Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 72

سورة آل عمران

وَ قَالَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡہَ النَّہَارِ وَ اکۡفُرُوۡۤا اٰخِرَہٗ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۷۲﴾ۚۖ

And a faction of the People of the Scripture say [to each other], "Believe in that which was revealed to the believers at the beginning of the day and reject it at its end that perhaps they will abandon their religion,

اور اہلِ کتاب کی ایک جماعت نے کہا جو کچھ ایمان والوں پر اُتارا گیا ہے اس پر دن چڑھے تو ایمان لاؤ اور شام کے وقت کافر بن جاؤ ، تاکہ یہ لوگ بھی پلٹ جائیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَقَالَت طَّأيِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ امِنُواْ بِالَّذِيَ أُنزِلَ عَلَى الَّذِينَ امَنُواْ وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُواْ اخِرَهُ ... And a party of the People of the Scripture say: "Believe in the morning in that which is revealed to the believers, and reject it at the end of the day, This is a wicked plan from the People of the Book to deceive Muslims who are weak in the religion. They decided that they would pretend to be believers in the beginning of the day, by attending the dawn prayer with the Muslims. However, when the day ended, they would revert to their old religion so that the ignorant people would say, "They reverted to their old religion because they uncovered some shortcomings in the Islamic religion." This is why they said next. ... لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ so that they may turn back. Ibn Abi Najih said that Mujahid commented about this Ayah, which refers to the Jews, "They attended the dawn prayer with the Prophet and disbelieved in the end of the day in order to misguide the people. This way, people would think that they have uncovered shortcomings in the religion that they briefly followed."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

72۔ 1 یہ یہودیوں کے ایک اور مکر کا ذکر ہے۔ جس سے وہ مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے تھے کہ انہوں نے باہم طے کیا کہ صبح کو مسلمان ہوجائیں تاکہ مسلمانوں کے دلوں میں بھی اپنے اسلام کے بارے میں شک پیدا ہو کہ یہ لوگ قبول اسلام کے بعد دوبارہ اپنے دین میں چلے گئے ہیں تو ممکن ہے کہ اسلام میں ایسے عیوب اور خامیاں ہوں جو ان کے علم میں آئی ہوں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٣] اسی سلسلہ میں ایک سازش یہ تیار کی گئی کہ یہود کے چند افراد اعلانیہ طور پر مسلمان ہوجائیں۔ پھر چند دنوں بعد یا اسی دن اسلام سے مرتد ہوجائیں۔ اس سازش کا پس منظر یہ تھا کہ یہود عرب بھر میں علوم شرعیہ کے عالم مشہور تھے، حتیٰ کہ یہود اپنے سوا دوسرے سب لوگوں کو امی (ناخواندہ لوگ) کہہ کر پکارتے تھے۔ یہودیوں کے مسلمان ہونے کے بعد پھر سے مرتد ہونے سے عام لوگوں میں خود بخود تاثر پیدا ہوجائے گا کہ اہل علم نے جب اس دین اسلام کا قریب ہو کر مطالعہ کیا تو انہیں ضرور دال میں کچھ کالا نظر آیا ہے۔ ورنہ ایک عالم آدمی کیسے گمراہی کو ترجیح دے سکتا ہے۔ یہ سازش ابھی پک ہی رہی تھی کہ اللہ نے اپنے نبی کے ذریعہ مسلمانوں کو اس سے متنبہ کردیا اور ان کی یہ باطنی خباثت وہیں ختم ہو کر رہ گئی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقَالَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ۔۔ : کمزور ایمان والے مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے یہود مختلف سازشیں کرتے رہتے تھے، یہ بھی اس سلسلہ کی ان کی ایک سازش کا بیان ہے کہ صبح کے وقت قرآن اور پیغمبر پر ایمان کا اظہار کرو اور شام کو کفر و انحراف کا اعلان کر دو ، ممکن ہے یہ طریقہ اختیار کرنے سے بعض مسلمان بھی سوچنے لگیں کہ یہ پڑھے لکھے لوگ مسلمان ہونے کے بعد اس تحریک سے الگ ہوگئے ہیں تو آخر انھوں نے کوئی خرابی یا کمزور پہلو ضرور دیکھا ہوگا۔ (ابن کثیر، شوکانی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Some from among the people of the Book chose a strategy of deception in order to mislead Muslims. According to their agreed plan, they would declare their belief in the Qur&an in the morning and then reject it in the evening. They thought that this quick about-turn would create doubts in the minds of Muslims about Qur&an and Islam and they might turn away from their faith thinking that there must be something wrong with Islam visible to such learned people who were open-minded enough to accept it first. They also made it a point to re-serve their feinted declaration of belief in Islam to hoodwink Muslims only! Their true belief, they planned, would be affirmed before none but only those who follow their own creed. The rule was: Sincerity with the later, expediency with the former! That these tricks are low is proved later in Verse 73 when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been asked to declare that their clever moves are not going to work for them since Guidance given to servants of Allah is certainly from Allah. So, it is He who, with Guidance in His con¬trol, can make whoever He will steadfast on that Guidance. No one can succeed in weaning such a person away from it with any trick, plan or enticement whatsoever. The reason why they act in the way they do is envy, that is, they envy Muslims as to why they were given the Scripture, or they envy their supremacy in religious argument. It is because of this envy that they keep working to bring about the downfall of Islam and of the com¬munity that adheres to it. That this envy is based on not knowing the nature, timing and wis¬dom of Allah&s grace and mercy is explained in the later part of verse 73 and in verse 74.

