Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 194

سورة آل عمران

رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدۡتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَ لَا تُخۡزِنَا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّکَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ﴿۱۹۴﴾

Our Lord, and grant us what You promised us through Your messengers and do not disgrace us on the Day of Resurrection. Indeed, You do not fail in [Your] promise."

اے ہمارے پالنے والے معبود! ہمیں وہ دے جس کا وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رُسوا نہ کر ، یقیناً تو وعدہ خلافی نہیں کرتا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

رَبَّنَا وَاتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَى رُسُلِكَ ... "Our Lord! Grant us what You promised unto us through Your Messengers," for our faith in Your Messengers, or, and this explanation is better; grant us what You promised us by the words of Your Messengers. ... وَلاَ تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ... "and disgrace us not on the Day of Resurrection," before all creation. ... إِنَّكَ لاَ تُخْلِفُ الْمِيعَادَ "for You never break (Your) Promise." for surely, the promise that You conveyed to Your Messengers, which includes us being resurrected before You, shall certainly come to pass. It was the Prophet's tradition to recite the ten Ayat at the end of Surah Al Imran when he woke up at night for (voluntary) prayer. Al-Bukhari recorded that Ibn Abbas said, "I slept one night at the house of my aunt, Maymunah. The Messenger of Allah spoke with his wife for a while and then went to sleep. When it was the third part of the night, he stood up, looked at the sky and recited, إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ وَاخْتِلَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِلايَاتٍ لاُِّوْلِي الالْبَابِ Verily, in the creation of the heavens and the earth, and in the alternation of night and day, there are indeed signs for men of understanding... (3:190) The Prophet then stood up, performed ablution, used Siwak (to clean his teeth) and prayed eleven units of prayer. When Bilal said the Adhan, the Prophet prayed two units of prayer, went out (to the Masjid) and led the people in the Dawn prayer." This was also collected by Muslim. Ibn Marduwyah recorded that Ata' said, "I, Ibn Umar and Ubayd bin Umayr went to Aishah and entered her room, and there was a screen between us and her. She said, `O Ubayd! What prevents you from visiting us?' He said, `What the poet said, `Visit every once in a while, and you will be loved more.' Ibn Umar said, `Tell us about the most unusual thing you witnessed from the Messenger of Allah.' She cried and said, `All his matters were amazing. On night, he came close to me until his skin touched my skin and said, `Let me worship my Lord.' I said, `By Allah I love your being close to me. I also love that you worship your Lord.' He used the water-skin and performed ablution, but did not use too much water. He then stood up in prayer and