Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 45

سورة آل عمران

اِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرۡیَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنۡہُ ٭ۖ اسۡمُہُ الۡمَسِیۡحُ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ وَجِیۡہًا فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ مِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾

[And mention] when the angels said, "O Mary, indeed Allah gives you good tidings of a word from Him, whose name will be the Messiah, Jesus, the son of Mary - distinguished in this world and the Hereafter and among those brought near [to Allah ].

جب فرشتوں نے کہا اے مریم! اللہ تعالٰی تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہے جو دنیا اور آخرت میں ذِی عّزت ہے اور وہ میرے مُقّربِین میں سے ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Delivering the Good News to Maryam of `Isa's Birth This Ayah contains the glad tidings the angels brought to Maryam that she would give birth to a mighty son who will have a great future. Allah said, إِذْ قَالَتِ الْمَليِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ ... (Remember) when the angels said: "O Maryam! Verily, Allah gives you the glad tidings of a Word from Him, a son who will come into existence with a word from Allah, `Be', and he was. According to the majority of the scholars, this is the meaning of Allah's statement (about Yahya) مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّهِ (Believing in the Word from Allah) (3:39). ... اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ... His name will be Al-Masih, `Isa, the son of Maryam, and he will be known by this name in this life, especially by the believers. `Isa was called "Al-Masih" (the Messiah) because when he touched (Mash) those afflicted with an illness, they would be healed by Allah's leave. Allah's statement, عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ (`Isa, the son of Maryam), relates `Isa to his mother, because he did not have a father. ... وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالاخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ Held in honor in this world and in the Hereafter, and will be one of those who are near to Allah. meaning, he will be a leader and honored by Allah in this life, because of the Law that Allah will reveal to him, sending down the Scripture to him, along with the other bounties that Allah will grant him with. `Isa will be honored in the Hereafter and will intercede with Allah, by His leave, on behalf of some people, just as is the case with his brethren the mighty Messengers of Allah, peace be upon them all. `Isa Spoke When He was Still in the Cradle Allah said,

مسیح ابن مریم علیہ السلام یہ خوشخبری حضرت مریم کو فرشتے سنا رہے ہیں کہ ان سے ایک لڑکا ہو گا جو بڑی شان والا اور صرف اللہ کے کلمہ کن کے کہنے سے ہوگا یہی تفسیر اللہ تعالیٰ کے فرمان آیت ( مُصَدِّقًۢـا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ ) 3 ۔ آل عمران:39 ) کی بھی ہے ، جیسے کہ جمہور نے ذکر کیا اور جس کا بیان اس سے پہلے گذر چکا ، اس کا نام مسیح ہو گا ، عیسیٰ بیٹا مریم علیہ السلام کا ، ہر مومن اسے اسی نام سے پہچانے گا ، مسیح نام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ زمین میں وہ بکثرت سیاحت کریں گے ، ماں کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا باپ کوئی نہ تھا ۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ دونوں جہان میں برگزیدہ ہیں اور مقربان خاص میں سے ہیں ، ان پر اللہ عزوجل کی شریعت اور کتاب اترے گی اور بڑی بڑی مہربانیاں٠ ان پر دنیا میں نازل ہوں گی اور آخرت میں بھی اور اولوالعزم پیغمبروں کی طرح اللہ کے حکم سے جس کے لئے اللہ چاہے گا وہ شفاعت کریں گے جو قبول ہو جائیں گی صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیھم اجمعین وہ اپنے جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں باتیں کریں گے یعنی اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی لوگوں کو بچنے ہی میں دعوت دیں گے جو ان کا معجزہ ہو گا اور بڑی عمر میں بھی جب اللہ ان کی طرف وحی کرے گا ، وہ اپنے قول و فعل میں علم صحیح رکھنے والے اور عمل صالح کرنے والے ہوں گے ، ایک حدیث میں ہے کہ بچپن میں کلام صرف حضرت عیسیٰ اور جریج کے ساتھی نے کیا اور ان کے علاوہ حدیث میں ایک اور بچے کا کلام کرنا بھی مروی ہے تو یہ تین ہوئے حضرت مریم اس بشارت کو سن کر اپنی مناجات میں کہنے لگیں اللہ مجھے بچہ کیسے ہو گا ؟ میں نے تو نکاح نہیں کیا اور نہ میرا ارادہ نکاح کرنے کا ہے اور نہ میں ایسی بدکار عورت ہوں ماشاء اللہ ، اللہ عزوجل کی طرف سے فرشتے نے جواب میں کہا کہ اللہ کا امر بہت بڑا ہے اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی وہ جو چاہے پیدا کر دے ، اس نکتے کو خیال میں رکھنا چاہئے کہ حضرت زکریا کے اس سوال کے جواب میں اس جگہ لفظ یفعل تھا یہاں لفظ یخلق ہے یعنی پیدا کرتا ہے ۔ اس لئے کہ کسی باطل پرست کو کسی شبہ کا موقع باقی نہ رہے اور صاف لفظوں میں حضرت عیسیٰ کا اللہ جل شانہ کی مخلوق ہونا معلوم ہو جائے ۔ پھر اس کی مزید تاکید کی اور فرمایا وہ جس کسی کام کو جب کبھی کرنا چاہتا ہے تو صرف اتنا فرما دیتا ہے کہ ہو جا ، بس وہ وہیں ہو جاتا ہے اس کے حکم کے بعد ڈھیل اور دیر نہیں لگتی ، جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ ) 54 ۔ القمر:50 ) یعنی ہمارے صرف ایک مرتبہ کے حکم سے ہی بلاتاخیر فی الفور آنکھ جھپکتے ہی وہ کام ہو جاتا ہے ہمیں دوبارہ اسے کہنا نہیں پڑتا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

45۔ 1 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کلمہ یعنی کلمۃ اللہ اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ ان کی ولادت اعجازی شان کی مظہر اور عام انسانی اصول کے برعکس باپ کے بغیر ہوئی اور اللہ کی خاص قدرت اس کے کلمہ کن کی تخلیق ہے۔ 45۔ 2 مسیح مسح سے ہے یعنی کثرت سے زمین کی سیاحت کرنے والا یا اس کے معنی ہاتھ پھیرنے والا ہے کیونکہ آپ ہاتھ پھیر کر مریضوں کو باذن اللہ شفایاب فرماتے تھے ان دونوں معنوں کے اعتبار سے فعیلْ بمعنی فاعل ہے اور قیامت کے قریب ظاہر ہونے والے دجال کو جو مسیح کہا جاتا ہے یا تو بمعنی مفعول (یعنی اس کی ایک آنکھ کانی ہوگی) کے اعتبار سے ہے یا وہ بھی چونکہ کثرت سے دنیا میں پھرے گا اور مکہ اور مدینہ کے سوا ہر جگہ پہنچے گا (بخاری مسلم) اور بعض روایات میں بیت المقدس کا بھی ذکر ہے اس لیے اسے بھی المسیح الدجال کہا جاتا ہے۔ عام اہل تفسیر نے عموماً یہی بات درج کی ہے۔ کچھ اور محققین کہتے ہیں کہ مسیح یہود و نصاری کی اصطلاح میں بڑے مامور من اللہ پیغمبر کو کہتے ہیں یعنی ان کی یہ اصطلاح تقریبا اولوالعزم پیغمبر کے ہم معنی ہے دجال کو مسیح اس لیے کہا گیا ہے کہ یہود کو جس انقلاب آفریں مسیح کی بشارت دی گئی ہے اور جس کے وہ غلط طور پر اب بھی منتظر ہیں دجال اسی مسیح کے نام پر آئے گا یعنی اپنے آپ کو وہی مسیح قرار دے گا مگر وہ اپنے اس دعوی سمیت تمام دعو وں میں دجل و فریب کا اتنا بڑا پیکر ہوگا کہ اولین و آخرین میں اس کی کوئی مثال نہ ہوگی اس لیے وہ الدجال کہلائے گا۔ اور عیسیٰ عجمی زبان کا لفظ ہے۔ بعض کے نزدیک یہ عربی ہے اور عاس یعوس سے مشتق ہے جس کے معنی سیاست و قیادت کے ہیں۔ (قرطبی و فتح القدیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٦] یہ فرشتوں کا حضرت مریم سے دوسرا مکالمہ ہے اور یہیں سے حضرت عیسیٰ کے بن باپ پیدا ہونے کے بیان کا آغاز ہوتا ہے۔ اس سے پیشتر جو حضرت یحییٰ کی خرق عادت پیدائش کا ذکر ہوا تو وہ بطور تمہید تھا۔ اس واقعہ میں اسباب موجود تھے اور وہ واقعہ خرق عادت صرف اس لحاظ سے تھا کہ ان اسباب کی قوت کار مفقود ہوچکی تھی اور اللہ تعالیٰ نے از سر نو قوت کار پیدا کردی۔ مگر حضرت عیسیٰ کی پیدائش اس سے بڑھ کر خرق عادت امر ہے۔ کیونکہ یہاں باپ کا وجود ہی نہیں۔ اس مکالمہ میں جب فرشتوں نے حضرت مریم کو ان کے بیٹے مسیح عیسیٰ ابن مریم کی پیدائش کی خوشخبری دی اور اس کے اوصاف بتلائے تو وہ یکدم چونک اٹھیں کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ جب کہ کسی مرد نے مجھے چھوا تک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ چاہے اور جیسے چاہے پیدا کرسکتا ہے۔ اسے سبب کے بغیر بھی کوئی چیز پیدا کرنے پر پوری پوری قدرت حاصل ہے اور فرشتوں نے جو اوصاف حضرت مریم کو بتلائے وہ یہ تھے۔ (١) وہ لڑکا اللہ تعالیٰ کے کلمہ & کن & سے بن باپ پیدا ہوگا ( ، ٢) اس کا پورا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا۔ مسیح آپ کا لقب ہے اور اس کی دو توجیہات بیان کی گئیں۔ ایک یہ کہ ہیکل سلیمان میں یہ دستور تھا کہ جس شخص کو وہ بزرگ اور پاکباز سمجھتے تھے تو اسے کاہن زیتون کے تیل سے مسح کردیتے اور اس کے جسم پر مل دیتے تھے۔ اس لحاظ سے بھی آپ مسیح مشہور ہوئے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ آپ نے عمر بھر سفر و سیاحت میں گزار کر رسالت کا فریضہ سرانجام دیا۔ اس لحاظ سے بھی آپ مسیح کہلائے اور عیسیٰ آپ کا اصل نام ہے اور ابن مریم آپ کی کنیت ہی نہیں بلکہ آپ کا یہی نسب ہے۔ چونکہ آپ بن باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ لہذا آپ کو ماں کی طرف منسوب کیا گیا اور یہ آپ کے بن باپ پیدا ہونے پر سب سے بڑی دلیل ہے۔ کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس انداز سے کسی مرد یا عورت کا نسب بیان نہیں فرمایا جبکہ عیسیٰ کے ساتھ بیسیوں مقامات پر ابن مریم کا بھی ذکر آیا ہے، (٣) تیسری صفت یہ ہے کہ وہ دنیا و آخرت دونوں جگہ ( وجیہ) یا بارعب شخصیت ہوگی۔ وجیہہ وہ شخص ہوتا ہے جس کے رعب اور وقار کی وجہ سے کوئی شخص رو در رو اسے کوئی طعنہ نہ دے سکے۔ چناچہ یہود آپ کو آگے پیچھے معاذ اللہ ولدالحرام کہتے تھے۔ مگر منہ پر ایسا کہنے کی ہرگز جراءت یا جسارت نہیں کرتے تھے۔ (٤) چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ دنیا میں بھی اللہ کے مقرب بندوں سے ہوگا اور آخرت میں بھی۔ اور پانچویں صفت شیر خوارگی کے ایام میں پختہ کلام کرنا اور چھٹی صفت اس کا صالح ہونا ہے جس کا ذکر اگلی آیت میں مذکور ہے۔ یہ تھیں وہ صفات جن کا ذکر حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے پیشتر ہی فرشتوں نے حضرت مریم سے کردیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کی پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا (كَذٰلِكَ اللّٰهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاۗءُ 40؀) 3 ۔ آل عمران :40) اور حضرت عیسیٰ کی پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد (كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ 47؀) 3 ۔ آل عمران :47) جو اس بات پر واضح دلیل ہے کہ عیسیٰ علیہ اسلام کی پیدائش بن باپ ہوئی تھی اور یہ معجزہ حضرت یحییٰ کی پیدائش کے معجزہ سے بہت بڑا تھا اور اس کا تفصیلی ذکر آگے سورة ئمریم میں آرہا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يٰمَرْيَمُ : اس آیت میں عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کلمہ قرار دیا گیا ہے، اس کی وضاحت آیت (٣٨) کے فوائد میں گزر چکی ہے۔ فرشتوں نے مریم [ سے بالمشافہہ یہ بات کی، جیسا کہ سورة مریم (١٧) میں ہے کہ جبریل (علیہ السلام) انسانی شکل میں ان سے ہم کلام ہوئے۔ ” الْمَسِيْحُ “ لفظ ” مَسَحَ “ سے مشتق ہے، جس کے معنی ہاتھ پھیرنے یا زمین کی مساحت کے ہیں۔ لہٰذا عیسیٰ (علیہ السلام) کو مسیح یا تو اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ بیماروں اور کوڑھیوں پر ہاتھ پھیرتے تھے اور وہ تندرست ہوجاتے تھے، یا اس بنا پر کہ آپ ہر وقت زمین میں سفر کرتے رہتے تھے۔ ( ابن کثیر) یہاں مسیح (علیہ السلام) کے چار اوصاف بیان ہوئے ہیں : 1 ” وَجِيْهًا “ یعنی بہت وجاہت والا ہوگا۔ چہرہ آدمی کی ذات کا آئینہ ہوتا ہے، اس لیے اونچے مرتبے کو وجاہت کہتے ہیں۔ 2 مقرب لوگوں میں سے ہوگا۔ 3 گہوارے اور ادھیڑ عمر میں یکساں حکیمانہ کلام کرے گا۔ گہوارے میں ان کا کلام سورة مریم (٣٠ تا ٣٣) میں نقل ہوا ہے اور ادھیڑ عمر میں کلام کرنے میں ان کے دوبارہ اترنے کی طر ف بھی اشارہ ہے۔ 4 صالحین سے ہوگا۔ صالح وہ ہے جس کے سارے کام درست ہوں، اس لیے سلیمان (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبر نے صالح بندوں میں داخل کیے جانے کی دعا کی۔ دیکھیے سورة یوسف (١٠١) اور سورة نمل (١٩)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The previous verse (44) appeared parenthetically between the present verses 45 - 46 and verses 42 - 43 and the purpose was to affirm the prophethood of Sayyidna Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . The present verse resumes with the story of Sayyidah Maryam which actually pre-pares the ground for a fuller account of the birth, mission and miracles of Sayyidna &Isa (علیہ السلام) . Commentary One of the qualities of Sayyidna &Isa (علیہ السلام) mentioned in this verse is that &he shall speak in the cradle& which means that he will speak while still a child, although no child has the ability to do so. When soon after the birth of infant Jesus (علیہ السلام) ، as mentioned in another verse, people chided Sayyidah Maryam on the basis of a false accusation, this new-born infant, Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) spoke up, saying: اِنِّی عبداللہ (I am a servant of Allah). Then following immediately, it was said that he will also talk to people when he will be in the later middle of his age (kahl). It is worth noting here that the incidence of speaking in infancy was certainly a sign and a miracle and it is quite appropriate to mention it at this point. But, speaking to people during one&s middle age is very normal, something everyone does no matter whether he is a Muslim, or a non-Muslim, learned or illiterate. Why has this been mentioned here as something special? what could it mean? One answer to this question appears in Bayan al-Qur&an by Maula¬na Ashraf Thanavi (رح) who says that the real purpose here is to par¬ticularly focus onthe miraculous nature of meaningful infant speech. The reference to the speech in the middle age is there to indicate that his childhood speech too would not be the usual baby-talk, rather it would be rational, even learned and eloquent, as man does in his ad¬vanced years. If we were to look into the true historical background of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) ، we would discover that this reference to him as speak¬ing to people in his middle age provides a great standing argument in favour of the Islamic position which, according to the Qur&anic belief, is that Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) has been raised alive onto the heavens. Hadith narrations prove that Sayyidna (علیہ السلام) while so raised, was in the approximate age bracket of 30-35 years which is youth at its best. Middle age, kohl in Arabic, was something he never reached during his life in this world. So, his talking to people in his middle age can happen only when he were to grace this world once again with his presence. Therefore, the way his childhood speech was a miracle, his speech in the middle age could be nothing else but another miracle.

