ConjunctionVerbPersonal Pronoun

وَرَابِطُوا۟

and [be] constant

اور تیار رہو۔ آمادہ رہو۔ باہم رابطہ رکھو

Verb Form 3
Perfect Tense Imperfect Tense Imperative Active Participle Passive Participle Noun Form
رَبَطَ
يَرْبُطُ
اُرْبُطْ
رَابِط
مَرْبُوْط
رَبْط
Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رَبْطُ الْفَرَسِ کے معنی گھورے کو کسی جگہ پر حفاظت کے لیے باندھ دینے کے ہیں اور اسی سے رِبَاطُ الْجیْشِ ہے یعنی فوج کا کسی جگہ پر متعین کرنا اور وہ مقام جہاں حفاظتی دستے متعین رہتے ہوں اسے رِبَاط کہا جاتا ہے۔ اور رَبَطْتُ وَرَابَطتُ کا مصدر بھی رِبَاط آتا ہے۔ اور مُرَابَطَۃٌ کے معنی حفاظت کے ہیں۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے: (وَّ مِنۡ رِّبَاطِ الۡخَیۡلِ تُرۡہِبُوۡنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمۡ ) (۸:۶۰) اور گھوڑوں کے سرحدوں پر باندھے رکھنے سے جس سے تم اﷲ کے دشمن اور اپنے دشمن کو مرعوب کرو۔ (یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَ صَابِرُوۡا وَ رَابِطُوۡا) (۳:۲۰۰) (ان تکلیفوں کو جو راہ خدا میں تم کو پیش آئیں) برداشت کرو اور ایک دوسرے کو صبر کی ترغیب دو اور دشمن کے مقابلے کے لیے تیار رہو۔ پس معلوم ہوا کہ مُرَابَطَۃ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ اسلامی سرحدوں پر دفاع کے لیے پہرہ دینا اور دوسرے نفس کو ناجائز خواہشات سے روکنا اور اس میں کوتاہی نہ کرنا۔ جیسے مجاہدۂ نفس کی صورت میں ہوتا ہے اور اس مجاہدہ نفس کا ثواب بھی جہاد فی سبیل اﷲ کے برابر ہے جیساکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے(1): مِنَ الرِّبَاطِ اِنْتِظَارُ الصَّلٰوۃ بَعْدَ الصَّلٰوۃ: کہ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتطار کرنا بھی ’’رباط‘‘ ہے۔ فُلَان رَابِطْ الْجَأشِ فلاں مضبوط دل ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے: (لَوۡ لَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰی قَلۡبِہَا ) (۲۸:۱۰) اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ کیے رہتے (تو عجب نہ تھا کہ وہ ہمارا معاملہ ظاہر کردیتیں۔) (وَ لِیَرۡبِطَ عَلٰی قُلُوۡبِکُمۡ ) (۸:۱۱) تاکہ تمہارے دلوں کی ڈھارس بندھائے۔ اور اسی معنی کی طرف دوسرے مقام پر اشارہ فرمایا: (اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡاِیۡمَانَ وَ اَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡہُ ) (۵۸:۲۲) وہ خدا ہی تو تھا جس نے مسلمانوں کے دلوں میں تحمل ڈالا اور اپنے فیضان غیبی سے ان کی تائید کی۔ کیونکہ ان کے دل ایسے نہیں تھے۔ جیسے فرمایا: (وَ اَفۡـِٕدَتُہُمۡ ہَوَآءٌ ) (۱۴:۴۳) اور ان کے دل (ہیں کہ) ہوا ہوئے چلے جارہے ہیں۔ اور اسی سے فُلَانٌ رَابِطُ الْجَأْشِ کا محاورہ ماخوذ ہے جس کے معنی مضبوط دل شخص کے ہیں۔

Lemma/Derivative

1 Results
رابِطُ
Surah:3
Verse:200
اور تیار رہو۔ آمادہ رہو۔ باہم رابطہ رکھو
and [be] constant