Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 52

سورة آل عمران

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیۡسٰی مِنۡہُمُ الۡکُفۡرَ قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ ۚ وَ اشۡہَدۡ بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۵۲﴾

But when Jesus felt [persistence in] disbelief from them, he said, "Who are my supporters for [the cause of] Allah ?" The disciples said," We are supporters for Allah . We have believed in Allah and testify that we are Muslims [submitting to Him].

مگر جب حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام ) نے ان کا کفر محسوس کرلیا تو کہنے لگے اللہ تعالٰی کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون کون ہے ؟حواریوں نے جواب دیا کہ ہم اللہ تعالٰی کی راہ کے مددگار ہیں ہم اللہ تعالٰی پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہئے کہ ہم تابعدار ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Disciples Give Their Support to `Isa Allah said, فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسَى ... Then when `Isa came to know, meaning, `Isa felt that they were adamant in disbelief and continuing in misguidance. ... مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ ... of their disbelief, he said: He said to them. ... مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللّهِ ... Who will be my helper in Allah's cause. Mujahid commented, "Meaning, who would follow me to Allah." However, it appears that `Isa was asking, "Who would help me convey the Message of Allah!" The Prophet said during the Hajj season, before the Hijrah, مَنْ رَجُلٌ يُوْوِينِي حَتَّى أُبَلِّغَ كَلَمَ رَبِّي فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَمَ رَبِّي Who will give me asylum so that I can convey the Speech of my Lord, for the Quraysh have prevented me from conveying the Speech of my Lord. until he found the Ansar. The Ansar helped the Prophet and gave him refuge. He later migrated to them, they comforted the Prophet and protected him from all his enemies, may Allah be pleased with them all. This is similar to what happened with `Isa, for some of the Children of Israel believed in him, gave him their aid and support and followed the light that was sent with him. This is why Allah said about them; ... قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللّهِ امَنَّا بِاللّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ رَبَّنَا امَنَّا بِمَا أَنزَلَتْ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ

پھانسی کون چڑھا ؟ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو دیکھ لیا کہ اپنی گمراہی کج روی اور کفر و انکار سے یہ لوگ ہٹتے ہی نہیں ، تو فرمانے لگے کہ کوئی ایسا بھی ہے؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنے کے لئے میری تابعداری کرے اس کا یہ مطلب بھی لیا گیا ہے کہ کوئی ہے جو اللہ جل شانہ کے ساتھ میرا مددگار بنے؟ لیکن پہلا قول زیادہ قریب ہے ، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی طرف پکارنے میں میرا ہاتھ بٹانے والا کون ہے؟ جیسے کہ نبی اللہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف سے ہجرت کرنے کے پہلے موسم حج کے موقع پر فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو مجھے اللہ جل شانہ کا کلام پہنچانے کے لئے جگہ دے؟ قریش تو کلام الٰہی کی تبلیغ سے مجھے روک رہے ہیں یہاں تک کہ مدینہ شریف کے باشندے انصار کرام اس خدمت کے لئے کمربستہ ہوئے آپ کو جگہ بھی دی آپ کی مدد بھی کی اور جب آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے تو پوری خیرخواہی اور بےمثال ہمدردی کا مظاہرہ کیا ، ساری دنیا کے مقابلہ میں اپنا سینہ سپر کر دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت خیرخواہی اور آپ کے مقاصد کی کامیابی میں ہمہ تن مصروف ہوگئے رضی اللہ عنھم وارضاھم اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس آواز پر بھی چند بنی اسرائیلیوں نے لبیک کہی آپ پر ایمان لائے آپ کی تائید کی تصدیق کی اور پوری مدد پہنچائی اور اس نور کی اطاعت میں لگ گئے جو اللہ ذوالجلال نے ان پر اتارا تھا یعنی انجیل یہ لوگ دھوبی تھے اور حواری انہیں ان کے کپڑوں کی سفیدی کی وجہ سے کہا گیا ہے ، بعض کہتے ہیں یہ شکاری تھے ، صحیح یہ ہے کہ حواری کہتے ہیں مددگار کو ، جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جنگ خندق کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کوئی جو سینہ سپر ہو جائے؟ اس آواز کو سنتے ہی حضرت زبیر تیار ہوگئے آپ نے دوبارہ یہی فرمایا پھر بھی حضرت زبیر نے ہی قدم اٹھایا پس حضور علیہ السلام نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرا حواری زبیر ہے رضی اللہ عنہ ۔ پھر یہ لوگ اپنی دعا میں کہتے ہیں ہمیں شاہدوں میں لکھ لے ، اس سے مراد حضرت ابن عباس کے نزدیک امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں لکھ لینا ہے ، اس تفسیر کی روایت سنداً بہت عمدہ ہے ، پھر بنی اسرائیل کے اس ناپاک گروہ کا ذکر ہو رہا ہے جو حضرت عیسیٰ کی طرف سے بھرے تھے کہ یہ شخص لوگوں کو بہکاتا پھرتا ہے ملک میں بغاوت پھیلا رہا ہے اور رعایا کو بگاڑ رہا ہے ، باپ بیٹوں میں فساد برپا کر رہا ہے ، بلکہ اپنی خباثت خیانت کذب و جھوٹ ( دروغ ) میں یہاں تک بڑھ گئے کہ آپ کو زانیہ کا بیٹا کہا اور آپ پر بڑے بڑے بہتان باندھے ، یہاں تک کہ بادشاہ بھی دشمن جان بن گیا اور اپنی فوج کو بھیجا تاکہ اسے گرفتار کر کے سخت سزا کے ساتھ پھانسی دے دو ، چنانچہ یہاں سے فوج جاتی ہے اور جس گھر میں آپ تھے اسے چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے ناکہ بندی کر کے گھر میں گھستی ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو ان مکاروں کے ہاتھ سے صاف بچا لیتا ہے اس گھر کے روزن ( روشن دان ) سے آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیتا ہے اور آپ کی شباہت ایک اور شخص پر ڈال دی جاتی ہے جو اسی گھر میں تھا ، یہ لوگ رات کے اندھیرے میں اس کو عیسیٰ سمجھ لیتے ہیں گرفتار کر کے لے جاتے ہیں٠ سخت توہین کرتے ہیں اور سر پر کانٹوں کو تاج رکھ کر اسے صلیب پر چڑھا دیتے ہیں ، یہی ان کے ساتھ اللہ کا مکر تھا کہ وہ تو اپنے نزدیک یہ سمجھتے رہے کہ ہم نے اللہ کے نبی کو پھانسی پر لٹکا دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تو نجات دے دی تھی ، اس بدبختی اور بدنیتی کا ثمرہ انہیں یہ ملا کہ ان کے دل ہمیشہ کے لئے سخت ہوگئے باطل پر اڑ گئے اور دنیا میں ذلیل و خوار ہوگئے اور آخر دنیا تک اس ذلت میں ہی ڈوبے رہے ۔ اس کا بیان اس آیت میں ہے کہ اگر انہیں خفیہ تدبیریں کرنی آتی ہیں تو کیا ہم خفیہ تدبیر کرنا نہیں جانتے بلکہ ہم تو ان سے بہتر خفیہ تدبیریں کرنے والے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