cried until his beard became wet. He prostrated and cried until he made the ground wet. He then laid down on his side and cried. When Bilal came to alert the Prophet for the Dawn prayer, he said, `O Messenger of Allah! What makes you cry, while Allah has forgiven you your previous and latter sins?' He said, وَيْحَكَ يَا بِلَلُ وَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَبْكِيَ وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِي هذِهِ اللَّيْلَة O Bilal! What prevents me from crying, when this night, this Ayah was revealed to me, إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ وَاخْتِلَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِلايَاتٍ لاُِّوْلِي الالْبَابِ Verily, in the creation of the heavens and the earth, and in the alternation of night and day, there are indeed signs for men of understanding. وَيْلٌ لِمَنْ قَرَأَهَا وَلَمْ يَتَفَكَّرْ فِيهَا Woe to he who recites it but does not contemplate it."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٩٤] یعنی وہ اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگتے ہیں کہ ہمیں اپنے ان وعدوں کا مصداق بنا دے جو تو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ ہم سے کئے ہیں اور ہم سے وہ وعدے پورے کر دے، کہیں ایسا نہ ہو دنیا میں تو ہم پیغمبروں پر ایمان لاکر کافروں کی تضحیک اور طعن و ملامت کا نشان بنے ہی ہوئے ہیں۔ آخرت میں بھی ان کے سامنے ہماری رسوائی ہو اور وہ ہم پر یہ پھبتی کسیں کہ ایمان لاکر بھی تمہیں کیا حاصل ہوا ؟ اور دوسرا معنی اس کا یہ بھی ہے کہ تو نے ہم سے جو اس دنیا میں کفار پر فتح و نصرت عطا کرنے کا وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما، اور کافروں اور منافقوں کی تضحیک اور لعن طعن سے ہمیں بچا لے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا : یعنی تو نے ہم سے اپنے رسولوں کے ذریعے سے ان کی تصدیق اور اتباع کرنے پر دنیا اور آخرت میں جس نصرت اور اجر و ثواب کا وعدہ فرمایا ہے، وہ ہمیں عطا فرما۔ 2ۭاِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ : یعنی ہمیں یہ ڈر تو نہیں کہ تو وعدہ خلافی کرے گا، بلکہ ہمیں ڈر اپنے ہی اعمال سے ہے کہ یہ اچھے نہیں ہیں، کہیں ہماری رسوائی کا باعث نہ بنیں، اگر تو اپنی رحیمی و کریمی اور غفاری سے ہماری کوتاہیوں کو معاف فرما دے اور ہمیں رسوائی سے بچا لے تو ہماری عین سرفرازی اور تیری بندۂ نوازی ہے۔ پس کلمہ ( ۭاِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ ) سے مقصد عاجزی، خشوع اور بندگی کا اظہار ہے نہ کہ اس کا مطالبہ، کیونکہ اللہ تعالیٰ سے وعدہ خلافی تو محال ہے، پھر مومن کوئی تصور کیسے کرسکتے ہیں۔ (رازی) دعا اور اس کی قبولیت کا یہ وعدہ ایمان اور عمل صالح پر ہے، دعا میں اس کا وسیلہ بھی پیش کرسکتے ہیں، جیسا کہ غار، میں پھنس جانے والے تین آدمیوں نے کیا تھا، البتہ دعا کی قبولیت کے لیے کسی نیک ہستی کو وسیلہ بنانا کہ یا اللہ ! فلاں کے طفیل میری یہ مشکل حل فرما دے، قرآن و حدیث میں مذکور دعاؤں کے خلاف ہے۔ ہاں، کسی زندہ آدمی سے دعا کروائی جاسکتی ہے اور یہ سنت سے ثابت ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰي رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝ ٠ ۭ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ۝ ١٩٤ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو۔ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خرٰا و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ خزن الخَزْنُ : حفظ الشیء في الخِزَانَة، ثمّ يعبّر به عن کلّ حفظ کحفظ السّرّ ونحوه، وقوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنا خَزائِنُهُ [ الحجر/ 21] ( خ زن ) الخزن کے معنی کسی چیز کو خزانے میں محفوظ کردینے کے ہیں ۔ پھر ہر چیز کی حفاظت کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے جیسے بھیدہ وغیرہ کی حفاظت کرنا اور آیت :۔ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنا خَزائِنُهُ [ الحجر/ 21] اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں ۔ قِيامَةُ : عبارة عن قيام الساعة المذکور في قوله : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] ، يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] ، وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] ، والْقِيَامَةُ أصلها ما يكون من الإنسان من القیام دُفْعَةً واحدة، أدخل فيها الهاء تنبيها علی وقوعها دُفْعَة، القیامت سے مراد وہ ساعت ( گھڑی ) ہے جس کا ذکر کہ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] اور جس روز قیامت برپا ہوگی ۔ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] جس دن لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ وغیرہ آیات میں پایاجاتا ہے ۔ اصل میں قیامتہ کے معنی انسان یکبارگی قیام یعنی کھڑا ہونے کے ہیں اور قیامت کے یکبارگی وقوع پذیر ہونے پر تنبیہ کرنے کے لئے لفظ قیام کے آخر میں ھاء ( ۃ ) کا اضافہ کیا گیا ہے خُلف ( عهد شكني) والخُلْفُ : المخالفة في الوعد . يقال : وعدني فأخلفني، أي : خالف في المیعاد بما أَخْلَفُوا اللَّهَ ما وَعَدُوهُ [ التوبة/ 77] ، وقال : إِنَّ اللَّهَ لا يُخْلِفُ الْمِيعادَ [ الرعد/ 31] ( خ ل ف ) خُلف الخلف کے معنی وعدہ شکنی کے میں محاورہ ہے : اس نے مجھ سے وعدہ کیا مگر اسے پورا نہ کیا ۔ قرآن میں ہے ۔ بِما أَخْلَفُوا اللَّهَ ما وَعَدُوهُ [ التوبة/ 77] کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اسکے خلاف کیا ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يُخْلِفُ الْمِيعادَ [ الرعد/ 31] بیشک خدا خلاف وعدہ نہیں کرتا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٩٤) اور وہ حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے پروردگار آپ نے جس چیز کا رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان پر وعدہ فرمایا ہے اس سے ہمیں بہرہ ور فرمائیے اور کفار کی طرف ہمیں عذاب نہ دیجیے، یقیناً آپ بعث بعد الموت (موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے) اور مومنین سے وعدہ فرمانے میں ہرگز خلاف نہیں کریں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٩٤ (رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ ) (وَلَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط) (اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ) ہمیں شک ہے تو اس بات میں کہ آیا ہم تیرے ان وعدوں کے مصداق ثابت ہو سکیں گے یا نہیں۔ لہٰذا تو اپنی شان غفاری سے ہماری کوتاہیوں کی پردہ پوشی کرنا اور ہمیں وہ سب کچھ عطا کردینا جو تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے وعدہ کیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

