Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 34

سورة آل عمران

ذُرِّیَّۃًۢ بَعۡضُہَا مِنۡۢ بَعۡضٍ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۚ۳۴﴾

Descendants, some of them from others. And Allah is Hearing and Knowing.

کہ یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں اور اللہ تعالٰی سنتا جانتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah chose Adam, Nuh (Noah), the family of Ibrahim and the family of Imran above the nations. Offspring, one of the other, and Allah is All-Hearer, All-Knower. Allah states that He has chosen these households over the people of the earth. For instance, Allah chose Adam, created him with His Hand and blew life into him. Allah commanded the angels to prostrate before Adam, taught him the names of everything and allowed him to dwell in Paradise, but then sent him down from it out of His wisdom. Allah chose Nuh and made him the first Messenger to the people of the earth, when the people worshipped idols and associated others with Allah in worship. Allah avenged the way Nuh was treated, for he kept calling his people day and night, in public and in secret, for a very long time. However, his calling them only made them shun him more, and this is when Nuh supplicated against them. So Allah caused them to drown, and none among them was saved, except those who followed the religion that Allah sent to Nuh. Allah also chose the household of Ibrahim, including the master of all mankind, and the Final Prophet, Muhammad, peace be upon him. Allah also chose the household of Imran, the father of Maryam bint Imran, the mother of `Isa, peace be upon them. So `Isa is from the offspring of Ibrahim, as we will mention in the Tafsir of Surah Al-An`am, Allah willing, and our trust is in Him.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

34۔ 1 یا دوسرے معنی ہیں دین میں ایک دوسرے کے معاون اور مددگار۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٦] گویا سب انبیاء آدم، پھر نوح، پھر ابراہیم کی اولاد میں تھے اور چونکہ حضرت عیسیٰ بھی حضرت ابراہیم اور پھر آل عمران سے تھے۔ لہذا وہ بھی انسان تھے۔ اللہ یا اللہ کے بیٹے نہیں تھے۔ اور سب انبیاء کو مذکورہ بالا تین انبیا کی اولاد سے مبعوث فرمانا ہی اللہ کی حکمت کا مقتضیٰ تھا اس کے باوجود جو لوگ حضرت عیسیٰ کو اللہ یا اس کا بیٹا قرار دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی باتوں کو خوب سن رہا ہے۔ ان دو آیات میں مسیحی عقائد کے رد کی تمہید بیان ہوئی ہے آگے تفصیلی ذکر آرہا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ذُرِّيَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ ۭ: گویا سب انبیا آدم (علیہ السلام) ، پھر نوح (علیہ السلام) ، پھر ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے اور چونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ابراہیم (علیہ السلام) اور پھر آل عمران سے تھے، لہٰذا وہ بھی انسان تھے، اللہ یا اللہ کے بیٹے نہیں تھے۔ یہاں سے اہل نجران اور دوسرے نصرانیوں کے عقیدے کے ابطال کے لیے عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ شروع ہوتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ذُرِّيَّۃًۢ بَعْضُہَا مِنْۢ بَعْضٍ۝ ٠ ۭ وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۝ ٣٤ ۚ ذر الذّرّيّة، قال تعالی: وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] ( ذ ر ر) الذریۃ ۔ نسل اولاد ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] اور میری اولاد میں سے بھی بعض بَعْضُ الشیء : جزء منه، ويقال ذلک بمراعاة كلّ ، ولذلک يقابل به كلّ ، فيقال : بعضه وكلّه، وجمعه أَبْعَاض . قال عزّ وجلّ : بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36] ( ب ع ض ) بعض الشئی ہر چیز کے کچھ حصہ کو کہتے ہیں اور یہ کل کے اعتبار سے بولا جاتا ہے اسلئے کل کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے : بعضہ وکلہ اس کی جمع ابعاض آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36] تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (ذریۃ بعضھا من بعض) حسن اور قتادہ سے مروی ہے کہ دین میں ایک دوسرے کی ہمنوائی اور مدد کے لحاظ سے یہ ایک سلسلے کے لوگ تھے۔ جس طرح کہ قول باری ہے (المنافقون والمنافقات بعضھم من بعض) ، منافق مرد اور مفافق عورتیں یہ سب ایک سلسلے کے لوگ ہیں) یعنی گمراہی اور ضلال پر اکھٹے ہونے کے لحاظ سے پھر ارشا ہوا (والمومنون المومنات بعضھم اولیاء بعض، اہل ایمان مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے دینی رفیق ہیں) یعنی ہدایت پر اکھٹے ہوجانے میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بعض کا قو ل ہے کہ (ذریۃ بعضھا من بعض) ایک ہی نسل سے پیدا ہونے کے لحاظ سے اس لیئے کہ یہ سب حضرت آدم پھر حضرت نوح اور پھر حضرت ابراہیم السلام کی نسل سے تھے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٤ ( ذُرِّیَّۃً م بَعْضُہَا مِنْم بَعْضٍ ط) حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت نوح ( علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں ‘ اور پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا پورا خاندان بنی اسماعیل ‘ بنی اسرائیل اور آل عمران ان کی اولاد میں سے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

