Following blessed predictions mentioned earlier, Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) was born with all promised signs. As a messenger sent to Bani Isra` il, he presented his call to them supported by miracles to prove his prophethood. But, the Bani Isra&il were adamant and kept on rejecting him as a prophet, even going to the limit of being physically hostile to him. The text now identifies the very first followers of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) brings to light their real creed, expressed first before their prophet and then (in verse 53), reiterated it in the form of a prayer before their Lord. Commentary The word, حواری &hawariyy (singular of حواریون &al-hawariyyun& ) appearing in verse 52 (translated as the disciples& ), is a derivation from حوار hawar which lexi¬cally means whiteness. In the religious terminology, the title of حواری &Ihawariyy& has been given to the sincere disciples or companions of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) r either because of their sincerity or the purity of their heart, or because of their white dress. Likewise, the Companions of the Holy Prophet (علیہ السلام) have been called, صاحبی sahabiyy (plural, sahabah). Some commentators have given the number of the disciples as twelve. Incidentally, the word &hawariyy& is also, at times, used in the absolute sense of &helper& or &supporter&. It is in this very sense that it was said in a hadth: |"Every prophet has a hawariyy, that is, a sincere companion; Zubair is my hawariyy& (Tafsir al-Qurtubi) An Important Note: Verse 52 states that Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) looked for helpers in the way of Allah only when he sensed hostility from disbelievers, and not at the initial stage of his call. As obvious, he had risen to the task all alone obeying the command of his Lord without worrying about setting up a &party& in advance. When came the need, he found a group around him. A little thought here would show that every worthy mission demands such determination and courage.
خلاصہ تفسیر (غرض بشارت مذکورہ کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اسی شان سے پیدا ہوئے، اور بنی اسرائیل سے مضمون مذکورہ کی گفتگو ہوئی، اور معجزات ظاہر فرمائے، مگر بنی اسرائیل آپ (علیہ السلام) کی نبوت کے منکر رہے) سو جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے انکار دیکھا ( اور انکار کے ساتاھ درپے ایذا بھی، اور اتفاقا کچھ لوگ ان کو ایسے ملے جو حواریین کہلاتے تھے) تو (ان حواریین سے) آپ نے فرمایا کوئی ایسے آدمی بھی ہیں جو (دین حق میں بمقابلہ مخالفین و منکرین کے) میرے مددگار ہوجاویں اللہ کے واسطے ( جس سے دعوت دین میں مجھے کوئی ایذاء نہ پہنچائے) حواریین بولے کہ ہم ہیں مددگار اللہ کے ( دین کے) ہم اللہ تعالیٰ پر ( حسب دعوت آپ کے) ایمان لائے اور آپ اس (بات) کے گواہ رہیے کہ ہم ( اللہ تعالیٰ کے اور آپ کے) فرمانبردار ہیں ( پھر زیادت اہتمام و توثیق کے لئے اللہ تعالیٰ سے مناجات کی کہ) اے ہمارے رب ہم ایمان لائے ان چیزوں (یعنی ان احکام) پر جو آپ نے نازل فرمائیں اور پیروی اختیار کی ہم نے ( ان) رسول کی سو ( ہمارا ایمان قبول فرماکر) ہم کو ان لوگوں کے ساتھ لکھ دیجیے جو (مضامین مذکورہ کی) تصدیق کرتے ہیں ( یعنی مومنین کاملین کے زمرہ میں ہمارا بھی شمار فرمایے) ۔ معارف و مسائل (قال الحواریون) لفظ حواری، حور سے ماخوذ ہے جس کے معنی لغت میں سفیدی کے ہیں، اصطلاح میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخلص ساتھیوں کو ان کے اخلاص اور صفائی قلب کی وجہ سے یا ان کی سفید پوشاک کی وجہ سے حواری کا لقب دیا گیا ہے۔ جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں کو صحابی کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے حواریین کی تعداد بارہ بتلائی ہے، اور کبھی لفظ حواری مطلقا مددگار کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے، اسی معنی سے ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ ہر نبی کا کوئی حواری یعنی مخلص ساتھی ہوتا ہے، میرے حواری زبیر ہیں ( تفسیر قرطبی) ۔ فائدہ مہمہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو جب لوگوں کا کفر اور مخالفت محسوس ہوئی اس وقت مددگاروں کی تلاش ہوئی تو فرمایا ( من انصاری) ابتداء میں نبوت کا منصبی کام اور دعوت شروع کرتے وقت تنہا ہی تعمیل حکم کے لئے کھڑے ہوگئے تھے، پہلے سے کسی پارٹی یا جماعت بنانے کی فکر میں نہیں پرے، جب ضرورت پیش آئی تو جماعت سی بن گئ۔ غور کیا جائے تو ہر کام ایسے ہی عزت و ہمت کو چاہتا ہے۔