Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 53

سورة آل عمران

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ وَ اتَّبَعۡنَا الرَّسُوۡلَ فَاکۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۵۳﴾

Our Lord, we have believed in what You revealed and have followed the messenger Jesus, so register us among the witnesses [to truth]."

اے ہمارے پالنے والے معبود! ہم تیری اُتاری ہوئی وحی پر ایمان لائے اور ہم نے تیرے رسول کی اتباع کی پس تُو ہمیں گواہوں میں لکھ لے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Al-Hawariyyun said: "We are the helpers of Allah; we believe in Allah, and bear witness that we are Muslims. Our Lord! We believe in what You have sent down, and we follow the Messenger; so write us down among those who bear witness." Hawari in Arabic - means `support'. The Two Sahihs recorded that; when the Prophet encouraged the people to fight during the battle of Al-Ahzab, Az-Zubayr came forward, and again, when the Prophet asked for fighters a second time. The Prophet said, إِنَّ لِكُلِّ نَبِيَ حَوَارِيًّا وَحَوَارِيِّي الزُّبَيْر Every Prophet has a Hawari, and Az-Zubayr is my Hawari. Ibn Abi Hatim recorded that Ibn Abbas said about, فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ (so write us down among those who bear witness), "Meaning among the Ummah of Muhammad." This Hadith has a good chain of narration. The Jews Plot to Kill `Isa Allah tells; وَمَكَرُواْ وَمَكَرَ اللّهُ وَاللّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رَبَّنَآ اٰمَنَّا بِمَآ اَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰہِدِيْنَ۝ ٥٣ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس كتب ( لکھنا) الْكَتْبُ : ضمّ أديم إلى أديم بالخیاطة، يقال : كَتَبْتُ السّقاء، وكَتَبْتُ البغلة : جمعت بين شفريها بحلقة، وفي التّعارف ضمّ الحروف بعضها إلى بعض بالخطّ ، وقد يقال ذلک للمضموم بعضها إلى بعض باللّفظ، فالأصل في الْكِتَابَةِ : النّظم بالخطّ لکن يستعار کلّ واحد للآخر، ولهذا سمّي کلام الله۔ وإن لم يُكْتَبْ- كِتَاباً کقوله : الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، وقوله : قالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتانِيَ الْكِتابَ [ مریم/ 30] . ( ک ت ب ) الکتب ۔ کے اصل معنی کھال کے دو ٹکڑوں کو ملاکر سی دینے کے ہیں چناچہ کہاجاتا ہے کتبت السقاء ، ، میں نے مشکیزہ کو سی دیا کتبت البغلۃ میں نے خچری کی شرمگاہ کے دونوں کنارے بند کرکے ان پر ( لوہے ) کا حلقہ چڑھا دیا ، ، عرف میں اس کے معنی حروف کو تحریر کے ذریعہ باہم ملا دینے کے ہیں مگر کبھی ان حروف کو تلفظ کے ذریعہ باہم ملادینے پر بھی بولاجاتا ہے الغرض کتابۃ کے اصل معنی تو تحریر کے ذریعہ حروف کو باہم ملادینے کے ہیں مگر بطور استعارہ کبھی بمعنی تحریر اور کبھی بمعنی تلفظ استعمال ہوتا ہے اور بناپر کلام الہی کو کتاب کہا گیا ہے گو ( اس وقت ) قید تحریر میں نہیں لائی گئی تھی ۔ قرآن پاک میں ہے : الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] یہ کتاب ( قرآن مجید ) اس میں کچھ شک نہیں ۔ قالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتانِيَ الْكِتابَ [ مریم/ 30] میں خدا کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے ۔ شاهِدٌ وقد يعبّر بالشهادة عن الحکم نحو : وَشَهِدَ شاهِدٌ مِنْ أَهْلِها[يوسف/ 26] ، وعن الإقرار نحو : وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَداءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهاداتٍ بِاللَّهِ [ النور/ 6] ، أن کان ذلک شَهَادَةٌ لنفسه . وقوله وَما شَهِدْنا إِلَّا بِما عَلِمْنا [يوسف/ 81] أي : ما أخبرنا، وقال تعالی: شاهِدِينَ عَلى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ [ التوبة/ 17] ، أي : مقرّين . لِمَ شَهِدْتُمْ عَلَيْنا [ فصلت/ 21] ، وقوله : شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلائِكَةُ وَأُولُوا الْعِلْمِ [ آل عمران/ 18] ، فشهادة اللہ تعالیٰ بوحدانيّته هي إيجاد ما يدلّ علی وحدانيّته في العالم، وفي نفوسنا کما قال الشاعر : ففي كلّ شيء له آية ... تدلّ علی أنه واحدقال بعض الحکماء : إنّ اللہ تعالیٰ لمّا شهد لنفسه کان شهادته أن أنطق کلّ شيء كما نطق بالشّهادة له، وشهادة الملائكة بذلک هو إظهارهم أفعالا يؤمرون بها، وهي المدلول عليها بقوله : فَالْمُدَبِّراتِ أَمْراً [ النازعات/ 5] ، اور کبھی شہادت کے معنی فیصلہ اور حکم کے ہوتے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَشَهِدَ شاهِدٌ مِنْ أَهْلِها[يوسف/ 26] اس کے قبیلہ میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا ۔ اور جب شہادت اپنی ذات کے متعلق ہو تو اس کے معنی اقرار کے ہوتے ہیں ۔ جیسے فرمایا وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَداءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهاداتٍ بِاللَّهِ [ النور/ 6] اور خود ان کے سوا ان کے گواہ نہ ہو تو ہر ایک کی شہادت یہ ہے کہ چار بار خدا کی قسم کھائے ۔ اور آیت کریمہ : ما شَهِدْنا إِلَّا بِما عَلِمْنا [يوسف/ 81] اور ہم نے تو اپنی دانست کے مطابق ( اس کے لے آنے کا ) عہد کیا تھا ۔ میں شھدنا بمعنی اخبرنا ہے اور آیت کریمہ : شاهِدِينَ عَلى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ [ التوبة/ 17] جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہوں گے ۔ میں شاھدین بمعنی مقرین ہے یعنی کفر کا اقرار کرتے ہوئے ۔ لِمَ شَهِدْتُمْ عَلَيْنا [ فصلت/ 21] تم نے ہمارے خلاف کیوں شہادت دی ۔ اور ایت کریمہ ؛ شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلائِكَةُ وَأُولُوا الْعِلْمِ [ آل عمران/ 18] خدا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور علم والے لوگ ۔ میں اللہ تعالیٰ کے اپنی وحدانیت کی شہادت دینے سے مراد عالم اور انفس میں ایسے شواہد قائم کرنا ہے جو اس کی وحدانیت پر دلالت کرتے ہیں ۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ۔ (268) ففی کل شیئ لہ آیۃ تدل علی انہ واحد ہر چیز کے اندر ایسے دلائل موجود ہیں جو اس کے یگانہ ہونے پر دلالت کر رہے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ باری تعالیٰ کے اپنی ذات کے لئے شہادت دینے سے مراد یہ ہے کہ اس نے ہر چیز کو نطق بخشا اور ان سب نے اس کی وحدانیت کا اقرار کیا ۔ اور فرشتوں کی شہادت سے مراد ان کا ان افعال کو سر انجام دینا ہے جن پر وہ مامور ہیں ۔ جس پر کہ آیت ؛فَالْمُدَبِّراتِ أَمْراً [ النازعات/ 5] پھر دنیا کے کاموں کا انتظام کرتے ہیں ۔ دلاکت کرتی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٣ (رَبَّنَآ اٰمَنَّا بِمَآ اَنْزَلْتَ ) (وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ ) (فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰہِدِیْنَ ) یہی لفظ گواہاب عیسائیوں کے ایک خاص فرقے کی طرف سے (Jehova&s Witnesses) اختیار کیا گیا ہے۔ لفظ یھوہ (Jehova) عبرانی میں خدا کے لیے آتا ہے۔ یعنی یہ لوگ اپنے آپ کو خدا کے گواہکہتے ہیں۔ سورة البقرۃ کی آیت ١٤٣ ہم پڑھ آئے ہیں : (وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰٹکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا ط) (اور (اے مسلمانو ! ) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ تم پر گواہ ہو۔ تو یہ لفظ شاہد (گواہ ) قدیم ہے اور اسلامی حکمت اور اسلام کی مصطلحات میں اس کی ایک حیثیت ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ جو انہوں نے براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ فرمائی ‘ اور اللہ کے ساتھ بھی یہ وعدہ کیا ‘ اس میں ایک اہم نکتہ پوشیدہ ہے ۔ مومن کا ابتدائی عہد صرف اللہ کے ساتھ ہوتا ہے ۔ جب ایک رسول کسی پیغام کو اہل ایمان تک پہنچا دیتا ہے تو پھر اس کی ڈیوٹی ختم ہوجاتی ہے اور اب مومن کی بیعت اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم ہوجاتی ہے ۔ اور جب رسول اس دنیا سے چلاجائے تب بھی یہ فریضہ اور یہ ذمہ داری مومن کے گلے میں پڑی رہتی ہے ۔ اور اس بیعت میں ‘ معاہدہ ذمہ داری میں یہ بات ہوتی ہے کہ وہ رسول کی اطاعت کرتے رہیں گے ۔ اس لئے ایمان صرف عقیدے کا نام نہیں ہے جو انسان کے ضمیر میں ہوتا ہے بلکہ اتباع کا نام ہے اور رسول کے نظام کی اطاعت بھی ضروری ہے اور یہی وہ مفہوم ہے جس کے ارد گرد اس پوری سورت کے مضامین گھوم رہے ہیں ۔ اس سورت میں اس مضمون کو مختلف طریقوں سے مکرر بیان کیا گیا ہے۔ یہاں حواریوں کے کلام میں ایک اہم جملہ ہے فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ……………” آپ ہمارے نام گواہی دینے والوں میں لکھ دیں۔ “ سوال یہ ہے کہ وہ کیا شہادت دیتے ہیں اور کس بات کے وہ گواہ ہیں ؟ درحقیقت ایک شخص جو ایمان لاکر مسلم بن جاتا ہے اور اللہ کے دین کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے تو اس کے بعد اس کا فرض ہے کہ وہ اس دین کے بارے میں شہادت دے ۔ وہ گواہی دے کہ اس دین کا یہ حق ہے کہ یہ قائم ودوائم رہے ۔ وہ ایسی شہادت دے کہ اس دین میں انسانوں کی جو بھلائی ہے وہ اس کی شہادت ہے ۔ اور یہ مومن اس وقت تک شہادت نہیں دے سکتا جب تک وہ اپنے نفس اپنے اخلاق اور اپنی پوری زندگی کو اس دین کی جیتی جاگتی تصویر نہ بنالے ۔ وہ ایسی تصویر بنائے کہ لوگ اسے دیکھتے ہی ایک مثال سمجھیں اور اس بات کی شہادت دیں کہ واقعی اگر دین کی یہ صورت ہے تو یہ دین اس بات کا مستحق ہے ۔ کہ وہ زندہ رہے۔ اور یہ کہ یہ دین اس پوری کائنات میں تمام نظاموں اور طریقوں اور سوسائٹیوں کے مقابلے میں افضل اور بہتر ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی شخص یہ شہادت اس وقت تک نہیں دے سکتا جب تک وہ اس دین کو اپنے لئے ضابطہ ٔ حیات نہ بنالے ۔ جب تک وہ اسے اجتماعی نظام نہ بنالے ۔ اور جب تک وہ اسے اپنے اور اپنی قوم کے لئے نظام قانون نہ بنالے ۔ اور جب تک اس کے گرد ایسا معاشرہ قائم نہ ہوجائے جو اس نظام حیات کے مطابق اپنی زندگی کے معاملات کو چلاتا ہو ۔ جو ایک خدائی نظام اور مضبوط نظام ہے ۔ نیز یہ شہادت اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک وہ مومن اس نظام حیات کے قائم کرنے کے لئے جہاد شروع نہیں کرتا ۔ اور جب تک وہ اس جہاد میں زندگی پر موت کو ترجیح نہیں دیتا یعنی اس معاشرے کے خلاف جس میں انسانی زندگیوں پر اسلامی نظام رائج نہ ہو اور یہ اس بات کی شہادت ہوگی کہ اقامت دین کا فریضہ خود اس کی زندگی سے بھی عزیز تر ہے ۔ حالانکہ زندگی کی وہ تمام چیزوں کے لئے ایک عزیز متاع ہوتی ہے ۔ اس لئے اس کو شہید کہا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ شہادت دیتا ہے ۔ یہاں ان حواریوں نے دعا کی کہ اللہ ہمیں ایسے گواہوں میں لکھ دے ‘ ہم دین کے لئے شہادت دیں گے ۔ یعنی وہ یہ دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ایسی توفیق دے کہ ہماری زندگی دین مسیحی کا زندہ نمونہ بن جائے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم ایک ایسے معاشرے کو وجود میں لانے کے لئے جہاد کریں جس میں یہ دین قائم ہو ۔ اگر انہوں نے اس کا حق ادا کردیا تو گویا انہوں نے اس دین کے حق کی شہادت دیدی کہ یہ دین سچا دین ہے ۔ میں یہاں یہ بات کہوں گا کہ آج جو شخص بھی اپنے لئے ایمان اور اسلام کا دعویدار ہے وہ ذرا اس دعا پر غور کرے ۔ یہ ہے اصلی اسلام ‘ جس طرح حواریوں نے اسے سمجھا ۔ جس طرح حقیقی مسلمانوں کے دل میں بھی یہ حقیقت اچھی طرح بیٹھی ہوئی ہے ۔ اور جو شخص دین کے لئے شہادت نہ دے گا اور اسے چھپا کر رکھے گا تو اس کا دل گناہ گار ہے ۔ یاد رہے کہ جو شخص اسلام کا دعویٰ کرتا ہے اور اپنی عملی زندگی میں اسلام کے خلاف روش اختیار کرتا ہے ‘ جو شخص اسلام پر یقین رکھتا ہے لیکن اسلامی فرائض علی الاعلان ادا نہیں کرتا ‘ اور اسلامی نظام حیات کو عملاً قائم کرنے کے لئے جدوجہد نہیں کرتا ۔ وہ یہ کام یا اپنی پرامن زندگی کے لئے کرتا ہے یا اپنی زندگی کو دین اسلام کی زندگی پر فوقیت دیتا ہے تو اس نے یقیناً شہادت حق دینے میں سخت کوتاہی کی یا اس نے اسلام کے خلاف دوسرے نظاموں کے حق میں شہادت دی ۔ یہ ایسی شہادت ہے جو دوسروں کو بھی اسلام کی طرف آنے سے روکتی ہے اس لئے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ اہل اسلام اسلام کے حق میں نہیں بلکہ اسلام کے خلاف شہادت دے رہے ہیں ۔ اور اس شخص کا انجام عظیم بربادی ہے جو اپنے اس دعوے کی بناپر کہ وہ مسلم ہے تمام لوگوں کو اسلام سے روکتا ہے ۔ حالانکہ وہ دین کا مومن نہیں ہوتا بلکہ دین سے روکنے والا ہوتا ہے (اس موضوع پر استاد مودودی نے اپنی کتاب شہادت حق میں جو قیمتی بحث کی ہے اسے ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ سید قطب) ۔ اب بنی اسرائیل کے ساتھ قصہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا آخری حصہ آتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

76 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ نصرت کے بعد حواریوں نے اللہ سے مناجات شروع کردی اور صدق نیت سے اقرار کرلیا کہ وہ اللہ کے نازل کردہ تمام احکام پر ایمان لے آئے ہیں اور اس کے پیغمبر کی اطاعت قبول کرچکے ہیں اس لیے انہیں بھی ان لوگوں کی فہرست میں شامل فرمالیا جائے جو اللہ کی توحید اور اس کے پیغمبروں کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں ای اکتبنا فی جملۃ من شھد لک بالتوحید ولانبیاءک بالتصدیق (کبیر ج 2 ص 687) اس سے معلوم ہوا کہ خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے صحابی جو مسیحی تھے وہ تو صرف اللہ ہی کو معبود مانتے تھے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) سے متعلق ان کا صرف یہی نظریہ تھا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور ان کا اتباع ان پر لازم ہے ان کو الہ یا ابن اللہ کہنا وغیرہ خرافات تو ان کے تصورت میں بھی نہ تھیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1۔ حواریوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ان تمام احکام پر جو آپ نے نازل فرمائے ہیں ایمان لائے اور ہم نے اس رسول یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی اختیار کی لہٰذا آپ ہم کو گواہی دینے والوں اور تصدیق کرنے والوں کے ہمراہ لکھ دیجئے اور ان لوگوں کے ساتھ ہمارا بھی اندراج کرلیجئے جو آپ کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہیں اور آپ کے رسولوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ ( تیسیر) مطلب یہ ہے کہ عام مسلمانوں میں جو آپ کی وحدانیت اور آپ کے رسولوں کی رسالت کا اقرار کرنے والے ہیں ان میں ہمارا نام بھی لکھ دیجئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ انبیاء کے ساتھ لکھ دیجئے کیونکہ قیامت میں انبیاء (علیہم السلام) شہادت دیں گے ، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انبیاء کے ساتھ لکھ دیجئے کیونکہ قیامت میں انبیاء (علیہم السلام) شہادت دیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امت محمدیہ کے ساتھ ہمارا نام لکھ دے کیونکہ یہ امت بھی قیامت کے دن شہادت دینے والی ہوگی ۔ ( واللہ اعلم) اب آگے یہود کے مکرو فریب کا اور ان کی ناکامی کا ذکر ہوتا ہے۔ ( تسہیل)