Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 6

سورة آل عمران

ہُوَ الَّذِیۡ یُصَوِّرُکُمۡ فِی الۡاَرۡحَامِ کَیۡفَ یَشَآءُ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۶﴾

It is He who forms you in the wombs however He wills. There is no deity except Him, the Exalted in Might, the Wise.

وہ ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جس طرح کی چاہتا ہے بناتا ہے اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ غالب ہے حکمت والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الاَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاء ... He it is Who shapes you in the wombs as He wills. meaning, He creates you in the wombs as He wills, whether male or female, handsome or otherwise, happy or miserable. ... لااَ إِلَـهَ إِلااَّ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ La ilaha illa Huwa (none has the right to be worshipped but He), the Almighty, the All-Wise. meaning, He is the Creator and thus is the only deity worthy of worship, without partners, and His is the perfect might, wisdom and decision. This Ayah refers to the fact that `Isa, son of Mary, is a created servant, just as Allah created the rest of mankind. Allah created `Isa in the womb (of his mother) and shaped him as He willed. Therefore, how could `Isa be divine, as the Christians, may Allah's curses descend on them, claim `Isa was created in the womb and his creation changed from stage to stage, just as Allah said, يَخْلُقُكُمْ فِى بُطُونِ أُمَّهَـتِكُـمْ خَلْقاً مِّن بَعْدِ خَلْقٍ فِى ظُلُمَـتٍ ثَلَـثٍ He creates you in the wombs of your mothers, creation after creation in three veils of darkness. (39:6)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

6۔ 1 خوب صورت یا بد صورت، مذکر یا مونث نیک بخت یا بدبخت، ناقص الخلقت یا تام الخلقت جب رحم مادر میں یہ سارے تصرفات صرف اللہ تعالیٰ ہی کرنے والا ہے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کس طرح ہوسکتے ہیں جو خود بھی اسی مرحلہ تخلیق سے گزر کر دنیا میں آئے ہیں جس کا سلسلہ اللہ نے رحم مادر میں قائم فرمایا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥] یعنی نطفہ کو کئی مراحل سے گزار کر اسے انسان کی شکل میں پیدا کرتا ہے اور اس کی قدرت کاملہ کا یہ حال ہے دنیا میں کروڑوں، اربوں، انسان پیدا ہوچکے ہیں لیکن کسی کی شکل و صورت دوسرے سے کلی طور پر نہیں ملتی۔ بنیادی اختلاف تو صرف تین قسم کے ہوتے ہیں۔ رنگ کا اختلاف قدو قامت کا اختلاف اور نقوش کا اختلاف لیکن محض ان تین قسم کے اختلاف سے اربوں انسانوں میں سے ہر ایک کو مابہ الامتیاز شکل و صورت عطا فرمانا اسی وحدہ لاشریک کی قدرت کاملہ کا کارنامہ ہے اور اس کی حکمت کاملہ کا تقاضا یہ ہے کہ اس نے استقرار حمل سے لے کر بعد کے تمام مراحل میں جنین کی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت تک کو بھی پورا کرنے کا اہتمام فرمایا اور پیدا ہونے کے بعد اس کے جسم اور روح کی تربیت کے لیے جن جن چیزوں کی ضرورت تھی وہ اس کے لیے مہیا فرما دیں۔ اس سے پہلی آیت میں یہ فرمایا تھا کہ اللہ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ یہ گویا ایک دعویٰ تھا جس کا ثبوت اس آیت میں دیا گیا کہ جو ہستی رحم کی تاریکیوں میں جنین کی پرورش کرنے پر قادر ہے۔ اس سے کوئی چیز بھلا پوشیدہ رہ سکتی ہے۔ اس آیت میں تو مصالح جسمانیہ کا ذکر تھا اور اگلی آیت میں انسان کے مصالح روحانیہ کا ذکر ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