خلاصہ تفسیر : اور بعضے لوگوں نے اہل کتاب میں سے (بطور مشورہ باہم) کہا کہ (مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک تدبیر ہے کہ ظاہرا) ایمان لے آؤ اس (کتاب) پر جو نازل کی گئی ہے (بواسطہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے) مسلمانوں پر ( مراد یہ کہ قرآن پر ایمان لے آؤ) شروع دن میں (یعنی صبح کے وقت) اور (پھر) انکار کر بیٹھو آخر دن (یعنی شام کو) عجب کیا (اس تدبیر سے مسلمانوں کو بھی قرآن اور اسلام کے حق میں شبہ پڑجائے اور) وہ (اپنے دین سے) پھر جاویں، (اور یہ خیال کریں کہ یہ لوگ علم والے ہیں اور بےتعصب بھی ہیں کہ اسلام قبول کرلیا، اس پر بھی جو پھرگئے تو ضرور اسلام کا غیر حق ہونا ان کو دلائل علمیہ سے ثابت ہوگیا ہوگا، اور ضرور انہوں نے اسلام میں کوئی خرابی دیکھی ہوگی جب ہی تو اس سے پھرگئے اور اہل کتاب نے یہ بھی باہم کہا کہ مسلمانوں کے دکھلانے کو صرف ظاہری ایمان لانا) اور (صدق دل سے) کسی کے روبرو (دین کا) اقرار مت کرنا، مگر ایسے شخص کے روبرو جو تمہارے دین کا پیرو ہو (اس کے روبرو تم کو اپنے قدیم دین کا اقرار خلوص سے کرنا چاہئے باقی غیر مذاہب والوں کے یعنی مسلمانوں کے روبرو ویسے ہی بہ مصلحت مذکورہ زبانی اسلام کا اقرار کرلینا حق تعالیٰ ان کی تدبیر کے لچر ہونے کا اظہار فرماتے ہیں کہ) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کہہ دیجیے کہ (ان چالاکیوں سے کچھ نہیں ہوتا، کیونکہ) یقینا ہدایت ( جو بندوں کو ہوتی ہے وہ) ہدایت اللہ کی ( طرف سے ہوتی) ہے (پس جب ہدایت قبضہ خداوندی میں ہے تو وہ جس کو ہدایت پر قائم رکھنا چاہیں اس کو کوئی دوسرا کسی تدبیر سے نہیں بچا سکتا ہے، آگے ان کے اس مشورہ و تدبیر کی علت بتلاتے ہیں کہ اے اہل کتاب تم) ایسی باتیں اس لئے کرتے ہو کہ کسی اور کو بھی ایسی چیز مل رہی ہے جیسی تم کو ملی تھی (یعنی کتاب اور دین آسمانی) یا وہ اور لوگ تم پر غالب آجویں (اس دین حق کی تعیین میں جو) تمہارے رب کے نزدیک (ہے، حاصل علت کا یہ ہوا کہ تم کو مسلمانوں پر حسد ہے کہ ان کو آسمانی کتاب کیوں مل گئی، یا یہ لوگ ہم پر مذہبی مناظرہ میں کیوں غالب آجاتے ہیں، اس حسد کی وجہ سے اسلام اور اہل اسلام کے تنزل کی کوشش کر رہے ہیں، آگے اس حسد کا رد ہے کہ) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کہہ دیجیے کہ بیشک فضل تو خدا کے قبضہ میں ہے وہ اس سے جسے چاہیں عطا فرمادیں اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں ( ان کے یہاں فضل کی کمی نہیں اور) خوب جاننے والے ہیں (کہ کس وقت کس کو دینا مناسب ہے اس لئے) خاص کردیتے ہیں اپنی رحمت (و فضل) کے ساتھ، جس کو چاہیں اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والے ہیں ( پس اس وقت برعایت حکمت مسلمانوں پر فضل و رحمت فرمادیا اس میں حسد کرنا فضول اور جہل ہے ) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالَتْ طَّاۗىِٕفَۃٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِيْٓ اُنْزِلَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَجْہَ النَّہَارِ وَاكْفُرُوْٓا اٰخِرَہٗ لَعَلَّھُمْ يَرْجِعُوْنَ۝ ٧٢ ۚ ۖ طَّائِفَةُ وَالطَّائِفَةُ من الناس : جماعة منهم، ومن الشیء : القطعة منه، وقوله تعالی: فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ [ التوبة/ 122] ، قال بعضهم : قد يقع ذلک علی واحد فصاعدا وعلی ذلک قوله : وَإِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ الحجرات/ 9] ، إِذْ هَمَّتْ طائِفَتانِ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 122] ، والطَّائِفَةُ إذا أريد بها الجمع فجمع طَائِفٍ ، وإذا أريد بها الواحد فيصحّ أن يكون جمعا، ويكنى به عن الواحد، ويصحّ أن يجعل کراوية وعلامة ونحو ذلك . الطائفۃ (1) لوگوں کی ایک جماعت (2) کسی چیز کا ایک ٹکڑہ ۔ اور آیت کریمہ : فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ [ التوبة/ 122] تویوں کیوں نہیں کیا کہ ہر ایک جماعت میں چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین کا علم سیکھتے ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ کبھی طائفۃ کا لفظ ایک فرد پر بھی بولا جاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَإِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ الحجرات/ 9] ، اور اگر مومنوں میں سے کوئی دوفریق ۔۔۔ اور آیت کریمہ :إِذْ هَمَّتْ طائِفَتانِ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 122] اس وقت تم میں سے دو جماعتوں نے چھوڑ دینا چاہا ۔ طائفۃ سے ایک فرد بھی مراد ہوسکتا ہے مگر جب طائفۃ سے جماعت مراد لی جائے تو یہ طائف کی جمع ہوگا ۔ اور جب اس سے واحد مراد ہو تو اس صورت میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جمع بول کر مفر د سے کنایہ کیا ہو اور یہ بھی کہ راویۃ وعلامۃ کی طرح مفرد ہو اور اس میں تا برائے مبالغہ ہو ) نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا وجه أصل الوجه الجارحة . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] ( و ج ہ ) الوجہ کے اصل معیج چہرہ کے ہیں ۔ جمع وجوہ جیسے فرمایا : ۔ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] تو اپنے منہ اور ہاتھ دھو لیا کرو ۔ نهار والنهارُ : الوقت الذي ينتشر فيه الضّوء، وهو في الشرع : ما بين طلوع الفجر إلى وقت غروب الشمس، وفي الأصل ما بين طلوع الشمس إلى غروبها . قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] ( ن ھ ر ) النھر النھار ( ن ) شرعا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب کے وقت گو نھار کہاجاتا ہے ۔ لیکن لغوی لحاظ سے اس کی حد طلوع شمس سے لیکر غروب آفتاب تک ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بیانا ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔ رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٢ (وَقَالَتْ طَّآءِفَۃٌ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اٰمِنُوْا بالَّذِیْ اُنْزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْہَ النَّہَارِ وَاکْفُرُوْآ اٰخِرَہٗ ) (لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ ) یہاں یہود کی ایک بہت بڑی سازش کا ذکرہو رہا ہے جو ان کے ایک گروہ نے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کو ناکام بنانے کے لیے مسلمانوں کے خلاف تیار کی تھی۔ اس سازش کا پس منظر یہ تھا کہ دنیا کے سامنے یہ بات آچکی تھی کہ جو کوئی ایک مرتبہ دائرۂ اسلام میں داخل ہوجاتا تھا وہ واپس نہیں آتا تھا ‘ چاہے اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جائے ‘ بھوکا پیاسا رکھا جائے ‘ حتیٰ کہ جان سے مار دیا جائے۔ اس طرح اسلام کی ایک دھاک بیٹھ گئی تھی کہ اس کے اندر کوئی ایسی کشش ‘ ایسی حقانیت اور ایسی مٹھاس ہے کہ آدمی ایک مرتبہ اسلام قبول کرلینے کے بعد بڑی سے بڑی قربانی دینے کو تیار ہوجاتا ہے ‘ لیکن اسلام سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں ہوتا۔ اسلام کی یہ جو ساکھ بن گئی تھی اس کو توڑنے کا طریقہ انہوں نے یہ سوچا کہ ایسا کرو صبح کے وقت اعلان کرو کہ ہم ایمان لے آئے۔ سارا دن محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت میں رہو اور شام کو کہہ دو ہم نے دیکھ لیا ‘ یہاں کچھ نہیں ہے ‘ یہ دور کے ڈھول سہانے ہیں ‘ ہم تو اپنے کفر میں واپس جا رہے ہیں ‘ ہمیں یہاں سے کچھ نہیں ملا۔ اس سے مسلمانوں میں سے کچھ لوگ تو سمجھیں گے کہ انہوں نے سازش کی ہوگی ‘ لیکن یقیناً کچھ لوگ یہ بھی سمجھیں گے کہ بھئی بڑے متقی لوگ تھے ‘ متلاشیانِ حق تھے ‘ بڑے جذبے اور بڑی شان کے ساتھ انہوں نے کلمہ پڑھا تھا اور ایمان قبول کیا تھا ‘ پھر سارا دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محفل میں بیٹھے رہے ہیں ‘ آخر انہوں نے کچھ نہ کچھ تو دیکھا ہی ہوگا جو واپس پلٹ گئے۔ اس انداز سے عام لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرنا بہت آسان کام ہے۔ چناچہ انہوں نے منافقانہ شرارت کی یہ سازش تیار کی۔ اسلام میں قتل مرتد کی سزا کا تعلق اسی سے جڑتا ہے۔ اسلامی ریاست میں اس طرح کی سازشوں کا راستہ روکنے کے لیے یہ سزا تجویز کی گئی ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد پھر کفر میں جائے گا تو قتل کردیا جائے گا ‘ کیونکہ اسلامی ریاست ایک نظریاتی (ideological) ریاست ہے ‘ ایمان اور اسلام ہی تو اس کی بنیادیں ہیں۔ چناچہ اس کی بنیادوں کو کمزور کرنے اور اس کی جڑوں کو کھودنے والی جو چیز بھی ہوسکتی ہے اس کا سدباب پوری قوت سے کرنا چاہیے۔ ّ َ

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

61. This was one of the devices adopted by the leaders and rabbis of the Jews who lived on the outskirts of Madina in order to damage the mission of Islam. To demoralize the Muslims and create misgivings about the Prophet (peace be on him) , they sent their agents to embrace Islam publicly, then to renounce it, and subsequently to go about telling people they had done so because of the faults they had found in Islam, the Muslims and their Prophet.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :61 یہ ان چالوں میں سے ایک چال تھی جو اطراف مدینہ کے رہنے والے یہودیوں کے لیڈر اور مذہبی پیشوا اسلام کی دعوت کو کمزور کرنے کے لیے چلتے رہتے تھے ۔ انہوں نے مسلمانوں کو بد دل کرنے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عامہ خلائق کو بدگمان کر نے کے لیے خفیہ طور پر آدمیوں کو تیار کر کے بھیجنا شروع کیا تا کہ پہلے علانیہ اسلام قبول کریں ، پھر مرتد ہو جائیں ، پھر جگہ جگہ لوگوں میں یہ مشہور کرتے پھریں کہ ہم نے اسلام میں اور مسلمانوں میں اور ان کے پیغمبر میں یہ اور یہ خرابیاں دیکھی ہیں تب ہی تو ہم ان سے الگ ہو گئے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

28: بعض یہودیوں نے مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لئے یہ اسکیم بنائی تھی کہ ان میں سے کچھ لوگ صبح کے وقت اسلام لانے کا اعلان کردیں اور پھر شام کو یہ کہہ کر اسلام سے پھر جائیں کہ ہم نے آنحضرتﷺ کو قریب سے جاکر دیکھ لیا، آپ وہ پیغمبر نہیں ہیں جن کی خبر تورات میں دی گئی تھی، ان کا خیال تھا کہ اس طرح کچھ مسلمان یہ سوچ کر اسلام سے برگشتہ ہوسکتے ہیں کہ یہ لوگ جو تورات کے عالم ہیں جب اسلام میں داخل ہونے کے بعد بھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں توان کی بات میں ضرور وزن ہوگا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

