Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 73

سورة آل عمران

وَ لَا تُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّا لِمَنۡ تَبِعَ دِیۡنَکُمۡ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡہُدٰی ہُدَی اللّٰہِ ۙ اَنۡ یُّؤۡتٰۤی اَحَدٌ مِّثۡلَ مَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ اَوۡ یُحَآجُّوۡکُمۡ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡفَضۡلَ بِیَدِ اللّٰہِ ۚ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۷۳﴾ۚ ۙ

And do not trust except those who follow your religion." Say, "Indeed, the [true] guidance is the guidance of Allah . [Do you fear] lest someone be given [knowledge] like you were given or that they would [thereby] argue with you before your Lord?" Say, "Indeed, [all] bounty is in the hand of Allah - He grants it to whom He wills. And Allah is all-Encompassing and Wise."

اور سِوائے تمہارے دین پر چلنے والوں کے اور کسی کا یقین نہ کرو آپ کہہ دیجئے کہ بیشک ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے ( اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اس بات کا بھی یقین نہ کرو ) کہ کوئی اس جیسا دیا جائے جیسا تم دیئے گئے ہو ، یا یہ کہ یہ تم سے تمہارے رب کے پاس جھگڑا کریں گے آپ کہہ دیجئے کہ فضل تو اللہ تعالٰی ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے اسے دے اللہ تعالٰی وسعت والا اور جاننے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلاَ تُوْمِنُواْ إِلاَّ لِمَن تَبِعَ دِينَكُمْ ... "And believe no one except the one who follows your religion." They said, do not trust anyone with your secret knowledge, except those who follow your religion. Therefore, they say, do not expose your knowledge to Muslims in order to prevent them from believing in it and, thus, use it as proof against you. Allah replied, ... قُلْ إِنَّ الْهُدَى هُدَى اللّهِ ... Say: (O Prophet) "Verily, right guidance is the guidance of Allah." Allah guides the hearts of the faithful to the perfect faith through the clear Ayat, plain proofs and unequivocal evidence that He has sent down to His servant and Messenger Muhammad. This occurs, O you Jews, even though you hide the description of Muhammad. the unlettered Prophet whom you find in your Books that you received from the earlier Prophets. Allah's statement; ... أَن يُوْتَى أَحَدٌ مِّثْلَ مَا أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَأجُّوكُمْ عِندَ رَبِّكُمْ ... (And they say:) "Do not believe that anyone can receive like that which you have received, otherwise they would engage you in argument before your Lord." They say, "Do not disclose the knowledge that you have to the Muslims, to prevent them from learning it and thus becoming your equals. They will be even better because they will believe in it or will use it against you as evidence with your Lord, and thus establish Allah's proof against you in this life and the Hereafter." Allah said, ... قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللّهِ يُوْتِيهِ مَن يَشَاء ... Say: "All the bounty is in the Hand of Allah; He grants to whom He wills. meaning, all affairs are under His control, and He gives and takes. Verily, Allah gives faith, knowledge and sound comprehension to whomever He wills. He also misguides whomever He wills by blinding his sight, mind, sealing his heart, hearing and stamping his eyes closed. Allah has the perfect wisdom and the unequivocal proofs. ... وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ And Allah is All-Sufficient for His creatures' needs, All-Knower." يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَاء وَاللّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

73۔ 1 یہ آپس میں انہوں نے ایک دوسرے کو کہا کہ تم ظاہری طور پر تو اسلام کا اظہار ضرور کرو لیکن اپنے ہم مذہب (یہود) کے سوا کسی اور کی بات پر یقین مت رکھنا۔ 73۔ 2 یہ ایک جملہ معترضہ ہے جس کا ما قبل اور ما بعد سے تعلق نہیں ہے صرف ان کے مکر و حیلہ کی اصل حقیقت اس سے واضح کرنا مقصود ہے کہ ان کے جملوں سے کچھ نہ ہوگا کیونکہ ہدایت تو اللہ کے اختیار میں ہے وہ جس کو ہدایت دے یا دینا چاہے، تمہارے حیلے اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ 73۔ 3 یہ بھی یہودیوں کا قول ہے یعنی یہ بھی تسلیم مت کرو کہ جس طرح تمہارے اندر نبوت وغیرہ رہی ہے یہ کسی اور کو بھی مل سکتی ہے اور اس طرح یہودیت کے سوا کوئی اور دین بھی حق ہوسکتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٤] چوتھی کوشش ان کی یہ تھی کہ وہ ایک دوسرے کو اس بات کی تاکید کرتے تھے کہ خبردار اپنے دین پر پکے رہنا، دوسرے کسی مذہب والے کی پیروی نہ کرنا، تم مسلمانوں کی باتیں سنو مگر قبول وہی کرو جو تمہارے اپنے مذہب کے مطابق ہوں۔ اور خبردار ! انہیں تورات کی کوئی ایسی بات بھی نہ بتلانا جو تمہارے اپنے خلاف جاتی ہو۔ ورنہ وہ قیامت کو اللہ کے حضور یہ کہہ دیں گے کہ ان باتوں کا تو یہ یہود خود بھی اقرار کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں اپنے پیارے پیغمبر سے فرمایا کہ ان سے کہہ دیجئے کہ تم جو ہدایت کے ٹھیکیدار بنے پھرتے ہو تو یہ تو بتلاؤ کہ یہ ہدایت تمہیں ملی کہاں سے ہے ؟ اور اگر اللہ ہی کی طرف سے ملی ہے تو کیا دوسروں کو ایسی ہی ہدایت کے احکام نہیں بتلاسکتا۔ بالخصوص اس صورت میں کہ تم اللہ کے احکام کے علی الرغم ہر قسم کی بددیانتی پر اتر آئے ہو ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِيْنَكُمْ ۔۔ : یہ بھی ان گروہوں کا کلام ہے جن کا ذکر چلا آ رہا ہے اور اس سے ان کا مذہبی تعصب اور حسد ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اپنے متبعین کو تاکید کرتے رہتے ہیں : (وَلَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِيْنَكُمْ ) امام طبری نے اس کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ اپنے ہم مشرب کے سوا کسی کی بات پر یقین نہ کرو، نہ یہ تسلیم کرو کہ تمہاری طرح کسی اور کو بھی نبوت دی جاسکتی ہے اور نہ یہ مانو کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے حضور جا کر تم پر کوئی حجت قائم کرسکیں گے۔ اس صورت میں ( قُلْ اِنَّ الْهُدٰى ھُدَى اللّٰهِ ) جملہ معترضہ ہوگا اور اس کا ربط ( قُلْ اِنَّ الْهُدٰى ھُدَى اللّٰهِ ) کے ساتھ ہوگا۔ (ابن کثیر، ابن جریر) یہاں تک ان کی دینی خیانت اور مذہبی تعصب کا بیان تھا، اب اگلی آیت میں ان کی مالی خیانت اور مسلمانوں سے بغض کا بیان ہے۔ (رازی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِــعَ دِيْنَكُمْ۝ ٠ ۭ قُلْ اِنَّ الْہُدٰى ھُدَى اللہِ۝ ٠ ۙ اَنْ يُّؤْتٰٓى اَحَدٌ مِّثْلَ مَآ اُوْتِيْتُمْ اَوْ يُحَاۗجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ۝ ٠ ۭ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللہِ۝ ٠ ۚ يُؤْتِيْہِ مَنْ يَّشَاۗءُ۝ ٠ ۭ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ۝ ٧٣ ۚۙ دين والدِّينُ يقال للطاعة والجزاء، واستعیر للشریعة، والدِّينُ کالملّة، لكنّه يقال اعتبارا بالطاعة والانقیاد للشریعة، قال إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] ( د ی ن ) دين الدین کے معنی طاعت اور جزا کے کے آتے ہیں اور دین ملت کی طرح ہے لیکن شریعت کی طاعت اور فرمانبردار ی کے لحاظ سے اسے دین کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ إِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی حاجَّة والمُحاجَّة : أن يطلب کلّ واحد أن يردّ الآخر عن حجّته ومحجّته، قال تعالی: وَحاجَّهُ قَوْمُهُ قالَ : أَتُحاجُّونِّي فِي اللَّهِ [ الأنعام/ 80] ، فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ [ آل عمران/ 61] ، وقال تعالی: لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 65] ، وقال تعالی: ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ فِيما لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِيما لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ [ آل عمران/ 66] ، وقال تعالی: وَإِذْ يَتَحاجُّونَ فِي النَّارِ [ غافر/ 47] ، وسمّي سبر الجراحة حجّا، قال الشاعر : يحجّ مأمومة في قعرها لجف الحاجۃ ۔ اس جھگڑے کو کہتے ہیں جس میں ہر ایک دوسرے کو اس کی دلیل اور مقصد سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَحاجَّهُ قَوْمُهُ قالَ : أَتُحاجُّونِّي فِي اللَّهِ [ الأنعام/ 80] اور ان کی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارے میں ( کیا بحث کرتے ہو ۔ فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ [ آل عمران/ 61] پھر اگر یہ عیسیٰ کے بارے میں تم سے جھگڑا کریں اور تم حقیقت الحال تو معلوم ہو ہی چکی ہے ۔ لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 65] تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو ۔ ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ فِيما لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِيما لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ [ آل عمران/ 66] دیکھو ایسی بات میں تو تم نے جھگڑا کیا ہی تھا جس کا تمہیں کچھ علم تھا بھی مگر ایسی بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تم کو کچھ بھی علم نہیں ۔ وَإِذْ يَتَحاجُّونَ فِي النَّارِ [ غافر/ 47] اور جب وہ دوزخ میں جھگڑیں گے ۔ اور حج کے معنی زخم کی گہرائی ناپنا بھی آتے ہیں شاعر نے کہا ہے ع ( بسیط) یحج مامومۃ فی قھرھا لجف وہ سر کے زخم کو سلائی سے ناپتا ہے جس کا قعر نہایت وسیع ہے ۔ فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن يزيل نقصه وأن يستفید الفضل، کالفرس والحمار لا يمكنهما أن يکتسبا الفضیلة التي خصّ بها الإنسان، والفضل الثالث قد يكون عرضيّا فيوجد السّبيل علی اکتسابه، ومن هذا النّوع التّفضیل المذکور في قوله : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] ، لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] ، يعني : المال وما يکتسب، ( ف ض ل ) الفضل کے منعی کسی چیز کے اقتضا ( متوسط درجہ سے زیادہ ہونا کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے محمود جیسے علم وحلم وغیرہ کی زیادتی مذموم جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا لیکن عام طور الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے اور الفضول بری باتوں میں اور جب فضل کے منعی ایک چیز کے دوسری پر زیادتی کے ہوتے ہیں تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ( ۔ ) بر تری بلحاظ جنس کے جیسے جنس حیوان کا جنس نباتات سے افضل ہونا ۔ ( 2 ) بر تری بلحاظ نوع کے جیسے نوع انسان کا دوسرے حیوانات سے بر تر ہونا جیسے فرمایا : ۔ وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ ( 3 ) فضیلت بلحاظ ذات مثلا ایک شخص کا دوسرے شخص سے بر تر ہونا اول الذکر دونوں قسم کی فضیلت بلحاظ جو ہر ہوتی ہے ۔ جن میں ادنیٰ ترقی کر کے اپنے سے اعلٰی کے درجہ کو حاصل نہیں کرسکتا مثلا گھوڑا اور گدھا کہ یہ دونوں انسان کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے ۔ البتہ تیسری قسم کی فضیلت من حیث الذات چونکہ کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے اس کا اکتساب عین ممکن ہے چناچہ آیات کریمہ : ۔ وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] اور خدا نے رزق ( دولت ) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل ( یعنی روزی تلاش کرو ۔ میں یہی تیسری قسم کی فضیلت مراد ہے جسے محنت اور سعی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادةالإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ( ش ی ء ) الشیئ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق ہے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ وسع السَّعَةُ تقال في الأمكنة، وفي الحال، وفي الفعل کالقدرة والجود ونحو ذلك . ففي المکان نحو قوله : إِنَّ أَرْضِي واسِعَةٌ [ العنکبوت/ 56] ( و س ع ) اسعۃ کے معنی کشادگی کے ہیں اور یہ امکنہ حالت اور فعل جیسے قدرت جو وغیرہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ وسعت مکانی کے متعلق فرمایا : ۔ إِنَّ أَرْضِي واسِعَةٌ [ العنکبوت/ 56] میری زمین فراخ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٣۔ ٧٤) اور نبوت میں کسی کی بھی تصدیق مت کرو، مگر یہ کہ جو افراد یہودیت اور تمہارے قبلہ بیت المقدس کی پیروی کریں۔ اب اللہ تعالیٰ ان کی اس دلیل کے فضول ہونے کا اظہار فرماتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان یہودیوں سے فرمادیجئے کہ دین الہی وہ تو اسلام ہے اور قبلہ خداوندی بیت اللہ ہے اور تم اے اہل کتاب ایسی باتیں اس لیے کرتے ہو کہ کسی اور کو ایسا دین اور ایسا قبلہ ملا ہے جیسا کہ اصحاب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بطور نعمت ملا ہے، ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ یہود قیامت کے دن اس دین اور اس قبلہ میں تم سے دشمنی کرسکیں گے، آپ فرمادیجیے کہ بیشک نبوت واسلام اور قبلہ ابراہیمی کی عطا اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے اور وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے، اس نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کو اس نعمت عظمی کے ساتھ خاص فرمایا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بخششوں میں وسعت والا اور جس کو دے رہا ہے اس کو پوری طرح جاننے والا ہے اس نے اپنے دین کے لیے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کو منتخب فرمایا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والے ہیں کہ نبوت اسلام رسول اللہ کو عطا فرمائی۔ شان نزول : (آیت) ” قل ان الہدی ھدی اللہ “۔ (الخ) ابن ابی حاتم (رح) نے بواسطہ سدی ابو مالک (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہود کے علماء اپنے پیروکاروں سے کہتے تھے کہ جو تمہارے دین کی پیروی کرے اس پر ایمان لاؤ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٣ (وَلاَ تُؤْمِنُوْآ اِلاَّ لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَکُمْ ط) یعنی اس سازشی گروہ کو یہ خطرہ بھی تھا کہ اگر ہم جا کر چند گھنٹے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گزاریں گے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم میں سے واقعی کسی کو انشراح صدر ہوجائے اور وہ دل سے ایمان لے آئے۔ لہٰذا وہ طے کر کے گئے کہ دیکھو ‘ ان پر ایمان نہیں لانا ہے ‘ صرف ایمان کا اعلان کرنا ہے۔ قرآن مجید میں یہ شعوری نفاق کی مثال ہے۔ یعنی جو وقت انہوں نے اپنے ایمان کا اعلان کرنے کے بعد مسلمانوں کے ساتھ گزارا اس میں وہ قانوناً تو مسلمان تھے ‘ اگر اس دوران کوئی ان میں سے مرجاتا تو اس کی نماز جنازہ بھی پڑھی جاتی ‘ لیکن خود انہیں معلوم تھا کہ ہم مسلمان نہیں ہیں۔ یہ شعوری نفاق ہے ‘ جبکہ ایک غیر شعوری نفاق ہے کہ اندر ایمان ختم ہوچکا ہوتا ہے مگر انسان سمجھتا ہے کہ میں تو مؤمن ہوں ‘ حالانکہ اس کا کردار اور عمل منافقانہ ہے اور اس کے اندر سے ایمان کی پونجی ختم ہوچکی ہے ‘ جیسے دیمک کسی شہتیر کو چٹ کرچکی ہوتی ہے لیکن اس کے اوپر ایک پردہ (veneer) بہرحال برقرار رہتا ہے۔ شعوری نفاق اور غیر شعوری نفاق کے اس فرق کو سمجھ لینا چاہیے۔ (قُلْ اِنَّ الْہُدٰی ہُدَی اللّٰہِ لا) آگے یہود کے سازشی ٹولے کے قول کا تسلسل ہے کہ دیکھو ایمان مت لانا ! (اَنْ یُّؤْتٰٓی اَحَدٌ مِّثْلَ مَآ اُوْتِیْتُمْ ) یعنی یہ رسالت و نبوت اور مذہبی پیشوائی تو ہماری میراث تھی ‘ ہم اگر ان پر ایمان لے آئیں گے تو وہ چیز ہم سے ان کو منتقل ہوجائے گی۔ لہٰذا ماننا تو ہرگز نہیں ہے ‘ لیکن کسی طرح سے ان کی ہوا اکھیڑنے کے لیے ہمیں یہ کام کرنا ہے۔ (اَوْ یُحَآجُّوْکُمْ عِنْدَ رَبِّکُمْ ط) (قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰہِ ج ) (یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ ط) اس نے دو ہزار برس تک تمہیں ایک منصب پر فائز رکھا ‘ اب تم اس منصب کے نااہل ثابت ہوچکے ہو ‘ لہٰذا تمہیں معزول کردیا گیا ہے ‘ اور اب ایک نئی امت (اُمت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو اس مقام پر فائز کردیا گیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

62. The word wasi' which is used here occurs in the Qur'an in three contexts. The first context is the narrow-mindedness and mean outlook of certain people, in contrast to which God is not 'narrow'. The second context is the denunciation of miserliness, meanness and niggardliness, in contrast to which God is Generous and Munificent. The third context is the ascription of finite, limited concepts to God as a result of their limitedimagination, whereas the truth is that God is infinite (see Surah 2, n. 116 above) .

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :62 اصل میں لفظ”واسع“ استعمال ہوا ہے جو بالعموم قرآن میں تین مواقع پر آیا کرتا ہے ۔ ایک وہ موقع جہاں انسانوں کے کسی گروہ کی تنگ خیالی و تنگ نظری کا ذکر آتا ہے اور اسے اس حقیقت پر متنبہ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے کہ اللہ تمہاری طرح تنگ نظر نہیں ہے ۔ دوسرا وہ موقع جہاں کسی کے بخل اور تنگ دلی اور کم حوصلگی پر ملامت کرتے ہوئے یہ بتانا ہوتا ہے کہ اللہ فراخ دست ہے ، تمہاری طرح بخیل نہیں ہے ۔ تیسرا وہ موقع جہاں لوگ اپنے تخیل کی تنگی کے سبب سے اللہ کی طرف کسی قسم کی محدودیت منسوب کرتے ہیں اور انہیں یہ بتانا ہوتا ہے کہ اللہ غیر محدود ہے ۔ ( ملاحظہ ہو سورہ بقرہ ، حاشیہ نمبر ١١٦ )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(73 ۔ 74) ۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں ابی مالک سے روایت ہے کہ اس آیت کے دو ٹکڑے ہیں پہلا ٹکڑا علماء یہود کا ہے کہ وہ اپنے قوم کے ان پڑھ لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ دیکھو اپنے دین والے کے سوا کسی کی بات کو ہرگز نہ ماننا۔ دوسرا ٹکڑا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کے جواب میں اتارا ہے کہ ان سے اے نبی اللہ کے تم کہہ دو کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے ٢۔ ایسی باتوں سے وہ اللہ کی ہدایت کو ہرگز روک نہیں سکتے چناچہ وہی ہوا کہ اللہ کی ہدایت دن بدن پھیل کر اسلام بڑھتا گیا اور یہود حسد اور عداوت میں خوار اور ذلیل ہوتے گئے چند انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف کو تورات میں مذکور تھے چھپایا ان پڑھ یہود کو غیر دین کی بات ماننے سے سے روکا مگر اللہ سے کون مقابلہ کرسکتا ہے آخر ہوا وہی جو اللہ کو منظور تھا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:73) طائفۃ من اہل الکتاب۔ کا خطاب اہل کتاب کے دوسرے اشخاص سے ہے۔ جو اسی طائفہ کے ہم مذہب ہیں۔ (3:73) ولا تؤمنوا الا لمن تبع دینکم۔ قل ان الھدی ھدی اللہ ان یؤتی احد مثل ما اوتیتم او یحاجوکم عند ربکم۔ مفسرین نے اس کو مشکل ترین آیت سمار کیا ہے (ضیاء القرآن) وقال الواحدی ان ھذہ الایۃ من مشکلات القران واصعبہ تفسیرا۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) اہل یہود کے طائفہ کا قول جو آیہ ماقبل (3:72) میں دیا گیا ہے اس آیۃ کے ساتھ ہی ختم ہوگیا اور ولا تؤمنوا سے اللہ تعالیٰ کا کلام شروع ہوجاتا ہے۔ یحتمل ان یکون الخبر عن الیہود قد تم عند قولہ لعلہم یرجعون ۔ وقولہ ولا تؤمنوا “ من کلام اللہ تعالیٰ ثبت بہ قلوب المؤمنین لئلا لیشکوا عند تلبیس الیہود وتزویرھم فی دینھم یقول اللہ عزوجل لا تصوقوا یا معشر المؤمنین الامن تبع دینکم ولا تصدقوا ان یؤتی احد مثل ما اوتیتم من الدین والفضل ولا لصدقوا ان یحاجوکم عند ربکم او یقدروا علی ذلک فان الھدی ھدی اللہ وان الفضل بید اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ واسع علیم۔ فتکون الایۃ کلہا خطا باللمؤمنین عند تلبیس الیہود لئلا یرتابوا ولا یشکوا۔ (احتمال ہے کہ اہل یہود کے متعلق بات لعلہم یرجعون پر ختم ہوگئی۔ اور ولا تؤمنوا الخ کلام اللہ ہے (یہ اس لئے کہ) مؤمنین کے دل نہ ڈگمگائیں اور اہل یہود کی اپنے دین میں تزویر وتلبیس باعث شک نہ بنے۔ سو اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اے مومنو ! سوائے اپنے مذہب کے پیروکار کے کسی پر اعتبار نہ کرو۔ اور نہ ہی یہ باور کرو کہ جو عنایات تم پر ہوئی ہیں کسی اور پر بھی ہوسکتی ہیں اور نہ ہی اس امر کو دل میں جگہ دو کہ وہ تم پر خدا کے حضور دلیل میں غالب آجائیں گے کیونکہ ہدایت تو وہی ہے جو اللہ کی ہدایت ہے۔ اور فضل صرف اللہ کے ہاتھ میں سے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ بڑی ہی وسعت رکھنے والا ہے اور علیم ہے) ۔ (2) اس میں قل ان الھدی ھدی اللہ جملہ معترضہ ہے اور دوسرے سب جملوں کا تعلق لاتؤمنوا سے ہے۔ یعنی لاتؤمنوا الا لمن تبع دینکم ولا تؤمنوا ان یؤتی احد مثل ما اوتیتم ولا تصدقوا ان یحاجوکم عند ربکم (ضیاء القرآن بحوالہ تفسیر قرطبی) ۔ مت مانو کسی کی بات ماسوائے ان لوگوں کے جو تمہارے دین کی پیروی کرتے ہیں اور مت یقین کرو کہ جو انعام و فضل تم پر کیا گیا ہے وہ کسی اور کو بھی دیا جاسکتا ہے اور مت مانو یہ بات کہ وہ تمہارے رب کے نزدیک تم پر دلیل سے غالب آسکتے ہیں۔ تفسیر الخازن میں ہے ثم اختلفوا فیہ فمنم من قال ھذا کلام معترض بین کلامین وما بعدہ متصل بالکلام الاول ای لا تؤمنوا الا لمن تبع دینکم ولا تؤمنوا ان یؤتی احد مثل ما اوتیتم ۔۔ ولا تؤمنوا ان یحاجوکم عند ربکم۔ (3) طائفۃ من اہل الکتابکا کلام لمن تبع دینکم پر ختم ہوجاتا ہے اور قل ان الھدی سے آیۃ کے اخیر تک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اس صورت میں ترجمہ یوں ہوگا :۔ (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) تو کہہ کہ ہدایت تو وہی ہے جو اللہ کی ہدایت ہے کہ جس طرح وہ ہدایت تمہیں عطا ہوئی تھی اسی طرح وہ اسے کسی اور کو بھی عطا کردے۔ یا وہ تمہارے رب کی عطا ئیگی کے بارے میں حجت بازی کریں تو (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کہہ کہ ان الفضل بید اللہ ۔۔ الخ یہاں عند ربکم کا مطلب عند فعل ربکم ہوگا۔ (4) علامہ عبد اللہ یوسف علی اپنی انگریزی تفسیر The Holy Quran میں اہل یہود کے کلام کو لا تؤمنوا (سے لے کر ) لمن تبع دینکم پر ختم کرکے آگے یوں ترجمہ کرتے ہیں : Say: "True guidance is the guidance of God: (Fearye) lest a revelation besent to someone (else) Like unto that which was unto you? Or that those (Receiving such revelation) Should engage you in argument before your Lord?" (5) اور اگر او کو بمعنی ان حرف شرط لیا جائے تو مطلب یوں ہوسکتا ہے کہ اگر اہل یہود وہ کہیں جو انہوں نے لمن تبع دینکم تک کہا تو (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ان سے) کہہ کہ ان الھدی ۔۔ ما اوتیتم۔ اگر وہ خدا کی دین (عطائیگی) پر کٹ حجتی سے کام لیں تو کہہ ان الفضل ۔۔ من یشائ۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو بات کہنے کے لئے ہدایت کی جاتی ہے یا تو من یشاء پر ختم ہوجاتی ہے یا آیۃ 74 کے اخیر تک چلی جاتی ہے۔ مندرجہ بالا مذکورہ صورتوں کے علاوہ ان فقروں کی اور بھی متعدد صورتیں ہوسکتی ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یہ بھی ان ظائفوں کا کلام ہے جن کا اوپر سے ذکر چلا آرہا ہے اور اس سے ان کا مذہبی تعصب اور حسد ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے متبعین کو تاکید کرتے رہتے ہیں۔ الخ مترجم (رح) توضیحات سے آیت کو جو مفہوم ظاہر ہوتا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جملہ ان یئوتی ٰ اور او یحاجو کم کا تعلق لاتومنوا سے ہے ای لئلایوتی اولئلا یحاجو کم مگر امام طبری (رح) نے ایک دوسری توجیہ اختیار کی ہے اور وہ یہ کہ دونوں جملے لا تومنوا کے تحت ہیں اور معنی یہ ہیں کہ اپنے مشروب کے سوا کسی کی بات پر یقین نہ کرو نہ یہ تسلیم کرو کہ تمہاری طرح کسی کو علم وفضل ملا ہے اور نہ یہ مانو کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے حضور جا کر تم پر کوئی حجت قائم کرسکیں گے بایں صورت قل ان الھدی الخ جملہ معترضہ او اس کا ربط قل ان الفضل بید اللہ کے ساتھ ہوگا۔ (ابن کثیر۔ ابن جریر) یہاں تک ان کی خیانت دینی اور مذہبی تعصب کا بیان تھا۔ اب اگلی آیت میں ان کی خیانت عالی اور مسلمانوں سے بغض کا بیان ہے۔ (کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ حاصل آیت یہ ہوا کہ تم کو مسلمانوں سے حسد ہے کہ ان کو آسمانی کتاب کیوں مل گئی یا یہ لوگ ہم پر مذہبی مناظرہ میں کیوں غالب آتے ہیں، اس حسد کی وجہ سے اسلام اور اہل اسلام کے تنزل کی کوشش کر رہے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کسی کے نعروں اور دعو وں سے دھوکہ کھانے اور اعتماد کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی پیروی کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل کسی شخص کی ذات یافرقہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی رحمت کی بدولت ہوا کرتا ہے۔ اہل کتاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے کے باوجود فکر مند رہتے تھے کہ مسلمانوں کی تعداددن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ جو شخص بھی آپ سے ملاقات کرتا اور قرآن سنتا ہے وہ آپ ہی کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ اہل کتاب کے سامنے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں اس کی طویل لسٹ تھی۔ اکثریہ ہوا کہ اہل مکہ اور اہل کتاب کا نمائندہ بن کر جانے والاشخص آپ کی پرجمال شخصیت اور دل ربا گفتگو سن کر اپنے دین سے دستبردار ہوجاتا۔ اس سے بچاؤ کے لیے انہوں نے اپنی عوام میں پرزور مہم چلائی اور خاص کر سازشوں میں کردار ادا کرنے والوں کو تین باتیں سمجھائیں۔ 1 اپنے پیشواؤں کے بغیر کسی کی بات نہ ماننا۔ 2 صرف اس بات کو تسلیم کرنا جس کا وجود اور ثبوت تورات اور انجیل میں پایا جاتا ہو۔ 3 تیسری بات یہ باور کروائی جاتی کہ دیکھنا کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنے دین کے بارے میں کوئی کمزور بات کرو یا اسے چھوڑنے کا مسلمانوں کو عندیہ دو ۔ یاد رکھنا ! روز محشر مسلمان تمہارے خلاف اللہ تعالیٰ کے حضور جھگڑا کریں گے۔ تمہیں وہاں کوئی چھڑانے والا نہیں ہوگا۔ اس طرح کی بےمحل مصنوعی فکر آخرت کا خوف دلا کر لوگوں کو ڈرایا کرتے تھے۔ باطل نظریات کے حامل لوگ شروع سے حق کے خلاف یہی ہتھیار استعمال کرتے آرہے ہیں۔ اس کے جواب میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئیں۔ اے اہل کتاب تمہارا صبح کے وقت ایمان لانا اور شام کے وقت انکار کرنا اہل حق کو صراط مستقیم سے نہیں ڈگمگا سکتا کیونکہ ہدایت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ جب وہ کسی کو ہدایت سے سرفراز کرتا ہے تو دنیا کی کوئی سازش اس کے قدموں کو ڈگمگا نہیں سکتی۔ یہ بھی یاد رکھو کہ ہدایت وہ نہیں جسے اہل کتاب یا دنیا کا کوئی شخص ہدایت قرار دے۔ ہدایت حقیقتاً وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر نازل فرمائی۔ جو سراسر اللہ کا فضل ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے نبوت اور ہدایت کے لیے منتخب فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں، وسعتوں اور اس کے لامحدود فضل کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا۔ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ قُلُوبَ بَنِی آدَمَ کُلَّہَا بَیْنَ إِصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ کَقَلْبٍ وَاحِدٍ یُصَّرِفُہُ حَیْثُ یَشَاءُ ثُمَّ قَالَ رَسُول اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللَّہُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَی طَاعَتِکَ )[ رواہ مسلم : باب تصریف اللہ القلوب حیث یشاء ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک بنی آدم کے دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہیں۔ وہ ان کو پھیرتا ہے جیسے چاہتا ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دعا فرمائی۔ اے اللہ دلوں کو پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنی فرمانبرداری کی طرف پھیرے رکھنا “ مسائل ١۔ اہل کتاب اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے کی بجائے اپنے عقیدہ کو حق سمجھتے ہیں۔ ٢۔ جماعتوں اور انسانوں کا من گھڑت عقیدہ ہدایت نہیں ہوا کرتا۔ ٣۔ ہدایت اللہ کی طرف سے ہے اور اس کے فضل سے ملتی ہے۔ ٤۔ فضل سارے کا سارا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ وسعت اور علم والا ہے۔ تفسیر بالقرآن ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے : ١۔ ہدایت کا اختیار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی حاصل نہیں۔ (القصص : ٥٦) ٢۔ نبی کسی کو ہدایت پر گامزن کرنے کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔ ( البقرہ : ٢٧٢) ٣۔ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (ابراہیم : ٤) ٤۔ جسے اللہ گمراہ کر دے کوئی اسے ہدایت نہیں دے سکتا۔ (الاعراف : ١٨٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اہل کتاب آپس میں طے کرتے تھے کہ تم لوگ دن چڑھے اپنے اسلام کا اظہار کرو اور شام تک اعلان کردو کہ ہم نے اسلام کا اعلان کیا تھا لیکن اب ہم نے اسے ترک کردیا ہے ۔ تاکہ اس طرح مسلمانوں کے دلوں میں شک پیدا ہوجائے اور وہ بھی اسلام سے لوٹ آئیں ۔ لیکن یہ بات راز میں رہے ۔ اس کا افشا بھی نہ کرو اور اپنے دین والوں کے علاوہ کسی اور اس راز سے خبردار بھی نہ کرو ۔ وَلا تُؤْمِنُوا إِلا لِمَنْ تَبِعَ دِينَكُمْ……………” اپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات پر اعتماد نہ کرو ۔ “ فعل ” اسلام “ کا فاصلہ اگر لام متعدی ہو تو اس کا مفہوم اعتبار اور اعتماد کرنا ہوتا ہے۔ یعنی اعتمادصرف اس پر کرو جو تمہارے دین کو ماننے والا ہے ۔ مسلمانوں کے مقابلے میں صرف اپنے ہم مذہب لوگوں کے سامنے اپنے بھید کھولو۔ مسلمانوں کو ان باتوں کی خبر نہ ہونے پائے ۔ آج صہیونیت اور صلیبیت کے ساتھیوں کا طرز بھی یہی ہے ۔ یہ لوگ آپس میں ایک بات میں باہم مفاہمت کرلیتے ہیں ۔ وہ یہ کہ اسلامی نظریہ حیات کے بسمل کو موقعہ پاتے ہی قتل کردیا جائے ۔ اس کے لئے ایسے مواقع شاید میسر نہ ہوں ۔ اور ہوسکتا ہے کہ صہیونیوں اور صلیبیوں کے ان ایجنٹوں کے درمیان اس جو مکمل مفاہمت پائی جاتی ہے وہ پھر نہ پائی جائے ۔ لیکن یہ مفاہمت ایک طرف ایک (کلائنٹ ) (Client) کے درمیان ہے اور دوسری جانب اس کے ایجنٹ کے درمیان ہے ۔ اس میں یہ موکلین بعض اوقات پنے ایجنٹ کو اپنے اصل راز بھی بتادیتے ہیں ۔ جبکہ انہیں یقین ہو کہ وہ ان رازوں کو افشاء نہ کریں گے ۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ کو دوسرے روپ میں ظاہر کرتے ہیں اور اس رنگ میں نہیں آتے جس میں انہوں نے ان سازشوں کو تیار کیا ہوتا ہے۔ ان ایجنٹوں کے لئے پہلے سے حالات درست کرکے ماحول کو ان کے لئے سازگار بنادیا جاتا ہے ۔ تمام سہولتیں انہیں مہیا کردی جاتی ہیں ۔ اور جو لوگ اس کرہ ارض پر اس دین کی حقیقت کو سمجھتے ہیں وہ نظروں سے اوجھل ہیں یا معاشروں میں دھتکارے ہوئے ہیں ۔ اس لئے وہ کہتے ہیں ولا تُؤْمِنُوا إِلا لِمَنْ تَبِعَ دِينَكُمْ…………… اور اپنا راز انہی لوگوں کو بتاؤ جو تمہارے دین کے ماننے والے ہیں ۔ “ یہاں آکر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اس کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ آپ اعلان کردیں کہ ہدایت تو سرف اللہ وحدہ کی ہدایت ہے ۔ اور جو شخص اللہ کی ہدایت کو تسلیم نہیں کرتا وہ کبھی بھی ہدایت پا نہیں سکتا ۔ کسی صورت میں بھی اور کسی طریقے سے بھی قُلْ إِنَّ الْهُدَى هُدَى اللَّهِ ” اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے ۔ “ اور یہ فیصلہ ان کے اس قول کے جواب میں آتا ہے ۔” اہل ایمان پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس پر صبح ایمان لاؤ ‘ اور شام کے وقت اس کا انکار کردو ‘ امید ہے کہ اس طرح وہ پلٹ آئیں ۔ “ مسلمانوں کو ان کے اس مذموم منصوبے کے روبعمل آنے کے خلاف متنبہ کیا جاتا ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو گویا وہ دوبارہ کفر میں داخل ہوجائیں گے ۔ اس لئے ہدایت صرف اللہ کی ہدایت ہے ۔ اور یہ مکار جو تدابیر اختیار کرتے ہیں وہ خالص کفر ہے ۔ اور یہ فیصلہ بیچ میں آتا ہے ۔ یعنی بطور جملہ ” معترضہ “ ابھی تک اہل کتاب کی بات ختم نہیں ہوتی ۔ أَنْ يُؤْتَى أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَاجُّوكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْاور یہ کہ کوئی دوسرا اس بات کو جان لے جو تمہیں معلوم ہے اور وہ تمہارے رب کے ہاں تمہارے خلاف حجت پیش کریں۔ “ یہ فقرہ ان کے اس موقف پر دلیل ہے کہ ” اور اپنا راز انہیں لوگوں کو بتاؤ جو تمہارے دین کے ماننے والے ہیں ۔ یہ لوگ اس بغض اور حسد میں مبتلا تھے کہ کسی دوسرے شخص کو بھی اسی طرح نبوت اور کتاب سے سرفراز کیا جائے جس طرح تم نبوت اور کتاب سے سرفراز ہوئے تھے ‘ انہیں یہ خوف دامن گیر تھا کہ اہل اسلام کو دین اور اسلام پر اطمینان نصیب نہ ہوجائے ۔ اور وہ اس حقیقت پر مطلع نہ ہوجائیں جسے اہل کتاب نے چھپارکھا ہے ۔ حالانکہ وہ اسے جانتے ہیں اور نیز قیامت کے دن مسلمان اللہ کے ہاں اسے اہل کتاب کے پاس بطور حجت پیش نہ کردیں ۔ ان لوگوں کا خیال یہ تھا گویا مسلمانوں کی اس قولی شہادت کے سواء اللہ انہیں سزا نہ دے گا۔ یہ ایک ایسا تصو رہے جو اللہ کی ذات وصفات پر صحیح ایمان کے نتیجے میں نہیں پیدا ہوتا ۔ نہ اس قسم کے تصورات ان لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوسکتے ہیں جن کو اللہ کی ذات اور صفات ‘ نبوت اور رسالت اور ایمان پر مبنی افکار وفرائض کا صحیح علم حاصل ہو۔ “ چناچہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بات کی طرف متوجہ فرماتے ہیں کہ انہیں آگاہ کردیں کہ یہ تو اللہ کا فضل وکرم ہے اور یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ کسی قوم کو کتاب ونبوت سے نواز دے ۔ قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (٧٣) يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ” اے نبی ان سے کہو کہ ” فضل وشرف اللہ کے اختیار میں ہے ‘ جسے چاہے عطا فرمائے ۔ “ وہ وسیع النظر ہے اور سب کچھ جانتا ہے ‘ اپنی رحمت کے لئے جس کو چاہتا ہے مخصوص کرلیتا ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے۔ “ اللہ کی مشیئت نے اب فیصلہ کرلیا ہے اب نبوت اور رسالت سے اہل کتاب کے سوا دوسرے لوگوں کو سرفرازکردے ‘ خصوصاًجبکہ وہ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے مواعید کی مخالفت کرتے چلے جائیں ‘ جوان کے باپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو ذمہ داری ان پر ڈالی تھی اسے بھی توڑتے چلے جائیں ‘ جو امانت اللہ نے ان کے سپرد کی تھی اس میں خیانت کرتے چلے جائیں ‘ وہ اپنی کتاب کے احکام اور اپنے دین کے قوانین کو توڑتے چلے جائیں ۔ اور پھر اگر کوئی انہیں دعوت دے کہ آؤ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں تو وہ انکار کردیں ‘ اور ان کے ان سب کارناموں کی وجہ سے انسانوں کی قیادت اور راہنمائی اسلامی نظام زندگی ‘ اسلا می قائدین اور قرآن کریم کی راہنمائی سے آزاد ہوجائے ‘ یہی وہ مقام تھا جس پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے قیادت واپس لے لی اور اس بات امانت کو امت مسلمہ کے سپرد کردیا ۔ اور یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا فضل اور احسان تھا ۔ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ………… ” اللہ بڑی وسعت والا اور خبردار ہے۔ “ اور يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ…………” وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے مخصوص کرلیتا ہے۔ “ اس کا فضل وکرم بڑا وسیع ہے ۔ اور اس کا علم بھی بڑا وسیع ہے ‘ اس لئے وہ اس جگہ کو بھی خوب جانتا ہے ہے ۔ جہاں اس کی رحمت نازل ہو۔ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ…………” اس کا فضل بہت بڑا ہے ۔ “ اور کسی قوم کے لئے اس سے بڑا اور فضل کیا ہوسکتا ہے کہ وہ اسے ایک کتاب کی صورت میں ہدایت دے ۔ اور کسی کو وہ اس سے بڑی کیا خیر و برکت عطاء کرے کہ ان کو رسالت عطا کردے اور اس سے بڑی رحمت کا اور کیا مظاہرہ ہوسکتا ہے کہ وہ کسی قوم میں رسول بھیج دے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد یہودیوں کی ایک اور بات کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ انہوں نے آپس میں یوں کہا (وَ لَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَکُمْ ) کہ تمہارا جو دین یہودیت ہے اس دین پر مضبوطی کے ساتھ جمنے کا اقرار ان ہی لوگوں کے سامنے کرنا جو تمہارے دین کے تابع ہیں۔ یعنی اپنا اندرونی عقیدہ اپنے ہی لوگوں کے سامنے بیان کرنا۔ اور مسلمانوں کو دین اسلام سے پھیر نے کے لیے اوپر اوپر سے یہ کہہ دینا کہ ہم نے تمہارا دین قبول کرلیا (اندر سے اپنے عقیدہ پر رہنا) پھر ظاہری طور پر بھی یوں کہہ دینا کہ ہم اپنے دین پر واپس آگئے حالانکہ دل سے انہوں نے اپنا دین چھوڑا ہی نہیں تھا۔ یہ ان کا مکر تھا۔ اور بعض مفسرین نے (وَ لَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَکُمْ ) کا مطلب یہ بتایا ہے کہ تم صرف اسی شخص پر ایمان لاؤ جو تمہارے دین کی موافقت کرتا ہو کمافی معالم التنزیل ای ولا تصدقوا الا لمن تبع دینکم ای وافق ملتکم (جس کا معنی یہ ہے کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چونکہ نئی شریعت لے کر آئے ہیں اور وہ تمہاری شریعت کے موافق نہیں ہے اس لیے تم ان پر ایمان نہ لاؤ) اللہ جل شانہٗ نے فرمایا : ( قُلْ اِنَّ الْھُدٰی ھُدَی اللّٰہِ ) کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ فرما دیں کہ بلاشبہ ہدایت اللہ ہی کی ہدایت ہے وہ جسے ہدایت دینا چاہے اور ہدایت پر رکھنا چاہے اسے کسی کی تدیبر ہدایت سے نہیں روک سکتی یہ معنی پہلی تفسیر کے مطابق ہے اور دوسری تفسیر کے مطابق اس کا یہ معنی ہوگا کہ اللہ کو اختیار ہے کہ اپنی بھیجی ہوئی ایک شریعت کو منسوخ کر دے اور اس کی جگہ دوسری شریعت بھیج دے اور اس پر عمل کرنے کا حکم فرما دے جب اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ دوسری شریعت بھیج دی تو اسے قبول کرلو اگر اس کے خلاف چلو گے تو برابر کفر کی گمراہی میں رہو گے قولہ تعالیٰ (اَنْ یُّؤْتٰٓی اَحَدٌ مِّثْلَ مَآ اُوْتِیْتُمْ ) اس میں بھی یہودیوں کی ایک بات کا تذکرہ فرمایا ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے آپس میں کہا کہ تم کبھی یہ تصدیق نہ کرنا کہ تم کو جو علم اور کتاب اور حکمت دی گئی ہے اس جیسی کسی اور کو بھی عطا کی گئی ہو، علم اور کتاب اور حکمت یہ صرف ہمارا ہی حصہ ہے، نیز انہوں نے یہ بھی کہا کہ تم اس بات کی تصدیق نہ کرنا کہ تمہارے رب کے پاس دوسرے لوگ حجت میں تم پر غالب آجائیں گے۔ کیونکہ تمہارا ہی دین صحیح ہے اس صورت میں (اَنْ یُّؤْتٰٓی) سے پہلے ایک (وَ لَا تُؤْمِنُوْا) مقدر ماننا ہوگا صاحب بیان القرآن نے (اَنْ یُّؤْتٰٓی اَحَدٌ مِّثْلَ مَآ اُوْتِیْتُمْ ) کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ اے یہودیو ! تم ایسی باتیں اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں مسلمانوں پر حسد ہے کہ انہیں آسمانی کتاب کیوں مل گئی یا یہ لوگ تم پر مذہبی مناظرہ میں کیوں غالب آجاتے ہیں اس حسد کی وجہ سے اسلام اور اہل اسلام کے تنزل کی کوششیں کرتے ہو اس صورت میں (اَنْ یُّؤْتٰٓی) سے پہلے تدبر تم یا قلتم مقدر ماننے کی ضرورت ہوگی۔ آخر میں یہودیوں کی تردید فرمائی اور ارشاد فرمایا : (قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ ) (الآیۃ) آپ فرما دیجیے کہ بلاشبہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہے عطا فرما دے، وہ بڑی وسعت والا ہے بڑے علم والا ہے، وہ اپنی رحمت کے ساتھ جس کو مخصوص فرما دے اور وہ بڑے فضل والا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خاتم النّبیین سیدنا محمد عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبوت و رسالت سے نواز دیا اور ان پر کتاب نازل فرما دی اور ان کے ذریعہ ہدایت پھیلا دی اس پر تم حسد کرنا جہالت اور کفر ہے یہ تو اللہ تعالیٰ پر اعتراض ہے کہ اس نے بنی اسرائیل کے علاوہ کسی دوسرے کو نبی کیوں بنایا۔ یہ عصبیت جاہلیہ اہل علم کو برباد کردیتی ہے، مزید توضیح اور تشریح کے لیے سورة بقرہ (ع ١١) میں (بَغَیَا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ ) کی تفسیر پیچھے گزر چکی ہے۔ یہ لوگ عصبیت جاہلیہ کی وجہ سے کفر اختیار کرنے اور کفر پر جمے رہنے اور دائمی عذاب میں پڑنے کو تیار ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے راضی ہونے پر تیار نہیں کہ وہ اپنی رحمت سے جسے چاہے اپنا فضل عطا فرمائے۔ اللہ کی مشیت اور ارادہ میں کسی کو چوں کرنے کا مقام نہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

100 یہ بھی ان منصوبا باز احبار یہود ہی کا قول ہے البتہ قُلْ اِن ھُدَی ھُدَی اللہِ جملہ معترضہ ہے جو قول یہود کا جواب ہے اور اَنْ یُّؤْتیٰ جملہ استفہامیہ ہے اور ہمزہ استفہام محذوف ہے۔ اصل ءَ اَنْ یُّؤْتیٰ تھا جیسا کہ ابن کثیر کی قراءت میں ہے لیکن یہ استفہام انکاری ہے۔ اور اَوْیُحَاجُّوْکُمْ ، یُؤْتیٰ پر معطوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہودیوں نے آپس میں طے کیا کہ ظاہری طور پر اسلام کا اظہار تو مسلمانوں کے سامنے کردینا لیکن صدق دل سے اس کو نہ ماننا اور نہ ہی اپنے دین کے متبعین کے علاوہ کسی کی یہ بات ماننا کہ تمہارے دین کی طرح کسی اور کا دین ہے یا تمہاری کتاب کی طرح کسی اور دین والوں کے پاس بھی کوئی سچی کتاب ہے یا یہ کہ کسی دوسرے دین والے خدا کے پاس تم پر قیامت کے دن دلیل اور حجت سے غالب آجائینگے۔ قال الشیخ (رح) تعالیٰ والاولی ان یقال ان قولہ لا تومنوا مقولۃ اھل الکتاب وقولہ تعالیٰ قل ان الھدی جملۃ واقعۃ بین کلامھم وان یوتی بحذف ھمزۃ الانکار مقولۃ الیہود۔ 101 یہ یہودیوں کے قول کی تردید ہے یہودیوں نے جو یہ فرض کر رکھا تھا کہ رسالت ونبوت بنی اسرائیل کے ساتھ مخصوص ہے اس لیے ان کے علاوہ اور کسی قوم میں نہ کوئی نبی پیدا ہوسکتا ہے اور نہ اللہ کی کوئی کتاب نازل ہوسکتی ہے۔ اصل میں یہودیوں کے مولویوں اور گدی نشینوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کا یہ ایک بہانہ تراشا تھا۔ اصل ضد تو ان کو مسئلہ توحید سے تھی کیونکہ اس سے ان کی گدیوں اور آمدنیوں پر زد پڑتی تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس خیال کا ابطال فرمایا کہ فضل و رحمت کے خزانے جن میں رسالت ونبوت بھی شامل ہے۔ سارے کے سارے خدا کے قبضے میں ہیں وہ ان میں سے جسے چاہتا ہے دیتا ہے اس کی رحمت صرف بنی اسرائیل ہی سے مخصوص نہیں اس کی رحمت نہایت وسیع اور بےپایاں ہے جسے وہ اپنی رحمت کے کسی عطیہ کا مستحق سمجھتا ہے اسے اس سے نواز دیتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2۔ اور اہل کتاب میں سے کچھ لوگوں نے آپس میں کہا اور باہم مل کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک سازش کی کہ اس نبی کے ماننے والوں یعنی مسلمانوں کی جانب جو کتاب نازل ہوئی اس پر ظاہری طور پر دن کے ابتدائی حصہ میں یعنی صبح کے وقت ایمان لے آئو پھر دن کے آخری حصہ میں یعنی شام کو اسی کتاب کا انکار کردو۔ شاید اس تدبیر سے مسلمان اپنے دین سے بھر جائیں اور انہوں نے آپس میں یہ بھی کہا کہ دیکھو سوائے اس شخص کے جو تمہارے دین کا پیرو ہو اس بارے میں کسی اور یقین نہ کرنا یعنی سوائے یہود کے کسی اور کو یہ بھید نہ بتانا۔ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے یہ کہہ دو کہ ان لچر تدبیروں سے کچھ نہیں ہوتا یقین جانو ہدایت تو وہی ہے جو اللہ کسی کو ہدایت عطا کرے تم یہ سب کچھ اس جلن میں کر رہے ہو کہ جو تم کو دیا گیا اس جیسی چیز کسی اور کو کیوں دی گئی یا تمہارے رب کے روبرو اور دوسرے لوگ تم پر کیوں غلبہ حاصل کرلیں۔ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ فرما دیجئے بلا شبہ ہر قسم کا فضل اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے وہ اس فضل کو جو اس کے قبضہ میں ہے جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا صاحب وسعت اور بڑے علم والا ہے۔ ان آیتوں میں جہاں تک ان کی سازش کا تعلق ہے اس کا خلاصہ تو صرف اس قدر ہے کہ صبح کو جا کر مسلمان ہو جائو اور شام کو یہ کہتے ہوئے واپس آ جائو کہ ہم تو اس دین کو سچا سمجھ کر مسلمان ہوئے تھے مگر یہاں آ کر معلوم ہوا کہ کچھ بھی نہیں یہاں تو بڑی پول ہے اور سب کارروائیاں مصنوعی اور جھوٹی ہیں محض ایک قسم کا ڈھونک بنا ہوا ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں لہٰذا ہم تو مایوس ہو کر پھر اپنے ہی دین میں جاتے ہیں ہمارے اس جانے اور واپس آنے کا یہ اثر ہوگا کہ کچے مسلمان اسلام سے پھرجائیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ یہ لوگ تو اہل کتاب اور تعلیم یافتہ لوگ تھے اور پھر راست باز بھی تھے اور انہوں نے اسی وجہ سے اسلام کو سچا مذہب سمجھ کر قبول کیا تھا لیکن جب یہ تعلیم یافتہ لوگ اس مذہب سے مطمئن نہیں ہوئے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مذہب ٹھیک اور قابل قبول نہیں ہے اس لئے ہم بھی اس کو چھوڑ دیں اورا س سے لوٹ چلیں یہ ان کی سازش اور اصلیت کا خلاصہ ہے۔ البتہ ! ولا تومنوا الا ملن تبع دینکم کے مفسرین نے مختلف معنی بیان کئے ہیں ہوسکتا ہے کہ اس کا یہ مطلب ہو کہ دیکھو ظاہری طور پر مسلمان ہونا اور اپنے اصل دین کا اقرار مسلمانوں کے سامنے نہ کرنا بلکہ جو لوگ تمہارے دین کے پیرو ہوں صرف ان کے سامنے اپنے اصل دین یہودیت کا اقرار کرنا اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تم یہ نہ سمجھ لیا کہ واقعی تم مسلمان ہوگئے ہو بلکہ اصل میں اور سچے دل سے بدستور تم انہی کی بات مانو جو تمہارے دین کے پیرو ہیں اور جو شخص شریعت موسوی کا متبع ہو تو اسی کی بات ماننا اور اسی کی تصدیق کرنا۔ جیسا کہ ہم نے ترجمہ میں اشارہ کیا ہے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ دیکھو اس کارروائی سے تمہارا مقصد یہ ہو کہ جو اہل کتاب مسلمان ہوگئے ہیں ان کو اسلام سے نکال لائو اور آئندہ کوئی ہم میں سے مسلمان نہ بنے جب تم جیسے ذی اثر اور معتمد لوگ اسلام کو قبول کر کے واپس ہوگئے تو جو اہل کتاب مسلمان ہوچکے ہیں ان کے پائوں ضرور اکھڑ جائیں گے۔ اب مطلب یہ ہوگا کہ فرضی ایمان نہ لائو مگر محض ان لوگوں کی غرض سے جو تمہارے دین کے پیرو ہیں یعنی جس طرح ہو سکے ان کو بچائو جو پھنس گئے ہیں ان کو اس تدبیر سے نکال لائو اور جو ابھی نہیں پھنسے ہیں ان کو اس تدبیر سے متنفر کردو اور یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس تمام سازش کے معاملہ میں سوائے اپنے کسی کو راز دار نہ بنانا اور کسی کا سوائے اپنے یقین نہ کرنا کبھی ایسا نہ ہو کہ کسی مسلمان کو اس سازش کا بھید بتادو ۔ بس اسی شخص کو معلوم ہو جو تمہارے دین کا پیرو ہو یہ معنی تیسیر میں ہم نے اختیار کئے ہیں اور ابن کثیر کا رجحان ان ہی معنی کی طرف پا ای جاتا ہے اس کے بعد کی آیت میں اس شازش کا جواب ہے کہ ان بوسیدہ چالوں سے کیا ہوتا ہے ہدایت تو جس کو ملتی ہے وہ خدا کے دیئے سے ملتی ہے اور جب وہ کسی کو ہدایت پر قائم رکھنا چاہئے تو اسے کون اکھیڑ سکتا ہے اور کسی اغوا کرنے والے کو اغواء کیا کارگر ہوسکتا ہے۔ پھر اس سازش کی اصل علت کی جانب اشارہ فرمایا کہ اس قسم کی سازشیں محض اس حسد اور جلن کی وجہ سے کر رہے ہو کہ بنی اسماعیل کی رسالت اور نبوت کو برداشت نہیں کرسکتے اور یہ حسد ہے کہ بنی اسرائیل کو جو بزرگی اور فضلیت اور کتاب اور نبوت عطا ہوئی تھی وہ کسی اور کو یعنی بنی اسماعیل کو کیوں دی جا رہی ہے اور شریعت موسویہ کی جو اجارہ داری ہم کو حاصل تھی وہ کیوں ختم ہو رہی ہے نیز اس وجہ سے کہ اور لوگ تمہارے رب کی جناب میں تم پر غلبہ کیوں حاصل کرلیں۔ مفسرین نے او یحا جو حکم عند ربکم کے بہت سے معنی کئے ہیں ہم پہلے پارے میں لیحا جو کم بہ عند ربکم کی تفصیل مفصل عرض کرچکے ہیں ۔ ہوسکتا ہے مراد یہ ہو کہ دوسرے لوگ مناظرے میں ہم پر کیوں غالب آئیں اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ دوسرے تم پر اس دین حق کا تعیین میں کیوں غالب آجائیں جو تمہارے پروردگار کے پاس سے تم کو ملا ہے یعنی آسمانی کتاب جو تم کو ملی تھی وہ اوروں کو کیوں دی گئی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ کے روبرو تمہاری بات کیوں نیچی ہو اور دوسرے کیوں تم پر غلبہ حاصل کریں اور تم کو قیامت میں تمہاری کتابوں سے کیوں الزام دیں۔ بہر حال دو باتوں کا حسد تم کو کھائے جاتا ہے ایک یہ کہ بنی اسماعیل کو نبوت اور کتاب اور شریعت کیوں مل گئی اور دوسرے یہ کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے مسلمان ہم پر کیوں تفوق اور غلبہ حاصل کریں اور وہاں مناظرے میں ان سے کیوں قائل ہونا پڑے ۔ سازش اور چالاکی کی جو دو علتیں مذکور ہوئی ہیں ۔ یعنی ان یوتی احد مثل ما اوتیم او یحا جو کم عند ربکم اس کا جواب دیا گیا کہ نبوت و رسالت اور آسمانی کتاب یا خدا کی جناب میں بزرگی و برتری یہ حضرت حق تعالیٰ کا فضل ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل پر پورا اختیار رکھتا ہے مال جس کو چاہے عطا فرمائے۔ اگرچہ فضل عام طور سے قرآن میں مالی اور کے نفع وغیرہ پر استعمال ہوتا ہے لیکن کبھی اپنے مفہوم کی عمومیت کے باعث نبوت و رسالت کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے ورنہ عام طور سے نبوت وغیرہ کے لئے رحمت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ آخر میں فرمایا اللہ تعالیٰ بڑا صاحب وسعت ہے اس کے فضل میں کوئی کمی نہیں اور بڑے علم والا ہے وہی خوب جانتا ہے کہ کس کو کیا دنیا مناسب ہے اور کس وقت دینا مناسب ہے اسی بناپر آگے اپنی رحمت کے اختصار کو بیان فرمایا ہے۔ ( تسہیل)