31. The real error of the Christians lies in considering Jesus to be the son of God and a partner in His godhead, rather than His servant and Messenger. If this misunderstanding was removed it would become quite easy for them to advance towards Islam. Hence at the very outset of the discourse it is mentioned that Adam, Noah and the Prophets in the house of Abraham and 'Imran were all human beings. Even though many Prophets were born in the same family, one from the other, none of them was God. Their merit lay in the fact that God had chosen them to preach His religion and reform the world.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :31 مسیحیوں کی گمراہی کا تمام تر سبب یہ ہے کہ وہ مسیح کو بندہ اور رسول ماننے کے بجائے اللہ کا بیٹا اور الوہیت میں اس کا شریک قرار دیتے ہیں ۔ اگر ان کی یہ بنیادی غلطی رفع ہو جائے ، تو اسلام صحیح و خالص کی طرف ان کا پلٹنا بہت آسان ہو جائے ۔ اسی لیے اس خطبے کی تمہید یوں اٹھائی گئی ہے کہ آدم علیہ السلام اور نوح علیہ السلام اور آل ابراہیم علیہ السلام اور آل عمران کے سب پیغمبر انسان تھے ، ایک کی نسل سے دوسرا پیدا ہوتا چلا آیا ، ان میں سے کوئی بھی خدا نہ تھا ، ان کی خصوصیت بس یہ تھی کہ خدا نے اپنے دین کی تبلیغ اور دنیا کی اصلاح کے لیے ان کو منتخب فرمایا تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

10: آیت کا یہ ترجمہ حضرت قتادہ کی تفسیر پر مبنی ہے (دیکھئے روح المعانی 176:3) واضح رہے کہ عمران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد کا بھی نام ہے، اور حضرت مریم علیہا السلام کے والد کا بھی، یہاں دونوں مراد ہوسکتے ہیں، لیکن چونکہ آگے حضرت مریم علیہا السلام کی واقعہ آرہا ہے۔ اس لیے ظاہر یہ ہے کہ یہاں حضرت مریم علیہا السلام ہی کے والد مراد ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:34) ذریۃ۔ اولاد۔ اصل میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو ذریۃ کہتے ہیں۔ مگر عرف عام میں چھوٹی بڑی سب والا کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ یا تو (1) ذرء سے مشتق ہے جس کے معنی پیدا کرنے اور پھیلانے کے ہیں۔ اور اس کا ہمزہ متروک ہوگیا ہے۔ جیسے ردیۃ اور بریۃ ۔ یا (2) اس کی اصل ذرویۃ ہے۔ یا (3) ذر سے بمعنی بکھیرنا۔ فعلیۃ کے وزن پر جیسے قمریۃ ہے۔ اس کی جمع ذرای اور ذریات ہے۔ ذریۃ بعضھا من بعض ایک نسل جس کے بعض بعض کی اولاد تھے۔ بعضھا من بعض۔ ذریۃ کی صفت ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یہ جو فرمایا کہ ایک دوسرے کی اولاد ہے شاید مقصود اس سے ان سب حضرات کا اتحاد یا شرف ذاتی کے ساتھ شرف نسبت کا بیان فرمانا ہو، اور اس امر کا جتلانا ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آباء و اجداد میں بھی نبوت رہی ہے، اگر آپ کو نبوت مل گئی تو بعید کیا ہے۔ واللہ اعلم

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

45 ذکر توحید بار چہارم۔ ذُرِّیَّةً ، اٰلین سے بدل یا حالواقع ہے۔ نصب علی البدلیۃ من الآلین او الحالیۃ منہما (روح ج 3 ص 132) یہود ونصاریٰ اس شبہ میں گرفتار تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو باقی مخلوق سے منتخب کر کے سب سے اونچا مقام اور مرتبہ عطا فرمایا ہے اور انہیں خاص خاص اختیارات بھی عطا کیے ہیں۔ چناچہ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کارساز اور معبود سمجھ کر پکارنا اور پوجنا شروع کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یہ تمام انبیاء (علیہم السلام) باوجود علو مرتبت اور رفعت شان کے انسان اور بشر تھے اور باہم ایک دوسرے کی اولاد اور نسل تھے اور اپنی پیدائش اور بقا میں محتاج تھے۔ اس لیے وہ معبود اور کارساز نہیں ہوسکتے۔ ان نصاریٰ نجران لما غلوا فی عیسیٰ (علیہ السلام) وجعلوہ ابن اللہ سبحانہ واتخذوہ الہا نزلت ردا علیھم واعلاما لھم بانہ من ذریۃ البشر المنقلبین فی الاطوار المستحیلۃ علی الالہ (روح ج 3 ص 130، بحر ج 2 ص 234) ۔ وَاللہُ سَمِیعٌ عَلِیْمٌ۔ اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ جن بزرگوں سے متعلق معبود ہونے کا شبہ تھا اسے دو طرح سے رفع کیا گیا۔ اول اس طرح کہ یہ حجرات باہم والد ومولود ہیں۔ دوم۔ یہ حضرات ہر چیز کو جاننے اور سننے والے نہیں ہیں۔ سمیع بکل شیء اور علیم بکل شیء صرف اللہ کی صفت ہے۔ اس لیے وہی معبود برحق ہے۔ اور اس کے سوا کوئی معبود اور کارساز نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو اور عمران کی اولاد کو اقوام عالم پر برگزیدہ فرمایا تھا۔ یعنی نبوت کے لئے ان کو پسند فرمایا تھا۔ یہ لوگ ایک نسل اور ایک ہی سلسلے کے تھے ، ان میں سے بعض بعض کی اولاد تھے اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے یعنی معترضین کی باتوں کو سنتا ہے اور پسندیدہ اور منتخب حضرات کے احوال کو جانتا ہے۔ ( تیسیر) صفوہ خالص چیز کو کہتے ہیں جو ہر قسم کی آمیزش سے پاک ہو۔ یہاں اصطفا سے مراد پسند فرمایا ، چن لینا ، منتخب کرلینا مراد ہے مطلب یہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور حضرت نوح اور حضرت ابراہیم و عمران کی بعض اولاد کو اپنی نبوت و رسالت کے لئے منتخب فرمایا تھا اور ان لوگوں کو اہل عالم پر برتری عنایت فرمائی تھی حضرت ابراہیم کی اولاد میں حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل کو سب پیغمبر ان ہی کی اولاد ہی میں ہوئے۔ اسرائیل پیغمبر حضرت اسحاق کی اولاد میں اور نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت اسماعیل کی اولاد میں ، حضرت عمران سے مراد اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہما السلام) کے والد ہیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کی نبوت کی طرف اشارہ ہوگا اور اگر عمران سے حضرت مریم کے والد مراد ہوں جیسا کہ یہی ظاہر ہے تو پھر ان کی اولاد سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہوں گے۔ ذریۃ آل عمران اور آل ابراہیم سے بدل یا حال ہے یا حضرت نوح سے بھی بدل ہوسکتا ہے مطلب یہ ہے کہ یہ سب ایک ہی سلسلے کے لوگ ہیں ۔ با اعتبار دین با اعتبار تبلیغ ایک دوسرے کے حامی و مدد گار ہیں یا یہ کہ ایک دوسرے کے ساتھ خاندانی تعلق رکھتے ہیں کہ یہ سب حضرات آدم کی اولاد ہیں اور آپس میں بھی ایک دوسرے کی اولاد اور ایک دوسرے کی نسل ہیں۔ گویا یہ حضرات دین و ملت کے اعتبار سے بھی ایک سلسلے کے لوگ ہیں اور باپ بیٹے ہونے کی حیثیت سے بھی ایک خاندان کے لوگ ہیں۔ بعض حضرات نے یہاں بھی ترجمہ میں آل ابراہیم سے حضرت ابراہیم اور آل عمران سے حضرت عمران کو مراد لیا ہے۔ جیسے دوسرے پارے کے آخر میں مما توک ال موسیٰ وال ھرون میں اختیار کیا تھا۔ بہر حال اجمالا ً اولو العزم پیغمبروں کا ذکر آیت میں کیا گیا اور اگرچہ آل ابراہیم میں آل عمران بھی داخل تھے لیکن تعمیم کے بعد ان کا ذکر بطور تخصیص کیا گیا ۔ حضرت ابراہیم کی نبوت کا شاید اس لئے ذکر نہ فرمایا ہو کہ ان کی نبوت سب لوگوں کے نزدیک مسلم تھی ، حتیٰ کہ کفار مکہ بھی اپنے کو ان ہی کی ملت پر سمجھتے تھے اور ایک لطیف انداز میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی جانب بھی اشارہ فرما دیا تا کہ جو لوگ آپ کی نبوت کے منکر تھے ان کو تنبیہ ہوجائے کہ جب حضرت ابراہیم کا گھرانا نبوت کے لئے ایک منتخب گھرانا ہے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر کیوں تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اب آگے حضرت مریم حضرت عیسیٰ ، حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا کا حال ذرا تفصیل سے ذکر کیا جاتا ہے تا کہ ایک طرف صحیح واقعات دنیا کو معلوم ہوجائیں اور دوسری طرف نجران کے عیسائیوں کی غلط فہمی کا ازالہ ہوجائے اور جو باتیں عیسائیوں نے حضرت مسیح اور حضرت مریم کے متعلق غلط مشہورکر رکھی ہیں ان کا جواب ہوجائے۔ چونکہ آگے کی آیتوں میں حضرت عیسیٰ کی زندگی پر صحیح تبصرہ ہے اور مسلسل تین رکوع تک یہ بحث چلی گئی ہے اس لئے بعض لوگوں نے ان ہی آیات کا تعلق وفد نجران سے بتایا ہے لیکن محقق بات وہ ہے جو ہم تمہید میں عرض کرچکے ہیں کہ اس سورت کی ابتداء ہی وفد نجران کے شکوک و شبہات کے جواب سے ہوئی ہے۔ رہی یہ بات کہ بیچ میں بعض اور باتیں بھی بیان ہوئی ہیں تو وہ قرآن کا ایک واب اور قاعدہ ہے کہ وہ کسی مناسبت سے بطور جملہ معترضہ کے بیچ میں بیان کرجاتا ہے اور پھر اصل مضمون کو شروع کردیتا ہے۔ (تسہیل)