Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 195

سورة آل عمران

فَاسۡتَجَابَ لَہُمۡ رَبُّہُمۡ اَنِّیۡ لَاۤ اُضِیۡعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنۡکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی ۚ بَعۡضُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ ۚ فَالَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَ اُوۡذُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ وَ قٰتَلُوۡا وَ قُتِلُوۡا لَاُکَفِّرَنَّ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ لَاُدۡخِلَنَّہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۚ ثَوَابًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ عِنۡدَہٗ حُسۡنُ الثَّوَابِ ﴿۱۹۵﴾

And their Lord responded to them, "Never will I allow to be lost the work of [any] worker among you, whether male or female; you are of one another. So those who emigrated or were evicted from their homes or were harmed in My cause or fought or were killed - I will surely remove from them their misdeeds, and I will surely admit them to gardens beneath which rivers flow as reward from Allah , and Allah has with Him the best reward."

پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمالی کہ تم میں سے کسی کام کرنے والے کے کام کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت میں ہرگز ضائع نہیں کرتا ، تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو اس لئے وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور جنہیں میری راہ میں ایذا دی گئی اور جنہوں نے جہاد کیا اور شہید کئے گئے ، میں ضرور ضرور ان کی بُرائیاں ان سے دُور کردوں گا اور بالیقین انہیں اُن جنّتوں میں لے جاؤنگا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، یہ ہے ثواب اللہ تعالٰی کی طرف سے اور اللہ تعالٰی ہی کے پاس بہترین ثواب ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah Accepts the Supplication of Men of Understanding Allah said, فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ ... So their Lord accepted of them, answered their invocation. Sa`id bin Mansur recorded that Salamah, a man from the family of Umm Salamah said, "Umm Salamah said, `O Messenger of Allah! Allah does not mention women in connection with Hijrah (Migration).' Allah sent down the Ayah, فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لاَ أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى (So their Lord accepted of them (their supplication and answered them), "Never will I allow to be lost the work of any of you, be he male or female). The Ansar say that Umm Salamah was the first woman to migrate to them." Al-Hakim collected this Hadith in his Mustadrak, and said, "It is Sahih according to the criteria of Al-Bukhari but they (Al-Bukhari and Muslim) did not collect it". Allah's statement, ... أَنِّي لاَ أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى ... "Never will I allow to be lost the work of any of you, be he male or female, explains the type of answer Allah gave them, stating that no deed of any person is ever lost with Him. Rather, He will completely reward each person for his or her good deeds. Allah's statement, ... بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ ... You are (members) one of another, means, you are all equal in relation to gaining My reward. Therefore, ... فَالَّذِينَ هَاجَرُواْ ... those who emigrated, by leaving the land of Shirk and migrating to the land of faith, leaving behind their loved ones, brethren, friends and neighbors. ... وَأُخْرِجُواْ مِن دِيَارِهِمْ ... and were driven out from their homes, when the Mushriks tormented them and forced them to migrate. ... وَأُوذُواْ فِي سَبِيلِي ... and suffered harm in My cause, for their only wrong, to the people, was that they believed in Allah Alone. In similar Ayat, Allah said, يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّـكُمْ أَن تُوْمِنُواْ بِاللَّهِ رَبِّكُمْ and have driven out the Messenger and yourselves because you believe in Allah your Lord! (60:1) and, وَمَا نَقَمُواْ مِنْهُمْ إِلاَّ أَن يُوْمِنُواْ بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ And they had no fault except that they believed in Allah, the Almighty, Worthy of all praise! (85:8) Allah's statement, ... وَقَاتَلُواْ وَقُتِلُواْ ... and who fought and were killed (in My cause), refers to the highest rank there is, that one fights in the cause of Allah and dies in the process, with his face covered in dust and blood. It is recorded in the Sahih that a man said, 'O Messenger of Allah! If I was killed in Allah's cause, observing patience, awaiting Allah's reward, attacking, not retreating, would Allah forgive my sins?' The Prophet said, `Yes.' The Prophet then asked the man, `What did you ask?' When the man repeated the question, the Prophet said, نَعَمْ إِلاَّ الدَّيْنَ قَالَهُ لِي جِبْرِيلُ انِفًا `Yes, except for the debt, for Jibril conveyed this to me right now'. This is why Allah said here, ... لاأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّيَاتِهِمْ وَلاأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الاأَنْهَارُ ... verily, I will expiate from them their evil deeds and admit them into Gardens under which rivers flow, within Paradise, where there are rivers of various drinks: milk, honey, wine and fresh water. There is what no eye has ever seen, no ear has ever heard and no heart has ever imagined (of delights in Paradise). Allah's statement, ... ثَوَابًا مِّن عِندِ اللّهِ ... a reward from Allah, testifies to His might, for the Mighty and Most Great only gives tremendous rewards. Allah's statement, ... وَاللّهُ عِندَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ and with Allah is the best of rewards." for those who perform good deeds.

دعا کیجئے قبول ہوگی بشرطیکہ؟ یہاں استجاب کے معنی میں اجاب کے ہیں اور یہ عربی میں برابر مروج ہے حضرت ام سلمہ نے ایک روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا بات ہے عورتوں کی ہجرت کا کہیں قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں کرتا اس پر یہ آیت اتری ، انصاری کا بیان ہے کہ عورتوں میں سب سے پہلی مہاجرہ عورت جو ہودج میں آئیں حضرت ام سلمہ ہی تھیں ام المومنین سے یہ بھی مروی ہے کہ صاحب عقل اور صاحب ایمان لوگوں نے جب اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں جن کا ذکر پہلے کی آیتوں میں تھا تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بھی ان کی منہ مانگی مراد انہیں عطا فرمائی ، اسی لئے اس آیت کو ف سے شروع کیا ، جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ۭ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙفَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَلْيُؤْمِنُوْابِيْ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ ) 2 ۔ البقرۃ:186 ) یعنی میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو کہدے کہ میں تو ان کے بہت ہی نزدیک ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے میں اس کی پکار کو قبول فرما لیتا ہوں پس انہیں بھی چاہئے کہ میری مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں ممکن ہے کہ وہ رشد و ہدایت پالیں پھر قبولیت دعا کی تفسیر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ میں کسی عامل کے عمل کو رائیگاں نہیں کرتا بلکہ ہر ایک کو پورا پورا بدلہ عطا فرماتا ہوں خواہ مرد ہو خواہ عورت ، ہر ایک میرے پاس ثواب میں اور اعمال کے بدلے میں یکساں ہے ، پس جو لوگ شرک کی جگہ کو چھوڑیں اور ایمان کی جگہ آجائیں دارالکفر سے ہجرت کریں بھائیوں دوستوں پڑوسیوں اور اپنوں کو اللہ کے نام پر ترک کر دیں مشرکوں کی ایذائیں ہہ ہہ کر تھک کر بھی عاجز آ کر بھی ایمان کو نہ چھوڑیں بلکہ اپنے پیارے وطن سے منہ موڑ لیں جبکہ لوگوں کا انہوں نے کوئی نقصان نہیں کیا تھا جس کے بدلے میں انہیں ستایا جاتا بلکہ ان کا صرف یہ قصور تھا کہ میری راہ پہ چلنے والے تھے صرف میری توحید کو مان کر دنیا کی دشمنی مول لے لی تھی ، میری راہ پر چلنے کے باعث طرح طرح سے ستائے جاتے تھے جیسے اور جگہ ہے آیت ( یخرجون الرسول وایاکم ان تومنوا باللہ ربکم ) یہ لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور تمہیں صرف اس بنا وطن سے نکال دیتے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو جو تمہارا رب ہے ، اور ارشاد ہے آیت ( وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ ) 86 ۔ البروج:8 ) ان سے دشمنی اسی وجہ سے ہے کہ اللہ عزیز و حمید پر ایمان لائے ہیں پھر فرماتا ہے انہوں نے جہاد بھی کئے اور یہ شہید بھی ہوئے یہ سب سے اعلیٰ اور بلند مرتبہ ہے ایسا شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اس کی سواری کٹ جاتی ہے منہ خاک و خون میں مل جاتا ہے ۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں صبر کے ساتھ نیک نیتی سے دلیری سے پیچھے نہ ہٹ کر اللہ کی راہ میں جہاد کروں اور پھر شہید کر دیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میری خطائیں معاف فرما دے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں پھر دوبارہ آپ نے اس سے سوال کیا کہ ذرا پھر کہنا تم نے کیا کہا تھا ؟ اس نے دوبارہ اپنا سوال دھرا دیا آپ نے فرمایا ہاں مگر قرض معاف نہ ہوگا یہ بات جبرائیل ابھی مجھ سے کہہ گئے ۔ پس یہاں فرمایا ہے کہ میں ان کی خطا کاریاں معاف فرما دوں گا اور انہیں ان جنتوں میں لے جاؤں گا جن میں چاروں طرف نہریں بہہ رہی ہیں جن میں کسی میں دودھ ہے کسی میں شہد کسی میں شراب کسی میں صاف پانی اور وہ نعمتیں ہوں گی جو نہ کسی کان نے سنیں نہ کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی انسانی دل میں کبھی خیال گزرا ۔ یہ ہے بدلہ اللہ کی طرف سے ظاہر ہے کہ جو ثواب اس شہنشاہ عالی کی طرف سے ہو وہ کس قدر زبردست اور بے انتہا ہوگا ؟ جیسے کسی شاعر کا قول ہے کہ اگر وہ عذاب کرے تو وہ بھی مہلک اور برباد کر دینے والا اور اگر انعام دے تو وہ بھی بےحساب قیاس سے بڑھ کر کیونکہ اس کی ذات بےپرواہ ہے ، نیک اعمال لوگوں کو بہترین بدلہ اللہ ہی کے پاس ہے ، حضرت شداد بن اوس فرماتے ہیں لوگوں اللہ تعالیٰ کی قضا پر غمگین اور بےصبرے نہ ہو جایا کرو سنو مومن پر ظلم وجور نہیں ہوتا اگر تمہیں خوشی اور راحت پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا شکر کرو اور اگر برائی پہنچے تو صبر و ضبط کرو اور نیکی اور ثواب کی تمنا رکھو اللہ تعالیٰ کے پاس بہترین بدلے اور پاکیزہ ثواب ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

195۔ 1 فَا سْتَجَاب یہاں اَجَابَ ' قبول فرما لی ' کے معنی میں ہے (فتح القدیر) 195۔ 2 مرد ہو یا عورت کی وضاحت اس لئے کردی کہ اسلام نے بعض معاملات میں مرد اور عورت کے درمیان ان کے ایک دوسرے سے مختلف فطری اوصاف کی بنا پر جو فرق کیا ہے۔ مثلا قومیت اور حاکمیت میں، کسب معاش کی ذمہ داری میں، جہاد میں حصہ لینے میں اور وراثت میں نصف حصہ ملنے میں۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے، کہ نیک اعمال کی جزا میں بھی شاید مرد عورت کے درمیان کچھ فرق کیا جائے گا، نہیں ! ایسا نہیں ہوگا، نیکی کا جو اجر مرد کو ملے گا وہی عورت کو بھی ملے گا۔ 195۔ 3 یہ جملہ معترضہ ہے اس کا مقصد پچھلے نکتے ہی کی وضاحت ہے یعنی اجر و اطاعت میں تم مرد اور عورت ایک جیسے ہی ہو۔ بعض روایت میں ہے کہ حضرت ام سلمہ (رض) نے ایک مرتبہ عرض کیا یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے سلسلے میں عورتوں کا نام نہیں لیا۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی (تفسیر طبری، ابن کثیر و فتح القدیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٩٥] یعنی مرد اور عورت چونکہ دونوں ایک ہی نوع سے ہیں۔ لہذا نیک اعمال کا جس قدر بدلہ مردوں کو ملے گا۔ اتنا ہی عورتوں کو ملے گا۔ جزائے اعمال کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں اور اس دنیا میں جو مرد کو بیوی پر تفوق حاصل ہے۔ اس کی وجوہ دو ہیں۔ ایک عائلی نظام کا استقلال ہے جو ایک ہی سربراہ کی صورت میں برقرار رہ سکتا ہے اور مرد چونکہ قویٰ کے لحاظ سے عورت سے مضبوط ہے۔ لہذا گھر کا سربراہ وہی ہونا چاہئے، اور دوسرے یہ کہ مرد چونکہ بیوی کے نان و نفقہ اور اولاد کی تربیت اور جملہ اخراجات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ لہذا عقلی طور پر بھی جس کا خرچ ہو رہا ہو اسی کی رائے کو فوقیت دی جانی چاہئے اور یہ معاملہ صرف گھریلو نظام تک محدود ہے۔ رہی جزائے اعمال کی بات تو اس کا انحصار نوع پر نہیں بلکہ ہر عمل کرنے والے کی نیت پر ہے۔ جس قدر نیت پاکیزہ ہوگی اتنا ہی بہتر اجر ملے گا۔ [١٩٦] یعنی جن لوگوں نے میری راہ میں اور اسلام کو سربلند کرنے اور رکھنے کی خاطر جان و مال اور وطن کی قربانیاں دی ہیں اور طرح طرح کے دکھ اٹھائے ہیں، خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں ہوں اللہ سب سے یکساں سلوک کرتے ہوئے ان کی لغزشیں معاف فرما دے گا اور ان قربانیوں کا بہترین صلہ عطا فرماتے ہوئے انہیں پربہار باغات میں داخل کرے گا۔ روایات میں آیا ہے کہ ایک دفعہ حضرت ام سلمہ نے آپ سے عرض کیا : یارسول اللہ ! قرآن میں جہاں کہیں ہجرت یا اعمال حسنہ کا ذکر آتا ہے تو مردوں کا ہی آتا ہے عورتوں کا کیوں نہیں آتا ؟ تو اس بات کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ ۔۔ : یعنی انھوں نے اس طرح دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی۔ پھر ان کی دعا کی قبولیت کی صورت اور کیفیت کا بھی ذکر فرما دیا کہ باری تعالیٰ کسی عامل کے عمل کو ضائع نہیں کرتا۔ اس میں مرد و عورت کا بھی کوئی فرق نہیں، کیونکہ ان کا بعض بعض سے ہے، وہ کوئی الگ الگ مخلوق نہیں ہیں۔ اخروی نجات اور اللہ کے ہاں درجات حاصل کرنے میں مرد و عورت دونوں برابر ہیں، ہاں، مرد و عورت کی جداگانہ ذمہ داریوں کے اعتبار سے فطرتاً ان کی صلاحیتوں میں فرق ہے۔ [ دیکھیے النساء : ٣٢، ٣٤ ] 2 فَالَّذِيْنَ ھَاجَرُوْا ۔۔ : یعنی جنھوں نے دین کی خاطر اپنی خوشی سے ہجرت کی، اپنے وطن اور مال و منال کو خیر باد کہہ کر مرکز اسلامی میں پہنچ گئے اور وہ لوگ جن پر کفار نے ظلم و ستم ڈھائے، انھیں سخت اذیتیں دے کر گھر بار چھوڑنے پر مجبور کردیا، انھیں کسی طرح چین سے نہ بیٹھنے دیا اور انھیں محض اس لیے تکالیف کا نشانہ بنایا کہ انھوں نے دین اسلام کی راہ اختیار کی، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : ( يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا باللّٰهِ رَبِّكُمْ ) [ الممتحنۃ : ١ ] ” یہ کافر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور تمہیں گھروں سے محض اس جرم کی پاداش میں نکالتے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو۔ “ نیز فرمایا : ( وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْد) [ البروج : ٨ ] ” اور انھوں نے ان سے اس کے سوا کسی چیز کا بدلہ نہیں لیا وہ اس اللہ پر ایمان رکھتے ہیں جو سب پر غالب ہے ہر تعریف کے لائق ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mentioned in verses previous to this were some prayers made by good believers. The first verse (195) appearing above reports that these prayers have been accepted and believers have been given the good news that great rewards have been marked for their good deeds. In the second and third verses (196-197), Muslims have been instructed not to be deceived by the apparent affluence and worldwide maneuvering of disbelievers for this is transitory and the punishment which follows in its wake is eternal. The fourth verse (198) reasserts the promise of the lasting blessings of Paradise for Muslims who always keep fearing Allah. The fifth verse (199) particularly mentions the great reward that awaits those Muslims who used to be from among the People of the Book but chose to embrace Islam as their faith. Commentary While explaining the statement لَأُكَفِّرَ‌نَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ (I shall certainly write off their evil deeds) in Verse 195, Maulana Ashraf Ali Thanavi (رح) has restricted it to the forgiveness of sins and shortcomings relating to the fulfillment of the rights of Allah. The reason is that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said in Hadith that debts are not included under the purview of this verse. The rule is that the person concerned or his heirs should pay off the debt or have it forgiven. There is no other alternative in this case unless Allah Almighty is especially generous for someone and puts it in the heart of the wronged party that they should relent and forgive. This would, then, be a different matter. In fact, with some, this would also be the case. So, let us keep in mind that all sins are forgiven following Hijrah (Emigration) and Shahadah (Surrendering life in the way of Allah, martyrdom) but the forgiveness of debts and other rights of people (Huququl-` Ibad) has not been promised.