مذکورہ آیتوں کی مختصر تفسیر یہ ہے : اللہ تعالیٰ ایسے ہیں کہ ان کے سوا کوئی قابل معبود بنانے کے نہیں، اور وہ زندہ (جاوید) ہیں، سب چیزوں کے سنبھالنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قرآن بھیجا ہے واقعیت کے ساتھ اس کیفیت سے کہ وہ تصدیق کرتا ہے ان ( آسمانی) کتابوں کی جو اس سے پہلے ہوچکی ہیں اور ( اسی طرح) بھیجا تھا توریت اور انجیل کو اس کے قبل لوگوں کی ہدایت کے واسطے ( اور اسی سے قرآن کا ہدایت ہونا بھی لازم آگیا، کیونکہ ہدایت کا مصدق بھی ہدایت ہے) اور اللہ تعالیٰ نے ( انبیاء (علیہم السلام) کی تصدیق کے واسطے) بھیجے معجزات، بیشک جو لوگ منکر ہیں اللہ تعالیٰ کی ( ان) آیتوں کے (جو توحید پر دلالت کرتی ہیں) ان کے لئے سزا سخت ہے اور اللہ تعالیٰ غالب ( اور قدرت) والے ہیں ( کہ بدلہ لے سکتے ہیں اور) بدلہ لینے والے ( بھی) ہیں، بیشک اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے ( نہ کوئی چیز) زمین میں اور نہ ( کوئی چیز) آسمان میں (پس ان کا علم بھی نہایت کامل ہے) وہ ایسی ذات ( پاک) ہے کہ تمہاری صورت ( شکل) بناتا ہے، جس طرح چاہتا ہے ( کسی کی کیسی صورت اور کسی کی کیسی صورت، پس ان کی قدرت بھی کامل ہے، حیات اور قومیت اور علم اور قدرت جو امہات صفات سے ہیں ان میں کامل طور سے بلا شرکت موجود ہیں جس سے ثابت ہوا کہ) کوئی عبادت کے لائق ہیں، بجز اس (ذات پاک) کے (اور) وہ غلبہ والے ہیں ( منکر توحید سے انتقام لے سکتے ہیں لیکن) حکمت والے ( بھی) ہیں ( کہ مصلحت دنیا میں ڈھیل دے رکھی ہے) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ھُوَالَّذِيْ يُصَوِّرُكُمْ فِي الْاَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاۗءُ۝ ٠ ۭ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ ٦ صور الصُّورَةُ : ما ينتقش به الأعيان، ويتميّز بها غيرها، وذلک ضربان : أحدهما محسوس يدركه الخاصّة والعامّة، بل يدركه الإنسان وكثير من الحیوان، كَصُورَةِ الإنسانِ والفرس، والحمار بالمعاینة، والثاني : معقول يدركه الخاصّة دون العامّة، کالصُّورَةِ التي اختصّ الإنسان بها من العقل، والرّويّة، والمعاني التي خصّ بها شيء بشیء، وإلى الصُّورَتَيْنِ أشار بقوله تعالی: ثُمَّ صَوَّرْناكُمْ [ الأعراف/ 11] ، وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ [ غافر/ 64] ، وقال : فِي أَيِّ صُورَةٍ ما شاء رَكَّبَكَ [ الانفطار/ 8] ، يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحامِ [ آل عمران/ 6] ، وقال عليه السلام : «إنّ اللہ خلق آدم علی صُورَتِهِ» فَالصُّورَةُ أراد بها ما خصّ الإنسان بها من الهيئة المدرکة بالبصر والبصیرة، وبها فضّله علی كثير من خلقه، وإضافته إلى اللہ سبحانه علی سبیل الملک، لا علی سبیل البعضيّة والتّشبيه، تعالیٰ عن ذلك، وذلک علی سبیل التشریف له کقوله : بيت الله، وناقة الله، ونحو ذلك . قال تعالی: وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] ، وَيَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ النمل/ 87] ، فقد قيل : هو مثل قرن ينفخ فيه، فيجعل اللہ سبحانه ذلک سببا لعود الصُّوَرِ والأرواح إلى أجسامها، وروي في الخبر «أنّ الصُّوَرَ فيه صُورَةُ الناس کلّهم» وقوله تعالی: فَخُذْ أَرْبَعَةً مِنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَ«أي : أَمِلْهُنَّ من الصَّوْرِ ، أي : المیل، وقیل : قَطِّعْهُنَّ صُورَةً صورة، وقرئ : صرهن