52۔ 1 یعنی ایسی گہری سازش اور مشکوک حرکتیں جو کفر یعنی حضرت مسیح کی رسالت کے انکار پر مبنی تھیں۔ 52۔ 2 بہت سے نبیوں نے اپنی قوم کے ہاتھوں تنگ آ کر ظاہری اسباب کے مطابق اپنی قوم کے با شعور لوگوں سے مدد طلب کی ہے۔ جس طرح خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ابتداء میں جب قریش آپ کی دعوت کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے تو آپ موسم حج میں لوگوں کو اپنا ساتھی اور مددگار بننے پر آمادہ کرتے تھے تاکہ آپ رب کا کلام لوگوں تک پہنچا سکیں جس پر انصار نے لبیک کہا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انہوں نے قبل ہجرت مدد کی۔ اس طرح یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے مدد طلب فرمائی یہ وہ مدد نہیں ہے جو مافوق الاسباب طریقے سے طلب کی جاتی ہے کیونکہ وہ تو شرک ہے اور ہر نبی شرک کے سدباب ہی کے لئے آتا رہا ہے پھر وہ خود شرک کا ارتکاب کس طرح کرسکتے تھے۔ لیکن قبر پرستوں کی غلط روش قابل ماتم ہے کہ وہ فوت شدہ اشخاص سے مدد مانگنے کے جواز کے لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قول مَن انصاری الی اللہ سے استدلال کرتے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت نصیب فرمائے (آمین) 52۔ 3 حواریوں حواری کی جمع ہے بمعنی انصار (مددگار) جس طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ ہر نبی کا کوئی مددگار خاص ہوتا ہے اور میرا مددگار زبیر ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥١] حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پوری طرح معلوم ہوچکا تھا کہ یہود اور ان کے علماء دلائل کے میدان میں مات کھا کر اب ان کی زندگی کے درپے ہوچکے ہیں اور اس کام کے لیے سازشیں تیار کر رہے ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ انبیاء کو ناحق قتل کرنا یہود کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔ وہ یہ بھی دیکھ چکے تھے۔ یہود کے ایک رئیس نے ایک رقاصہ کی فرمائش پر حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جیسے برگزیدہ پیغمبر کا سر قلم کر ڈالا ہے تو انہیں اپنی موت کے آنے میں کچھ شبہ نہ رہا۔ اب انہیں فکر تھی تو یہ تھی کہ دین کی اشاعت و تبلیغ کا کام نہ رکنا چاہئے۔ چناچہ انہوں نے اپنے چند پیرو کاروں کو مخاطب کرکے پوچھا کہ کون ہے جو اس سلسلہ میں میری مدد کرے۔ تاکہ اللہ کے دین کو فروغ حاصل ہو۔ [٥٢] حواری کون تھے ؟ اس بات میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ تاہم اس بات پر اتفاق ہے کہ حواری کا مفہوم وہی کچھ ہے جو لفظ انصار کا ہے۔ یعنی اللہ کے نبی اور دین کے مددگار۔ حواری کا مفہوم اس واقعہ سے بھی سمجھ میں آسکتا ہے کہ غزوہ خندق کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی یوں بھی مدد فرمائی کہ نہایت ٹھنڈی اور تیز ہوا بصورت سخت آندھی چلا دی۔ جس نے کفار کے لشکر کے خیمے تک اکھاڑ پھینکے۔ ان کی ہانڈیاں الٹ گئیں اور وہ بددل ہو کر ناکام واپس چلے جانے کی باتیں سوچنے لگے تو اس صورت حال کی صحیح رپورٹ لینے کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ (رض) کو مخاطب کرکے فرمایا کہ کون ہے جو کفار کے لشکر کی خبر لاتا ہے ؟ اس کڑاکے کی سردی میں اور آندھی میں نکل کھڑے ہونے کی کسی کو جرات نہ ہوئی۔ صرف حضرت زبیر بن عوام (رض) تھے، جنہوں نے کہا : & یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں جاتا ہوں & آپ نے پھر دوسری بار وہی سوال دہرایا تو پھر زبیر بن عوام (رض) ہی بولے کہ & یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں جاتا ہوں & تیسری بار آپ نے پھر سوال دہرایا تو تیسری بار بھی حضرت زبیر بن عوام (رض) ہی جانے پر آمادہ ہوئے۔ اس وقت آپ نے فرمایا کہ ہر پیغمبر کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر (رض) ہے۔ (بخاری، کتاب المناقب، باب مناقب الزبیر بن العوام) چناچہ کچھ حواریوں نے ببانگ دہل اعلان کیا کہ ہم اللہ کے دین کی خدمت کریں گے اور از سر نو عہد و پیمان کیا اور عیسیٰ سے کہا کہ آپ گواہ رہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے اور اس کے فرمانبردار بنتے ہیں : بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حواری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے صدق دل سے مرید اور خاص شاگرد تعداد میں بارہ تھے اور ان کے نام یہ ہیں : (١) شمعون، جسے پطرس بھی کہتے ہیں، (٢) شمعون یا پطرس کا بھائی اندریاس، (٣) یعقوب بن زیدی ( ، ٤) یوحنا، (٥) یوحنا کا بھائی فلیپوس، (٦) برتھولما، (٧) تھوما، (٨) متی، (٩) یعقوب بن حلفائی، (١٠) تہدی، (١١) شمعون کنعانی اور (١٢) یہودا اسکریوتی۔ یہ وہ بارہ حواری یا انصار تھے۔ جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت ہر قیمت پر آگے بڑھانے کا حضرت عیسیٰ سے عہد کیا تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَلَمَّآ اَحَسَّ عِيْسٰى مِنْھُمُ الْكُفْرَ ۔۔ : یعنی صرف عقل سے نہیں سمجھا بلکہ حواس سے معلوم کرلیا، آنکھوں اور کانوں سے یہ حقیقت جان لی کہ یہود اور ان کے علماء اللہ کی دی ہوئی نشانیوں اور دلائل و معجزات کے سامنے بےبس ہوچکے ہیں، مگر ماننے کے لیے کسی صورت آمادہ نہیں، بلکہ ان کی زندگی کے درپے ہیں اور اس مقصد کے لیے سازشیں کر رہے ہیں تو انھیں اپنے دنیا سے رخصت ہونے میں کچھ شبہ نہ رہا۔ اب انھیں فکر تھی تو یہ کہ دین کی اشاعت و تبلیغ کا کام رکنا نہیں چاہیے، چناچہ انھوں نے اپنے پیروکاروں سے پوچھا کہ کون ہے جو اللہ کی طرف دعوت دینے اور اس کے راستے پر چلنے اور چلانے میں میرا مددگار ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے چند لوگوں کو توفیق عطا فرمائی، وہ ایمان لائے اور پوری تن دہی کے ساتھ عیسیٰ (علیہ السلام) کی مدد کرتے رہے اور یہی لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری کہلائے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے ساتھیوں سے مدد مانگ رہے ہیں، اگر وہ مختار کل ہوتے تو مدد مانگنے کی کیا ضرورت تھی۔ ہمارے دور کے قبرپرست بھی عجیب ہیں، اس آیت سے استدلال کرکے فوت شدہ بزرگوں سے وہ چیزیں مانگتے ہیں جو ان کے اختیار میں نہیں اور دلیل میں یہ آیت پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ اس میں بزرگوں نے چھوٹوں سے وہ مدد مانگی ہے جو ان کے اختیار میں تھی۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قول ویسا ہی ہے، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت سے پہلے زمانۂ حج میں مختلف قبائل عرب سے فرمایا کرتے تھے کہ کون ہے جو مجھے پناہ دے تاکہ میں لوگوں تک اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں، اس لیے کہ قریش نے مجھے یہ پیغام پہنچانے سے روک رکھا ہے ؟ تاآنکہ آپ کو انصار مل گئے، جنھوں نے آپ کو پناہ دی اور اپنی جان و مال سے آپ کی مدد کی۔ مگر آپ کے حواری (خاص جاں نثار و مددگار) صرف انصار ہی نہ تھے، مہاجر بھی تھے، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ خندق کے دوران میں تین دفعہ پوچھا : ” کون ہے جو بنوقریظہ کی خبر لائے گا ؟ “ تینوں دفعہ زبیر (رض) نے اپنے آپ کو پیش کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں، میرا حواری زبیر ہے۔ “ [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل طلحۃ ۔۔ : ٢٤١٥، عن جابر بن عبداللہ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Following blessed predictions mentioned earlier, Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) was born with all promised signs. As a messenger sent to Bani Isra` il, he presented his call to them supported by miracles to prove his prophethood. But, the Bani Isra&il were adamant and kept on rejecting him as a prophet, even going to the limit of being physically hostile to him. The text now identifies the very first followers of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) brings to light their real creed, expressed first before their prophet and then (in verse 53), reiterated it in the form of a prayer before their Lord. Commentary The word, حواری &hawariyy (singular of حواریون &al-hawariyyun& ) appearing in verse 52 (translated as the disciples& ), is a derivation from حوار hawar which lexi¬cally means whiteness. In the religious terminology, the title of حواری &Ihawariyy& has been given to the sincere disciples or companions of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) r either because of their sincerity or the purity of their heart, or because of their white dress. Likewise, the Companions of the Holy Prophet (علیہ السلام) have been called, صاحبی sahabiyy (plural, sahabah). Some commentators have given the number of the disciples as twelve. Incidentally, the word &hawariyy& is also, at times, used in the absolute sense of &helper& or &supporter&. It is in this very sense that it was said in a hadth: |"Every prophet has a hawariyy, that is, a sincere companion; Zubair is my hawariyy& (Tafsir al-Qurtubi) An Important Note: Verse 52 states that Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) looked for helpers in the way of Allah only when he sensed hostility from disbelievers, and not at the initial stage of his call. As obvious, he had risen to the task all alone obeying the command of his Lord without worrying about setting up a &party& in advance. When came the need, he found a group around him. A little thought here would show that every worthy mission demands such determination and courage.

خلاصہ تفسیر (غرض بشارت مذکورہ کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اسی شان سے پیدا ہوئے، اور بنی اسرائیل سے مضمون مذکورہ کی گفتگو ہوئی، اور معجزات ظاہر فرمائے، مگر بنی اسرائیل آپ (علیہ السلام) کی نبوت کے منکر رہے) سو جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے انکار دیکھا ( اور انکار کے ساتاھ درپے ایذا بھی، اور اتفاقا کچھ لوگ ان کو ایسے ملے جو حواریین کہلاتے تھے) تو (ان حواریین سے) آپ نے فرمایا کوئی ایسے آدمی بھی ہیں جو (دین حق میں بمقابلہ مخالفین و منکرین کے) میرے مددگار ہوجاویں اللہ کے واسطے ( جس سے دعوت دین میں مجھے کوئی ایذاء نہ پہنچائے) حواریین بولے کہ ہم ہیں مددگار اللہ کے ( دین کے) ہم اللہ تعالیٰ پر ( حسب دعوت آپ کے) ایمان لائے اور آپ اس (بات) کے گواہ رہیے کہ ہم ( اللہ تعالیٰ کے اور آپ کے) فرمانبردار ہیں ( پھر زیادت اہتمام و توثیق کے لئے اللہ تعالیٰ سے مناجات کی کہ) اے ہمارے رب ہم ایمان لائے ان چیزوں (یعنی ان احکام) پر جو آپ نے نازل فرمائیں اور پیروی اختیار کی ہم نے ( ان) رسول کی سو ( ہمارا ایمان قبول فرماکر) ہم کو ان لوگوں کے ساتھ لکھ دیجیے جو (مضامین مذکورہ کی) تصدیق کرتے ہیں ( یعنی مومنین کاملین کے زمرہ میں ہمارا بھی شمار فرمایے) ۔ معارف و مسائل (قال الحواریون) لفظ حواری، حور سے ماخوذ ہے جس کے معنی لغت میں سفیدی کے ہیں، اصطلاح میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخلص ساتھیوں کو ان کے اخلاص اور صفائی قلب کی وجہ سے یا ان کی سفید پوشاک کی وجہ سے حواری کا لقب دیا گیا ہے۔ جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں کو صحابی کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے حواریین کی تعداد بارہ بتلائی ہے، اور کبھی لفظ حواری مطلقا مددگار کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے، اسی معنی سے ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ ہر نبی کا کوئی حواری یعنی مخلص ساتھی ہوتا ہے، میرے حواری زبیر ہیں ( تفسیر قرطبی) ۔ فائدہ مہمہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو جب لوگوں کا کفر اور مخالفت محسوس ہوئی اس وقت مددگاروں کی تلاش ہوئی تو فرمایا ( من انصاری) ابتداء میں نبوت کا منصبی کام اور دعوت شروع کرتے وقت تنہا ہی تعمیل حکم کے لئے کھڑے ہوگئے تھے، پہلے سے کسی پارٹی یا جماعت بنانے کی فکر میں نہیں پرے، جب ضرورت پیش آئی تو جماعت سی بن گئ۔ غور کیا جائے تو ہر کام ایسے ہی عزت و ہمت کو چاہتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَمَّآ اَحَسَّ عِيْسٰى مِنْھُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللہِ۝ ٠ ۭ قَالَ الْحَـوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللہِ۝ ٠ ۚ اٰمَنَّا بِاللہِ۝ ٠ ۚ وَاشْہَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ۝ ٥٢ لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک طورپر استعمال ہوتا ہے ۔ اور یہ قرآن میں بکژت آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔ حسس فحقیقته : أدركته بحاستي، وأحست مثله، لکن حذفت إحدی السینین تخفیفا نحو : ظلت، وقوله تعالی: فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسى مِنْهُمُ الْكُفْرَ [ آل عمران/ 52] ( ح س س ) احسستہ کے اصل معنی بھی کسی چیز کو محسوس کرنے کے ہیں اور احسنت بھی احسست ہی ہے مگر اس میں ایک سین کو تحقیقا حذف کردیا گیا ہے جیسا کہ ظلت ( میں ایک لام مخذوف ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسى مِنْهُمُ الْكُفْرَ [ آل عمران/ 52] جب عیسٰی ( (علیہ السلام) ) نے ان کی طرف سے نافرمانی ( اور نیت قتل ) دیکھی ۔ عيسی عِيسَى اسم علم، وإذا جعل عربيّا أمكن أن يكون من قولهم : بعیر أَعْيَسُ ، وناقة عَيْسَاءُ ، وجمعها عِيسٌ ، وهي إبل بيض يعتري بياضها ظلمة، أو من الْعَيْسِ وهو ماء الفحل يقال : عَاسَهَا يَعِيسُهَا ( ع ی س ) یہ ایک پیغمبر کا نام اور اسم علم ہے اگر یہ لفظ عربی الاصل مان لیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ یہ اس عیس سے ماخوذ ہو جو کہ اعیس کی جمع ہے اور اس کی مؤنث عیساء ہے اور عیس کے معنی ہیں سفید اونٹ جن کی سفیدی میں قدرے سیاہی کی آمیزش ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے عیس سے مشتق ہو جس کے معنی سانڈ کے مادہ منو یہ کے ہیں اور بعیر اعیس وناقۃ عیساء جمع عیس اور عاسھا یعسھا کے معنی ہیں نر کا مادہ سے جفتی کھانا ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ حوَّارَى والحَوَارِيُّونَ أنصار عيسى صلّى اللہ عليه وسلم، قيل : کانوا قصّارین «1» ، وقیل : کانوا صيّادین، وقال بعض العلماء : إنّما سمّوا حواريّين لأنهم کانوا يطهّرون نفوس النّاس بإفادتهم الدّين والعلم المشار إليه بقوله تعالی: إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً [ الأحزاب/ 33] ، قال : وإنّما قيل : کانوا قصّارین علی التّمثیل والتشبيه، وتصوّر منه من لم يتخصّص بمعرفته الحقائق المهنة المتداولة بين العامّة، قال : وإنّما کانوا صيّادین لاصطیادهم نفوس النّاس من الحیرة، وقودهم إلى الحقّ ، قال صلّى اللہ عليه وسلم : «الزّبير ابن عمّتي وحواريّ» وقوله صلّى اللہ عليه وسلم : «لكلّ نبيّ حَوَارِيٌّ وحواريّ الزّبير» فتشبيه بهم في النّصرة حيث قال : مَنْ أَنْصارِي إِلَى اللَّهِ قالَ الْحَوارِيُّونَ : نَحْنُ أَنْصارُ اللَّهِ [ الصف/ 14] . عیسیٰ (علیہ السلام) کے انصار واصحاب کو حواریین کہاجاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ قصار یعنی دھوبی تھے ۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ ان کو حواری اسلئے کہاجاتا ہے کہ وہ لوگوں کو علمی اور دینی فائدہ پہنچا کر گناہوں کی میل سے اپنے آپ کو پا کرتے تھے ۔ جس پاکیزگی کی طرف کہ آیت :۔ إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً [ الأحزاب/ 33] میں اشارہ پایا جاتا ہے ۔ اس بنا پر انہیں تمثیل اور تشبیہ کے طور پر قصار کہہ دیا گیا ہے ورنہ اصل میں وہ ہوبی پن کا کام نہیں کرتے تھے اور اس سے شخص مراد لیا جاتا ہے جو معرفت حقائق کی بنا پر عوام میں متداول پیشوں میں سے کوئی پیشہ اختیار نہ کرے اسی طرح ان کو صیاد اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو حیرت سے نکال کر حق کیطرف لاکر گویا ان کا شتکار کرتے تھے ۔ آنحضرت نے حضرت زبیر کے متعلق فرمایا (102) الزبیر ابن عمتی وحوادی ۔ کہ زبیر میرا پھوپھی زاد بھائی اور حواری ہے نیز فرمایا (103) لکل بنی حواری الزبیر ۔ کہ ہر نبی کا کوئی نہ کوئی حواری رہا ہے اور میرا حواری زبیر ہے ۔ اس روایت میں حضرت زبیر کا حواری کہنا محض نصرت اور مدد کے لحاظ سے ہے ۔ جیسا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تھا ۔ مَنْ أَنْصارِي إِلَى اللَّهِ قالَ الْحَوارِيُّونَ : نَحْنُ أَنْصارُ اللَّهِ [ الصف/ 14] بھلاکون ہیں جو خدا کی طرف ( بلانے میں ) میرے مددگار ہوں ۔ حواریوں نے کہا ہم خدا کے مددگا ہیں ۔ سلم والْإِسْلَامُ : الدّخول في السّلم، وهو أن يسلم کلّ واحد منهما أن يناله من ألم صاحبه، ومصدر أسلمت الشیء إلى فلان : إذا أخرجته إليه، ومنه : السَّلَمُ في البیع . والْإِسْلَامُ في الشّرع علی ضربین : أحدهما : دون الإيمان، وهو الاعتراف باللسان، وبه يحقن الدّم، حصل معه الاعتقاد أو لم يحصل، وإيّاه قصد بقوله : قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] . والثاني : فوق الإيمان، وهو أن يكون مع الاعتراف اعتقاد بالقلب، ووفاء بالفعل، واستسلام لله في جمیع ما قضی وقدّر، كما ذکر عن إبراهيم عليه السلام في قوله : إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] ، ( س ل م ) السلم والسلامۃ الاسلام اس کے اصل معنی سلم ) صلح) میں داخل ہونے کے ہیں اور صلح کے معنی یہ ہیں کہ فریقین باہم ایک دوسرے کی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بےخوف ہوجائیں ۔ اور یہ اسلمت الشئی الی ٰفلان ( باب افعال) کا مصدر ہے اور اسی سے بیع سلم ہے ۔ شرعا اسلام کی دوقسمیں ہیں کوئی انسان محض زبان سے اسلام کا اقرار کرے دل سے معتقد ہو یا نہ ہو اس سے انسان کا جان ومال اور عزت محفوظ ہوجاتی ہے مگر اس کا درجہ ایمان سے کم ہے اور آیت : ۔ قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہدو کہ تم ایمان نہیں لائے ( بلکہ یوں ) کہو اسلام لائے ہیں ۔ میں اسلمنا سے یہی معنی مراد ہیں ۔ دوسرا درجہ اسلام کا وہ ہے جو ایمان سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ زبان کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ولی اعتقاد بھی ہو اور عملا اس کے تقاضوں کو پورا کرے ۔ مزید پر آں کو ہر طرح سے قضا وقدر الہیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کردے ۔ جیسا کہ آیت : ۔ إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا ۔ کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سرا طاعت خم کرتا ہوں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٢۔ ٥٣) سو جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان منکرین کی طرف سے اپنے قتل کی سازش محسوس کی یا یہ کہ ان کے انکار حق کو دیکھا تو بولے کچھ آدمی ایسے بھی ہیں جو دین حق اور کفر کے ابطال میں میرے رفیق و مددگار ہوں ؟ تب بار و مخلص آدمی بول اٹھے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کے دشمنوں کے مقابلے میں ہم آپ کے مددگار ہیں، اور آپ اے عیسیٰ (علیہ السلام) ہمارے اقرار عبادت اور توحید پر گواہ رہیے، اے ہمارے پروردگار ہم (دیگر تمام آسمانی کتابوں اور) خصوصا انجیل پر ایمان لائے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سچے دین کی پیروی کی۔ سوہ میں ان سابقین اولین کے ساتھ لکھ دیجیے جنہوں نے ہم سے پہلے گواہی دی یا ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ تمہیں حق کی گواہی دینے میں سچے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے ساتھ شریک کردے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٢ (فَلَمَّآ اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْہُمُ الْکُفْرَ ) (قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللّٰہِ ط) یہاں پھر درمیانی عرصے کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کو دعوت دیتے ہوئے حضرت مسیح ( علیہ السلام) کو کئی سال بیت چکے تھے۔ اس دعوت سے جب علماء یہود کی مسندوں کو خطرہ لاحق ہوگیا اور ان کی چودھراہٹیں خطرے میں پڑگئیں تو انہوں نے حضرت مسیح ( علیہ السلام) کی شدید مخالفت کی۔ اس وقت تک یہودیوں پر ان کے علماء کا اثر ورسوخ بہت زیادہ تھا۔ جب آپ ( علیہ السلام) نے ان کی طرف سے کفر کی شدت کو محسوس کیا کہ اب یہ ضد اور مخالفت پر تل گئے ہیں۔ تو آپ ( علیہ السلام) نے ایک پکار لگائی ‘ ایک ندا دی ‘ ایک دعوت عام دی کہ کون ہیں جو اللہ کی راہ میں میرے مددگار ہیں ؟ یعنی اب جو کشاکش ہونے والی ہے ‘ جو تصادم ہونے والا ہے اس میں ایک حزب اللہ بنے گی اور ایک حزب الشیطان ہوگی۔ اب کون ہے جو میرا مددگار ہو اللہ کی راہ میں اس جدوجہد اور کشاکش میں ؟ دین کا کام کرنے کے لیے یہی اصل اساس ہے۔ اسی بنیاد پر کوئی شخص اٹھے کہ میں دین کا کام کرنا چاہتا ہوں ‘ کون ہے کہ جو میرا ساتھ دے ؟ یہ جماعت سازی کا ایک بالکل طبعی طریقہ ہوتا ہے۔ ایک داعی اٹھتا ہے اور اس داعی پر اعتماد کرنے والے ‘ اس سے اتفاق کرنے والے لوگ اس کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ یہ لوگ ذاتی اعتبار سے اس کے ساتھی نہیں ہوتے ‘ اس کی حکومت اور سرداری قائم کرنے کے لیے نہیں ‘ بلکہ اللہ کی حکومت قائم کرنے کے لیے اور اللہ تعالیٰ کے دین کے غلبہ کے لیے اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ (قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَار اللّٰہِ ج) ! حواری کے اصل معنی دھوبی کے ہیں جو کپڑے کو دھو کر صاف کردیتا ہے۔ یہ لفظ پھر آگے بڑھ کر اپنے اخلاق اور کردار کو صاف کرنے والوں کے لیے استعمال ہونے لگا۔ حضرت مسیح ( علیہ السلام) کی تبلیغ زیادہ تر گلیلی جھیل کے کناروں پر ہوتی تھی ‘ جو سمندر کی طرح بہت بڑی جھیل ہے۔ آپ ( علیہ السلام) کبھی وہاں کپڑے دھونے والے دھوبیوں میں تبلیغ کرتے تھے اور کبھی مچھلیاں پکڑنے والے مچھیروں کو دعوت دیتے تھے۔ آپ ( علیہ السلام) ان سے فرمایا کرتے تھے کہ اے مچھلیوں کا شکار کرنے والو ! آؤ ‘ میں تمہیں انسانوں کا شکار کرنا سکھاؤں۔ آپ ( علیہ السلام) نے دھوبیوں میں تبلیغ کی تو ان میں سے کچھ لوگوں نے اپنے آپ کو پیش کردیا کہ ہم آپ کی جدوجہد میں اللہ کے مددگار بننے کو تیار ہیں۔ یہ آپ ( علیہ السلام) کے اوّلین ساتھی تھے جو حواری کہلاتے تھے۔ اس طرح حواری کا لفظ ساتھی کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

49. The word hawari means approximately the same as the word ansar in the Islamic tradition. In the Bible the usual terms are 'apostles' and 'disciples'. Jesus' chosen disciples were called apostles in the sense that they had been entrusted with a mission by him rather than in the sense of having been entrusted with a mission by God. 50. At various places the Qur'an characterizes man's participation in the effort to establish the supremacy of Islam as 'helping God'. This needs a little explanation. God has endowed man with the freedom of will and choice, with the result that He does not resort to His omnipotent will to compel man either to do certain things or to refrain from others. He rather leaves man free to adopt the course that pleases him - be it that of either belief or unbelief, of either obedience or disobedience. God prefers to instruct man by means of persuasive argument and admonition, so as to bring home to him that even though he is free to disbelieve, disobey and defy the Will of God, his own interest and well-being lie in serving and obeying his Creator. Hence, directing people to the right path by persuasion and admonition is of concern to God, He regards those who contribute to this cause as His allies and helpers. This is, in fact, the most exalted position attainable by man. When a man performs Prayers, keeps his fast and worships God in other ways, he is merely on the level of service and subjection to God. But when a man strives to spread God's true religion and to enthrone it in actual life, he is honoured with the status of God's ally and helper, which is the zenith of man's spiritual growth. 'Literally, 'and be our witness that we are Muslims' - Ed.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :49 ” حواری“ کا لفظ قریب قریب وہی معنی رکھتا ہے جو ہمارے ہاں”انصار“ کا مفہوم ہے ۔ بائیبل میں بالعموم حواریوں کے بجائے ”شاگردوں“ کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ اور بعض مقامات پر انہیں رسول بھی کہا گیا ہے ۔ مگر رسول اس معنی میں کہ مسیح علیہ السلام ان کو تبلیغ کے لیے بھیجتے تھے ، نہ اس معنی میں کہ خدا نے ان کو رسول مقرر کیا تھا ۔ سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :50 دین اسلام کی اقامت میں حصہ لینے کو قرآن مجید میں اکثر مقامات پر”اللہ کی مدد کرنے“ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ یہ ایک تشریح طلب مضمون ہے ۔ زندگی کے جس دائرے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی عطا کی ہے ، اس میں وہ انسان کو کفر یا ایمان ، بغاوت یا اطاعت میں سے کسی ایک راہ کے اختیار کرنے پر اپنی خدائی طاقت سے مجبور نہیں کرتا ۔ اس کے بجائے وہ دلیل اور نصیحت سے انسان کو اس بات کا قائل کرنا چاہتا ہے کہ انکار و نافرمانی اور بغاوت کی آزادی رکھنے کے باوجود اس کے لیے حق یہی ہے اور اس کی فلاح و نجات کا راستہ بھی یہی ہے کہ اپنے خالق کی بندگی و اطاعت اختیار کرے ۔ اس طرح فہمائش اور نصیحت سے بندوں کو راہ راست پر لانے کی تدبیر کرنا ، یہ دراصل اللہ کا کام ہے ۔ اور جو بندے اس کام میں اللہ کا ساتھ دیں ان کو اللہ اپنا رفیق و مددگار قرار دیتا ہے ۔ اور یہ وہ بلند سے بلند مقام ہے جس پر کسی بندے کی پہنچ ہو سکتی ہے ۔ نماز ، روزہ اور تمام اقسام کی عبادات میں تو انسان محض بندہ و غلام ہوتا ہے ۔ مگر تبلیغ دین اور اقامت دین کی جدوجہد میں بندے کو خدا کی رفاقت و مددگاری کا شرف حاصل ہوتا ہے جو اس دنیا میں روحانی ارتقا کا سب سے اونچا مرتبہ ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

22: حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے صحابہ کو حواری کہا جاتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