خلاصہ تفسیر : (اس وقت کو یاد کرو) جبکہ فرشتوں نے ( حضرت مریم (علیہا السلام) سے یہ بھی) کہا کہ اے مریم بیشک اللہ تعالیٰ تم کو بشارت دیتے ہیں ایک کلمہ کی جو منجانب اللہ ہوگا ( یعنی ایک بچہ پیدا ہونے کی جو بلا واسطہ باپ کے پیدا ہونے کے سبب کلمۃ اللہ کہلاوے گا) اس کا نام (و لقب) مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا (ان کے یہ حالات ہوں گے کہ) باآبرو ہوں گے ( اللہ تعالیٰ کے نزدیک) دنیا میں (بھی کہ ان کو نبوت عطا ہوگی) اور آخرت میں ( بھی کہ اپنی امت کے مومنین کے باب میں مقبول الشفاعت ہوں گے) اور (جیسے ان میں نبوت و شفاعت کی صفت ہوگی جس کا تعلق دوسروں سے بھی ہے، اسی طرح ذاتی کمال کے ساتھ بھی موصوف ہوں گے) منجملہ مقربین (عنداللہ) ہوں گے اور (صاحب معجزہ بھی ہوں گے) آدمیوں سے ( دونوں حالت میں یکساں) کلام کریں گے، گہوارہ میں (یعنی بالکل بچپن میں بھی) اور بڑی عمر میں (بھی دونوں کلاموں میں تفاوت نہ ہوگا) اور (اعلی درجہ کے) شائستہ لوگوں میں سے ہوں گے۔ معارف و مسائل : نزول عیسیٰ (علیہ السلام) کی ایک دلیل بڑی عمر میں بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کلام معجزہ ہی ہے : اس آیت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ایک صفت یہ بھی بتلائی ہے کہ وہ بچپن کے گہوارے میں جب کوئی کلام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس حالت میں بھی کلام کریں گے، جیسا دوسری آیت میں مذکور ہے کہ جب لوگوں نے ابتدا ولادت کے بعد حضرت مریم (علیہا السلام) پر تہمت کی بنا پر لعن طعن کیا تو یہ نو مولود بچے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بول اٹھے۔ (انی عبداللہ۔ ١٩: ٣) الخ۔ اور اور اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ جب وہ کہل یعنی ادھیڑ عمر کے ہوں گے، اس وقت بھی لوگوں سے کلام کریں گے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ بچپن کی حالت میں کلام کرنا تو ایک معجزہ اور نشانی تھی اس کا ذکر تو اس جگہ کرنا مناسب ہے مگر ادھیڑ عمر میں لوگوں سے کلام کرنا تو ایک ایسی چیز ہے جو ہر سنان مومن، کافر، عالم، جاہل کیا ہی کرتا ہے۔ یہاں اس کو بطور وصف خاص ذکر کرنے کے کیا معنی ہوسکتے ہیں ؟ اس سوال کا ایک جواب تو وہ ہے جو بیان القرآن کے خلاصہ تفسیر سے سمجھ میں آیا، کہ مقصد اصل میں حالت بچپن ہی کے کلام کا بیان کرنا ہے، اس کے ساتھ بڑی عمر کے کلام کا ذکر اس غرض سے کیا گیا کہ ان کا بچپن کا کلام بھی ایسا نہیں ہوگا جیسے بچے ابتدا میں بولا کرتے ہیں بلکہ عاقلانہ، عالمانہ، فصیح وبلیغ کلام ہوگا۔ جیسے ادھیڑ عمر کے آدمی کیا کرتے ہیں، اور اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ اور اس کی پوری تاریخ پر غور کیا جائے تو اس جگہ ادھیڑ عمر میں کلام کرنے کا تذکرہ ایک مستقل عظیم فائدہ کے لئے ہوجاتا ہے، وہ یہ ہے کہ اسلامی اور قرآنی عقیدہ کے مطابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے۔ روایات سے یہ ثابت ہے کہ ان کو اٹھانے کے وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عمر تقریبا تیس پینتیس (حاشیہ 1) سال کے درمیان تھی جو عین عنفوان شباب کا زمانہ تھا، ادھیڑ عمر جس کو عربی میں کہل کہتے ہیں وہ اس دنیا میں ان کی ہوئی ہی نہ تھی۔ اس لئے ادھیڑ عمر میں لوگوں سے کلام جب ہی ہوسکتا ہے جبکہ وہ پھر دنیا میں تشریف لائیں، اس لئے جس طرح ان کا بچپن کا کلام معجزہ تھا اسی طرح ادھیڑ عمر کا کلام بھی معجزہ ہی ہے۔ (حاشیہ 1) دیکھئے تفسیر قرطبی جلد ٢ صفحہ ٩١۔ لیکن محقق علماء کرام کی ایک تعداد کی رائے یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھائے جانے کے وقت ان کی عمر اسی سال تھی۔ ملاحظہ فرمائیے۔ الجواب الفصیح از مولانا بدر عالم میرٹھی (رح)۔ محمد تقی عثمانی۔ ١٤/٤/١٤٢٦ ھ)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللہَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَۃٍ مِّنْہُ ۝ ٠ ۤۖ اسْمُہُ الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيْہًا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ۝ ٤٥ ۙ اسْمُ والِاسْمُ : ما يعرف به ذات الشیء، وأصله سِمْوٌ ، بدلالة قولهم : أسماء وسُمَيٌّ ، وأصله من السُّمُوِّ وهو الذي به رفع ذکر الْمُسَمَّى فيعرف به، قال اللہ : بِسْمِ اللَّهِ [ الفاتحة/ 1] ، وقال : ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] ، وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] ، أي : لألفاظ والمعاني مفرداتها ومرکّباتها . وبیان ذلک أنّ الاسم يستعمل علی ضربین : أحدهما : بحسب الوضع الاصطلاحيّ ، وذلک هو في المخبر عنه نحو : رجل وفرس . والثاني : بحسب الوضع الأوّليّ. ويقال ذلک للأنواع الثلاثة المخبر عنه، والخبر عنه، والرّابط بينهما المسمّى بالحرف، وهذا هو المراد بالآية، لأنّ آدم عليه السلام کما علم الاسم علم الفعل، والحرف، ولا يعرف الإنسان الاسم فيكون عارفا لمسمّاه إذا عرض عليه المسمّى، إلا إذا عرف ذاته . ألا تری أنّا لو علمنا أَسَامِيَ أشياء بالهنديّة، أو بالرّوميّة، ولم نعرف صورة ما له تلک الأسماء لم نعرف الْمُسَمَّيَاتِ إذا شاهدناها بمعرفتنا الأسماء المجرّدة، بل کنّا عارفین بأصوات مجرّدة، فثبت أنّ معرفة الأسماء لا تحصل إلا بمعرفة المسمّى، و حصول صورته في الضّمير، فإذا المراد بقوله : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] ، الأنواع الثلاثة من الکلام وصور المسمّيات في ذواتها، وقوله : ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً سَمَّيْتُمُوها [يوسف/ 40] ، فمعناه أنّ الأسماء التي تذکرونها ليس لها مسمّيات، وإنما هي أسماء علی غير مسمّى إذ کان حقیقة ما يعتقدون في الأصنام بحسب تلک الأسماء غير موجود فيها، وقوله : وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ [ الرعد/ 33] ، فلیس المراد أن يذکروا أساميها نحو اللّات والعزّى، وإنما المعنی إظهار تحقیق ما تدعونه إلها، وأنه هل يوجد معاني تلک الأسماء فيها، ولهذا قال بعده : أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِما لا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ [ الرعد/ 33] ، وقوله : تَبارَكَ اسْمُ رَبِّكَ [ الرحمن/ 78] ، أي : البرکة والنّعمة الفائضة في صفاته إذا اعتبرت، وذلک نحو : الكريم والعلیم والباري، والرّحمن الرّحيم، وقال : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [ الأعلی/ 1] ، وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الأعراف/ 180] ، وقوله : اسْمُهُ يَحْيى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا [ مریم/ 7] ، لَيُسَمُّونَ الْمَلائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثى [ النجم/ 27] ، أي : يقولون للملائكة بنات الله، وقوله : هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] أي : نظیرا له يستحقّ اسمه، وموصوفا يستحقّ صفته علی التّحقیق، ولیس المعنی هل تجد من يتسمّى باسمه إذ کان کثير من أسمائه قد يطلق علی غيره، لکن ليس معناه إذا استعمل فيه كما کان معناه إذا استعمل في غيره . الاسم کسی چیز کی علامت جس سے اسے پہچانا جائے ۔ یہ اصل میں سمو ہے کیونکہ اس کی جمع اسماء اور تصغیر سمی آتی ہے ۔ اور اسم کو اسم اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے مسمیٰ کا ذکر بلند ہوتا ہے اور اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] اور ( نوح (علیہ السلام) نے ) کہا کہ خدا کا نام لے کر ( کہ اس کے ہاتھ میں ) اس کا چلنا ( ہے ) سوار ہوجاؤ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے ) کہ شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے ۔ اور آیت : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] اور اس آدم کو سب ( چیزوں کے ) نام سکھائے ۔ میں اسماء سے یہاں الفاظ و معانی دونوں مراد ہیں ۔ خواہ مفردہوں خواہ مرکب اس اجمال کی تفصیل یہ ہے ۔ کہ لفظ اسم دو طرح استعمال ہوتا ہے ۔ ایک اصطلاحی معنی میں اور اس صورت میں ہمیشہ مخبر عنہ بنتا ہے ۔ جیسے رجل وفرس دوم وضع اول کے لحاظ سے اس اعتبار سے ( کلمہ کی ) انواع ثلاثہ یعنی مخبر عنہ ( اسم ) خبر اور رابطہ ( حرف ) تینوں پر اس معنی مراد ہیں ۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) نے جس طرح اسماء کی تعلیم حاصل کی تھی ۔ اسی طرح افعال وحروف کا علم بھی نہیں حاصل ہوگیا تھا اور یہ ظاہر ہے کہ جب تک کسی چیز کی ذات کا علم حاصل نہ ہو محض نام کے جاننے سے انسان اسے دیکھ کر پہچان نہیں سکتا ہے مثلا اگر ہم ہندی یا رومی زبان میں چند چیزوں کے نام حفظ کرلیں تو ان چیزوں کے اسماء کے جاننے سے ہم ان کے مسمیات کو نہیں پہچان سکیں گے ۔ بلکہ ہمار علم انہیں چند اصوات تک محدود رہے گا اس سے ثابت ہوا کہ اسماء کی معرفت مسمیات کی معرفت کو مستلزم نہیں ہے اور نہ ہی محض اسم سے مسمی ٰ کی صورت ذہن میں حاصل ہوسکتی ہے ۔ لہذا آیت : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] میں اسماء سے کلام کی انواع ثلاثہ اور صورۃ مسمیات بمع ان کی ذوات کے مراد ہیں اور آیت ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً سَمَّيْتُمُوها [يوسف/ 40] جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے رکھ لئے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں ک جن اسماء کی تم پرستش کرتے ہو ان کے مسمیات نہیں ہیں ۔ کیونکہ و اصنام ان اوصاف سے عاری تھے ۔ جن کا کہ وہ ان اسماء کے اعتبار سے ان کے متعلق اعتقاد رکھتے تھے ۔ اور آیت : وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ [ الرعد/ 33] اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں ۔ ان سے کہو کہ ( ذرا ) انکے نام تولو ۔ میں سموھم سے یہ مراد نہیں ہے کہ لات ، عزی وغیرہ ان کے نام بیان کرو بلکہ آیت کے معنی پر ہیں کہ جن کو تم الاۃ ( معبود ) کہتے ہو ان کے متعلق تحقیق کرکے یہ تو بتاؤ کہ آیا ان میں ان اسماء کے معانی بھی پائے جاتے ہیں ۔ جن کے ساتھ تم انہیں موسوم کرتے ہو ( یعنی نہیں ) اسی لئے اس کے بعد فرمایا أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِما لا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ [ الرعد/ 33] ( کہ ) کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں ( کہیں بھی ) معلوم نہیں کرتا یا ( محض ) ظاہری ( باطل اور جھوٹی ) بات کی ( تقلید کرتے ہو ۔ ) اور آیت : تَبارَكَ اسْمُ رَبِّكَ [ الرحمن/ 78] تمہارے پروردگار ۔۔ کا نام برا بابر کت ہے ۔ میں اسم رب کے بابرکت ہونے کے معنی یہ ہیں ک اس کی صفات ۔ الکریم ۔ العلیم ۔ الباری ۔ الرحمن الرحیم کے ذکر میں برکت اور نعمت پائی جاتی ہے جیسا ک دوسری جگہ فرمایا : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [ الأعلی/ 1] ( اے پیغمبر ) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو ۔ وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الأعراف/ 180] اور خدا کے نام سب اچھے ہی اچھے ہیں ۔ اور آیت : اسْمُهُ يَحْيى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا[ مریم/ 7] اسمہ یحیٰ لم نجعل لہ من قبل سمیا َ (719) جس کا نام یحیٰ ہے ۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا ۔ میں سمیا کے معنی ہم نام ، ، کے ہیں اور آیت :۔ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] بھلا تم اس کا کوئی ہم نام جانتے ہو ۔ میں سمیا کے معنی نظیر کے ہیں یعنی کیا اس کی کوئی نظیر ہے جو اس نام کی مستحق ہوا اور حقیقتا اللہ کی صفات کے ساتھ متصف ہو اور اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کیا تم کسی بھی پاتے ہو جو اس کے نام سے موسوم ہوکیون کہ ایسے تو اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسماء ہیں جن کا غیر اللہ پر بھی اطلاق ہوسکتا ہے یا ہوتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ ان سے معافی بھی وہی مراد ہوں جو اللہ تعالیٰ پر اطلاق کے وقت ہوتے ہیں ۔ اور آیت : لَيُسَمُّونَ الْمَلائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثى[ النجم/ 27] اور وہ فرشتوں کو ( خدا کی ) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ میں لڑکیوں کے نام سے موسوم کرنے کے معنی یہ ہیں ۔ کہ وہ فرشتوں کو بنات اللہ کہتے ہیں ۔ عيسی عِيسَى اسم علم، وإذا جعل عربيّا أمكن أن يكون من قولهم : بعیر أَعْيَسُ ، وناقة عَيْسَاءُ ، وجمعها عِيسٌ ، وهي إبل بيض يعتري بياضها ظلمة، أو من الْعَيْسِ وهو ماء الفحل يقال : عَاسَهَا يَعِيسُهَا ( ع ی س ) یہ ایک پیغمبر کا نام اور اسم علم ہے اگر یہ لفظ عربی الاصل مان لیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ یہ اس عیس سے ماخوذ ہو جو کہ اعیس کی جمع ہے اور اس کی مؤنث عیساء ہے اور عیس کے معنی ہیں سفید اونٹ جن کی سفیدی میں قدرے سیاہی کی آمیزش ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے عیس سے مشتق ہو جس کے معنی سانڈ کے مادہ منو یہ کے ہیں اور بعیر اعیس وناقۃ عیساء جمع عیس اور عاسھا یعسھا کے معنی ہیں نر کا مادہ سے جفتی کھانا ۔ وَجِيهاً وفلان وجِيهٌ: ذو جاه . قال تعالی: وَجِيهاً فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ [ آل عمران/ 45] وأحمق ما يتوجّه به : كناية عن الجهل بالتّفرّط، وأحمق ما يتوجّه بفتح الیاء وحذف به عنه، أي : لا يستقیم في أمر من الأمور لحمقه، والتّوجيه في الشّعر : الحرف الذي بين ألف التأسيس وحرف الرّويّ فلان وجہ القوم کے معنی رئیس قوم کے ہیں جیسا کہ قوم کے رئیس اور سردارکو را وجیہ اوذوجاہ فلاں صاحب وجاہت ہے قرآن میں ہے ۔ وَجِيهاً فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ [ آل عمران/ 45] اور جو دینا اور آخرت میں با آبر و ہوگا ۔ ایک محاورہ ہے ۔ احمق مایتوجہ بہ یعنی وہ انتہائی درجہ کا احمق ہے اور کبھی بہ کو حذف کرکے بھی بولتے ہیں ۔ اور مطلب یہ ہے کہ حماقت کی وجہ سے وہ کوئی کام بھی صحیح طور پر نہیں کرسکتا ۔ التوجیہ علم عروض میں اس حرف کو کہتے ہیں جو ایف تاسیس اور حرف روی کے درمیان ہو ۔ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ وعن الأوّل فيقابل بالآخر، نحو : خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] دنا ( دن و ) الدنو ( ن) کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا هے۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ اور کبھی بمعنی اول ( نشاۃ اولٰی ) استعمال ہوتا ہے اور الآخر ( نشاۃ ثانیہ) کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے جیسے فرمایا :۔ کہ اگر اس کے پاس ایک دینا بھی امانت رکھو ۔ خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی قرب الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة . فمن الأوّل نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] ، ( ق ر ب ) القرب القرب والبعد یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابلہ میں استعمال ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قربت منہ اقرب وقربتہ اقربہ قربا قربانا کسی کے قریب جانا اور مکان زمان ، نسبی تعلق مرتبہ حفاظت اور قدرت سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے جنانچہ فرب مکانی کے متعلق فرمایا : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں داخل ہوجاؤ گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قاصدمالک کی طرف سے بشارت دے سکتا ہے قول باری ہے (واذقالت الملئکۃ یا مریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح، اور جب فرشتوں نے کہا، اے مریم اللہ تجھے اپنے ایک فرمان کی بشارت دیتا ہے۔ اس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا) بشارت ایک خاص وصف والی خبرکوکہتے ہیں۔ اصل کے لحاظ سے ہر خوش کن بات کو بشارت کہتے ہیں۔ اس لیے کہ بشارت کی وجہ سے چہرے پر سرور کے آثارپیدا ہوجاتے ہیں۔ اور بشرہ ادھوڑی یعنی چہرے کی ظاہری جلدکوکہتے ہیں۔ فرشتوں نے بشارت کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کردی اگرچہ فرشتے ان سے مخاطب تھے لیکن بشارت دینے والا اللہ تعالیٰ تھا اس لیے اس کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی۔ اسی بناپر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں اگر فلاں کو فلاں کی آمد کی خوشخبری دوں تو میراغلام آزادی ہے۔ اس کے بعد وہ شخص آجائے اور یہ قسم کھانے والا اس فلاں کی طرف قاصد بھیج کر اس دوسرے کی آمد کی اطلاع دے قاصد اس سے جاکریہ کہے کہ فلاں شخص نے تجھے پیغام بھیجا ہے کہ اس فلاں کی آمدہوگئی ہے تو اس میں قسم کھانے والا حانث ہوجائے گا اور اسے غلام آزادکرناپڑے گا۔ اس لیئے اس صورت میں قاصدبھیجنے والاہی دراصل خوشخبری دینے والا ہے۔ قاصدخوشخبری دینے والا نہیں ہے۔ ہم نے بشارت کے معنی کی وضاحت میں یہ بیان کیا تھا کہ اس میں خوشی پیدا کرنے کا پہلوہوجودہوتا ہے۔ اس بناپر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ خوشخبری دینے والا وہ شخص ہوگاجوسب سے پہلے خبروے دوسرے نمبرپرخبردینے والا مبشر نہیں کہلاسکتا اس لیے کہ اس کی خبر سے خوشی اور مسرت کا ظہور نہیں ہوتا۔ بعض دفعہ لفظ بشارت کا اطلاق کرکے اس سے صرف خبرمراد لی جاتی ہے۔ جیسا کہ قول باری ہے (فبشرھم بعذاب الیم، انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے دیجیئے) عیسیٰ کلمۃ اللہ ہیں۔ قول باری ہے (بکلمۃ منہ) اس کی تین طرح سے تفسیر کی گئی ہے اول یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو بن باپ کے پیداکردیاجیسا کہ خودارشاد فرمایا (خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون ، اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا۔ پھر فرمایا ہوجاپس وہ ہوگیا) جب حضرت عیسیٰ کی پیدا پیدائش باپ کے بغیر اس طریقے پر ہوئی تو ان پر مجازا لفظ کلمۃ کا اطلاق کردیا گیا، جیسا کہ فرمایا (وکلمتہ ٤٧ الی مریم، عیسیٰ اللہ کے کلمہ تھے جسے اس نے مریم کی طرف ڈال دیا) چودوم چونکہ حضرت عیسیٰ کے متعلق کتب قدیمہ میں بشارت موجود تھی اس لیے ان پر لفظ کلمہ کا اطلاق کیا گیا۔ سوم اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہا السلام کے ذریعے بندوں کی ہدایت کا اسی طرح سامان کیا تھا جس طرح اپنے کلمہ اور امر کے ذریعے ان کی ہدایت کی تھی۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٥) وہ وقت یاد کرو جب کہ فرشتوں نے مریم (علیہ السلام) سے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بشارت دیتے ہیں، ایک کلمہ کی جو منجانب اللہ ہوگا، اس کا نام مسیح عسی بن مریم (علیہ السلام) ہوگا کیونکہ وہ تمام شہروں میں سیاحت کریں گے یا یہ کہ بادشاہت والے ہوں گے اس واسطے ان کا مسیح لقب ہوگا اور دنیا میں بھی لوگوں میں ان کی قدرومنزلت ہوگی اور آخرت میں بھی وہ باآبرو ہوں گے اور جنت عدن میں وہ منجانب اللہ مقربین میں سے ہوں گے

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٥ (اِذْ قَالَتِ الْمَلآءِکَۃُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنْہُ ق) تمہیں اللہ تعالیٰ ایک ایسی ہستی کی ولادت کی خوشخبری دے رہا ہے جو اس کی جانب سے ایک خاص کلمہ ہوگا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

18: حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کلمۃ اللہ کہنے کی وجہ اوپر حاشیہ نمبر 13 میں گذر چکی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(45 ۔ 47) ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا پورا قصہ تو سورة مریم میں آئے گا۔ مگر حاصل اس کا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حمل سے پہلے حضرت مریم کو جو دو حیض آئے تھے ان میں سے آخری حیض سے فارغ ہو کر جب وہ سب سے الگ نہانے کو گئیں اور پردہ کر کے نہانے لگیں تو ایک خوبصورت مرد کی شکل میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ان کو نظر آئے۔ حضرت مریم نے ان کو دیکھ کر یہ کہا کہ اے شخص اگر تو پرہیزگار آدمی ہے تو میں تیرے بد ارادہ سے اللہ کی پناہ میں آنا چاہتی ہوں۔ حضرت جبرئیل نے جواب دیا کہ مریم میں تو تیرے رب کی طرف سے تجھ کو ایک بڑی شان کے لڑکے کے پیدا ہونے کی خوش خبری دینے آیا ہوں۔ حضرت مریم نے اس بات کو سن کر بڑے تعجب سے کہا کہ میرے یہاں لڑکا کیونکر پیدا ہوگا۔ مجھ کو تو کسی مرد نے ہاتھ نہیں لگایا حضرت جبرئیل نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم یوں ہی ہے کہ بغیر باپ کے ایک لڑکا تمہارے ہاں پیدا ہو کر اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک نشانی دنیا میں لوگوں کو نظر آئے یہ کہہ کر حضرت جبرئیل نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی روح حضرت مریم کے جسم میں پھونک دی اور حضرت مریم کو حمل رہ گیا اور وقت مقررہ پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور اس طرح بغیر باپ کے بچہ پیدا ہوجانے پر لوگوں نے حضرت مریم سے طرح طرح کی قیل و قال شروع کی تو انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اس قیل وقال کے جواب کا اشارہ کیا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے خلاف عادت لوگوں سے کہا کہ تم کیا قیل و قال کرتے ہو۔ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بچہ پنے میں لوگوں سے باتیں کیں۔ دنیا میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وجاہت یہ تھی کہ وہ نبی ہو کر آئے۔ آخرت میں ان کی وجاہت یہ ہوگی کہ وہ گنہگار لوگوں کی شفاعت کریں گے۔ مسیح وہ جس کے ہاتھ لگانے سے بیمار اچھے ہوں یا جن کا کہیں وطن نہ ہو ہمیشہ سیاحی میں رہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں یہ دونوں باتیں تھیں دجال کو بھی مسیح اس لئے کہتے ہیں کہ سوائے مکہ اور مدینہ اور بیت المقدس کے وہ سب جگہ پھرے گا بعض مفسروں نے یہاں دو لطیفے نقل کئے ہیں۔ ایک حضرت مریم کے متعلق ہے اور دوسرا حضرت عیسیٰ کے متعلق۔ حضرت مریم کے متعلق لطیفہ یہ ہے کہ ایک عیسائی شخص نے ایک مسلمان شخص سے یہ کہا کہ تم کو کچھ خبر ہے کہ لوگوں نے تمہارے کی بی بی کی نسبت کیا الزام لگایا تھا۔ مسلمان نے جواب دیا کہ ایک پیغمبر کی ماں پر بھی یہ الزام لگا جا چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح حضرت مریم جھوٹے الزام سے بری ہیں اسی طرح حضرت عائشہ (رض) حضرت عیسیٰ کے متعلق لطیفہ یہ ہے کہ ایک عیسائی شخص نے ایک مسلمان سے کہا کہ آیت قرآنی و کلمۃ القاھا الی مریم وروح منہ (٤۔ ١٧١) سے یہ پایا جاتا ہے کہ عیسیٰ اللہ تعالیٰ کے جز ہیں مسلمان نے جواب دیا کہ آیت ما فی السموات وما فی الارض جمیعا منہ (٤٥۔ ١٣) سے کیا پایا جاتا ہے وہ عیسائی شخص یہ بات سن کر لاجواب ہوگیا۔ انجیل میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نام یسوع ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:45) کلمۃ منہ۔ اس (اللہ) کی جانب سے ایک کلمہ۔ اس کا ایک کلمہ۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ انہ خلق (عیسی) بکلمۃ اللہ وھو قولہ کن فیکون۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو اپنے قول کن سے پیدا کیا۔ یہاں کلمہ سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات ہے المسیح۔ بعض علماء کے نزدیک مسیح کا لفظ عبرانی لفظ مشوح سے معرب ہے جس کے معنی معرب کے ہیں۔ اکثر علماء کے مطابق یہ لفظ مشتق ہے اور یہ لفظ فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل استعمال ہوا ہے یعنی مسح کرنے والا۔ کیونکہ آپ جس بیمار پر اپنا ہاتھ مبارک پھیر دیتے تھے وہ صحت یاب ہوجاتا تھا۔ یا مسیح بمعنی مساحت کرنے والا۔ زمین کی پیمائش کرنے والا۔ یا زمین پر مسافت پیادہ کرنے والا۔ کیونکہ آپ نے ساری عمر تبلیغ دین کے لئے مسافت میں گزار دی اور کہیں مستقل رہائش اختیار نہ کی۔ اور مسیح اس شخص کو بھی کہتے ہیں جس کے چہرے کا ایک رخ صاف ہو یعنی نہ آنکھ ہو نہ بھویں۔ اسی بناء پر دجال کو دجال مسیح کہتے ہیں۔ عیسیٰ ۔ عبرانی لفظ الیشوع کا معرب ہے بمعنی سید۔ سردار۔ وجیھا۔ صیغہ صفت۔ وجاھۃ۔ مصدر (باب کرم) وجاہت والا۔ قدرومنزلت والا۔ با عزت۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 اس آیت میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کلمہ قرار دیا گیا ہے جس کی تشریح پہلے گزر چکی ہے۔ (دیکھئے آیت 38، ص 2) مسیح کا لفظ مسح سے مشتق ہے جس کے معنی ہاتھ پھیر نے یا زمین کی مساحت کرنے کے ہیں لہذا حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو مسیح یا تو اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ بیماروں اور کر ڑھیوں پر ہاتھ پھیرتے تھے اور وہ تند رست ہوجائے تے تھے۔ یا اس بنا پر کہ آپ زمین میں ہر وقت سفر کر تھے رہتے تھے ، (ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 54 وجیه (باعزت، بلندمرتبہ) المقربین (قریب والے) یکلم (کلام کرے گا، بات کرے گا) المھد (گہوارہ) کھل (بڑی عمر) لم یمسسنی ( مجھے نہیں چھوا مجھے ہاتھ نہیں لگایا) بشر (انسان ، آدمی) قضی (فیصلہ کیا) الطین (مٹی) ھیة (شکل) انفخ (میں پھونکتا ہوں) طیر (پرندہ) ابری (میں اچھا کردیتا ہوں) الابرص (کوڑھی) الاکمه (پیدائشی اندھا) احیٖ (میں زندہ کرتا ہوں) انبئکم (میں تمہیں بتاتا ہوں) تدخرون (تم جمع کرتے ہو، ذخیری کرتے ہو ! ) بیوت (گھروں، (بیت، گھر) حرم (حرام کردیا گیا) احس (محسوس کیا) من انصاری (میرا مددگار کون ہے ؟ ) الحواریون (ہم مجلس (حضرت عیسیٰ کے صحابہ ) انصار اللہ (اللہ کے مدرگار) اشھد (تو گواہ رہنا) اتبعنا (ہم نے پیروی کی، پیچھے چلے) اکتبنا (گواہی دینے والے) مکروا (انہوں نے خفیہ تدبیر کی) مکراللہ (اللہ نے تدبیر کی) خیر الماکرین (بہترین تدبیر کرنے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 45 تا 54 جب حضرت مریم کو صنفی مواصلت کے بغیر ایک بچہ پیدا ہونے کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے انتہائی تعجب سے کہا جب کہ مجھے کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا پھر میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہونے کی اطلاع خوشخبری کے انداز میں کیسے ہوسکتی ہے ؟ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ اے مریم اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ ہماری قدرت و طاقت سے یہ بات باہر نہیں ہے۔ جس طرح اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا ہے اسی طرح وہ بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ کو پیدا کرسکتا ہے۔ اس بات سے اللہ نے عیسائیوں کی اس غلط فہمی کو دور کیا ہے جو انہوں نے بغیر باپ کے پیدا ہونے پر حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا بنادیا تھا اور یہودیوں کے اس الزام کی تردید ہے کہ حضرت مریم (نعوذ باللہ) کسی گناہ کی مرتکب ہوئی ہیں۔ چونکہ قرآن کریم کا مقصد کوئی قصہ کہانی سنانا نہیں ہے بلکہ ان حقائق سے نقاب اٹھانا ہے جن پر عیسائیوں اور یہودیوں کی صدیوں کی جہالت نے گردوغبار کے پردے ڈال کر اللہ کے بندے کو اللہ کا حصہ بنا کر پیش کیا تھا۔ اس لئے حضرت مریم کی پوزیشن کو صاف کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ کے خطبہ کی طرف اشارہ فرمادیا کہ جب حضرت عیسیٰ ابن مریم نے بنی اسرائیل کو اللہ کا پیغام پہنچاتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور اپنے معجزات کے ذریعہ تمہیں اپنے رسول ہونے کا یقین دلانا چاہتا ہوں۔ مگر حضرت عیسیٰ کے اس خطبہ کا بنی اسرائیل پر کوئی اثر نہیں ہوا اور انہوں نے بڑی شدت سے مخالفت کرنا شروع کردی۔ جب حضرت عیسیٰ نے اس بات کا اندازہ کرلیا کہ بنی اسرائیل ان کی مخالفت پر کمر بستہ ہوچکے ہیں تو انہوں نے کہا تم میں سے اس سچائی کو قائم کرنے میں کون اللہ کے دین کے لئے میرا مددگار ہے۔ اس پر کچھ لوگوں (حواریوں) نے کہا کہ اللہ کے دین اور اس کو قائم کرنے میں ہم آپ کے مددرگار ہیں۔ یہی وہ حضرات تھے جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دامن سے وابستگی احیتار کی اور راہ نجات حاصل کرلی۔ ان مقدس ہستیوں کو حواریین فرمایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دین کی راہوں میں چلنے اور اقامت دین کی ہر کوشش میں اسلام کا مدد گار بنا دے ۔ آمین۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اب وہ وقت آن پہنچا جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم [ کو پاک، معزز اور اس زمانے کی عورتوں پر فضیلت عطا فرمائی تھی۔ چناچہ حضرت مریم [ کے پاس فرشتے حاضر ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بیٹے کی خوشخبری کا اشارہ دیتے ہوئے بتلاتے ہیں کہ اس کا لقب مسیح اور نام عیسیٰ بن مریم جو دنیا وآخرت میں نہایت ہی وجیہ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقرب بندوں میں ہوگا۔ وَجِیْھاً کا معنیٰ ہے معزز، تروتازہ وہشاش بشاش، نہایت ہی خوبصورت چہرے والا۔ یہی وجہ ہے کہ جب رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معراج سے واپس آکر انبیاء کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بارے میں صحابہ کرام (رض) کو تفصیل بتا رہے تھے تو آپ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : (رَبْعَۃٌ أَحْمَرُکَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِیْمَاسٍ یَعْنِي الْحَمَّامَ ) [ رواہ البخاری : أحادیث الانبیاء، باب قول اللہ واذکر فی الکتاب مریم ] ” درمیانے قد اور سرخ رنگ کے تھے گویا کہ وہ حمام سے غسل فرما کر ابھی نکلے ہوں۔ “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دو وجہ سے مسیح کہا جاتا ہے ایک یہ کہ اس زمانے میں نیک اور معزز شخص کو مذہبی لوگ ایک خاص قسم کا تیل لگاتے تھے دوسری وجہ حضرت ابن عباس (رض) بیان فرماتے ہیں چونکہ ان کے ہاتھ پھیرنے سے کوڑھی صحت مند اور پیدائشی نابینا ‘ بینا ہوجاتا تھا اس لیے انہیں مسیح کہا جاتا ہے۔ عبرانی میں عیسیٰ کا معنیٰ سردار ہے۔ فرشتوں نے یہ بھی کہا کہ وہ گہوارہ اور بڑی عمر میں پہنچ کر لوگوں سے گفتگو کرے گا اور نیک سیرت ہوگا۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو حضرت مریم [ پر لوگوں نے تہمت لگائی تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت صاف اور مؤثر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا فرمائی ہے۔ ہر حال میں مجھے برکت دی گئی ہے اور میں اپنی والدہ کا خدمت گزار ہوں گا۔ (تفصیل کے لیے سورة مریم کی آیات ٣٠ تا ٤٣ تلاوت کیجیے۔ ) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی اور پینتیس سال کی عمر میں انہیں آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ ” کَہْلًا “ یعنی وہ بڑھاپے میں بھی لوگوں سے خطاب اور گفتگو کریں گے۔ اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے قریب دنیا میں تشریف لائیں گے اور میری اتّباع میں دین اسلام کی سربلندی کے لیے کام کریں گے گویا انہیں بڑھاپے کی عمر بھی دیکھنا نصیب ہوگی۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِيِِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَنْزِلَ عِیْسَي ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا مُقْسِطًاوَإِمَامًا عَادِلًا فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ وَیَفِیْضُ الْمَالُ حَتّٰی لَایَقْبَلَہٗ أَحَدٌ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ ابن مریم ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جب تک عیسیٰ بن مریم منصف حکمران اور عادل امام بن کر نہیں آتے۔ اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی وہ صلیب کو توڑیں گے ‘ خنزیر کو قتل کریں گے ‘ جزیہ ختم کریں گے اور مال کی فراوانی ہوگی یہاں تک کہ اسے کوئی قبول کرنے والا نہیں ہوگا۔ “ اس سے یہودیوں کے دعو ٰی کی تردید ہوتی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) پھانسی دیئے گئے ہیں۔ دوسری طرف عیسائیوں کے شرک کی نفی کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ولادت، بچپن اور بڑھاپا جیسی تبدیلیوں سے مبرّا ہے جب کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں بہت سے مدو جزر ہوئے اور قرب قیامت ان کے متعلق مزید واقعات رونما ہوں گے لہٰذاعیسیٰ (علیہ السلام) رب نہیں اللہ کا بندہ ہے۔ مسائل ١۔ عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا و آخرت میں عزت والے اور اللہ کے مقرب ہیں۔ ٢۔ حضرت قرب قیامت آسمانوں سے زمین پر اتریں گے۔ تفسیر بالقرآن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اوصاف : ١۔ بغیر باپ کے پیدا ہونا۔ (آل عمران : ٤٧) ٢۔ بچپن و بڑھاپے میں کلام کرنا۔ (آل عمران : ٤٦) ٣۔ مٹی سے پرندہ بنانا۔ (المائدۃ : ١١٠) ٤۔ ماد رزاداندھے اور کوڑھی کو درست کرنا۔ (آل عمران : ٤٩) ٥۔ لوگوں کی ذخیرہ شدہ اشیاء کی خبردینا۔ (آل عمران : ٤٩) ٦۔ باذن اللہ مردوں کو زندہ کرنا۔ (المائدۃ : ١١٠) ٧۔ روح اور جسم سمیت آسمانوں پر اٹھایا جانا۔ (آل عمران : ٥٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حضرت مریم (علیہ السلام) اپنی پاکیزگی ‘ اپنی یکسوئی اور اپنی پیہم عبادت گزاری کی وجہ سے اس بات کی اہل ہوئیں کہ وہ اس کے اس فعل کو قبول کرسکیں اور اس عظیم واقعہ کے لئے تیار ہوسکیں ۔ اور دیکھئے اب وہ تیار ہیں اور اب ملائکہ ان کے ساتھ ہمکلام ہورہے ہیں ۔ انہیں اطلاع دی جاتی ہے ۔ إِذْ قَالَتِ الْمَلائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلا وَمِنَ الصَّالِحِينَ ” اور جب فرشتوں نے کہا ” اے مریم ! اللہ تجھے ایک فرمان کی خوشخبری دیتا ہے ۔ اس کا نام مسیح بن مریم ہوگا۔ دنیا وآخرت میں معزز ہوگا ‘ اللہ کے مقرب بندوں میں شمار کیا جائے گا ۔ لوگوں سے گہوارے میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی اور وہ ایک مرد صالح ہوگا۔ “ اس آیت میں بات پوری طرح کھول کر انہیں بشارت دی گئی ہے ۔ یہ بشارت اللہ کے کلام (فرمان) سے متعلق ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا۔ نحو کے اعتبار سے لفظ مسیح کلمہ کا بدل یعنی کلمہ مسیح ابن مریم ہیں ۔ اب اس تعبیر کلام کے بعد کوئی بات ہی نہیں رہتی ………یہ اور اس قسم کے دوسرے بیشمار امور ‘ اصل غیبی امور ہیں اور ان کی ماہیت تک رسائی پوری طرح ممکن نہیں ہوتی ۔ اور ہوسکتا ہے کہ یہ امور ان متشابہات میں سے ہوں ‘ جن کے بارے میں اس سورت کے آغاز میں کہا گیا : هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ” وہی اللہ ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے ۔ اس کتاب میں دوطرح کی آیات درج ہیں ‘ ایک محکمات ‘ جو کتاب کی اصل بنیادیں ہیں اور دوسری متشابہات ‘ جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے ‘ وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں ۔ اور ان کو معنی پہنانے کی توثیق کرتے ہیں ۔ “………لیکن اس معاملے کا سمجھنا بہت ہی آسان ہے اگر ہم اسے اللہ ترسی کے ساتھ سمجھنا چاہیں ۔ اور اللہ کی کاریگری اور اس کی قدرت کی نشانیاں ہمارے ذہن میں ہوں اور ہمیں یہ معلوم ہو کہ اللہ کی مشیئت اور حدود وقیود سے آزد ہے جو اس نے اس جہاں رانی کے لئے خود وضع کئے ہیں ۔ اللہ نے جب چاہا تو اس نے مٹی سے آدم کو پیدا کیا ‘ اب تخلیق آدم براہ راست مٹی سے ہوئی اور مٹی میں نفخ روح ہواہو یا ابتدائی جرثومہ پیدا کیا گیا ہو اور وہ وجود آدم پر منتج ہوا۔ میں یہاں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ تخلیق آدم مجسمے سے ہوئی یا جرثومے سے ۔ اس لئے کہ ان دونوں صورتوں میں وہ راز راز ہی رہتا ہے ۔ جسے ہم رازحیات کہتے ہیں ۔ وہ راز جس نے پہلی مخلوق کو حیات عطا کی ۔ یا جس طرح آدم کے پہلے مجسمے میں روح ڈالی گئی یا جرثومے میں ڈالی دونوں صورتوں میں یہ ایک عظیم اعجاز اور معجزہ ہے ۔ اس لئے کہ جرثومہ زندہ ہو یا پورے انسان کی زندگی میں یکدم روح ڈال دی جائے ۔ دونوں صورتیں معجزہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ زندگی کہاں سے آئی ؟ کیسے آئی ؟ بہرحال ہم یہ بات قطعیت کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ زندگی مٹی اور ان تمام مردہ عناصر سے علیحدہ کوئی چیز ہے ۔ یہ ایک زائد چیز ہے ۔ یہ عناصر سے علیحدہ ایک حقیقت ہے ۔ اس کے کچھ آثار ہیں ۔ اس کی کچھ علامات ہیں جو مٹی یا دوسرے عناصر کے اندر موجود نہیں ہیں ۔ نہ دوسرے مردہ مادیات میں موجود ہوتی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ یہ راز یعنی حیات کی اصلیت کیا ہے ؟ یہ بات کافی نہیں ہے کہ اس حقیقت کا انکار کرنے کے لئے ہم صرف یہ کہہ دیں کہ ہم نہیں جانتے ۔ جیسا کہ آج کل مادہ پرست عاجز آکر یہ کہہ جاتے ہیں لیکن ان کی اس بات کو نہ کوئی عقلمند آدمی اہمیت دیتا ہے نہ کوئی عالم اسے تسلیم کرتا ہے۔ اس راز کو ہم اس حقیقت کے باوجود نہیں جانتے کہ ہم نے راز حیات کے پانے کے سلسلے میں آج تک انتہائی کوششیں کیں لیکن وہ راز ہم نہ پاسکے ۔ اس لئے کہ ہم نے اس راز کو معروف مادی ذرائع سے پانے کی کوششیں کیں ۔ اور وہ اکارت گئیں ۔ ہم نے زندگی کو موت کے جنگل سے چھڑانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے ۔………ہم نہیں جانتے لیکن اللہ جس نے موت وحیات کی تخلیق کی وہ تو جانتا ہے ۔ وہ کہتا ہے ” اس نے اپنی روح اس میں پھونک دی “ اور اس کا اظہار اس نے لفظ کُن فَیَکُونُ سے کیا ۔ یعنی ” ہوجا “ پس ہوگیا۔ اب یہ نفخ روح کیا ہے ؟ کس طرح حالت موت پر یہ نفخ روح ہوتی ہے اور وہ حالت حیات میں بدل جاتی ہے اور یہ راز لطیف راز فہم سے باہر رہتا ہے۔ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کی کیفیت کیا ہے ؟ یہ وہ ماہیت وکیفیت ہے جس کا ادراک عقل بشری کے دائرہ قدرت سے باہر ہے ۔ کیونکہ یہ اس کی شان اور مقام سے باہر ہے ۔ اسے یہ قدرت ہی نہیں دی گئی کہ وہ اس کا ادراک کرسکے ۔ اس کے کاسہ سر میں یہ سمندروں جیسی حقیقت سماہی نہیں سکتی ؟ اس لئے انسان کا ایک اپنا مقصد تخلیق ہے ۔ اس کے یہاں کچھ فرائض ہیں ۔ یعنی فریضہ خلافت فی الارض اس کے لئے اسے اس راز سے آگاہی ضروری نہیں ہے ۔ وہ یہاں حیات وموت کے کاروبار کے لئے نہیں پیدا کیا گیا تاکہ اسے حیات کی ماہیت بنائی جائے ۔ اسے نفخ روح کی کیفیت سے آگاہ کیا جائے اور زندگی کی یہ پہلی سیڑھی پر اس زندگی کا اتصال ذات آدم سے کیسے ہوا ؟ جب ان میں زندگی کاست ڈالا گیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ جب انہوں نے حضرت آدم میں اپنی روح پھونکی تو اس کی وجہ سے حضرت آدم کو یہ اعزاز حاصل ہوا یہاں تک کہ ان کو ملائکہ پر بھی فوقیت دی گئی ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ یہ اعزاز اور یہ حیات جرثومے اور میکر بادت کے علاوہ بھی کوئی چیز ہے ۔ یہی وہ نفخ روح ہے جس کی وجہ سے ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس کرہ ارض پر انسان ایک ایسی جنس ہے ۔ اس کی تخلیق خاص طور پر علیحدہ ہوئی ہے ۔ اور اس کائنات میں اس کا معتبر اور مکرم مقام ہے ۔ جو دوسری زندہ چیزوں کو حاصل نہیں ہے۔ بہرحال یہاں ہمارا موضوع تخلیق انسان نہیں ہے ۔ سیاق کلام میں کچھ دیر کے لئے ہم نے اسی نکتے پر اس لئے روشنی ڈالی ہے کہ بعض اوقات ایک قاری کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے۔ کہ انسان کی پیدائش اس طریقے پر کیسے ممکن ہے ۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں راز حیات سے ہمیں آگاہ فرماتے ہیں ۔ اگرچہ ہم اس کی ماہیت نہیں پاسکتے ۔ اگرچہ ہم مردہ میں نفخ روح کی کیفیت کا ادراک نہیں کرسکتے لیکن راز حیات کو تو سمجھ سکتے ہیں …………حضرت آدم (علیہ السلام) کو براہ راست پیدا کرکے اللہ تعالیٰ نے پھر پیدائش انسانیت کے لئے ایک طبعی راہ متعین کردی ۔ یعنی میاں بیوی کے ملاپ کے نتیجے میں قافلہ انسانیت رواں دواں ہوا۔ یعنی بیوی کے پیدا کردے انڈے کے ساتھ مرد کے جرثومے کے ملاپ یوں گود ہری ہوئیں ‘ نسلیں چلیں جس طرح یہ انڈہ زندہ ہے ۔ اس طرح یہ جرثومہ بھی زندہ ہے ۔ دونوں متحرک ہیں۔ قافلہ حیات اس شاہراہ پر چل پڑا اور لوگ اس کے عادی ہوگئے ۔ اب ایک مقام ایسا آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بیش پا افتادہ راستے کو بدل دیا ۔ مروجہ اصل ایک محدود وقت کے لئے معطل کردیا گیا۔ ایک فرد کے بارے میں اس قاعدے کو معطل کردیا اور ایک مثال ایسی پیدا کردی گئی جو آدم (علیہ السلام) کی شکل میں ہو۔ اگرچہ بتمامہ اس جیسی نہ ہو ۔ یہاں اب صرف عورت سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ وہی روح اس عورت میں پھونک دی جاتی ہے جس کی ابتدائی تخلیق ہوئی ۔ اور اس عورت کے رحم میں زندگی کے آثار پیدا ہوگئے ۔ یہاں لاہوتی سوالات پیدا ہوئے ۔ کیا یہ نفخ کلمہ ہے ؟ کیا کلمہ ارادے کے متوجہ ہونے کا نام ہے ؟ کیا کلمہ کن ہے ؟ جو کبھی حقیقت ہوتا ہے اور کبھی محض توجہ ارادہ سے کنایہ ہوتا ہے۔ کیا کلمہ خود حضرت عیسیٰ ہیں یاکلمہ وہ ہے جس سے وہ وجود میں آئے ؟…………یہ تمام مباحث ایسے ہیں جن سے شبہات ہی حاصل ہوسکتے ہیں ۔ ان مباحث کے نتیجے میں یقین حاصل نہیں ہوتا ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ایک زندگی ایسی وجود میں لانی تھی جس کی کوئی مثال نہ ہو۔ اس نے اپنے بےقید ارادے کے ذریعے اسے وجود بخشا ۔ اس زندگی میں اپنی جانب سے ایک روح پیدا کی ۔ ہمیں اس روح کے آثار تو نظر آتے ہیں لیکن ہم اس کی ماہیت اور کیفیت ادراک سے قاصر ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم اس سے قاصر رہیں ۔ اس لئے کہ اس ادراک کی وجہ سے ہماری اس قوت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا جو ہمیں اس کرہ ارض پر فریضہ خلافت کی ادائیگی کے لئے ضروری ہے ۔ یہ معاملہ ‘ اس صورت میں بہت سہولت کے ساتھ سمجھاجاسکتا ہے اور اس صورت میں اس کے وقوع پذیر ہونے میں کوئی شبہ بھی پیدا نہیں ہوتا…………غرض ملائکہ نے حضرت مریم کو بشارت دی ۔ اس بشارت میں اللہ کی جانب سے فرمان آنا تھا ‘ اس فرمان کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم بتایا گیا۔ ان کی نوع ‘ ونسب کا بھی ذکر کردیا گیا ۔ نسب نامہ مان کی طرف راجع ہوا۔ بشارت میں ان کی صفات اور اللہ کے ہاں ان کے لئے رتبہ بلند کا ذکر کیا گیا ۔ دنیا وآخرت میں ان کی وجاہت کا ذکر بھی ہوا اور یہ اعلان بھی ہوا کہ وہ اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہوگا۔ اور یہ ذکر بھی ہوا کہ پیدا ہوتے ہی اس سے معجزات کا ظہور شروع ہوگا۔” گہوارے “ ہی میں لوگوں سے باتیں شروع کردے گا ۔ یعنی جوانی میں بھی بات کرے گا ۔ اور اس کی صفات میں سے اہم صفت یہ ہوگی کہ وہ قافلہ صالحین میں سے ہوگا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت مریم کو حضرت مسیح عیسیٰ کی پیدائش کی خوشخبری ان آیات میں اس بات کو ذکر فرمایا کہ فرشتوں نے حضرت مریم [ کو بیٹا ہونے کی خوشخبری دی۔ بیٹے کا نام مسیح ہوگا جو عیسیٰ بن مریم ہوگا اور یہ بتایا کہ یہ بیٹا من جانب اللہ ایک کلمہ ہوگا۔ کلمۃ اللہ اور مسیح کا مطلب : حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ میں (مُصَدِّقًا بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ ) گزر چکا ہے۔ وہاں بھی کلمۃ من اللّٰہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو (کَلِمَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ ) اس لیے فرمایا کہ وہ بغیر باپ کے صرف اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے : قال فی الروح صفحہ ١٦٠: ج ٣ و اطلاق الکلمۃ علی من اطلقت علیہ باعتبار انہ خلق من غیر واسطۃ اب بل بواسطۃ کن فقط علی خلاف افرد بنی آدم فکان تاثیر الکلمۃ فی حقہ اظھر واکمل۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نام مسیح بھی بتایا اور عیسیٰ بھی، لفظ مسیح کے بارے میں صاحب معالم التنزیل صفحہ ٣٠١: ج ١ لکھتے ہیں کہ بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ فعیل مفعول کے معنی میں ہے مسیح بمعنی ممسوح ہے اور ان کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ ان کو گندگیوں اور گناہوں سے پاک کیا گیا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ان کے جسم پر اپنا بازو پھیر دیا تھا جس کی وجہ سے شیطان ان سے دور رہتا تھا۔ اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ مسیح بمعنی ماسح ہے اور اسم فاعل کے معنی میں ہے۔ چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مریض کے جسم پر ہاتھ پھیر دیتے تھے اور اس سے وہ اچھا ہوجاتا تھا۔ اس لیے ان کو یہ نام دیا گیا۔ دجال کو بھی مسیح کہا گیا ہے۔ وہ مسیح بمعنی ممسوح ہے کیونکہ وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا۔ گویا اس کی آنکھ پر کوئی چیز پھیر دی گئی۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ ابن مریم کے ساتھ کیا گیا ہے، چونکہ ان کا کوئی باپ نہیں تھا اس لیے والدہ ہی کی طرف نسبت کی گئی۔ اس زمانہ میں بعض ایسے لوگ ہیں جو قرآن و سنت کی تصریحات کے خلاف عقائد اختیار کرنے کی وجہ سے کافر ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے باپ تجویز کرتے ہیں۔ یہ لوگ قرآن کی تکذیب کرتے ہیں۔ اعاذ ناللہ منہم۔ وجیھا فی الدنیا و الاٰخرۃ : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہ بھی فرمایا : (وَجِیْھًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ ) کہ وہ دنیا و آخرت میں باو جاہت ہوں گے۔ جب پیدا ہوئے تو ایسا ہی ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ رفعت و عزت عطا فرمائی۔ جب یہودی ان کے قتل کے درپے ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اوپر اٹھا لیا۔ (بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ ) قیامت کے قریب ان کا نزول ہوگا۔ صاحب اقتدار ہوں گے امت محمدیہ کو ساتھ لے کر دین اسلام کو قائم کریں گے اور اس پر چلیں گے اور چلائیں گے۔ نیز فرمایا (وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ) کہ اللہ کے نزدیک مقربین میں سے ہوں گے ہر پیغمبر اللہ کا مقرب ہے اور سب اولیاء اللہ، اللہ کے مقرب ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی اللہ کے مقرب ہیں۔ حضرت یحییٰ کی تصدیق : جب عیسیٰ (علیہ السلام) نبوت سے سر فراز ہوئے تو یحییٰ (علیہ السلام) بھی منصب نبوت پر دنیا میں موجود تھے۔ انہوں نے ان کی نبوت کی تصدیق کی اور وہ پیشین گوئی صادق آئی جو (مُصَدِّقًام بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ ) یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے سلسلہ میں مذکور ہوئی۔ روح المعانی صفحہ ١٤٧: ج ٤ میں لکھا ہے وھو اول من اٰمن بعیسیٰ (علیہ السلام) و صدقہ انہ کلمۃ اللّٰہ تعالیٰ و روح منہ (یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا اعلان اور اس بات کی تصدیق کہ وہ اللہ کا کلمہ ہیں اور اللہ کی طرف سے ایک روح ہیں سب سے پہلے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے کی) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

64 ۔ یہاں سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل کو انسانی شکل میں حضرت مریم کے پاس بیٹے کی خوشخبری سنانے کے لیے بھیجا۔ چناچہ حضرت جبریل نے خوشخبری کے ساتھ یہ بھی واضح کردیا کہ وہ محض کلمہ کن سے پیدا ہوگا اور اس کا نام عیسیٰ اور لقب مسیح ہوگا اور وہ ماں کی طرف منسوب ہوگا کیونکہ وہ باپ کے بغیر ہوگا۔ دنیا اور آخرت میں بڑی شان والا اور خدا کے مقربین میں سے ہوگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1۔ وہ وقت یاد کرو جب فرشتوں نے حضرت مریم سے کہا اے مریم یقینا اللہ تعالیٰ تجھ کو ایک ایسے کلمہ کی بشارت دیتا ہے جو اس کی جانب سے ہوگا یعنی بغیر کسی باپ کے محض اللہ کے حکم سے تیرے ہاں بچہ پیدا ہوگا ۔ اس کا نام اور لقب اور اس کی کنیت مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا وہ دنیا اور آخرت دونوں میں ذی وجاہت اور آبرو والا ہوگا اور وہ مقربین بارگاہ الٰہی میں سے ہوگا ۔ فرشتوں سے مراد چند فرشتے یا حضرت جبریل (علیہ السلام) ہیں ۔ مسیح کے معنی بہت سے ہیں ۔ بکثرت سفر کرنے والا ، ہاتھ پھیرنے والا ، ہر قسم کی پلیدگی سے صاف کیا گیا ، صدیق با برکت یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ معرب ہو اور اصل لفظ کوئی عبرانی ہو۔ صاحب قاموس فرماتے ہیں اس کے اشتقاق میں علماء کے پچاس اقوال ہیں ۔ احادیث میں دجال کو بھی مسیح کہا گیا ہے وہ بھی اس کی سیاحت یا ممسوح العین ہونے کی وجہ سے کہا اور اصل یہ ہے کہ مسیح اضداد میں سے ہے اس کے معنی با برکت کے بھی ہیں اور ملعون کے بھی ہیں با برکت ہونے کے اعبار سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا لقب ہے اور ملعون ہونے کے اعتبار سے دجال کا اس کے معرب ہونے میں کئی قول ہیں ۔ عام طریقہ سے مفسرین نے الیشوع کا معرب کہا ہے۔ ( واللہ اعلم) کلمۃ اللہ کی وجہ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں چونکہ ان کی پیدائش عام طور پر مردو عورت کی مواصلت سے نہیں ہوئی بلکہ غیر فطری طور پر بغیر بات کے ہوئی تھی اور وہ محض لفظ کن کے مظہر تھے اس لئے ان کو کلمۃ اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ اس عالم کی ہر چیز ہی لفظ کن کا ظہور ہے لیکن اس عالم تکوین میں ہر چیز کا کوئی نہ کوئی سبب متعارف موجود ہے لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش میں چونکہ سبب متعارف مفقود تھا اس لئے ان کا لقب کلمۃ اللہ فرمایا اور ان کو ابن مریم (علیہ السلام) کہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ چونکہ ان کا کوئی باپ نہ تھا اس لئے بجائے باپ کے ان کی نسبت ماں کی طرف کی گئی دنیا کی وجاہت یہ کہ وہ نبی اور مقتدر تھے اور آخرت کی وجاہت یہ کہ جنت میں بلند مقام پر فائز ہوں گے اور لوگوں کی شفاعت کریں گے جو تقریب انبیاء کو حاصل ہوتا ہے وہ ان کو بھی حاصل ہوگا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت پہلے نبیوں نے دی تھی کہ مسیح پیدا ہوگا جس سے بنی اسرائیل کو عروج ہوگا ۔ مسیح کے معنی جس کے ہاتھ لگانے سے بیمار اچھے ہوں ۔ یا جس کا کہیں وطن نہ ہو ہمیشہ سیاحی میں رہے ۔ سو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور یہود ان کو نہیں مانتے ۔ جب یہود میں دجال پیدا ہوگا وہ آپ کو مسیح (علیہ السلام) کہے گا یہود اس کو مسیح (علیہ السلام) مانیں گے۔ ( مواضح القرآن) یعنی دجال مسیح (علیہ السلام) ہونے کا دعویٰ بھی کرے گا اور یہود اس کی جو کچھ وہ کہے گا تسلیم کریں گے ۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے انکار کی لعنت کا اثر ہوگا کہ دجال کی خدائی پر ایمان لائیں گے۔ اب آگے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اور اوصاف مذکور ہیں۔ ( تسہیل)