وقیل : ذلک لغتان، يقال : صِرْتُهُ وصُرْتُهُ وقال بعضهم : صُرْهُنَّ ، أي : صِحْ بِهِنَّ ، وذکر الخلیل أنه يقال : عصفور صَوَّارٌ وهو المجیب إذا دعي، وذکر أبو بکر النّقاش أنه قرئ : ( فَصُرَّهُنَّ ) بضمّ الصّاد وتشدید الرّاء وفتحها من الصَّرِّ ، أي : الشّدّ ، وقرئ : ( فَصُرَّهُنَّ ) من الصَّرِيرِ ، أي : الصّوت، ومعناه : صِحْ بهنّ. والصَّوَارُ : القطیع من الغنم اعتبارا بالقطع، نحو : الصّرمة والقطیع، والفرقة، وسائر الجماعة المعتبر فيها معنی القطع . ( ص و ر ) الصورۃ : کسی عین یعنی مادی چیز کے ظاہر ی نشان اور خدوخال جس سے اسے پہچانا جاسکے اور دوسری چیزوں سے اس کا امتیاز ہوسکے یہ دو قسم پر ہیں ( 1) محسوس جن کا ہر خاص وعام ادراک کرسکتا ہو ۔ بلکہ انسان کے علاوہ بہت سے حیوانات بھی اس کا ادراک کرلیتے ہیں جیسے انسان فرس حمار وغیرہ کی صورتیں دیکھنے سے پہچانی جاسکتی ہیں ( 2 ) صؤرۃ عقلیہ جس کا ادارک خاص خاص لوگ ہی کرسکتے ہوں اور عوام کے فہم سے وہ بالا تر ہوں جیسے انسانی عقل وفکر کی شکل و صورت یا وہ معانی یعنی خاصے جو ایک چیز میں دوسری سے الگ پائے جاتے ہیں چناچہ صورت کے ان پر ہر دو معانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ۔ ثُمَّ صَوَّرْناكُمْ [ الأعراف/ 11] پھر تمہاری شکل و صورت بنائی : وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ [ غافر/ 64] اور اس نے تمہاری صورتیں بنائیں اور صؤرتیں بھی نہایت حسین بنائیں ۔ فِي أَيِّ صُورَةٍ ما شاء رَكَّبَكَ [ الانفطار/ 8] اور جس صورت میں چاہا تجھے جو ڑدیا ۔ جو ماں کے پیٹ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری صورتیں بناتا ہے ۔ اور حدیث ان اللہ خلق ادم علیٰ صؤرتہ کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اس کی خصوصی صورت پر تخلیق کیا ۔ میں صورت سے انسان کی وہ شکل اور ہیت مراد ہے جس کا بصرہ اور بصیرت دونوں سے ادارک ہوسکتا ہے اور جس کے ذریعہ انسان کو بہت سی مخلوق پر فضیلت حاصل ہے اور صورتہ میں اگر ہ ضمیر کا مرجع ذات باری تعالیٰ ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف لفظ صورت کی اضافت تشبیہ یا تبعیض کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ اضافت ملک یعنی ملحاض شرف کے ہے یعنی اس سے انسان کے شرف کو ظاہر کرنا مقصود ہے جیسا کہ بیت اللہ یا ناقۃ اللہ میں اضافت ہے جیسا کہ آیت کریمہ : ۔ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] میں روح کی اضافت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کی ہے اور آیت کریمہ وَيَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ النمل/ 87] جس روز صور پھونکا جائیگا ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ صؤر سے قرآن یعنی نر سنگھے کی طرح کی کوئی چیز مراد ہے جس میں پھونکا جائیگا ۔ تو اس سے انسانی صورتیں اور روحیں ان کے اجسام کی طرف لوٹ آئیں گی ۔ ایک روایت میں ہے ۔ ان الصورفیہ صورۃ الناس کلھم) کہ صور کے اندر تمام لوگوں کی صورتیں موجود ہیں اور آیت کریمہ : ۔ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَ«2» میں صرھن کے معنی یہ ہیں کہ ان کو اپنی طرف مائل کرلو اور ہلالو اور یہ صور سے مشتق ہے جس کے معنی مائل ہونے کے ہیں بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی پارہ پارہ کرنے کے ہیں ایک قرات میں صرھن ہے بعض کے نزدیک صرتہ وصرتہ دونوں ہم معنی ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ صرھن کے معنی ہیں انہیں چلا کر بلاؤ چناچہ خلیل نے کہا ہے کہ عصفور صؤار اس چڑیا کو کہتے ہیں جو بلانے والے کی آواز پر آجائے ابوبکر نقاش نے کہا ہے کہ اس میں ایک قرات فصرھن ضاد کے ضمہ اور مفتوحہ کے ساتھ بھی ہے یہ صر سے مشتق ہے اور معنی باندھنے کے ہیں اور ایک قرات میں فصرھن ہے جو صریربمعنی آواز سے مشتق ہے اور معنی یہ ہیں کہ انہیں بلند آواز دے کر بلاؤ اور قطع کرنے کی مناسبت سے بھیڑبکریوں کے گلہ کو صوار کہاجاتا ہے جیسا کہ صرمۃ قطیع اور فرقۃ وغیرہ الفاظ ہیں کہ قطع یعنی کاٹنے کے معنی کے اعتبار سے ان کا اطلاق جماعت پر ہوتا ہے ۔ رحم ( المراۃ) الرَّحِمُ : رَحِمُ المرأة، وامرأة رَحُومٌ تشتکي رحمها . ومنه استعیر الرَّحِمُ للقرابة، لکونهم خارجین من رحم واحدة ( ر ح م ) الرحم ۔ عورت کا رحم ۔ اور رحوم اس عورت کو کہتے ہیں جسے خرابی رحم کی بیماری ہو اور استعارہ کے طور پر رحم کا لفظ قرابت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے کیونکہ تمام اقرباء ایک ہی رحم سے پیدا ہوتے ہیں ۔ اور اس میں رحم و رحم دولغت ہیں كيف كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ، انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] ، فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] ، أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] . ( ک ی ف ) کیف ( اسم استفہام ) اس چیز کی حالت در یافت کرنے کے لئے آتا ہے جس پر کہ شیبہ اور غیر شیبہ کا لفظ بولا جاسکتا ہو جیسے ابیض ( سفید اسود ( سیاہی ) صحیح ( تندرست ) سقیم ( بیمار ) وغیرہ ۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے متعلق اس کا استعمال جائز نہیں ہے اور کبھی اس چیز پر بھی کیف کا اطلاق کردیتے ہیں جس کے متعلق سوال کر نا ہو مثلا کہا جاتا ہے کہ اسود اور ابیض مقولہ کیف سے ہیں اور جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق کیف کا لفظ استعمال کیا ہے تو وہ تنبیہ یا قو بیخ کے طور پر مخاطب سے استخبار کے لئے لایا گیا ہے جیسے فرمایا : ۔ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] کافرو تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو ۔ كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے ۔ كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] بھلا مشرکوں کے لئے کیونکر قائم رہ سکتا ہے ۔ انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائیں ۔ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی مر تبہ پیدا کیا ۔ أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کسی طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر کس طرح اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے ۔ إله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] الٰہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦) وہ ایسی ذات ہے کہ جس طرح چاہتا ہے کوتاہ قد، دراز قد خوبصورت یا بدصورت نیک یا بد لڑکا یا لڑکی بناتا ہے، اس مصور حقیقی کے علاوہ نہ کوئی صورت بنانے والا اور نہ کوئی خالق ہے، جو اس پر ایمان نہ لائے، اس کو عذاب دینے میں بڑی قدرت رکھنے والا اور انسان شکل کے بنانے میں بڑی حکمت والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦ (ہُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآءُ ط) ۔ پہلی چیز اللہ کے علم سے متعلق تھی اور یہ اللہ کی قدرت سے متعلق ہے۔ وہی ہے جو تمہاری نقشہ کشی کردیتا ہے ‘ صورت بنا دیتا ہے تمہاری ماؤں کے رحموں میں جیسے چاہتا ہے۔ کسی کے پاس کوئی اختیار (choice) نہیں ہے کہ وہ اپنا نقشہ خود بنائے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

