دونوں مترادف ہیں۔ توحید اور اسلام کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کردے۔ کائنات کا پورا نظام مالک واحد کی ذات اور اس کے حکم کے تابع اور عدل وقسط کے اصول پر چل رہا ہے۔ یہی توحید کی روح اور اس کا تقاضا ہے کہ بنی نوع انسان کے انفرادی اور اجتماعی معاملات بھی تقاضائے توحید کے مطابق چلنے چاہییں۔ توحید ہی اسلام کی بنیاد ہے اور یہی ایسا دین ہے جو اللہ کے نزدیک پسندیدہ، معتبر اور مقبول ہے۔ جس کے بنیادی ارکان اور اصول ہمیشہ سے ایک رہے اور تمام انبیاء کرام اسی اسلام کی دعوت دیتے رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو ایک جماعت قرار دیتے ہوئے فرمایا : (اِنَّ ھٰذِہٖ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ ) [ الانبیاء : ٩٢] ” یقینًا تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو۔ “ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر جناب خاتم الانبیاء تک انبیاء کی دعوت میں کبھی اختلاف نہیں رہا اور نہ ہی ہوسکتا ہے۔ ہر نبی اپنے اپنے وقت میں لوگوں کے پاس دین اسلام لایا۔ لوگوں نے حقیقت معلوم ہوجانے کے باوجود اس دین کو ماننے سے انکار کیا اور انبیاء کرام کے جانے کے بعد دین کے ماننے والوں نے دین کے حصّے بخرے کردیے۔ یہودی 71 فرقوں میں تبدیل ہوئے عیسائیوں نے 72 گروہ بنا لیے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے میری امت 73 فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ سوائے ایک کے باقی سب کے سب جہنمی ہوں گے۔[ رواہ الترمذی : کتاب الإیمان، باب ماجاء فی افتراق ہذہ الأمۃ ] حضرت محمد کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دین اسلام کے ساتھ یہود و نصارٰی اور کفار و مشرکین کے اختلاف کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہیں دین سمجھنے میں کوئی غلط فہمی یا دقّت پیش آئی۔ قرآن مجید دوٹوک انداز میں اختلافات کا سبب بیان کرتا ہے کہ دین اسلام کا انکار کرنے والوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا۔ حالانکہ وہ آپ کی ذات اور دین کو اچھی طرح پہچانتے تھے۔ مگر ذاتی برتری، معاشرتی رجحانات، جماعتی تعصبات اور مالی مفادات کی بنیاد پر انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا کیونکہ دین اللہ تعالیٰ نے ہی نازل فرمایا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ ہی ان سے حساب چکائیں گے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر حقیقت عیاں ہوجانے کے باوجود یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں تو تم ان سے کہہ دو ، مانو یا نہ مانو میں نے تو اپنے چہرے کو اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان کرلیا ہے۔ اس سے مراد کلی تابعداری ہے کیونکہ چہرہ ہی انسان کے جذبات اور اس کے رجحانات کا ترجمان ہوتا ہے۔ ہر زبان میں چہرے کی سپردگی کو پورے وجود کی سپرد داری سمجھا جاتا ہے لہٰذا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہوتا ہے کہ آپ اختلافات، حالات اور ان کے تعصبات سے بےپروا ہو کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی غلامی اور دین کی سر بلندی کے لیے وقف کردیں۔ تمہارے پیروکاروں کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی اہل کتاب ‘ کفار ‘ اَن پڑھ اور پڑھے لکھے لوگوں سے یہ پوچھیے کہ کیا تم بھی اپنے آپ کو زمین و آسمان کے خالق ومالک کے تابع فرمان کرنے کے لیے تیار ہو ؟ اگر تم ایسا کرو گے تو ہدایت پاجاؤ گے کیونکہ ہدایت کا دارو مدار اور معیار صرف اسلام ہے۔ اگر یہ لوگ انکار کریں تو تمہارا کام سمجھانا ہے منوانا نہیں، پہنچانا ہے جھگڑنا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نیکو کاروں اور نافرمانوں کو خوب دیکھ رہا ہے۔ اس سے ان لوگوں کی خود بخود نفی ہوجاتی ہے جو اسلامی طریقہ سے ہٹ کر دوسرے کاموں میں نیکی اور خیر سمجھتے ہیں۔ حضرت جعفر (رض) کا نجاشی کے سامنے اسلامی تعلیمات کے بارے میں خطاب : مکہ کے مہاجر مسلمانوں کے ترجمان حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) نے کہا ” اے بادشاہ ! ہم ایسی قوم تھے جو جاہلیت میں مبتلا تھی۔ ہم بت پوجتے تھے مردار کھاتے تھے ‘ بدکاریاں کرتے تھے ‘ قرابتداروں سے تعلق توڑتے تھے ‘ ہمسایوں سے بدسلوکی کرتے تھے اور ہم میں سے طاقتور کمزور کو کھا رہا تھا ہم اسی حالت میں تھے کہ اللہ نے ہم میں سے ایک رسول بھیجا۔ اس کی عالی نسبی ‘ سچائی ‘ امانت داری ‘ پاکدامنی ہمیں پہلے سے معلوم تھی۔ اس نے ہمیں اللہ کی طرف بلایا اور سمجھایا کہ ہم صرف ایک اللہ کو مانیں اور اسی کی عبادت کریں اور اس کے سوا جن پتھروں اور بتوں کو ہم پوجتے تھے انہیں چھوڑ دیں۔ اس نے ہمیں سچ بولنے ‘ امانت ادا کرنے ‘ قرابت جوڑنے ‘ پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے اور حرام کاری و خونریزی سے باز رہنے کا حکم دیا۔ اور فواحش میں ملوث ہونے ‘ جھوٹ بولنے ‘ یتیم کا مال کھانے اور پاکدامن عورتوں پر جھوٹی تہمت لگانے سے منع کیا۔ اس نے ہمیں یہ بھی حکم دیا کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اس نے ہمیں نماز ‘ روزہ اور زکوٰۃ کا حکم دیا۔ “ اسی طرح حضرت جعفر (رض) نے اسلام کے کام گنوانے کے بعد فرمایا : ” ہم نے اس پیغمبر کو سچا مانا ‘ اس پر ایمان لائے اور اس کے لائے ہوئے دین میں اس کی پیروی کی چناچہ ہم نے صرف اللہ کی عبادت کی ‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا اور جن باتوں کو اس پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام بتایا انہیں حرام مانا ‘ اور جن کو حلال بتایا انہیں حلال جانا اس پر ہماری قوم ہم سے بگڑ گئی اس نے ہم پر ظلم و ستم کیا اور ہمیں ہمارے دین سے پھیرنے کے لیے فتنے اور سزاؤں سے دو چار کیا۔ تاکہ ہم اللہ کی عبادت چھوڑ کر بت پرستی کی طرف پلٹ جائیں اور جن گندی چیزوں کو حرام سمجھتے تھے انہیں پھر حلال سمجھنے لگیں۔ جب انہوں نے ہم پر بہت ظلم و جبر کیا ‘ ہمارے لیے زمین تنگ کردی۔ ہمارے اور ہمارے دین کے درمیان رکاوٹ بن کر کھڑے ہوگئے تو ہم نے آپ کے ملک کی راہ لی اور دوسروں پر آپ کو ترجیح دیتے ہوئے آپ کی پناہ میں رہنا پسند کیا اور یہ امید کی کہ اے بادشاہ ! آپ کی طرف سے ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ “ [ سیرت ابن ہشام ] مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی مقبول ہے۔ ٢۔ اہل کتاب محض تعصب کی بنیاد پر اسلام کی مخالفت کرتے ہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔ ٤۔ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کرنے والا ہدایت پائے گا۔ ٥۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام تبلیغ کرنا ہے۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔ تفسیر بالقرآن تابعداری کا حکم : ١۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مطیع ہونے کا حکم۔ (الانعام : ١٤) ٢۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو مطیع ہونے کا حکم۔ (البقرۃ : ١٣١) ٣۔ اولاد ابراہیم (علیہ السلام) کو تابعدار ہونے کا حکم۔ (البقرۃ : ١٣٢، ١٣٣) ٤۔ سب کو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے کا حکم۔ (الحج : ٣٤) ٥۔ اسلام میں ہی پوری کی پوری ہدایت مضمر ہے۔ (آل عمران : ٢٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب اس حقیقت پر جسے اس ایک آیت میں دو بار دہرایا گیا ‘ اس کا فطری نتیجہ مرتب کیا جاتا ہے وہ یہ کہ خدائی ایک ہے تو پھر بندگی اور انقیاد بھی صرف اسی خدائی کے لئے ہے ۔ غرض تصور یہ ہے کہ ایک الٰہ ہے ۔ اس لئے ایک ہی نظام ہے ‘ پھر اس الٰہ کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہے۔ نہ ان کے تصور میں اس کے سوا کوئی تصور ہو ‘ نہ ان کی زندگی کا کوئی گوشہ اس نظام سے آزاد ہو……………جب اللہ ایک ہے تو پھر بندگی اور انقیاد بھی اسی کے لئے ہے ۔ اور یہی اللہ اس بات کا حقدار بھی ہے کہ لوگ اس کے مطیع فرمان ہوں ‘ ان کے قانونی نظام میں شریعت نافذ ہو اور ان کی اقدار حیات اور حسن وقبح کے پیمانوں میں یہ شریعت معیار ہو ۔ اور ان کی پوری عملی زندگی اس شریعت پر قائم ہو۔ اگر ایک اللہ ہے تو پھر تصورحیات بھی ایک ہی ہوگا۔ اور یہ تصور ونظریہ وہی ہوگا جسے اس الٰہ نے اپنے بندوں کے لئے پسند کیا ہے۔ یعنی خالص عقیدہ توحید کا چمکتا ہوا اور صاف ستھرا۔ جس طرح ہم مکرر کہہ آئے ہیں کہ عقیدہ توحید کا پہلا تقاضا یہ ہے ۔إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الإسْلامُ……………اللہ کے نزدیک نظام زندگی صرف دین اسلام ہے ۔ اور اسلام صرف دعویٰ ہی نہیں ہے ۔ وہ صرف جھنڈے کا نام بھی نہیں ہے ۔ وہ صرف نعرے کا نام بھی نہیں ہے ‘ وہ صرف ایک تصور اور خام خیال کا نام بھی نہیں ہے جہاں پر دل مطمئن ہو ‘ اور وہ صرف انفرادی عبادات کا نام ہے جنہیں ایک بطور فرد ادا کرتا ہے۔ مثلاً نماز ‘ حج اور روزے ‘ ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ صرف یہ امور وہ اسلام نہیں ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اس کے سوا کوئی دین قبول نہیں کرتا ۔ بلکہ اسلام تو مکمل انقیاد کا نام ہے ۔ اسلام مکمل عبادت کا نام ہے۔ وہ مکمل اتباع ہے ۔ اسلام یہ ہے کہ عدالتوں میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے ہورہے ہوں ‘ جس کی تفصیلات عنقریب آرہی ہیں ۔ اسلام یہ ہے کہ اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھاجائے ۔ یہ عقیدہ پختہ ہو کہ اس کائنات کو وہی تھامنے والا ہے ۔ جبکہ اہل کتاب ذات باری اور ذات مسیح میں خلط ۔ کرتے تھے ۔ بلکہ وہ اللہ کے ارادے اور مسیح کے ارادے کو بھی خلط کرتے تھے ۔ اور اس موضوع پر خود ان کے درمیان کئی فرقے تھے اور ہر فرقے کا اپنا عقیدہ تھا ۔ اور ان کے یہ اختلافات بعض اوقات اس قدر شدید ہوجاتے تھے کہ وہ قتل و غارت پر منتج ہوتے تھے ۔ اس لئے یہاں اللہ تعالیٰ اہل کتاب اور جماعت مسلمہ کو بتاتے ہیں کہ ان اختلافات اور فکری ژولیدگی کا اصل سبب کیا تھا۔ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ” اور اس دین سے ہٹ کر جو مختلف طریقے ان لوگوں نے اختیار کئے جنہیں کتاب دی گئی تھی ‘ ان کے اس طرز عمل کی کوئی وجہ اس کے سوا نہ تھی کہ انہوں نے علم آجانے کے بعد ‘ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کے لئے ایسا کیا۔ “ یہ اختلافات اس لئے نہ تھے کہ انہیں حقیقت واقعہ کا پتہ نہ تھا ‘ کیونکہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بارے میں فیصلہ کن معلومات آگئی تھیں کہ اللہ صرف ایک ہے ‘ انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ صرف بندہ ہے ‘ معبود نہیں ہے ۔ یہ جو انہوں نے شدید اختلافات پیدا کئے یہ محض ایک دوسرے پر زیادتی کی خاطر کئے ۔ ایک دوسرے پر ظلم اور دست درازی کے لئے جواز پیدا کیا گیا ۔ ان کے لئے اللہ کے نظام عدل و انصاف میں کوئی جواز نہ تھا ‘ اسلامی نظریہ حیات اور سماوی شریعت یا سماوی کتب میں ایسے اختلافات کے لئے کوئی جواز نہ تھا۔ اس سے قبل ہم مسیحی مورخ کا حوالہ دے چکے ہیں جس میں ہم نے بتایا کہ عیسائیوں کے ہاں سیاسی تحریکات کس طرح جان بوجھ کر مذہبی اختلافات پیدا کرتی تھیں اور یہودی اور عیسائی افکار کے درمیان اختلافات بھی اسی قبیل کے تھے ۔ ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ مصر اور شام کے درمیان یہ مذہبی منافرت کس قدر پھیلی ہوتی تھی ۔ شام میں چونکہ رومی سلطنت کی حکمرانی تھی ۔ اس لئے مصریوں نے اس سیاسی نفرت کی وجہ سے رومی کیتھولک مکتب کو چھوڑ کر دوسرا مکتب فکر اپنایا ۔ یا جس طرح روم کے قیصروں میں سے بعض نے یہ کوشش کی یہ تمام عیسائی مکاتب فکر ایک متوسط مکتبہ فکر پر متفق ہوجائیں ‘ تاکہ ان کے زیر انقلاب رعایا کے درمیان فکری اتحاد پیدا ہوجائے ‘ ان کا خیال تھا ایسے مذہب سے سب کے مقاصد پورے ہوجائیں گے ۔ گویا عقیدہ ایک کھیل تھا اور اسے بڑی آسانی سے سیاسی اور ملکی مقاصد کے لئے بدلا جاسکتا تھا ۔ حالانکہ درحقیقت یہ ایک عظیم ظلم تھا ۔ اور یہ ظلم اور تعدی وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسی حرکت پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سخت سرزنش ہوتی ہے اور ٹھیک مناسب وقت پر وَمَنْ يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ……………” اور جو کوئی اللہ کی ہدایات اور احکام کی اطاعت سے انکار کردے ‘ اللہ کو اس سے حساب لینے میں دیر نہیں لگتی ۔ “ یہاں اللہ تعالیٰ نے عقیدہ توحید میں اختلاف کرنے کو کفر سے تعبیر فرمایا ‘ اور اہل کفر کو تنبیہ کی اور خوف دلایا کہ میں بہت جلد حساب لینے والا ہوں ۔ اس لئے اگر زیادہ مہلت دوں تو یہ لوگ اختلافات اور کفر والحاد میں مزید سرگرداں رہیں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتے ہیں کہ آپ ان لوگوں سے فیصلہ کن بات کردیں ۔ یعنی اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سب سے تاکہ ان کے ساتھ بات چیت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوجائے ۔ اور اس کے بعد اسے ختم کردیاجائے ‘ اور آپ اپنے واضح راستے پر اکیلے گامزن ہوجائیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ کے نزدیک صرف دین اسلام معتبر ہے : اس کے بعد فرمایا (اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ ) اس میں اعلان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی معتبر ہے۔ وہی ذریعہ نجات ہے اگر کسی نے اللہ کو مانا لیکن اللہ کے دین کو نہ مانا جو اس کے نزدیک معتبر ہے تو وہ گمراہ ہے آخرت میں اس کی نجات نہ ہوگی اسی سورت کے رکوع ٩ میں فرمایا (وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ ) (اور جو شخص اسلام کے علاوہ کسی دین کو تلاش کرے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا) اسلام کا لغوی معنی فرمانبر دار ہونے کا ہے جو دین اللہ پاک نے اپنے بندوں کے لیے تجویز فرمایا اس کا نام اسلام رکھا ہے۔ کیونکہ وہ سراپا فرمانبر داری ہی ہے ہر شخص اپنے خالق ومالک کے سامنے ظاہر سے اور باطن سے جسم سے اور جان سے جھک جائے اور ہر حکم کو مانے اور تعمیل ارشاد کرتا رہے۔ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) دین اسلام کے داعی تھے۔ ہر نبی کا دین اسلام تھا جو ان پر ایمان لایا وہ مسلم تھا اور جس نے ان کی دعوت کو نہ مانا وہ غیر مسلم تھا کافر تھا حضرت نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دین بھی اسلام ہے انہوں نے اسی کی دعوت دی اور اس کی دعوت قیامت تک ہے جو شخص اس دین کو مانے گا مسلم ہوگا۔ اللہ کا فرمانبر دار ہوگا۔ اور جو اسے نہ مانے گا وہ کافر ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

27:۔ یہ ماقبل ہی کی تاکید وتائید ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کے یہاں پسندیدہ دین صرف اسلام ہی ہے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کا دین بھی اسلام ہی تھا اور کتب سابقہ میں بھی یہی دین پیش کیا گیا۔ ہر قسم کی عبادت اور اطاعت کو خالصاً اللہ کے لیے کرنے اور صرف اللہ ہی کو عبادت وطاعت کا مستحق سمجھنے کا نام اسلام ہے۔ قال ابن الانباری المسلم معانہ المخلص للہ عبادتہ فالاسلام معناہ اخلاص الدین والعقیدۃ للہ تعالیٰ (کبیر ج 2 ص 628) سورة انعام رکوع 20 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ قلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِیْن۔ لَاشَرِیْکَ لَهٗ وَبِذَالِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْن۔ 28 اَلَّذِیْنَ اُوْتُوْالْکِتَابَ سے یہود ونصاریٰ کے علماء مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو کتب سابقہ میں دین اسلام اور مسئلہ توحید کو کھول کر بیان کردیا تھا چناچہ علماء اہل کتاب بھی اس حقیقت کو بخوبی جانتے ہیں۔ باقی توحید کے بارے میں ان کے درمیان جو اختلاف پایا جاتا ہے یا تورات وانجیل میں توحید کے خلاف جو مواد ملتا ہے۔ یہ علماء یہود ونصاریٰ کی ضد اور بغض وحسد کا نتیجہ ہے اور تورات وانجیل میں تحریف بھی انہی کے ہاتھوں کی کارروائی ہے۔ یہاں تک دلیل عقل ونقل اور دلیل وحی سے ثابت کیا گیا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں۔ اور یہ بات کتب سابقہ میں اللہ کی شہادت سے اور فرشتوں، انبیاء سابقین اور علماء ربانیین کی شہادت سے بھی ثابت ہوچکی ہے اس کے بعد اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامِ سے مضمون بالا کی تاکید اور تائید فرمائی کہ اللہ کی خالص عبادت اور اس کی خالص پکار والا دین ہی اللہ کے یہاں پسندیدہ ہے اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے اس مسئلہ توحید میں اختلاف کیا۔ مسئلہ توحید میں اختلاف کرنیوالوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ اول یہ کہ اس اجماعی اور اتفاقی مسئلہ میں اختلاف کرنے والے صرف اہل کتاب کے علماء ہی ہیں۔ سب سے پہلے اختلاف ان علماء ہی نے کیا ہے۔ اس کے بعد ان کے پیروکار ان کے پیچھے لگ گئے۔ چناچہ سورة بقرہ رکوع 26 میں اختلاف کو اَلَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْکِتَاب (یعنی اہل کتاب کے علماء) میں منحصر فرمایا ہے۔ چناچہ ارشاد ہے . وَاَنْزَلَ مَعَھُمُ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمُ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ وَمَا ختَلَفَ فِیهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ الآیۃ۔ دوم یہ کہ مسئلہ توحید میں انکا اختلاف جہالت ونادانی یا کسی غلط فہمی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ وہ مسئلہ توحید کی حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں اور نہیں اس کا پورا پورا علم ہے اس لیے انہوں نے یہ اختلاف جاننے اور سمجھنے کے بعد کیا ہے جیسا کہ آیت زیر تفسیر میں ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اختلاف کو اس وقت سے مخصوص کیا ہے۔ جب کہ اللہ کے پیغمبروں اور اس کی کتابوں کے ذڑیعے توحید کا صحیح علم ان کے پاس آچکا تھا۔ سوم یہ کہ مسئلہ تحید میں ان کا اختلاف دیانت اور تحقیق پر مبنی نہ تھا بلکہ محض بغض وحسد اور ضد وعناد کی وجہ سے تھا۔ چناچہ سورة شوری (رکوع 2) میں ہے۔ وَمَا تَفَرَّقُوْا اِلَّا مِنْ بَعْدِ مَاجَاءَ ھُمُ الْعِلْمُ بَغْیاً بَیْنَھُمْ ۔ یہاں بَغْیاً ۔ تَفَرَّقُوْا کا مفعول لہ ہے اور تفرق واختلاف کی علت بیان کر رہا ہے اور آیت زیر تفسیر میں بھی بَغْیاً ، اِخْتَلَفَ کی علت بیان کر رہا ہے۔ مطلب یہ کہ اہل کتاب کا تفرق واختلاف محض بغض وحسد کی وجہ سے تھا نہ کہ کسی اور وجہ سے۔ وَمَنْ یَّکْفُرْ بِاٰیٰتِ اللہِ ۔ توحید کو مذکورہ بالا دلائل عقلیہ ونقلیہ سے واضح کردینے کے بعد اب کسی کا انکار مسموع نہیں ہوگا اور ان دلائل قطعیہ کے مقابلہ میں گمراہ مولویوں اور پیروں کے اقوال اور محرفین کی تحریفات حجت نہیں ہوں گی اور جو لوگ ان کی تقلید کرینگے وہ معذور نہیں ہوں گے جیسا کہ سورة شوری (رکوع 2) میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ اَلَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِیْ اللہِ مِنْ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَہٗ حُجَّتُھُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ ۔ اس لیے اب اللہ کی توحید اور اس کی آیات کا انکار کرنیوالوں کو حساب و کتاب کے انجام سے خبردار رہنا چاہیے۔ یہ تخویف اخروی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi