Chastising the Jews for Their Disbelief and for Killing the Prophets and Righteous People
Allah says;
إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِأيَاتِ اللّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ
...
Verily, those who disbelieve in the Ayat of Allah and kill the Prophets without right,
This Ayah chastises the People of the Book for the transgression and prohibitions they committed by their denials in the past and more recent times, of Allah's Ayat and the Messengers.
They did this due to their defiance and rejection of the Messengers, denial of the truth and refusal to follow it. They also killed many Prophets when they conveyed to them what Allah legislated for them, without cause or criminal behavior committed by these Prophets, for they only called them to the truth.
...
وَيَقْتُلُونَ الِّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ
...
And kill those men who order just dealings,
thus, demonstrating the worst type of arrogance.
Indeed, the Prophet said,
الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاس
Kibr (arrogance) is refusing the truth and degrading people.
This is why when they rejected the truth and acted arrogantly towards the creation, Allah punished them with humiliation and disgrace in this life, and humiliating torment in the Hereafter.
Allah said,
...
فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
then announce to them a painful torment.
meaning, painful and humiliating.
أُولَـيِكَ الَّذِينَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالاخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ
انبیاء کے قاتل بنو اسرائیل
یہاں ان اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے جو گناہ اور حرام کام کرتے رہتے تھے اور اللہ کی پہلی اور بعد کی باتوں کو جو اس نے اپنے رسولوں کے ذریعہ پہنچائیں جھٹلاتے رہتے تھے ، اتنا ہی نہیں بلکہ پیغمبروں کو مار ڈالتے بلکہ اس قدر سرکش تھے کہ جو لوگ انہیں عدل و انصاف کی بات کہیں انہیں بےدریغ تہ تیغ کر دیا کرتے تھے ، حدیث میں ہے حق کو نہ ماننا اور حق والوں کو ذلیل جاننا یہی کبر و غرور ہے کہ مسند ابو حاتم میں ہے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب کسے ہو گا ؟ آپ نے فرمایا جو کسی نبی کو مار ڈالے یا کسی ایسے شخص کو جو بھلائی کا بتانے والا اور برائی سے بچانے والا ہو تکبر و غرور ہے ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا اے ابو عبیدہ بنو اسرائیل نے تینتالیس نبیوں کو دن کے اول حصہ میں ایک ہی ساعت میں قتل کیا پھر ایک سو ستر بنو اسرائیل کے وہ ایماندار جو انہیں روکنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے انہیں بھلائی کا حکم دے رہے تھے اور برائی سے روک رہے تھے ان سب کو بھی اسی دن کے آخری حصہ میں مار ڈالا اس آیت میں اللہ تعالیٰ انہی کا ذکر کر رہا ہے ، ابن جریر میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ۔ بنو اسرائیل نے تین سو نبیوں کو دن کے شروع میں قتل کیا اور شام کو سبزی پالک بیچنے بیٹھ گئے ، پس ان لوگوں کی اس سرکشی تکبر اور خود پسندی نے ذلیل کر دیا اور آخرت میں بھی رسوا کن بدترین عذاب ان کے لئے تیار ہیں ، اسی لئے فرمایا کہ انہیں دردناک ذلت والے عذاب کی خبر پہنچا دو ، ان کے اعمال دنیا میں بھی غارت اور آخرت میں بھی برباد اور ان کا کوئی مددگار اور سفارشی بھی نہ ہو گا ۔