52 ۔ 54) ۔۔ اگرچہ یہود کو تورات کے پڑھنے سے یہ معلوم تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب نبی ہوں گے تو تورات کے بعض مسئلے خدا کے حکم سے منسوخ ہوں گے۔ لیکن جب وہ وقت آیا تو محض عناد سے یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دشمن ہوگئے اور اس وقت کے بادشاہ سے مل کر حضرت عیسیٰ کے قتل پر آمادہ ہوگئے یہاں تک کہ موقع پا کر ان کو ایک مکان میں گھیر لیا۔ اسی وقت خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا اور حضرت عیسیٰ کے ساتھیوں میں سے یا یہود میں کے ایک آدمی میں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا حضرت عیسیٰ کی شکل پیدا کردی اور یہود نے اسی شخص مشابہ عیسیٰ کو عیسیٰ سمجھ کر سولی پر چڑھا دیا ١۔ غرض اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفوں کے مکرو فریب کو ایک حکمت اور تدبیر سے جو نیست و نابود کیا ہے۔ اس کو مقابلہ کلام کے طور پر مکر اللہ فرمایا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بارہ شخص جو ایمان لائے ان کو حواری کہتے ہیں حواری کے معنی مددگار کے ہیں چناچہ صحیحین وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر ایک نبی کا ایک حواری یعنی سچا مددگار ہوتا ہے۔ میرے حواری زبیر ہیں ٢۔ فاکتبنا مع الشاھدین کے یہ معنی ہیں کہ یاللہ ہم کو ان لوگوں میں لکھ لے جنہوں نے تیرے رسول عیسیٰ (علیہ السلام) کے سچے ہونے کی گواہی دی ہے۔ اس میں امت محمدیہ بھی داخل ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:52) احس۔ احساس (افعال) سے محسوس کیا اس نے ماضی واحد مذکر غائب ای عرف منہم اصرارھم علی الکفر فلما۔ میں ف فصاحت کے لئے ہے۔ من انصاری الی اللہ ۔ کون ہیں میرے مددگار اللہ کی راہ میں۔ حواریون۔ حواری کی جمع۔ حواری حور سے مشتق ہے جس کے معنی خالص سپیدی کے ہیں۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب کا خطاب ہے۔ بقول شاہ عبد القادر صاحب حواری اصل میں دھوبی کو کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب میں سے پہلے دو شخص جوان کے تابع ہوئے دھوبی تھے۔ حضرت عیسیٰ نے ان کا کہا تھا کہ کپڑے کیا دھوتے ہو میں تم کو دل دھونے سکھا دوں وہ ان کے ساتھ ہوئے اس طرح سب کو یہ خطاب ٹھہر گیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 یعنی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں میرا مددگار بنے۔ حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کا یہ قول ویسا ہی ہے جیسا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت سے پہلے زمانہ حج میں مختلف عرب قبائل سے فرمایا کرتے تھے۔ کون ہے جو مجھے پناہ دے تاکہ میں لوگوں تک اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں۔ اس لیے کہ قریش نے مجھے پیغام پہنچانے سے روک رکھا ہے تاآنکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انصار (رض) مل گئے جنہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پناہ دی اور اپنے جان ومال سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد کی۔ (ابن کثیر)7 حواریوں کے قریب وہی معنی ہیں جو ہمارے ہاں انصار (رض) کے ہیں۔ اور یہ بنی اسرائیل کا وہ طائفہ ہے جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت قبول کرلی تھی، ان کی کی کل تعداد بارہ تھی۔ بائیبل میں ان کے لیے شاگردوں کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : عیسائیوں کا اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی پکار۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے جناب موسیٰ (علیہ السلام) نے یہودیوں کو راہ راست پر لانے کے لیے لازوال اور انتھک جدوجہد فرمائی اور ایسے معجزات دکھائے جن کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔ مگر یہودی اس قدر متلوّن مزاج، موقع شناس، نافرمان اور مکار قوم ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جانے کے بعد انہوں نے انبیاء اور مصلحین کے ساتھ ایسا گھناؤ نا کردار ادا کیا کہ دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایسے معجزات پیش فرمائے جو اپنی تاثیر اور نوعیت کے اعتبار سے موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات سے بڑھ کر تھے۔ خطاب اور گفتگو کا ملکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو بچپن میں ہی معجزانہ طور پر عطا ہوا تھا۔ وہ ایسی مدلّل، مؤثر اور حکیمانہ گفتگو فرماتے کہ بڑے سے بڑا مخالف بھی انہیں قلبی طور پر اللہ کا بندہ اور نبی تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ زبور کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بارہ سال کی عمر میں حضرت مسیح نے پہلی بار ہیکل میں تعلیم دی۔ اس کم سنی کے باوجود ان کی تعلیم میں حکمت ومعرفت، فصاحت و بلاغت اور لب و لہجہ میں عظمت و جلالت اور رعب و دبدبہ کا عالم یہ تھا کہ فقیہ، فریسی، سردار، کاہن اور ہیکل کا تمام عملہ دم بخود رہ گیا۔ حیرانی کے عالم میں وہ ایک دوسرے سے پوچھتے پھرتے تھے کہ یہ کون ہے ؟ جو اس شان سے بات کرتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان سے اس کو خاص ملکہ عطا ہوا ہے۔ انہوں نے اپنے زمانے کے اہل علم اور یہودیوں کو ایسے معجزات دکھائے کہ لوگ ورطۂ حیرت میں ڈوب گئے۔ اس وقت یونان کے لوگ طب میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ اس دور میں بقراط، ارسطو، افلاطون اور بڑے بڑے شہرۂ آفاق اطباء اور سائنسدان ہوچکے تھے وہ پیدائشی نابینے اور کوڑھے کا علاج نہ کرسکے لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ایسے معجزے پیش کیے کہ یہ لوگ ان کے سامنے طفل مکتب کے طور پر کھڑے بےبس دکھائی دیتے تھے۔ مٹی کا پرندہ بنانا، مردے کو زندہ کرنا، لوگوں کے کھائے پیے اور جمع پونجی کے بارے میں خبر دینا، بڑے بڑے حکماء اور نجومی ان باتوں کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات اور خطبات نے بنی اسرائیل میں ایک حرکت اور انقلاب برپا کردیا۔ وہ جہاں جاتے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے۔ ان کا پر جمال اور ہشاش بشاش چہرہ دیکھ کر لوگ پروانہ وار ان کی طرف لپکے آتے گویا کہ قوم میں ایک انقلاب برپا ہوچکا ہے۔ یہ صورت حال دیکھ کر یہودی غضب ناک ہوئے اور انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف الزامات کا طوفان اٹھایا اور لوگوں کو متنفر کرنے کے لیے ان کے خلاف سازشوں کا ایک طویل منصوبہ تیار کیا۔[ یوحنا باب ٩٤ بحوالہ تدبر قرآن ] حالات اس قدر نازک صورت حال اختیار کرگئے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے باہر نکلنا بھی مشکل ہوگیا۔ اس صورت حال میں انہوں نے ہر جگہ لوگوں کو بتلایا اور سمجھایا کہ میری دعوت قبول کرو اسی میں تمہاری دنیا و آخرت کی کامیابی ہے لیکن حکومت کے خوف، یہودیوں کے الزامات اور سازشوں کے ڈر سے لوگ ان سے دور بھاگ گئے۔ بالآخر انہوں نے اپنے شاگردوں کو اللہ کے نام پر دہائی دی کہ کون ہے جو اللہ کے لیے میرا ساتھ دے ؟ ہزاروں شاگردوں میں سے صرف بارہ آدمیوں نے موت کی پروا کیے بغیر کہا کہ ہم ہیں اللہ کی خاطر آپ کی نصرت و حمایت کرنے والے اور اللہ پر ایمان لانے والے ہیں۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یقین دلایا اور کہا کہ گواہ رہنا کہ ہم اسلام پر مرتے دم تک قائم رہیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کے حضور بھی ہماری فریاد ہے کہ وہ ہمیں آپ کا تابع دار اور آپ کے ساتھ کلمہ حق کی شہادت دینے والے شمار فرمائے۔ مسائل ١۔ داعی اپنے متبعین کی جانچ اور ان کا امتحان لے سکتا ہے۔ ٢۔ اللہ کے رسول کی اتباع کرنا حق کی شہادت دینا ہے۔ ٣۔ اللہ کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان لانا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری : ١۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے انصار۔ (الصف : ١٤) ٢۔ حواریوں کی پکار کہ ہم انصار اللہ ہیں۔ (الصف : ١٤) ٣۔ امت محمدیہ کو حکم کہ ایمان والو ! اللہ کے انصار بن جاؤ۔ (الصف : ١٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہاں سیاق قصہ میں ایک بہت بڑا خلا ہے ۔ یہاں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ حضرت عیسیٰ کی ولادت ہوئی ۔ نہ یہ مذکور ہے کہ ان کی ماں ان کے ساتھ قوم کے سامنے آئی اور اس نے گہوارے میں ان سے باتیں کیں ‘ یہ بات مذکور نہیں ہے کہ جوان ہوکر انہوں نے تبلیغ رسالت شروع کی ‘ نہ یہ مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ کی والدہ کو جن معجزات کے بارے میں بشارت دی گئی تھی وہ ان کے ہاتھ دکھائے گئے (جب کہ یہ سورت مریم میں مذکور ہے۔ ) اس قسم کے گیپ قرآنی قصوں میں بار بار آتے ہیں ‘ اس کی ایک حکمت تو یہ ہے کہ تکرار نہ ہو ‘ دوسری یہ کہ قرآن کریم میں قصص کے صرف وہی حصے دیئے جاتے ہیں جن کا تعلق اس سورت موضوع کلام سے ہوتا ہے باقی کڑیاں ترک کردی جاتی ہیں ۔ غرض ‘ معجزات پیش کرنے اور تبلیغ شروع کرنے کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس کرلیا کہ یہ لوگ مان کردینے والے نہیں ہیں ‘ حالانکہ ایسے معجزات کا صدور کسی انسان سے ممکن نہ تھا ۔ اور جن سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ ان معجزات کے پس منظر میں صرف اللہ کی ذات کام کررہی ہے ۔ اللہ کی قوتیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مؤید ہیں ۔ اور پھر ان امور کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی حقیقت تھی کہ حضرت مسیح اس لئے بھی تشریف لائے تھے کہ بنی اسرائیل پر ان کی نادانیوں کی وجہ سے ‘ جو چیزیں بطور سزا حرام کردی گئیں تھیں انہیں حلال کردیں ‘ تاکہ ان پر تخفیف ہوجائے اور قیود اور بوجھ اتر جائیں۔ تو ایسے موقع پر آپ نے فرمایا قَالَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ ” کون اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہے ۔ “ یعنی کون ہے جو دعوت دین ‘ اور اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں میری معاونت کرتا ہے ۔ کون ہے جو میرے ساتھ اللہ تک پہنچنے کے سلسلے میں مددگار ہوتا ہے تاکہ میں اپنے فرئض اچھی طرح ادا کرسکوں …………یہ تحریک دعوت دین کا طریق کار ہا ہے ۔ کہ ہر داعی کے لئے انصار کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جو اس کا ساتھ دیتے ہیں ۔ جو اس کی دعوت کے علم اٹھاکر چلتے ہیں ‘ جو اس کی حمایت کرتے ہیں اور اس دعوت کو مسلسل پھیلاتے ہیں اور پھر اس صاحب دعوت کی وفات یا چلے جانے کے بعد اسے لیکر اٹھتے ہیں تو قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ” حواریوں نے جواب دیا ہم اللہ کے مددگار ہیں ‘ ہم اللہ پر ایمان لائے ۔ گواہ رہو کہ ہم مسلم ہیں۔ “ حواریوں نے اسلام کا ذکر ان معنوں میں کیا ‘ جن کا تعلق دین کی حقیقت سے ہے ۔ اور انہوں نے پھر اپنے اسلام پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو گواہ بنایا اور اللہ کی مدد کے لئے تیار ہوگئے ۔ یعنی اللہ کے رسول کی نصرت ‘ دین اسلام کی نصرت اور اسلامی نظام حیات کی نصرت کے لئے وہ تیار ہوئے اور اس کے بعد وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور وہ اس معاملے میں براہ راست اللہ سے بھی اپنا رابطہ قائم کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کے لئے تیار ہوگئے ۔ اس لئے آپ بھی اس بات کے گواہ رہیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

عامۃً بنی اسرائیل کا کفر اختیار کرنا اور حواریوں کا حضرت عیسیٰ کی مدد کے لیے کھڑا ہونا سیدنا عیسیٰ ( علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو اپنے اتباع اور اطاعت کی دعوت دی اور انجیل پر ایمان لانے کا حکم فرمایا اور ان کو بتایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں تم میری اطاعت و فرمانبر داری کرو۔ لیکن بنی اسرائیل نے عناد اور ہٹ دھرمی پر کمر باندھ لی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہود سے خطاب فرماتے اور حق کی دعوت دیتے تھے اور وہ لوگ ان کا مذاق بناتے تھے ان کے انکار اور ہٹ دھرمی میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس فرما لیا کہ بنی اسرائیل ایمان لانے والے نہیں ہیں لہٰذا انہوں نے پکارا کہ کون ہے جو میرا مددگار بنے ؟ اس پر بنی اسرائیل کی ایک جماعت نے ایمان قبول کیا اور ایک جماعت نے کفر اختیار کیا جیسا کہ سورة صف کی آخری آیت میں مذکور ہے وہیں پر حواری بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ حواری کون تھے ؟ حواری کون لوگ تھے اس کے بارے میں مفسرین نے متعدد اقوال نقل کیے ہیں لفظ حواری حور سے مشتق ہے۔ حور سفیدی کو کہتے ہیں جنت کی عورتوں کو اس لیے حور کہا گیا کہ ان کا رنگ سفید ہوگا ایک قول کے مطابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری دھوبیوں کا کام کرتے تھے۔ یعنی اجرت پر لوگوں کے کپڑے دھوتے تھے اس لیے ان کو حواری کہا جاتا تھا۔ حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کہ ان کے کپڑے سفید تھے اس لیے حواری کا لقب دیا گیا۔ حضرت قتادہ کی بات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے قلوب کی صفائی اور اخلاق کی پاکیزگی کی وجہ سے حواری کہا گیا صاحب روح المعانی صفحہ ١٧٦: ج ٣ نے یہ اقوال لکھے ہیں اور یہ بھی لکھا ہے کہ یہ بارہ افراد تھے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ انتیس آدمی تھے، بہر حال یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاص متبعین میں سے تھے انہوں نے ایمان بھی قبول کیا اور ان کے ساتھ دعوت کے کام میں شریک رہنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ ہم راہ خداوندی کی طرف دعوت دینے میں آپ کے ساتھی ہیں۔ اور اللہ کے مددگار ہیں۔ اللہ کو کسی مددگار کی ضرورت نہیں۔ یہ اس کا کرم ہے کہ جو اس کے دین کی نصرت کرے اس کے عمل کو اپنی مدد کرنے سے تعبیر فرما دیا۔ جیسا کہ سورة محمد میں ہے کہ (اِِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ ) (اے ایمان والو ! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو جما دے گا) حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ بھی عرض کیا کہ ہم اللہ پر ایمان لائے آپ ہمارے فرمانبر دار ہونے کے گواہ بن جائیں۔ اور انہوں نے اللہ سے یہ دعا بھی کی کہ اے ہمارے رب آپ نے جو کچھ نازل فرمایا ہم اس پر ایمان لے آئے آپ کے رسول کا اتباع کیا آپ ہمیں ان لوگوں میں لکھ دیجیے جو انبیاء کے سچا ہونے کی گواہی دیتے ہیں اور ان کی تصدیق کرتے ہیں۔ پھر لفظ حواری ایسے خصوصی شخص کے لیے استعمال ہونے لگا جو بہت ہی زیادہ خاص ہو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : (اِنَّ لِکُلِّ نَّبِّیٍ حَوارِیًّا وَّ حَوَارِیَّ الزُّبَیْرُ ) (بلاشبہ ہر نبی کے لیے ایک حواری ہے اور میرا حواری زبیر ہے) ۔ بہر حال عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے خاص خادم مل گئے تھے جو ان کے ساتھ دعوت کے کام میں شریک تھے لیکن پوری قوم بنی اسرائیل کے مقابلہ میں ان کی تعداد بہت ہی کم تھی بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور ان سے دشمنی کی اور ان کی دعوت کو نہ مانا۔ بلکہ ان کے قتل کے درپے ہوگئے (جیسا کہ آئندہ آیت کی تفسیر میں آ رہا ہے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

74 یہاں کلام میں اندماج ہے۔ یعنی عِلْماً سے پہلے کچھ عبارت محذوف ہے ای فولد عیسیٰ کما بشر بہ وبلغ قومہ الرسالۃ۔ یعنی جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حسب بشار پیدا ہوچکے اور تبلیغ رسالت کا فریضہ انجام دیدیا تو یہودیوں نے ان کے خلاف حسدوبغض کی وجہ سے سازشیں شروع کردیں۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے کفر و انکار اور عداوت کا پتہ چلا تو انہوں نے اپنے ماننے والوں کو اپنی مدد اور نصرت کی دعوت دی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرشتے کا قول وَرَسُوْلاً اِلیٰ بَنِیْ اِسْرَائِیلَ تک اور اس کے بعد اندماج ہو اور مذکورہ عبارت اس کے بعد محذوف ہو (کذا فی الروح ج 3 ص 174) اس سے بھی عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح کی تردید ہوگئی کہ جو شخص خود عالم اسباب میں مدد اور نصرت کا طالب ہے۔ وہ کس طرح الہ بن سکتا اور دوسروں کی مشکل کشائی اور حاجت برآری کرسکتا ہے۔ 75 حَوَّارِیِّیْن حواری کی جمع ہے یہ لوگ اپنے علاقہ کے سردار تھے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نہایت اخلاص سے ایمان لا چکے تھے وہ بول اٹھے کہ ہم اللہ کے دین کی خاطر آپ کی مدد کریں گے۔ آپ اس پر گواہ رہیں کہ ہم ایمان لا چکے ہیں اور دل وجان سے اللہ کے فرمانبردار ہیں۔ وقیل کانوا ملوکا۔ قالہ ابن عون (قرطبی ج 4 ص 98 وکذا فی الکبیر ج 2 ص 686)

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3۔ لہٰذا جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کی جانب سے کفر و انکار دیکھا اور آپ کو ان کے کفر کا پورا علم ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ کون ہے جو کافروں کے مقابلہ میں دین حق کی حمایت کرنے کو اللہ کے واسطے میرا مدد گار ہو اس پر حواریوں نے عرض کیا ہم اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے رسول کے مدد گار ہیں ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور آپ اس امر پر گواہ رہیئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اور اس کے رسول کے فرمانبردار ہیں۔ (تیسیر) حور کے معنی ہیں خالص سفید ہوسکتا ہے کہ یہ دھوبی ہوں جو کپڑے کو سفید کرتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ مچھلی کا شکار کرنے والے ہوں یا ملاح ہوں۔ بہر حال خواری کے معنی مدد گار کے ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) کی مدد کریں ۔ کلبی کا قول ہے کہ اس سے ان کی جماعت کے بزرگ لوگ مراد ہیں جن کی تعداد بارہ تھی ۔ قتادہ نے کہا ان کے مشیر اور وزیر تھے اور ایسے لوگ تھے جو خلافت کے اہل تھے۔ بہر حال جب کفار کا عناد اور دشمنی ظاہر ہوگئی تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے حواریین کے روبرو یہ فرمایا ۔ حواریین اگر بنی اسرائیل میں سے تھے تب تو ظاہر ہے کہ ایک پارٹی بنی اسرائیل میں سے ان پر ایمان لائی ہوگئی اور اگر بنی اسرائیل کے علاوہ یہ لوگ ہوں تب بھی حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آئے ہوں گے کیونکہ ان کے ہاں کوئی نبی نہ ہوگا ۔ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ وہ تمام بنی اسرائیل کے نبی تھے ۔ بنی اسرائیل کے علاوہ جو لوگ تھے ان کی حیثیت میں ذرا تفصیل ہے اگر ان میں کوئی دوسرا نبی معبوث ہوا تھا تب تو ان کو بھی اصول میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اتباع واجب تھا اگرچہ فروع میں نہیں اور اگر ان میں کوئی دوسرا نبی معبوث نہیں تھا تو ان کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانا ضروری تھا اور اصول و فروع دونوں میں ان کی اتباع واجب تھی ۔ مزید تفصیل انشاء اللہ سورة صف میں آجائے گی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے گواہ رہنے کی درخواست اس لئے کی کہ قیامت میں ہر پیغمبر ان لوگوں کی شہادت دے گا جو اس کے ہاتھ پر مشرف با سلام ہوئے ہوں گے اور اس کے مدد گار رہے ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارہ یار کا خطاب تھا حواری ، حواری اصل کہتے ہیں دھوبی کو ان میں پہلے جو دو شخص ان کے تابع ہوئے دھوبی تھے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو کہا کہ کپڑے کیا دھویا کرتے ہو میں تم کو دل دھونے سکھا دوں وہ ان کے ساتھ ہوئے اس طرح سب کو یہی خطاب ٹھہر گیا ۔ فائدہ :۔ اس آیت کے معنی یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اصل رسول تھے واسطے نبی اسرائیل کے جب یہ معلوم کیا کہ یہ میرا دین قبول نہ کریں گے چاہا کہ اور کوئی میرے دین کو رواج دے ۔ حواریوں کے ساتھ سے غیروں کو دین پہنچا اب تک بنی اسرائیل ان کے دین میں کم ہیں۔ ( موضح القرآن) شاہ صاحب (رح) کے انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حواری بنی اسرائیل میں سے نہ تھے اگرچہ اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ حواری بنی اسرائیل میں سے تھے اگر حواری بنی اسرائیل میں سے نہ ہوں تب بھی ہم عرض کرچکے ہیں کہ ان لوگوں میں سے کوئی نبی اگر مبعوث ہوا تھا تو اصولاً اور اگر کوئی نبی مبعوث نہ ہوا تھا تو اصولاً و فروعا ً ان لوگوں کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اتباع و اجب تھی۔ ( واللہ اعلم) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اطمینان دلانے کے بعد حواریوں نے حضرت حق کی جانب میں دعا کی چناچہ فرماتے ہیں۔ ( تسہیل)