Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 30

سورة آل عمران

یَوۡمَ تَجِدُ کُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَیۡرٍ مُّحۡضَرًا ۚ ۖ ۛ وَّ مَا عَمِلَتۡ مِنۡ سُوۡٓءٍ ۚ ۛ تَوَدُّ لَوۡ اَنَّ بَیۡنَہَا وَ بَیۡنَہٗۤ اَمَدًۢا بَعِیۡدًا ؕ وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفۡسَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ رَءُوۡفٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿٪۳۰﴾  11

The Day every soul will find what it has done of good present [before it] and what it has done of evil, it will wish that between itself and that [evil] was a great distance. And Allah warns you of Himself, and Allah is Kind to [His] servants."

جس دن ہر نفس ( شخص ) اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اور اپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پالے گا ، آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی ۔ اللہ تعالٰی تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالٰی اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا ... On the Day when every person will be confronted with all the good he has done, meaning, on the Day of Resurrection, Allah brings the good and evil deeds before the servant, just as He said, يُنَبَّأُ الاِنسَـنُ يَوْمَيِذِ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ On that Day man will be informed of what he sent forward, and what he left behind. (75:13) When the servant sees his good deeds, he becomes happy and delighted. When he sees the evil deeds he committed, he becomes sad and angry. Then he will wish that he could disown his evil work and that a long distance separated it from him. He will also say to the devil who used to accompany him in this life, and who used to encourage him to do evil; يلَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِيْسَ الْقَرِينُ "Would that between me and you were the distance of the two easts ـ a horrible companion (indeed)! (43:38) ... وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوَءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا ... and all the evil he has done, he will wish that there were a great distance between him and his evil. Allah then said, while threatening and warning, ... وَيُحَذِّرُكُمُ اللّهُ نَفْسَهُ ... And Allah warns you against Himself, meaning, He warns you against His punishment. Allah then said, while bringing hope to His servants, so that they do not despair from His mercy or feel hopeless of His kindness, ... وَاللّهُ رَوُوفُ بِالْعِبَادِ And Allah is full of kindness with the servants. Al-Hasan Al-Basri said, "Allah is so kind with them that He warns them against Himself." Others commented, "He is merciful with His creation and likes for them to remain on His straight path and chosen religion, and to follow His honorable Messenger."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٢] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ابتداء ایک نیکو کار اور ایک بدکردار کا ذکر فرمایا۔ بعد میں صرف بدکردار کی تمنا کا ذکر کیا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن کی سختیوں اور دوزخ کے عذاب سے بچ جانا ہی اصل کامیابی ہے اور جنت میں داخلہ تو اللہ کا فضل اور انعام ہے جتنا وہ چاہے کسی پر کردے۔ اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ & میں جس کام سے تمہیں روکوں اس سے رک جاؤ اور جس بات کا حکم دوں اس کو اپنی حسب استطاعت بجا لاؤ & (تفسیر آیت ( فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ 16؀) 64 ۔ التغابن :16) یعنی جب آپ نے برے کام کا ذکر کیا تو یہ نہیں فرمایا کہ جہاں تک ہوسکے برے کاموں سے بچو بلکہ فرمایا ان سے پوری طرح رک جاؤ اور جب نیک کام کا ذکر کیا تو فرمایا جہاں تک تم سے ہوسکے بجا لاؤ۔ اب ایک دوسرے پہلو سے غور فرمائیے جو یہ ہے کہ نیک اعمال بجا لانے کی نسبت برے کاموں کو چھوڑ دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے کتاب و سنت میں نیک اعمال بجا لانے کی نسبت برے کاموں کو چھوڑنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ بعد میں دوبارہ فرمایا : ( وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ 30؀ ) 3 ۔ آل عمران :30) پھر بعد میں فرمایا (وَاللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ 30؀ ) 3 ۔ آل عمران :30) گویا اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کو برے انجام سے آگاہ کردینا ہی اس کے بندوں پر ترس کھانے کی بہت بڑی دلیل ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا۝ ٠ ۚۖۛ وَّمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْۗءٍ۝ ٠ ۚۛ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَيْنَہَا وَبَيْنَہٗٓ اَمَدًۢا بَعِيْدًا۝ ٠ ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللہُ نَفْسَہٗ۝ ٠ ۭ وَاللہُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۝ ٣٠ ۧ وجد الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] . ( و ج د ) الو جود ( ض) کے معنی کسی چیز کو پالینا کے ہیں اور یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے حواس خمسہ میں سے کسی ایک حاسہ کے ساتھ اور اک کرنا جیسے وجدت طعمہ ( حاسہ ذوق ) وجدت سمعہ ( حاسہ سمع ) وجدت خثومتہ حاسہ لمس ) قوی باطنہ کے ساتھ کسی چیز کا ادراک کرنا ۔ جیسے وجدت الشبع ( میں نے سیری کو پایا کہ اس کا تعلق قوت شہو یہ کے ساتھ ہے ۔ وجدت الحزن وا لسخط میں نے غصہ یا غم کو پایا اس کا تعلق قوت غضبہ کے ساتھ ہے ۔ اور بذریعہ عقل کے کسی چیز کو پالیتا جیسے اللہ تعالیٰ یا نبوت کی معرفت کہ اسے بھی وجدان کہا جاتا ہے ۔ جب وجود پالینا ) کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس کے معنی محض کسی چیز کا علم حاصل کرلینا کے ہوتے ہیں کیونکہ ذات باری تعالیٰ جوارح اور آلات کے ذریعہ کسی چیز کو حاصل کرنے سے منزہ اور پاک ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا اور ان میں اکثروں کو ( دیکھا تو ) بد عہد دیکھا ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔ حضر الحَضَر : خلاف البدو، والحَضَارة والحِضَارَة : السکون بالحضر، کالبداوة والبداوة، ثمّ جعل ذلک اسما لشهادة مکان أو إنسان أو غيره، فقال تعالی: كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ البقرة/ 180] ، نحو : حَتَّى إِذا جاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ الأنعام/ 61] ، وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ [ النساء/ 8] ( ح ض ر ) الحضر یہ البدو کی ضد ہے اور الحضارۃ حاد کو فتحہ اور کسرہ دونوں کے ساتھ آتا ہے جیسا کہ بداوۃ وبداوۃ اس کے اصل شہر میں اقامت کے ہیں ۔ پھر کسی جگہ پر یا انسان وگیرہ کے پاس موجود ہونے پر حضارۃ کا لفظ بولاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ البقرة/ 180] تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے ۔ وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ [ النساء/ 8] اور جب تم میراث کی تقسیم کے وقت ۔۔۔ آمو جود ہوں ۔ ويقال : سَاءَنِي كذا، وسُؤْتَنِي، وأَسَأْتَ إلى فلان، قال : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ، وقال : لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] ساء اور ساءنی کذا وسؤتنی کہاجاتا ہے ۔ اور اسات الی ٰ فلان ( بصلہ الی ٰ ) بولتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے ۔ لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑیں ۔ ودد الودّ : محبّة الشیء، وتمنّي كونه، ويستعمل في كلّ واحد من المعنيين علی أن التّمنّي يتضمّن معنی الودّ ، لأنّ التّمنّي هو تشهّي حصول ما تَوَدُّهُ ، وقوله تعالی: وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] ( و د د ) الود ۔ کے معنی کسی چیز سے محبت اور اس کے ہونے کی تمنا کرنا کے ہیں یہ لفظ ان دونوں معنوں میں الگ الگ بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ کسی چیز کی تمنا اس کی محبت کے معنی کو متضمعن ہوتی ہے ۔ کیونکہ تمنا کے معنی کسی محبوب چیز کی آرزو کرنا کے ہوتے ہیں ۔ اور آیت : ۔ وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کردی ۔ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ امد قال تعالی: تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَها وَبَيْنَهُ أَمَداً بَعِيداً [ آل عمران/ 30] . والأَمَد والأبد يتقاربان، لکن الأبد عبارة عن مدّة الزمان التي ليس لها حدّ محدود، ولا يتقید، لا يقال : أبد کذا . والأَمَدُ : مدّة لها حدّ مجهول إذا أطلق، وقد ينحصر نحو أن يقال : أمد کذا، كما يقال : زمان کذا، والفرق بين الزمان والأمد أنّ الأمد يقال باعتبار الغاية، والزمان عامّ في المبدأ والغاية، ولذلک قال بعضهم : المدی والأمد يتقاربان . ( ا م د ) الامد ۔ ( موت ۔ غایت ) قرآن میں ہے :۔ { تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا } ( سورة آل عمران 30) تو آرزو کریگا کہ کاش اس میں اور اس پرائی میں انتہائی بعد ہوتا ۔ الامد والابد دونوں قریب المعنی ہیں لیکن ابد غیر متعین اور غیر محدود زمانہ کے معنی دیتا ہے لہذا ابد کذا ( اتنی مدت ) کا محاورہ صحیح نہیں ہے اور امد غیر معین مگر محدود زمانہ کے معنی دیتا ہے لہذا امد کذا ( اتنی مدت ) کہنا صحیح ہے جس طرح کہ زمان کذا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ زمان اور امد کے لفظ میں صرف اتنا فرق ہے کہ امد کا لفظ کسی مدت کی نہایت اور غایت کے لئے بولا جاتا ہے اور زمان کا لفظ کسی مدت کے مندا اور غایت کے لئے استعمال ہوتا ہے اسی بناء پر بعض نے کہا ہے المدی والامد دونوں قریبامعنی ہیں ( یعنی کسی چیز کی موت کی غایت بیان کرنے کے لئے آتے ہیں ) بعد البُعْد : ضد القرب، ولیس لهما حدّ محدود، وإنما ذلک بحسب اعتبار المکان بغیره، يقال ذلک في المحسوس، وهو الأكثر، وفي المعقول نحو قوله تعالی: ضَلُّوا ضَلالًابَعِيداً [ النساء/ 167] ( ب ع د ) البعد کے معنی دوری کے ہیں یہ قرب کی ضد ہے اور ان کی کوئی حد مقرر نہیں ہے بلکہ ایک ہی جگہ کے اعتبار سے ایک کو تو قریب اور دوسری کو بعید کہا جاتا ہے ۔ محسوسات میں تو ان کا استعمال بکثرت ہوتا رہتا ہے مگر کبھی کبھی معافی کے لئے بھی آجاتے ہیں ۔ جیسے فرمایا ضَلُّوا ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 167] وہ راہ ہدایت سے بٹھک کردور جا پڑے ۔ ۔ ان کو ( گویا ) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے ۔ حذر الحَذَر : احتراز من مخیف، يقال : حَذِرَ حَذَراً ، وحذرته، قال عزّ وجل : يَحْذَرُ الْآخِرَةَ [ الزمر/ 9] ، وقرئ : وإنّا لجمیع حَذِرُون، وحاذِرُونَ 3» ، وقال تعالی: وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 28] ، وقال عزّ وجل : خُذُوا حِذْرَكُمْ [ النساء/ 71] ، أي : ما فيه الحذر من السلاح وغیره، وقوله تعالی: هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ [ المنافقون/ 4] ، وقال تعالی: إِنَّ مِنْ أَزْواجِكُمْ وَأَوْلادِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ [ التغابن/ 14] ، وحَذَارِ ، أي : احذر، نحو : مناع، أي : امنع . ( ح ذ ر) الحذر ( س) خوف زدہ کرنے والی چیز سے دور رہنا کہا جاتا ہے حذر حذرا وحذرتہ میں اس سے دور رہا ۔ قرآن میں ہے :۔ يَحْذَرُ الْآخِرَةَ [ الزمر/ 9] آخرت سے ڈرتا ہو ۔ وإنّا لجمیع حَذِرُون، وحاذِرُونَاور ہم سب باسازو سامان ہیں ۔ ایک قرآت میں حذرون ہے هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ [ المنافقون/ 4] یہ تمہاری دشمن میں ان سے محتاط رہنا ۔ إِنَّ مِنْ أَزْواجِكُمْ وَأَوْلادِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ [ التغابن/ 14] تمہاری عورتوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ( بھی ) ہیں سو ان سے بچتے رہو۔ حذر ۔ کسی امر سے محتاط رہنے کے لئے کہنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 28] اور خدا تم کو اپنے ( غضب ) سے محتاط رہنے کی تلقین کرنا ہے الحذر بچاؤ ۔ اور آیت کریمہ :۔ خُذُوا حِذْرَكُمْ [ النساء/ 71] جہاد کے لئے ) ہتھیار لے لیا کرو ۔ میں حذر سے مراد اسلحۃ جنگ وغیرہ ہیں جن کے ذریعہ دشمن سے بچاؤ حاصل ہوتا ہے حذار ( اسم فعل بمعنی امر ) بچو جیسے مناع بمعنی امنع خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ رأف الرَّأْفَةُ : الرّحمة، وقد رَؤُفَ فهو رَئِفٌ ورُؤُوفٌ ، نحو يقظ، وحذر، قال تعالی: لا تَأْخُذْكُمْ بِهِما رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ [ النور/ 2] . ( ر ء ف ) الرافتہ یہ رؤف ( ک ) سے ہے اور اس کے معنی شفقت اور رحمت کے ہیں صفت کا صیغہ رؤوف اور رئف مثل حزر وبقظ آتا ہے ۔ قرآن میں ہے : لا تَأْخُذْكُمْ بِهِما رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ [ النور/ 2] اور اللہ کے حکم ( کی تعمیل ) میں تم کو ان ( کے حال ) پر ( کسی طرح کا ) ترس دامن گیر نہ ہو ۔ عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] ، عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] ، إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] ، كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] ، إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ، وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] ، وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ، فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65] . وعَبْدٌ للدّنيا وأعراضها، وهو المعتکف علی خدمتها ومراعاتها، وإيّاه قصد النّبي عليه الصلاة والسلام بقوله : «تعس عَبْدُ الدّرهمِ ، تعس عَبْدُ الدّينار» وعلی هذا النحو يصحّ أن يقال : ليس كلّ إنسان عَبْداً لله، فإنّ العَبْدَ علی هذا بمعنی العَابِدِ ، لکن العَبْدَ أبلغ من العابِدِ ، والناس کلّهم عِبَادُ اللہ بل الأشياء کلّها كذلك، لکن بعضها بالتّسخیر وبعضها بالاختیار، وجمع العَبْدِ الذي هو مُسترَقٌّ: عَبِيدٌ ، وقیل : عِبِدَّى وجمع العَبْدِ الذي هو العَابِدُ عِبَادٌ ، فالعَبِيدُ إذا أضيف إلى اللہ أعمّ من العِبَادِ. ولهذا قال : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] ، فنبّه أنه لا يظلم من يختصّ بِعِبَادَتِهِ ومن انتسب إلى غيره من الّذين تسمّوا بِعَبْدِ الشمس وعَبْدِ اللّات ونحو ذلك . ويقال : طریق مُعَبَّدٌ ، أي : مذلّل بالوطء، وبعیر مُعَبَّدٌ: مذلّل بالقطران، وعَبَّدتُ فلاناً : إذا ذلّلته، وإذا اتّخذته عَبْداً. قال تعالی: أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] . العبد بمعنی غلام کا لفظ چار معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1 ) العبد بمعنی غلام یعنی وہ انسان جس کی خریدنا اور فروخت کرنا شرعا جائز ہو چناچہ آیات کریمہ : ۔ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] اور غلام کے بدلے غلام عَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] ایک غلام ہے جو بالکل دوسرے کے اختیار میں ہے ۔ میں عبد کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ( 2 ) العبد بالایجاد یعنی وہ بندے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اس معنی میں عبودیۃ اللہ کے ساتھ مختص ہے کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] تمام شخص جو آسمان اور زمین میں ہیں خدا کے روبرو بندے ہوکر آئیں گے ۔ میں اسی معنی کی طرح اشارہ ہے ۔ ( 3 ) عبد وہ ہے جو عبارت اور خدمت کی بدولت عبودیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے اس لحاظ سے جن پر عبد کا لفظ بولا گیا ہے وہ دوقسم پر ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے بن جاتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا : ۔ وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو ۔ إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] بیشک نوح (علیہ السلام) ہمارے شکر گزار بندے تھے نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] جس نے اپنے بندے پر قرآن پاک میں نازل فرمایا : ۔ عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] جس نے اپنی بندے ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) پر یہ کتاب نازل کی ۔ إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں ۔ كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] کہ میری بندے ہوجاؤ ۔ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔ وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ ۔ فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65]( وہاں ) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا ۔ ( 2 ) دوسرے اس کی پر ستش میں لگے رہتے ہیں ۔ اور اسی کی طرف مائل رہتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق ہی آنحضرت نے فرمایا ہے تعس عبد الدرھم تعس عبد الدینا ر ) درہم دینار کا بندہ ہلاک ہو ) عبد کے ان معانی کے پیش نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان اللہ کا بندہ نہیں ہے یعنی بندہ مخلص نہیں ہے لہذا یہاں عبد کے معنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہیں لیکن عبد عابد سے زیادہ بلیغ ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں : ۔ کہ تمام لوگ اللہ کے ہیں یعنی اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے بلکہ تمام اشیاء کا یہی حکم ہے ۔ بعض بعض عبد بالتسخیر ہیں اور بعض عبد بالا اختیار اور جب عبد کا لفظ غلام کے معنی میں استعمال ہو تو اس کی جمع عبید یا عبد آتی ہے اور جب عبد بمعنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہو تو اس کی جمع عباد آئے گی لہذا جب عبید کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ عباد سے زیادہ عام ہوگا یہی وجہ ہے کہ آیت : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے میں عبید سے ظلم کی نفی کر کے تنبیہ کی ہے وہ کسی بندے پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا خواہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہو اور خواہ عبدالشمس یا عبد اللات ہونے کا مدعی ہو ۔ ہموار راستہ ہموار راستہ جس پر لوگ آسانی سے چل سکیں ۔ بعیر معبد جس پر تار کول مل کر اسے خوب بد صورت کردیا گیا ہو عبدت فلان میں نے اسے مطیع کرلیا محکوم بنالیا قرآن میں ہے : ۔ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] کہ تم نے بنی اسرائیل کو محکوم بنا رکھا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٠) اور قیامت کا دن تو ایسا ہوگا جس دن ہر ایک انسان اپنے اچھے اور برے کاموں کو اپنے نامہ اعمال میں لکھا ہوا پائے گا اور یہ تمنا کرے گا کہ کیا اچھا ہوتا اس نفس اور اس برے عمل کے درمیان ایک بہت لمبی مسافت حائل ہوجائے اور اسی سبب اے مسلمانو ! تمہیں اللہ تعالیٰ گناہ کرنے سے ڈراتے ہیں کیوں کہ وہ مسلمانوں پر بہت ہی مہربان ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٠ (یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا ج) (وَّمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْءٍ ج) اس کا نقشہ سورة الزلزال میں بایں الفاظ کھینچا گیا ہے : (فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ) تو جس نے ایک ذرے کے ہم وزن نیکی کی ہوگی وہ اس کو (بچشم خود) دیکھ لے گا۔ اور جس نے ایک ذرے کے ہم وزن برائی کی ہوگی وہ اس کو (بچشم خود) دیکھ لے گا۔ (تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَہَا وَبَیْنَہٗ اَمَدًام بَعِیْدًا ط) ۔ اس وقت ہر انسان یہ چاہے گا کہ کاش میرے اور میرے اعمال نامے کے درمیان بڑا فاصلہ آجائے اور میری نگاہ بھی اس پر نہ پڑے۔ (وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ ط) ۔ یعنی تقویٰ اختیار کرنا ہے تو اس کا کرو ‘ ڈرنا ہے تو اس سے ڈرو ‘ خوف کھانا ہے تو اس سے کھاؤ ! ( وَاللّٰہُ رَءُ وْفٌم بالْعِبَادِ ) ۔ یہ تنبیہات (warnings) وہ تمہیں بار بار اسی لیے دے رہا ہے تاکہ تمہاری عاقبت خراب نہ ہو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

27. It is out of sheer goodwill that God warns people against deeds likelyto have devastating consequences for them.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :27 یعنی یہ اس کی انتہائی خیر خواہی ہے کہ وہ تمہیں قبل از وقت ایسے اعمال پر متنبہ کر رہا ہے جو تمہارے انجام کی خرابی کے موجب ہوسکتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:30) بینھا و بینہ۔ میں ھا ضمیر نفس کی طرف راجع ہے اور ہ ضمیر کا مرجع یا عمل سور ہے یا یوم ہے۔ تود۔ مضارع واحد مؤنث غائب ود (باب سمع) سے مصدر ۔ وہ چاہے گی۔ آرزو کرے گی۔ دوست رکھے گی۔ امدا۔ مدت مدید۔ رؤف۔ مہربان ۔ شفقت کرنے والا۔ رأفۃ سے بروزن فعول صفت مشبہ کا صیغہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا ” وہ دن آنے والا ہے جب ہر نفس اپنے کئے کا پھل حاضر پائے گا ۔ خواہ اس نے بھلائی کی ہو یا برائی ‘ اس روز آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش ابھی یہ دن اس سے دور ہوتا۔ “ یہ ایک ایسا خطاب ہے ‘ جو قلب انسانی کی گہرائیوں تک اترتا چلا جاتا ہے ‘ انسان کا کل سرمایہ اس کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے اور اسے یاد دلایا جاتا ہے کہ ایک دن وہ بذات خود اپنے اس سرمائے کے سامنے کھڑا ہوگا اور وہ پسند کرے گا اس کا یہ سرمایہ اس سے دور ہوتا لیکن افسوس کہ اس کی یہ خواہش ہرگز پوری نہ ہوسکے گی ۔ یا وہ یہ خواہش کرے گا کہ یہ دن ہی نہ آتا ‘ لیکن وہ تو آگیا ہے۔ وہ اسے دیکھ رہا ہے ۔ وہ پکڑا گیا ہے ۔ اب کوئی چھٹکارا نہیں ہے ۔ اب کوئی جائے فرار نہیں ہے ! اور یہ کلام عالی مقام قلب بشری پر مزید حملے جاری رکھتا ہے ‘ اب اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنی ذات ہیب مال سے ڈراتا ہے وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ……………” اور اللہ اب تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے ۔ “………لیکن آخر میں اللہ تعالیٰ اس خوفناک ماحول میں بھی بندے کو اپنی رحمت کی کرن بھی دکھاتا ہے اور یہ اشارہ کرتا ہے کہ ابھی فرصت باقی ہے وقت ختم نہیں ہوگیا۔ واللہ رؤف بالعباد ” اور اللہ اپنے بندوں کا نہایت خیر خواہ ہے ۔ “ اور اللہ کی جانب سے قبل از وقت یہ تحذیر اور ڈراوا بھی اس کی مہربانی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی بھلائی چاہتا ہے ۔ اہل ایمان اور کفار کے درمیان دوستی کے تعلق کے خلاف یہ عظیم حملہ ‘ یہ ہمہ جہت حملہ ‘ جس کے اندر مختلف قسم کے مفید اشارے ‘ ہدایات اور نصیحتیں پائی جاتی ہیں ۔ اس کی ضروریات اس موقع پر کیوں پیش آئی ‘ اس سے اس بات کا اظہارہوتا ہے کہ اس دور میں اسلامی کیمپ اور اس اردگرد پھیلے ہوئے مخالف کیمپ میں ‘ لوگوں کے درمیان رشتہ داری ‘ معاشی اور معاشرتی تعلقات موجود تھے ۔ جماعت مسلمہ کے افراد کے تعلقات اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے قائم تھے ۔ یہ تعلقات مکہ کے لوگوں کے ساتھ بھی تھے ۔ اور مدینہ کے اردگرد یہودیوں کے ساتھ بھی قائم تھے ۔ ان تعلقات کی اساس رشتہ داری یا تجارت پر تھی ۔ جبکہ اسلام یہ چاہتا تھا کہ اس کے اس جدید معاشرے میں لوگوں کے باہمی تعلقات صرف نظریہ حیات کی اساس پر ہوں ۔ اس نظام زندگی کی اساس پر جو اس نظریہ حیات سے تشکیل پایا ہے ۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں اسلام کسی قسم کی کمزوری یا ترقی ہرگز برداشت نہیں کرتا ۔ نیز اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے ‘ انسانی دل و دماغ اور اس کی فکر ونظر ہر وقت اس بات کی محتاج ہے وہ ان مشکلات اور رکاوٹوں سے آزادی حاصل کرے اور ان بندھنوں کو توڑ دے جو اسلامی نظام اور اللہ کی راہ کی طرف آنے میں حائل ہوں………ہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ اسلام اپنے دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک سے منع نہیں کرتا ۔ اگرچہ وہ اس کے دین کے دشمن ہوں ۔ اس لئے کہ حسن سلوک اور حسن معاملہ ایک الگ چیز ہے اور ولاء اور دوستی ایک الگ معاملہ ہے ۔ دوستی میں باہم محبت ہوتی ہے ‘ ایک دوسرے کی امداد ونصرت ہوتی ہے ۔ اور یہ کام وہ دل سے ہرگز نہیں کرسکتا جو مومن ہے ۔ ایک مومن صرف مومنین کے ساتھ دوستی کرسکتا ہے جو رابطہ ایمان میں منسلک ہیں۔ اور جو اسلامی نظام زندگی میں باہم رفیق ہیں اور جو لوگ شریعت نافذ کرتے اور اس کے سامنے جھکتے ہیں۔ سب سے آخر میں اس سبق کا اختتامیہ ایک فیصلہ کن انداز میں سامنے آتا ہے۔ اور وہ اس مسئلے کو فیصلہ کن انداز میں پیش کرتا ہے اور یہ مسئلہ وہی ہے جس کے اردگرد یہ پوری سورت گھوم رہی ہے ۔ یہ اختتامیہ فیصلہ کن اور مختصر انداز میں حقیقت ایمان اور حقیقت دین کو بیان کردیتا ہے اور ایمان اور کفر کے درمیان ایک حد فاصل قائم کردی جاتی ہے ۔ یہ حد اس قدر واضح ہے کہ اب کسی کو کوئی غلط فہمی پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قیامت کے دن کی پریشانی : پھر قیامت کے دن کا ایک منظر بتایا اور وہ یہ کہ دنیا میں جس شخص نے جو بھی عمل کیا ہوگا خیر ہو یا شر وہ اسے وہاں اپنے سامنے حاضر کیا ہوا پالے گا انسان کی یہ تمنا ہوگی کہ کاش یہ دن نہ ہوتا جس میں اعمال پیش ہوئے، میرے اور اس دن کے درمیان بہت بڑی مسافت حائل ہوتی، لہٰذا اس دن سے پہلے ہی ہر شخص کو اپنے اعمال درست کرلینا اور اعمال صالحہ کی فکر کرلینا لازم ہے۔ برے عمل کا برا انجام ہے پہلی آیت میں (وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ ) فرمایا پھر اس آیت میں بھی اس کا اعادہ فرما کر مکرر نصیحت فرما دی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

42:۔ یوم کا عامل تَرَدُّ جو بعد میں آرہا ہے اور یہ تخویف اخروی ہے۔ تَوَدُّ لَوْ اَن بَیْنَھَا وَبَیْنَهٗ اَمَداً بَعِیْداً ۔ قیامت کے دن جب ہر آدمی کے نیک اور برے اعمال اس کے سامنے کردئیے جائیں گے اور اعمال کا حساب کتاب ہوگا تو ہر آدمی تمنا کرے گا کہ کاش ! اس کے اور اس کے بد اعمال کے درمیان بہت فاصلہ ہوتا اور وہ ان کو نہ دیکھ پاتا۔ فیکون الضمیر فی بینہ عائد اعلی ما عملت من سوء (بحر ج 2 ص 427) ۔ 43 اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی عین رحمت اور مہربانی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو اپنے عذاب سے ڈراتا ہے تاکہ وہ اس کی نافرمانیوں سے باز رہیں اور اس کی اطاعت کریں اور اسی میں ان کی دینی اور دنیوی بھلائی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 ۔ اے پیغمبر ! آپ ان نے کہہ دیجئے جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اگر تم اپنے اس مانی الضمیر کو چھپائے رکھو تب اور اگر تم اپنے کسی عمل سے اس کو ظاہر کردو تب ہر حال میں اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے اور ایک تمہارے ما فی الضمیر پر کیا منحصر ہے اللہ تعالیٰ تو جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس سب کو بھی جانتا ہے ۔ زمین و آسمان کی کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ لہٰذا مجرموں کو سزا دینے پر اسے قدرت حاصل ہے اس دن کو یاد کرو جس دن ہر شخص اپنی کی ہوئی بھلائی کو اور اپنی کی ہوئی برائی کو اپنے سامنے دھرا پائے گا یعنی برائی اور بھلائی کا پھل سامنے آجائے گا اس روز آدمی یہ تمنا کرے گا اور اس حالت کو دیکھ کر یہ خواہش کرے گا کہ کیا اچھا ہوتا جو اس شخص کے اور اس دن کے مابین بہت دور کی مسافت اور بہت دور کا فاصلہ ہوتا یعنی یہ دن ابھی دیکھنے میں نہ آتا اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنے سے ڈراتا اور خوف دلاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑی شفقت و مہربانی کرنے والا اور ان کا بہی خواہ ہے اور اس کی یہ شفقت ظاہ رہے کہ بندوں کو قبل از وقت خطرے سے ہوشیار کرتا ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کا علم زمین و آسمان کی ہر شئے کو محیط ہے خواہ وہ چھپی ہو یا کھلی ہو اس لئے وہ تمہارے قلوب کے پوشیدہ بھیدوں سے بھی واقف ہے خواہ تم ان کو ظاہر کرو یا نہ کرو اگر تم کفار سے پوشیدہ موالات کرو گے یا اعلانیہ دوستی کا پیغام بھیجو گے تو ہم کو سب معلوم ہے اور چونکہ جس طرح اس کا علم ہر شے کو محیط ہے اسی طرح اس کی قدرت بھی ہر شے کو محیط ہے ، لہٰذا ہمارے احکام کی جب مخالفت کرو گے خواہ وہ چھپ کر کرو یا آشکارا کرو ہم اس کی مخالفت کی سزا دیں گے ۔ آگے کی آیت میں سزا کے دن کا ذکر فرمایا کہ وہ دن ایسا ہوگا کہ اس د ن ہر انسان کا کیا اس کے روبرو دہرا ہوگا ۔ خواہ وہ اچھا ہو یا برا اور اس دن ہر شخص یہ خواہش کرتا ہوگا کہ یہ دن کہیں مجھ سے دورچلا جائے اور کسی طرح یہ دن نظر نہ آئے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نامہ اعمال کے دور ہونے کی تمنا کرے گا اور یہ خواہش کرے گا کہ کاش میرے اور میرے ان اعمال کے درمیان دور دراز کا فاصلہ ہوجاتا اور میرے اعمال میرے سامنے نہ آتے اور اس دن کے خوف کا یہ حال ہوگا اور میرے اعمال کی دہشت کا یہ عالم ہوگا کہ نیک اعمال کی طرف بھی متوجہ نہ ہو سکے گا ۔ یہ تو ان لوگوں کا حال ہوگا جن کے پاس اچھے اور برے عمل مخلوط ہوں گے وہ بھی گھبرا کر یہ کہیں گے۔ لو ان بینھا و بینہ امدا بعیدا اور جس کے پاس صرف برے ہی برے اعمال ہوں گے تو اسکا پوچھنا ہی کیا ہے کہ اس پر کیا بنے گی رہا وہ شخص کہ جس کے پاس نیک ہی نیک اعمال ہونگے یا وہ شخص کہ جس کو اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے اپنے سایہ عاطف میں چھپالے تو اس کا اس آیت میں ذکر نہیں ہے اس آیت کی ترکیب میں کئی طریقے اختیار کئے گئے ہیں ۔ ہم نے ان میں سے صرف ایک مشہور طریقہ کی بنا پر ترجمہ کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ چونکہ حق تعالیٰ کا خوف گناہوں سے محفوظ رہنے کا صحیح علاج ہے اس لئے اس مفید علاج کی دو بارہ تاکید فرمائی اور یحذرکم اللہ نفسہ فرما کر اس کی جانب اشارہ فرمایا اور چونکہ گناہ سے بچانا اور گناہوں سے بچنے کا علاج بتانا یہ حق تعالیٰ شانہٗ کی بہت بڑی مہربانی اور اپنے بندوں پر بہت بڑی شفقت ہے۔ اس لئے آخر میں فرمایا واللہ رئوف بالعباد یاد کھنا چاہئے کہ میدان حشر میں حالات مختلف ہوں گے اور سینکڑوں واقعات پیش آئیں گے اور گناہ گا رصد ہا باتیں کہیں گے یہاں پیش آ نے والے واقعات میں سے صرف ایک واقعہ کا ذکر ہے یعنی ایک وقت ایسا بھی ہوگا جب ہر شخص نامہ اعمال کو سامنے دھرا دیکھ کر یوں کہے گا۔ لو ان بینھا و بینہ امدا بعیدا ۔ بعض حضرات نے اس مسافت کو مشرق سے مغرب تک بتایا ہے یعنی اتنی دوری کی خواہش کرے گا جیسے مشرق سے مغرب دور ہے لیکن ہم نے عرض کردیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ یہ دن یا یہ اعمال نگاہ سے اوجھل ہوجائیں ۔ اور نظر نہ آئیں ، اب آگے اہل کتاب کے بعض غلط و عادی کا جواب ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع اور آپ پر ایمان لانے کی بحث ہے اور توحید کے ساتھ رسالت پر ایمان کی ۔۔۔۔ ضرورت کا اظہار ہے اور یہ بات بتانی ہے کہ یہ تمام انبیاء (علیہم السلام) ایک ہیں اور ان کی ایک ہی برادری ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) وغیرھم پر تو ایمان رکھو اور نبی آخر الزماں کی نبوت کا انکار کرو بلکہ جس طرح مسلمان نبی آخر الزماں پر ایمان رکھنے کے ساتھ حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک سب رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں اسی طرح دوسرے لوگوں کو بھی کرنا چاہئے اور یہ سمجھ کر کہ ہم خدا کے محبوب اور اس کی اولاد ہیں چناچہ ہم کو کسی پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں ۔ یہ خیال بالکل غلط ہے ، نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع اور آپ پر ایمان لانا مقدم ہے۔ اتباع کے بعد اتباع نبوی کی برکت سے خدا تعالیٰ جو بنائے وہ بن سکتے ہو اور جس مرتبہ سے سرفراز فرمائے اس سے سرفراز ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ دو رکوع تک مسلسل اور مربوط یہی بحث چلی گئی ہے اور جن نبیوں کا زمانہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے سے قریب گزرا تھا ان کا ذکرذرا تفصیل سے فرمایا ہے ، کیونکہ اہل کتاب میں ان نبیوں کا تذکرہ جاری تھا ان کا ذکر کرنا اہل کتاب کے لئے مؤثر بھی تھا اور ان تاریخی غلطیوں کی اصلاح بھی مقصود تھی جو بعض پڑھے لکھے لوگوں نے اپنی اغراض کے ماتحت تاریخ کی ترتیب میں پیدا کردی تھیں ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوں دعا فرمایا کرتے تھے۔ یا حنان یا منان یا ذا الجلال والاکرام با عدبینی و بین خطیئتی کما باعدت بین المشرق والمغرب ونقنی من الخطایا کما ینقی التوب الا بیض من الدنس واغسلنی بماء الثلج والبرد سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ العظیم واتوب الیہ۔ ایک اور ضعیف روایت میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب کو دیکھ کر ایک دن فرمایا اپنی حالت پر تعجب نہ کرو اور خود بینی سے کام نہ لو اور اپنے نیک اعمال کی کثرت اور گناہوں کی قلت کو نہ دیکھا کرو بلکہ ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کا خاتمہ کس حالت پر ہوتا ہے ۔ اعمال کا انحصار خاتمہ پر ہے اگر تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن ستر نبیوں کے برابر بھی عبادت لے کر آئے گا تو وہ بھی قیامت کے خوف اور ہول کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اس کے پاس عبادت اور زیادہ ہوتی۔ ( تسہیل)