ربط آیات : سابقہ آیات میں مومنین صالحین کی چند دعاؤں کا ذکر تھا، مذکورہ پہلی آیت میں ان دعاؤں کی قبولیت اور ان کے اعمال صالحہ کے اجر عظیم کا بیان ہے، دوسری تیسری آیتوں میں یہ ہدایت ہے کہ کفار کے ظاہر عیش و عشرت مال و دولت اور دنیا میں چلنے پھرنے سے مسلمانوں کو دھوکہ نہ ہونا چاہئے کہ وہ چند روزہ ہے اور پھر عذاب دائمی۔ چوتھی آیت میں پھر تقوی شعار مسلمانوں کے لئے جنت کی لازوال نعمتوں کا وعدہ ہے، پانچویں میں خصوصیت سے ان مسلمانوں کے اجر عظیم کا ذکر ہے جو پہلے اہل کتاب میں سے تھے پھر مسلمان ہوگئے۔ خلاصہ تفسیر سو قبول کرلیا ان کی دعاؤں کو ان کے رب نے اس وجہ سے (کہ میری عادت مستمرہ ہے کہ) میں کسی شخص کے (نیک) کام کو جو تم میں سے کام کرنے والا ہو اکارت نہیں کرتا (کہ اس کا بدلہ نہ دیا جائے) خواہ وہ (کام کرنے والا) مرد ہو یا عورت (دونوں کے لئے ایک ہی قانون ہے کیونکہ) تم (دونوں) آپس میں ایک دوسرے کے جزو ہو (اس لئے حکم بھی دونوں کا ایک سا ہی ہے، پس جب انہوں نے ایمان قبول کر کے ایک بڑا نیک عمل کیا، اور اس پر مرتب ہونے والے اثرات کی درخواست کی تو میں نے ان کی دعاء و درخواست کو اپنی عادت مستمرہ کے مطابق منظور کرلیا اور جب ہم ایمان پر ایسے ثمرات عطا فرماتے ہیں) تو جن لوگوں نے (ایمان کے ساتھ اور اعمال شاقہ بھی کئے جیسے ہجرت یعنی) ترک وطن کیا اور (وہ بھی ہنسی خوشی، سیرو سیاحت کے لئے نہیں، بلکہ اس طرح کہ) اپنے گھروں س (تنگ کر کے) نکالے گئے اور (اس کے سوا طرح طرح کی) تکلیفیں (بھی) دیئے گئے (اور یہ باتیں یعنی ہجرت اور وطن سے نکالنا اور مختلف قسم کی ایذائی سب) میری راہ میں (یعنی میرے دین کے سبب ان کو پیش آئیں اور ان سب کو انہوں نے برداشت کیا) اور (اس سے بڑھ کر انہوں نے یہ کام کیا کہ) جہاد (بھی) کیا اور (بہت سے ان میں سے) شہید (بھی) ہوگئے (اور آخر تک جہاد سے نہ ہٹے، تو ایسے محنت کے اعمال پر ثمرات اور نعمتیں کیوں نہ ملیں گی) ضرور ان لوگوں کی تمام خطائیں (جو میرے حقوق کے متعلق ہوگئی ہوں) معاف کر دوں گا اور ضرور ان کو (بہشت کے) ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے (محلات کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی (ان کو یہ بدلہ ملے گا اللہ کے پاس سے اور اللہ ہی کے پاس (یعنی اس کے قبضہ قدرت میں) اچھا عوض ہے، (مذکورہ آیات میں مسلمانوں کی کلفتوں کا بیان اور اس کا انجام نیک مذکور تھا، آگے کافروں کے عیش و آرام اور اس کے انجام بد کا ذکر ہے، تاکہ مسلمانوں کی تسلی ہو اور بدعمل لوگوں کو اصلاح اور توبہ کی توفیق ہو۔ ) لایغرنک (اے طالب حق) تجھ کو ان کافروں کا (کسب معاش یا تفریحات کے لئے) چلنا پھرنا مغالطہ میں نہ ڈال دے (کہ اس حالت کی کچھ وقعت کرنے لگے) یہ چند روزہ بہار ہی (کیونکہ مرتے ہی اس کا نام و نشان بھی نہ رہے گا، اور) پھر (انجام یہ ہوگا کہ) ان کا ٹھکانہ (ہمیشہ کے لئے) دوزخ ہوگا اور وہ بری ہی آرام گاہ ہے، لیکن (ان میں سے بھی) جو لوگ خدا سے ڈریں (اور مسلمان و فرمانبردار ہوجائیں) ان کے لئے بہشتی باغات ہیں جن کے (محلات کے) نیچے نہریں جاری ہوگی، وہ ان (باغوں) میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، یہ (ان کی) مہمانی ہوگی اللہ کی طرف سے اور جو چیزیں خدا کے پاس ہیں (جن کا ابھی ذکر ہوا یعنی بہشتی باغ اور نہریں وغیرہ) یہ نیک بندوں کے لئے بدر جہا بہتر ہیں (کفار کی چند روزہ عیش و مسرت سے) ۔ (مذکورہ آیات دعاء سے پہلے اہل کتاب کی بری خصلتوں اور ان کے عذاب و انجام بد کا مسلسل ذکر آیا ہے آ گے ان لوگوں کا ذکر ہے جو اہل کتاب میں سے مسلمان صالح ہوگئے، اس لئے قرآن کی عام عادت کے مطابق بدکرداروں کے قبائح کے بعد نیکو کاروں کی مدائح کا ذکر ہے) وان من اھل الکتب اور بالقین بعضے لوگ اہل کتاب میں سے ایسے بھی ضرور ہیں جو اللہ پر اعتقاد رکھتے ہیں اور اس کتاب کے ساتھ بھی (اعتقاد رکھتے ہیں) جو تمہارے پاس بھیجی گئی (یعنی قرآن) اور اس کتاب کے ساتھ بھی (اعتقاد رکھتے ہیں) جو ان کے پاس بھیجی گئی (یعنی توراة اور انجیل اور خدا کے ساتھ جو اعتقاد رکھتے ہیں تو) اس طور پر کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے (بھی) ہیں ( اس لئے اس اعتقاد میں حدود سے تجاوز نہیں کرتے کہ اللہ پر اولاد کی تہمت لگائیں یا احکام میں افتراء کریں اور تورات و انجیل کے ساتھ جو اعتقاد رکھتے ہیں تو اس طور پر کہ) اللہ تعالیٰ کی آیات کے مقابلہ میں دنیا کا) کم حقیقت معاوضہ نہیں لیتے، ایسے لوگوں کو ان کا نیک عوض ملے گا ان کے پروردگار کے پاس (اور اس میں کچھ دیر بھی نہ لگے گی، کیونکہ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ جلد ہی حساب (کتاب) کردیں گے (اور حساب کتاب کرتے ہی سب کا دینا لینا بےباق کردیں گے۔ ) معارف و مسائل ہجرت اور شہادت سے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں، مگر قرض وغیرہ حقوق العباد کی معافی کا وعدہ نہیں :۔ لاکفرن عنھم سیاتھم کے تحت خلاصہ تفسیر میں قید لگائی گی ہے کہ اللہ کے حقوق میں جو کو تاہیاں اور گناہ ہوئے وہ معاف ہوں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیث میں قرض اور دین کا مستثنی ہونا بیان فرمایا ہے، اس کی معافی کا ضابطہ یہی ہے کہ خود یا اس کے وارث ان حقوق کو ادا کردیں یا معاف کرا دیں اور کسی شخص پر حق تعالیٰ خاص فضل فرما دیں اور اصحاب حق کو اس سے راضی کر کے معاف کرا دیں یہ اور بات ہے اور بعض کے ساتھ ایسا بھی ہوگا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ اَنِّىْ لَآ اُضِيْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى۝ ٠ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ۝ ٠ۚ فَالَّذِيْنَ ھَاجَرُوْا وَاُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِھِمْ وَاُوْذُوْا فِيْ سَبِيْلِيْ وَقٰتَلُوْا وَقُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْھُمْ سَيِّاٰتِھِمْ وَلَاُدْخِلَنَّھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ۝ ٠ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللہِ۝ ٠ۭ وَاللہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الثَّوَابِ۝ ١٩٥ استجاب والاستجابة قيل : هي الإجابة، وحقیقتها هي التحري للجواب والتهيؤ له، لکن عبّر به عن الإجابة لقلة انفکاکها منها، قال تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24] ( ج و ب ) الجوب الاستاأبتہ بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی اجابتہ ( افعال ) کے ہے اصل میں اس کے معنی جواب کے لئے تحری کرنے اور اس کے لئے تیار ہونے کے ہیں لیکن اسے اجابتہ سے تعبیر کرلیتے ہیں کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے ۔ قرآن میں ہے : اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24] کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو ۔ ضيع ضَاعَ الشیءُ يَضِيعُ ضَيَاعاً ، وأَضَعْتُهُ وضَيَّعْتُهُ. قال تعالی: لا أُضِيعُ عَمَلَ عامِلٍ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 195] ( ض ی ع ) ضاع ( ض ) الشیئ ضیاعا کے معنی ہیں کسی چیز کا ہلاک اور تلف کرنا ۔ قرآن میں ہے : لا أُضِيعُ عَمَلَ عامِلٍ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 195] اور ( فرمایا ) کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کرتا ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے ذَّكَرُ ( مذکر) والذَّكَرُ : ضدّ الأنثی، قال تعالی: وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثى [ آل عمران/ 36] ، وقال : آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] ، وجمعه : ذُكُور وذُكْرَان، قال تعالی: ذُكْراناً وَإِناثاً [ الشوری/ 50] ، وجعل الذَّكَر كناية عن العضو المخصوص . والمُذْكِرُ : المرأة التي ولدت ذکرا، والمِذْكَار : التي عادتها أن تذكر، وناقة مُذَكَّرَة : تشبه الذّكر في عظم خلقها، وسیف ذو ذُكْرٍ ، ومُذَكَّر : صارم، تشبيها بالذّكر، وذُكُورُ البقل : ما غلظ منه الذکر ۔ تو یہ انثی ( مادہ ) کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثى [ آل عمران/ 36] اور ( نذر کے لئے ) لڑکا ( موزون تھا کہ وہ ) لڑکی کی طرح ( ناتواں ) نہیں ہوتا آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] کہ ( خدا نے ) دونوں ( کے ) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں ( کی ) مادینوں کو ۔ ذکر کی جمع ذکور و ذکران آتی ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ ذُكْراناً وَإِناثاً [ الشوری/ 50] بیٹے اور بیٹیاں ۔ اور ذکر کا لفظ بطور کنایہ عضو تناسل پر بھی بولاجاتا ہے ۔ اور عورت نرینہ بچہ دے اسے مذکر کہاجاتا ہے مگر المذکار وہ ہے ۔ جس کی عادت نرینہ اولاد کی جنم دینا ہو ۔ ناقۃ مذکرۃ ۔ وہ اونٹنی جو عظمت جثہ میں اونٹ کے مشابہ ہو ۔ سیف ذوذکر ومذکر ۔ آبدار اور تیر تلوار ، صارم ذکور البقل ۔ وہ ترکاریاں جو لمبی اور سخت دلدار ہوں ۔ أنث الأنثی: خلاف الذکر، ويقالان في الأصل اعتبارا بالفرجین، قال عزّ وجلّ : وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثى [ النساء/ 124] ( ان ث) الانثی ( مادہ ) بہ ذکر یعنی نر کی ضد ہے اصل میں انثیٰ و ذکر عورت اور مرد کی شرمگاہوں کے نام ہیں پھر اس معنی کے لحاظ سے ( مجازا) یہ دونوں نر اور مادہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔{ وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى } ( سورة النساء 124) ۔ جو نیک کام کریگا مرد یا عورت (4 ۔ 124) بعض بَعْضُ الشیء : جزء منه، ويقال ذلک بمراعاة كلّ ، ولذلک يقابل به كلّ ، فيقال : بعضه وكلّه، وجمعه أَبْعَاض . قال عزّ وجلّ : بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36] ( ب ع ض ) بعض الشئی ہر چیز کے کچھ حصہ کو کہتے ہیں اور یہ کل کے اعتبار سے بولا جاتا ہے اسلئے کل کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے : بعضہ وکلہ اس کی جمع ابعاض آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36] تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ هجر والمُهاجرَةُ في الأصل : مصارمة الغیر ومتارکته، من قوله عزّ وجلّ : وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا[ الأنفال/ 74] ، وقوله : لِلْفُقَراءِ الْمُهاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيارِهِمْ وَأَمْوالِهِمْ [ الحشر/ 8] ، وقوله : وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهاجِراً إِلَى اللَّهِ [ النساء/ 100] ، فَلا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِياءَ حَتَّى يُهاجِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ النساء/ 89] فالظاهر منه الخروج من دار الکفر إلى دار الإيمان کمن هاجر من مكّة إلى المدینة، وقیل : مقتضی ذلك هجران الشّهوات والأخلاق الذّميمة والخطایا وترکها ورفضها، وقوله : إِنِّي مُهاجِرٌ إِلى رَبِّي [ العنکبوت/ 26] أي : تارک لقومي وذاهب إليه . ( ھ ج ر ) الھجر المھاجر ۃ کے اصل معی) تو ایک دوسرے سے کٹ جانے اور چھوڑ دینے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا[ الأنفال/ 74] خدا کے لئے وطن چھوڑ گئے اور ۃ کفار سے ) جنگ کرتے رہے ۔ اور آیات قرآنیہ : ۔ لِلْفُقَراءِ الْمُهاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيارِهِمْ وَأَمْوالِهِمْ [ الحشر/ 8] فے کے مال میں محتاج مہاجرین کا ( بھی ) حق ہے ۔ جو کافروں کے ظلم سے اپنے گھر اور مال سے بید خل کردیئے گئے ۔ وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهاجِراً إِلَى اللَّهِ [ النساء/ 100] اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کر کے گھر سے نکل جائے ۔ فَلا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِياءَ حَتَّى يُهاجِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ النساء/ 89] تو جب تک یہ لوگ خدا کی راہ میں ( یعنی خدا کے لئے ) ہجرت نہ کر آئیں ان میں سے کسی کو بھی اپنا دوست نہ بنانا ۔ میں مہاجرت کے ظاہر معنی تو دار الکفر سے نکل کر وادلاسلام کی طرف چلے آنے کے ہیں جیسا کہ صحابہ کرام نے مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی لیکن بعض نے کہا ہے کہ ہجرت کا حقیقی اقتضاء یہ ہے کہ انسان شہوات نفسانی اخلاق ذمیمہ اور دیگر گناہوں کو کلیۃ تر ک کردے اور آیت : ۔ إِنِّي مُهاجِرٌ إِلى رَبِّي [ العنکبوت/ 26] اور ابراہیم نے کہا کہ میں تو دیس چھوڑ کر اپنے پروردگاع کی طرف ( جہاں کہیں اس کو منظور ہوگا نکل جاؤ نگا ۔ کے معنی یہ ہیں کہ میں اپنی قوم کو خیر باد کہ کر اللہ تعالیٰ کی طرف چلا جاؤں گا ۔ دار الدَّار : المنزل اعتبارا بدورانها الذي لها بالحائط، وقیل : دارة، وجمعها ديار، ثم تسمّى البلدة دارا، والصّقع دارا، والدّنيا كما هي دارا، والدّار الدّنيا، والدّار الآخرة، إشارة إلى المقرّين في النّشأة الأولی، والنّشأة الأخری. وقیل : دار الدّنيا، ودار الآخرة، قال تعالی: لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ، أي : الجنة، ( د و ر ) الدار ۔ منزل مکان کو کہتے ہیں کیونکہ وہ چار دیواری سے گھرا ہوتا ہے بعض نے دراۃ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کی جمع دیار ہے ۔ پھر دار کا لفظ شہر علاقہ بلکہ سارے جہان پر بولا جاتا ہے اور سے نشاۃ اولٰی اور نشاہ ثانیہ میں دو قرار گاہوں کی طرف اشارہ ہے بعض نے ( باضافت ) بھی کہا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ : لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ان کے لئے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے ۔ أذي الأذى: ما يصل إلى الحیوان من الضرر إمّا في نفسه أو جسمه أو تبعاته دنیویاً کان أو أخرویاً ، قال تعالی: لا تُبْطِلُوا صَدَقاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذى [ البقرة/ 264] ( ا ذ ی ) الاذیٰ ۔ ہرا س ضرر کو کہتے ہیں جو کسی جاندار کو پہنچتا ہے وہ ضرر جسمانی ہو یا نفسانی یا اس کے متعلقات سے ہو اور پھر وہ ضرر دینوی ہو یا اخروی چناچہ قرآن میں ہے : ۔ { لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى } ( سورة البقرة 264) اپنے صدقات ( و خیرات ) کو احسان جتا کر اور ایذا دے کر برباد نہ کرو ۔ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ ثوب أصل الثَّوْب : رجوع الشیء إلى حالته الأولی التي کان عليها، أو إلى الحالة المقدّرة المقصودة بالفکرة، وهي الحالة المشار إليها بقولهم : أوّل الفکرة آخر العمل . فمن الرجوع إلى الحالة الأولی قولهم : ثَابَ فلان إلى داره، وثَابَتْ إِلَيَّ نفسي، وسمّي مکان المستسقي علی فم البئر مَثَابَة، ومن الرجوع إلى الحالة المقدرة المقصود بالفکرة الثوب، سمّي بذلک لرجوع الغزل إلى الحالة التي قدّرت له، وکذا ثواب العمل، وجمع الثوب أَثْوَاب وثِيَاب، وقوله تعالی: وَثِيابَكَ فَطَهِّرْ [ المدثر/ 4] ( ث و ب ) ثوب کا اصل معنی کسی چیز کے اپنی اصلی جو حالت مقدمہ اور مقصود ہوتی ہے اس تک پہنچ جانا کے ہیں ۔ چناچہ حکماء کے اس قول اول الفکرۃ اٰخرالعمل میں اسی حالت کی طرف اشارہ ہے یعنی آغاز فکر ہی انجام عمل بنتا ہے ۔ چناچہ اول معنی کے لحاظ سے کہا جاتا ہے ۔ شاب فلان الی درہ ۔ فلاں اپنے گھر کو لوٹ آیا ثابت الی نفسی میری سانس میری طرف ہوئی ۔ اور کنوئیں کے منہ پر جو پانی پلانے کی جگہ بنائی جاتی ہے اسے مثابۃ کہا جاتا ہے اور غور و فکر سے حالت مقدرہ مقصود تک پہنچ جانے کے اعتبار سے کپڑے کو ثوب کہاجاتا ہے کیونکہ سوت کاتنے سے عرض کپڑا بننا ہوتا ہے لہذا کپڑا بن جانے پر گویا سوت اپنی حالت مقصود ہ کی طرف لوٹ آتا ہے یہی معنی ثواب العمل کا ہے ۔ اور ثوب کی جمع اثواب وثیاب آتی ہے اور آیت کریمہ ؛۔ وَثِيابَكَ فَطَهِّرْ [ المدثر/ 4] اپنے کپڑوں کو پاک رکھو ۔ حسن الحُسْنُ : عبارة عن کلّ مبهج مرغوب فيه، وذلک ثلاثة أضرب : مستحسن من جهة العقل . ومستحسن من جهة الهوى. ومستحسن من جهة الحسّ. والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ( ح س ن ) الحسن ہر خوش کن اور پسندیدہ چیز کو حسن کہا جاتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں ۔ ( 1) وہ چیز جو عقل کے اعتبار سے مستحسن ہو ۔ ( 2) وہ جو خواہش نفسانی کی رو سے پسندیدہ ہو ۔ ( 3) صرف نگاہ میں بھی معلوم ہو ۔ الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٩٥) ان کی درخواست کو منظور کیا کیوں کہ عادت مستمرہ میری یہی ہے کہ میں کسی کے نیک کام کے ثواب کو ضائع نہیں کرتا، جب کہ ایک دوسرے کے دین کی مدد ونصرت میں حامی ہوں، اب مہاجرین کے اعلی درجات کو اللہ تعالیٰ بیان فرماتے ہیں کہ جن حضرات نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اور آپ کے بعد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی اور کفار مکہ نے ان کو ان کے مکانات سے نکال دیا اور جہاد فی سبیل اللہ میں دشمنوں کو قتل کیا اور خود بھی شہید ہوئے تو میں ان کی تمام خطاؤں کو معاف کردوں گا اور ایسے باغات میں داخل کروں گا جہاں محلات اور درختوں کے نیچے سے شہد دودھ، پانی اور شراب طہور کی نہریں بہتی ہوں گی اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے بہترین انعام اور بدلہ ہے۔ ؛ شان نزول : (آیت) ” فاستجاب لہم “۔ (الخ) عبدالرزاق (رح) ، سعید بن منصور (رح) ، ترمذی (رح) ، حاکم (رح) اور ابن ابی حاتم (رح) نے ام سلمہ (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے بیان میں عورتوں کا کوئی ذکر نہیں فرمایا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی درخواست کو منظور کرلیا خواہ وہ مرد ہوں یا عورت۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٩٥ (فَاسْتَجَابَ لَہُمْ رَبُّہُمْ ) یہ ہے دعا کی قبولیت کی انتہا کہ اس دعا کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت کا اعلان ہورہا ہے۔ ( اَنِّیْ لَا اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی ج) (بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ ج) ایک ہی باپ کے نطفے سے بیٹا بھی ہے اور بیٹی بھی ‘ اور ایک ہی ماں کے رحم میں بیٹا بھی پلا ہے اور بیٹی ‘ بھی۔ (فَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا وَاُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ ) (وَاُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ ) (وَقٰتَلُوْا وَقُتِلُوْا) (لَاُکَفِّرَنَّ عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْ ) ان کے نامۂ اعمال میں اگر کوئی دھبے ہوں گے تو انہیں دھو دوں گا۔ (وَلَاُدْخِلَنَّہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ ج) ۔ ( ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ط) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے خاص خزانۂ ‘ فضل سے۔ (وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الثَّوَابِ ) اب آخری پانچ آیات جو آرہی ہیں ان کی حیثیت اس سورة مبارکہ کے تمام مباحث پر خاتمۂ ‘ کلام کی ہے۔ یاد رہے کہ اس سورت میں اہل کتاب کا عمومی ذکر بھی ہوا ہے اور یہود و نصاریٰ کا الگ الگ بھی۔ پھر اس میں اہل ایمان کا ذکر بھی ہے اور مشرکین کا بھی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

139. All humans are equal in the sight of God. God does not have separate criteria for judging the male and the female, the master and the slave, the high and the low. 140. It is reported that some non-Muslims came to the Prophet and said that Moses had produced his staff and had been endowed with the miracle of the shining hand (see Qur'an 7: 108; 20: 22), and that Jesus restored sight to the blind and cured the lepers (see Qur'an 31 49). Other Prophets had also been granted miracles. What miracles, they enquired, could the Prophet perform? In response the Prophet recited all the verses from verse 190 to the end of this surah, adding that that was what he had brought.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :139 یعنی تم سب انسان ہو اور میری نگاہ میں یکساں ہو ۔ میرے ہاں یہ دستور نہیں ہے کہ عورت اور مرد ، آقا اور غلام ، کالے اور گورے ، اونچ اور نیچ کے لیے انصاف کے اصول اور فیصلے کے معیار الگ الگ ہوں ۔ سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :140 روایت ہے کہ بعض غیر مسلم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ موسیٰ علیہ السلام عصا اور ید بیضا لائے تھے ۔ عیسیٰ علیہ السلام اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو اچھا کرتے تھے ۔ دوسرے پیغمبر بھی کچھ نہ کچھ معجزے لائے تھے ۔ آپ فرمائیں کہ آپ کیا لائے ہیں ؟ اس پر آپ نے اس رکوع کے آغاز سے یہاں تک کی آیات تلاوت فرمائیں اور ان سے کہا میں تو یہ لایا ہوں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

ترمذی ‘ حاکم ‘ سعید بن منصور ‘ عبد الرزاق اور ابن ابی حاتم نے حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت کی ہے وہ کہتی ہیں کہ ایک روز میں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی ہجرت کے اجر کا ذکر قرآن شریف میں نہیں فرمایا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ٣۔ حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نیک کاموں کا بڑا قدردان ہے۔ نیک کام خواہ کوئی مرد کرے یا عورت اللہ تعالیٰ ضرور اس کا اجر دے گا۔ حاکم نے اس شان نزول کو بخاری کی شرح کے موافق بتایا ہے ١۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:195) فاستجاب۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے قبول کیا۔ اس نے مانا۔ استجابۃ سے۔ باب استفعال۔ بعضکم من بعض۔ لفرط الاتصال والاتحاد۔ اتصال و اتحاد میں یگانگت کے لئے یا من بمعنی الکاف ہے ای بعضکم لبعض۔ یعنی طاعت و فرمانبرداری پر ثواب اور معصیت و نافرمانی پر عقوبت میں تم سب ایک دوسرے کی طرح ہو۔ کسی کے لئے الگ معیار جزا و سزا نہیں ہے یا تم میں سے مرد اور عورتیں سب جزا سزا کے ایک ہی اصول کے تحت ہیں ۔ یہ ایک جملہ معترضہ ہے۔ اخرجوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب وہ نکالے گئے۔ اوذوا۔ ماضی مجہول۔ جمع مذکر غائب وہ ستائے گئے۔ ان کو اذیت دی گئی (اذی مادہ) اوذوا اصل میں اوذیوا تھا ۔ ی مفہول ما قبل مکسور کی وجہ سے ی کا ضمہ ما قبل کو دیا گیا۔ ی اور واؤ دو ساکنین اکٹھے ہوگئے۔ لہٰذا ی کو گرا دیا گیا۔ اوذوا ہوگیا۔ جیسا اوتی۔ اسے دیا گیا (ماضی مجہول واحد مذکر غائب سے اوتوا جمع مذکر غائب۔ لاکفرن۔ لام تاکید ونون ثقیلہ۔ اکفر۔ مضارع واحد متکلم ۔ میں ضرور مٹادوں گا (ان کے نامہ عمل سے ان کے گناہ ۔ یا میں ضرور معاف کر دوں گا ان کے گناہوں کو۔ لادخلنہم۔ لام تاکید با نون ثقیلہ مجارع واحد متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب میں ان کو ضرور داخل کروں گا۔ ثوابا۔ جزائ۔ انعام کے طور پر۔ بدلے کے طور پر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یہاں قرآن نے اسبابت دعا کو فا سببیہ کے ساتھ بیان فرمایا ہے یعنی اوصاف مذکورہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو شرف قبولیت بخشا پھر ان کی دعا کی قبولیت کی صورت اور کیفیت کا بھی ذکر فرمادیا ہے کہ ذات باری تعالیٰ کسی عمل کے عمل کو ضائع نہیں ہونے دے گی یعنی ہر عامل کو اس کے عمل کی جز اور ثواب مل کر رہے گا اور یہ دعا بھی من جملہ نیک ہے اعمال کے ہے لہذا اس پر بھی جزامترتب ہوگی اور ہر جملہ انی لا اضع علم عامل منکم میں تنبیہ فرمائی ہے کہ اخروی نجات اور حسن ثواب کے ساتھ فوزو فلاں عمل میں احسان واخلاص پر ہے نسیبی شرف یا مرد ہونے کی اس میں کچھ دخل نہیں ہے۔ اخروی وعند اللہ درجات حاصل کرنے میں مرد اور عورت دونوں برابر ہیں۔ عورت یہ خیال نہ کرے کہ مرد کو اجتماعی سیادت حاصل ہے لہذا اس کو نیک اعمال کا بدلہ بھی عورت سے زیادہ ملے گا۔ یہ نہیں ہے بلکہ جب یہ دونوں انسانیت میں مساوی حاصل نہیں ہوسکتی۔ قرآن نے من ذکر اوانلی بعضکم من بعض فرماکر عورت کے مقام کو مرد کے برابر کردیا ہے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرما کر النسا سق لو الر جال کہ طبا ئع و اخلاق میں عورتوں مردوں کے برابر ہیں) عورت کی حیثیت کو بلند اور ارفع بنادیا ہے۔ قبل ازاسلام عورت کو ایک مرد کی جنسی خواہش پوری کرنے کے لیے وجود میں آئی ہے اور بعض لوگ تو عورت میں روح کے ہی قائل نہ تھے اور بعض مذاہب مرد کو محض مردہو نے کی وجہ سے عورت پر فوقییت دیتے تھے۔ قرآن نے بعضکم من بعض فرماکر ان سب نظریات کی تر ید فرمادی تاہم مرد و عورت کی جدا کانہ ذمہ داریوں کے اعتبار سے فطر تا ان کی صلاحتیوں میں بھی اختلاف ہے۔ اجتماعی اور معاشرتی زندگی میں نہ مر دعورت بن سکتا ہے اور نہ عورت مرد کی جگہ لے سکتی ہے۔ (المنار) سلسلہ بحث کے لیے دیکھئے (سورت النسا آیت 34) 3 یعنی جنہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کے لیے اپنی خوشی سے ہجرت کی اپنے وطن اور مال ومنال کو خیر باد کہ کر مرکز اسلامی میں پہنچ گئے اور وہ لوگ جن پر کفار نے ظلم وستم ڈھائے۔ انہیں سخت اذیتیں پہنچاکر گھر بار چھوڑ نے پر مجبور کردیا۔ انہیں کسی طرح چین سے نہ بیٹھے دیا اور انہیں محض اس لیے تکا لیف کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے دین اسلام کی راہ اختیار کی جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا۔ يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْ أَنْ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ رَبِّكُمْ ( سورت المتحنہ : 1) یعنی یہ کافر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمہیں گھروں سے محض اس جرم کی باداش میں نکا لتے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو۔ نیز سورت ابروج میں فرمایا : وما انقمو امنھم الا ان یمو منو اباللہ العزیز الحمید کہ ان مومنوں کی یہی بات بر لگتی ہے کہ وہ خدا پر ایمان لے آئے ہیں جو غالب اور قابل ستائش ہے دفی ہذا آیات کثیر ۃ (ابن کثیر، کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ دونوں کے لیے یکساں قانون ہے۔ 2۔ یعنی کفار نے وطن میں پریشان کیا بیچارے گھر چھوڑ کر پردیس کو نکل کھڑے ہوئے۔ 3۔ تمام خطائیں اس لیے کہا گیا کہ یہاں ہجرت و جہاد و شہادت کی فضیلت مذکور ہے اور حدیثوں سے ان اعمال کا تمام ذنوب سابقہ کا کفارہ ہونامعلوم ہوتا ہے۔ 4۔ اوپر کی آیت میں مسلمانوں کی کلفتوں کا بیان اور ان کا انجام نیک مذکور تھا آگے کافروں کے عیش و آرام کا بیان اور ان کا انجام بد مذکور ہے تاکہ مسلمان کو اپنا انجام سن کر تسلی ہوئی تھی جو وہ کافروں کا انجام سن کر زیادہ تسلی ہو۔ اور ان کے عیش و آرام کی طرف حرصا یا حزنا التفات نہ کریں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ ایک مفصل جواب دعا ہے ۔ طرز ادا بھی طویل ہے ۔ اور یہ قرآن کریم کے طرز ادا کے عین مطابق ہے ۔ تقاضائے حال اور فریقین کے موقف کے عین مطابق نفیساتی اور شعوری دونوں زاویوں سے ۔ اب ہم اللہ کی جانب سے آنیوالے جواب دعا اور قبولیت دعا کے مضامین کی طرف آتے ہیں ۔ یہ جواب اسلامی نظام زندگی کے کن امور کو ظاہر کرتا ہے اور یہ کہ اس نظام کا مزاج کیا ہے ‘ اس کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں اور یہ نظام انسان کی تربیت کے لئے کیا منہاج اختیار کرتا اور اس کی خصوصیات کیا ہیں ؟ یہ اصحاب دانش جنہوں نے تخلیق ارض وسما میں غور کیا ‘ جنہوں نے گردش لیل ونہار میں تدبیر کیا اور جنہوں نے اس کائنات کی کتاب مفتوح سے دلائل وآیات اخذ کئے اور ان کی فطرت نے ان دلائل وآیات حق کو قبول کیا اور اس کے بعد وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے ۔ انہوں نے خشوع و خضوع سے بھرپور ‘ سوز وساز میں ڈوبی ہوئی طویل دعا کی ۔ اور اس کے بعد ان کے رب رحیم وکریم کی طرف سے فوراً جواب دعا آیا کیونکہ ان کی دعا نہایت ہی پر خلوص تھی وہ محبت سے بھری تھی ………اب دیکھئے جواب دعا کیا ہے ؟ یہ جواب دعا قبولیت دعاپر مشتمل ہے ‘ اور اس میں اسلامی منہاج حیات کے اصل عناصر ترکیبی کی طرف ہدایت کی گئی ہے ۔ اور اس کے فرائض بتائے گئے ہیں فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ……………جواب میں ان کے رب نے فرمایا۔” میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ‘ تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔ “ تم لوگوں کی جانب سے صرف تدبر اور تفکر ہی کافی نہیں ہے ۔ خشوع اور خضوع اور پرسوزدعا ہی کافی نہیں ہے۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوکر گناہوں کی معافی مانگنا ہی کافی نہیں ہے اور صرف نجات اخروی کی طلب ہی کافی نہیں ہے ۔ بلکہ عمل ضروری ہے ۔ مثبت عمل کی ضرورت ہے ۔ اور یہ مثبت عمل نتیجہ ہے ۔ اس غوروفکر اور توجہ الی اللہ کا ‘ اس آمادگی اور اس احساس جس کا اظہار اس پر سوز دعا میں ہوگا۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان مثبت عمل پر آمادہ ہو ‘ وہ عمل جسے اسلام اسی طرح عبادت تصور کرتا ہے جس طرح اسلام تفکر اور تدبر کو عبادت سمجھتا ہے ۔ جس طرح اسلام ذکر وفکر ‘ خوف و استغفار اور پر امید توجہ الی اللہ کو عبادت سمجھتا ہے ۔ وہ عمل جسے اسلام تمام عبادات کا ثمرہ قرار دیتا ہے ۔ اور یہ ثمرہ سب کی جانب سے قبول ہوگا ۔ مرد یہ عمل کریں یا عورتیں یہ عمل کریں ۔ اس عمل کے مقابلے میں جنس وصنف کی کوئی شرط نہیں ہے ۔ اس لئے کہ مرد اور عورت انسانیت میں بالکل مساوی ہیں ۔ وہ ایک دوسرے کے اجزاء اور آباء و اجداد ہیں اور قیامت کے ترازو میں برابر ہیں ۔ اس کے بعد ان اعمال کی تفصیل دی جاتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلام کے نظریہ حیات جان ومال کے ساتھ تعلق رکھنے والی کیا ڈیوٹیاں ہیں ۔ نیز ان اعمال کے ذکر سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس نظام زندگی کا مزاج کیا ہے ؟ اور وہ کیا گراؤنڈ ہے جس کے اوپر یہ نظام تعمیر ہوتا ہے۔ اور اس کے طریق کار کا مزاج کیا ہے اور اس میں کیا کیا رکاوٹیں اور کیا کیا کانٹے ہیں ۔ اور یہ کہ ان مشکلات پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کانٹوں کو ایک ایک کرکے چننے کی ضرورت ہے اور اس زمین میں پاک درخت لگانے کے لئے کس کس تیاری کی ضرورت ہے ۔ پھر اسے اس زمین پر تمکنت دینے کے لئے کن کن اقدامات کی ضرورت ہے ، چاہے جس قدر قربانیاں دینی پڑیں ۔ چاہے جس قدر مشکلات کو انگیز کرنا پڑے۔ فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا لأكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلأدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ ثَوَابًا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ ” لہٰذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے ‘ اور میری راہ میں اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے ‘ اور میرے لئے لڑے اور مارے گئے ان سب کے قصور معاف کردوں گا اور انہیں باغوں میں داخل کردوں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔ یہ ان کی جزا ہے اللہ کے ہاں اور بہترین جزا اللہ کے پاس ہے ۔ “ اس قرآن نے سب سے پہلے جن لوگوں کو خطاب کیا اور دعوت فکر دی ‘ ان کے یہی خدوخال تھے ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے مکہ سے ہجرت کی ‘ یہی لوگ تھے جن کو محض اپنے نظریہ حیات کی وجہ سے اپنے گھروں سے نکالا گیا۔ اس کے سوا ان کا اور کوئی قصور نہ تھا ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے اس نظریہ کی خاطر قتال کیا اور مارے گئے ۔ لیکن یہ خدوخال ان تمام لوگوں کے ہونے چاہئیں جو دعوت اسلامی کو لے کر اٹھتے ہیں ۔ جب بھی کوئی اٹھے اور جہاں بھی کوئی اٹھے ۔ یہی خدوخال ہوں گے ان لوگوں کے جو جاہلیت کے اندر پل رہے ہوں ‘ جو جاہلیت بھی ہو وہ ……جو دشمن کی سر زمین پر پل رہے ہوں جو دشمن بھی ہو وہ اور جو سرزمین بھی ہو وہ ……جو دشمن اقوام کے اندر ہوں ۔ جو قوم بھی ہو وہ اور ان لوگوں کا پیمانہ صبر لبریز ہوجائے۔ دشمنوں کی نیش رینوی اور ان کی لالچ اور ان کی خواہشات نفسانیہ ان کے آڑے آرہی ہوں ۔ اور جب وہ قلیل تعداد میں ہوں تو انہیں اذیت کا نشانہ بنایا جارہا ہو اور یہ حالات نہایت ہی ابتدائی دور میں تھے جبکہ وہ مستضعفین تھے۔ اس کے بعد اس پاک پودے نے ذرا قوت پکڑی اور ہر جگہ پر یوں ہی قوت پکڑتا ہے اور باوجود ان اذیتوں کے پکڑتا ہے۔ باوجود ہجرت اور جلاوطنی کے پکڑتا ہے ۔ اس کے بعد یہ قوت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجاتی ہے ۔ اس کے اندر مقابلے کی قوت پیدا ہوجاتی ہے اور پھر وہ اپنا دفاع کرسکتی ہے ۔ اس مرحلے پر پھر قتال ومقاتلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ یہ دشوار ‘ تلخ اور مشکل جدوجہد ہی دراصل گناہوں کا کفارہ بنتی ہے اور یہ اجزاء اور ثواب دنیا وآخرت کا سبب بھی بنتی ہے ۔ یہ ہے طریق کار ‘ یہ ربانی منہاج کار ہے ۔ جس منہاج زندگی کے لئے اللہ نے یہ طریق کار وضع کیا ہے کہ اسے انسانوں کی زندگی میں عملاً نافذ کرنے کے لئے انسانی جدوجہد کے ذرائع کو استعمال کیا جائے گا ۔ اسی طریق کے مطابق اور اسی مقدارجہاد کے مطابق جو مومنین اور مجاہدین فی سبیل اللہ ‘ اللہ کی راہ میں خالص اس کی رضاجوئی کے لئے کرتے ہیں۔ یہ ہے مزاج اس نظام حیات کا ‘ یہ ہیں اس کے عناصر ترکیبی اور یہ ہیں اس کے فرائض ‘ یہ ہے اس منہاج کا طریق تربیت ‘ یہ ہے اس کا طریقہ ہدایت و ارشاد کہ وہ اس کائنات میں غور وفکر کے وجدانی مرحلے سے گزر کر انسان کو مثبت عمل کی طرف منتقل کرتا ہے ۔ اور یہ عمل اس نظریاتی تاثرات کے مطابق ہوتا ہے اور اسی طرح یہ نظام زندگی قائم ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ جواب دعا میں ارض کفار کے اندر سازوسامان کے بھرے ہوئے بازاروں کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو اسلامی نظام زندگی کے دشمن اور نافرمان ہیں۔ متوجہ کیا جاتا ہے کہ ایک مسلمان اس سازوسامان کو وہی وزن دیتا ہے جو فی الحقیقت اس کا اس دنیا کیلئے ہے ۔ اور اسے اپنے لئے فتنہ نہیں بناتا ہے ۔ اور نہ اسے اہل ایمان کے لئے فتنہ بننے کا موقعہ دیتا ہے ۔ کیونکہ ‘ اس لئے کہ اہل ایمان بہت بڑی قربانیاں دے رہے ہیں ۔ انہیں ہدایت دی جارہی ہے۔ انہیں اپنے گھروں سے نکالا جارہا ہے اور انہیں قتل کیا جارہا ہے اس لئے دنیا کا سازوسامان ان کے لئے فتنہ نہ ہوجائے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

دعاؤں کی مقبولیت : (فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ اَنِّیْ لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی) (سو ان کے رب نے ان کی دعا کو قبول فرما لیا اور فرمایا کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا، مرد ہو یا عورت) اعمال کا ثواب سب کو ملے گا، جو کبھی کوئی فرد ایمان قبول کرے گا، اعمال صالحہ میں لگے گا، دعائیں کرے گا اس کا کچھ بھی ضائع نہ ہوگا، جیسے مردوں کے اعمال صالحہ مقبول ہیں اسی طرح عورتوں کے اعمال صالحہ بھی مقبول ہیں۔ (بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ ) (تم میں سے بعض بعض سے ہیں) اس کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں ماقبل سے مرتب ہونے کے اعتبار سے ” ضحاک “ کا قول اقرب معلوم ہوتا ہے جسے معالم التنزیل صفحہ ٣٢٧: ج ١ میں نقل کیا ہے رجالکم شکل نسائکم ونسائکم شکل رجالکم فی الطاعۃ یعنی اللہ کی فرمانبر داری میں مرد عورتوں کی طرح اور عورتوں مردوں کی طرح ہیں۔ جو بھی فرمانبر دار ہوگا اپنا اجر وثواب پائے گا۔ نیز اعمال خیر میں مرد عورتوں کے اور عورتیں مردوں کی معاون ہیں ایک دوسرے کے لیے خیر کا سبب ہیں جیسا کہ سورة توبہ میں فرمایا (وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ) (اور مومن مرد و عورتیں بعض بعض کے معاون اور مددگار ہیں) ۔ مہاجرین اور مجاہدین کا ثواب : (فَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ ) (الی قولی تعالیٰ ) (وَ اللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الثَّوَابِ ) (سو جن لوگوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میرے راستے میں انہیں ایذا دی گئی اور جنہوں نے قتال کیا اور جو مقتول ہوئے میں ضرور ضرور ان کی برائیوں کا کفارہ کر دوں گا اور ضرور ضرور ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ ان کو اللہ کی طرف سے بدلہ دیا جائے گا اور اللہ کے پاس اچھا بدلہ ہے) ۔ اس آیت میں چند اعمال خیر کا تذکرہ فرمایا پھر اصحاب اعمال کے بدلہ کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ ان کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اور یہ حضرات جنت میں داخل ہوجائیں گے جن اعمال کا تذکرہ فرمایا ان میں ایک ہجرت ہے۔ جن لوگوں نے دشمنوں کے مجبور کرنے سے دین حق پر باقی رہنے کے لیے اپنے وطن کو اور جاگیر و جائداد اور عزاء و اقربا کو چھوڑا ان کی بڑی قربانی ہے، نیز اللہ کی راہ میں جن لوگوں کو تکلیفیں پہنچائی گئیں اور وہ صبر و استقامت کے ساتھ ایمان پر باقی رہے اور اعمال صالحہ میں لگے رہے یہ عمل بھی بہت بڑا ہے جسے (وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ ) سے تعبیر فرمایا، نیز اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کا بھی تذکرہ فرمایا جس میں کافروں کو قتل کیا جاتا ہے اور اہل ایمان بھی مقتول ہوجاتے ہیں اس عمل کو وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْاسے تعبیر فرمایا، جہاد بہت بڑا عمل ہے جسے ایک حدیث میں چوٹی کا عمل بتایا، (ذروۃ سنامہ الجھاد ” مشکوٰۃ ص ١٤) مذکورہ بالا اعمال خیر کا بدلہ تکفیر سیئات اور دخول جنت کی صورت میں ہوگا، آخر میں فرمایا (وَ اللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الثَّوَابِ ) اس میں عمومی طور پر فرما دیا کہ نیک اعمال کا جو بدلہ اللہ کے پاس سے ملے گا وہ اچھا ہی ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

295 یہاں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا دعائیں کرنے والوں کو خوشخبری سنائی ہے کہ ان کی دعائیں اس نے قبول فرمالیں کیونکہ وہ کسی کا کوئی عمل ضائع نہیں کرتا۔ بلکہ ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل پر اجر وثواب دیتا ہے۔ عمل کرنیوالا خواہ مرد ہو یا عورت۔ اس لیے کہ وہ دونوں کوئی جدا جدا مخلوق نہیں ہیں بلکہ ایک ہی نوع کی دو شاخیں ہیں اور اعمال کی قبولیت تو عامل کے اخلاص پر موقوف ہے نہ کہ اس کے نر یا مادہ ہونے پر فَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَقُتِلُوْا سے وَ اللہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الثَّوَابِ تک مضمون جہاد کا اعادہ ہے اس میں قتال فی سبیل اللہ کی ترغیب دی گئی ہے اور مجاہدین و شہداء کے لیے بشارت اخروی کا ذکر ہے اور اس کے ضمن میں ترغیب الی الانفاق کا مضمون بھی آگیا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 پھر ان لوگوں کے پروردگار نے ان کا دعا قبول فرمالی اور ان کی درخواست منظور فرما لی اور یوں فرمایا کہ میرا دستور یہ ہے کہ میں کسی محنت کرنے والے کی محنت کو جو تم میں سے محنت کرنے والا ہو ضائع نہیں کیا کرتا اور جو شخص تم میں سے نیک عمل کرنے والا ہو اس کے نیک عمل کو اکارت اور ضائع نہیں کیا کرتا خواہ وہ نیک کام کرنے والا مرد ہو یا عورت ہو کیونکہ تم سب آپس میں ایک دوسرے کی مثل اور ایک دوسرے کے جزو ہو۔ لہٰذا جن لوگوں نے ہجرت اختیار کی وہ اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں وہ اور مختلف قسم کی تکلیفیں دیئے گئے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے میری راہ میں جہاد بھی کیا اور بہت سے شہید بھی کئے گئے تو میں ضرور ان لوگوں کی تمام خطائیں ان سے دور کردوں گا اور معاف کردوں گا اور یقیناً ان کو ایسے باغات میں داخل کردوں گا جن کے محلات اور سیرگاہوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ان کو یہ صلہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سے ملے گا اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس بہترین صلہ ہے۔ استجابت کے معنی ہیں جواب دینا۔ قبول کرلینا، منظور کرلینا کسی پکارنے والے کی پکار پر پہنچ جانا۔ انی لا اضیع۔ بطور سبب کے ہے کہ میرا قاعدہ اور میرا دستور اور میری عادت یہ ہے کہ تم میں سے ایمان لانے کے بعد جو شخص محنت شاقہ برداشت کرے گا اور اعمال نیک بجالاتا رہے گا تو میں اس کے کام کا صلہ اور ثواب ضائع نہیں کروں گا اور چونکہ اس معاملہ ، ثواب اور اجر میں مرد اور عورت کا کوئی فرق نہیں۔ اس لئے فرمایا بعضکم من بعد یعنی اس معاملہ میں مرد اور عورت سب ایک ہی جیسے ہیں یا یہ مطلب کہ سب کی اصل ایک ہی ہے یا یہ کہ مرد عورت سے اور عورت مرد سے ہے یعنی ایک دوسرے کا جزو ہے۔ (واللہ اعلم) ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں چند اقوال کا لحاظ رکھا ہے ورنہ معنی تو اور بھی بہت سے ہیں پھر اسی دستور پر تفریع ہے اور عمل کرنے والوں کے چند اہم اعمال کی تصریح ہے جو مضمون سابق کے مناسب ہے کہ جن لوگوں نے ترک وطن کیا اور یہ ترک وطن بھی ان بیچاروں کو مجبور کرکے کرایا گیا اور ان کو محض اس جرم میں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لے آئے تھے ان کو وطن سے اور ان کے گھروں سے نکالا گیا اور میرے راستے میں ان کو اور صدہا قسم کی تکلیفیں پہنچائی گئیں اور ترک وطن گھروں سے نکالا جانا اور ایذارسانی اور قتل و قتال اور شہادت یہ سب میری وجہ سے ہوئی اور مجھ پر ایمان لانے کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا اور میرا دستور یہی ہے کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کے اجر وثواب کو برباد نہیں کرتا لہٰذا ان انتھک کام کرنے والوں کو اپنے اعلان کے ذریعہ مطلع کرتا ہوں کہ میں ان لوگوں کے تمام قصور معاف کردوں گا اور تمام تقصیرات کو ان کی مٹادوں گا۔ تقصیرات سے مراد صغائر تو ظاہر ہی ہیں۔ جیسا کہ اکثر نے کہا ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ حقوق الٰہی کا جہاں تک تعلق ہے ان سیأت کو صغائر سے عام رکھا جائے۔ جیسا کہ بعض اکابر نے کہا ہے البتہ اس عام میں سے حقوق العباد کو مستثنیٰ کردیا جائے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ دین اور قرض معاف نہیں ہوتا۔ (واللہ اعلم) اور قٰتلوا اور قتلوا کا یہ مطلب نہیں کہ سب کے سب جہاد کرنے والے شہید ہوگئے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جو مرگئے وہ مرگئے باقی آخر تک میدان جہاد جمے رہے۔ جیسا کہ ہم نے تیسیر میں اشارہ کیا ہے کہ بہت سے مارے بھی گئے اسی طرح فی سبیلی کا تعلق بھی تمام افعال مذکورہ سے ہے۔ جیسا کہ ہم نے تسہیل میں وضاحت کردی ہے۔ واللہ عندہ حسن الثواب کا مطلب یہ ہے کہ بہترین اور اچھا صلہ تو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کہیں نہیں مل سکتا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس ثواب مذکور سے اور بہتر ثواب بھی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اس سے اشارہ قرب الٰہی اور دیدارِ الٰہی کی جانب ہو۔ (واللہ اعلم) اور نہروں کے نیچے بہنے کا مطلب وہی ہے جو ہم کئی دفعہ عرض کرچکے ہیں کہ باغوں کی سطح اونچی ہو اور نہروں کی سطح نیچی ہو یانہروں کے کنارے پر باغ ہوں اور یا یہ کہ جو بارہ دری اور محل اور سیرگاہ ہو اس کے نیچے نہروں کا پانی بہہ رہا ہو۔ (واللہ اعلم) اب آگے کافروں کے انجام کا بیان فرماتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم کا قاعدہ ہے تاکہ دونوں باتوں پر غور کرنے کا موقعہ مل جائے اور ایمان و کفر کی حقیقت اور دونوں کا انجام معلوم ہوتا رہے اور اوپر یہ بحث آبھی چکی ہے کہ کفار کے عیش اور اہل ایمان کی مصیبت سے دھوکہ نہ کھانا چاہئے۔ چناچہ پہلی آیت میں کفار کے عیش کی بےثباتی اور دوسری آیت میں اہل تقویٰ کا اجر وثواب اور تیسری آیت میں مؤمنین اہل کتاب جو اپنی شریعت کے بعد نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت پر ایمان لائے ان کے اجر وثواب کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)