جب دن بدن دین محمدی میں لوگ بڑھنے لگے تو یہود کو یہ امر شاق گذرا اس لئے عداوت سے خیبر کے بارہ ١٢ شخص یہود نے یہ صلاح کی کہ تازم دم نئے مسلمانوں کو دھوکے میں ڈالنے کے لئے ایک دن صبح کو فریب کے طور پر مسلمان ہوگئے۔ اور صبح کی نماز بھی مسلمانوں کے ساتھ پڑہی اور تیسرے پہر کو یہ مرتد ہوگئے تاکہ نئے مسلمان اپنے دل میں خیال کریں کہ اس دین محمدی میں کچھ نقصان ضرور ہوتا تھا جو اہل کتاب لوگ اس دین میں داخل ہوے پھر منحرف ہوگئے اللہ تعالیٰ نے ان یہود کا ادنیٰ فریب ظاہر کرنے اور نئے مسلمانوں کا وسوسہ دور کرنے کی غرض سے یہ آیت نازل فرمائی ١۔ اور فرمادیا کہ ایسے فریبیوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے اور نبوت اللہ کا ایک فضل ہے وہ اپنے اس فضل کو جب تک جس خاندان میں چاہیے رکھے ان لوگوں کا یہ عہد کہ نبوت بنی اسماعیل میں کیوں ہوئی۔ ان ہی کے نقصان کا موجب ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:72) وجہ النھار۔ دن کا شروع حصہ۔ جیسے وجہ الدھر۔ زمانہ کا شروع۔ اللہ کی رضا۔ جیسے فعل ذلک لوجہ اللہ۔ اللہ کی خوشنودی کے لئے یہ کام کیا۔ چہرہ۔ ذات جیسے یبقی وجہ ربک (55:27)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 اہل کتاب کی مذہبی شقاوتوں کی طرف اشارہ ہے اوپر کی آیت میں علمائے یہود کی یہ شقاوت بیان کی گئی ہے کہ وہ آنحضر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت کے دلائل جان لینے کے باوجود کفر کر رہے ہیں۔ اب یہاں بتایا جا رہا ہے کہ حق کو باطل کے ساتھ ملانا اور حق کو چھپانا ان کا عام شیوہ بن چکا ہے۔ پہلی آیت میں ان کی گمراہی کا بیان تھا اور اس آیت میں دسروں کو گمراہ کرنے کا ذکر ہے۔ ، دیکھئے سورت بقرہ آیت 42، (کبیر، ترجمان) یہ مقام عبرت ہے کہ ہمارے دور کے تجدد زدہ حضرات بھی دینوی اور مادی اغراض و مصالح کے پیش نظر قرآن مجید کے ساتھ وہی سلوک کر رہے ہیں جو ان کے پیش رو یہود و نصاری ٰ تو رات وانجیل کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بالکل صحیح فرمایا ہے لتتعن سنن من کان قبلکم۔ کہ تم لاز ما پہلی امتوں کے نقش قدم چلے گے۔ (م۔ ع)6 کمزور دل مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے متعلق شکوک وشہبات پیدا کرنے کے لیے یہود مختلف سازشیں کرتے رہتے تھے یہ بھی اسی سلسلہ کی ان کی ایک سازش کا بیان ہے کہ صبح کے وقت قرآان اور پیغمبر پر ایمان کا اظہار کرو اور شام کو کفر و انحراف کا اعلان کردو۔ ممکن ہے اس طریقہ کے اختیار کرنے سے بعض مسلمان بھی سوچنے لگیں کہ آخر یہ پڑھے لکھے مسلمان ہونے کے بعد اس تحریک سے الگ ہوگئے ہیں تو آخر انہوں نے کوئی خرابی یا کمزور پہلو ضرور دیکھا ہوگا َ ؟۔ ( ابن کثیر، شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 72 80 اسرارومعارف وقال طائفۃ من اھل الکتاب………… واللہ ذوالفضل العظیم۔ یہودکی سازش خلافت راشدہ سے لے کر کربلا تک : چنانچہ یہود نے مسلمانوں کو راہ حق سے بہکانے کی ایک تجویز سوچی اور وہ یہ کہ اسلام قبول کرلو ، مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوجائو اور پھر کوئی نہ کوئی اعتراض کرکے مسلمان ہونے سے انکار کردو اس طرح ممکن ہے مسلمانوں کے ذہنوں میں بھی شک پیدا ہوجائے اور وہ اسلام سے کفر کی طرف لوٹ جائیں۔ یہودکی یہی کوشش بالآخر عبداللہ ابن سبا کی صورت میں تاریخ عالم پہ ابھری اور شہادت عثمان غنی (رض) سے لے کر ہزاروں مسلمانوں کو خاک وخون میں ملا گئی آخر حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی اسی کا شکار بنے اور سانحہ کربلا تک جا پہنچی۔ ابن سبا کے پیروکاروں نے حضرت حسین (رض) کو یہ یقین دلا کر بلایا کہ کوفہ جو ایک بہت بڑا مرکز ہے اور جس کی شمشیرزن آبادی لاکھوں پر مشتمل ہے آپ کے لئے چشم براہ ہے بلکہ یہاں تک لکھا کہ اگر آپ تشریف نہ لائے ، تو میدان حشر میں ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آپ کا دامن پکڑ کر عرض کریں گے کہ اس شخص نے ہم پر ایک بدکار حاکم مسلط کردیا تھا۔ اگر یہ آجاتا تو سارے عالم کی بات ہی دوسری ہوتی۔ ورنہ کیا یہ سوچا جاسکتا ہے کہ حضرت مستورات اور بچوں کو لے کر دمشق فتح کرنے نکلے تھے یا حضرت حسین (رض) ایسے ہی گئے گزرے تھے کہ حرمین شریفین سے اور حج کے موسم میں جب اکثر مسلمان وہاں جمع تھے ، کسی نے ان کا ساتھ نہ دیا۔ ہرگز نہیں ! بلکہ انہوں نے کسی کو دعوت ہی نہ دی ، نہ اس کی ضرورت سمجھی۔ ہاں ! یہ ضرور ملتا ہے کہ آپ کو اکثر سرکردہ حضرات (رض) نے اہل کوفہ پر اعتبار کرنے سے منع کیا تھا مگر آپ نے اعتبار کر ہی لیا۔ جب کوفہ سے تین منزل دور رہ گئے تو وہی اہل کوفہ آپ کے مقابل آئے اور یزید کی بیعت کا تقاضا کیا۔ آپ (رض) نے فرمایا ، ” عجیب لوگ ہو ! تمہیں حکومت پہ اعتراض تھا میں اس لئے آیا تھا کہ یا حکومت تمہارا جائز اعتراض رفع کرے ورنہ میں تمہاری قیادت کروں گا۔ اب اگر تمہیں کوئی اعتراض نہیں تو میں واپس چلا جاتا ہوں اور اگر تمہیں یہ تسلیم نہیں ، تو پھر دمشق چلو ! میں خود یزید سے معاملہ کرلوں گا “۔ چنانچہ آخری بات پر عمل ہوا ، اور مکہ سے کوفہ آنے والا راستہ چھوڑ کر کوفہ سے ایک طرف سے گزرتے ہوئے کربلا پہنچے ، جو کوفہ سے دمشق والے راستے پر تیسری منزل پر ہے۔ وہاں پہنچ کر اہل کوفہ یعنی ابن سبا کے پیروکار یہ سمجھے کہ اس میں بھی ہماری تباہی ہے چناچہ ظلماً خاندان رسالت کو بےدردی سے شہید کردیا اور پھر اس پر پہلی کتاب لوط بن یحییٰ ابی مخنف (متوفی 190 ھ) نے مقتل حسین لکھی یعنی محرم 61 ھ کا واقعہ ایک صدی بعد لکھا گیا اور بعد کے مورخین نے اسی سے سارا مواد لیا جو بذات خود جھوٹ کا پلندہ تھا۔ اور پھر یہود کا کمال دیکھئے کہ اس پر بھی مزید تین صدیاں گزرنے کے بعد مسلک جعفری کے نام سے ایک متوازی اسلام پیش کردیا جو کلمہ سے لے کر نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ۔ نکاح ، طلاق ، بیع ، شرا حتیٰ کہ جنازہ اور دفن میت تک علیحدہ بلکہ اسلام کے مخالف اور اپنے احکام کا حامل ہے اور اس طرح سے ایک جم غفیر کو دوزخ میں جھونک کر اپنا خبث باطن ظاہر کیا اور دل کی آگ سرد کی۔ حیرت ہے ان لوگوں پر جنہوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ واقعہ کربلا ایک مقابل مذہب بنانے کا جو ازکی سے مہیا کرتا ہے اور قرآن کا انکار اور کلمہ اسلام کا انکار ، عقائد و عبادات سے روگردانی ، کیا یہ سانحہ کربلا کا حاصل ہیں ؟ اللہ صحیح سمجھ اور سوچ عطا فرمائے ! آمین۔ پھر یہود نے طے کیا کہ صرف اس آدمی کو دل سے قبول کرو جو تمہارے مذہب کو قبول کرے ورنہ مسلمانوں کو دھوکہ میں رکھو ، ارشاد ہوا کہ ان سے فرمادیجئے کہ ہدایت وہی ہے جو اللہ کی جانب سے ہو۔ یعنی خادمان رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں اور تم پھونکوں سے یہ چراغ بجھا نہیں سکتے۔ تم اس بات پہ جلتے ہو کہ کسی اور کو اللہ کی طرف سے کتاب اور عظمت کیوں عطا ہوئی ؟ جبکہ تم اپنی کتاب کی صورت بھی قائم نہیں رکھ سکے تو یہ لوگ تو رب العلمین کے روبرو تم پہ حجت قائم کردیں گے یا دنیا میں تمہاری بداعمالیوں کو طشت ازبام کرکے تمہاری سیادت کو فنا کردیں گے۔ تو ان سے فرما دیجئے کہ فضیلت اللہ کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے سرفراز کردے۔ اسی نے سرور دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سربلند فرمایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جاں نثاروں کو جہانوں پر فضیلت عطا کی۔ وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے چن لیتا ہے وہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ یہاں دلیل ہے کہ ولایت کسی کی وراثت نہیں۔ اللہ جسے اپنی رحمت سے چن لے اس کی مرضی ، جس قدر چاہے بلندی منازل یا اعلیٰ مناصب عطا کردے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کو یہ عظمت کیوں ملی ؟ کہ اللہ کی اپنی عطاء ہے اور وہ اپنی پسند سے نوازتا ہے۔ وھن اھل الکتاب…………ولھم عذاب الیم۔ اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس ڈھیروں مال امانت رکھ دو تو وہ پورا پورا لوٹادیں گے اور ایسے بدکار بھی ہیں کہ اگر ایک دینار بھی رکھ دو تو واپس ملنا محال ہے یعنی بعض لوگ عملی زندگی میں کھڑے اور صاف بھی ہیں گویا اچھائی کی تعریف کی جائے گی خواہ وہ کافر میں ہی پائی جائے۔ یہ اور بات ہے کہ کافر کو آخرت میں اس کا اجر نہیں ملے گا کہ اجر آخرت کا مدار عقیدہ پر ہے۔ اگر آخرت کو مانتا ہی نہیں یا ایسا نہیں مانتا جیسے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماننے کا حکم دیا ہے تو پھر اجر آخرت سے تو محروم رہا۔ لیکن یہ بھی کیا کم ہے کہ برائی سے بچ کر عذاب آخرت کی زیادتی سے تو بچ گیا۔ اور دنیا میں جو اجر ملتا ہے اس کے لئے ایمان شرط نہیں۔ مثلاً دیانتداری سے تجارت کرے تو فارغ البالی نصیب ہوگی۔ دوسروں کی آبرو سے نہ کھیلے تو اللہ اس کی آبرو کی حفاظت فرمائے گا۔ یہ دونوں امور اس وقت یورپ میں دیکھے جاسکتے ہیں لین دین مثالی ہے تو دولت کے ڈھیر ہیں۔ آبرو کے معاملہ میں آزاد ہیں تو پھر کسی کی بھی آبرو محفوظ نہیں۔ اور یہ خیانت اس خیال باطل کی وجہ سے کرتے ہیں کہ غیر اہل کتاب کے بارے میں ہم سے کوئی پوچھ نہ ہوگی کس قدر ظالم ہیں کہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں اور اتنی دیدہ دلیری کا مظاہرہ کہ خود جانتے ہیں یہ اللہ کا حکم ہرگز نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا دین تنگ نظری کا نام نہیں ، کہ کسی کے ہنر کی داد بھی نہ دو ، اور جو مسلمان نہ ہو اسے دنیا میں رہنے کا حق ہی نہ دو یا اس کا مال چھین لو ، ہرگز نہیں ! بلکہ اللہ کا دین تو یہ ہے کہ جس کسی نے اپنا وعدہ پورا کیا ، اللہ کی توحید ، اس کے انبیاء کو ماننا اور اپنی زندگی کو اللہ کے حکم کے مطابق بسر کیا۔ کفرو خیانت سے بچتا رہا تو یقینا اللہ ایسے متقی اشخاص کو پسند فرماتا ہے۔ ولایت وراثت نہیں : اللہ کریم صحیح العقیدہ ، فرائض کو ادا کرنے والے اور منہیات سے بچنے والوں کو پسند فرماتا ہے یعنی کسی بھی بدعقیدہ یا بدعتی اور بےعمل کو ولایت خاصہ نصیب نہیں ہوسکتی وہ اللہ کا محبوب نہیں بن سکتا۔ عقیدہ درست ہو اور عمل کے لئے پوری طرح کوشاں۔ پھر اللہ قبول فرمالے اور اپنی رحمت سے نوازے تو بات بنتی ہے ایسے لوگ جو چند ٹکوں کے عوض ایمان ہی نہیں بیچتے بلکہ جھوٹ اور فریب پر قسمیں کھانے کو بھی تیار رہتے ہیں بلکہ قسمیں کھاتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ، جس طرح کہ یہود نے عقائد کو مسخ کیا اور پھر قسمیں کھا کھا کر اپنے متبعین کو یقین دلاتے تھے کہ یہ حق ہے ، غرض یہ حصول اقتدار اور ہوس زر تھی یا آج اگر کوئی صاحب حال نہیں ہے مگر لوگوں کو اس غلط فہمی میں مبتلاء کرکے ان کا پیشوا بنا ہوا ہے اور ان کے مال لوٹ رہا ہے یہ اسی زمرے میں آتا ہے۔ اگر کوئی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے یا ولایت کا۔ تو دعوے میں فرق ہوگا جھوٹ بولنے میں تو کوئی فرق نہیں۔ سو ایسے لوگ نہ صرف مال لوٹتے ہیں بلکہ اصل زد ایمان پر پڑتی ہے جو ایسوں کی صحبت میں برباد ہوجاتے ہیں جس کسی نے یہ جرم کیا ، آخرت سے محروم ہوا ، اللہ اس سے ہرگز کلام نہ فرمائے گا۔ نہ اس کی طرف نگاہ فرمائے گا اور نہ روز حشر اسے پاک کرے گا بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ الہام یا القاء تزکیہ باطن پر شاہد ہے : مکالمہ باری تعالیٰ بڑا انعام ہے ، جو نزول رحمت اور تزکیہ کا سبب ہے ایسے حضرات جو اخص انحواص ہوتے ہیں اور الہام کی دولت سے یا القاء کی نعمت سے نوازے جاتے ہیں یہ ان کے تزکیہ باطن پر دلیل ہے نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ بدکار شخص اگر الہام والقاء کا دعویٰ کرے تو جھوٹ کہتا ہے کہ یہ دینداروں اور صالحین کا حصہ ہے۔ وان منھم لفریقا یلوئون……………بعد اذانتم مسلمون۔ اہل کتاب میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو زبان کو مروڑ کر کتاب کو پڑھتے ہیں یعنی اصل لفظ اور ہوتا ہے یہ پڑھنے میں اسے اور بنادیتے ہیں تاکہ سننے والا یہ سمجھے کہ یہ اللہ کی کتاب میں ایسا ہی لکھا ہے حالانکہ ایسا ہوتا نہیں۔ کتب سابقہ میں الفاظ کیا آیات تک بلکہ مضمون تک بدل دیئے گئے اور جو اپنی طرف سے درج کیا گیا اسی کو اللہ کا فرمان منوانے کے لئے اصرار کیا گیا۔ مگر قرآن حکیم کے الفاظ بدلنا انسانی بس کی بات نہیں۔ اللہ نے خود اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ یہاں ایسے بےدینوں نے یہ راہ نکالی کہ الفاظ تو رہنے دیئے اور مفہوم ومعانی کو بدل گیا اور لگے لغات کے دائو پیچ لڑانے۔ حالانکہ معانی ومفہوم صرف وہ قابل قبول ہے جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تعلیم فرمایا اور صحابہ رضوان اللہ علیہم نے سمجھا اور پھر اس پر عمل کیا۔ جو لوگ یہ ظلم کرتے ہیں کہ اپنے داخل کردہ مضامین کو اللہ کی طرف سے بتاتے ہیں وہ جان بوجھ کر اللہ کی ذات پر جھوٹ بولتے ہیں کہ اللہ کی بات انسانوں تک پہنچانے کا واحد ذریعہ اللہ کے نبی اور رسول ہیں براہ راست بغیر نبی کی وساطت کے تو کوئی انسان دین یا شریعت حاصل نہیں کرسکتا۔ یاد رہے کہ اولیاء اللہ کو الہام یا القا ہوتا ہے تو انہیں شرعی امور کی وضاحت یا ان پر قائم رکھنے کا سبب بنتا ہے کسی کا الہام خلاف شریعت قابل قبول نہیں کہ اصل ارشادات رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ جب نوع انسانی کے پاس اللہ کے کلام کو حاصل کرنے کا واحد ذریعہ یہی ہے تو کیا کسی انسان کو یہ زیب دیتا ہے یا ایسا ممکن ہے کہ اللہ اسے نبوت و رسالت سے سرفراز فرمائے اسے کتاب و حکمت عطا فرمائے اور پھر وہ لوگوں کو اللہ کی عبادت چھوڑ کر اپنی پرستش پہ لگالے۔ یعنی ایسے احکام دے جو اللہ کی طرف سے نہ ہوں ۔ گویا اللہ کا انتخاب (معاذ اللہ) غلط تھا۔ اور اتنا اہم کام ایسے آدمی کو دیا جو ہرگز اس کا اہل نہ تھا۔ حالانکہ اہلیت بھی اللہ ہی کی دین ہے تو پھر یہ ممکن ہی نہیں اور ظاہر ہوا کہ ان کی خرافات نہ اللہ کا حکم ہے اور نہ کسی نبی کی تعلیم۔ بلکہ انبیاء کی تعلیم یہ ہوتی ہے کہ اے لوگو ! اللہ والے ہوجائو ، یعنی مکمل اطاعت شعار بن جائو جیسے کہ تم خود اللہ کی کتاب کو پڑھتے پڑھاتے ، یہی بات ان میں دیکھتے ہو۔ کوئی نبی یہ نہیں کہتا کہ فرشتوں کو یا اللہ کے نبیوں کو اپنا رب یعنی اپنی ضروریات کا کفیل بنالو۔ کیا نبی لوگوں کو اسلام لانے کے بعد کافر ہوجانے کا حکم دے سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں ! اور یہ تو کفر ہے۔ یعنی اللہ کے سوا کسی کو رب جاننا۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 72 تا 74 وجھ النھار (صبح کا وقت) تبع (جس نے اتباع کی) ان یوتیٰ (یہ کہ دیا جائے) اوتیتم (تمہیں دیا گیا) یحاجوا (وہ جھگڑیں گے) الفضل (رحم وکرم) یختص (وہ خاص کرتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 72 تا 74 ان آیتوں میں اور اس سے بعد کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں اور عیسائیوں کے مکروفریب، بددیانتی اور شرارتوں سے مومنوں کو ہوشیار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ان میں بعضوں نے یہ شرارت کرنے کا ارادہ کیا ہے کہ کچھ لوگ صبح کو قرآن کریم پر ایمان لے آئیں دن مسلمانوں کے ساتھ رہیں پھر شام کو اسلام کو چھوڑ کر پھر اپنے لوگوں میں آملیں۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ جب شام کو ایک کثیر جماعت یہ کہتے ہوئے واپس آئے گی کہ ہم نے تو اسلام کی بڑی تعریف سنی تھی۔ ہم نے اس سے متاثر ہوکر قبول کرلیا تھا مگر جب قریب گئے تو معلوم ہوا کہ اسلام کا تو دور دور تک پتہ نہیں ہے۔ اس سے دوفائدے ہوں گے کہ اسلام اور مسلمانوں کی رسوائی ہوگی اور جو لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں وہ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ وہ سوچیں گے کہ آخر لوگوں کی اتنی بڑی تعداد ایک بات کو برا کہہ رہی ہے یقیناً کوئی نہ کوئی تو خرابی ہوگی جس سے اتنی بڑی جماعت اسلام کو چھوڑ کر جارہی ہے۔ ان یہود ونصاری کے رھبان اور پادری اپنے لوگوں کو یہ سمجھا کر بھیجتے تھے کہ دیکھو تم کسی کی باتوں میں مت آجانا کیونکہ جو دین و مذہب تمہیں دیا گیا ہے اس جیسا تو کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔ اگر تم ان کی باتوں میں آگئے تو کل قیامت کے دن وہ تم سے جھگڑیں گے اور دلیل کے طور پر ان باتوں کو پیش کریں گے۔ اس طرح کی باتیں سکھا کر لوگوں کو بھیجتے تھے مگر یہ تدبیر بھی ان کے لئے الٹی ہی پڑگئی جو لوگ شرارت کے خیال سے گئے تھے جب وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب پہنچے تو آپ کے اخلاق حسنہ اور صحابہ کرام کی جاں نثاری اور اللہ کی عبادت و بندگی کا اچھوتا انداز دیکھتے ہی دل سے اسلام کے قائل ہوجاتے اور پھر واپس نہ جاتے ۔ اس طرح ان کی تدبیریں خود ان ہی خلاف پلٹ گئیں ۔ لیکن پھر بھی مومنوں کو یہودیوں اور نصرانیوں کی شرارتوں سے آگاہ کیا جارہا ہے کہ وہ ان سازشوں اور شرارتوں سے باخبر رہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی مسلمان یہ خیال کریں کہ یہ لوگ علم والے ہیں اور بےتعصب بھی ہیں کہ اسلام قبول کرلیا، اس پر بھی جو یہ پھرگئے، تو ضرور اسلام کا غیر حق ہونا ان کو دلائل علمیہ سے ثابت ہوگیا ہوگا، اور ضرور انہوں نے اسلام میں کوئی خرابی دیکھی ہوگی جب تو اس سے پھرگئے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

کس قدر مکارانہ طریق کار ہے یہ ؟ جیسا کہ ہم نے کہا یہ لوگ ایسے اوچھے ہتھیار بھی استعمال کرتے تھے ۔ اس لئے کہ اسلام لانا اور پھر اسلام سے پھرجانا ‘ اس لئے ممکن تھا کہ بعض کمزور طبع لوگ ‘ کم فہم لوگ ‘ ایسے لوگ جو زیادہ ثابت قدم نہ تھے ۔ اور جنہیں اپنے دین کی حقیقت کا بھی اچھی طرح علم نہ تھا ‘ وہ متاثر ہوسکتے تھے ۔ ان کے دل میں خلجان پیدا ہوسکتا تھا۔ خصوصاً عرب جو امی تھے ۔ اور ان میں یہ بات عام تھی کہ دین اور کتب سماوی کے بارے میں اہل کتاب ان سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ وہ ایمان لاتے ہیں اور پھر مرتد ہوجاتے ہیں تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اس دین میں کوئی خفیہ کمزوری یا نقص پکڑلیا ہوگا۔ یا یہ کہ خود مرتد ہونے والے شک میں پڑگئے کہ وہ فیصلہ نہیں کرپاتے کہ وہ کدھر جائیں اور ان کو کسی حال میں ثابت حاصل نہیں ہے ۔ اور اہل کتاب کی جانب سے یہ دھوکہ آج تک جاری ہے ۔ ہاں اس کی شکل و صورت اور طور طریقے حالات زمانہ کے مطابقت سے بدل گئے ہیں ۔ ہاں آج کے دور میں مسلمانوں کے دشمنوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ اب ان پرانی سازشوں پر ملمع کاری کرکے اہل اسلام کو دھوکہ نہیں دے سکتے ۔ اس لئے تمام دشمنوں نے اسی پرانے اسلوب پر کچھ جدید طریقے وضع کئے ہیں اور ان کے ذریعے سے مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ اب ان لوگوں نے عالم اسلام میں اساتذہ ‘ فلاسفہ ‘ محققین اور پی ایچ ڈی کے حاملین کی ایک جرار فوج چھوڑی ہوئی ہے ۔ یہ سب لوگ درپردہ ان دشمنان اسلام کے ایجنٹ ہیں ۔ پھر ان دشمنوں نے ہمارے مصنفین ‘ شعراء ‘ فن کاروں اور صحافیوں کو بھی اپنے جال میں پھنسا رکھا ہے ۔ ان لوگوں کے نام مسلمانوں جیسے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ مسلمانوں کی اولاد ہیں اور بعض تو مسلمانوں کے علماء ہیں ۔ ایجنٹ کی اس فوج کا کام صرف یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کے دل و دماغ میں شکوک و شبہات پھیلائے ۔ اور اس کے لئے مختلف اسلوب اختیار کرے ۔ کبھی وہ علم وادب کے دروازے سے کام کرتے ہیں ۔ کبھی وہ صحافی اور فنکار کے روپ میں کام کرتے ہیں ۔ یہ لوگ اسلامی اصول حیات کی قدر و قیمت کم کرنے ‘ اسلامی نظریہ حیات کا مزاح اڑانے ‘ اسلامی اصولوں اور نصوص میں ایسی تاویلیں کرنے میں لگے ہوتے ہیں ‘ جن تاویلوں کے وہ نصوص متحمل ہی نہیں ہوسکتے ۔ یہ مسلسل ڈھول پیٹتے ہیں کہ اسلامی نظام حیات رجعت پسندی ہے ۔ اور وہ ہر وقت اس تبلیغ میں لگے رہتے ہیں کہ اسلامی نظریہ حیات کو ترک کردیا جائے ۔ اور اسے انسان کی عملی زندگی سے خارج کردیاجائے ۔ گویا کہ انسانی زندگی کو اس سے خطرہ ہے اور اس کو زندگی سے خطرہ ہے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے شعور اور طرز عمل میں ایسے تصورات اور ایسی روایات اور ایسے اصول کو رواج دیتے ہیں جو اسلامی تصورات کے متضاد ہوتے ہیں اور جن سے اسلامی طرز عمل اور اسلامی روایات کی خوش شکست وریخت ہوتی ہے ۔ یہ ایجنٹ ان جدیدجاہلی تصورات کو مسلمانوں کے نظریات میں جس قدر جاذب بناتے ہیں ۔ اسی قدر ایمانی روایات کا حلیہ بگاڑتے ہیں ۔ مزید برآں یہ کہ یہ ایجنٹ جنسیت کو ہر قید وبند سے آزاد کرتے ہیں ۔ اور اساسوں کو بنیاد سے اکھاڑ تے ہیں ۔ جن کے اوپر پاکیزہ اخلاق استوار ہوتے ہیں اور معاشرے کو اس گندگی کے اندر گراتے ہیں جسے وہ جگہ جگہ پھیلاتے پھرتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ ایجنٹ اسلامی تاریخ کا بعینہ اسی طرح حلیہ بگاڑتے ہیں ‘ جس طرح انہوں نے اپنی کتب سماوی کا حلیہ بگاڑا اور اس میں تحریف کی ۔ لیکن آپ حیران ہوں گے یہ ایجنٹ ان سب کارناموں کے ساتھ پھر بھی مسلمان ہیں ! کیوں مسلمان نہ ہوں ‘ کیا ان کے نام مسلمانوں کی طرح نہیں ؟ اور وہ ان ناموں کے ساتھ ساتھ روز دن چڑھے اپنے اسلام کا اظہار واقرار بھی کرتے ہیں لیکن وہ مذکورہ بالا کارنامے کرکے گویا شام کے وقت وہ اسلام کا انکار کردیتے ہیں ۔ اور اس طرح یہ ایجنٹ وہ کردار ادا کرتے ہیں جو پرانے اہل کتاب کرتے تھے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ دور قدیم اور آج کے ماحول اور طریقہ واردات میں قدرے فرق ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہودیوں کی ایک مکاری کا تذکرہ ان آیات میں اول تو یہودیوں کے ایک منافقانہ طریق کار کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ ان میں سے ایک جماعت نے آپس میں ایک دوسرے کو مشورہ دیا کہ صبح صبح جب دن شروع ہو تم مسلمانوں کے پاس جاؤ اور ان کے سامنے یوں کہو کہ ہم مسلمان ہیں ہم نے تمہارا دین قبول کرلیا اور دن بھر اسی طرح گزار دو ، اور جب شام کا وقت ہوجائے دن جانے لگے تو کفر اختیار کرلو۔ تاکہ مسلمان اپنے دین سے واپس ہوجائیں۔ صاحب روح المعانی صفحہ ١٩٩: ج ٣ میں لکھتے ہیں کہ یہود خیبر کے علماء میں سے بارہ آدمیوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا تھا اور (وَ اکْفُرُوْٓا اٰخِرَہٗ ) جو انہوں نے کہا تھا کہ اس کا مطلب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ صبح کو اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرنے کے بعد اسی دن شام کو اپنے کفر کا اظہار کردینا (جو دل میں پہلے ہی سے تھا) اور مسلمانوں سے یوں کہنا کہ ہم نے اپنی کتابوں میں غور کیا اور اپنے علماء سے مشورہ کیا تو ہماری سمجھ میں یہی آیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دین باطل ہے جب ایسا کہو گے تو سچے مسلمانوں پر بھی اثر پڑے گا وہ سمجھیں گے کہ یہ تو اہل کتاب ہیں اہل علم ہیں جب انہوں نے دین اسلام قبول کرکے چھوڑ دیا تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دین اسلام صحیح نہیں ہے۔ یہ طریقہ کار انہوں نے اپنے خیال میں مسلمانوں کو ورغلانے کے لیے اختیار کیا لیکن دشمنوں کے مکرو فریب کا الحمدللہ کسی مسلمان نے کچھ بھی اثر نہ لیا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

99 تیسرا شکوہ۔ طائفہ اہل کتاب سے مراد یہود ہیں اور آمنوا میں ایمان لانے سے مراد بطور نفاق اظہار ایمان ہے اور الذین آمنوا سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام مراد ہیں۔ وَجْهَ النَّہَارِ سے دن کا پہلا حصہ اور آخِرُ النَّہَار سے دن کا آخری حصہ یعنی شام مراد ہے۔ یہودی اسلام کی بڑھتی ہوئی شان و شوکت کو دیکھ کر حسد وبغض سے جل اٹھے تھے اور ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف رہتے۔ چناچہ انہوں نے مسلمانوں کو اسلام سے بد ظن کرنے اور اسلام کا وقار ان کے دلوں میں کم کرنے کے لیے اجتماعی منصوبہ تیار کیا اور اس منصوبے کے کرتے دھرتے یہود کے بڑے بڑے عالم تھے چناچہ انہوں نے طے کیا کہ صبح کے وقت ظاہری طور محض زبانی زبانی اسلام قبول کرلیا کریں اور شام کو دین اسلام سے بیزاری کا اعلان کردیا کریں اور اس کے ساتھ یہ بھی واضح کردیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ہم نے اپنی کتابوں کو دیکھا اور اپنے علماء سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ دین (عیاذاً باللہ) سچا نہیں اس لیے ہم نے اس کو چھوڑ کر پھر سے اپنا پہلا دین قبول کرلیا ہے۔ نیز وہ کہتے سارا دن اس پیغمبر کے پاس گذارا ہے۔ پیغمبروں اور ولیوں کی بےادبی کے سوا اس سے اور کچھ نہیں سنا وہ صاف کہتا ہے کہ نبی اور ولی نہ کارساز ہیں نہ حاجت روا۔ اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ جب ہم اسلام کو چھوڑ کر اس کے بارے میں مذکورہ بالا ریمارکس دینگے تو مسلمانوں کے دلوں میں بھی یہ خیال پیدا ہوگا کہ جب پہلی کتابوں کے اتنے بڑے عالم اسلام سے برگشتہ ہوگئے ہیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعی یہ دین سچا نہیں۔ اس طرح مسلمانوں میں بھی اسلام سے بیزار اور برگشتگی پیدا ہوجائے گی اور اسلام کی ترقی رک جائے گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ جو غیب وشہادت کا جاننے والا ہے اس نے مسلمانوں پر یہودیوں کا یہ منصوبہ منکشف کر کے اسے ناکام بنادیا۔ ومعنی الآیۃ ان الیہود قال بعضہم لبعض اظھر وا الایمان بمحمد اول النہار ثم اکفروا بہ آخرہ فانکم اذا فعلتم ذالک ظھر لمن یتبعہا ارتیاب فی دینہ فیرجعون عن دینہ الی دینکم ویقولون انا اھل الکتاب اعلم بہ منا (قرطبی ج 4 ص 111) قال الحسن والسدی تواطا اثنا عشر رجلا من احبار یہود خیبر وقری عرینۃ وقال بعضہم لبعض ادخلوا فی دین محمد اول انھار باللسان دون الاعتقاد واکفروا آخر النہار وقولوا انا نظرنا فی کتبنا وش اور نا علماءنا فوجدنا محمدا لیس بذاک وظھرنا کذبہ وبطلان دینہ فاذا فعلتم ذالک شک اصحابہ فی دینہم فقالوا انہم اھل الکتاب وھم اعلم بہ فیرجعون عن دینھم الی دینکم (روح ج 3 ص 200) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi