Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 21

سورة آل عمران

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ یَقۡتُلُوۡنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیۡرِ حَقٍّ ۙ وَّ یَقۡتُلُوۡنَ الَّذِیۡنَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡقِسۡطِ مِنَ النَّاسِ ۙ فَبَشِّرۡہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۲۱﴾

Those who disbelieve in the signs of Allah and kill the prophets without right and kill those who order justice from among the people - give them tidings of a painful punishment.

جو لوگ اللہ تعالٰی کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں اور ناحق نبیوں کو قتل کر ڈالتے ہیں اور جو لوگ عدل و انصاف کی بات کہیں انہیں بھی قتل کر ڈالتے ہیں تو اے نبی! انہیں دردناک عذاب کی خبر دے دیجئے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Chastising the Jews for Their Disbelief and for Killing the Prophets and Righteous People Allah says; إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِأيَاتِ اللّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ ... Verily, those who disbelieve in the Ayat of Allah and kill the Prophets without right, This Ayah chastises the People of the Book for the transgression and prohibitions they committed by their denials in the past and more recent times, of Allah's Ayat and the Messengers. They did this due to their defiance and rejection of the Messengers, denial of the truth and refusal to follow it. They also killed many Prophets when they conveyed to them what Allah legislated for them, without cause or criminal behavior committed by these Prophets, for they only called them to the truth. ... وَيَقْتُلُونَ الِّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ ... And kill those men who order just dealings, thus, demonstrating the worst type of arrogance. Indeed, the Prophet said, الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاس Kibr (arrogance) is refusing the truth and degrading people. This is why when they rejected the truth and acted arrogantly towards the creation, Allah punished them with humiliation and disgrace in this life, and humiliating torment in the Hereafter. Allah said, ... فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ then announce to them a painful torment. meaning, painful and humiliating. أُولَـيِكَ الَّذِينَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالاخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ

انبیاء کے قاتل بنو اسرائیل یہاں ان اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے جو گناہ اور حرام کام کرتے رہتے تھے اور اللہ کی پہلی اور بعد کی باتوں کو جو اس نے اپنے رسولوں کے ذریعہ پہنچائیں جھٹلاتے رہتے تھے ، اتنا ہی نہیں بلکہ پیغمبروں کو مار ڈالتے بلکہ اس قدر سرکش تھے کہ جو لوگ انہیں عدل و انصاف کی بات کہیں انہیں بےدریغ تہ تیغ کر دیا کرتے تھے ، حدیث میں ہے حق کو نہ ماننا اور حق والوں کو ذلیل جاننا یہی کبر و غرور ہے کہ مسند ابو حاتم میں ہے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب کسے ہو گا ؟ آپ نے فرمایا جو کسی نبی کو مار ڈالے یا کسی ایسے شخص کو جو بھلائی کا بتانے والا اور برائی سے بچانے والا ہو تکبر و غرور ہے ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا اے ابو عبیدہ بنو اسرائیل نے تینتالیس نبیوں کو دن کے اول حصہ میں ایک ہی ساعت میں قتل کیا پھر ایک سو ستر بنو اسرائیل کے وہ ایماندار جو انہیں روکنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے انہیں بھلائی کا حکم دے رہے تھے اور برائی سے روک رہے تھے ان سب کو بھی اسی دن کے آخری حصہ میں مار ڈالا اس آیت میں اللہ تعالیٰ انہی کا ذکر کر رہا ہے ، ابن جریر میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ۔ بنو اسرائیل نے تین سو نبیوں کو دن کے شروع میں قتل کیا اور شام کو سبزی پالک بیچنے بیٹھ گئے ، پس ان لوگوں کی اس سرکشی تکبر اور خود پسندی نے ذلیل کر دیا اور آخرت میں بھی رسوا کن بدترین عذاب ان کے لئے تیار ہیں ، اسی لئے فرمایا کہ انہیں دردناک ذلت والے عذاب کی خبر پہنچا دو ، ان کے اعمال دنیا میں بھی غارت اور آخرت میں بھی برباد اور ان کا کوئی مددگار اور سفارشی بھی نہ ہو گا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

21۔ 1 یعنی ان کی سرکشی و بغاوت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ صرف نبیوں کو ہی انہوں نے ناحق قتل نہیں کیا بلکہ ان تک کو بھی قتل کر ڈالا جو عدل و انصاف کی بات کرتے تھے۔ یعنی وہ مومنین مخلصین اور داعیان حق جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ نبیوں کے ساتھ ان کا تذکرہ فرما کر اللہ تعالیٰ نے ان کی عظمت و فضیلت بھی واضح کردی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٥] انبیاء اور صالحین کے قتل ناحق کا کام دور نبوی کے یہود نے نہیں کیا تھا بلکہ ان کے اسلاف نے کیا تھا اور یہ واقعات اتنے مشہور و معروف تھے کہ کسی کو مجال انکار نہ تھی۔ پھر چونکہ دور نبوی کے یہودی اپنے اسلاف کے ایسے کارناموں پر راضی اور خوش تھے۔ لہذا قرآن نے بجا طور پر انہیں مخاطب کیا ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے تینتالیس (٤٣) پیغمبروں کو ایک ہی دن صبح کے وقت قتل کیا یہ کام بنی اسرائیل کے علماء اپنی حکومت کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعہ سرانجام دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو حکومت کے ذریعہ سولی پر چڑھانے کی مذموم کوشش کی تھی۔ جب یہ لوگ اتنے انبیاء کو قتل کرچکے تو ان کے متبعین اور اللہ سے ڈرنے والوں نے ان کے ایسے مذموم کارنامہ پر زبردست احتجاج کیا تو انہوں نے ان صالحین میں سے ایک سو ستر سر کردہ آدمیوں کو اسی شام قتل کردیا، اور یہ وہ لوگ تھے جو ان کو ایسی بری حرکتوں سے روکتے اور انصاف کرنے کا حکم دیا کرتے تھے اور ان انبیاء کے قتل کرنے کا اصل سبب وہی تھا جو قرآن نے واضح الفاظ میں بتلا دیا ہے کہ انبیاء کی اطاعت کرنے سے ان کا اپنا جاہ و اقتدار خطرہ میں پڑجاتا تھا۔ لہذا انہوں نے اپنی سرداریاں اور چودھراہٹیں بحال رکھنے کی خاطر انبیاء اور صالحین کو قتل کردینے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ انبیاء کا قتل بہت بڑے کبیرہ گناہوں سے ہے۔ حضرت ابو عبیدہ نے ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب کس کو ہوگا ؟ & آپ نے فرمایا &: جس نے کسی پیغمبر کو قتل کیا یا اچھی بات کہنے والے اور بری بات سے منع کرنے والے کو & نیز حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ نے ہمیں بہت سی احادیث سنائیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ اس قوم پر اللہ کا غضب بھڑک اٹھتا ہے جو اللہ کے رسول کو قتل کریں۔ (مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب اشتداد غضب اللہ من قتلہ رسول اللہ) [٢٦] یہود کے لیے خوشخبری کے لفظ کا استعمال تو بطور طنز ہے اور جو دردناک عذاب انہیں اس دنیا میں ملا اس کا اجمالاً ذکر ہم پہلے کرچکے ہیں۔ یہی قوم مغضوب علیہم قرار دی گئی اور ذلت و مسکنت ان کے مقدر کردی گئی۔ الا یہ کہ وہ دوسرے لوگوں کی پناہ میں آجائیں۔ رہا عذاب اخروی تو اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بتلادیا کہ ایسے ہی لوگ سب سے زیادہ سخت عذاب کے مستحق ہوں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ ۔۔ : اس میں اہل کتاب کی مذمت ہے، جن کی پوری تاریخ شاہد ہے کہ انھوں نے نہ صرف احکام الٰہی پر عمل کرنے سے انکار کیا بلکہ انبیاء اور ان لوگوں کو قتل کرتے رہے جنھوں نے کبھی ان کے سامنے دعوت حق پیش کی اور یہ تکبر کی آخری حد ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس شخص کے دل میں ذرہ برابر کبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ “ ایک آدمی نے عرض کیا : ” ایک آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا خوبصورت ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو۔ “ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بیشک اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر تو حق کے انکار اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔ “ [ مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ : ٩١، عن ابن مسعود (رض) ] اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” قیامت کے دن سب سے سخت عذاب اس شخص کو ہوگا جسے کسی نبی نے قتل کیا، یا جس نے کسی نبی کو قتل کیا ہو۔ “ [ مسند أحمد : ١؍٤٠٧، ح : ٣٨٦٧، عن ابن مسعود (رض) : الصحیحۃ ٢٨١ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the earlier part of the Surah, the text mostly beamed at the Christians. In verse 20, &those who have been given the Book& includes both Christians and Jews. Now, verses 21-22 here, talk about some of the unusual doings of Jews. Ruh al-Ma&ani while commenting on this verse reports a hadith from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as narrated by Ibn Abi Hatim (رض) . While explaining this verse, he said that Bani Isra&i1 slew forty three prophets at one and the same time. One hundred and seventy pious, elders stood up asking them to uphold justice. They slew them as well on the same day. (Bayan a1-Qura&n) In verse 21, &those who disbelieve the verses of Allah& refers to Jews who did not believe in the Injil انجیل and the Qur&an. &Slay the Prophets (علیہم السلام) unjustly means that they know that they are doing so without justice. &Those who bid justice& are people who teach moderation in deeds and morals. Because of this whole set of their terrible deeds, verse 22 says that all their good deeds have gone waste both here and there, and when they are punished, they will find no one to assist them.