4. This refers to two important facts. The first is that no being knows human nature as well as God does; it is thus imperative that man should depend on the guidance revealed by God, something man needs the most. The second is that the Being Who takes care of all of man's requirements, major and minor, from the time of conception onwards, will not fail to provide guidance for man's conduct in this life.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :4 اس میں دو اہم حقیقتوں کی طرف اشارہ ہے: ایک یہ کہ تمہاری فطرت کو جیسا وہ جانتا ہے ، نہ کوئی دوسرا جان سکتا ہے ، نہ تم خود جان سکتے ہو ۔ لہٰذا اس کی رہنمائی پر اعتماد کیے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ نہیں ہے ۔ دوسرے یہ کہ جس نے تمہارے استقرار حمل سے لے کر بعد کے مراحل تک ہر موقع پر تمہاری چھوٹی سے چھوٹی ضرورتوں تک کو پورا کرنے کا اہتمام کیا ، کس طرح ممکن تھا کہ وہ دنیا میں تمہاری ہدایت و رہنمائی کا انتظام نہ کرتا ، حالانکہ تم سب سے بڑھ کر اگر کسی چیز کے محتاج ہو ، تو وہ یہی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: اگر انسان اپنی پیدائش کے مختلف مراحل پر غور کرے کہ وہ ماں کے پیٹ میں کس طرح پرورش پاتا ہے اور کس طرح اس کی صورت دوسرے اربوں انسانوں سے بالکل الگ بنتی ہے کہ کبھی دو آدمی سوفیصد ایک جیسے نہیں ہوتے تو اسے یہ تسلیم کرنے میں دیر نہ لگے کہ یہ سب کچھ خدائے واحد کی قدرت اور حکمت کے تحت ہورہا ہے، اس آیت میں اس حقیقت کو بیان کرکے اللہ تعالیٰ کے وجود اس کی وحدانیت اور حکمت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے، اس کے ساتھ اس سے ایک اور پہلو کی وضاحت بھی کی گئی ہے، روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ شہر نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آنحضرتﷺ کے پاس آیا تھا اور اس نے اپنے عقائد کے بارے میں آپ سے گفتگو کی تھی، سورۃ آل عران کی کئی آیات اسی پس منظر میں نازل ہوئی ہیں، اس وفد نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کا بیٹا ہونے پر یہ دلیل بھی دی تھی کہ وہ بغیر باپ کہ پیدا ہوئے تھے، یہ آیت اس دلیل کی تردید بھی کررہی ہے، اشارہ یہ کیا گیا ہے کہ ہر شخص کی تخلیق اور صورت گری اللہ تعالیٰ ہی فرماتا ہے، اگرچہ اس نے معمول کا طریقہ یہ بنایا ہے کہ ہر بچہ کسی باپ کے ذریعے پیدا ہوتا ہے ؛ لیکن وہ اس طریقے کانہ پابند ہے نہ محتاج، لہذا وہ جب چاہے جس کو چاہے بغیر باپ کے پیدا کرسکتا ہے اور اس سے کسی کا خدا یا خدا کا بیٹا ہونا لازم نہیں آتا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:6) الحکیم۔ حکمت والا۔ بروزن فعیل صفت کا صیغہ ہے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

کیف یشاء۔ یعنی مذکر یا مؤنث اسود احمر تام ناقص وغیرہ اور انسان کی سعادت و شفاعت عمر اور رزق بھی اسی وقت لکھ دیا جاتا ہے جیسا کہ متعدد احادیث میں مذکور ہے۔ (شوکانی۔ ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وہ رحم مادر میں تمہیں ایک شکل و حرارت دیتا ہے ‘ جس طرح اس کی مشیئت ہوتی ہے پھر وہ تمہیں اس شکل و صورت کے ساتھ مناسب خصوصیات بھی عطا کرتا ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس کے سوا کوئی ذات اس تصویر سازی میں شریک نہیں ہوتی ‘ یہ کام وہ صرف اپنے ارادے اور اپنی مشیئت سے کرتا ہے ۔” جس طرح چاہتا ہے۔ “ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ۔ “ وہ عزیز ہے۔ “ وہ اس تخلیق اور تصویر سازی پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔” وہ حکیم ہے ‘ یہ تمام تخلیقی عمل بڑی گہری ‘ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ اس میں نہ کوئی رکاوٹ آتی ہے ‘ اور نہ اس کام میں اس کے ساتھ کوئی شریک ہے ۔ “ تخلیق انسان کی طرف یہاں اشارہ کرنے کا مقصد یہ ہے خطاب اہل کتاب سے ہے اور اہل کتاب کے اندر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تخلیق کے بارے میں نہایت ہی غلط خیالات اور شکوک و شبہات پائے جاتے تھے ۔ اللہ ہی ہے جس نے حضرت عیسیٰ کی تصویر کشی کی ‘ جس طرح اس نے چاہا ‘ یہ عقیدہ باطل ہے کہ حضرت عیسیٰ بذات خود رب ہیں ۔ یا خدا ہیں ‘ یا خدا کے بیٹے ہیں یا کوئی لاہوتی ناسوتی اقنوم ہیں۔ اس لئے کہ یہ تصورات ناقابل فہم ناقابل ادراک ہونے کے ساتھ ساتھ ‘ عقیدہ توحید کے صحیح ‘ قابل فہم اور واضح تصور کے بھی خلاف ہیں ۔ اس کے بعد قرآن مجید ان لوگوں کی نشان دہی کرتا ہے جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہے ۔ اور یہ لوگ وہ ہیں جو قرآن کریم کی قطعی الدلالت آیات کو چھوڑ کر ان آیات کے درپے ہوتے ہیں جن کے مفہوم میں تاویل کا احتمال ہوتا ہے تاکہ وہ ایسی آیات کی غلط تاویل کرکے اسلامی نظریات کے اندر شبہات پیدا کریں ۔ یہ نشان دہی اس لئے کی جاتی ہے کہ اہل ایمان اور اہل حقائق کی حقیقی صفات بیان کردی جائیں ۔ یہ بتایا جائے کہ ان کا ایمان کس قدر خالص ہے ۔ اور کس طرح اللہ کے قطعی احکام کو بلا چون وچراء عمل میں لاتے ہیں ۔ فرماتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ جیسے چاہے رحم مادر میں تصویر بناتا ہے : پھر اللہ جل شانہ کی ایک اور خاص صفت بیان فرمائی اور فرمایا (ھُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآءُ ) کہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جو ماؤں کے رحموں میں جس طرح چاہتا ہے تمہاری صورتیں بنا دیتا ہے یہ ایک ایسی صفت ہے جسے موحد اور مشرک سب ہی مانتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے ماؤں کے رحموں میں تصویریں بنا دیتا ہے کسی کے اعضاء صحیح سالم ہیں کسی میں نقص۔ کوئی کالا ہے کوئی گورا ہے کوئی مذکر ہے کوئی مونث ہے۔ کسی کی ناک اونچی ہے اور کسی کی ناک پھڈی ہے کسی کے ہونٹ موٹے ہیں اور کسی کا ہاتھ ٹیڑھا ہے۔ کان تو ہیں مگر بہرا پیدا ہوا زبان تو ہے مگر گونگا ہے اور اس طرح کی کتنی چیزیں ہیں نہ باپ کچھ کرسکتا ہے نہ ماں کچھ کرسکتی ہے نہ پیدا ہونے والا کوئی طاقت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ جیسی صورت بنا دے اسی صورت میں عالم دنیا میں انسانوں کے بچے ظہور پذیر ہوجاتے ہیں اور انسانوں کے علاوہ دوسری مخلوق کا بھی یہی حال ہے۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو اپنی صورت خود نہیں بنا سکتا وہ کیا معبود ہوسکتا ہے۔ خالق ومالک نے اس کی جیسی صورت بنا دی وہ مجبور ہے کہ اسی صورت میں رہے۔ اسے یہ مرتبہ کہاں حاصل ہوسکتا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا ماننے والوں کی بھی واضح تردید ہوگئی۔ حضرت عیسیٰ نہ خود پیدا ہوئے نہ اپنی صورت بنا سکے ان کو خدا ماننا سرا سر گمراہی ہے آخر میں فرمایا (لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) اس میں پھر مضمون توحید کا اعادہ فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ اللہ عزیز اور حکیم ہے۔ اس کی قدرت سے کوئی باہر نہیں اور جو کچھ وجود میں ہے اب اس کی حکمت کے موافق ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز نہ زمین میں پوشیدہ ہے اور نہ آسمان میں وہی تو ہے جو تمہاری مائوں کے پیٹ میں تمہاری صورت جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے اس کے سوا اور کوئی حقیقی معبود اور مستحق عبادت نہیں وہ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ (تیسیر) توحید باری پر ایک اور دلیل بیان فرمائی جس سے اس کا کمال علم اور کمال قدرت معلوم ہوا علم کی یہ حالت ہے کہ زمین و آسمان کی کوئی حقیر سے حقیر چیز بھی اس سے مخفی اور چھپی ہوئی نہیں ۔ تصرفات کا یہ عالم کو ماں کے رحم میں بھی اس یک صفت خالقیت کی کار فرمائیاں جاری ہیں ۔ بچہ کو جیسی چاہتا ہے شکل و صورت عطا کرتا ہے ۔ پانی پر تصور کھینچتا ہے اور جیسی چاہتا ہے ویسی کھینچتا ہے چھ انچ لمبے اور چار انچ چکلے سانچے میں کروڑوں صورتیں بناتا ہے اور ایک کو دوسرے سے ممتاز رکھتا ہے اور ایک صورت دوسری صورت سے علیحدہ پہچانی جاتی ہے۔ جب وہ ایسا ہے تو فطرت انسانی اور ضروریات انسانی کا اس سے بڑھ کر کون واقف ہوسکتا ہے اور جب کوئی اور دوسرا ان صفات مذکورہ یعنی دائمی حیات ، کامل قیومیت ، کامل علم ، کامل قدرت اور بےپناہ طاقت سے متصف نہیں ہے تو اس پاک ذات کے علاوہ کوئی دوسرا عبادت کا مستحق اور معبود بننے کا اہل کیونکر ہوسکتا ہے ، نیز اس تصویر سازی سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ کی تصویر بھی ان کی ماں کے پیٹ میں اسی نے بنائی ہے ، پھر جو اپنی شکل و صورت کی ترتیب او وضع میں خدا تعالیٰ کا محتاج ہو وہ خدا کا ہمسر اور شریک کس طرح ہوسکتا ہے اور صرف شکل وص ورت ہی کیا بلکہ ہر قسم کی روحانی اور جسمانی تربیت اور ترقی میں جو مخلوق خدا کی محتاج ہو وہ کب اس لائق ہوسکتی ہے کہ اس مالک حقیقی کی عبادت میں شریک کیا یا اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا جائے ۔ یہاں تک تو عقیدہ ٔ تثلیث اور عقیدۂ شرک کا ابطلال اور توحیدالٰہی کا اثبات تھا ۔ اب آگے نجرانی وفد کے بعض اور شبہات کا جواب ہے۔ جیسا کہ بعض روایات میں آتا ہے کہ بعض اہل وفد نے دوران گفتگو میں یہ بھی کہا تھا کہ مسلمان بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کلمۃ اللہ اور روح اللہ کہتے ہیں اور ممکن ہے کہ یہ بھی کہا ہو کہ ہمارا یہ عقیدہ کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے یہ ہماری آسمانی کتاب یعنی انجیل سے مآخوذ ہے اور تم لوگ بھی ہماری کتاب کو منزل من اللہ کہتے ہو کیونکہ انجیل میں بعض آیتیں ایسی ہیں جس میں مخلوق کو خدا تعالیٰ نے اولاد کے الفاظ سے تعبیر کیا یا خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کبھی اپنی تقریر میں اللہ تعالیٰ کو اس کی ربوبیت کے اعتبار سے باپ فرمایا ہو ، حالانکہ یہ محض محبت و شفقت اور پیار کی وجہ سے کہا گیا تھا ، مگر عیسائیوں نے غلط تاویلات کر کے سچ مچ مسیح کو خدا کا بیٹا بنا لیا اور مسیح کو اور اس کی ماں کو خدا کی الوہیت کا حصہ دار بنا لیا ۔ چنانچہ اس کا جواب دیتے ہیں جو اب کا ماحصل یہ ہے کہ کتب سماویہ میں بعض محکمات ہوتے ہیں اور بعض مشتابہات جہاں تک عقائدو احکام کا تعلق ہے اس میں محکمات سے استدلال کیا جاتا ہے اور متشابہات پر تو اجمالا ً ایمان لانے کا حکم دیا جاتا ہے اور ان آیات متشابہات کی توجیہہ اور تاویل اور اس میں غور و خوض اور انہماک ممنوع ہوتا ہے کیونکہ آیات متشابہات عام طور سے مجمل اور مخفی المراد ہوتی ہیں ۔ اس لئے اگر کوئی ان پر ایمان لانے کی بجائے ان کی حقیقی معنی کی کھوج لگانے کے درپے ہوتا ہے تو وہ ایک فتنہ کا دروازہ کھولتا ہے۔ اس لئے کہ ان آیات متشابہات کے حقیقی معنی تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ۔ اس کھوج لگانے والے کو ان معنی کا صحیح پتہ تو ملے گا نہیں اور خود گمراہ ہوجائے گا ۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ ( تسہیل)