138. Such people do not doubt the fact that God will fulfil His promises. What they do doubt is whether they will be reckoned among those for whom those promises were made. Hence they pray to God to make them worthy of His promised rewards. They are afraid lest they remain targets of slander and ridicule by the unbelievers in this world, and then be disgraced in the Hereafter before the same unbelievers who may mock them once again saying that their faith has been of no avail to them.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :138 یعنی انہیں اس امر میں تو شک نہیں ہے کہ اللہ اپنے وعدوں کو پورا کرے گا یا نہیں ۔ البتہ تردد اس امر میں ہے کہ آیا ان وعدوں کے مصداق ہم بھی قرار پاتے ہیں یا نہیں ۔ اس لیے وہ اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ ان وعدوں کا مصداق ہمیں بنا دے اور ہمارے ساتھ انہیں پورا کر ، کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا میں تو ہم پیغمبروں پر ایمان لا کر کفر کی تضحیک اور طعن و تشنیع کے ہدف بنے ہی ہیں ، قیامت میں بھی ان کافروں کے سامنے ہماری رسوائی ہو اور وہ ہم پر پھبتی کسیں کہ ایمان لا کر بھی ان کا بھلا نہ ہوا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 یعنی یعنی اپنے رسولوں کے ذریعے ان کی تصدیق اور اتباع کرنے پر دنا اور آخرت میں جس اور اجر ثواب کا تو نے ہم سے وعدہ فرمایا ہے وہ ہمیں عطا فرما (المنار ) 1 یعنی ہمیں یہ اندیشہ تو نہیں ہے کہ تو وعدہ خاف ورزی کرے گا بلکہ ہمیں ڈرا پنے ہے اعمال سے ہے کہ یہ اچھے نہیں ہیں۔ اگر تو اپنی رحیمی و کر یمی اور ستاری سے ہماری کو توہیوں کو معاف فرمادے تو ہماری عین سرفرازی اور تیری بندہ نوازی ہے۔ (وحیدی) پس کلمہ انک لاتخلف المیعاد سے مقصد خضوع وذلت اور عبودیت کا اظہار ہے نہ کہ اس کا مطالبہ کیونکہ باری تعالیٰ سے خلف وعدہ تو ایک دم محال ہے۔ پھر مومنین اس کا تصور کیسے کرسکتے ہیں (کبیر) قبولیت کا یہ وعدہ ایمان اور عمل صالح پر مترتب ہوتا ہے لہذا دعا کی قبولیت کے لیے کسی نیک ہستی کو وسیلہ بنانا کہ یا اللہ فلاں کی طفیل میری یہ مشکل حل فرمادے قرآن و حدیث میں جو ادعیہ ماثو رہ ہیں ان کے خلاف ہے۔ (المنار)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ مطلب یہ کہ اول ہی سے جنت میں داخل کردیجیے۔ 6۔ لیکن ہم کو یہ خوف ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ ہم ان صفات سے موصوف نہ رہیں جن پر وعدہ ہے اس لیے ہم آپ سے یہ التجائیں کرتے ہیں کہ ہم کو اپنے وعدے کی چیزیں دیجیے یعنی ہم کو ایسا کردیجیے ایسا ہی رکھیے جس سے ہم وعدے کے مخاطب ومحل ہوجائیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس دعا کا خاتمہ توجہ الی اللہ اور فضل خداوندی کی امیدواری سے ہوتا ہے ۔ اس بات پر اعتماد اور یقین کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر وعدے کی وفا ہوتی ہے ۔ رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ” خداوند ! جو وعدے تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے کئے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال ‘ بیشک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے ۔ “ یہاں اب دعائیہ انداز میں یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ رسولوں نے آپ کے جو وعدے ہم پہنچائے ہیں ‘ اور ہمیں تو یقین ہے کہ آپ کے ہاں وعدہ خلافی نہیں ہوتی ‘ وہ وعدے پورے کردے ۔ یہ لوگ امید کرتے ہیں کہ قیامت کے دن وہ شرمندہ نہ ہوں گے ۔ یہ ان کے افکار کی دنیا میں پہلے جھٹکے کے نتیجے میں ان کے دین کی حالت ہے کہ وہ امید سے دامن بھرے ہوئے ہیں کہ وہ رسوا نہ ہوں گے ۔ اور اسے وہ دعا کی ابتدا میں بھی لاتے ہیں اور آخر میں بھی لاتے ہیں ۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اصحاب دانش کس قدر حساس ہوگئے ہیں ۔ ان کے دل کس قدر نرم ہوگئے ہیں ۔ وہ کس قدر صاف ہوگئے ہیں ۔ اللہ کا ڈر اور معصیت کے شرم سے ان کے دل بھرے ہیں ۔ اپنے مجموعی مضمون کے اعتبار سے ‘ یہ دعا ‘ ان اہل دانش کی جانب سے مطالعہ فطرت کے نتیجے میں مکمل قبولیت مکمل آمادگی کا اظہار ہے جو ان کے دل پر نظام کائنات کے مطالعہ سے القاء ہوئی ۔ مناسب ہے کہ ہم اس دعا پر ایک بار پھر غور کریں ‘ اس کی فنی خوبصورتی اور اس کی مناسب طرزادا پر نگاہ ڈالنا بھی ضروری ہے ۔ قرآن کریم کی ہر سورت میں ‘ اس کی آیات کے لئے ایک متعین قافیہ اپنایا گیا ہے ۔ اور قرآن مجید کے اندر قافیہ اور فواصل کا وہ طریقہ نہیں اپنایا گیا جو اشعار میں ہوتا ہے ۔ کہ حرف سے حرف ملے ۔ لیکن ان کا نغمہ اور زیروبم باہم متشابہ ہوتے ہیں ۔ مثلاً الفاظ بصیر ‘ حکیم ‘ مبین اور مریب ایک جیسے صوتی اثرات رکھتے ہیں۔ یا مثلاً الباب ‘ ابصار ‘ النار اور قرار جیسے الفاظ کے صوتی اثرات یکساں ہیں یا مثلاً خفیا ‘ شقیا ‘ شرقیاجی سے الفاظ اگرچہ شعری قافیہ نہیں لیکن ان کا صوتی ایقاع ایک جیسا ہے ۔ ان میں سے پہلا قافیہ اکثر پر زور تقریر جیسے مواقع پر ہوتا ہے ۔ جہاں انداز بیانیہ ہوتا ہے………دوسرا قسم کا قافیہ دعاؤں کے مواقع پر ہوتا ہے اور تیسری قسم کو حکایات اور بیان واقعات کے لئے لایا جاتا ہے۔ سورة آل عمران میں پہلی قسم کا قافیہ ہے ‘ صرف دوجگہ اس سے انحراف ہوا ہے ۔ ابتداء میں جہاں دعاتھی ‘ پھر ان آخری آیات میں جہاں پھر دعا ہے ۔ یہ انداز بالکل ایک نیا اور انوکھا انداز ہے جو قرآن نے مخصوص تعبیرات کے لئے اختیار کیا ہے ۔ دعا کے لئے جو انداز اختیار کیا گیا وہ دعا کو نرم آواز اور پر سو زلہجہ دیتا ہے ۔ الفاظ کے اندر مٹھاس پایا جاتا ہے ۔ جو عاجزی کے ساتھ عرض مدعا کے لئے نہایت ہی موزوں ہے ۔ ایک دوسری فنی خصوصیت بھی ان آیات میں پائی جاتی ہے ۔ کائنات میں تخلیق ارض وسما کا منظر اور گردش لیل ونہار کے جو مناظر انسان کے غور وفکر کے لئے پیش کئے گئے تھے ‘ ان کے ساتھ مناسب یہ تھا کہ دعا ایسی ہو جس میں خشوع و خضوع خوش آوازی کے ساتھ ہو ۔ اس کے نغمات طویل ہوں ‘ اس کے آواز کے زیروبم نہایت ہی گہرے ہوں ۔ اس طرح اس منظر کے الہامات ‘ اثرات طویل ہوں اور اعصاب سماعت اور خیال پر اس کے گہرے اثرات ہوں اور پھر یہ تاثر وجدان پر منتقل ہوجائے ۔ کیونکہ ان کلمات کے صوتی حرکات کے اندر بھی نہایت خشوع ‘ خوش ‘ خوش گواری ‘ توجہ اور اللہ ترسی ہے ۔ اس منظر کی جس طرح عبارت طویل ہے اس طرح نغمات بھی طویل ہیں ۔ جس سے قرآن کریم کی تعبیرات کی اصل غرض وغایت پوری ہوتی ہے اور اس کے ساتھ قرآن کریم کی اصل نئی خوبیاں بھی سامنے آتی ہیں ۔ جس طرح یہ دعا طویل ہے ۔ اسی جواب دعا بھی طویل ہے :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَاعَلٰی رُسُلِکَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ) ” اور اے ہمارے رب جس کا ہم سے آپ نے اپنے رسولوں کی زبانی وعدہ فرمایا ہے وہ ہمیں عطا فرما اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کیجیے اور بلاشبہ آپ وعدہ خلافی نہیں کرتے) ایمان اور اعمال صالحہ پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے جو اجر وثواب عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے اس میں اس کے ملنے کی عاجزانہ درخواست ہے، اعمال میں جو کمی اور کوتاہی ہو اس سے درگزر فرما کر وہی ثواب پورا پورا عطا کیجیے، جس کا رسولوں کی زبانی وعدہ فرمایا ہے اور بعض حضرات نے (مَا وَعَدْتَّنَا) سے نصرت علی الاعداء یعنی دشمنوں کے مقابلہ میں مدد فرمانے کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ مراد لیا ہے، اگر نصرت علی الا عداء مراد لیا جائے تو اس سے عطا دنیوی مراد ہوگی جیسا کہ (وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ) سے عطاء اخروی مراد ہے جسے آخرت میں ثواب مل گیا اور وہاں کے عذاب سے محفوظ ہوگیا وہ وہاں کی رسوائی سے بچ گیا۔ (اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ) (بلاشبہ آپ وعدہ خلافی نہیں کرتے) ان الفاظ میں اپنی دعاؤں کی مقبولیت کا یقین ظاہر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہیں جو دعائیں ہم نے کی ہیں وہ ضرور قبول ہوں گی، اس کا وعدہ سورة بقرہ کی آیت (اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ) میں اور سورة مومن کی آیت (وَقَالَ رَبُّکُمْ ادْعُوْنِی اَسْتَجِبْ لَکُمْ ) میں فرمایا ہے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں تذییل لتحقیق مانظموا فی سلک الدعاء۔ المیعاد سے بعث بعد الموت بھی مراد ہوسکتا ہے، صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ یہ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے اور صحیح ہے، اگر یہ معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ یوم الحساب کا جو وعدہ آپ نے فرمایا ہے وہ ضرور واقع ہوگا، اس دن کے حساب اور عذاب سے ہمیں محفوظ فرمائیے اور ہمیں اس دن رسوا نہ کیجیے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

294 یہاں تک اللہ کے نیک بندوں کی دعائیں تھیں ان سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اللہ کے پیارے اور نیک بندے تو خود اللہ کے محتاج اور اس کے سامنے عاجز ہیں اور وہ ہر دم اس کو یاد کرتے اور اس کے عذاب سے اس کی پناہ مانگتے ہیں اور ہر حال میں اسے ہی پکارتے ہیں اس لیے وہ کسی طرح بھی عبادت اور پکار کے لائق نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اے ہمارے پروردگار ہم دوزخ کے عذاب سے اس لئے پناہ مانگتے ہیں کہ بلاشبہ جس کو تو نے دوزخ میں داخل کردیا تو واقعی اس کو رسوا ہی کردیا اور ایسے ظالموں اور ناانصافوں کا کوئی بھی ساتھی اور مددگار نہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا کہ وہ ایمان لانے کے واسطے منادی کررہا ہے اور یہ کہہ رہا ہے کہ تم لوگ اپنے رب پر ایمان لے آئو لہٰذا اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے پروردگار اب تو ہمارے بڑے گناہوں کو بھی بخش دے اور ہماری چھوٹی خطائوں کو بھی ہم سے زائل کردے اور ہمارے قصوروں کو بھی معاف کردے اور ہم کو نیک لوگوں میں شامل رکھتے ہوئے موت دے یعنی نیکی پر خاتمہ فرما۔ اے ہمارے پروردگار ! جن چیزوں کا تو نے اپنے رسولوں کی معرفت ہم سے وعدہ کیا ہے وہ چیزیں ہم کو عطا کردے اور ہم کو قیامت کے دن رسوا نہ کر اور یقیناً تو وعدہ خلافی نہیں کیا کرتا اور اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ (تیسیر) اوپر کی آیت میں حضرت ا اولی الالباب کے ذکر و فکر کا ذکر تھا اور مصنوعات عالم سے ایک خالص اور واجب الوجود پر استدلال کا ذکر فرمایا تھا اور آخر میں حضرت کی تنزیہ اور تقدیس کا ذکر فرمانے کے بعد ان کی درخواست مذکور تھی کہ اے ہمارے پروردگار دوزخ کے عذاب سے ہم کو بچا لیجئے۔ اب ان آیات میں ان کی اور دعائیں مذکور ہیں دعائیں نہایت جامع ہیں پہلی دعا میں دوزخ سے پناہ مانگنے کی وجہ بیان کی ہے کہ دوزخ میں جس کو آپ نے داخل کردیا تو اسے رسوا کردیا کیونکہ تمام مخلوق کے روبرو رسوائی ہوئی اور کوئی اس کا مددگار اور حمایتی بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ دوزخ میں بھیجنا حضرت حق کے قہر کی علامت ہے اور مقہور کی حمایت کرنا ان کے قہر کو رفع کرنا ہے اور یہ ہو نہیں سکتا ورنہ ان کا عجز لازم آئے گا اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سے کافر مراد ہیں اور من تدخل النار کا مطلب یہ ہے کہ جس کو ہمیشہ کے لئے جہنم میں داخل کردیا۔ اگرچہ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے گناہ گار مومن مراد ہوں۔ تیسری درخواست میں ضمناً نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا اعتراف ہے اور استدلال عقلی کے بعد نقلی دلیل کے ساتھ بھی اپنے ایمان لانے کا اظہار ہے اور کبائر و صغائر کی معافی کے لئے درخواست ہے اور خاتمہ بخیر ہونے کی دعا ہے۔ مح الابرار سے مراد معیت زمانی نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب ہماری موت آئے تو ہم زمرئہ ابرار میں شامل ہوں اور ہمارا نیک لوگوں میں شمار ہو۔ منادیا ینادی للایمان سے مراد سید المرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور یہ جو فرمایا کہ ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا کہ وہ دعوت الی الایمان دے رہا ہے۔ یہ سننا بلاواسطہ ہے ان لوگوں کے لیے جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں موجود تھے اور بالواسط سننا ہے ان لوگوں کے لئے جو بعد میں آنے والے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ منادی سے مراد قرآن کریم ہو اور قرآن کریم کا منادی ہونا ہر زمانے میں ہے۔ اس کے بعد آخری دعا میں یہ عرض کیا ہے کہ اے پروردگار جس طرح ہم نے آپ سے عذاب اور گناہوں کے ضرر سے بچنے کی درخواست کی ہے اسی طرح ہم آپ سے دینی اور دنیوی منافع کے بھی طلبگار ہیں اور آپ نے اپنے رسولوں کی زبان سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ ہم اپنے مومن اور نیک بندوں کو دنیا میں نصرت و فتح عطا کریں گے اور آخرت میں ان کو ثواب اور جنت عطا فرمائیں گے اس لئے ہم آپ سے عرض کرتے ہیں کہ جن چیزوں کا آپ نے وعدہ کیا ہے وہ ہم کو عنایت کردیجئے اور چونکہ قیامت کے دن یہ بھی اندیشہ ہے کہ کچھ عتاب یا ملامت یا کچھ دن عذاب کے بعد جنت میں بھیجا جائے اس لئے ہماری درخواست ہے کہ ہم کو ہر قسم کی رسوائی سے محفوظ رکھا جائے اور بغیر کسی رسوائی اور توبیخ و تعذیب کے ہم کو جنت میں بھیج دیا جائے۔ آخر میں انک لا تخلف المیعاد کہہ کر اس وہم کو رفع کردیا گیا کہ آپ کی طرف سے خلف وعدہ کا احتمال نہیں ہے لیکن ہم کو اس کا خطرہ ہے کہ کہیں ہم اپنے اس معیار پر پورے نہ اتریں جس معیار کے لوگوں سے آپ نے وعدہ فرمایا ہے اس لئے ہم کو ان نیک لوگوں جیسا کردیجئے اور ویسا ہی رکھئے جس سے ہم اس وعدے کے مستحق رہیں۔ ان اٰمنوا بربکم کی تفسیر کئی طرح کی گئی ہے ہم نے ایک طریقہ اختیار کرلیا ہے جو ہمارے ترجمے سے ظاہر ہے۔ ذنوب سے مراد کبیرہ اور سیات سے مراد صغیرہ گناہ ہیں اور ہوسکتا ہے کہ پہلے اور پچھلے گناہ مراد ہوں۔ اور ہوسکتا ہے کہ ذنب سے مراد وہ گناہ ہیں جن کو گناہ جان کر کیا ہو اور سیات سے وہ گناہ مراد ہوں جو جہالت سے کئے ہوں۔ بہرحال ہم نے حضرت عبداللہ بن عباس کا قول اختیار کیا ہے۔ تکفیر کے معنی اصل میں توڈھانک لینے کے ہیں لیکن عام طور سے ازالہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بڑے گناہ معاف کردیجئے اور چھوٹی موٹی تقصیرات پر پردہ ڈال دیجئے۔ بہرحال دوزخ سے بچ جانا اور جنت میں داخل ہوجانا۔ طاعات کی توفیق کامل ہوجانا اور گناہوں کا معاف ہوجانا یہی وہ چیزیں ہیں جس کی ایک مسلمان کو ضرورت ہے۔ اور یہ سب باتیں ان دعائوں میں موجود ہیں آگے کی آیت میں ان دعائوں کی اجابت اور قبولیت کا اعلان ہے۔ چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ (تسہیل)