خلاصہ تفسیر ربط آیات شروع سورة میں کلام کا زیادہ رخ نصاری کی طرف تھا، پھر آیت بالا میں (الذین اوتوا الکتاب) کا عنوان نصاری اور یہود دونوں کو شامل تھا، اب ان آیات میں یہود کے بعض خاص احوال کا بیان ہے، روح المعانی میں بروایت ابن ابی حاتم (رح) اس آیت کی تفسیر میں خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل نے تینتالیس (٤٣) نبیوں کو ایک وقت میں قتل کیا، ان کی نصیحت کے لئے ایک سو ستر (١٧٠) بزرگ کھڑے ہوئے، اسی دن ان کا بھی کام تمام کردیا۔ (بیان القرآن) بیشک جو لوگ کفر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ ( جیسے یہود کہ انجیل اور قرآن کو نہیں مانتے تھے) اور قتل کرتے ہیں پیغمبروں کو ( اور وہ قتل کرنا خود ان کے خیال میں بھی) ناحق (ہوتا ہے) اور (نیز) قتل کرتے ہیں ایسے شخصوں کو جو ( افعال و اخلاق کے) اعتدال کی تعلیم دیتے ہیں، سو ایسے لوگوں کو خبر سنا دیجیے سزائے درد ناک کی (اور) یہ وہ لوگ ہیں کہ ( مجموعہ افعال مذکورہ کے سبب سے) ان کے سب اعمال ( صالحہ) غارت ہوگئے دنیا میں ( بھی) اور آخرت میں ( بھی) اور (سزا کے وقت) ان کا کوئی حامی و مددگار نہ ہوگا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللہِ وَيَقْتُلُوْنَ النَّـبِيّٖنَ بِغَيْرِ حَقٍّ۝ ٠ ۙ وَّيَقْتُلُوْنَ الَّذِيْنَ يَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ۝ ٠ ۙ فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ۝ ٢١ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] نبی النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة والسلام لمن قال : يا نَبِيءَ اللہ فقال : «لَسْتُ بِنَبِيءِ اللہ ولكنْ نَبِيُّ اللهِ» لمّا رأى أنّ الرّجل خاطبه بالهمز ليَغُضَّ منه . والنَّبْوَة والنَّبَاوَة : الارتفاع، ومنه قيل : نَبَا بفلان مکانُهُ ، کقولهم : قَضَّ عليه مضجعه، ونَبَا السیفُ عن الضَّرِيبة : إذا ارتدَّ عنه ولم يمض فيه، ونَبَا بصرُهُ عن کذا تشبيهاً بذلک . ( ن ب و ) النبی بدون ہمزہ کے متعلق بعض علمائے نحو نے کہا ہے کہ یہ اصل میں مہموز ہے لیکن اس میں ہمزہ متروک ہوچکا ہے اور اس پر وہ مسلیمۃ بنی سوء کے محاورہ سے استدلال کرتے ہیں ۔ مگر بعض علما نے کہا ہے کہ یہ نبوۃ بمعنی رفعت سے مشتق ہے اور نبی کو نبی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے اندر معزز اور بلند اقداد کا حامل ہوتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ :۔ وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] اور ہم نے ان کو بلند در جات سے نوازا کے مفہوم سے سمجھاتا ہے پس معلوم ہوا کہ نبی بدوں ہمزہ ( مہموز ) سے ابلغ ہے کیونکہ ہر منبا لوگوں میں بلند قدر اور صاحب مرتبہ نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ جب ایک شخص نے آنحضرت کو ارہ بغض ا نبی اللہ کہہ کر کر پکارا تو آپ نے فرمایا لست ینبی اللہ ولکن نبی اللہ کہ میں نبی اللہ نہیں ہوں بلکہ نبی اللہ ہوں ۔ النبوۃ والنباوۃ کے معنی بلندی کے ہیں اسی سے محاورہ ہے ۔ نبا بفلان مکا نہ کہ اسے یہ جگہ راس نہ آئی جیسا کہ قض علیہ مضجعۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی بےچینی سے کروٹیں لینے کے ہیں نبا السیف عن لضربیۃ تلوار کا اچٹ جانا پھر اس کے ساتھ تشبیہ دے کر نبا بصر ہ عن کذا کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے کرا ہت کرنے کے ہیں ۔ غير أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ، ( غ ی ر ) غیر اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے قسط الْقِسْطُ : هو النّصيب بالعدل کالنّصف والنّصفة . قال تعالی: لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ بِالْقِسْطِ [يونس/ 4] ، وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ [ الرحمن/ 9] والقِسْطُ : هو أن يأخذ قسط غيره، وذلک جور، والْإِقْسَاطُ : أن يعطي قسط غيره، وذلک إنصاف، ولذلک قيل : قَسَطَ الرّجل : إذا جار، وأَقْسَطَ : إذا عدل . قال : أَمَّا الْقاسِطُونَ فَكانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَباً [ الجن/ 15] وقال : وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ [ الحجرات/ 9] ، وتَقَسَّطْنَا بيننا، أي : اقتسمنا، والْقَسْطُ : اعوجاج في الرّجلین بخلاف الفحج، والقِسْطَاسُ : المیزان، ويعبّر به عن العدالة كما يعبّر عنها بالمیزان، قال : وَزِنُوا بِالْقِسْطاسِ الْمُسْتَقِيمِ [ الإسراء/ 35] . ( ق س ط ) القسط ( اسم ) ( ق س ط ) القسط ( اسم ) نصف ومصفۃ کی طرح قسط بھی مبنی بر عدل حصہ کو کہتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ بِالْقِسْطِ [يونس/ 4] تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے ۔ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ [ الرحمن/ 9] اور قسط کے معنی دوسرے کا حق مررنا بھیآتے ہیں اس لئے یہ ظلم اور جو رے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے القسط پاؤں میں ٹیڑھا پن یہ افجع کی ضد ہے جس کے نزدیک اور ایڑیوں کی جانب سے دور ہو نیکے ہیں ۔ الا قساط اس کے اصل معنی کسی کو اس کا حق دینے کے ہیں اسی چیز کا نام انصاف ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ قسط الرجل فھو قاسط ) کے معنی ظلم کرنے اوراقسط کے معنی انصاف کرنے کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ أَمَّا الْقاسِطُونَ فَكانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَباً [ الجن/ 15] اور گنہگار ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ [ الحجرات/ 9] اور انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ فقسطنا بیننا ہم نے ( کسی چیز کو آپس میں برا بر تقسیم کرلیا چناچہ القسطاس تراز دکو کہتے ہیں اور لفظ میزان کی طرح اس سے بھی عدل ونصاف کے معنی مراد لئے جاتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَزِنُوا بِالْقِسْطاسِ الْمُسْتَقِيمِ [ الإسراء/ 35] اور جب تول کر دو تو ترا زو سیدھی رکھ کر تولا کرو ۔ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ بشر واستبشر : إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] ، وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] ، يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] ، وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] . ( ب ش ر ) البشر التبشیر کے معنی ہیں اس قسم کی خبر سنانا جسے سن کر چہرہ شدت فرحت سے نمٹما اٹھے ۔ مگر ان کے معافی میں قدر سے فرق پایا جاتا ہے ۔ تبیشتر میں کثرت کے معنی ملحوظ ہوتے ہیں ۔ اور بشرتہ ( مجرد ) عام ہے جو اچھی وبری دونوں قسم کی خبر پر بولا جاتا ہے ۔ اور البشرتہ احمدتہ کی طرح لازم ومتعدی آتا ہے جیسے : بشرتہ فابشر ( یعنی وہ خوش ہوا : اور آیت کریمہ : { إِنَّ اللهَ يُبَشِّرُكِ } ( سورة آل عمران 45) کہ خدا تم کو اپنی طرف سے بشارت دیتا ہے میں ایک قرآت نیز فرمایا : لا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ عَلِيمٍ قالَ : أَبَشَّرْتُمُونِي عَلى أَنْ مَسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ قالُوا : بَشَّرْناكَ بِالْحَقِّ [ الحجر/ 53- 54] مہمانوں نے کہا ڈریے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند بیٹے کی خوشخبری دیتے ہیں وہ بولے کہ جب بڑھاپے نے آپکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے اب کا ہے کی خوشخبری دیتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں ۔ { فَبَشِّرْ عِبَادِ } ( سورة الزمر 17) تو میرے بندوں کو بشارت سنادو ۔ { فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ } ( سورة يس 11) سو اس کو مغفرت کے بشارت سنادو استبشر کے معنی خوش ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے ( اور شہید ہوکر ) ان میں شامل ہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں ۔ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہیں ۔ وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] اور اہل شہر ( لوط کے پاس ) خوش خوش ( دورے ) آئے ۔ اور خوش کن خبر کو بشارۃ اور بشرٰی کہا جاتا چناچہ فرمایا : هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی ۔ وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری سے کرآئے ۔ يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] زہے قسمت یہ تو حسین ) لڑکا ہے ۔ وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] اس مدد کو تو خدا نے تمہارے لئے رذریعہ بشارت ) بنایا عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (ان الذین یکفرون بایات اللہ ویقتلون النبیین بغیرحق و یقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس فبشرھم یعذاب الیم، جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں جو خلق خدا میں عدل اور راستی کا حکم دینے کے لیئے اٹھیں ان کو دردناک سزا کی خوشخبری سنادو) حضرت ابوعبیدہ بن الجراح سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ قیامت کے دن کس شخص کی سزاسب سے زیادہ سخت ہوگی ؟ آپ نے فرمایا (رجل قتل نبیا اور رجل ھوب معروف تھی عن منکرء اس شخص کی سزاسب سے سخت ہوگی جس نے کسی نبی کو یا امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے شخص کو قتل کیا ہوگا) پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی پھر فرمایا، ابوعبیدہ ! بنی اسرائیل نے دن کے اول حصے میں اچانک حملہ کرکے تینتا لیس انبیاء کو بیک وقت قتل کردیا تھا پھر بنی اسرائیل میں سے ایک سوبارہ عابدوزاہدلوگ میدان میں آگئے اور انہوں نے ان قاتلین کو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی تبلیغ شروع کردی شام ہوتے ہوتے یہ تمام لوگ موت کے گھاٹ اتاردیئے گئے یہ سب کچھ ایک دن میں ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان ہی لوگوں کا ذکر کیا ہے۔ اس آیت میں قتل کے خوف کے باوجود غلط اور ناجائز بات کی نزدید کا جواز موجود ہے۔ یہ ایسا اد نچامقام ہے جس کے لیئے اللہ کی طرف سے اجرحبزیل کا استحقاق ہوجاتا ہے اس لیئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف کی ہے کہ جب انہوں نیامربالمعروف اور نہی عن المنکر کیا تو جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ حضرت ابوسعید خدری اور دوسرے حضرات نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آپ کے اس قول کی روایت کی ہے کہ (افضل الجھاد کلمۃ حق عند سلطان جائر، ظالم حاکم یاسلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا افضل جہاد ہے۔ ) ایک روایت میں ہے کہ جس کی وجہ سے اسے جان سے ہاتھ دھونا پڑجائے، امام ابوحنیفہ نے عکرمہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ (افضل الشھداء حمزۃ بن عبدالمطلب ورجل تکلم بکلمۃ حق عندسلطان جائر فقتل، افضل شہید حمزہ بن عبدالمطلب ہیں نیزوہ شخص جو کسی ظالم سلطان کے سامنے کلمہ حق کہدے اور پھر اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ ) عمروبن عبید کا قول ہے کہ ہمیں بھلائی اور نیکی کے کاموں میں کسی ایسے کام کے بارے میں علم نہیں ہے جو عدل وانصاف قائم کرنے سے بڑھ کر افضل ہو جس پرا سے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑجائے۔ اللہ تعالیٰ نے (فبشرھم بعذاب الیم) فرمایا حالان کہ اس سے پہلے جس چیز کی خبردی گئی تھی اس کا تعلق ان کے اسلاف سے تھا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمان سے میں موجود کفار اپنے آباؤ واجدا کے قبیح افعال سے پوری طرح خوش اور ان پر رضامند تھے اس لیئے وعید کی خبرسنا نے میں انہیں بھی ان کے ساتھ شامل کرگیا۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (فلم تقتلون انبیاء اللہ من قبل ، تم اس سے پہلے اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کرتے تھے ؟ (الذین قالوا ان اللہ عھدالینا الانؤمن یوسول حتی یا تینا بقربان تأکلہ النارقل قدجاء کم رسل من قبلی بالبینت بالذی قلتم فلم قتلتموھم ان کنم صادقین، جو لوگوں کہتے ہیں، اللہ نے ہمیں ہدایت کردی ہے کہ ہم کسی کو رسول تسلیم نہ کریں جب تک وہ ہمارے پاس ایسی قربانی نہ کرے جسے غیب سے آکر آگ کھالے۔ ان سے کہو، تمہارے پاس مجھ سے پہلے بہت سے رسول آچکے ہیں۔ جو بہت سی روشن نشانیاں لائے تھے اور وہ نشانی بھی لائے تھے جس کا تم ذکر کرتے ہو۔ پھر اگر (ایمان لانے کے لیئے یہ شرط پیش کرنے میں) تم سچے ہو تو ان رسولوں کو تم نے کیوں قتل کیا) اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو قتل کرنے کی نسبت ان کافروں کی طرف کردی جو آیت میں مخاطب تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے اسلاف کے ان افعال قبیحہ پر راضی تھے اور ان سے اپنی محبت اور تعلق کا دم بھرتے تھے اس بناپر یہ بھی عذاب اور سزا کے استحقاق میں ان کے ساتھ اسی طرح شریک ہوگئے جس طرح انبیاء (علیہم السلام) کے قتل پر رضا کے اظہار میں ان کے ساتھ شریک تھے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢١) بیشک جو لوگ انکار کرتے ہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نبی برحق ہونے کا اور قرآن کریم کے کتاب الہی ہونے کا اور انبیاء کرام کو قتل کرتے ہیں حالانکہ یہ قتل کرنا خود ان کے نزدیک بھی برا ہے نیز ایسے مومنین کو بھی قتل کرتے ہیں جو انبیاء کرام پر ایمان لائے اور توحید کا حکم دیتے ہیں تو ایسے مومنین کے قاتلین کو ایک درد ناک سزا کی خبر سنا دیجیے کہ جس کی شدت ان کے جسموں سے گزر کر دلوں تک سرایت کرجائے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢١ (اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ ) (وَّیَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِلا) اس لیے کہ انصاف کی بات تو بالعموم کسی کو پسند نہیں ہوتی۔ اَلْحَقُّ مُرٌّ (حق بات کڑوی ہوتی ہے) ۔ بہت سے مواقع پر کسی حق گو انسان کو حق گوئی کی پاداش میں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔ یہاں پھر عدل و قسط کا معاملہ آیا ہے۔ اللہ خود قَآءِمًا بالْقِسْطِہے اور اللہ کے محبوب بندے وہی ہیں جو عدل کا حکم دیں ‘ انصاف کا ڈنکا بجانے کی کوشش کریں۔ تو فرمایا کہ جو ایسے لوگوں کو قتل کریں۔۔ (فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ) ۔ لفظ بشارتیہاں طنز کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

19. This is a sarcastic remark. Its purpose is to bring home to them that the misdeeds about which they are so jubilant, and which they regard as their proud achievements, will ultimately lead them to a painful end.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :19 یہ طنزیہ انداز بیان ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے جن کرتوتوں پر وہ آج بہت خوش ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ ہم بہت خوب کام کر رہے ہیں ، انہیں بتا دو کہ تمہارے ان اعمال کا انجام یہ ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(21 ۔ 22) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو آخری شریعت کی پابندی کی تاکید کا حکم فرمایا تھا کہ اہل کتاب مشرکین مکہ سب کو یہ حکم پہنچا دو اس حکم کی تعمیل میں مدینہ منورہ کے گردونواح میں جو یہود رہتے تھے وہ اکثر حجتیں کیا کرتے تھے رجم کی آیت کے منکر ہوگئے۔ اسی طرح اور طرح طرح کے فساد کرتے تھے جن سے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رنج ہوا کرتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسکین فرمائی کہ یہ لوگ جو کچھ برتاؤ اے اللہ کے رسول تمہارے ساتھ کر رہے ہیں ان کی یہ عادت نئی نہیں ہے ان کے بڑے تورات اور انجیل کے احکام پہنچانے والے انبیاء اور ان کے نائب علماء کے ساتھ بڑی بڑی بد سلوکیاں کے ساتھ پیش آچکے ہیں ابن جریر میں ابو عبیدہ بن الجراح (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک زمانہ میں بنی اسرائیل نے تینتالیس انبیاء صاحب تورات کو صبح سے سہ پہر تک قتل کیا اور پھر سہ پہر کو ایک سو بارہ ١١٢ علماء کو قتل کیا ١۔ پھر آخر پر ان یہود کو اللہ تعالیٰ نے یہ نتبیہ فرمائی کہ یہ لوگ کلام الٰہی کے انکار کے اگر اسی طرح درپے رہے تو ان کو سخت عذاب میں مبتلا ہونا پڑے گا جس سے ان کو کوئی بچا نہ سکے گا۔ اور دنیا میں کوئی نیک عمل ان سے بن آئے گا تو وہ آخری شریعت کے انکار کے وبال سے قبول نہ ہوگا۔ کیونکہ اس آخری زمانہ میں سوائے اس آخری شریعت کی پابندی کے کسی کا کوئی نیک عمل اللہ کی درگاہ میں قابل قبول نہیں۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:21) یامرون بالقسط۔ جو عدل و انصاف کا حکم کرتے تھے۔ الیم۔ دردناک ۔ الم ۔ درد۔ دکھ۔ تکلیف۔ جمع آلام ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

8 اس میں اہل کتاب کی مذمت ہے جن کی پوری تاریخ شاہد ہے کہ انہوں نے نہ صرف احکام الہیٰ پر عمل کرن سے انکار کیا بلکہ انبیا اور ان لوگوں کو قتل کرتے رہے ہم میں جنہوں نے کبھی ان کے سامنے دعوت حق پیش کی اور یہ انہتائی تکبر ہے۔ حضرت ابو عبیدہ (رض) بن جراح نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ قیامت کے دن سب سے سخت عذاب کس شخص کو دیا جائے گا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو جس نے کسی نبی یا امر المعروف ونہی عن المنکر کرنے والے شخص کو قتل کیا۔ اس کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (ابن جریر۔ْ ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 21 30 اسرارو معارف ان الذین یکفرون………………لا یظلمون۔ بعض طبائع مسخ ہوجاتے ہیں اور ایسے برباد ہوتے ہیں کہ نسلوں تک میں ان کا اثر پایا جاتا ہے فرمایا یہ معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ آج کے اہل کتاب صرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا ہی انکار نہیں کر رہے بلکہ جن کے یہ متبع ہیں۔ وہ تو انبیاء (علیہم السلام) کو ظلماً قتل بھی کرتے تھے بلکہ جن لوگوں نے انصاف کا حکم دیا یا سچی اور کھری بات کہی تو انہیں بھی قتل کردیا۔ تو اے نبی ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو دردناک عذاب کی بشارت یعنی اطلاع دے دی۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ نبی اسرائیل یعنی یہودنے دن کے اول حصہ میں محض اقتدار اور حکومت کے لالچ میں چالیس انبیاء کو قتل کردیا حالانکہ وہ خوب جانتے تھے کہ یہ قتل ناحق ہے اسی لئے بغیر حق ارشاد ہوا ۔ ورنہ انبیاء کا قتل تو ناحق ہی تھا یہاں بغیر حق کہنے سے مراد کہ خود ان کے نزدیک بھی ناحق تھا اور پھر اس قتل ناحق پر ملامت کرنے اور حق کا حکم کرنے کے لئے ان کے متبعین میں سے ایک سو بیس آدمی کھڑے ہوگئے۔ اسی روز پچھلے پہر ان کو بھی قتل کردیا۔ تو یہ یہود چونکہ انہی کے پیروکار اور ان کے افعال پر راضی ہیں۔ تو ان کا مزاج ہی دیکھ لیں۔ یہ حق کو حق جان کر بھی قبول نہ کریں گے۔ ایسے بدکاروں کو دردناک عذاب کی خبر کردیں۔ بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال رائیگاں ہوگئے۔ دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں بھی عذاب کا شکار اور کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہوگا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیکھیں تو کیسی تعجب خیزبات ہے کہ جن لوگوں کو توراۃ کا تھوڑا سا علم دے دیا گیا کہ پوری توراۃ تو نہ ان کے پاس تھی نہ ساری پہ ان کا ایمان تھا۔ جب ان کو اللہ کی کتاب کے فیصلہ کی دعوت دی جاتی ہے کہ آپ کی ذات اور بعثت کے بارے تو اس توراۃ میں بھی موجود تھا جو ان کے پاس تھی اور یا پھر قرآن کریم کی ارشاد کے مطابق دعوت دی جاتی ہے کہ اس کے مطابق فیصلہ کرلیں تو ان میں ایک گروہ کترا کے نکل جاتا ہے اور کتاب اللہ کے فیصلے سے منہ موڑ لیتا ہے یعنی وہی آبائی مزاج ہے کہ ریاست کے لالچ میں انبیاء (علیہم السلام) کو ظلماً شہید کیا۔ یہ بدکار بھی بجائے اتباع کے حضور پرنور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتل کے درپے رہے۔ مسلمانوں کو ان پر اعتبار نہ کرنا چاہیے۔ اللہ اس قوم کو ہدایت نصیب فرمائے اور دین کے رہزنوں سے محفوظ رکھے ! آمین۔ فرمایا کہ ذرا غور کرو ، اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ان سب کو اس روز اکٹھا کریں گے جس کے وقوع میں ذرا برابر شبہ نہیں اور پھر ہر شخص کو اس کے اپنے عمل کا پورا پورا بدلہ دیں گے۔ نہ نیکی میں سے کوئی شے گھٹائی جائے گی ، نہ بدی میں کوئی اضافہ کیا جائے گا اور کسی کی حق تلفی نہ کی جائے گی جیسے کہ انہوں نے فرض کررکھا ہے۔ قل اللھم مالک الملک…………بغیر حساب۔ بدرواحد میں تباہی سے دو چار ہونے کے بعد مشرکین واہل کتاب سب میں ایک ہیجان پیدا ہوگیا اور حسد کی آگ میں جلنے لگے کہ ان کی نظروں کے سامنے ایک اسلامی ریاست تشکیل پارہی تھی۔ سب نے سازش تیار کی اور فیصلہ ہوا کہ یہود نصاریٰ اور مشرکین عرب سب مل کر یکبارگی مدینہ منورہ پر حملہ کردیں اور اسلام اور مسلمانوں کا نام صفحہ ہستی سے مٹا دیں۔ اس غرض سے ایک بہت بڑا لشکر تیار ہو کر مدینہ منورہ کی طرف بڑھا۔ اس جنگ کو غزوہ احزاب یا غزوہ خندق کہا جاتا ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مشورہ سے شہر کے گرد خندق کھودنے کا حکم دیا۔ تقریباً چالیس ہاتھ جگہ دس دس صحابہ (رض) میں بانٹی گئی جس کی چوڑائی اور گہرائی بھی اسی قدر تھی کہ کوئی سواریا پیادہ اسے عبور نہ کرسکے۔ وقت بہت کم تھا مگر جاں نثار صحابہ (رض) اس طرح کام میں جتے کہ کھانے اور رفع حاجت تک کے لئے وقت نکالنا مشکل ہورہا تھا۔ لوگوں نے بھوک کی وجہ سے پیٹوں پر پتھر باندھے۔ خود سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شکم مبارک پر دو پتھر باندھے تھے اور کام مطلوبہ چند دنوں کے اندر مکمل ہوگیا۔ اثنائے کار ایک جگہ کھدائی میں ایک چٹان حائل ہوگئی جو کسی طرح ٹوٹ نہ رہی تھی اور اس دس آدمیوں کی ٹولی میں حضرت سلمان فارسی (رض) بھ تھے جو خندق کی تجویز کندہ تھے ، باقی ساتھیوں نے رائے دی کہ خندق میں تھوڑا سا ٹیڑھا پن پیدا کرکے چٹان چھوڑ دیں اور خندق کھود لیں کہ مقصد تو دشمن کو روکنا ہے۔ اتباع نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معیار : حضرت سلمان (رض) نے فرمایا کہ یہ تو درست ہے مگر خندق کھودنے کے لئے جگہ خود محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقرر فرمائی ہے اور اپنے دست مبارک سے لکیر لگائی ہے اس لکیر سے کون ہٹنے کی جرات کرے گا تو سب خاموش ہوگئے ۔ آج کے مسلمان کے لئے اس میں درس عبرت ہے جس کے سامنے سنت کی کوئی قیمت نہیں اور جو جی میں آئے کر گزرتا ہے۔ رواج اور رسومات کو نہیں چھوڑتا۔ خواہ کتنی سنتیں پامال ہوجائیں۔ حضرت سلمان (رض) بات لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور حکم چاہا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنفس نفیس تشریف لے گئے ، کدال دست مبارک میں لیا اور ضرب لگائی تو ایک نور چمکا جس سے مدینہ روشن ہوگیا اور چٹان کا ایک حصہ ٹوٹ گیا۔ ارشاد ہوا مجھے اسی روشنی میں ملک فارس کے محلات دکھائے گئے۔ اسی طرح دوسری ضرب پہ روشنی ہوئی تو ارشاد فرمایا کہ مجھے رومیوں کے سرخ محلات دکھائے گئے اور تیسری ضرب پر چٹان ریزہ ریزہ ہوگئی۔ شعلہ نکلا تو ارشاد ہوا کہ مجھے صنعاء یعنی یمن کے پایہ تخت کے محلات دکھائے گئے۔ ہر ضرب پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور ساتھ صحابہ کرام (رض) نے بھی نعرہ تکبیر بلند فرمایا۔ اسلام میں اس کے علاوہ کسی نعرے کی ضرورت بھی نہیں۔ باقی نعرے بازیاں یار لوگوں کی ایجاد ہیں۔ حضور پر نور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبر دی اور بشارت دی کہ مجھے جبرائیل امین (علیہ السلام) نے خرب دی ہے کہ یہ تمام ممالک میری امت کے ہاتھ پر فتح ہوں گے اس پر منافقین اور یہودی کہنے لگے کہ جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں چھپنے کے لئے خندق کھودی جارہی ہے اور خواب دیکھے جا رہے ہیں فارس ، روم اور یکن کی فتوحات کے مسلمان کا مذاق اڑایا کہ آئندہ چند روز میں شاید تمہارا نشان بھی نہ رہے تو روک وفارس کون فتح کرے گا ؟ ارشاد باری ہوا کہ اے نبی ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمادیجئے کہ اے اللہ ! تو مالک الملک ہے۔ یہ سب واقعہ تو میں نے بطور شان نزول اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیشگوئی کے طور پر نقل کیا ہے ورنہ تو پیچھے بات چل رہی تھی کہ حکومت و ریاست کے لالچ میں انبیاء کو قتل کیا اور اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا دینے کے درپے ہیں۔ فرمادیجئے کہ اللہ مالک الملک ہے اور جسے چاہے ملک ، سلطنت اور حکومت بخش دے اور جس سے چاہے جس قدر چاہے واپس لے لے۔ دنیا وآخرت میں یا دونوں عالم میں جسے چاہے اپنی مدد اور توفیق سے عزت دے دے اور جسے چاہے بدبختی اور عدم توفیق ۔ نیز عذاب کی وجہ سے ذلت سے دوچار کردے۔ ہر طرح کی بھلائی صرف تیرے قبضہ قدرت میں ہے ، اور تو ہر چیز پہ قادر ہے تو جو چاہے کرسکتا ہے۔ یہاں صرف خیر کا ذکر ہے حالانکہ شر بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے تو عرض ہے کہ جو اللہ کی طرف سے ہوتا ہے سب خیر ہے خواہ ایک قوم کے لئے نقصان کا باعث ہو گمر مجموعہ عالم پر نگاہ کی جائے تو اس میں بہتوں کا بھلا ہوتا ہے جیسا کہ متبنی کا مصرعہ ہے ؎ مصائب قوم عند قوم فوائد اور اصل تو خیر سے وجود مراد ہے اور وجود حقیقی صرف حق تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے جو سراسر خیر ہے رہا ممکنات کا وجود تو وہ ظلی ہے ، واجب کا پرتو ہے ورنہ ممکن کی حقیقت میں شر داخل ہے یعنی عدم۔ اس کے بعض افراد شر میں زیادہ اور بعض کم ہیں۔ بہرحال معدوم الذات کو وجود ظلی وجود حقیقی سے ملا ہوا ہے اسی لئے شر کی نسبت بھی اللہ کی طرف کردی جاتی ہے ورنہ اصل بات تو یہی ہے کہ بیدک الخیر۔ یہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیشگوئیوں اور انقلابات عالم کی ایک تصویر کھینچ دی ہے کہ اے عادوثمود اور قوم نوح وغیرہ کے انجام سے بیخبر لوگو ! ہر شے کو اسباب ظاہری اور شان و شوکت کے تابع نہ دیکھو بلکہ اللہ قادر ہے ، ایک پل میں سب الٹ سکتا ہے۔ پھر عہد فاروقی کا وہ بار آفریں نظارہ ! جب یہ تمام ممالک خادمان نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیر نگیں ہوئے۔ صد یف ہے ان لوگوں پر ، جو اس فاروق (رض) پر طعن کرتے ہیں جس کے دست مبارکہ پہ اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیشگوئیاں پوری فرمائیں تو اس رطح نہ صرف عظمت فار ، قی پر حرف آتا ہے بلکہ دلائل نبوت اور صداقت نبوت بھی مجروح ہوتے ہیں۔ ابعیاذ باللہ۔ حد یہ ہے کہ ایسا کرنے والے صرف اپنے کو مسلمان اور دوسروں کو اس سے محروم سمجھتے ہیں۔ بریں عقل و دانش بباید گریست تو ایسا قادر ہے کہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے یعنی آسمانی طاقتیں اور فلکیات بھی تیرے تابع فرمان ہیں۔ تو جب چاہے رات کے جزاء دن میں اور دن کے رات میں داخل کرکے گھٹا بڑھا دے یعنی زمینی سلطنتوں کی کیا حیثیت ہے ۔ شمس وقمر تیرے حکم سے سرگرداں ہیں اور روحانیت تیرے قبضہ قدرت میں کہ تو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے پیدا کردیتا ہے یعنی بیضہ یا نطفہ سے انسان ، بیج سے درخت ، کافر کے گھر مومن ، آذر کے گھر ابراہیم کو پیدا فرمادیتا ہے۔ یعنی آپ کی قدرت کاملہ تمام عالم پہ محیط ہے ۔ عناصر قوتیں ، حکومتیں ، عالم افلاک اور روحانیت سب تیرے قبضہ قدرت میں ہیں اور تیری حک موت سب پر جاری وساری ہے اور تو جس کو چاہے اتنا بخش دے کہ مخلوق اس کے حساب تک سے سے عاجز آجائے۔ ان آیات کریمہ کو آیت الکرسی کے ساتھ فرض نمازوں کے بعد پڑھنا بہت زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ لا یتخذ المومنون………………واللہ روف بالعباد۔ اس جملہ بحث کے بعد کفار کے ساتھ تعلقات کے بارے ارشاد ہوا کہ مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ساتھ موالات یعنی دوستی اور محبت ہرگز نہ کرنی چاہیے ، چہ جائیکہ رشتہ داری بناتے پھریں۔ مومن کو صرف مومن سے دوستی سزاوار ہے۔ کافر کے ساتھ تعلقات کی صورت : کفارکا دوست مومنین کی دوستی سے محروم ہوجائے گا اور کفار کی دوستی بجائے خود بھی تو بری ہے غرض کسی طرح بھی خواہ رشتہ داری کی صورت میں ہو یا دوستی کی شکل میں ، جہاد میں مدد کے لئے ہو یا دینی امور میں اعانت کے لئے۔ کسی طرح بھی جائز نہیں۔ یہ درست نہیں کہ دشمنان صحابہ سے چندہ لے کر مساجد میں پنکھے آویزاں کرے۔ یہ حرام ہے۔ اگر کوئی کافروں سے دوستی رکھے گا تو اللہ سے اس کی دوستی کا کوئی رشتہ نہیں ، نہ کوئی تعلق ہے یعنی کفار کی دوستی جیسے مسلمانوں کی محبت کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی اسی طرح اللہ کی دوستی کے ساتھ یکجا نہیں ہوسکتی۔ ہاں ! اگر کفار کی طرف سے کسی شر کا اندیشہ ہو تو صرف دفع شر کی حد تک نہ کہ عبادات ، معاملات اور امور زندگی میں ان کے تابع ہوجائو۔ یہاں تقیہ کی جڑ کٹ رہی ہے کہ تعلقات کی کئی اقسام ہیں۔ اول موالات ہے یعنی دلی دوستی ، محبت ، رشتہ داری۔ یہ صرف مومنین کے ساتھ مخصوص ہے غیر مسلم سے قطعاً کسی حال میں جائز نہیں۔ دوسرا درجہ مواسات کا ہے بحیثیت انسان ہمدردی وخیر خواہی۔ یہ سوائے اہل حرب کے یعنی جو مسلمانوں سے برسرپیکار ہوں دوسروں سے جائز ہے۔ تیسرا درجہ مدارات کا ہے جس کا معنی خوش خلقی اور دوستانہ برتائو کا ہے۔ یہ تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے جبکہ اس سے ان کے مذہب کو کوئی تقویت نہ پہنچے ، اگر ایسا ہو تو یہ بھی جائز نہیں۔ یہی مفہوم الا ان تتقوا منھم تقۃ۔ کا ہے کہ مدارات جائز ہے مگر بقدر ضرورت ، نہ یہ کہ ان کے ساتھ مل کر حرام کھانے لگو یا گناہ کا ارتکاب کردیا عبادات میں ان کے ساتھ شامل ہوجائو یا مسلمانوں کے راز ان پر افشاء کرو یہ سب سختی کے ساتھ منع ہیں اور یہیں سے تقیہ کی حرمت ثابت ہے کہ تقیہ کرانے والوں نے تو سیدنا علی المرتضیٰ (رض) کو عقائد ، معاملات ، عبادات اور رشتہ داری تک میں خلفائے ثلاثہ (رض) کا ایسا تابع بنایا کہ سب ان کی اقتداء میں کرتے رہے۔ سیدنا فاروق اعظم (رض) کو بیٹی بیاہ کردے دی اور ایسے مطیع ہوئے جب خلافت ان کو مل گئی تو بھی ان کے اتباع سے سر موانحراف نہ کیا۔ اور یا لوگوں نے کہا کہ یہ سب تقیہ تھا۔ ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہئے اس کے بعد چوتھا درجہ معاملات کا ہے مثلاً تجارت ، ملازمت ، مزدوری یا صنعت وحرفت۔ یہ سب غیر مسلموں سے اس صورت میں جائز ہیں کہ کسی مسلمان کا اس میں نقصان نہ ہو۔ خود عہد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں صحابہ کرام کا تعامل اور خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانے میں مسلمانوں کے کفار سے تعلقات اس پہ بہترین نمونہ ہیں۔ گویا یہ طے ہوا کہ دلی دوستی کافر سے ہرگز جائز نہیں اور خوش خلقی یا کاروباری تعلقات اس حد تک جائز ہیں جب تک عام مسلمانوں کا اس میں نقصان نہ ہو۔ ورنہ کافر کی دوستی غضب الٰہی کو دعوت دینا ہے جو بہت سخت ہے اور جس سے اللہ تعالیٰ تمہیں ڈرارہا ہے اور یہ بھی یادرکھو کہ تمہیں اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے کہ انسان کے تمام امور ، کاروبار ریاست ہوں یا سیاست ، عائلی تعلقات ہوں یا منزلی ، سب آخرت کے لئے اور رضائے باری کے حصول کے لئے ہیں مومن کی ساری زندگی اس ایک مقصد کے گرد گھومتی ہے جبکہ کافر سب سے زیادہ اسی مقصدکو نقصان پہنچانے والا ہے پھر دوستی کیسی ؟ مومن کی دوستی دشمنی اللہ کے لئے ہے جیسا کہ ارشاد ہے من احب للہ وابغض للہ فقد استکمل الایمان۔ کہ جس نے دوستی اور دشمنی صرف اللہ کے لئے وقف کردی اس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا۔ اور پھر تم اللہ سے کچھ پوشیدہ نہیں رکھ سکتے خواہ کسی شے کو دل میں چھپا کے رکھو یا ظاہر کردو۔ اللہ ہر حال میں جانتا ہے بلکہ ارض وسما کی ہر شے سے ہر وقت آگاہ ہے جب ہر شے کا وجود ہی اس کے علم اور اس کی قدرت سے ہے تو پھر اس پر کوئی شے کس طرح پوشیدہ رہ سکتی ہے اور وہ ہر چیز پہ قادر ہے اس کا علم ہمہ گیر اور اس کی قدرت محیط کل ہے تو پھر اس کی نافرمانی اور کافر سے دوستی کس قدر نادانی اور خلاف عقل ہے۔ ایک روز ایسا ہوگا کہ ہر شخص اپنی کی ہوئی بھلائی کو اپنے سامنے موجود پائے گا ، اسی طرح جو برائی کی ہوگی وہ بھی سامنے ہوگی اور وہ تمنا کرے کہ اے کاش ! اس کے اور اس کی برائی کے درمیان ایک لمبی مسافت ہوتی ، یہاں تنبیہ فرمائی کہ دیکھو روز حشر تمہارے نامہ اعمال میں کفار کی محبت نہ نکل آئے جو اس روز تم پسند نہ کرو اور جان چھڑانا چاہو۔ حدیث شریف میں ہے کہ تو اسی کے ساتھ ہوگا جس سے تجھے محبت ہوگی ۔ روز حشر کو یادرکھو اور اللہ کے عذابوں سے ڈرتے رہو کہ اللہ بندوں پہ بہت مہربان ہے۔ تمہیں تباہی اور بربادی کے اسباب سے قبل از وقت مطلع کررہا ہے کہ تم اپنے آپ کو اس کے عذاب سے بچا سکو اور اس کی مرضیات کو پانے میں کوشاں رہو۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اسلام چھوڑ کر جس نے کفر کا راستہ اختیار کیا، انبیاء اور نیک لوگوں کو قتل کیا اس کے لیے سزا عذاب الیم ہے۔ اہل کتاب اور کفار کو باربار اسلام کی دعوت دی گئی۔ لیکن انہوں نے تسلیم کرنے کے بجائے انکار اور مخالفت کا راستہ اپنایا بالخصوص یہودیوں کی یہ تاریخ ہے کہ جب بھی ان کے پاس کوئی نبی اور مصلح آیا تو انہوں نے سمع و اطاعت کی بجائے ان کے خلاف سازشوں اور تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ علامہ ابن جریر نے کئی حوالوں کے ساتھ تحریر فرمایا ہے کہ یہودی اس قدر سازشی اور تخریب کار تھے کہ انہوں نے ایک ہی دن میں صبح کے وقت 43 انبیاء کرام (علیہ السلام) اور دن کے پچھلے پہر 170 مذہبی رہنماؤں کو شہید کردیا۔ تاریخ کے اس المناک سانحہ کی نشاندہی کرتے ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے رفقاء گرامی کو چوکس کیا جارہا ہے کہ یہودیوں کی ملمع سازی اور چکنی چپڑی باتوں سے بچتے رہیے۔ یہ ایسی قوم ہے کہ جن کی تاریخ گھناؤنے جرائم سے بھری ہوئی ہے۔ مدینے کے یہودیوں نے بھی آپ کے خلاف بارہا سازش کی کہ آپ کو شہید کردیا جائے۔ ایک دفعہ آپ ایک مکان کے صحن میں تشریف فرما تھے یہودیوں نے پروگرام بنایا کہ کچھ لوگ آپ کو گفتگو میں مصروف رکھیں اور دوسرے آدمی چھت کے اوپر سے آپ پر بھاری پتھر پھینک کر آپ کا خاتمہ کردیں۔ (البدایہ والنہایہ) ابن اسحاق کا بیان ہے کہ ایک بوڑھا یہودی شاش بن قیس ایک بار صحابہ کرام (رض) کی ایک مجلس کے پاس سے گزرا۔ جس میں اوس و خزرج دونوں قبیلوں کے لوگ بیٹھے محبت و الفت کی باتیں کر رہے تھے۔ یہ دیکھ کر کہ ان کے درمیان جاہلیت کی باہمی عداوت و شقاوت کی جگہ اسلام کی الفت و اجتماعیت نے لے لی ہے۔ بوڑھا یہودی سخت رنجیدہ ہو کر کہنے لگا۔ بخدا اشراف کے اتحاد کے بعد تو ہمارا یہاں گزر نہیں ہوسکتا۔ “ چناچہ اس نے ایک نوجوان یہودی کو حکم دیا کہ انصار اور مہاجرین کی مجالس میں جائے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر پھر جنگ بعاث اور اس کے واقعات کا ذکر کرے۔ اس سلسلے میں دونوں جانب سے جو اشعار کہے گئے ہیں انہیں سنائے۔ اس یہودی نے ایسا ہی کیا۔ اس کے نتیجے میں اوس و خزرج میں تو تو میں میں شروع ہوگئی۔ لوگ جھگڑنے لگے اور ایک دوسرے پر خنجر اٹھا لیے یہاں تک کہ دونوں قبیلوں کے آدمی ایک دوسرے کے خلاف گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔ ایک نے اپنے مد مقابل سے کہا اگر چاہو تو ہم اس جنگ کو پھر جوان کر کے پلٹا دیں۔ اس پر دونوں فریقوں کو تاؤ آگیا اور بولے چلو ہم تیار ہیں حرہ میں مقابلہ ہوگا۔ اسلحہ۔۔ ! اسلحہ کی آوازیں بلندہوئیں ! اور لوگ اسلحہ لے کر حرہ کی طرف نکل پڑے۔ قریب تھا کہ خونریز جنگ ہوجاتی لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بروقت خبر ہوگئی۔ آپ مہاجر صحابہ کو ہمراہ لے کر جھٹ ان کے پاس پہنچے اور فرمایا اے مسلمانوں کی جماعت ! اللہ سے ڈرو کیا میرے ہوتے ہوئے اور اسلام قبول کرنے کے باوجود آپس میں لڑ رہے ہو ؟ سازشوں کا یہ سلسلہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات مبارکہ کے آخری دور تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ ہجرت کے ساتویں سال لبید بن اعصم یہودی نے آپ پر جادو کا ایسا وار کیا کہ آپ کی طبیعت کئی دنوں تک نڈھال اور پریشان رہی۔ گویا اس زمانے میں سب سے بڑے تخریب کار اور تشدد پسند یہودی تھے اور آج بھی بین الاقوامی سازشوں اور تخریب کاریوں کے پیچھے یہودی ہی کار فرما ہیں۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار، انبیاء اور نیک لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ اس قدر ناراض ہوتا ہے کہ انہیں اذیت ناک عذاب کی تنبیہ کرنے کے بجائے خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کے دنیا اور آخرت میں اعمال غارت ہوں گے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ رَجُلٌ قَتَلَہٗ نَبِیٌّ أَوْ قَتَلَ نَبِیًّا) [ مسند احمد : کتاب مسند المکثرین من الصحابۃ، باب مسند عبدا اللہ بن مسعود ] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب اس آدمی کو ہوگا جسے کسی نبی نے قتل کیا یا اس نے کسی نبی کو قتل کیا۔ “ مسائل ١۔ اللہ کے احکامات کے منکر اور انبیاء و علماء کے قاتل جہنم میں جائیں گے۔ ٢۔ دنیاو آخرت میں ان کے اعمال ضائع ہوں گے اور ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ تفسیر بالقرآن یہودیوں کا گھناؤنا کردار : ١۔ یہودی انبیاء کے قاتل ہیں۔ (آل عمران : ١١٢) ٢۔ یہودیوں نے انبیاء کی تکذیب 8 کی اور انہیں قتل کیا۔ (المائدۃ : ٧٠) ٣۔ یہودی مشرک ہیں۔ (التوبۃ : ٣٠) ٤۔ یہودی سازشی ہیں۔ (آل عمران : ٥٤) ٥۔ یہودی لعنتی ہیں۔ (المائدۃ : ٧٨) ٦۔ یہودی جھوٹے اور سودخور ہیں۔ (المائدۃ : ٦٣) ٧۔ یہودی اللہ تعالیٰ کے گستاخ ہیں۔ (المائدۃ : ٦٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ ہے ان لوگوں کا حتمی انجام ‘ ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا ‘ یہ عذاب دنیا وآخرت دونوں میں ہوگا ۔ یہاں بھی وہ اس کی توقع کریں اور آخرت میں تو یقینی ہے ہی………دنیا اور آخرت میں ان کے اعمال باطل ہوں گے ‘ بےاثر ہوں گے ۔ یہ عجیب تصویر کشی ہے ‘ حبوط کا لغوی معنی ہے ۔ کسی مویشی کا زہریلی گھاس چر کر پھول ۔ بظاہر تو اس صورت میں ایک مویشی خوب موٹاتازہ ہوجاتا ہے ‘ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آخر کار برباد اور ہلاک ہوجاتا ہے ‘ یہاں بظاہر تو ان کے بڑے بڑے کارنامے ہیں لیکن قیامت میں ان کا کوئی فائدہ نہ ہوگا اور نہ ان کا کوئی حامی و مددگار ہوگا۔ قرآن کریم نے آیات الٰہی کا انکار کے ساتھ ساتھ انبیاء (علیہم السلام) کے قتل کا ذکر بھی کیا ۔ جو ناحق قتل کئے گئے ‘ اس لئے کہ قتل انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ کبھی حق یکجا نہیں ہوسکتا۔ اور ساتھ ہی یہ ذکر کیا کہ وہ لوگ ان افراد کو بھی قتل کرتے تھے جو عدل و انصاف کا حکم دیتے تھے ۔ یعنی وہ لوگ انہیں اس لئے قتل کرتے تھے کہ وہ نظام الٰہی کے قائل اور داعی تھے جو عادلانہ نظام تھا۔ اور اس کے سوا کسی دوسرے نظام کے ذریعہ عدل کا قیام ممکن ہی نہ تھا۔ ان تمام صفات کے ذکر سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ توبیخ اور تخویف یہود کے لئے تھی ۔ کیونکہ یہ ان کی تاریخی صفات ہیں اور ان صفات کے ساتھ وہ مشہور ہیں ۔ جہاں بھی ان کا ذکر ہو ذہن اس کی طرف جاتا ہے ۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں نصاریٰ سے خطاب ہو ‘ کیونکہ نزول قرآن کے زمانے تک انہوں نے بھی اپنے مذہب کے مخالفین کو ہزاروں کی تعداد میں قتل کیا تھا۔ کیونکہ جو شخص بھی رومی سلطنت کے سرکاری مذہب کے خلاف ہوتا تھا وہ اسے قتل کردیتے تھے ۔ ان میں وہ مسیحی بھی شامل تھے جو توحید کے قائل تھے ۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بشر سمجھتے تھے ۔ اور یہ لوگ ایسے تھے جو نظام حکومت میں عدل و انصاف کا پرچار بھی کرتے تھے ۔ یہود ونصاریٰ کے علاوہ یہ حکم ہر زمان ومکان میں تمام ان لوگوں پر صادق آتا ہے جو اس قسم کی متشددانہ حرکات کا ارتکاب کرتے ہیں اور ہر دور میں کبھی بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں رہی ہے۔ یہاں یہ بات سمجھنے کے قابل ہے کہ قرآن کے الفاظ ” وہ لوگ جو آیات کا انکار کرتے ہیں ۔ “ سے مراد کیا ہے ۔ ان سے مراد صرف یہ نہیں ہے کہ کوئی آیات الٰہی کا انکار کرکے کلمہ کفر ادا کردے ۔ اس لفظ کے مفہوم میں یہ شامل ہے کہ کوئی وحدت الٰہ یا عقیدہ توحید کا قائل نہ ہو ‘ پھر وہ صرف اللہ کی بندگی کا قائل نہ ہو ۔ اور اس میں یہ بات از خود آجاتی ہے کہ کوئی مصدر اور منبع کا قائل نہ ہو جہاں سے انسانی زندگی کے لئے قانون سازی کی جاتی ہے اور حسن وقبح کی اقدار کا تعین کرنا ہے یعنی کتاب اللہ کا ‘ اس لئے جو شخص ان امور میں بھی اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرے گا وہ بھی مشرک تصور ہوگا اور الوہیت کا منکر شمار ہوگا۔ اگرچہ وہ فقط زبان سے اسے ایک ہزار بار جھپتا رہے۔ اس مفہوم کا اظہار آنے والی آیات میں ملے گا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کافروں کے لیے عذاب کی و عید اس آیت شریفہ میں و عید ہے تمام کافروں کے لیے جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں جن میں یہود و نصاریٰ بھی داخل ہیں اور خاص کر یہودیوں کا ذکر فرمایا کہ وہ نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں۔ جن یہودیوں نے حضرات انبیاء (علیہ السلام) کو قتل کیا وہ تو قاتل تھے ہی اور جو یہودی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں تھے وہ بھی چونکہ اپنے اسلاف کی حرکتوں سے بیزار نہیں تھے اس لیے ان کی طرف بھی قتل کا اسناد کیا گیا۔ نیز ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جو ایسے حضرات کو قتل کرتے رہے جو انصاف کا حکم کرتے تھے جن لوگوں نے حضرات انبیاء (علیہ السلام) کو قتل کیا ان سے کوئی بعید نہیں کہ ان امتیوں کو قتل کریں جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں، اس دور میں بھی لوگ اہل حق اور اہل عدل کے قتل کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ ان سب لوگوں کے بارے میں فرمایا (فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ) کہ ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دو خوشخبری تو آرام راحت اور نعمت کی ہوتی ہے لیکن عذاب الیم کے ساتھ جو بَشِّرْ فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے لوگ اپنی حرکتوں کو ذریعہ عذاب سمجھنے کی بجائے اچھی چیز سمجھتے تھے اور مغفرت اور نجات آخرت کی امید رکھتے تھے لہٰذا ان کو عذاب الیم کی خوشخبری دی گئی۔ صاحب روح المعانی صفحہ (١٠٩: ج ٣) نے ابن جریر اور ابن ابی حاتم کے حوالہ سے ابو عبیدہ بن جراح (رض) سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! سب سے زیادہ سخت عذاب قیامت کے دن کن لوگوں کو ہوگا ؟ آپ نے فرمایا وہ شخص سب سے زیادہ سخت عذاب میں ہوگا جس نے کسی نبی کو قتل کیا یا کسی ایسے شخص کو قتل کیا جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہو پھر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیت بالا تلاوت فرمائی۔ پھر ارشاد فرمایا کہ اے ابو عبیدہ بنی اسرائیل نے ایک ہی وقت علی الصباح ٤٣ نبیوں کو قتل کیا ان کو منع کرنے کے لیے ایک سو ستر افراد کھڑے ہوگئے جو بنی اسرائیل کے عبادت گزاروں میں سے تھے انہوں نے ان قاتلین کو اچھے کاموں کا حکم دیا اور بری باتوں سے روکا تو دن کے آخر حصہ میں وہ سب بھی قتل کردیئے گئے۔ آیت بالا میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرما دیا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

31 :۔ یہ منکرین اور توحید کے مبلغین کے قاتلوں کیلئے زجر اور اخروی تخویف ہے۔ اَلَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ضد اور عناد کیوجہ سے حق کو قبول نہیں کرتے اور مسئلہ توحید کو نہیں مانتے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi