Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 192

سورة آل عمران

رَبَّنَاۤ اِنَّکَ مَنۡ تُدۡخِلِ النَّارَ فَقَدۡ اَخۡزَیۡتَہٗ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴿۱۹۲﴾

Our Lord, indeed whoever You admit to the Fire - You have disgraced him, and for the wrongdoers there are no helpers.

اے ہمارے پالنے والے !تو جسے جہنّم میں ڈالے یقیناً تو نے اسے رُسوا کیا ، اور ظالموں کا مددگار کوئی نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

رَبَّنَا إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ ... "Our Lord! Verily, whom You admit to the Fire, indeed, You have disgraced him; by humiliating and disgracing him before all people on the Day of Gathering. ... وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ "and never will the wrongdoers find any helpers." on the Day of Judgment, who would save them from You. Therefore, there is no escaping whatever fate You decided for them.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رَبَّنَآ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَيْتَہٗ۝ ٠ ۭ وَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ۝ ١٩٢ دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ خزی خَزِيَ الرّجل : لحقه انکسار، إمّا من نفسه، وإمّا من غيره . فالذي يلحقه من نفسه هو الحیاء المفرط، ومصدره الخَزَايَة ورجل خَزْيَان، وامرأة خَزْيَى وجمعه خَزَايَا . وفي الحدیث :«اللهمّ احشرنا غير خزایا ولا نادمین» والذي يلحقه من غيره يقال : هو ضرب من الاستخفاف، ومصدره الخِزْي، ورجل خز . قال تعالی: ذلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيا [ المائدة/ 33] ، ( خ ز ی ) خزی ( س ) الرجل رسوا ہونا ۔ خواہ وہ رسوائی انسان کو خود اس کی ذات سے لاحق ہو یا غیر کی طرف سے پھر رسوائی اپنی جانب سے لاحق ہوتی ہے اسے حیائے مفرط کہاجاتا ہے اور اس کا مصدر خزابۃ ہے ۔ اس سے صیغہ صفت مذکر خزبان اور مونث خزلی خزابا ۔ حدیث میں ہے (110) اللھم احشرنا غیر خزایا و الاناد میں اے خدا ہمیں اس حالت میں زندہ نہ کرنا ہم شرم اور ندامت محسوس کرنیوالے ہوں ۔ اور جو رسوائی دوسروں کی طرف سے لاحق ہوتی ہے وہ ذلت کی ایک قسم ہے ۔ اور اس کا مصدر خزی ہے ۔ اور رجل خزی کے معنی ذلیل آدمی کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا :۔ ذلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيا [ المائدة/ 33] دنیا میں انکی سوائی ہے ۔ کہ رسوائی اور برائی ہے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی یاد کا تقاضا ہے کہ انسان کی فکر کا نتیجہ مثبت ہو اور وہ اپنے رب کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اس کے عذاب سے پناہ اور اس کی عطاؤں کا طلب گار رہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ایسے فکر وعمل کا حامل مرد ہو یا عورت اللہ تعالیٰ کسی ایک کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔ حقیقی دانشمند لوگ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نشانات اور عجائبات دیکھنے کے بعد نہ صرف ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے احکامات کو یاد رکھتے ہیں بلکہ وہ برملا اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے خالق ومالک نے زمین و آسمان کی کسی چیز کو بھی بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنی تخلیق کے مقصد کو پورا کر رہی ہے۔ اس حقیقت کے اعتراف کے بعد انہیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ انسان بھی ایک عظیم مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ مقصد اللہ تعالیٰ کی غلامی میں رہتے ہوئے دنیا میں اس کی خلافت کا حق ادا کرنا ہے۔ اس مقصد کے حصول میں صادر ہونے والی کمزوریوں کا احساس کرتے ہوئے انسان پکار اٹھتا ہے۔ الٰہی ! ہم نے اس مقصد کو پانے میں کوتاہی کی۔ ہماری تیرے حضور عاجزانہ التجا ہے کہ تو اپنی ناراضگی اور جہنم کی آگ سے بچائے رکھ۔ کیونکہ جو جہنم کی آگ میں داخلہوا اس کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا اور وہ ذلیل و خوار ہوجائے گا۔ اس کے بعد مومنوں کی چھ دعاؤں کا ذکر اور ان کی قبولیت کا بیان ہوتا ہے۔ ہمیں ان دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اے ہمارے رب ! ہم نے تیری قدرتوں کے نشانات دیکھے ! ہم نے تیرے رسول کی دعوت کو قبول کیا۔ ہم تیری ذات پر ایمان لائے کہ تو ہی ہمارا خالق ‘ رازق اور مالک ہے۔ ہماری عاجزانہ درخواست ہے کہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما ‘ ہمیں گناہوں اور غلطیوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرما اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ فرما اور جو تو نے اپنے انبیاء کے ذریعے اپنے بندوں کے ساتھ وعدے فرمائے وہ سب کچھ ہمیں عطا فرما اور قیامت کے دن ذلت و رسوائی سے محفوظ رکھ۔ بیشک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ مومنوں کا کردار اور اخلاص دیکھ کر اللہ تعالیٰ اپنی شفقت و مہربانی سے جواب عنایت فرماتا ہے کہ ان کے رب نے ان کے اخلاص ‘ کردار اور دعاؤں کو قبول کرلیا ہے۔ اس کا اعلان ہے کہ مرد ہو یا عورت کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کرے گا۔ جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی یا انہیں ان کے گھروں سے جبراً نکال دیا گیا میرے راستے میں انہوں نے دکھ اٹھائے ‘ لڑے اور شہید ہوئے ان کے گناہوں کو ضرور معاف کیا جائے گا اور ان کے لیے باغات ہوں گے۔ جن میں نہریں جاری ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے اجر وثواب ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے پاس بہترین عطا اور جزا ہے۔ (عَنْ أَبِيْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِيِّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یَقُوْلُ لِأَھْلِ الْجَنَّۃِ یَاأَھْلَ الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُوْنَ لَبَّیْکَ رَبَّنَا وَسَعْدَیْکَ فَیَقُوْلُ ھَلْ رَضِیْتُمْ فَیَقُوْلُوْنَ وَمَالَنَا لَانَرْضٰی وَقَدْ أَعْطَیْتَنَا مَالَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ فَیَقُوْلُ أَنَا أُعْطِیْکُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ قَالُوْا یَارَبِّ وَأَیُّ شَیْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذٰلِکَ فَیَقُوْلُ أُحِلُّ عَلَیْکُمْ رِضْوَانِيْ فَلَا أَسْخَطُ عَلَیْکُمْ بَعْدَہٗ أَبَدًا ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار ] ” حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ جنتیوں کو فرمائے گا کہ اے جنتیو ! جنتی عرض کریں گے اے ہمارے رب ! ہم حاضر ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم راضی ہو ؟ جنتی کہیں گے ہم کیوں راضی نہ ہوں۔ کیونکہ آپ نے ہمیں وہ کچھ عطا کیا ہے جو آپ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی عطا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں تمہیں اس سے بھی افضل چیز دینا چاہتا ہوں۔ جنتی کہیں گے اے ہمارے رب ! اس سے افضل چیز کون سی ہوسکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں تم پر راضی ہوگیا ہوں اور اس کے بعد تم پر کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔ “ مسائل ١۔ جسے اللہ تعالیٰ نے آگ میں داخل کردیا وہ ذلیل ہوا اور اس کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ ٢۔ نیک اعمال کرنے والی عورت ہو یا مرد اللہ تعالیٰ کسی کا عمل ضائع نہیں کرے گا۔ ٣۔ اللہ کے راستے میں لڑنے ‘ مرنے ‘ تکلیف اٹھانے اور ہجرت کرنے والے کے گناہ معاف کر کے اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرے گا : ١۔ اللہ تعالیٰ کسی کی نماز ضائع نہیں کرے گا۔ (البقرۃ : ١٤٣) ٢۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (آل عمران : ١٧١) ٣۔ نیکو کار کا اجر ضائع نہیں ہوتا۔ (التوبۃ : ١٢٠) ٤۔ مصلح کا اجر ضائع نہیں ہوتا۔ (الاعراف : ١٧٠) ٥۔ نیک عمل کرنے والے کا عمل برباد نہیں ہوگا۔ (الکہف : ٣٠) ٦۔ کسی مرد وزن کی نیکی ضائع نہیں ہوگی۔ (آل عمران : ١٩٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ذرا آپ ان صاحبان عل و دانش کی ذہنی دنیا کا پہلا زلزلہ دیکھیں ۔ وہ اس میں اپنے رب کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجاتے ہیں تاکہ وہ انہیں آگ کے عذاب سے بچائیں ذرا غور فرمائیں رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ……………” تونے جسے دوزخ میں ڈالا اسے درحقیقت بڑی ذلت اور رسوائی میں ڈال دیا۔ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ……………” پھر ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ “ اس دعا سے اظہار ہوتا ہے کہ ان کا خوف آگ کے عذاب سے تھا ‘ اور اس سے بھی زیادہ ان کا خوف اس رسوائی سے تھا جو اہل دوزخ کو ہوا کرتی ہے ۔ ان کی ذہنی دنیا میں یہ ارتعاش اس شرمندگی اور رسوائی کی وجہ سے آیا جو اہل دوزخ کی ہوگی ۔ اس لئے یہ خوف انہیں محض اس سبب سے دامن گیر ہو کہ انہیں اللہ سے حیا لاحق ہوگئی ۔ اس طرح وہ آگ سے داغے جانے کے مقابلے میں اللہ سے حیاء کرنے میں زیادہ حساس ہیں ۔ اور یہ خوف اور کپکپی ان کے اس شعور کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ اللہ کے مقابلے میں کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا ‘ اس لئے کسی ظالم کا کوئی ناصر اور مددگار نہ ہوگا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَ مَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ) (اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہ ہوگا) سب سے بڑا ظلم کفر ہے۔ کما قال تعالیٰ (وَ الْکَافِرُوْنَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ ) میدان قیامت میں کافروں کا نہ کوئی دوست ہوگا نہ مددگار اور نہ سفارشی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

292 یہ اُولِیْ الْاَلْبَاب کی دوسری دعا ہے جس میں عذاب جہنم سے پناہ مانگنے کے لیے انتہائی تضرع وزاری کا اظہار ہے اور پہلی دعا کیلئے بمنزلہ علت ہے۔ یعنی اے ہمارے پروردگار تو جن مشرکوں اور نافرمانوں کو جہنم میں داخل کردے گا ان کا کوئی یار و مددگار نہیں ہوگا اور انہیں کوئی نہیں بچا سکے گا اور جہنم کا داخلہ انتہائی ذلت اور ہلاکت کی آخری منزل ہوگی اس لیے اے ہمارے مہربان پروردگار ہمیں اس سے محفوظ فرمائیے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi