Some from among the people of the Book chose a strategy of deception in order to mislead Muslims. According to their agreed plan, they would declare their belief in the Qur&an in the morning and then reject it in the evening. They thought that this quick about-turn would create doubts in the minds of Muslims about Qur&an and Islam and they might turn away from their faith thinking that there must be something wrong with Islam visible to such learned people who were open-minded enough to accept it first. They also made it a point to re-serve their feinted declaration of belief in Islam to hoodwink Muslims only! Their true belief, they planned, would be affirmed before none but only those who follow their own creed. The rule was: Sincerity with the later, expediency with the former! That these tricks are low is proved later in Verse 73 when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been asked to declare that their clever moves are not going to work for them since Guidance given to servants of Allah is certainly from Allah. So, it is He who, with Guidance in His con¬trol, can make whoever He will steadfast on that Guidance. No one can succeed in weaning such a person away from it with any trick, plan or enticement whatsoever. The reason why they act in the way they do is envy, that is, they envy Muslims as to why they were given the Scripture, or they envy their supremacy in religious argument. It is because of this envy that they keep working to bring about the downfall of Islam and of the com¬munity that adheres to it. That this envy is based on not knowing the nature, timing and wis¬dom of Allah&s grace and mercy is explained in the later part of verse 73 and in verse 74.
خلاصہ تفسیر : اور بعضے لوگوں نے اہل کتاب میں سے (بطور مشورہ باہم) کہا کہ (مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک تدبیر ہے کہ ظاہرا) ایمان لے آؤ اس (کتاب) پر جو نازل کی گئی ہے (بواسطہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے) مسلمانوں پر ( مراد یہ کہ قرآن پر ایمان لے آؤ) شروع دن میں (یعنی صبح کے وقت) اور (پھر) انکار کر بیٹھو آخر دن (یعنی شام کو) عجب کیا (اس تدبیر سے مسلمانوں کو بھی قرآن اور اسلام کے حق میں شبہ پڑجائے اور) وہ (اپنے دین سے) پھر جاویں، (اور یہ خیال کریں کہ یہ لوگ علم والے ہیں اور بےتعصب بھی ہیں کہ اسلام قبول کرلیا، اس پر بھی جو پھرگئے تو ضرور اسلام کا غیر حق ہونا ان کو دلائل علمیہ سے ثابت ہوگیا ہوگا، اور ضرور انہوں نے اسلام میں کوئی خرابی دیکھی ہوگی جب ہی تو اس سے پھرگئے اور اہل کتاب نے یہ بھی باہم کہا کہ مسلمانوں کے دکھلانے کو صرف ظاہری ایمان لانا) اور (صدق دل سے) کسی کے روبرو (دین کا) اقرار مت کرنا، مگر ایسے شخص کے روبرو جو تمہارے دین کا پیرو ہو (اس کے روبرو تم کو اپنے قدیم دین کا اقرار خلوص سے کرنا چاہئے باقی غیر مذاہب والوں کے یعنی مسلمانوں کے روبرو ویسے ہی بہ مصلحت مذکورہ زبانی اسلام کا اقرار کرلینا حق تعالیٰ ان کی تدبیر کے لچر ہونے کا اظہار فرماتے ہیں کہ) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کہہ دیجیے کہ (ان چالاکیوں سے کچھ نہیں ہوتا، کیونکہ) یقینا ہدایت ( جو بندوں کو ہوتی ہے وہ) ہدایت اللہ کی ( طرف سے ہوتی) ہے (پس جب ہدایت قبضہ خداوندی میں ہے تو وہ جس کو ہدایت پر قائم رکھنا چاہیں اس کو کوئی دوسرا کسی تدبیر سے نہیں بچا سکتا ہے، آگے ان کے اس مشورہ و تدبیر کی علت بتلاتے ہیں کہ اے اہل کتاب تم) ایسی باتیں اس لئے کرتے ہو کہ کسی اور کو بھی ایسی چیز مل رہی ہے جیسی تم کو ملی تھی (یعنی کتاب اور دین آسمانی) یا وہ اور لوگ تم پر غالب آجویں (اس دین حق کی تعیین میں جو) تمہارے رب کے نزدیک (ہے، حاصل علت کا یہ ہوا کہ تم کو مسلمانوں پر حسد ہے کہ ان کو آسمانی کتاب کیوں مل گئی، یا یہ لوگ ہم پر مذہبی مناظرہ میں کیوں غالب آجاتے ہیں، اس حسد کی وجہ سے اسلام اور اہل اسلام کے تنزل کی کوشش کر رہے ہیں، آگے اس حسد کا رد ہے کہ) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کہہ دیجیے کہ بیشک فضل تو خدا کے قبضہ میں ہے وہ اس سے جسے چاہیں عطا فرمادیں اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں ( ان کے یہاں فضل کی کمی نہیں اور) خوب جاننے والے ہیں (کہ کس وقت کس کو دینا مناسب ہے اس لئے) خاص کردیتے ہیں اپنی رحمت (و فضل) کے ساتھ، جس کو چاہیں اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والے ہیں ( پس اس وقت برعایت حکمت مسلمانوں پر فضل و رحمت فرمادیا اس میں حسد کرنا فضول اور جہل ہے ) ۔