Delivering the Good News to Maryam of `Isa's Birth
This Ayah contains the glad tidings the angels brought to Maryam that she would give birth to a mighty son who will have a great future.
Allah said,
إِذْ قَالَتِ الْمَليِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ
...
(Remember) when the angels said: "O Maryam! Verily, Allah gives you the glad tidings of a Word from Him,
a son who will come into existence with a word from Allah, `Be', and he was.
According to the majority of the scholars, this is the meaning of Allah's statement (about Yahya)
مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّهِ
(Believing in the Word from Allah) (3:39).
...
اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ
...
His name will be Al-Masih, `Isa, the son of Maryam,
and he will be known by this name in this life, especially by the believers.
`Isa was called "Al-Masih" (the Messiah) because when he touched (Mash) those afflicted with an illness, they would be healed by Allah's leave.
Allah's statement,
عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ
(`Isa, the son of Maryam),
relates `Isa to his mother, because he did not have a father.
...
وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالاخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
Held in honor in this world and in the Hereafter, and will be one of those who are near to Allah.
meaning, he will be a leader and honored by Allah in this life, because of the Law that Allah will reveal to him, sending down the Scripture to him, along with the other bounties that Allah will grant him with.
`Isa will be honored in the Hereafter and will intercede with Allah, by His leave, on behalf of some people, just as is the case with his brethren the mighty Messengers of Allah, peace be upon them all.
`Isa Spoke When He was Still in the Cradle
Allah said,
مسیح ابن مریم علیہ السلام
یہ خوشخبری حضرت مریم کو فرشتے سنا رہے ہیں کہ ان سے ایک لڑکا ہو گا جو بڑی شان والا اور صرف اللہ کے کلمہ کن کے کہنے سے ہوگا یہی تفسیر اللہ تعالیٰ کے فرمان آیت ( مُصَدِّقًۢـا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ ) 3 ۔ آل عمران:39 ) کی بھی ہے ، جیسے کہ جمہور نے ذکر کیا اور جس کا بیان اس سے پہلے گذر چکا ، اس کا نام مسیح ہو گا ، عیسیٰ بیٹا مریم علیہ السلام کا ، ہر مومن اسے اسی نام سے پہچانے گا ، مسیح نام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ زمین میں وہ بکثرت سیاحت کریں گے ، ماں کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا باپ کوئی نہ تھا ۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ دونوں جہان میں برگزیدہ ہیں اور مقربان خاص میں سے ہیں ، ان پر اللہ عزوجل کی شریعت اور کتاب اترے گی اور بڑی بڑی مہربانیاں٠ ان پر دنیا میں نازل ہوں گی اور آخرت میں بھی اور اولوالعزم پیغمبروں کی طرح اللہ کے حکم سے جس کے لئے اللہ چاہے گا وہ شفاعت کریں گے جو قبول ہو جائیں گی صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیھم اجمعین وہ اپنے جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں باتیں کریں گے یعنی اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی لوگوں کو بچنے ہی میں دعوت دیں گے جو ان کا معجزہ ہو گا اور بڑی عمر میں بھی جب اللہ ان کی طرف وحی کرے گا ، وہ اپنے قول و فعل میں علم صحیح رکھنے والے اور عمل صالح کرنے والے ہوں گے ، ایک حدیث میں ہے کہ بچپن میں کلام صرف حضرت عیسیٰ اور جریج کے ساتھی نے کیا اور ان کے علاوہ حدیث میں ایک اور بچے کا کلام کرنا بھی مروی ہے تو یہ تین ہوئے حضرت مریم اس بشارت کو سن کر اپنی مناجات میں کہنے لگیں اللہ مجھے بچہ کیسے ہو گا ؟ میں نے تو نکاح نہیں کیا اور نہ میرا ارادہ نکاح کرنے کا ہے اور نہ میں ایسی بدکار عورت ہوں ماشاء اللہ ، اللہ عزوجل کی طرف سے فرشتے نے جواب میں کہا کہ اللہ کا امر بہت بڑا ہے اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی وہ جو چاہے پیدا کر دے ، اس نکتے کو خیال میں رکھنا چاہئے کہ حضرت زکریا کے اس سوال کے جواب میں اس جگہ لفظ یفعل تھا یہاں لفظ یخلق ہے یعنی پیدا کرتا ہے ۔ اس لئے کہ کسی باطل پرست کو کسی شبہ کا موقع باقی نہ رہے اور صاف لفظوں میں حضرت عیسیٰ کا اللہ جل شانہ کی مخلوق ہونا معلوم ہو جائے ۔ پھر اس کی مزید تاکید کی اور فرمایا وہ جس کسی کام کو جب کبھی کرنا چاہتا ہے تو صرف اتنا فرما دیتا ہے کہ ہو جا ، بس وہ وہیں ہو جاتا ہے اس کے حکم کے بعد ڈھیل اور دیر نہیں لگتی ، جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ ) 54 ۔ القمر:50 ) یعنی ہمارے صرف ایک مرتبہ کے حکم سے ہی بلاتاخیر فی الفور آنکھ جھپکتے ہی وہ کام ہو جاتا ہے ہمیں دوبارہ اسے کہنا نہیں پڑتا ۔